Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 51–60 of 129

51

قُل لَّن يُصِيبَنَآ إِلَّا مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَىٰنَا ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اس کے جو خدا نے ہمارے لیے لکھ دی ہو وہی ہمارا کارساز ہے۔ اور مومنوں کو خدا ہی کا بھروسہ رکھنا چاہیئے

اور اللہ نے تو مومنین کے حق میں فتح لکھ دی ہے اور ان کے ساتھ آخری فتح کا وعدہ بھی کر رکھا ہے۔ ان کو چاہئے جس قدر مشکلات بھی پیش آئیں ، وہ عظیم ابتلاؤں کے ساتھ دوچار کیوں نہ ہوں ، آخر کار ان کو فتح نصیب ہوگی اور یہ مشکلات اس فتح کی تمہید ہیں تاکہ مسلمانوں کو جب فتح نصیب ہو تو نظر آئے کہ وہ اس کے مستحق ہیں۔ اور یہ کہ وہ ان کی صفوں کو چھان کر صاف کردیا جائے اور یہ فتح و نصرت ، دنیاوی ذرائع اور وسائل کے اندر ہو اور مشکلات کے بعد ہو تاکہ مسلمان اس قدر و منزلت کا احساس کریں ، اور یہ فتح بلند ہمت لوگوں کی عظی قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہو۔ ابتلاؤں کے بعد حاصل ہو اور لوگوں نے اس کے لیے قربانیاں دی ہوں۔ اور حقیقی و ناصر چونکہ اللہ ہی ہے اس لیے مسلمان ہمیشہ اسی پر بھروسہ کرتے ہیں ، اپنی قربانیوں پر نہیں کرتے۔ علی اللہ فلیتوکل المومنون۔ لیکن اللہ کی تقدیر پر ایمان اور اللہ پر بھروسہ اس بات کے منافی نہیں ہیں کہ کوئی کسی کام کے لیے تیاری کرے اور ضروری وسائل جمع کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاد کے بارے میں اللہ کا صریح حکم ہے کہ و اعدوا لہم ماستطعتم من قوۃ کہ تیار رکھو دشمنوں کے لیے اس قدر قوت جو تمہاری استطاعت کے اندر ہو۔ اور جو شخص اللہ کے احکام کو نافذ نہ کرے گا ، اس کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ متوکل ہے۔ پر توکل باز و استر بیند اور جو شخص حکم الہی کے مطابق اسباب مہیا نہیں کرتا وہ سنت الہی کے ادراک سے قاصر ہے جو اس کائنات میں جاری وساری ہے۔ یہ سنت اٹل ہے اور وہ کسی کی رو رعایت نہیں کرتی۔

مومن پر تو ہر حال میں وارے نیارے ہیں ، اگر اسے فتح ملے تو بھی کامیاب شہادت ملے تو بھی کامیاب۔ رہا کافر تو وہ ہر طرح ناکام ہے۔ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں دنیا ہی میں عذاب پا لے اور جہنم رسید ہو تو بھی ناکام اور طبعی موت مرنے کے بعد جہنم رسید ہو تو بھی ناکام۔

52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَآ إِلَّآ إِحْدَى ٱلْحُسْنَيَيْنِ ۖ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ أَن يُصِيبَكُمُ ٱللَّهُ بِعَذَابٍۢ مِّنْ عِندِهِۦٓ أَوْ بِأَيْدِينَا ۖ فَتَرَبَّصُوٓا۟ إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُونَ

کہہ دو کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا (یا تو) اپنے پاس سے تم پر کوئی عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں سے (عذاب دلوائے) تو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں

ان سے کہو تم ہمارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہے۔ اور ہم تمہارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہیں۔ وہ یہ ہے کہ اللہ خود تم کو سزا دیتا ہے یا ہمارے ساتھ دلواتا ہے ؟ اچھا تو اب تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔

آخر منافقین مسلمانوں کے بارے میں کس بات کا انتظار کریں۔ مسلمانوں کو ہر حال میں بھالئی اور کامیابی کی توقع ہے۔ یا تو فتح مند ہوں گے اور اللہ کا کلمہ بلند کردیں گے اور یہ کامرانی اس جہاں کی ہے۔ یا انہیں شہادت نصیب ہوگی اور شہید اعلی درجات پر فائز ہوتا ہے۔ ہاں مومنین ضرور انتظار کریں کہ منافقین کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ان کو اس طرح عذاب سے دوچار ہونا ہوگا۔ جس طرح تمام مکذبین عذاب سے دو چار ہوئے یعنی آخرت میں اور یا یہ ہوگا کہ وہ اس دنیا ہی میں پکڑے جائیں گے جس طرح تمام اہل باطل پکڑے جاتے ہیں۔ لہذا دونوں گروہوں کا انجام مشہور و معروف ہے۔

53

قُلْ أَنفِقُوا۟ طَوْعًا أَوْ كَرْهًۭا لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمْ ۖ إِنَّكُمْ كُنتُمْ قَوْمًۭا فَٰسِقِينَ

کہہ دو کہ تم (مال) خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا تم نافرمان لوگ ہو

پیچھے رہنے والوں میں سے اور انتظار کرنے والون میں سے بعض ایسے لوگ بھی تے جنہوں نے اپنا مالی تعاون پیش کردیا تھا لیکن ذاتی طور پر جہاد میں شرکت سے وہ معذوری کا اظہار کر رہے تے اور یہ رویہ وہ اس لیے اختیار کر رہے تھے کہ وہ بدنام بھی نہ ہوں اور بین بین رہیں نہ ادھرکے نہ ادھر کے۔ چنانہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان جیسے لوگوں کے مالی تعاون کو مسترد کردیں کیونکہ یہ لوگ مالی تعاون کی پیشکش خوف اور دکھاوے کے لیے کرتے ی۔ ایمان کے تقاضوں اور اللہ پر بھروسے کی وجہ سے وہ یہ انفاق نہٰں کر رہے۔ خواہ وہ یہ کام دکھاوے کے لیے کر رہے ہوں اور اہل ایمان کو دھوکہ دے رہے ہوں یا مشرکین کے ڈر کی وجہ سے کر رہے ہوں۔ دونوں صورتوں میں ان کا یہ فعل اللہ کے نزدیک مردود ہے اور اللہ کے ہاں اس کا کوئی اجر نہیں ہے۔

ہر دور میں منافقین کے یہی خدوخال ہوتے ہیں۔ وہ ہر وقت خوف اور پیچ و تاب میں ہوتے ہیں۔ ان کے دل خالی خالی اور ضمیر اور ان کی سوچ یکسوئی سے تہی دامن ہوتی ہے۔ ان کے مظاہر میں حقیقت کی روح نہیں ہوتی اور ان کا ظاہر ان کے باطن سے بالکل جدا ہوتا ہے۔

ذرا قرآن کے انداز تعبیر کو دیکھو و لا یاتون الصلوۃ الا وھم کسالی (نماز کے لیے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے) ۔ وہ نماز دکھاوے کے لیے پڑھتے ہیں وہ ظاہراً تو نماز ہوتی ہے لیکن ان کے اندر نماز کی روح نہیں ہوتی۔ وہ نماز کو درست کرکے استقامت کے ساتھ نہیں پڑھتے۔ کیونکہ نماز پڑھنے پر جو جذبہ مجبور کرتا ہے وہ ان کے دل اور اندرون میں نہیں ہوتا بلکہ بعض بیرونی اسباب کے دباؤ کی وجہ سے وہ اس طرف مجبور ہوتے ہیں۔ لہذا وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں یہ فعل مجبوراً کرن اپڑ رہا ہے۔ اس طرح وہ اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرتے وہ بھی محض ظار داری کے لیے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ مقبول نہیں ہیں کیونکہ اللہ کسی بھی عبادت کو قبول نہیں کرتا جو دلی جذبہ اور شعوری ایمان کے نتیجے میں نہ ہو۔ لہذا معیار یہ ہے کہ اچھا عمل ہو اور اچھی نیت سے کیا جائے۔

54

وَمَا مَنَعَهُمْ أَن تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَٰتُهُمْ إِلَّآ أَنَّهُمْ كَفَرُوا۟ بِٱللَّهِ وَبِرَسُولِهِۦ وَلَا يَأْتُونَ ٱلصَّلَوٰةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَىٰ وَلَا يُنفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَٰرِهُونَ

اور ان کے خرچ (موال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوا اس کے انہوں نے خدا سے اور اس کے رسول سے کفر کیا اور نماز کو آتے ہیں تو سست کاہل ہوکر اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے

پیچھے رہنے والوں میں سے اور انتظار کرنے والون میں سے بعض ایسے لوگ بھی تے جنہوں نے اپنا مالی تعاون پیش کردیا تھا لیکن ذاتی طور پر جہاد میں شرکت سے وہ معذوری کا اظہار کر رہے تے اور یہ رویہ وہ اس لیے اختیار کر رہے تھے کہ وہ بدنام بھی نہ ہوں اور بین بین رہیں نہ ادھرکے نہ ادھر کے۔ چنانہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان جیسے لوگوں کے مالی تعاون کو مسترد کردیں کیونکہ یہ لوگ مالی تعاون کی پیشکش خوف اور دکھاوے کے لیے کرتے ی۔ ایمان کے تقاضوں اور اللہ پر بھروسے کی وجہ سے وہ یہ انفاق نہٰں کر رہے۔ خواہ وہ یہ کام دکھاوے کے لیے کر رہے ہوں اور اہل ایمان کو دھوکہ دے رہے ہوں یا مشرکین کے ڈر کی وجہ سے کر رہے ہوں۔ دونوں صورتوں میں ان کا یہ فعل اللہ کے نزدیک مردود ہے اور اللہ کے ہاں اس کا کوئی اجر نہیں ہے۔

ہر دور میں منافقین کے یہی خدوخال ہوتے ہیں۔ وہ ہر وقت خوف اور پیچ و تاب میں ہوتے ہیں۔ ان کے دل خالی خالی اور ضمیر اور ان کی سوچ یکسوئی سے تہی دامن ہوتی ہے۔ ان کے مظاہر میں حقیقت کی روح نہیں ہوتی اور ان کا ظاہر ان کے باطن سے بالکل جدا ہوتا ہے۔

ذرا قرآن کے انداز تعبیر کو دیکھو و لا یاتون الصلوۃ الا وھم کسالی (نماز کے لیے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے) ۔ وہ نماز دکھاوے کے لیے پڑھتے ہیں وہ ظاہراً تو نماز ہوتی ہے لیکن ان کے اندر نماز کی روح نہیں ہوتی۔ وہ نماز کو درست کرکے استقامت کے ساتھ نہیں پڑھتے۔ کیونکہ نماز پڑھنے پر جو جذبہ مجبور کرتا ہے وہ ان کے دل اور اندرون میں نہیں ہوتا بلکہ بعض بیرونی اسباب کے دباؤ کی وجہ سے وہ اس طرف مجبور ہوتے ہیں۔ لہذا وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں یہ فعل مجبوراً کرن اپڑ رہا ہے۔ اس طرح وہ اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرتے وہ بھی محض ظار داری کے لیے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ مقبول نہیں ہیں کیونکہ اللہ کسی بھی عبادت کو قبول نہیں کرتا جو دلی جذبہ اور شعوری ایمان کے نتیجے میں نہ ہو۔ لہذا معیار یہ ہے کہ اچھا عمل ہو اور اچھی نیت سے کیا جائے۔

55

فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَٰدُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُم بِهَا فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَٰفِرُونَ

تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ خدا چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) وہ کافر ہی ہوں

یہ منافقین اصحاب مال و اولاد تھے لیکن یہ جہاد کو ناپسند کرتے تھے اور بڑے با اثر لوگ تھے۔ لیکن اللہ کے نزدیک مال و دولت اور جاہ و شرف کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ لہذا رسول اور اہل ایمان کے نزدیک بھی مال و دولت اور جاہ و شرف کی کوئی اہمیت نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ چیزیں اللہ کے ایسے انعامات نہیں ہیں کہ وہ ان کے ذریعے مزے لوٹتے رہیں اور ان سے کوئی باز پرس نہ ہو بلکہ یہ تو ایک فتنہ اور آزمائش ہے۔ اس پر ان سے باز پرس ہوگی اور ان کو سزا ہوگی۔

مال و اولاد کبھی ایک نعمت ہوتے ہیں اور اس سے اللہ نے اپنے بندوں میں سے کسی کو نوازتے ہیں اور پھر اسے توفیق دیتے ہیں کہ وہ اس کا شکریہ ادا کرے۔ اور اپنی اس قوت کو اصلاح فی الارض کے لی استعمال کرے۔ اس کے ذریعے اللہ کی طرف متوجہ ہو اور اس طرح اس کا ضمیر مطمئن ہو۔ اس کے نفس میں سکون و اطمینان ہو اور اسے اپنے انجام ، اچھے انجام کا پورا پورا یقین ہو۔ اور اس کا طرز عمل ایسا ہو کہ وہ نہایت اخلاص کے ساتھ انفاق فی سبیل اللہ کرتا ہو اور آخرت کے لیے توشہ جمع کرتا ہو اور جب اسے مالی یا جانی نقصان ہو تو بھی وہ اسے اللہ کی طرف سے سمجھتے اور اللہ کی رحمت کا امیدوار ہوتا ہے اور یہی مال و اولاد کبھی اللہ کی جانب سے سزا ہوتے ہیں اور ہی سزا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی کو دنیا ہی میں دے دیتا ہے۔ چناچہ یہ اموال اور اولاد اس کے لیے موجب قلق اور اذیت ہوتے ہیں اور اس قلق اور پریشانیوں کی وجہ سے وہ جہنم میں ہوتا ہے اور زیادہ مال و دولت کو مزید بڑھانے کے لیے اس کی راتوں کی نیند ختم ہوجاتی ہے اور وہ اعصابی طور پر شل ہوجاتا ہے۔ اب اسے انفاق مال اتلاف مال کے برابر نظر آتا ہے۔ اگر اس کی اولاد بیمار ہو تو بھی وہ کڑھتا ہے اور اگر اولاد تندرست ہو تب بھی اس کے لیے باعث اذیت ہوتی ہے۔ بیشمار ایسے لوگ موجود ہیں کہ ان کے لی خود ان کی اولاد وبال جان ہوتی ہے۔

اس قسم کے لوگ رسول اللہ کے دور میں موجود تھے۔ اب بھی یہ موجود ہیں اور ہمیشہ موجود رہیں گے۔ ان کے پاس دولت ہوگی ، ان کی اولاد ہوگی ، لوگ ان کی ظاہری پوزیش کو دیکھ کر ان سے متاثر ہوں گے لیکن درحقیقت یہ سب کچھ ان کے لیے عذاب ہوگا ، اس دنیا میں عذاب اور ان کے اندرون اور انجام سے چونکہ اللہ خوب واقف ہے ، اس لیے وہ جہنم کے لیے پا بہ رکاب ہوتے ہیں۔ پس حالت کفر پر ان کی موت کی دیر ہوتی ہے۔ جان دیتے ہی وہ جہنم رسید ہوجاتے ہیں۔

قرآن کا انداز تعبیر و تزھق انفسہم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ لوگ نفسیاتی طور پر فراڈ اور ہلاکت کی حالت میں ہیں۔ ان کی حالت کچھ اس طرح ہے کہ وہ سکون ، ٹھہراؤ اور اطمینان کی دولت سے محروم ہیں۔ لہذا جس طرح وہ آخرت میں سخت عذاب میں ہوں گے ، اسی طرح یہ دنیا بھی ان کے لیے جہنم سے کم نہیں ہے۔ تو گویا دنیا میں وہ آخرت میں سخت عذاب میں ہوں گے ، اسی طرح یہ دنیا بھی ان کے لیے جہنم سے کم نہیں ہے۔ تو گویا دنیا و آخرت دنوں میں وہ عذاب میں ہوں گے۔ اور اس قسم کے مال و دولت اور اسی اولاد کی ، ظاہر ہے کہ کوئی معقول شخص خواہش مند نہ ہوگا جس کے اندر عذاب ہی عذاب پوشیدہ ہو۔

56

وَيَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنَّهُمْ لَمِنكُمْ وَمَا هُم مِّنكُمْ وَلَٰكِنَّهُمْ قَوْمٌۭ يَفْرَقُونَ

اور خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم ہی میں سے ہیں حالانکہ ہو تم میں سے نہیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہ ڈرپوک لوگ ہیں

اس قسم کے منافقین اسلامی صٖوں میں اپنے لیے مقام پیدا کر رہے تھے۔ وہ اسلامی صفوں میں اپنے اعتقادات اور اپنے ایمان کی وجہ سے نہیں گس رہے تے بلکہ وہ نفاق کے مرض میں مبتلا تے اور خوف کی وجہ سے بھی وہ مسلمانوں کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتے تھے۔ ان کے کچھ مفادات اور نظریات کی وجہ سے ایمان کا اظہار کیا ہے۔ لیکن اس سورت نے ان کے اندرون کو ظاہر کردیا ہے۔ اسی وجہ سے اسے " کاشفہ " اور " فاضحہ " بھی کہا جاتا کہا جاتا ہے۔ اس نے منافقین کا پردہ چاک کرکے انہیں اچھی طرح شرمندہ کردیا ہے۔

وَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ ۭوَمَا هُمْ مِّنْكُمْ وَلٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَّفْرَقُوْنَ : " وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہی میں سے ہیں ، حالانکہ وہ ہر گز تم میں سے نہیں ہیں۔ اصل میں تو وہ ایسے لوگ ہیں جو تم سے خوفزدہ ہیں۔ یہ پرلے درجے کے بزدل ہیں اور انداز بیان ایسا ہے کہ یہ لوگ مجسم طور بھاگنے اور سہمے ہوئے کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کے نفس اور دل میں فرار ہے۔ ان کے رویے میں فرار اور خوف ہے۔

لَوْ يَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُوْنَ اگر وہ کوئی جائے پناہ پا لیں یا کوئی کھوہ یا گھس بیٹھنے کی جگہ ، تو بھاگ کر اس میں جا چھپیں " یہ ہر وقت چھپ جانے کی جگہ کی تلاش میں ہوتے ہیں اور جائے امن کی تلاش میں رہتے ہیں۔ قلعہ بند جگہ یا غار اور تہہ خانہ۔ یہ خوفزدہ اور فرار کی حالت میں ہوتے ہیں۔ گویا کوئی ان دیکھی قوت یا اچانک آنے والی مصیبت ان کا پیچھا کر رہی ہو۔ یہ روحانی طور پر شکست خوردہ اور بزدل ہیں۔

وَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ ۭوَمَا هُمْ مِّنْكُمْ : " وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہی میں سے ہیں " بہت بہت تاکیدوں کے ساتھ حلف اٹھاتے ہیں تاکہ یہ لوگ وہ باتیں چھپا دیں جو ان کے دلوں میں ہیں اور ان کا کسی طرح انکشاف نہ ہونے پائے اور ان کی جان و مال محفوظ رہ جائیں۔ ان کی صورت حال نہایت ہی قابل رحم ہے۔ بزدل ، ریاکاری اور چاپلوسی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور قرآن ان کے لیے ایسے ہی اسالیب استعمال کر رہا ہے۔ عجیب تصویر کشی ہے جس کے ذریعے ان کے خفیہ بھیدوں کا ایکسرے ہوجاتا ہے اور نہایت ہی موثر انداز میں۔

57

لَوْ يَجِدُونَ مَلْجَـًٔا أَوْ مَغَٰرَٰتٍ أَوْ مُدَّخَلًۭا لَّوَلَّوْا۟ إِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُونَ

اگر ان کی کوئی بچاؤ کی جگہ (جیسے قلعہ) یا غار ومغاک یا (زمین کے اندر) گھسنے کی جگہ مل جائے تو اسی طرف رسیاں تڑاتے ہوئے بھاگ جائیں

اس قسم کے منافقین اسلامی صٖوں میں اپنے لیے مقام پیدا کر رہے تھے۔ وہ اسلامی صفوں میں اپنے اعتقادات اور اپنے ایمان کی وجہ سے نہیں گس رہے تے بلکہ وہ نفاق کے مرض میں مبتلا تے اور خوف کی وجہ سے بھی وہ مسلمانوں کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتے تھے۔ ان کے کچھ مفادات اور نظریات کی وجہ سے ایمان کا اظہار کیا ہے۔ لیکن اس سورت نے ان کے اندرون کو ظاہر کردیا ہے۔ اسی وجہ سے اسے " کاشفہ " اور " فاضحہ " بھی کہا جاتا کہا جاتا ہے۔ اس نے منافقین کا پردہ چاک کرکے انہیں اچھی طرح شرمندہ کردیا ہے۔

وَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ ۭوَمَا هُمْ مِّنْكُمْ وَلٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَّفْرَقُوْنَ : " وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہی میں سے ہیں ، حالانکہ وہ ہر گز تم میں سے نہیں ہیں۔ اصل میں تو وہ ایسے لوگ ہیں جو تم سے خوفزدہ ہیں۔ یہ پرلے درجے کے بزدل ہیں اور انداز بیان ایسا ہے کہ یہ لوگ مجسم طور بھاگنے اور سہمے ہوئے کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کے نفس اور دل میں فرار ہے۔ ان کے رویے میں فرار اور خوف ہے۔

لَوْ يَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُوْنَ اگر وہ کوئی جائے پناہ پا لیں یا کوئی کھوہ یا گھس بیٹھنے کی جگہ ، تو بھاگ کر اس میں جا چھپیں " یہ ہر وقت چھپ جانے کی جگہ کی تلاش میں ہوتے ہیں اور جائے امن کی تلاش میں رہتے ہیں۔ قلعہ بند جگہ یا غار اور تہہ خانہ۔ یہ خوفزدہ اور فرار کی حالت میں ہوتے ہیں۔ گویا کوئی ان دیکھی قوت یا اچانک آنے والی مصیبت ان کا پیچھا کر رہی ہو۔ یہ روحانی طور پر شکست خوردہ اور بزدل ہیں۔

وَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ ۭوَمَا هُمْ مِّنْكُمْ : " وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہی میں سے ہیں " بہت بہت تاکیدوں کے ساتھ حلف اٹھاتے ہیں تاکہ یہ لوگ وہ باتیں چھپا دیں جو ان کے دلوں میں ہیں اور ان کا کسی طرح انکشاف نہ ہونے پائے اور ان کی جان و مال محفوظ رہ جائیں۔ ان کی صورت حال نہایت ہی قابل رحم ہے۔ بزدل ، ریاکاری اور چاپلوسی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور قرآن ان کے لیے ایسے ہی اسالیب استعمال کر رہا ہے۔ عجیب تصویر کشی ہے جس کے ذریعے ان کے خفیہ بھیدوں کا ایکسرے ہوجاتا ہے اور نہایت ہی موثر انداز میں۔

58

وَمِنْهُم مَّن يَلْمِزُكَ فِى ٱلصَّدَقَٰتِ فَإِنْ أُعْطُوا۟ مِنْهَا رَضُوا۟ وَإِن لَّمْ يُعْطَوْا۟ مِنْهَآ إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ

اور ان میں سے بعض اسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر ان کو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہو جائیں

ان آیات میں بھی منافقین پر تبصرہ جاری ہے۔ اور ان کے اقوال اعمال اور نیات پر کلام ہے۔ ان کی نیتوں کے بارے میں انکشافات ہیں جن کو چھپانے کا انہوں نے بہت ہی احتیاط کے ساتھ اہتمام کیا تھا۔ لیکن وہ پھر بھی چھپا نہ سکے۔ کیونکہ وہ حضور کی جانب سے تقسیم صدقات کے بارے اعتراض کرتے ہیں حضور اکرم ﷺ کی عدالت پر نکتہ چینی آخر ایک مسلمان کیسے کرسکتا ہے۔ آپ تو معصوم ہیں اور خلق عظیم کے مالک ہیں۔ پھر ان میں سے بعض حضور کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے۔ ہر شخص کی بات سنتا ہے اور ہر شخص کو سچا سمجھتا ہے۔ حالانکہ حضور نبی اور صاحب بصیرت ہیں ، مفکر و مدبر ہیں اور ان کو حکمت کے خزانے دیے گئے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو اپنے کافرانہ اور فاجرانہ عقائد و اعمال کو اچھی طرح چھپاتے ہیں لیکن جب ان کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے تو جھوٹی قسموں کا سہارا لیتے ہیں تاکہ اپنے معاملات و اعمال کو چھپا سکیں۔ اور بعض تو ایسے سہمے اور ڈرے رہتے ہیں کہ کہیں ان کے بارے میں نبی پر سورت ہی نازل نہ ہوجائے۔

ان جیسے لوگوں پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ منافقین کے یہ خدوخال ہیں اور ان میں اور ان سے پہلے گزرے ہوئے منافقین کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اور جس طرح اللہ نے ازمنہ سابقہ کے منافقین کو ہلاک کیا تھا ان کو بھی ہلاک کردے گا اور جس طرح اللہ نے ان کو مہلت دی تھی ان کو بھی دی جا رہی تاکہ معلوم ہوجائے کہ جھوٹے منافقین کون ہوتے ہیں اور سچے مومنین کیسے ہوتے ہیں۔

فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَآ اِذَا هُمْ يَسْخَطُوْنَ : " اگر اس مال میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خوش ہوجائیں ، اور نہ دیا جائے تو بگڑنے لگتے ہیں " اگر ان کو دیا جائے تو خوش ہوجاتے ہیں پھر انہیں عدل و انصاف کی کوئی پروا نہیں ہوتی اور نہ ان کی دینی غیرت جاگتی ہے۔ ان آیات کے نزول کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں جن میں بعض متعین لوگوں کے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے حضور کے منصفانہ تقسیم صدقات پر اعتراضات کیے تھھے۔

بخاری اور نسائی نے ابوسعید خدری سے روایت کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ صدقات کی تقسیم میں مصروف تھے کہ ذوالخویصرہ تمیمی آئے اور کہا رسول اللہ ! انصاف کیجیے۔ حضور نے فرمایا تم ہلاک ہوجاؤ، اگر میں نے انصاف نہ کیا تو پھر کون کرے گا۔ اس موقع پر حضرت عمر ؓ نے کہا حضور مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ اس پر حضور نے فرمایا چھوڑ دو اسے ، اس کے کچھ ساتھی ایسے ہیں جن کی نمازوں کے ساتھ تم میں سے ایک شخص اپنی نماز کو حقیر بناتا ہے اور اپنے روزوں کو ان کے روزہ کے ساتھ حقیر بناتا ہے۔ وہ دین سے اس طرح نکل جاتے ہیں جس طرح تیر اپنی کمان سے تیزی سے نکل جاتا تھا۔ ابو سعید کہتے ہیں اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ ۔ ان مردویہ نے حضرت ابن مسود سے روایت کی ہے " جب حضور ﷺ نے حنین کا مال غنیمت تقسیم کرنا شروع کیا تو میں نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا " یہ تو ایسی تقسیم ہے جو خدا کے لیے نہیں ہے۔ میں حضور کے پاس آیا اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا ، اللہ حضرت موسیٰ پر رحم فرمائے ، ان کو اس سے بھی زیادہ اذیت دی گئی اور انہوں نے صبر کیا " اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی و منہم من یلمزک فی الصدقات ۔ ابن جریر نے داود ابن عاصم سے روایت کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضور کے پاس صدقات آئے تو آپ نے وہیں ان کو تقسیم کردیا۔ کسی کو کچھ دیا اور کسی کو کچھ دیا۔ ایک انصاری نے انہیں دیکھا اور کہا یہ منصفانہ تقسیم نہیں ہے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔

قتادہ کہتے ہیں کہ آیت وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ کے معنی یہ ہیں کہ ان میں سے بعض لوگ صدقات کے بارے میں آپ پر طعن کرتے ہیں۔ روایات میں آیا ہے کہ ایک شخص تازہ تازہ دیہات سے وارد ہوا تھا اور اس نے …

59

وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا۟ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَقَالُوا۟ حَسْبُنَا ٱللَّهُ سَيُؤْتِينَا ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ وَرَسُولُهُۥٓ إِنَّآ إِلَى ٱللَّهِ رَٰغِبُونَ

اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو خدا اور اس کے رسول نے ان کو دیا تھا۔ اور کہتے کہ ہمیں خدا کافی ہے اور خدا اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر (اپنی مہربانی سے) ہمیں (پھر) دیں گے۔ اور ہمیں تو خدا ہی کی خواہش ہے (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)

وَلَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا الخ۔ کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسول نے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ " اللہ ہمارے لیے کافی ہے ، وہ اپنے فضل سے ہمیں اور بہت کچھ دے گا اور اس کا رسول بھی ہم پر عنایت فرمائے گا ، ہم اللہ کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں۔

یہ ہے اسلام کی سوچ کا طریقہ اور یہ ہیں اسلام میں انداز گفتگو اور یہ ہیں اسلام میں آداب ایمان۔ یہ کہ انسان اللہ اور رسول اللہ کی تقسیم پر راضی ہو۔ وہ اللہ اور رسول کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ مھض دباؤ کی وجہ سے یا ماحول کے غلبہ کی وجہ سے بات مانے۔ اللہ پر بھروسہ کرنا ادب اسلامی ہے کیونکہ اپنے بندوں کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ انسان کو اللہ اور رسول اللہ کی دین کا امیدوار رہنا چاہیے اور وہ ہر کام محض رضائے الہی کے لیے کرے اور اس کے سامنے کوئی مادی مفاد نہ ہو۔ کوئی دنیوی لالچ اس کے پیش نظر نہ ہو۔ یہ ہیں ایمانی آداب جن کی وجہ سے انسان کا قلب و ضمیر تروتازہ اور سرشار ہوتا ہے۔ منافقین کے دل اور ان کا طرز عمل ان آداب سے خالی اور نابلد ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کی ارواح میں ایمان کی تازگی اور خوشی داخل ہی نہیں ہوا کرتی اور ان کے دل نور یقین سے خالی ہوتے ہین۔

60

۞ إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْعَٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَٱلْغَٰرِمِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

صدقات (یعنی زکوٰة وخیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے میں) اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کر دیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

اللہ اور رسول اللہ کی بارگاہ کے لائق آداب کے بیان کے بعد یعنی ، مکمل اطاعت ، مکمل اطاعت ، مکمل تسلیم و رضا اور مکمل سپردگی کے بیان کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو کچھ کرتے ہیں وہ خود اپنی مرضی سے نہیں کرتے۔ وہ امر اللہ سے ہر کام کرتے ہیں۔ اللہ کے احکام بابت تقسیم صدقات یہ ہیں اور رسول ان احکام کی پیروی کرتے ہیں اور یہ احکام رب العالمین کی طرف سے ہیں یعنی صدقات اور زکوۃ ایک فریضہ ہے جو اغنیاء سے لیا جاتا ہے اور یہ بھی فرض ہے کہ اسے فقراء میں تقسیم کیا جائے۔ اس کی تقسیم چند قسم کے لوگوں کے درمیان کی جانی ہے۔ کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنی صوابدید پر اسے تقسیم کرے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ بھی اسے ان مدات کے علاوہ اپنی صوابدید سے تقسیم نہیں کرسکتے۔

اس آیت کے ذریعے اسلامی شریعت میں زکوۃ کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ اب زکوۃ محض نفلی صدقہ اور رضاکارانہ چندہ نہیں رہی۔ اب یہ حتمی فریضہ اور واجبی ٹیکس ہے۔ نیز زکوۃ کے تقسیم کنندہ گان کی جانب سے بھی یہ کوئی عطیہ تصور نہ ہوگا نہ دینے والوں کی جانب سے عطیہ ہوگا بلکہ معلوم فریضہ ہوگا۔ اسلامی حکومت کا یہ ایک اہم مالی فریضہ ہے۔ اس کی وصولی کا ایک نظام ہوگا اور تقسیم کا بھی ایک ضابطہ جاری ہوگیا ہے۔ غرض زکوۃ دینے والوں پر فریضہ ہے اور لینے والوں کے لیے ان کا حق ہے۔ یہ خیرات اور سوال نہیں ہے کیونکہ اسلام یہ اجازت نہیں دیتا کہ کوئی زکوۃ گداگری کے تصور سے وصول کرے۔

اسلامی نظم میں زندگی کو عملی اور سعی پر استوار کیا گیا ہے۔ عمل کا مفہوم بڑا وسیع ہے۔ اسلامی حکومت کا یہ فرض اور اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر اس شخص کے لیے روزگار کا بندوبست کرے جو عمل اور محنت پر قدرت رکھتا ہو ، وہ اسے کام کے لیے ہنر مندی سکھائے اور اس کے لیے موقع فراہم کرے اور پھر یہ مزدور اور محنت کش کو یہ ضمانت دے کہ اس کو اس کی محنت کی پوری اجرت ملے۔

اسلامی نظام کے ضوابط کی رو سے عمل پر قدرت رکھنے والوں کا زکوۃ میں کوئی حق نہیں زکوۃ ایک ایسا ٹیکس ہے جو اہل ثروت سے لیا جاتا ہے اور محتاجوں کو دیا جاتا ہے اور اس کی وصولی اور تقسیم کا انتظام حکومت کے ہاتھوں میں رہتا ہے۔ بشرطیکہ حکومت اسلامی اصولوں پر قائم ہو ، نظام شریعت کو نافذ کرنے والی ہو اور زکوۃ کو بھی وہ مکمل اسلامی ضوابط کے مطابق وصول کرتی ہو اور خرچ کرتی ہو۔

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا لا تحل الصدقۃ لغنی ولا لذی مرۃ سوی " زکوۃ غنی کے لیے حلال نہیں ہے اور نہ تندرست و توانا کے لیے " (احمد ، ابو داود ، ترمذی)

عبداللہ ابن عدی ابن خیار سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے مجھے بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے زکوۃ کے لیے درخواست کی تو حضور ﷺ ان کا جائز لیا اور دیکھا کہ وہ دونوں تندرست و توانا ہیں تو فرمایا " اگر تم چاہو تو میں تمہیں زکوۃ دیے دیتا ہوں لیکن ضاطے کی رو سے اس میں غنی اور اسے شخص کا حصہ نہین ہے جو قوی ہو اور کمائی کرسکتا ہو۔ (احمد ، ابو داود ، نسائی

اسلام کے اجتماعی نظام نے اسلامی سوسائٹی کے لیے سوشل سیکورٹی کا جو نظام تجویز کیا زکوۃ اس کا ایک حصہ ہے۔ یہ نظام زکوۃ سے زیادہ وسیع اور جامع ہے کیونکہ اسلام کے سوشل سیکورٹی کے نظام کے کئی شعبے ہیں۔ یہ شعبے پوری انسانی زندگی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ زکوۃ بہرحال اس نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔

زکوۃ کی شرح دسواں ، بیسواں اور چالیسواں حصہ ہے۔ مختلف اموال میں اس کی شرح مختلف ہے۔ جو شخص 20 مصری دینار سے زیادہ مال رکھتا ہو اور مال اس کی ضروریات سے زیادہ ہو تو وہ صاحب نصاب تصور ہوگا اور اس پر زکوۃ فرض ہوگی۔ اس طرح اس مد میں دینے والوں کی ایک بڑی تعداد فراہم ہوجاتی ہے اور اس کو ان مدات میں خرچ کیا جاتا ہے جن کی تصریح اس آیت میں کردی گئی ہے۔ اس کا پہلا مستحق فقیر و مسکین ہیں۔ فقراء وہ ہیں جن کے پاس …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.