Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 29 · Chapter 240

Visiting the sick

بَابُ مَا يَقُولُ لِلْمَرِيضِ

مریض سے کیا کہا جائے، یعنی کیسے حال پوچھا جائے

3 hadiths in this chapter

529

Al-Adab Al-Mufrad #529

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا، قُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ، كَيْفَ تَجِدُكَ؟ وَيَا بِلَالُ، كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ: [البحر الرجز] كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ فَيَقُولُ: [البحر الطويل] أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ((اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ))

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما کو بخار ہوگیا۔ وہ فرماتی ہیں:میں ان کی تیمار داری کے لیے گئی تو میں نے کہا:اے ابا جان! کیا حال ہے؟ اور اے بلال آپ کیسے ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب بخار ہوتا تو کہتے: ہر شخص کو اس کے گھر والوں میں ’’تمہاری صبح خیریت کے ساتھ ہو‘‘ کہا جاتا ہے جبکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو افاقہ ہوتا تو بآواز بلند کہتے: کاش مجھے پتہ چل جاتا کیا کوئی رات ایسی وادی میں گزاروں گا کہ میرے اردگرد اذخرو جلیل نامی گھاس ہوگی اور کیا کسی دن میں حجفہ کے پانیوں پر وارد ہوں گا اور کیا کبھی مجھے شامہ اور طفیل پہاڑ نظر آئیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آکر آپ کو اطلاع دی تو آپ نے فرمایا:’’اے اللہ مدینہ ہمیں اسی طرح محبوب بنا دے جس طرح ہمیں مکہ محبوب ہے یا اس سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔ اس کی آب و ہوا کو صحت افزا بنا دے اور ہمارے لیے اس کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما اور اس کے بخار کو یہاں سے حجفہ منتقل کر دے۔‘‘

530

Al-Adab Al-Mufrad #530

Sahih

حَدَّثَنَا مُعَلَّى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ قَالَ: ((لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ)) ، قَالَ: ذَاكَ طَهُورٌ، كَلَّا بَلْ هِيَ حُمَّى تَفُورُ - أَوْ تَثُورُ - عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، تُزِيرُهُ الْقُبُورَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((فَنَعَمْ إِذًا))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کی تیمار داری کے لیے تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی تیمار داری کرتے تو دعا پڑھتے تھے:لا بأس طہور ان شاء اللّٰہ’’کوئی حرج نہیں، یہ بیماری پاک کرنے والی ہے، ان شاء اللہ‘‘ اس دیہاتی نے کہا:یہ پاک کرنے والی ہے! ہرگز نہیں یہ تو بخار ہے جو بوڑھے پر چڑھ دوڑا ہے تاکہ اسے قبرستان پہنچا دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’پھر ایسا ہی ہوگا۔‘‘

531

Al-Adab Al-Mufrad #531

Zaeef

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَرْمَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْقُرَشِيِّ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَسْأَلُهُ: كَيْفَ هُوَ؟ فَإِذَا قَامَ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ: خَارَ اللَّهُ لَكَ، وَلَمْ يَزِدْهُ عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی مریض کی تیمار داری کرتے تو اس سے پوچھتے:وہ کیسا ہے؟ اور جب وہاں سے اٹھتے تو فرماتے:اللہ تیرے لیے خیر کر دے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہتے تھے۔