Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 71–80 of 129

71

وَٱلْمُؤْمِنُونَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍۢ ۚ يَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَيُطِيعُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ ٱللَّهُ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

اور کفار و منافقین کا محاذ بالمقابل کیا ہے ، اور اس کا انجام کیا ہوگا یہ مومنین و صادقین ہیں۔ ان کا مزاج منافقین اور کفار سے یکدم مختلف ہے۔ ان کا طرز عمل ان سے بالکل الٹ ہے۔ اور ان کا انجام بھی ان کے انجام سے بالکل مختلف ہے۔

اگر منافقین ایک دوسرے کے دوست ہیں اور ایک ہی فطرت رکھتے ہیں اور ایک ہی مزاج رکھتے ہیں تو مومنین و مومنات بھی ایک ہی مزاج اور ایک ہی نظریات کے قائل ہیں اور ایک دوسرے کے محب اور دوست ہیں۔ لیکن منافقین باوجود ہم طبع اور ہم جنس ہونے کے مومنین اور مومنات کی طرح شیر و شکر نہیں ہیں کیونکہ دوست تو وہ لوگ ہوسکتے ہیں جو بہادر ہوں ، جو ایک دوسرے کی مدد کو پہنچنے والے ہوں اور باہم معاون و انصار ہوں جبکہ منفاقت کا مزاج ہی ان باتوں سے مختلف ہوتا ہے۔ کیونکہ بہادری کے مقابلے میں منافق بزدل اور ذلیل ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے ہمدرد نہیں ہوتے اور نہ ہی باہم جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور نہ باہم معاون و کفیل ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان کے خیالات اور ان کا طرز عمل ایک دوسرے کے ساتھ ملتا جلتا ہوتا ہے۔ قرآن کریم دونوں کے لیے قدرے مختلف اسلوب اختیار کرتا ہے۔ منافقین کے لی صرف یہ لفظ ہیں بعضھم من بعض (وہ ایک دوسرے سے ہیں اور اہل ایمان کے لیے الفاظ ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ بعضھم اولیاء بعض ایک مومن کا مزاج امت مومنہ کا مزاج ہوتا ہے وہ اجتماعی ذہن رکھتا ہے۔ وہ اتحاد ، باہم متکافل اور مددگار ہوتا ہے اور اس کا یہ اتحاد اور باہم نصرت حصول خیر اور دفع شر کے لی ہوتی ہے۔

وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۔ مومن مرد اور مومن عورتیں ، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، بھلائی کا حک دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔ اور یہ مقاصد یعنی خیر کو حاصل کرنا اور شر کی مدافعت کرنا اس قدر اونچے اور مشکل مقاصد ہیں جن کے لیے ایک ایسی جماعت کی ضرورت ہے جو یک جان دو قلب ہو۔ اس کے افراد باہم محبت کرنے والے اور مدد کرنے والے ہوں اور وہ شر کے مقابلے میں ایک صف میں صٖف آرا ہونے والے ہون اور ان میں تفرقہ اور جدائی اور عدم اتفاق کا کوئی عامل موجود نہ ہو۔ اور جب جماعت مسلمہ کے اندر تفرقہ پیدا ہوجائے تو وہاں لازما جماعت کے اندر کوئی ایسا عنصر داخل ہوگا جو اس کے مزاج کے خلاف ہوگا ، جو اس کے نظریات کے ساتھ لگا نہ کھاتا ہوگا اور اسی عنصر کی وجہ سے تفرقہ جماعت کے اندر داخل ہوگا۔ تفرقے کی وجہ سے جماعت کے اندر پھر امراض اور اعراض پیدا ہوں گی اور اب اس کے پیش نظر نہ وہ مقصد رہے گا جو اس کا اصل مقصد ہے اور نہ اس کے اندر امت کی صف اول موجود رہے گی یعنی بعضھم اولیاء بعض۔ غرض اس صفت کی وجہ سے یعنی سٖت ولایت ہی کی وجہ سے جماعت مسلمہ اپنا فرض امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ادا کرتی ہے اور وہ دنیا کے اندر اعلائے کلمۃ الہ کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ و یقیموں الصلوۃ۔ اقامت صلوۃ اس کی علامت ہوتی ہے۔

و یوتون الزکوۃ ادائے زکوۃ وہ فریضہ ہے جو افراد جماعت کو باہم مربوط کرتا ہے اور اس کے ذریعے افراد جماعت کے اندر روحانی اور جسمانی رابطے پیدا ہوتے ہیں اور وہ اپنے نصب العین کی طرف بڑھتے ہیں۔

و یطیعون اللہ و رسولہ " وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں " اور یہ ہے ایک مومن کا اصلی ہدف۔ لہذا حکم الہی اور حکم رسول کے سوا ان کے لیے کوئی اور حکم قانون نہیں ہوتا۔ اور اللہ کی شریعت اور رسول کی سنت کے سوا ان کے لیے کوئی دستور نہیں ہوتا۔ اور اللہ اور رسول کے دین کے سوا ان کے لیے کوئی اور نظام نہیں ہوتا اور جب کسی قضیے کا فیصلہ اللہ اور رسول اللہ کردیں تو وہ چون و چرا نہیں کرتے۔ ان کے سامنے ایک ہی راہ ، راہ مستقیم ہوتی ہے اور وہ ادھر ادھر کی پگڈنڈیوں کی طرف نہیں لپکتے۔ اولئک سیرحمہم اللہ " یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہوگی …

72

وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةًۭ فِى جَنَّٰتِ عَدْنٍۢ ۚ وَرِضْوَٰنٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ أَكْبَرُ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے

یہ لوگ ان جنات میں باعز طور پر رہیں گے۔ لیکن ان کے لیے ان اعلی رہائش گاہوں سے بھی بڑآ انعام اللہ کی رضا مندی ہے اور جنت اپنی تمام آسائشوں کے ساتھ اس بڑے انعام کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے۔ اور یہ خوشی یعنی رضائے الہی کی خوشی سب سے بڑی خوش ہے۔

اللہ کے ساتھ رابطے کا اعلی مقام انسان کو اس وقت ملتا ہے کہ جب وہ اللہ اپنی آنکھوں سے نظر آئے یعنی حالت شہود۔ اس مقام میں انسان دنیا کی کثافتوں ، اس کی پریشانیوں اور اس کی دلچسپیوں سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس مقام میں انسان کے دل کی گہرائیوں سے ایک روشنی نکلتی ہے۔ انسانی آنکھیں اس نور کو نہیں دیکھ سکتیں اور یہ نور ، نور الہی ہوتا ہے اور اس کا تعلق روح اللہ سے ہوتا ہے۔ یہ مقام انسانوں میں سے نہایت ہی قلیل تعداد کو نصیب ہوتا ہے۔ اس مقام کا ایک لحظہ اور ایک چمک ہی پوری زندگی کے مال و متاع سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ جبکہ اللہ کی رضا مندی کا مقام تو اس سے بھی بلند مقام ہے اور اس میں انسان کی روح کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے اور انسان تسلسل کے ساتھ اس کا شعور اپنے اندر پاتا ہے۔

73

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ جَٰهِدِ ٱلْكُفَّارَ وَٱلْمُنَٰفِقِينَ وَٱغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۚ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے لڑو۔ اور ان پر سختی کرو۔ اور ان کا ٹھکانہ دورخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

رسول اللہ ﷺ نے منافقین کے ساتھ بہت نرمی کا سلوک کیا۔ ایک عرصے تک آپ ان سے صرف نظر کرتے رہے اور چشم پوشی فرمائی۔ لیکن اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے۔ خوش اخلاقی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ خداوند قدوس کی طرف سے اب حکم آ اجتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اپنے رویے میں اب ذرا سنجیدگی پیدا کریں۔ اور اب ان کے ساتھ وہ سلوک اختیار کیا جائے جو کفار کے ساتھ ہوتا ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ اب جہاد کا اطلاق دونوں پر کیا جائے اور ان کے ساتھ ایسا سخت رویہ اختیار کیا جائے جس میں کوئی نرمی نہ ہو۔

تحریک اسلامی کو کئی مرحل درپیش ہوتے ہیں۔ بعض مواقع پر نرمی ضروری ہوتی ہے اور بعض حالات میں سکتی مفید ہوتی ہے۔ جب نرمی کا دور ختم ہوا اور سختی کا تقاضا ہو تو سختی ضروری ہے۔ صبر بھی ایک دور کے لیے ہوتا ہے جس صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے تو پھر سختی کا دور شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ تحریک کو مختلف حالات درپیش ہوتے ہیں اور مختلف حالات کے مختلف تقاضے ہوتے ہیں۔ نرمی اور مہلت پر مہلت دیے چلے جانے سے بعض اوقات حالات اور خراب ہوتے ہیں۔

منافقین کے ساتھ سختی اور جہاد کے بارے میں اہل علم کے درمیان اختلاف رائے واقعہ ہوا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ ان کے ساتھ سختی کی جائے جس طرح حضرت علی سے روایت ہے اور ابن جریر نے اسے ترجیح دی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ ان کو معاشرے میں ننگا کردیا جائے اور ان کے ساتھ رویے میں سختی کی جائے جیسا کہ حضرت ابن عباس سے نقل ہے کہ حضور نے کسی منافق کو قتل نہیں کیا۔

74

يَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ مَا قَالُوا۟ وَلَقَدْ قَالُوا۟ كَلِمَةَ ٱلْكُفْرِ وَكَفَرُوا۟ بَعْدَ إِسْلَٰمِهِمْ وَهَمُّوا۟ بِمَا لَمْ يَنَالُوا۟ ۚ وَمَا نَقَمُوٓا۟ إِلَّآ أَنْ أَغْنَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ مِن فَضْلِهِۦ ۚ فَإِن يَتُوبُوا۟ يَكُ خَيْرًۭا لَّهُمْ ۖ وَإِن يَتَوَلَّوْا۟ يُعَذِّبْهُمُ ٱللَّهُ عَذَابًا أَلِيمًۭا فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۚ وَمَا لَهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا نَصِيرٍۢ

یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پاسکے۔ اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کون سا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولت مند کر دیا ہے۔ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ اور اگر منہ پھیر لیں تو ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دے گا اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا

یہ آیت منافقین کی عمومی حالت کو ریکارڈ کرتی ہے۔ ان کا عمومی موقف کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ہر وقت رسول اللہ اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف رہتے تھے لیکن بعض روایات میں ان آیات کے نزول کا ایک خاص سبب اور واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔

قتادہ نے کہا ہے کہ یہ عبداللہ ابن ابی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک جہنی اور انصاری کے درمیان جنگ ہوگئی اور جہنی نے انصاری پر غلبہ حاصل کرلیا۔ اس پر عبداللہ نے انصاریوں سے کہا کہ تم اپنے بھائی کی مدد نہیں کرتے ہو۔ خدا کی قسم ہماری اور محمد کی مثال اس طرح ہے جس طرح کسی نے کہا ہے کہ اپنے کتے کو خوب موٹا کرو تاکہ تمہیں کاٹے۔ اس نے اس پر مزید یہ بھی کہا کہ ہمیں مدینہ کی طرف لوٹنے دیں ، وہاں ہم میں سے معزز لوگ ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے۔ یہ بات کسی مسلمان نے رسول اللہ تک پہنچا دی۔ حضور نے عبداللہ سے دریافت کیا تو وہ قسمیں کھانے لگا کہ اس نے یہ بات نہیں کہی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

امام ابو جعفر ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ایک درخت کی چھاؤں میں بیٹھے تے تو آپ نے فرمایا " تمہارے پاس ایک شخص آے گا اور وہ تمہیں شیطان جیسی نظروں سے دیکھے گا۔ جب وہ آئے تو اس سے کوئی شخص بات نہ کرے۔ چناچہ تھوڑی دیر بعد ایک شخص نیلی آنکھوں والا سامنے آیا۔ اسے رسول اللہ نے بلایا اور کہا تم اور تمہارے ساتھی کس پر چلتے ہو۔ یہ شخص گیا اور اپنے ساتھیوں کو بلا کر لایا اور سب قسمیں کھانے لگے کہ ہم نے یہ باتیں نہیں کی ہیں۔ چناچہ حضور نے ان سے درگزر فرما دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی یحلفون باللہ ما قالوا۔ عروہ ابن الزبیر وغیرہ سے روایت ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیت جلاس ابن الصامت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کا ایک پروردہ تھا جو اس کی بیوی کا بیٹآ تھا۔ اس کا نام عمیر ابن سعد تھا۔ جلاس نے کہا کہ اگر محمد پر جو کلام نازل ہوا ہے یہ برحق ہے تو ہم ان گدھوں سے زیادہ بد تر ہیں جن پر ہم سوار ہیں۔ اس پر عمیر نے کہا۔ جلاس میں تمام لوگوں کے مقابلے میں تم سے محبت کرتا ہوں اور میرے نزدیک تم بہت بڑے بہادر ہو اور مجھے یہ گوارا نہیں ہے کہ تمہیں کوئی دکھ پہنچے لیکن تم نے اسی بات کہہ دی ہے کہ اگر میں اسے افشا کرتا ہوں تو اس سے مجھے شرمندگی ہوگی اور اگر اسے چھپاتا ہوں تو خود ہلاک ہوتا ہوں۔ ان دونوں صورتوں میں سے ایک میرے لی قابل برداشت ہے۔ چناچہ اس نے رسول اللہ کو اس بات کی اطلاع کردی۔ لیکن جلاس نے اس کا انکار کردیا اور قسم اٹھا لی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس پر جلاس نے کہا میں نے بیشک یہ بات کہی ہے لیکن اللہ نے میرے لی توبہ کی گنجائش رکھ دی ہے۔ اس لیے میں توبہ کرتا ہوں چناچہ اس کی توبہ قبول ہوگئی۔

لیکن یہ تمام روایات قرآن مجید کی عبارت وھمو بما لم ینالوا " اور انہوں نے کچھ کرنے کا ارادہ کیا مگر نہ کرسکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایات پیچیدہ ہیں۔ اور اس سے مراد وہ حادثہ ہے کہ جو غزوہ تبوک سے واپسی پر پیش آیا۔ بعض منافقین اچانک چھپ کر رسول اللہ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ ان میں سے ایک روایت یہ جسے ہم یہاں اختیار کرتے ہیں۔

۔۔۔۔

امام احمد نے یزد ، ولید ابن عبداللہ ابن جمیع ، ابوطفیل کے ذریعے روایت نقل کی ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ تبوک سے واپس ہو رہے تھے تو حضور نے منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کردیں کہ حضور تنگ گھاٹی سے گزرنے والے ہیں۔ لہذا اس راہ پر کوئی نہ گزرے۔ حضور کی سواری کی لگام حضرت حذیفہ کے ہاتھ میں تھی اور حضرت عمار اسے ہانک رہے تھے کہ کچھ لوگ اپنی سواریوں پر نقاب پہنے ہوئے آئے۔ انہوں نے عمار کو دبا لیا۔ یہ حضور کی سواری کو چلا رہے تھے۔ عمار پہنچے اور انہوں نے ان سواریوں کا منہ پھیرلیا۔ رسول اللہ نے حذیفہ سے کہا (روکو روکو) یہاں تک کہ حضور ﷺ اتر گئے اور عمار واپس آگئے تو حضور نے …

75

۞ وَمِنْهُم مَّنْ عَٰهَدَ ٱللَّهَ لَئِنْ ءَاتَىٰنَا مِن فَضْلِهِۦ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیک کاروں میں ہو جائیں گے

سیاق کلام بدستور آگے بڑھ رہا ہے اور منافقین کے خدوخال سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے افعال و اقوال پر تبصرہ ہورہا ہے۔

منافقین میں سے بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اللہ کے ساتھ یہ عہد کر رکھا تھا کہ اگر اللہ نے ان کو مال و دولت سے نوازا تو وہ راہ خدا میں خوب خرچ کریں گے اور اچھے اعمال کریں گے۔ لیکن یہ عہد فقر و فاقہ کے حالات میں تھا۔ اور اس وقت تھا جب کچھ ملنے کی امید تھی لیکن جب اللہ نے ان کی آرزو کو پورا کردیا تو یہ لوگ اپنے وعدوں کو بھول گے۔ ان لوگوں نے بخل اور کنجوسی کو اپنا لیا اور ہاتھ روک لیا۔ بلکہ وفائے عہد سے سرکشی کرنے لگا گویا اس نے کوئی عہد کیا ہی نہیں ہے۔ چناچہ وعدہ خلافی اور پھر جھوٹ کی وجہ سے اللہ نے ایسے لوگوں کے دلوں میں نفاق کو اچھی طرح بٹھا دیا۔ یہ لوگ آخر تک منافق رہے اور برے انجام تک پہنچے۔

نفس انسانی بہت ہی بخیل ہے۔ اس سے صرف وہ لوگ بچ نکلتے ہیں جنہیں اللہ بچاتا ہے۔ صرف وہی لوگ بخل سے بچ سکتے ہیں جن کا دل ایمان سے لبریز ہو۔ وہ دنیاوی ضروریات سے اپنے آپ کو سربلند کردیں۔ اور تمام لالچوں اور مفادات پر لات مار دیں اور ان کی آنکھیں آخرت کے عہد پر ہوں۔ اور رضامندی خالق ان کا نصب العین ہو۔ اور ان کے ایمان کی وجہ سے مطمئن ہوجائیں اور انفاق کی وجہ سے وہ مسکین ہونے سے نہ ڈرتے ہوں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہونے والا ہے اور اللہ کے خزانے میں جو کچھ ہے ، وہ باقی رہنے والا ہے۔ یہی وہ نظریہ ہے جو انسان کو راہ خدا میں خرچ کرنے پر ابھارتا ہے اور انسان خوشی خوشی سے مال خرچ کرتا ہے۔ ایک مومن یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے ہاتھ سے اگر مال چلا بھی جائے تو بھی آخرت کا اجر اجر عظیم ہے۔

لیکن جب کسی کا دل ایمان سے تہی دامن ہو تو وہ فطرتاً بخیل ہوجاتا ہے جب بھی اسے پکارا جائے کہ راہ خدا میں انفاق کی ضرورت ہے تو وہ فقر کے ڈر کے مارے بخل کرتا ہے اور ہاتھ روک لیتا ہے لیکن اسے کبھی بھی چین وقرار نصیب نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ بےقرار رہتا ہے۔ جو شخص اللہ کے ساتھ عہد کرتا ہے اور پھر اسی کی خلاف ورزی کرتا ہے اور جو اللہ کے ساتھ جھوٹ کرتا ہے وہ کسی کے ساتھ کبھی سچ نہیں کرسکتا۔ اور اس کا دل نفاق سے پاک نہیں ہوسکتا ، جس کی تین علامات جو رسول نے متعین کی ہیں۔ جب بولے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو توڑ دے۔ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔

چناچہ عہد شکنی اور اللہ پر جھوٹ بولنے کا نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں پر نفاق مسلط ہوجائے اور وہ آیت کے فیصلے کے مطابق اس انجام تک پہنچیں۔

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اس بد عہدی کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کی ، اور اس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے ، اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا ، جو اس کے حضور ان کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھا نہ چھوڑے گا

76

فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُم مِّن فَضْلِهِۦ بَخِلُوا۟ بِهِۦ وَتَوَلَّوا۟ وَّهُم مُّعْرِضُونَ

لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور (اپنے عہد سے) روگردانی کرکے پھر بیٹھے

سیاق کلام بدستور آگے بڑھ رہا ہے اور منافقین کے خدوخال سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے افعال و اقوال پر تبصرہ ہورہا ہے۔

منافقین میں سے بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اللہ کے ساتھ یہ عہد کر رکھا تھا کہ اگر اللہ نے ان کو مال و دولت سے نوازا تو وہ راہ خدا میں خوب خرچ کریں گے اور اچھے اعمال کریں گے۔ لیکن یہ عہد فقر و فاقہ کے حالات میں تھا۔ اور اس وقت تھا جب کچھ ملنے کی امید تھی لیکن جب اللہ نے ان کی آرزو کو پورا کردیا تو یہ لوگ اپنے وعدوں کو بھول گے۔ ان لوگوں نے بخل اور کنجوسی کو اپنا لیا اور ہاتھ روک لیا۔ بلکہ وفائے عہد سے سرکشی کرنے لگا گویا اس نے کوئی عہد کیا ہی نہیں ہے۔ چناچہ وعدہ خلافی اور پھر جھوٹ کی وجہ سے اللہ نے ایسے لوگوں کے دلوں میں نفاق کو اچھی طرح بٹھا دیا۔ یہ لوگ آخر تک منافق رہے اور برے انجام تک پہنچے۔

نفس انسانی بہت ہی بخیل ہے۔ اس سے صرف وہ لوگ بچ نکلتے ہیں جنہیں اللہ بچاتا ہے۔ صرف وہی لوگ بخل سے بچ سکتے ہیں جن کا دل ایمان سے لبریز ہو۔ وہ دنیاوی ضروریات سے اپنے آپ کو سربلند کردیں۔ اور تمام لالچوں اور مفادات پر لات مار دیں اور ان کی آنکھیں آخرت کے عہد پر ہوں۔ اور رضامندی خالق ان کا نصب العین ہو۔ اور ان کے ایمان کی وجہ سے مطمئن ہوجائیں اور انفاق کی وجہ سے وہ مسکین ہونے سے نہ ڈرتے ہوں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہونے والا ہے اور اللہ کے خزانے میں جو کچھ ہے ، وہ باقی رہنے والا ہے۔ یہی وہ نظریہ ہے جو انسان کو راہ خدا میں خرچ کرنے پر ابھارتا ہے اور انسان خوشی خوشی سے مال خرچ کرتا ہے۔ ایک مومن یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے ہاتھ سے اگر مال چلا بھی جائے تو بھی آخرت کا اجر اجر عظیم ہے۔

لیکن جب کسی کا دل ایمان سے تہی دامن ہو تو وہ فطرتاً بخیل ہوجاتا ہے جب بھی اسے پکارا جائے کہ راہ خدا میں انفاق کی ضرورت ہے تو وہ فقر کے ڈر کے مارے بخل کرتا ہے اور ہاتھ روک لیتا ہے لیکن اسے کبھی بھی چین وقرار نصیب نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ بےقرار رہتا ہے۔ جو شخص اللہ کے ساتھ عہد کرتا ہے اور پھر اسی کی خلاف ورزی کرتا ہے اور جو اللہ کے ساتھ جھوٹ کرتا ہے وہ کسی کے ساتھ کبھی سچ نہیں کرسکتا۔ اور اس کا دل نفاق سے پاک نہیں ہوسکتا ، جس کی تین علامات جو رسول نے متعین کی ہیں۔ جب بولے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو توڑ دے۔ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔

چناچہ عہد شکنی اور اللہ پر جھوٹ بولنے کا نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں پر نفاق مسلط ہوجائے اور وہ آیت کے فیصلے کے مطابق اس انجام تک پہنچیں۔

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اس بد عہدی کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کی ، اور اس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے ، اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا ، جو اس کے حضور ان کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھا نہ چھوڑے گا

77

فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًۭا فِى قُلُوبِهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ يَلْقَوْنَهُۥ بِمَآ أَخْلَفُوا۟ ٱللَّهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا۟ يَكْذِبُونَ

تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لیے جس میں وہ خدا کے روبرو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لیے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے

سیاق کلام بدستور آگے بڑھ رہا ہے اور منافقین کے خدوخال سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے افعال و اقوال پر تبصرہ ہورہا ہے۔

منافقین میں سے بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اللہ کے ساتھ یہ عہد کر رکھا تھا کہ اگر اللہ نے ان کو مال و دولت سے نوازا تو وہ راہ خدا میں خوب خرچ کریں گے اور اچھے اعمال کریں گے۔ لیکن یہ عہد فقر و فاقہ کے حالات میں تھا۔ اور اس وقت تھا جب کچھ ملنے کی امید تھی لیکن جب اللہ نے ان کی آرزو کو پورا کردیا تو یہ لوگ اپنے وعدوں کو بھول گے۔ ان لوگوں نے بخل اور کنجوسی کو اپنا لیا اور ہاتھ روک لیا۔ بلکہ وفائے عہد سے سرکشی کرنے لگا گویا اس نے کوئی عہد کیا ہی نہیں ہے۔ چناچہ وعدہ خلافی اور پھر جھوٹ کی وجہ سے اللہ نے ایسے لوگوں کے دلوں میں نفاق کو اچھی طرح بٹھا دیا۔ یہ لوگ آخر تک منافق رہے اور برے انجام تک پہنچے۔

نفس انسانی بہت ہی بخیل ہے۔ اس سے صرف وہ لوگ بچ نکلتے ہیں جنہیں اللہ بچاتا ہے۔ صرف وہی لوگ بخل سے بچ سکتے ہیں جن کا دل ایمان سے لبریز ہو۔ وہ دنیاوی ضروریات سے اپنے آپ کو سربلند کردیں۔ اور تمام لالچوں اور مفادات پر لات مار دیں اور ان کی آنکھیں آخرت کے عہد پر ہوں۔ اور رضامندی خالق ان کا نصب العین ہو۔ اور ان کے ایمان کی وجہ سے مطمئن ہوجائیں اور انفاق کی وجہ سے وہ مسکین ہونے سے نہ ڈرتے ہوں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہونے والا ہے اور اللہ کے خزانے میں جو کچھ ہے ، وہ باقی رہنے والا ہے۔ یہی وہ نظریہ ہے جو انسان کو راہ خدا میں خرچ کرنے پر ابھارتا ہے اور انسان خوشی خوشی سے مال خرچ کرتا ہے۔ ایک مومن یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے ہاتھ سے اگر مال چلا بھی جائے تو بھی آخرت کا اجر اجر عظیم ہے۔

لیکن جب کسی کا دل ایمان سے تہی دامن ہو تو وہ فطرتاً بخیل ہوجاتا ہے جب بھی اسے پکارا جائے کہ راہ خدا میں انفاق کی ضرورت ہے تو وہ فقر کے ڈر کے مارے بخل کرتا ہے اور ہاتھ روک لیتا ہے لیکن اسے کبھی بھی چین وقرار نصیب نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ بےقرار رہتا ہے۔ جو شخص اللہ کے ساتھ عہد کرتا ہے اور پھر اسی کی خلاف ورزی کرتا ہے اور جو اللہ کے ساتھ جھوٹ کرتا ہے وہ کسی کے ساتھ کبھی سچ نہیں کرسکتا۔ اور اس کا دل نفاق سے پاک نہیں ہوسکتا ، جس کی تین علامات جو رسول نے متعین کی ہیں۔ جب بولے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو توڑ دے۔ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔

چناچہ عہد شکنی اور اللہ پر جھوٹ بولنے کا نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں پر نفاق مسلط ہوجائے اور وہ آیت کے فیصلے کے مطابق اس انجام تک پہنچیں۔

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اس بد عہدی کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کی ، اور اس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے ، اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا ، جو اس کے حضور ان کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھا نہ چھوڑے گا

78

أَلَمْ يَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَىٰهُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ عَلَّٰمُ ٱلْغُيُوبِ

کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ان کے بھیدوں اور مشوروں تک سے واقف ہے اور یہ کہ وہ غیب کی باتیں جاننے والا ہے

کیا ان کے دعوائے ایمان کے باوجود ان کو اس قدر علم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے دلوں سے خبردار ہے ، ان کے دلوں میں جو خیالات گزرتے ہیں وہ باہم جو گفتگو کرتے ہیں ، جو وہ خفیہ باتیں کرتے ہیں ، ان سے خبردار ہے کیونکہ الل پوشیدہ سے پوشیدہ امور کا بھی عالم ہے۔ دلوں کی نیات سے بھی باخبر ہے۔ ان کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے پھر بھی چھپاتے ہیں۔ اور پھر بھی وعدہ خلافی کرتے ہیں۔ یہ خود ان کے علم کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ ان کے علم کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ نہ کوئی بات چھپاتے اور نہ وعدہ خلافی کرتے اور اللہ پر کوئی جھوٹ نہ باندھتے۔

اس آیت کے نزول کے بارے میں متعدد روایات وارد ہیں۔ ان میں سے ہم ابن جریر کی روایت نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے اور ابن ابو حاتم نے معاون سے نقل کیا ہے انہوں نے ابو امامہ باہلی سے انہوں نے ثعلبہ ابن حاطب انصاری سے کہ انہوں نے حضور سے یہ درخواست کی کہ ان کے حق میں بہت سے مال کی دعا کریں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " ثعلبہ وہ تھوڑا مال جس کی تم شکر گزاری کرسکو۔ اس سے زیادہ بہتر ہے جس کی تم شکر گزاری نہ کرسکو " کہتے ہیں کہ اس نے دوبارہ درخواست کی تو حضور نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم اللہ کے نبی کے مانند ہو۔ خدا کی قسم اگر میں چاہتا کہ میرے لیے پہاڑ سونے چاندی کے ہوجائیں تو ہوجاتے۔ اس نے پھر درخواست کی کہ خدا کی قسم اگر آپ نے میرے حق میں دعا کی اور اللہ نے مجھے مال کثیر دے دیا تو میں اس سے میں سے ہر صاحب حق کو حق دوں گا۔ اس پر رسول اللہ نے فرمایا " اے اللہ ثعلبہ کو مال دے دے " کہتے ہیں کہ اس نے بکریاں پالنا شروع کیں اور وہ کیڑے مکورؤں کی طرح بڑھنے لگیں۔ یہاں تک کہ مدینہ میں ان کا سمانا مشکل ہوگیا۔ چناچہ وہ مدینہ سے ہٹ کر ایک وادی میں چلا گیا اور ظہر و عصر کی نماز باجماعت پڑھتا اور باقی نمازیں ترک ہوگئیں۔ اس کے بعد اس کے مال میں اور اضافہ ہوگیا اور وہ اس قدر دور چلا گیا کہ صرف جمعے کی نماز کو حاضر ہوتا۔ یہ مال اس طرح بڑھتا رہا جس طرح کیڑے بڑھتے ہیں یہاں تک کہ جمعے کی نماز بھی چھوٹ گئی۔ اب وہ ان سواروں سے راستے میں ملتا جو جمعہ پڑھنے جاتے تھے تاکہ حالات دریافت کرے۔ اس پر رسول اللہ نے فرمایا کہ " ثعلبہ کا کیا ہوا ؟ " حضور کو بتایا گیا کہ اس نے بکریاں پا لیں۔ مدینہ میں ان کا سمانا مشکل ہوا اور اس طرح وہ دور چلا گیا اور اس کے حالات انہوں نے بتائے۔ حضور نے فرمایا ثعلبہ ہلاک ہوا ، ثعلبہ ہلاک ہوا ، ثعلبہ ہلاک ہوا۔ اس کے بعد اللہ کا یہ حکم نازل ہوا خذ من اموالھم صدقۃ (ان کے اموال سے زکوۃ وصول کرو) اور زکوۃ ک احکام نازل ہوئے۔ تو حضور نے زکوۃ کی وصولی کے لی دو مسلمان بھیجے۔ ایک جھینہ سے تھا اور دوسرا سلیم سے۔ آپ نے ان کو تحریری احکام دیے کہ وہ مسلمانوں سے کس حساب سے زکوۃ وصول کریں گے اور خصوصاً فرمایا کہ ثعلبہ اور فلاں کے پاس ہوتے ہوئے جاؤ (یہ فلاں بنو سلیم کا ایک شخص تھا) اور ان سے زکوۃ وصول کرو۔ یہ لوگ پہلے ثعلبہ کے پاس آئے اور اس سے زکوۃ کا مطالبہ کیا اور رسول اللہ ﷺ کا حکم پڑھ کر سنایا تو ثعلبہ نے کہا یہ تو فقط جزیہ ہے۔ اگر نہیں تو جزیہ کی بہن ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کیا ہے۔ تم جاؤ اور دوسرے لوگوں سے فارغ ہو کر میرے پاس آؤ۔ دوسرے شخص سلیمی نے یہ حکم سنا تو اس نے اپنے اونٹوں میں سے بہت اچھے اونٹ زکوۃ کے لیے علیحدہ کیے اور رسول اللہ کے تحصیلداروں کا انتظار کیا۔ جب انہوں نے ان اونٹوں کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ تم پر اس قسم کے اچھے اونٹؤں کی زکوۃ واجب نہیں ہے اس لیے ہم ان کو وصول نہیں کرسکتے۔ اس شخص نے کہا تم لوگ ان اونٹوں کو وصول کرلو۔ میں بطیب خاطر یہ دے رہا ہوں۔ یہ ان کے لیے ہیں۔ چناچہ انہوں نے اونٹ لے لیے اور دوسرے لوگوں سے وصولی کرتے ہوئے دوبارہ پھر ثعلبہ کے پاس آئے۔ اس نے کہا تم اپنا حکم مجھے دکھاؤ۔ اس نے رسول اللہ کا حکم …

79

ٱلَّذِينَ يَلْمِزُونَ ٱلْمُطَّوِّعِينَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ فِى ٱلصَّدَقَٰتِ وَٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ ۙ سَخِرَ ٱللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور جو (بےچارے غریب صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے (اور تھوڑی سی کمائی میں سے خرچ بھی کرتے) ہیں ان پر جو (منافق) طعن کرتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ خدا ان پر ہنستا ہے اور ان کے لیے تکلیف دینے والا عذاب (تیار) ہے

منافقین زکوۃ کے بارے میں کیا تصورات رکھتے تھے اور سچے اہل ایمان زکوۃ و صدقات کے بارے میں کیا سوچتے تھے۔ ان دونوں تصورات کی ایک جھلکی ملاحظہ ہو۔ منافقین مخلص اور غریب اہل ایمان کے انفاق کا مذاق اڑاتے تھے تھے۔

اس آیت ۔۔ الذین یلمزون المطوعین الخ کے نزول کا بھی ایک خاص قصہ ہے۔ جس سے اظہار ہوتا ہے کہ منافقین کی بگڑی ہوئی طبیعت انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں کیا سوچتی تھی ؟

ابن جریر نے بواسطہ یحییٰ ابن کثیر اور سعید ابن قتادہ اور ابن ابی حاتم ، حکم ابن ابان سے ، عکرمہ سے نقل کیا ہے (روایت کے الفاظ مختلف ہیں) کہتے ہیں کہ حضور نے تبوک کے موقعہ پر چندے کے لیے لوگوں کو آمادہ کیا۔ عبدالرحمن ابن عوف نے چار ہزار دیے۔ انہوں نے کہا حضور مری کل جائیدادا آٹھ ہزار ہے اس میں سے نصٖ لایا ہوں۔ نصف چھوڑ رکھا ہے تو حضور نے فرمایا اللہ اس میں بھی برکت دے جو تونے دیا اور اس میں بھی برکت دے جو پس اندا ا کردیا ہے۔ ابوعقیل ایک صاع کھجوریں لائے اور کہا رسول خدا میں دو صاع کھجور کما کر لایا ہوں۔ ایک صاع میں اللہ کو قرض دیتا ہوں اور ایک اپنے بچوں کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ ان دونوں کے ساتھ منافقین نے مذاق کیا۔ عبدالرحمن ابن عوف کے بارے میں کہا کہ اس نے دکھاوے کے لیے اتنا مال دیا اور ابوعقیل کے بارے میں کہا ہی اللہ اور سول کو ایک صاع کی ضرورت ہی کیا تھی۔

ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے ابو عقیل کے بارے میں کہا کہ یہ شخص خواہ مخواہ اپنے آپ کو یاد کرانا چاہتا ہے ، حالانکہ اس جنے ساری رات مزدوری کی اور دو صاع کمائے تھے اور ایک صاع حضور کے سامنے پیش فرمایا۔

منافقین اہل ایمان کے بارے میں اس قسم کی باتیں کرتے تھے حالانکہ وہ دل و جان سے فدا ہو رہے تھے اور بطیب خاطر خرچ کر رہے تھے اور جس کے مقدر میں جس قدر تھا وہ جہد میں حصے کے طر پر فنڈ میں دیتے تھے لیکن منافقین کی سمجھ میں مسلمانوں کا اخلاص اور ان کے پاکیزہ جذبات نہ آتے تھے۔ ان کے دل بجھے ہوئے تھے اس لیے وہ مسلمانوں کے حساس دلوں کا ادراک نہ کرسکتے تھے۔ وہ مسلمانوں کی بےتابی کو نہ پا سکتے تھے جو وہ راہ خدا میں انفاق کے لیے دکھا رہے تھے۔ وہ داعیہ ایمانی کے نتیجے میں تھوڑا یا بہت ملا کر پیش کرتے تھے اور یہ لوگ داعیہ ایمانی سے محروم تھے۔ چناچہ وہ اس کے سوا اور کہہ کیا سکتے تھے کہ اگر زیادہ دیا جائے تو ریاکار ہے اور اگر قلیل دیا جائے تو نام لکھوا رہا ہے۔ اگر کوئی زیادہ دیتا تو وہ بھی مجرم اور اگر کوئی تھوڑا دیتا تو بھی مجرم۔ لہذا ان کی اس تنقید کو صالح ذہن قبول ہی نہ کرتا تھا۔ اس لیے کہ وہ ذاتی طور پر جہاد سے پیچھے رہنے والے تھے ، پشت کی طرف سے نقب لگانے والے تے اور ایک پیشہ جہاد میں دینے کے لی تیار نہ تھے۔ وہ اگر کچھ دیتے بھی تو محض ظاہر داری کے قیام کے لیے اور بری نیت سے اور حقیر اور ذلیل اسباب کی وجہ سے۔

چناچہ اللہ تعالیٰ بھی ان کو خوب جواب دیتا ہے سخر اللہ منھم ولھم عذاب الیم اللہ ان مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لیے دردناک سزا ہے۔ کس قدر ہولناک انجام ہے یہ۔ اور کس قدر ہولناک مذاق ہوگا خالق کی جانب سے۔ ایک طرف ایک چھوٹی سی جماعت ، ضعیف و ناتواں ، ذلیل اور فانی اور اس کے مقابلے میں خالق کائنات اور اس کا دردناک عذاب کس قدر خوفناک عذاب کے لیے یہ ضعیف و ناتواں انسان اپنے آپ کو پیش کرتا ہے۔

80

ٱسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةًۭ فَلَن يَغْفِرَ ٱللَّهُ لَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَٰسِقِينَ

تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو۔ (بات ایک ہے) ۔ اگر ان کے لیے ستّر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر کیا۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

یہ منافقین جو مخلص اور رضاکار مومنین کا مذاق اڑاتے تھے ، کہ یہ لوگ اس کا کیوں مال لٹاتے ہیں ان کا انجام یہ ہے کہ خود حضور کے جانب سے طلب مغفرت بھی ان کے لیے مفید نہ ہوگی۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی شفقت کی وجہ سے ان خطاکاروں کے لی بھی مغفرت طلب کرتے تھے شاید کہ اللہ معاف کردے۔

لیکن ان لوگوں کے بارے میں اللہ نے صاف صاف بتا دیا کہ ان منافقین کا انجام طے شدہ ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ان لوگوں نے صیح راہ سے انحراف کرلیا ہے ، لہذا ان کا اب اچھے انجام تک پہنچنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ان کے دل اس قدر فاسد ہوچکے ہیں کہ ان کی اصلاح ممکن ہی نہیں ہے۔

لہذا حضور کو کہا جاتا ہے کہ اب اگر ستر مرتبہ بھی طلب مغفرت کریں ، کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ستر مرتبہ سے مراد کوئی متعین عدو نہیں ہے۔ اس سے مراد کثرت ہوتی ہے یعنی اب ان کی مغفرت کی کوئی امید نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے لیے توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ کیونکہ انسانی دل اگر فجور اور فساد کی ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو پھر اصلاح کی کوئی امید نہیں رہتی اور انسان جب گمراہی میں حد سے گزر جائے تو پھر راہ راست پر واپس آنے کی کوئی امید نہیں رہتی۔ اور اللہ تو دلوں کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.