Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 81–90 of 129

81

فَرِحَ ٱلْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَٰفَ رَسُولِ ٱللَّهِ وَكَرِهُوٓا۟ أَن يُجَٰهِدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَالُوا۟ لَا تَنفِرُوا۟ فِى ٱلْحَرِّ ۗ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّۭا ۚ لَّوْ كَانُوا۟ يَفْقَهُونَ

جو لوگ (غزوہٴ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا (کی مرضی) کے خلاف بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا۔ (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات) کو سمجھتے

اب سیاق کلام ایک بار پھر ان لوگوں کی طرف پھرجاتا ہے جو رسول اللہ سے پیچھے رہ گئے تھے یعنی غزوہ تبوک کے اہم مرحلے میں۔

یہ لوگ جو پیچھے رہ گئے تھے ان سے یہ جرم دنیا پرستی کی وجہ سے سرزد ہوا۔ انہوں نے آرام اور راحت کو پسند کیا۔ انہوں نے انفاق فی سبیل اللہ سے پہلو تہی کی۔ کم ہمتی اور بےحمیتی اور بےایمانی اور دلی کمزور نے ان کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ یہ موقف اختیار کریں۔ ان کے لیے جو لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ بھی نہایت ہی حقارت امیز ہے یعنی یہ کوئی سامان ہے جو پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول اللہ کو چھوڑ کر اس کے مقابلے میں امن و سکون اور عیش و راحت کو قبول کیا۔ انہوں نے رسول اللہ اور مجاہدین کو اکیلے چھوڑ کر سخت ترین گرمی کی مشقتوں کے لیے چھوڑ دیا اور اس بات کو پسند نہ کیا کہ اپنی جان و مال کے ذریعے اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس " جھلسا دینے والی گرمی میں مت نکلو " یہی اقوال ان تمام لوگوں کے منہ سے نکلتے ہیں جو عیش کوش ہوتے ہیں۔ یہ پست ہمت زنانہ چال والے لوگ ہوتے ہیں اور ان کو کسی صورت میں بھی مرد نہیں کہا جاسکتا۔

یہ لوگ ضعف ہمت کا نمونہ ہیں ۔ یہ کمزور ارادے کے لوگ ہیں۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مشکلات سے گھبراتے ہیں اور جدوجہد سے نفرت کرتے ہیں اور جہد و مشقت کے مقابلے میں ذلت آمیز راحت کو پسند کرتے ہیں۔ اور جہد و مشقت کی باعزت زندگی انہیں گوارا نہیں ہوتی۔ وہ شیر کی زندگی کی مقابلے میں گیدڑ کی زندگی کے خوگر ہوتے ہیں۔ یہ لوگ آگے بڑھنے والی صٖفوں کے پیچھے تھکے ماندے پڑے رہتے ہیں۔ لیکن باہمت لوگوں کی یہ اگلی صفیں پر خطر اور کانٹوں والی راہوں کو چیرتی ہوئی اگے بڑھتی ہیں۔ اس لیے ان کی فطرت زندہ ہوتی ہے اور جانتے ہیں مشکلات کو انگیز کرنا اور آگے ہی بڑھتے چلے جانا انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ پیچھے رہنے اور گھروں میں بیٹھنے کے مقابلے میں ایسے لوگوں کو دشمن کا سامنا کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے۔

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَكَرِهُوْٓا اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ ۭ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا ۭ لَوْ كَانُوْا يَفْقَهُوْنَ ۔

جن لوگوں کو پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی گئی تھی وہ اللہ کے رسول کا ساتھ نہ دینے اور گھر بیٹھے رہنے پر خوش ہوئے اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کریں۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ " اس سخت گرمی میں نہ نکلو " ان سے کہو کہ جہنم کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے ، کاش انہیں اس کا شعور ہوتا۔

دنیا میں تو وہ گرمی سے جان بچا کر چھاؤں میں بیٹھ جائیں گے لیکن آخرت کی گرمی کا کیا علاج کریں گے۔ وہاں تو وہ دائما آگ میں رہیں گے۔ اللہ کی جانب سے یہ ایک حقیقت پسندانہ طنز ہے۔ دنیا میں اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنا تو بہت قلیل مدت کی مشقت ہے بمقابلہ جہنم کی گرمی کے جہاں جو بھی جائے گا ایک طویل عرصہ تک رہے گا اور معلوم کہ کس قدر وہاں رہے گا

82

فَلْيَضْحَكُوا۟ قَلِيلًۭا وَلْيَبْكُوا۟ كَثِيرًۭا جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

یہ (دنیا میں) تھوڑا سا ہنس لیں اور (آخرت میں) ان کو ان اعمال کے بدلے جو کرتے رہے ہیں بہت سا رونا ہوگا

یہاں اگر کوئی ہنسے گا تو اس کی ہنسی مختصر ہوگی کیونکہ دنیا کی زندگی محدود ہے۔ اور آخرت میں پھر اسے ہمیشہ کے لیے رونا ہوگا۔ اور جیسا کرے گا ویسے بھرے گا۔ یہ نہایت ہی منصفانہ جزا ہے۔

یہ لوگ جنہوں نے جہاد کے مقابلے میں آرام کو پسند کیا اور اپنایا۔ اور مشکل حالات میں قافلہ اسلام سے پیچھے رہ گئے۔ یہ کسی بھی مشکل مہم کے لیے نااہل ثابت ہوچکے ہیں۔ یہ جہاد کے قابل ہی نہیں رہے۔ اس لیے ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی مناسب نہیں ہے۔ لہذا اب کسی بھی موقعہ پر انہیں شریک جہاد کرکے ان کو عزت نہ دی جائے کیونکہ اس اہم موقعہ پر انہوں نے خود اس اعزاز کو لات مار دی۔

83

فَإِن رَّجَعَكَ ٱللَّهُ إِلَىٰ طَآئِفَةٍۢ مِّنْهُمْ فَٱسْتَـْٔذَنُوكَ لِلْخُرُوجِ فَقُل لَّن تَخْرُجُوا۟ مَعِىَ أَبَدًۭا وَلَن تُقَٰتِلُوا۟ مَعِىَ عَدُوًّا ۖ إِنَّكُمْ رَضِيتُم بِٱلْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ فَٱقْعُدُوا۟ مَعَ ٱلْخَٰلِفِينَ

پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے اور وہ تم سے نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکلو گے اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہوکر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو

دعوت اسلامی اور اسلامی تحریکات کو نہایت ہی مضبوط ، نہایت ہی سلیم الفطرت اور نہایت ہی راست باز لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جن کے ارادے مصمم ہوں ، جو مشکلات کو انگیز کرنے والے ہوں ، دشمن کے سامنے سینہ سپر ہونے والے ہوں اور ایک طویل اور پر مشقت جدوجہد کے لیے تیار ہوں۔ لیکن جب اسلامی تحریکات کی صفوں میں عیش پسند ، راحت طلب ، اور کمزور یقین کے لوگ گھس آئیں تو وہ مشکل وقت میں اس کی شکست کا باعث بنتے ہیں۔ مشکل وقت وہ اضطراب اور انتشار کا سبب بنتے ہیں۔ لہذا اس قسم کے لوگ جن سے تحریک کے دوران ضعف و کمزوری کا صدور ہوجائے ان کو تحریک سے دور پھینکنا چاہیے تاکہ مشکل اوقات میں وہ کمزوری اور انتشار کا باعث بنیں اور یہ نہ ہو کہ جب خوشحالی کا دور دور ہو اور فتھ و کامرانی کا دور ہو اور تو یہ لوگ لوٹ کر مزے لوٹتے رہیں۔ صاف صاف کہہ دو اب تم میں ساتھ ہر گز نہیں چل سکتے نہ تم میری معیت میں کسی دشمن کے ساتھ لڑ سکتے ہو۔ تم نے خود پہلے بیٹھے رہنے کو پسند کیا۔

انکم رضیتم بالقعود اول مرۃ۔ تم نے جنگ تبوک کے لیے نکلنے کا شرف کھو دیا ہے۔ لشکر تبوک میں شمولیت کے اعزاز سے تم محروم ہوچکے ہو ، کیونکہ یہ شرف وہی حاصل کرسکتا تھا جو اس کے لیے اہل تھا۔ لہذا اس معاملے میں تمہارے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جاسکتی۔ اور نہ تم حسن سلوک اور معافی کے مستحق رہے ہو۔ لہذا اب تم انہی لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہو جو تمہارے ہم جنس اور ہم محفل اور ہم مشرب تھے۔ فاقعدوا مع الخالفین لہذا پیچھے رہنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو۔ یہ تھی وہ راہ جو اللہ نے اپنے نبی کے لیے تجویز کی تھی اور آج بھی نبی کے نقش قدم پر جو دعوت و تحریک برپا ہوگئی ہے۔ اس کی بھی یہی راہ و روش ہوگی۔ لہذا تحریک اسلام کے داعیوں اور کارکنوں دونوں کو یہ نکتہ یاد رکھنا چاہیے۔ ہر دور میں اور ہر جگہ۔

جس طرح حضور کو یہ حکم بھی دیا گیا کہ ان لوگوں کو دوبارہ اسلامی صفوں میں شامل نہ کیا جائے ، کیونکہ انہوں نے مشکل حالات میں ساتھ چھوڑا ، اسی طرح یہ حکم بھی دیا گیا۔ آئندہ کے لیے ان کو اسلامی معاشرے میں کوئی اعزازو امتیاز نہ دیا جائے۔

84

وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰٓ أَحَدٍۢ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًۭا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِۦٓ ۖ إِنَّهُمْ كَفَرُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ فَٰسِقُونَ

اور (اے پیغمبر) ان میں سے کوئی مر جائے تو کبھی اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر (جا کر) کھڑے ہونا۔ یہ خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے رہے اور مرے بھی نافرمان (ہی مرے)

اس آیت کے پس منظر کے بارے میں بھی مفسرین نے متعین واقعات ذکر کیے ہیں لیکن اس آیت کا مفہوم ان واقعات سے عام ہے۔ یہاں اسلامی نظریہ حیات کی راہ میں جدوجہد کرنے والے گروہ کے بارے میں ایک اصول وضع کیا گیا ہے۔ یہ کہ اس جدوجہد کے معاملے میں جو لوگ عیش کوش ، آرام پسند ہیں اور مشکلات کو انگیز نہیں کرتے اور مشکل مہمات میں شامل نہیں ہوتے ، اسلامی قیادت کی طرف سے ایسے لوگوں کے ساتھ نہ نرمی برتی جائے اور نہ ایسے لوگوں کو اعزاز دیا جائے۔ اسلامی صفوں سے ایسے لوگوں کو دور رکھا جائے یا نہایت ہی پچھلی صفوں اور میں اور اس معاملے میں کوئی نرمی ، حسن سلوک یا رواداری نہ برتی جائے۔

یہاں اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا جنازہ نہ پڑھا جائے اور ان کی قبر پر آپ کھڑے نہ ہوں کیونکہ انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا اور یہ لا عمل فاسق تھے اور منافق تھے۔ لیکن اس حکم سے جو عمومی اصول نکلتا ہے وہ زیادہ عام ہے۔ کیونکہ نماز جنازہ اور قبر پر کھڑے ہونے سے میت کو اعزاز ملتا ہے اور اسی اعزاز کے یہ لوگ مستحق نہیں ہیں۔ خصوصً جو لوگ نہایت ہی مشکل وقت میں مجاہدین کی صفوں میں کھڑے نہیں ہوتے ان کو اعزاز نہ دیا جائے تاکہ لوگوں کو اسلامی جدوجہد کی اہمیت معلوم ہو۔ اور کارکنوں کو معلوم ہو کہ اس معاملے میں اعزاز کے مستحق وہی لوگ ہوتے ہیں جو عملی جدوجہد کریں گے ، مشکلات کو انگیز کریں گے۔ مشکلات میں ثابت قدم رہیں گے۔ تب جا کر وہ اسلامی صفوں میں معزز ، مکرم اور ممتاز ہوں گے۔ اسلامی تحریک میں ایسے لوگوں کو نہ ظاہری اعزاز دیا جائے اور نہ باطنی۔

85

وَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَٰلُهُمْ وَأَوْلَٰدُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِى ٱلدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَٰفِرُونَ

ان کے اولاد اور مال سے تعجب نہ کرنا۔ ان چیزوں سے خدا یہ چاہتا ہے کہ ان کو دنیا میں عذاب کرے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) یہ کافر ہی ہوں

تحریک اقامت دین کے لیے یہ ہمہ گیر ہدایت ہے کہ کسی کے مال و دولت کی وجہ سے اسے اعزاز نہ دیا جائے۔ نہ دل اور شعور میں ایسے لوگوں سے کوئی تاثر لیا جائے۔ یہ مال خود ان کے لیے وبال جان ہوں گے۔ کیونکہ اگر کوئی ان کے ظاہری مال سے متاثر ہوگا تو یہ بھی ان کے لیے اکرام ہوگا۔ دل کے اندر بھی ایسے لوگوں کی تکریم کا شعور نہ آنے پائے۔ ان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جائے۔

86

وَإِذَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ أَنْ ءَامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَجَٰهِدُوا۟ مَعَ رَسُولِهِ ٱسْتَـْٔذَنَكَ أُو۟لُوا۟ ٱلطَّوْلِ مِنْهُمْ وَقَالُوا۟ ذَرْنَا نَكُن مَّعَ ٱلْقَٰعِدِينَ

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ ہو کر لڑائی کرو تو جو ان میں دولت مند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیجیئے کہ جو لوگ گھروں میں رہیں گے ہم بھی ان کے ساتھ رہیں

یہاں دو مزاجوں کا ذکر ہے۔ ایک ہے مزاج نفاق ، کمزوری اور ذلت کا اور دوسرا مزاج ہے ایمان ، قوت آزمائش کا۔ ایک مزاج کی منصوبہ بندی چالاکی ، پیچھے رہ جانے اور ذلت قبول کرنے کے خطوط پر ہوتی ہے اور دوسرے مزاج کی منصوبہ بندی استقامت ، خرچ اور عزت و شرف کے حصول کے لیے ہوتی ہے۔

جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا حکم ہوتا ہے تو بعض لوگ جو استطاعت رکھتے ہیں جن کے پاس جہاد کے اخراجات کے لیے مناسب وسائل ہوتے ہیں ، وہ اپنی پوزیشن کے مطابق آگے نہیں بڑھتے۔ اس طرح اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ ذلت ، شرمندگی کی روش اختیار کرتے ہیں ، یہ لوگ عورتوں اور معذوروں کے ساتھ بیٹھے رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی عزت اور اپنے مقام کی مدافعت نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کو یہ شعور ہی نہیں ہوتا ، نہ وہ یہ احساس کرتے ہیں کہ ان کی اس روش کی وجہ سے وہ کس قدر ذلیل و خوار سمجھتے جاتے ہیں۔ پس وہ یہی چاہتے ہیں کہ ہر قیمت پر زندہ رہیں۔ کیا وہ نہیں سمجھتے کہ ہر قیمت پر زندہ رہنا ذلیلوں کا کام ہے۔

87

رَضُوا۟ بِأَن يَكُونُوا۟ مَعَ ٱلْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں۔ (گھروں میں بیٹھ) رہیں ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے تو یہ سمجھتے ہی نہیں

رضو بان یکوانوا ۔۔۔۔ الفوز العظیم ۔۔۔ اگر یہ سمجھتے تو اس حقیقت کو پا لیتے کہ جہاد میں قوت ، عزت اور باعزت زندگی کا راز ہے اور جہاد سے پیچھے رہنے میں کمزوری ذلت اور ذلت کی موت ہے۔

یاد رہے کہ ذلت کے لیے بھی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے اور عزت و شرف کے لیے بھی انسان کو قیمت دینا ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات انسان شرف کے مقابلے میں ذلت کے لیے بڑی قیمت ادا کرتا ہے۔ بعض کمزور مزاج کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عزت کے لیے بہت بڑی قیمت دینا پڑتی ہے اور ہم اس قدر قیمت کی ادائیگی نہیں کرسکتے۔ اس لیے یہ لوگ ذلت کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں اور مشکلات اور تکالیف دیکھ کر بھاگ نکلتے ہیں۔ ایسے لوگ نہایت ہی ذلیلانہ اور حقیرانہ اور خوفناک زندگی بسر کرتے ہیں۔ خود اپنے سائے سے ڈرتے رہتے ہیں۔ خود اپنی آواز سے کانپ اٹھتے ہیں۔ ہر آوازے کو یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر ہے۔ ان لوگوں کی علامت یہ ہوتی ہے کہ زندگی انہیں بہت محبوب ہوتی ہے۔ لیکن یہ لوگ عز و شرف کے مقابلے میں اس ذلت کی زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں۔ پوری پوری قیمت جان کی قیمت ، عزت و آبرو کی قیمت ، شہرت کی قیمت ، اطمینان کی قیمت اور خوف اور دولت کی قیمت۔ لیکن ان بدبختوں کو اس کا شعور نہیں ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں وہ لوگ شامل تھے جو مدینہ میں عورتوں کے ساتھ بیٹھے رہے ، ان کے دلوں پر مہر لگ گئی اور ان کی فہم و ادراک نے کام کرنا چھوڑ دیا۔

لیکن رسول اور وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے تھے وہ دوسرے طرز کے لوگ تھے۔ جاھدوا باموالھم وانفسھم (انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا) انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کیے اور نظریات کی قیمت ادا کی اور وہ عزت کمائی جو بیٹھنے والے نہ کما سکے۔ یہی لوگ ہیں جو اس زمین کا کریم ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کے سامنے سب خزانے کھلے ہیں اور ان کا نام اور ان کی شہرت دور دراز تک ہے۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ دنیا میں بھی جبکہ وہ باعزت زندگی بسر کر رہے ہوں گے اور آخرت میں بھی جن کے لیے اللہ نے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی فوز عظیم ہے۔

88

لَٰكِنِ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ جَٰهَدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلْخَيْرَٰتُ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

لیکن پیغمبر اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے۔ انہیں لوگوں کے لیے بھلائیاں ہیں۔ اور یہی مراد پانے والے ہیں

رضو بان یکوانوا ۔۔۔۔ الفوز العظیم ۔۔۔ اگر یہ سمجھتے تو اس حقیقت کو پا لیتے کہ جہاد میں قوت ، عزت اور باعزت زندگی کا راز ہے اور جہاد سے پیچھے رہنے میں کمزوری ذلت اور ذلت کی موت ہے۔

یاد رہے کہ ذلت کے لیے بھی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے اور عزت و شرف کے لیے بھی انسان کو قیمت دینا ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات انسان شرف کے مقابلے میں ذلت کے لیے بڑی قیمت ادا کرتا ہے۔ بعض کمزور مزاج کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عزت کے لیے بہت بڑی قیمت دینا پڑتی ہے اور ہم اس قدر قیمت کی ادائیگی نہیں کرسکتے۔ اس لیے یہ لوگ ذلت کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں اور مشکلات اور تکالیف دیکھ کر بھاگ نکلتے ہیں۔ ایسے لوگ نہایت ہی ذلیلانہ اور حقیرانہ اور خوفناک زندگی بسر کرتے ہیں۔ خود اپنے سائے سے ڈرتے رہتے ہیں۔ خود اپنی آواز سے کانپ اٹھتے ہیں۔ ہر آوازے کو یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر ہے۔ ان لوگوں کی علامت یہ ہوتی ہے کہ زندگی انہیں بہت محبوب ہوتی ہے۔ لیکن یہ لوگ عز و شرف کے مقابلے میں اس ذلت کی زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں۔ پوری پوری قیمت جان کی قیمت ، عزت و آبرو کی قیمت ، شہرت کی قیمت ، اطمینان کی قیمت اور خوف اور دولت کی قیمت۔ لیکن ان بدبختوں کو اس کا شعور نہیں ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں وہ لوگ شامل تھے جو مدینہ میں عورتوں کے ساتھ بیٹھے رہے ، ان کے دلوں پر مہر لگ گئی اور ان کی فہم و ادراک نے کام کرنا چھوڑ دیا۔

لیکن رسول اور وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے تھے وہ دوسرے طرز کے لوگ تھے۔ جاھدوا باموالھم وانفسھم (انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا) انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کیے اور نظریات کی قیمت ادا کی اور وہ عزت کمائی جو بیٹھنے والے نہ کما سکے۔ یہی لوگ ہیں جو اس زمین کا کریم ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کے سامنے سب خزانے کھلے ہیں اور ان کا نام اور ان کی شہرت دور دراز تک ہے۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ دنیا میں بھی جبکہ وہ باعزت زندگی بسر کر رہے ہوں گے اور آخرت میں بھی جن کے لیے اللہ نے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی فوز عظیم ہے۔

89

أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

خدا نے ان کے لیے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہی گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

رضو بان یکوانوا ۔۔۔۔ الفوز العظیم ۔۔۔ اگر یہ سمجھتے تو اس حقیقت کو پا لیتے کہ جہاد میں قوت ، عزت اور باعزت زندگی کا راز ہے اور جہاد سے پیچھے رہنے میں کمزوری ذلت اور ذلت کی موت ہے۔

یاد رہے کہ ذلت کے لیے بھی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے اور عزت و شرف کے لیے بھی انسان کو قیمت دینا ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات انسان شرف کے مقابلے میں ذلت کے لیے بڑی قیمت ادا کرتا ہے۔ بعض کمزور مزاج کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عزت کے لیے بہت بڑی قیمت دینا پڑتی ہے اور ہم اس قدر قیمت کی ادائیگی نہیں کرسکتے۔ اس لیے یہ لوگ ذلت کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں اور مشکلات اور تکالیف دیکھ کر بھاگ نکلتے ہیں۔ ایسے لوگ نہایت ہی ذلیلانہ اور حقیرانہ اور خوفناک زندگی بسر کرتے ہیں۔ خود اپنے سائے سے ڈرتے رہتے ہیں۔ خود اپنی آواز سے کانپ اٹھتے ہیں۔ ہر آوازے کو یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر ہے۔ ان لوگوں کی علامت یہ ہوتی ہے کہ زندگی انہیں بہت محبوب ہوتی ہے۔ لیکن یہ لوگ عز و شرف کے مقابلے میں اس ذلت کی زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں۔ پوری پوری قیمت جان کی قیمت ، عزت و آبرو کی قیمت ، شہرت کی قیمت ، اطمینان کی قیمت اور خوف اور دولت کی قیمت۔ لیکن ان بدبختوں کو اس کا شعور نہیں ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں وہ لوگ شامل تھے جو مدینہ میں عورتوں کے ساتھ بیٹھے رہے ، ان کے دلوں پر مہر لگ گئی اور ان کی فہم و ادراک نے کام کرنا چھوڑ دیا۔

لیکن رسول اور وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے تھے وہ دوسرے طرز کے لوگ تھے۔ جاھدوا باموالھم وانفسھم (انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا) انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کیے اور نظریات کی قیمت ادا کی اور وہ عزت کمائی جو بیٹھنے والے نہ کما سکے۔ یہی لوگ ہیں جو اس زمین کا کریم ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کے سامنے سب خزانے کھلے ہیں اور ان کا نام اور ان کی شہرت دور دراز تک ہے۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ دنیا میں بھی جبکہ وہ باعزت زندگی بسر کر رہے ہوں گے اور آخرت میں بھی جن کے لیے اللہ نے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی فوز عظیم ہے۔

90

وَجَآءَ ٱلْمُعَذِّرُونَ مِنَ ٱلْأَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ ٱلَّذِينَ كَذَبُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ ۚ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے ہیں ان کو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا

پہلے لوگ تو وہ ہیں جن کے عذرات حقیقی ہیں۔ لہذا ان کو اجازت دے دی گئی اور وہ مجبوراً رہ گئے ، رہے دوسرے تو وہ بلا عذر رہے۔ کیونکہ انہوں نے اور رسول اللہ کے سامنے جھوٹے عذرا پیش کیے۔ ان میں سے جن لوگوں نے کفر کا ارتکاب کیا وہ تو عذاب الیم سے دوچار ہوں گے۔ ہاں جن لوگوں نے توبہ کرلی تو ان کا ذکر یہاں نہیں ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.