Al-Adab Al-Mufrad #851
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا - وَلِي أَخٌ صَغِيرٌ يُكَنَّى: أَبَا عُمَيْرٍ، وَكَانَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ حَزِينًا، فَقَالَ: ((مَا شَأْنُهُ؟)) قِيلَ لَهُ: مَاتَ نُغَرُهُ، فَقَالَ: ((يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟))
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لاتے اور میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابو عمیر تھی۔ اس نے ایک بلبل پال رکھی تھی جس کے ساتھ وہ کھیلتا تھا تو وہ مرگئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اسے پریشان دیکھا۔ آپ نے پوچھا:’’اسے کیا مسئلہ ہے؟‘‘ آپ سے عرض کیا گیا:اس کی بلبل مرگئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اے ابو عمیر! تیری بلبل کو کیا ہوا تجھے جدائی دے گئی۔‘‘