Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 21–30 of 129

21

يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍۢ مِّنْهُ وَرِضْوَٰنٍۢ وَجَنَّٰتٍۢ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌۭ مُّقِيمٌ

ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے نعمت ہائے جاودانی ہے

آیت 19 اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط مشرکین مکہ اس بات پر بہت نازاں ہیں کہ انہوں نے بیت اللہ کو آباد رکھا ہوا ہے اور وہ حاجیوں کو پانی پلانے جیسا کار خیر سر انجام دیتے ہیں ‘ تو کیا ان کے یہ امور ایمان باللہ ‘ ایمان بالآ خرت اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہوجائیں گے ؟

22

خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجْرٌ عَظِيمٌۭ

(اور وہ) ان میں ابدالاآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے

آیت 22 خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًاط اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ اگلی دو آیات اپنے موضوع اور فلسفۂ دین کے اعتبار سے بہت اہم ہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ مکہ پر چڑھائی کے سلسلے میں بعض مسلمانوں میں تذبذب پایا جاتا تھا۔ اس کی ایک بہت ہی اہم وجہ یہ تھی کہ مشرکین مکہ میں سے اکثر کے ساتھ مہاجرین کی بہت قریبی عزیز داریاں تھیں۔ ابھی تک تو کچھ امید تھی کہ شاید وہ لوگ ایمان لے آئیں گے ‘ مگر اب صاف نظر آ رہا تھا کہ مکہ پر چڑھائی کی صورت میں اپنے قریبی عزیزوں کے خلاف لڑنا ہوگا ‘ اپنے بھائیوں ‘ بیٹوں اور باپوں کے گلے کاٹنا ہوں گے۔ انسانی سطح پر یہ کوئی آسان کام نہیں تھا ‘ مگر اللہ تعالیٰ کو ابھی مسلمانوں کا یہ مشکل ترین امتحان لینا بھی مقصود تھا۔ لہٰذا یہ آیات اس ضمن میں اللہ کی مرضی اور دین حق کا اصول بہت واضح اور دو ٹوک الفاظ میں بیان کر رہی ہیں۔

23

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوٓا۟ ءَابَآءَكُمْ وَإِخْوَٰنَكُمْ أَوْلِيَآءَ إِنِ ٱسْتَحَبُّوا۟ ٱلْكُفْرَ عَلَى ٱلْإِيمَٰنِ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ

اے اہل ایمان! اگر تمہارے (ماں) باپ اور (بہن) بھائی ایمان کے مقابل کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں

آیت 23 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْٓا اٰبَآءَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِ ط اگر اب بھی تمہارے دلوں میں اپنے کافر اقرباء کے لیے محبت موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر ایمان کے ساتھ تمہارا رشتہ مضبوط نہیں ہے۔ اللہ ‘ اس کے دین اور توحید کے لیے تمہارے جذبات میں غیرت وحمیت نہیں ہے۔ وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ اب وہ آیت آرہی ہے جو اس موضوع پر قرآن کریم کی اہم ترین آیت ہے۔

24

قُلْ إِن كَانَ ءَابَآؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ وَإِخْوَٰنُكُمْ وَأَزْوَٰجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَٰلٌ ٱقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَٰرَةٌۭ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَجِهَادٍۢ فِى سَبِيلِهِۦ فَتَرَبَّصُوا۟ حَتَّىٰ يَأْتِىَ ٱللَّهُ بِأَمْرِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَٰسِقِينَ

کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ خدا اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

آیت 24 قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ ط وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ یہاں آٹھ چیزیں گنوا دی گئی ہیں کہ اگر ان آٹھ چیزوں کی محبتوں میں سے کسی ایک یا سب محبتوں کا جذبہ اللہ ‘ اس کے رسول اور اس کے رستے میں جہاد کی محبتوں کے جذبے کے مقابلے میں زیادہ ہے تو پھر اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو۔ یہ بہت سخت اور رونگٹے کھڑے کردینے والا لہجہ اور انداز ہے۔ ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے باطن میں ایک ترازو نصب کرے۔ اس کے ایک پلڑے میں یہ آٹھ محبتیں ڈالے اور دوسرے میں اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ اور جہاد کی تین محبتیں ڈالے اور پھر اپنا جائزہ لے کہ میں کہاں کھڑا ہوں ! چونکہ انسان خود اپنے نفس سے خوب واقف ہے بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ القیامہ اس لیے اسے اپنے باطن کی صحیح صورت حال معلوم ہوجائے گی۔ بہر حال اس سلسلے میں ہر مسلمان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر تو اس کی ساری خواہشیں ‘ محبتیں اور حقوق بیوی ‘ اولاد ‘ نفس وغیرہ کے حقوق ان تین محبتوں کے تابع ہیں تو اس کے معاملات ایمان درست ہیں ‘ لیکن اگر مذکورہ آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک بھی چیز کی محبت کا گراف اوپر چلا گیا تو بس یوں سمجھیں کہ وہاں توحید ختم ہے اور شرک شروع ! اسی فلسفہ کو علامہ اقبال ؔ نے اپنے اس شعر میں اس طرح پیش کیا ہے :یہ مال و دولت دنیا ‘ یہ رشتہ و پیوند بتان وہم و گماں ‘ لَا اِلٰہَ الاَّ اللّٰہ !آیت زیر نظر میں جو آٹھ چیزیں گنوائی گئی ہیں ان میں پہلی پانچ رشتہ وپیوند کے زمرے میں آتی ہیں جب کہ آخری تین مال و دولت دنیا کی مختلف شکلیں ہیں۔ علامہ اقبال ؔ فرماتے ہیں کہ ان چیزوں کی اصل میں کوئی حقیقت نہیں ہے ‘ یہ ہمارے وہم اور توہم کے بنائے ہوئے بت ہیں۔ جب تک لَا اِلَہ الاَّ اللّٰہ کی شمشیر سے ان بتوں کو توڑا نہیں جائے گا ‘ بندۂ مومن کے نہاں خانۂ دل میں توحید کا علم بلند نہیں ہوگا۔دوسرے اور تیسرے رکوع پر مشتمل وہ خطبہ جو رمضان 8 ہجری سے قبل نازل ہوا تھا یہاں ختم ہوا۔ اب چوتھے رکوع کے آغاز سے سلسلۂ کلام پھر سے سورت کی ابتدائی چھ آیات کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔

25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ فِى مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍۢ ۙ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْـًۭٔا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ ٱلْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ

خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے اور (جنگ) حنین کے دن۔ جب تم کو اپنی (جماعت کی) کثرت پر غرّہ تھا تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی۔ اور زمین باوجود (اتنی بڑی) فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر پھر گئے

آیت 25 لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍلا وَّیَوْمَ حُنَیْنٍلا جیسا کہ قبل ازیں بیان ہوچکا ہے ‘ پہلے ‘ چوتھے اور پانچویں رکوع پر مشتمل یہ خطبہ ذوالقعدہ 9 ہجری میں نازل ہوا تھا ‘ جبکہ اس سے پہلے غزوۂ حنین شوال 8 ہجری میں وقوع پذیر ہوچکا تھا۔اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ معاملہ یوں نہیں تھا کہ لشکر میں شامل تمام مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز اور فخر محسوس ہو رہا تھا۔ غزوۂ حنین میں مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی ‘ جو اس سے پہلے کبھی کسی غزوہ میں اکٹھی نہیں ہوئی تھی۔ ان میں سے دس ہزار مسلمان تو وہ تھے جو فتح مکہ کے وقت حضور ﷺ کے ہمراہ تھے ‘ اور دو ہزار لوگ مکہ سے شامل ہوئے تھے۔ مکہ سے شامل ہونے والوں میں اکثر یت ان نو مسلموں کی تھی جو مکہ فتح ہوجانے کے بعد ایمان لائے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں کچھ مشرک بھی ہوں جو اب مسلمانوں کی رعایا ہونے کے باعث معاونین اور خاد مین کی حیثیت سے لشکر میں شامل ہوگئے ہوں۔ مسلمانوں کی یہ لشکر کشی ہوازن اور ثقیف کے قبائل کے خلاف تھی جو طائف اور اس کے ارد گرد کی شاداب وادیوں میں آباد تھے۔ مسلمان اس سے قبل بارہا قلیل تعداد اور معمولی اسلحہ سے کفار کی بڑی بڑی فوجوں کو شکست دے چکے تھے۔ چناچہ بعض مسلمانوں کی زبان سے اپنی کثرت کے زعم میں یہ الفاظ نکل گئے کہ آج مسلمانوں پر کون غالب آسکتا ہے ! دوسری طرف ہوازن اور ثقیف کے قبائل نے پہلے سے اپنے تیرانداز دستے پہاڑیوں اور گھاٹیوں پر تعینات کر رکھے تھے اور موزوں مقامات پر صف آرائی کرلی تھی۔ یہ لوگ بڑے ماہر تیر انداز تھے۔ مسلمانوں کا لشکر جب وادئ حنین میں پہنچا تو پہاڑیوں پر موجود تیر اندازوں نے تیروں کی بوچھاڑ کردی۔ لشکر نشیب میں تھا ‘ تیر بلندی سے آ رہے تھے اور دونوں طرف سے آ رہے تھے۔ اس سے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی اور بارہ ہزار کا لشکر جرار تتر بتر ہوگیا۔ جب ہراول دستے سے لوگ اضطراری کیفیت میں پلٹ کر بھاگے تو ریلے کی صورت میں بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ دھکیلتے چلے گئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف 30 یا 40 آدمی رہ گئے تھے۔ علامہ شبلی رح نے سیرت النبی ﷺ میں یہی لکھا ہے کہ 30 ‘ 40 آدمی رہ گئے تھے ‘ لیکن سید سلیمان ندوی رح نے بعد میں اپنے استاد کی رائے پر اختلافی نوٹ لکھا کہ تین سو یا چار سو آدمی آپ ﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے۔ لیکن بارہ ہزار کے لشکر میں سے تین یا چار سو آدمیوں کا رہ جانا بھی کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس صورت حال میں حضور ﷺ اپنی سواری سے نیچے اترآئے ‘ آپ ﷺ نے علم خود اپنے ہاتھ میں لیا اور بآواز بلند رجز پڑھا : اَنَا النَّبِیُّ لا کَذِب اَنَا ابْنُ عَبْدِ المُطَّلِبکہ میں نبی ہوں اس میں کوئی شک نہیں ! یعنی میں یقیناً نبی ہوں ‘ چاہے یہ بارہ ہزار لوگ میرا ساتھ دیں تب بھی ‘ اور اگر کوئی بھی ساتھ نہ دے تب بھی۔ اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ‘ یعنی میں عبدالمطلب کا پوتا میدان جنگ میں بنفس نفیس موجود ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو پکارا : اِلَیَّ یَاعِبَاد اللّٰہِ ! اللہ کے بندو ‘ میری طرف آؤ ! اس کے بعد آپ ﷺ نے قریب ہی موجود اپنے چچا حضرت عباس رض کو ‘ جن کی آواز کافی بلند تھی ‘ حکم دیا کہ انصار و مہاجرین کو پکاریں۔ انہوں نے بلند آواز سے پکارا : اصحاب بدر کہاں ہو ؟ اصحاب شجرہ بیعت رضوان والو کہاں ہو ؟ اس پر لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹنا شروع ہوئے اور لشکر پھر سے اکٹھا ہوا۔ اس کے بعد ایک بھرپور جنگ لڑنے کے بعد مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ آیت زیر نظر کا اشارہ اس پورے واقعہ کی طرف ہے۔

26

ثُمَّ أَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُودًۭا لَّمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْكَٰفِرِينَ

پھر خدا نے اپنے پیغمبر پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی (اور تمہاری مدد کو فرشتوں کے) لشکر جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے (آسمان سے) اُتارے اور کافروں کو عذاب دیا۔ اور کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہے

آیت 25 لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍلا وَّیَوْمَ حُنَیْنٍلا جیسا کہ قبل ازیں بیان ہوچکا ہے ‘ پہلے ‘ چوتھے اور پانچویں رکوع پر مشتمل یہ خطبہ ذوالقعدہ 9 ہجری میں نازل ہوا تھا ‘ جبکہ اس سے پہلے غزوۂ حنین شوال 8 ہجری میں وقوع پذیر ہوچکا تھا۔اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ معاملہ یوں نہیں تھا کہ لشکر میں شامل تمام مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز اور فخر محسوس ہو رہا تھا۔ غزوۂ حنین میں مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی ‘ جو اس سے پہلے کبھی کسی غزوہ میں اکٹھی نہیں ہوئی تھی۔ ان میں سے دس ہزار مسلمان تو وہ تھے جو فتح مکہ کے وقت حضور ﷺ کے ہمراہ تھے ‘ اور دو ہزار لوگ مکہ سے شامل ہوئے تھے۔ مکہ سے شامل ہونے والوں میں اکثر یت ان نو مسلموں کی تھی جو مکہ فتح ہوجانے کے بعد ایمان لائے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں کچھ مشرک بھی ہوں جو اب مسلمانوں کی رعایا ہونے کے باعث معاونین اور خاد مین کی حیثیت سے لشکر میں شامل ہوگئے ہوں۔ مسلمانوں کی یہ لشکر کشی ہوازن اور ثقیف کے قبائل کے خلاف تھی جو طائف اور اس کے ارد گرد کی شاداب وادیوں میں آباد تھے۔ مسلمان اس سے قبل بارہا قلیل تعداد اور معمولی اسلحہ سے کفار کی بڑی بڑی فوجوں کو شکست دے چکے تھے۔ چناچہ بعض مسلمانوں کی زبان سے اپنی کثرت کے زعم میں یہ الفاظ نکل گئے کہ آج مسلمانوں پر کون غالب آسکتا ہے ! دوسری طرف ہوازن اور ثقیف کے قبائل نے پہلے سے اپنے تیرانداز دستے پہاڑیوں اور گھاٹیوں پر تعینات کر رکھے تھے اور موزوں مقامات پر صف آرائی کرلی تھی۔ یہ لوگ بڑے ماہر تیر انداز تھے۔ مسلمانوں کا لشکر جب وادئ حنین میں پہنچا تو پہاڑیوں پر موجود تیر اندازوں نے تیروں کی بوچھاڑ کردی۔ لشکر نشیب میں تھا ‘ تیر بلندی سے آ رہے تھے اور دونوں طرف سے آ رہے تھے۔ اس سے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی اور بارہ ہزار کا لشکر جرار تتر بتر ہوگیا۔ جب ہراول دستے سے لوگ اضطراری کیفیت میں پلٹ کر بھاگے تو ریلے کی صورت میں بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ دھکیلتے چلے گئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف 30 یا 40 آدمی رہ گئے تھے۔ علامہ شبلی رح نے سیرت النبی ﷺ میں یہی لکھا ہے کہ 30 ‘ 40 آدمی رہ گئے تھے ‘ لیکن سید سلیمان ندوی رح نے بعد میں اپنے استاد کی رائے پر اختلافی نوٹ لکھا کہ تین سو یا چار سو آدمی آپ ﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے۔ لیکن بارہ ہزار کے لشکر میں سے تین یا چار سو آدمیوں کا رہ جانا بھی کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس صورت حال میں حضور ﷺ اپنی سواری سے نیچے اترآئے ‘ آپ ﷺ نے علم خود اپنے ہاتھ میں لیا اور بآواز بلند رجز پڑھا : اَنَا النَّبِیُّ لا کَذِب اَنَا ابْنُ عَبْدِ المُطَّلِبکہ میں نبی ہوں اس میں کوئی شک نہیں ! یعنی میں یقیناً نبی ہوں ‘ چاہے یہ بارہ ہزار لوگ میرا ساتھ دیں تب بھی ‘ اور اگر کوئی بھی ساتھ نہ دے تب بھی۔ اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ‘ یعنی میں عبدالمطلب کا پوتا میدان جنگ میں بنفس نفیس موجود ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو پکارا : اِلَیَّ یَاعِبَاد اللّٰہِ ! اللہ کے بندو ‘ میری طرف آؤ ! اس کے بعد آپ ﷺ نے قریب ہی موجود اپنے چچا حضرت عباس رض کو ‘ جن کی آواز کافی بلند تھی ‘ حکم دیا کہ انصار و مہاجرین کو پکاریں۔ انہوں نے بلند آواز سے پکارا : اصحاب بدر کہاں ہو ؟ اصحاب شجرہ بیعت رضوان والو کہاں ہو ؟ اس پر لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹنا شروع ہوئے اور لشکر پھر سے اکٹھا ہوا۔ اس کے بعد ایک بھرپور جنگ لڑنے کے بعد مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ آیت زیر نظر کا اشارہ اس پورے واقعہ کی طرف ہے۔

27

ثُمَّ يَتُوبُ ٱللَّهُ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

پھر خدا اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

آیت 25 لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍلا وَّیَوْمَ حُنَیْنٍلا جیسا کہ قبل ازیں بیان ہوچکا ہے ‘ پہلے ‘ چوتھے اور پانچویں رکوع پر مشتمل یہ خطبہ ذوالقعدہ 9 ہجری میں نازل ہوا تھا ‘ جبکہ اس سے پہلے غزوۂ حنین شوال 8 ہجری میں وقوع پذیر ہوچکا تھا۔اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ معاملہ یوں نہیں تھا کہ لشکر میں شامل تمام مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز اور فخر محسوس ہو رہا تھا۔ غزوۂ حنین میں مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی ‘ جو اس سے پہلے کبھی کسی غزوہ میں اکٹھی نہیں ہوئی تھی۔ ان میں سے دس ہزار مسلمان تو وہ تھے جو فتح مکہ کے وقت حضور ﷺ کے ہمراہ تھے ‘ اور دو ہزار لوگ مکہ سے شامل ہوئے تھے۔ مکہ سے شامل ہونے والوں میں اکثر یت ان نو مسلموں کی تھی جو مکہ فتح ہوجانے کے بعد ایمان لائے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں کچھ مشرک بھی ہوں جو اب مسلمانوں کی رعایا ہونے کے باعث معاونین اور خاد مین کی حیثیت سے لشکر میں شامل ہوگئے ہوں۔ مسلمانوں کی یہ لشکر کشی ہوازن اور ثقیف کے قبائل کے خلاف تھی جو طائف اور اس کے ارد گرد کی شاداب وادیوں میں آباد تھے۔ مسلمان اس سے قبل بارہا قلیل تعداد اور معمولی اسلحہ سے کفار کی بڑی بڑی فوجوں کو شکست دے چکے تھے۔ چناچہ بعض مسلمانوں کی زبان سے اپنی کثرت کے زعم میں یہ الفاظ نکل گئے کہ آج مسلمانوں پر کون غالب آسکتا ہے ! دوسری طرف ہوازن اور ثقیف کے قبائل نے پہلے سے اپنے تیرانداز دستے پہاڑیوں اور گھاٹیوں پر تعینات کر رکھے تھے اور موزوں مقامات پر صف آرائی کرلی تھی۔ یہ لوگ بڑے ماہر تیر انداز تھے۔ مسلمانوں کا لشکر جب وادئ حنین میں پہنچا تو پہاڑیوں پر موجود تیر اندازوں نے تیروں کی بوچھاڑ کردی۔ لشکر نشیب میں تھا ‘ تیر بلندی سے آ رہے تھے اور دونوں طرف سے آ رہے تھے۔ اس سے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی اور بارہ ہزار کا لشکر جرار تتر بتر ہوگیا۔ جب ہراول دستے سے لوگ اضطراری کیفیت میں پلٹ کر بھاگے تو ریلے کی صورت میں بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ دھکیلتے چلے گئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف 30 یا 40 آدمی رہ گئے تھے۔ علامہ شبلی رح نے سیرت النبی ﷺ میں یہی لکھا ہے کہ 30 ‘ 40 آدمی رہ گئے تھے ‘ لیکن سید سلیمان ندوی رح نے بعد میں اپنے استاد کی رائے پر اختلافی نوٹ لکھا کہ تین سو یا چار سو آدمی آپ ﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے۔ لیکن بارہ ہزار کے لشکر میں سے تین یا چار سو آدمیوں کا رہ جانا بھی کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس صورت حال میں حضور ﷺ اپنی سواری سے نیچے اترآئے ‘ آپ ﷺ نے علم خود اپنے ہاتھ میں لیا اور بآواز بلند رجز پڑھا : اَنَا النَّبِیُّ لا کَذِب اَنَا ابْنُ عَبْدِ المُطَّلِبکہ میں نبی ہوں اس میں کوئی شک نہیں ! یعنی میں یقیناً نبی ہوں ‘ چاہے یہ بارہ ہزار لوگ میرا ساتھ دیں تب بھی ‘ اور اگر کوئی بھی ساتھ نہ دے تب بھی۔ اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ‘ یعنی میں عبدالمطلب کا پوتا میدان جنگ میں بنفس نفیس موجود ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو پکارا : اِلَیَّ یَاعِبَاد اللّٰہِ ! اللہ کے بندو ‘ میری طرف آؤ ! اس کے بعد آپ ﷺ نے قریب ہی موجود اپنے چچا حضرت عباس رض کو ‘ جن کی آواز کافی بلند تھی ‘ حکم دیا کہ انصار و مہاجرین کو پکاریں۔ انہوں نے بلند آواز سے پکارا : اصحاب بدر کہاں ہو ؟ اصحاب شجرہ بیعت رضوان والو کہاں ہو ؟ اس پر لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹنا شروع ہوئے اور لشکر پھر سے اکٹھا ہوا۔ اس کے بعد ایک بھرپور جنگ لڑنے کے بعد مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ آیت زیر نظر کا اشارہ اس پورے واقعہ کی طرف ہے۔

28

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْمُشْرِكُونَ نَجَسٌۭ فَلَا يَقْرَبُوا۟ ٱلْمَسْجِدَ ٱلْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَٰذَا ۚ وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةًۭ فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦٓ إِن شَآءَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

مومنو! مشرک تو پلید ہیں تو اس برس کے بعد وہ خانہٴ کعبہ کا پاس نہ جانے پائیں اور اگر تم کو مفلسی کا خوف ہو تو خدا چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ بےشک خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

آیت 28 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا ج یعنی اس سال 9 ہجری کے حج میں تو مشرکین بھی شامل ہیں ‘ مگر آئندہ کبھی کوئی مشرک حج کے لیے نہیں آسکے گا اور نہ کسی مشرک کو بیت اللہ یا مسجد حرام کے قریب آنے کی اجازت ہوگی۔ وَاِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖٓ اِنْ شَآءَط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ اگر کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ اس حکم کے بعد حاجیوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور ان کے نذرانوں اور قربانیوں سے ہونے والی آمدنی میں بھی کمی آجائے گی ‘ تو اسے اللہ کی ذات پر پورا پورا بھروسہ رکھنا چاہیے۔ عنقریب اس قدر دنیوی دولت تم لوگوں کو ملے گی کہ تم سنبھال نہیں سکو گے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد چند سالوں کے اندر اندر حالات یکسر تبدیل ہوگئے۔ سلطنت فارس اور سلطنت روما کی فتوحات کے بعد مال غنیمت کا گویا سیلاب امنڈ آیا اور اس قدر مال مسلمانوں کے لیے سنبھالنا واقعی مشکل ہوگیا۔ یہی صورت حال تھی جس کے بارے میں حضور ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں فرمایا تھا : فَوَاللّٰہِ لَا الْفَقْرُ اَخْشٰی عَلَیْکُمْ ‘ وَلٰکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمْ اَنْ تُبْسَطَ عَلَیْکُمُ الدُّنْیَا کَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ ‘ فَتَنَافَسُوْھَا کَمَا تَنَافَسُوْھَا ‘ وَتُھْلِکَکُمْ کَمَا اَھْلَکَتْھُمْ 1 پس اللہ کی قسم اے مسلمانو ! مجھے تم پر فقر و احتیاج کا کوئی اندیشہ نہیں ہے ‘ بلکہ مجھے تم پر اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم پر دنیا کشادہ کردی جائے گی تمہارے قدموں میں مال و دولت کے انبار لگ جائیں گے جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی ‘ پھر تم اس کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو گے جیسے کہ وہ لوگ کرتے رہے ‘ پھر یہ تمہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دے گی جیسے کہ اس نے ان لوگوں کو تباہ و برباد کردیا

29

قَٰتِلُوا۟ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ ٱلْحَقِّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ حَتَّىٰ يُعْطُوا۟ ٱلْجِزْيَةَ عَن يَدٍۢ وَهُمْ صَٰغِرُونَ

جو اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں

آیت 29 قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَلا بالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلاَ یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّہُمْ صٰغِرُوْنَ اس آیت میں بھی دین کا بہت اہم فلسفہ بیان ہوا ہے۔ اس حکم میں مشرکین عرب اور نسل انسانی کے باقی لوگوں کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ سورة التوبہ کی آیت 5 کی رو سے مشرکین عرب کو جو مہلت یا امان دی گئی تھی اس مدت کے گزرنے کے بعد ان کے لیے تو کوئی اور راستہ option اس کے علاوہ نہیں تھا کہ یا وہ ایمان لے آئیں یا انہیں قتل کردیا جائے گا ‘ یا وہ جزیرہ نمائے عرب چھوڑ کر چلے جائیں۔ ان کا معاملہ تو اس لیے خصوصی تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے رسول کی حیثیت سے ان پر آخری درجہ میں اتمام حجت کردیا تھا ‘ اور آپ ﷺ کا انکار کر کے وہ لوگ عذاب استیصال کے حق دار ہوچکے تھے۔ مگر یہود و نصاریٰ اور باقی پوری نوع انسانی کے لیے اس ضمن میں قانون مختلف ہے۔ جزیرہ نمائے عرب سے باہر کے لوگوں کے لیے اور قیامت تک تمام دنیا کے انسانوں کے لیے وہ چیلنج نہیں کہ ایمان لاؤ ورنہ قتل کردیے جاؤ گے۔ کیونکہ اس کے بعد اب حضور ﷺ بحیثیت رسول ﷺ معنوی طور پر تو موجود ہیں مگر بنفس نفیس موجود نہیں ‘ کہ براہ راست کوئی قوم آپ ﷺ کی دعوت کو رد کر کے عذاب استیصال کی مستحق ہوجائے۔ چناچہ باقی تمام نوع انسانی کے افراد کا معاملہ یہ ہے کہ ان سے قتال کیا جائے گا ‘ یہاں تک کہ وہ دین کی بالادستی کو بحیثیت ایک نظام کے قبول کرلیں ‘ مگر انفرادی طور پر کسی کو قبول اسلام کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ ہر کوئی اپنے مذہب پر کاربند رہتے ہوئے اسلامی ریاست کے ایک شہری کے طور پر رہ سکتا ہے ‘ مگر ایسی صورت حال میں غیر مسلموں کو جزیہ دینا ہوگا۔ اسی فلسفے کے تحت خلافت راشدہ کے دور میں کسی بھی ملک پر لشکر کشی کرنے سے پہلے تین شرائط پیش کی جاتی تھیں۔ پہلی یہ کہ ایمان لے آؤ ‘ ایسی صورت میں تم ہمارے برابر کے شہری ہو گے۔ اگر یہ قبول نہ ہو تو اللہ کے دین کی بالا دستی قبول کر کے اسلامی ریاست کے فرمانبردار شہری بن کر رہنا اور جزیہ دینا قبول کرلو۔ ایسی صورت میں تم لوگوں کو آزادی ہوگی کہ تم یہودی ‘ عیسائی ‘ مجوسی ‘ ہندو وغیرہ جو چاہو بن کر رہو۔ لیکن اگر یہ بھی قابل قبول نہ ہو اور تم لوگ اس زمین پر باطل کا نظام قائم رکھنا چاہو تو پھر اس کا فیصلہ جنگ سے ہوگا۔

30

وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ عُزَيْرٌ ٱبْنُ ٱللَّهِ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَى ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ ٱللَّهِ ۖ ذَٰلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَٰهِهِمْ ۖ يُضَٰهِـُٔونَ قَوْلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَبْلُ ۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُ ۚ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ

اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے یہ بھی انہیں کی ریس کرنے میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں

آیت 30 وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ عُزَیْرُ نِ ابْنُ اللّٰہِ وَقَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ قَوْلُہُمْ بِاَفْوَاہِہِمْ ج یُضَاہِءُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ط ان کی ان باتوں یا من گھڑت عقیدوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘ بلکہ یہ لوگ اپنے سے پہلے والے مشرکین کے عقائد کی نقل کر رہے ہیں۔ متھرا ازم ایک قدیم مذہب تھا جس کا مرکز مصر تھا۔ اس مذہب میں پہلے سے یہ تثلیث موجود تھی : " God the Father , Horus the Son of God and Isis the Mother Goddess." یعنی خدا ‘ خدا کا بیٹا اور اس کی ماں آئسس دیوی۔ یہ پہلی تثلیث تھی جو مصر میں بنی۔ پھر جب سینٹ پال نے عیسائیت کی تبلیغ شروع کی اور اس کا دائرہ غیر اسرائیلیوں gentiles تک وسیع کردیا تو اہل مصر کی نقالی میں تثلیث جیسے نظریات عیسائیت میں شامل کرلیے گئے تاکہ ان نئے لوگوں کو عیسائیت اختیار کرنے میں آسانی ہو۔ چناچہ عیسائیت میں جو پہلی تثلیث شامل کی گئی وہ یہی تھی کہ خدا ‘ خدا کا بیٹا یسوع اور مریم مقدس۔ تو انہوں نے قدیم مذاہب کی نقالی میں یہ تثلیث ایجاد کی تھی۔

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.