Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 30 · Chapter 268

General behavior

بَابُ الْبَغْيِ

سرکشی کا بیان

6 hadiths in this chapter

592

Al-Adab Al-Mufrad #592

Zaeef

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ أَبِي يَحْيَى قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَوْ أَنَّ جَبَلًا بَغَى عَلَى جَبَلٍ لَدُكَّ الْبَاغِي

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:اگر ایک پہاڑ دوسرے پر سرکشی کرے تو سرکشی کرنے والے کا چورا ہو جائے۔

593

Al-Adab Al-Mufrad #593

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " احْتَجَّتِ النَّارُ وَالْجَنَّةُ، فَقَالَتِ النَّارُ: يَدْخُلُنِي الْمُتَكَبِّرُونَ وَالْمُتَجَبِّرُونَ. وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا الضُّعَفَاءُ الْمَسَاكِينُ. فَقَالَ لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي، أَنْتَقِمُ بِكِ مِمَّنْ شِئْتُ، وَقَالَ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ شِئْتُ "

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’دوزخ اور جنت نے آپس میں جھگڑا کیا تو جہنم نے کہا:مجھ میں متکبر اور سرکش لوگ داخل ہوں گے۔ جنت نے کہا:مجھ میں صرف کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آگ سے فرمایا:تو میرا عذاب ہے، تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا اور جنت سے فرمایا:تو میری رحمت ہے، تیرے ساتھ میں جس پر چاہوں گا رحمت کروں گا۔

594

Al-Adab Al-Mufrad #594

Sahih

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ: رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ فَمَاتَ عَاصِيًا، فَلَا تَسْأَلْ عَنْهُ، وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبِقَ مِنْ سَيِّدِهِ، وَامْرَأَةٌ غَابَ زَوْجُهَا، وَكَفَاهَا مَؤُونَةَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ وَتَمَرَّجَتْ بَعْدَهُ. وَثَلَاثَةٌ لَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ: رَجُلٌ نَازَعَ اللَّهَ رِدَاءَهُ، فَإِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرِيَاءُ، وَإِزَارَهُ عِزَّهُ، وَرَجُلٌ شَكَّ فِي أَمْرِ اللَّهِ، وَالْقُنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ "

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت فضالۃ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تین آدمیوں کے بارے میں تو بات ہی نہ کی جائے (کہ وہ کتنے بڑے مجرم ہیں)ایک وہ شخص جس نے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی اور اپنے امام کی نافرمانی کی اور اسی طرح نافرمان ہی مرگیا اس کے بارے میں نہ پوچھا جائے (کہ اس کا کیا بنے گا)اسی طرح وہ باندی یا غلام جو اپنے مالک سے بھاگ جائے اور وہ عورت جس کا خاوند کہیں چلا جائے اور وہ اسے دنیاوی ضرورت کا خرچہ بھی دے جائے اور وہ اس کے بعد غیروں کے سامنے بنی سنوری رہے اور ان سے میل جول رکھے۔ مزید تین آدمی بھی ان کی ہلاکت کے بارے میں پوچھنے کی ضرورت نہیں، وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ سے اس کی کبریائی کی چادر چھیننے کی کوشش کی اور اس کی ازار اس کی عزت ہے۔ اور جو آدمی اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک کرے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا۔‘‘

595

Al-Adab Al-Mufrad #595

Sahih

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((كُلُّ ذُنُوبٍ يُؤَخِّرُ اللَّهُ مِنْهَا مَا شَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، إِلَّا الْبَغْيَ، وَعُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ، أَوْ قَطِيعَةَ الرَّحِمِ، يُعَجِّلُ لِصَاحِبِهَا فِي الدُّنْيَا قَبْلَ الْمَوْتِ))

اردو ترجمہ · Urdu

بکار بن عبدالعزیز رحمہ اللہ اپنے باپ کے واسطے سے اپنے دادا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ہر گناہ کی سزا اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو قیامت تک مؤخر کر فرما دیتا ہے مگر سرکشی، والدین کی نافرمانی اور قطع رحمی کی سزا اللہ تعالیٰ موت سے پہلے دنیا ہی میں دے دیتا ہے۔‘‘

596

Al-Adab Al-Mufrad #596

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَذَّاءُ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: يُبْصِرُ أَحَدُكُمُ الْقَذَاةَ فِي عَيْنِ أَخِيهِ، وَيَنْسَى الْجِذْلَ، أَوِ الْجِذْعَ، فِي عَيْنِ نَفْسِهِ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْجِذْلُ: الْخَشَبَةُ الْعَالِيَةُ الْكَبِيرَةُ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکے کو بھی دیکھ لیتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی بھول جاتا ہے۔ ابو عبید کہتے ہیں کہ جذل کا مطلب بہت بڑی لمبی لکڑی۔

597

Al-Adab Al-Mufrad #597

Hasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُسْتَنِيرُ بْنُ أَخْضَرَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ مَعْقِلٍ الْمُزَنِيِّ، فَأَمَاطَ أَذًى عَنِ الطَّرِيقِ، فَرَأَيْتُ شَيْئًا فَبَادَرْتُهُ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ شَيْئًا فَصَنَعْتُهُ، قَالَ: أَحْسَنْتَ يَا ابْنَ أَخِي، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ أَمَاطَ أَذًى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ كُتِبَ لَهُ حَسَنَةٌ، وَمَنْ تُقُبِّلَتْ لَهُ حَسَنَةٌ دَخَلَ الْجَنَّةَ))

اردو ترجمہ · Urdu

معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں معقل مزنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو انہوں نے تکلیف دہ چیز راستے سے ہٹائی، پھر میں نے کوئی چیز دیکھی تو اسے اٹھانے کے لیے جلدی سے اس طرف گیا۔ انہوں نے پوچھا:میرے بھتیجے تم نے ایسے کیوں کیا؟ میں نے کہا:میں نے آپ کو ایک کام کرتے دیکھا تو میں نے بھی کرلیا۔ انہوں نے فرمایا:میرے بھتیجے آپ نے بہت اچھا کیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے:’’جس نے مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹائی اس کے حق میں ایک نیکی لکھی جائے گی اور جس کی ایک نیکی قبول ہوگئی وہ جنت میں داخل ہوگیا۔‘‘