Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 37 · Chapter 387

Words

بَابُ كَثْرَةِ الْكَلَامِ

کثرت کلام کی کراہت

3 hadiths in this chapter

879

Al-Adab Al-Mufrad #879

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ خَطِيبَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَا فَتَكَلَّمَا ثُمَّ قَعَدَا، وَقَامَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، خَطِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِهِمَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا قَوْلَكُمْ، فَإِنَّمَا تَشْقِيقُ الْكَلَامِ مِنَ الشَّيْطَانِ)) ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا))

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ دو خطیب آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مشرق سے آئے۔ ان دونوں نے کھڑے ہوکر گفتگو کی پھر بیٹھ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب ثابت بن قیس کھڑے ہوئے اور انہوں نے کلام کیا۔ لوگوں کو ان دونوں کی گفتگو سے حیرت ہوئی، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا:’’اے لوگو! تم اپنے طریقے پر بات کرو، بات سے بات نکالتے چلے جانا تو صرف شیطان کی طرف سے ہے۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’یقیناً بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔‘‘

880

Al-Adab Al-Mufrad #880

Sahih

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا يَقُولُ: خَطَبَ رَجُلٌ عِنْدَ عُمَرَ فَأَكْثَرَ الْكَلَامَ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ كَثْرَةَ الْكَلَامِ فِي الْخُطَبِ مِنْ شَقَاشِقِ الشَّيْطَانِ

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس خطبہ دیا اور لمبی چوڑی گفتگو کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:خطبوں میں بہت زیادہ باتیں شیطانی فضولیات میں سے ہے۔

881

Al-Adab Al-Mufrad #881

Hasan

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ ذِرَاعٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا يَزِيدَ أَوْ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((اجْتَمِعُوا فِي مَسَاجِدِكُمْ، وَكُلَّمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فَلْيُؤْذِنُونِي)) ، فَأَتَانَا أَوَّلَ مَنْ أَتَى، فَجَلَسَ، فَتَكَلَّمَ مُتَكَلِّمٌ مِنَّا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ الَّذِي لَيْسَ لِلْحَمْدِ دُونَهُ مَقْصَدٌ، وَلَا وَرَاءَهُ مَنْفَذٌ. فَغَضِبَ فَقَامَ، فَتَلَاوَمْنَا بَيْنَنَا، فَقُلْنَا: أَتَانَا أَوَّلَ مَنْ أَتَى، فَذَهَبَ إِلَى مَسْجِدٍ آخَرَ فَجَلَسَ فِيهِ، فَأَتَيْنَاهُ فَكَلَّمْنَاهُ، فَجَاءَ مَعَنَا فَقَعَدَ فِي مَجْلِسِهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ قَالَ: ((الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي مَا شَاءَ جَعَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَمَا شَاءَ جَعَلَ خَلْفَهُ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا)) ، ثُمَّ أَمَرَنَا وَعَلَّمَنَا

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اپنی مسجدوں میں اکٹھے ہو جاؤ۔ جب ایک قوم اکٹھی ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا۔‘‘ آپ سب سے پہلے ہمارے ہاں تشریف لائے اور بیٹھ گئے، چنانچہ ہم میں سے ایک آدمی نے گفتگو کی، پھر کہا:تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کی حمد سے اس کی ذات کے سوا اور کوئی مقصد اور نہ اس کے سوا کوئی بھاگنے کی جگہ ہے۔ اس پر آپ غصہ ہوکر چلے گئے۔ ہم نے ایک دوسرے کو ملامت کی اور کہا کہ آپ سب سے پہلے ہمارے ہاں ہی تشریف لائے تھے (پھر ہمارے خطیب کی بات سن کر اٹھ کر چلے گئے)چنانچہ پھر آپ کسی دوسرے کی مسجد میں چلے گئے اور وہاں بیٹھ گئے۔ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے بات کی۔ پھر آپ ہمارے ساتھ آئے اور اپنی پہلی نشست یا اس کے قریب بیٹھ گئے، پھر فرمایا:’’ہر قسم کی تعریف اس ذات کے لیے ہے جس نے جو چاہا جب چاہا بنایا اور جو چاہا بعد میں موجود فرمایا۔ بلاشبہ کئی بیان جادو ہوتے ہیں۔‘‘ پھر آپ نے ہمیں حکم دیا اور تعلیم دی۔