Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 91–100 of 129

91

لَّيْسَ عَلَى ٱلضُّعَفَآءِ وَلَا عَلَى ٱلْمَرْضَىٰ وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا۟ لِلَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۚ مَا عَلَى ٱلْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍۢ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر نہ ان پر جن کے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد نہ ہوں یعنی) جب کہ خدا اور اس کے رسول کے خیراندیش (اور دل سے ان کے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

آیت 91 لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآءِ وَلاَ عَلَی الْمَرْضٰی وَلاَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ آخر اتنا طویل سفر کرنے کے لیے ضروری تھا کہ آدمی تندرست و توانا ہو ‘ اس کے پاس سواری کا انتظام ہو ‘ راستے میں کھانے پینے اور دوسری ضروریات کے لیے سامان مہیا ہو ‘ لیکن اگر کوئی شخص ضعیف ہے ‘ بیمار ہے ‘ یا اس قدر نادار ہے کہ سفر کے اخراجات کے لیے اس کے پاس کچھ بھی نہیں تو اللہ کی نظر میں وہ واقعتا مجبور و معذور ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں سے کوئی مؤاخذہ نہیں۔ ان کو اس بات کا کوئی الزام نہیں دیا جاسکتا۔اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ط مَا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ یعنی مندرجہ بالا وجوہات میں سے کسی وجہ سے کوئی شخص واقعی معذور ہے مگر سچا اور پکا مومن ہے ‘ خلوصِ دل سے اللہ اور اس کے رسول کا وفادار ہے ‘ اس کا دین درجۂ احسان تک پہنچا ہوا ہے ‘ تو ایسے صاحب ایمان اور محسن لوگوں پر کوئی ملامت نہیں۔

92

وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ أَجِدُ مَآ أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا۟ وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا۟ مَا يُنفِقُونَ

اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے

آیت 92 وَّلاَ عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ تَوَلَّوْا وَّاَعْیُنُہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلاَّ یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ یعنی وہ لوگ جو دل و جان سے چاہتے تھے کہ اس مہم میں شریک ہوں ‘ مگر وسائل کی کمی کی وجہ سے شرکت نہیں کر پا رہے تھے ‘ اپنی اس محرومی پر وہ واقعتا صدمے اور رنج و غم سے ہلکان ہو رہے تھے۔ ایک طرف ایسے مؤمنین صادقین تھے اور دوسری طرف وہ صاحب حیثیت اُولُوا الطَّوْلِ لوگ جن کے پاس سب کچھ موجود تھا ‘ وسائل و ذرائع کی کمی نہیں تھی ‘ تندرست و توانا تھے ‘ لیکن اس سب کچھ کے باوجود وہ اللہ کی راہ میں نکلنے کو تیار نہیں تھے۔

93

۞ إِنَّمَا ٱلسَّبِيلُ عَلَى ٱلَّذِينَ يَسْتَـْٔذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَآءُ ۚ رَضُوا۟ بِأَن يَكُونُوا۟ مَعَ ٱلْخَوَالِفِ وَطَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

الزام تو ان لوگوں پر ہے۔ جو دولت مند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہیں (یعنی) اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں۔ خدا نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ سمجھتے ہی نہیں

آیت 92 وَّلاَ عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ تَوَلَّوْا وَّاَعْیُنُہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلاَّ یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ یعنی وہ لوگ جو دل و جان سے چاہتے تھے کہ اس مہم میں شریک ہوں ‘ مگر وسائل کی کمی کی وجہ سے شرکت نہیں کر پا رہے تھے ‘ اپنی اس محرومی پر وہ واقعتا صدمے اور رنج و غم سے ہلکان ہو رہے تھے۔ ایک طرف ایسے مؤمنین صادقین تھے اور دوسری طرف وہ صاحب حیثیت اُولُوا الطَّوْلِ لوگ جن کے پاس سب کچھ موجود تھا ‘ وسائل و ذرائع کی کمی نہیں تھی ‘ تندرست و توانا تھے ‘ لیکن اس سب کچھ کے باوجود وہ اللہ کی راہ میں نکلنے کو تیار نہیں تھے۔

94

يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ ۚ قُل لَّا تَعْتَذِرُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا ٱللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ ۚ وَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُۥ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے تم کہنا کہ مت عذر کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے سب حالات بتا دیئے ہیں۔ اور ابھی خدا اور اس کا رسول تمہارے عملوں کو (اور) دیکھیں گے پھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا

آیت 94 یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْکُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْہِمْ ط یَعْتَذِرُوْنَچونکہ فعل مضارع ہے اس لیے اس کا ترجمہ حال میں بھی ہوسکتا ہے اور مستقبل میں بھی۔ اگر تو یہ آیات تبوک سے واپسی کے سفر کے دوران نازل ہوئی ہیں تو ترجمہ وہ ہوگا جو اوپر کیا گیا ہے ‘ لیکن اگر ان کا نزول رسول اللہ ﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے بعد ہوا ہے تو ترجمہ یوں ہوگا : بہانے بنا رہے ہیں وہ تمہارے پاس آکر جب تم لوگ ان کے پاس لوٹ کر آگئے ہو قُلْ لاَّ تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَکُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰہُ مِنْ اَخْبَارِکُمْ ط۔ مہم پر جانے سے قبل تو حضور ﷺ اپنی طبعی شرافت اور مروّت کے باعث منافقین کے جھوٹے بہانوں پر بھی سکوت فرماتے رہے تھے ‘ لیکن اب چونکہ بذریعہ وحی ان کے جھوٹ کے سارے پردے چاک کردیے گئے تھے اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اب آپ ڈنکے کی چوٹ ان سے کہہ دیجیے کہ اب ہم تمہاری کسی بات پر یقین نہیں کریں گے ‘ کیونکہ اب اللہ تعالیٰ نے تمہاری باطنی کیفیات سے ہمیں مطلع کردیا ہے۔وَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوْلُہٗ یعنی آئندہ تمہارے طرزعمل اور رویے attitude کا جائزہ لیا جائے گا۔

95

سَيَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمْ إِذَا ٱنقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا۟ عَنْهُمْ ۖ فَأَعْرِضُوا۟ عَنْهُمْ ۖ إِنَّهُمْ رِجْسٌۭ ۖ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تو تمہارے روبرو خدا کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو سو اُن کی طرف التفات نہ کرنا۔ یہ ناپاک ہیں اور جو یہ کام کرتے رہے ہیں اس کے بدلہ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے

آیت 94 یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْکُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْہِمْ ط یَعْتَذِرُوْنَچونکہ فعل مضارع ہے اس لیے اس کا ترجمہ حال میں بھی ہوسکتا ہے اور مستقبل میں بھی۔ اگر تو یہ آیات تبوک سے واپسی کے سفر کے دوران نازل ہوئی ہیں تو ترجمہ وہ ہوگا جو اوپر کیا گیا ہے ‘ لیکن اگر ان کا نزول رسول اللہ ﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے بعد ہوا ہے تو ترجمہ یوں ہوگا : بہانے بنا رہے ہیں وہ تمہارے پاس آکر جب تم لوگ ان کے پاس لوٹ کر آگئے ہو قُلْ لاَّ تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَکُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰہُ مِنْ اَخْبَارِکُمْ ط۔ مہم پر جانے سے قبل تو حضور ﷺ اپنی طبعی شرافت اور مروّت کے باعث منافقین کے جھوٹے بہانوں پر بھی سکوت فرماتے رہے تھے ‘ لیکن اب چونکہ بذریعہ وحی ان کے جھوٹ کے سارے پردے چاک کردیے گئے تھے اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اب آپ ڈنکے کی چوٹ ان سے کہہ دیجیے کہ اب ہم تمہاری کسی بات پر یقین نہیں کریں گے ‘ کیونکہ اب اللہ تعالیٰ نے تمہاری باطنی کیفیات سے ہمیں مطلع کردیا ہے۔وَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوْلُہٗ یعنی آئندہ تمہارے طرزعمل اور رویے attitude کا جائزہ لیا جائے گا۔

96

يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا۟ عَنْهُمْ ۖ فَإِن تَرْضَوْا۟ عَنْهُمْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ

یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہو جاؤ لیکن اگر تم اُن سے خوش ہو جاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا

آیت 96 یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْہُمْ ج اب یہ ان منافقین کی دنیا داری کے لحاظ سے مجبوری تھی۔ ایک معاشرے کے اندر سب کا اکٹھے رہنا سہنا تھا۔ اوس اور خزرج کے اندر ان کی رشتہ داریاں تھیں۔ ایسے ماحول میں وہ سمجھتے تھے کہ اگر مسلمانوں کے دل ان کی طرف سے صاف نہ ہوئے تو وہ اس معاشرے کے اندر ایک طرح سے اچھوت بن کر رہ جائیں گے۔ اس لیے وہ مسلمانوں کے اندر اپنا اعتماد پھر سے بحال کرنے کے لیے ہر طرح سے دوڑ دھوپ کر رہے تھے ‘ مسلمانوں سے ملاقاتیں کرتے تھے ‘ ان کو اپنی مجبوریاں بتاتے تھے اور ان کے سامنے قسمیں کھا کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلانے کی کوشش کرتے تھے۔

97

ٱلْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًۭا وَنِفَاقًۭا وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوا۟ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام (شریعت) خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف (ہی) نہ ہوں۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

آیت 97 اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ کُفْرًا وَّنِفَاقًا وَّاَجْدَرُ اَلاَّ یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ یعنی اہل مدینہ تو مسلسل رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے فیض یاب ہو رہے تھے ‘ آپ ﷺ سے جمعہ کے خطبات سنتے تھے اور آپ ﷺ کی نصیحت کا ایک سلسلہ شب و روز ان کے درمیان چلتا رہتا تھا۔ مگر ان بادیہ نشین لوگوں کو تعلیم و تعلّم کے ایسے مواقع میسر نہیں تھے۔ لہٰذا فطری اور منطقی طور پر کفر و شرک اور نفاق کی شدت ان لوگوں میں نسبتاً زیادہ تھی۔

98

وَمِنَ ٱلْأَعْرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغْرَمًۭا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ ٱلدَّوَآئِرَ ۚ عَلَيْهِمْ دَآئِرَةُ ٱلسَّوْءِ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ ان ہی پر بری مصیبت (واقع) ہو۔ اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

آیت 98 وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا یعنی زکوٰۃ ‘ عشر وغیرہ کی ادائیگی جو اسلامی نظام حکومت کے تحت ان پر عائد ہوئی ہے یہ لوگ اس کو تاوان سمجھتے ہوئے بڑی ناگواری سے ادا کرتے ہیں ‘ اس لیے کہ اس سے پہلے اس علاقے میں نہ تو کوئی ایسا نظام تھا اور نہ ہی یہ لوگ محصولات وغیرہ ادا کرنے کے عادی تھے۔ وَّیَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَآءِرَط یہ لوگ بڑی بےصبری سے انتظار کر رہے ہیں کہ گردش زمانہ کے باعث مسلمانوں کے خلاف کچھ ایسے حالات پیدا ہوجائیں جن سے مدینہ کی یہ اسلامی حکومت ختم ہوجائے اور وہ ان پابندیوں سے آزاد ہوجائیں۔عَلَیْہِمْ دَآءِرَۃُ السَّوْءِط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ان کی منافقت جو ان کے دلوں کا روگ بن چکی ہے ‘ وہی اصل برائی ہے جو ان پر مسلط ہے۔

99

وَمِنَ ٱلْأَعْرَابِ مَن يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَٰتٍ عِندَ ٱللَّهِ وَصَلَوَٰتِ ٱلرَّسُولِ ۚ أَلَآ إِنَّهَا قُرْبَةٌۭ لَّهُمْ ۚ سَيُدْخِلُهُمُ ٱللَّهُ فِى رَحْمَتِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قُربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دیکھو وہ بےشبہ ان کے لیے (موجب) قربت ہے خدا ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

آیت 99 وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰہِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ ط یعنی یہ بادیہ نشین لوگ سب کے سب ہی کفر و نفاق پرکار بند اور انفاق فی سبیل اللہ کو تاوان سمجھنے والے نہیں ہیں ‘ بلکہ ان میں سچے مؤمن بھی ہیں ‘ جو نہ صرف اللہ کے راستے میں شوق سے خرچ کرتے ہیں بلکہ اس انفاق کو تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ دین کے لیے مال خرچ کرنے سے اللہ کے رسول ﷺ کی دعائیں بھی ان کے شامل حال ہوجائیں گی۔

100

وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلْأَوَّلُونَ مِنَ ٱلْمُهَٰجِرِينَ وَٱلْأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحْسَٰنٍۢ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى تَحْتَهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

اب اہل ایمان کے مابین حفظ مراتب کا مضمون آ رہا ہے ‘ کیونکہ کسی بھی معاشرے میں تمام انسان برابر نہیں ہوتے : ؂ خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد نہ ہر زن زن است و نہ ہر مرد مرد !مدینہ کے اس معاشرے میں بھی سب لوگ نظریاتی طور پر برابر نہیں تھے ‘ حتیٰ کہ جو منافقین تھے وہ بھی سب ایک جیسے منافق نہیں تھے۔ چونکہ انسانی فطرت تو تبدیل نہیں ہوتی اس لیے آئندہ بھی جب کبھی کسی مسلمان معاشرے میں کوئی دینی تحریک اٹھے گی تو اسی طرح کی صورت حال پیش آئے گی۔ تحریک کے ارکان کے درمیان درجہ بندی کا ایک واضح اور غیر مبہم ادراک نا گزیر ہوگا۔ لہٰذا یہ درجہ بندی حکمت قرآنی کا ایک بہت اہم موضوع ہے اور اس اعتبار سے یہ آیات بہت اہم ہیں۔آیت 100 وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍلا رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا ط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ اس درجہ بندی کے مطابق اہل ایمان کے یہ دو مراتب بلند ترین ہیں۔ یعنی سب سے اوپر السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ اور اس کے بعد ان کے پیروکار۔ اس سے پہلے ایک درجہ بندی ہم سورة النساء کی آیت 69 میں انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین کے مراتب میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ مگر وہ درجہ بندی کسی اور اعتبار سے ہے جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ بنیادی طور پر ان دونوں گروہوں کے لوگ نیک سیرت ہیں جو فطرت سلیمہ اور عقل سلیم سے نوازے گئے ہیں۔ البتہ ان کی آپس کی درجہ بندی میں جو فرق ہے وہ ان کی طبیعت اور ہمت کے فرق کے باعث ہے۔ ان میں سے درجہ اول السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ پر فائز دراصل وہ لوگ ہیں جو حق کو سامنے آتے ہی فوراً قبول کرلیتے ہیں۔ حق ان کے لیے اس قدر قیمتی متاع ہے کہ اس کی قبولیت میں ذرا سی تاخیر بھی انہیں گوارا نہیں ہوتی۔ وہ اتنے باہمت لوگ ہوتے ہیں کہ قبول حق کا فیصلہ کرتے ہوئے وہ اس کے نتائج و عواقب کے بارے میں سوچ بچار میں نہیں پڑتے۔ وہ اس خیال کو خاطر میں نہیں لاتے کہ اس کے بعد انہیں کیا کچھ چھوڑنا ہوگا اور کیا کچھ بھگتنا پڑے گا۔ نہ وہ لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے آگے اس راستے پر پہلے سے کوئی چل بھی رہا ہے یا نہیں ‘ اور اگر نہیں چل رہا تو کسی اور کے آنے کا انتظار کرلیں ‘ سب سے پہلے ‘ اکیلے وہ کیونکر اس پر خطر وادی میں کود پڑیں ! وہ ان سب پہلوؤں پر سوچنے میں وقت ضائع نہیں کرتے ‘ حق کو قبول کرنے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے ‘ کسی مصلحت کو خاطر میں نہیں لاتے ‘ عقل کے دلائل کی منطق میں نہیں پڑتے اور ع ہرچہ باداباد ‘ ما کشی در آب اندا ختیم کے مصداق آتش ابتلا میں کود جاتے ہیں۔ بقول اقبالؔ :r؂بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے کہ محو تماشائے لب بام ابھی !دوسرے درجہ میں وہ لوگ ہیں جو ان السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کے اتباع میں داعئ حق کی پکار پر لبیک کہتے ہیں۔ یہ بھی سلیم الفطرت لوگ ہوتے ہیں ‘ حق کو پہلی نظر میں پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کی قبولیت کے لیے آمادہ بھی ہوتے ہیں ‘ مگر ان میں ہمت قدرے کم ہوتی ہے۔ یہ ہرچہ بادا باد والا نعرہ بلند نہیں کرسکتے اور چاہتے ہیں کہ یہ نئی پگڈنڈی ذرا راستے کی شکل اختیار کرلے ‘ ہمارے آگے کوئی دو چار لوگ چلتے ہوئے نظر آئیں تو ہم بھی ان کے پیچھے چل پڑیں گے۔ یعنی اس میں معاملہ نیت کے کسی خلل کا نہیں ‘ صرف ہمت کی کمی کا ہے۔ اور وہ بھی اس لیے کہ ان کی طبائع ہی اس نہج پر بنائی گئی ہیں ‘ جیسے حضور ﷺ نے فرمایا : اَلنَّاسُ مَعَادِنُ کَمَعَادِنِ الْفِضَّۃِ وَالذَّھَبِ 1 انسان معدنیات کی کانوں کی طرح ہیں ‘ جیسے چاندی اور سونے کی کانیں ہوتی ہیں۔ یعنی جس طرح معدنیات کی قسمیں ہوتی ہیں اسی طرح انسانوں کی بھی مختلف اقسام ہیں۔ ظاہر ہے آپ سونے کی کچ دھات ore کو صاف کریں گے …

At-Tawba 9:100Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.