Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 1 · Chapter 2

Parents

بَابُ بِرِّ الْأُمِّ

والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان

2 hadiths in this chapter

3

Al-Adab Al-Mufrad #3

Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: ((أُمَّكَ)) ، قُلْتُ: مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: ((أُمَّكَ)) ، قُلْتُ: مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: ((أُمَّكَ)) ، قُلْتُ: مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: ((أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت بہز بن حکیم اپنے باپ کے واسطے سے اپنے دادا (معاویہ بن حیدہ)سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! میں کس سے حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: ’’اپنی ماں سے۔‘‘ میں نے کہا: (پھر)کس سے حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: ’’اپنی ماں سے۔‘‘ میں نے کہا: پھر کس سے حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: ’’اپنی ماں سے۔‘‘ میں نے کہا: پھر کس سے حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: ’’اپنے باپ سے، پھر اس کے بعد جو تیرا زیادہ قریبی رشتہ دار ہو پھر جو اس کے بعد زیادہ قریبی ہو۔‘‘

4

Al-Adab Al-Mufrad #4

Sahih

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي خَطَبْتُ امْرَأَةً، فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَنِي، وَخَطَبَهَا غَيْرِي، فَأَحَبَّتْ أَنْ تَنْكِحَهُ، فَغِرْتُ عَلَيْهَا فَقَتَلْتُهَا، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: أُمُّكَ حَيَّةٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: تُبْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَتَقَرَّبْ إِلَيْهِ مَا اسْتَطَعْتَ. فَذَهَبْتُ فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: لِمَ سَأَلْتَهُ عَنْ حَيَاةِ أُمِّهِ؟ فَقَالَ: إِنِّي لَا أَعْلَمُ عَمَلًا أَقْرَبَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ بِرِّ الْوَالِدَةِ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میں نے ایک عورت کو پیغامِ نکاح بھیجا تو اس نے مجھ سے نکاح کرنے سے انکار کردیا۔ پھر میرے علاوہ کسی اور نے نکاح کا پیغام بھیجا تو اس نے رضامندی کا اظہار کردیا۔ مجھے اس پر غیرت آگئی اور میں نے اسے قتل کردیا۔ کیا میرے لیے توبہ کی کوئی صورت ہے؟ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے)فرمایا: کیا تمہاری والدہ زندہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ سے توبہ کر اور جتنا ہوسکتا ہے (اعمالِ صالحہ وغیرہ سے)اللہ کا قرب حاصل کر (راوی حدیث حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں)میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے عرض کی: آپ نے اس سے اس کی ماں کے زندہ ہونے کا سوال کیوں کیا؟ تو انہوں نے فرمایا: میرے علم میں والدہ کے ساتھ حسن سلوک سے بڑھ کر کوئی عمل اللہ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہے۔