Al-Adab Al-Mufrad #524
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنِي ثَلَاثَةٌ مِنْ بَنِي سَعْدٍ كُلُّهُمْ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى سَعْدٍ يَعُودُهُ بِمَكَّةَ، فَبَكَى، فَقَالَ: ((مَا يُبْكِيكَ؟)) ، قَالَ: خَشِيتُ أَنْ أَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرْتُ مِنْهَا كَمَا مَاتَ سَعْدٌ، قَالَ: ((اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا)) ثَلَاثًا، فَقَالَ: لِي مَالٌ كَثِيرٌ، يَرِثُنِي ابْنَتَيْ، أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: ((لَا)) ، قَالَ: فَبِالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: ((لَا)) ، قَالَ: فَالنِّصْفُ؟ قَالَ: ((لَا)) ، قَالَ: فَالثُّلُثُ؟ قَالَ: " الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّ صَدَقَتَكَ مِنْ مَالِكَ صَدَقَةٌ، وَنَفَقَتَكَ عَلَى عِيَالِكَ صَدَقَةٌ، وَمَا تَأْكُلُ امْرَأَتُكَ مِنْ طَعَامِكَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِنَّكَ أَنْ تَدَعَ أَهْلَكَ بِخَيْرٍ - أَوْ قَالَ: بِعَيْشٍ - خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ "، وَقَالَ بِيَدِهِ
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے تین بیٹوں سے روایت ہے کہ مکہ مکرمہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سعد رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو وہ رو پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم کیوں روتے ہو؟‘‘ انہوں نے کہا:مجھے ڈر ہے کہ میں اس زمین میں فوت ہو جاؤں گا جہاں سے ہجرت کی تھی جیسا کہ سعد بن خولہ فوت ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی:’’اے اللہ سعد کو شفا عطا فرما۔‘‘ آپ نے تین مرتبہ دعا کی۔ انہوں نے کہا:میرے پاس مال و دولت کی فراوانی ہے اور میری وارث صرف میری بیٹی ہے۔ کیا میں اپنے تمام مال کے بارے میں في سبیل اللہ وصیت کردوں؟ آپ نے فرمایا:’’نہیں۔‘‘ انہوں نے عرض کیا:دو تہائی کی؟ آپ نے فرمایا:’’نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا:آدھے مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا:ایک تہائی کی کرسکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا:تیسرے حصے کی کرلو ویسے تیسرے حصے کی بھی ہے زیادہ۔ تیرا مال میں سے صدقہ کرنا بھی صدقہ ہے اور تیرا اہل و عیال پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے اور جو تیری بیوی تیرا کھانا کھائے وہ بھی تیرے حق میں صدقہ ہے اور تم اپنے اہل و عیال کو خوش حال چھوڑ کر دنیا سے جاؤ یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ تم انہیں اس حال میں چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔‘‘ اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا۔