Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 42 · Chapter 469

Greetings

بَابُ مَنْ تَرَكَ السَّلَامَ عَلَى الْمُتَخَلِّقِ وَأَصْحَابِ الْمَعَاصِي

خلوق استعمال کرنے والوں اور گناہگاروں کو سلام نہ کہنا

3 hadiths in this chapter

1025

Al-Adab Al-Mufrad #1025

Hasan

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ رَجُلٌ مُتَخَلِّقٌ بِخَلُوقٍ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَأَعْرَضَ عَنِ الرَّجُلِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَعْرَضْتَ عَنِّي؟ قَالَ: ((بَيْنَ عَيْنَيْهِ جَمْرَةٌ))

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جن میں ایک شخص خلوق (زعفرانی رنگ کی خوشبو)لگائے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور سلام کہا اور اس شخص سے منہ پھیر لیا۔ اس آدمی نے عرض کیا:آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اس کی آنکھوں کے درمیان آگ کا انگارہ ہے۔‘‘

1026

Al-Adab Al-Mufrad #1026

Hasan

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّهْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَعْرَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلُ كَرَاهِيَتَهُ ذَهَبَ فَأَلْقَى الْخَاتَمَ، وَأَخَذَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَلَبِسَهُ، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ((هَذَا شَرٌّ، هَذَا حِلْيَةُ أَهْلِ النَّارِ)) ، فَرَجَعَ فَطَرَحَهُ، وَلَبِسَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اس شخص نے جب آپ کی اس طرح ناگواری دیکھی تو چلا گیا اور سونے کی انگوٹھی اتار کر لوہے کی انگوٹھی بنوا کر پہن لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ اس سے بھی بدتر ہے۔ یہ جہنمیوں کا زیور ہے۔‘‘ وہ گیا اور اس کو پھینک کر چاندی کی انگوٹھی پہن لی۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔

1027

Al-Adab Al-Mufrad #1027

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي النَّجِيبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ - وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَعَلَيْهِ جُبَّةُ حَرِيرٍ - فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ مَحْزُونًا، فَشَكَا إِلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَتْ: لَعَلَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجِبَّتَكَ وَخَاتَمَكَ، فَأَلْقِهِمَا ثُمَّ عُدْ، فَفَعَلَ، فَرَدَّ السَّلَامَ، فَقَالَ: جِئْتُكَ آنِفًا فَأَعْرَضْتَ عَنِّي؟ قَالَ: ((كَانَ فِي يَدِكَ جَمْرٌ مِنْ نَارٍ)) ، فَقَالَ: لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ، قَالَ: ((إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ لَيْسَ بِأَجْزَأَ عَنَّا مِنْ حِجَارَةِ الْحَرَّةِ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا)) ، قَالَ: فَبِمَاذَا أَتَخَتَّمُ بِهِ؟ قَالَ: ((بِحَلْقَةٍ مِنْ وَرِقٍ، أَوْ صُفْرٍ، أَوْ حَدِيدٍ))

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بحرین سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہ دیا۔ کیونکہ اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی اور اس نے ریشمی جبہ بھی پہن رکھا تھا۔ وہ آدمی غمزوہ ہوکر چلا گیا اور اپنی بیوی کو جاکر بتایا تو اس نے کہا:شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے جبے اور انگوٹھی کی وجہ سے ناراض ہوئے ہوں لہٰذا انہیں اتار کر پھر جاؤ۔ اس نے ایسے ہی کیا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ اس نے عرض کیا:میں ابھی ابھی آیا تھا تو آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تیرے ہاتھ میںآگ کا انگارہ تھا۔‘‘ اس نے کہا:تب تو میں بہت سارے انگارے لایا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو تم لائے ہو (یہاں)اس کی کسی کے نزدیک پتھریلی زمین کے پتھروں سے زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ لیکن یہ دنیاوی زندگی کا سامان ہے۔‘‘ اس نے عرض کیا:تب میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:چاندی، پیتل یا لوہے کی انگوٹھی پہن لے۔‘‘