ٱتَّخَذُوٓا۟ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَٰنَهُمْ أَرْبَابًۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلْمَسِيحَ ٱبْنَ مَرْيَمَ وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوٓا۟ إِلَٰهًۭا وَٰحِدًۭا ۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ عَمَّا يُشْرِكُونَ
انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو الله کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ اُن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے
اب قرآن کریم اہل کتاب کی گمراہیوں اور انحرافات کا ایک دوسرا ورق الٹتا ہے۔ یہاں اب ان کی گمراہی محض اعتقاد اور اقوال تک محدود نہیں ہے بلکہ اس فاسد اعتقادات و تصورات پر ان کی جو عملی صورت حال بنتی ہے اس کے اعتبار سے بھی وہ گمراہ اور منحرف ہیں۔
۔۔۔
اس آیت میں بھی یہی بات جاری ہے جو اس سبق کا اصلی موضوع یعنی یہ کہ یہ لوگ در اصل اہل کتاب ہی نہیں۔ لہذا اس حوالے سے ان کو دین حق پر نہیں سمجھا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ دین اسلام پر نہیں ہیں۔ اس بات کی شہادت ان کی عملی زندگی دے رہی ہے۔ اس کی شہادت ان کے تصورات دے رہے ہیں ، ان کو حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ وہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کریں مگر انہوں نے اپنے احبارو رہبان کو اللہ کے سوا الہ بنا دیا جیسا کہ انہوں نے حضرت مسیح کو رب بنایا جو ان کی جانب سے صریح شرک ہے۔ ج کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے پاک ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنے اعتقادات و تصورات کے اعتبار سے اور اپنے اعمال اور واقعی زندگی کے اعتبار سے دین حق پر نہیں ہیں۔
ان لوگوں نے اپنے احبارو رہبان کو کس طرح ، اللہ کے مقابلے میں رب قرار دیا تھا ؟ اس کی تشریح کرنے سے قبل ہم چاہتے ہیں کہ اس آیت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے منقول تفسیری روایات یہاں نقل کردیں۔ کیونکہ خود حضور کی تفسیر قول فیصل ہے۔
احبار لغت کے اعتبار سے حبر یا حبر کی جمع ہے۔ یعنی حاء کے کسرے یا فتح کے ساتھ۔ یہ اہل کتاب کے علماء کا لقب ہے۔ اور علمائے یہود پر اس کا اطلاق زیادہ ہے۔ رہبان راہب کی جمع ہے۔ یہ عیسائیوں کے نزدیک اس شخص کو کہا جاتا ہے جو عبادت کے لیے اپنے آپ کو وقف کردے اور تمام دوسری سرگرمیوں سے کٹ جائے۔ بالعموم ایسا شخص شادی نہیں کرتا ، نہ کوئی روزگار کرتا ہے۔ لہذا وہ معاشی تکلفات سے بےغم ہوتا ہے۔
در منثور میں امام ترمذی کی روایت ہے جسے انہوں نے حدیث حسن کہا ہے۔ نیز ابن منذر ، ابن ابی حاتم ، ابو الشیخ اور ابن مردویہ اور بیہقی وغیرہ نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ یہ روایت حضرت عدی ابن حاتم کی ہے۔ کہتے ہیں کہ میں حضور کے پاس آیا تو آپ سورة توبہ پڑھ رہے تھے۔ آپ نے یہ آیت پڑھی اتخذوا احبارھم و رھبانہم اربابا من دون اللہ۔ تو حضور نے فرمایا " یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ وہ ارباب و رہبان کی عبادت نہ کرتے تھے لیکن یہ بات تھی کہ جب وہ ان کے لیے کسی چیز کو حلال قرار دیتے تو یہ اسے حلال سمجھتے اور جس چیز کو وہ حرام قرار دیتے تو یہ اسے حرام سمجھتے "
ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں حضرت عدی ابن حاتم کی یہ روایت نقل کی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب ان تک حضور اکرم ﷺ کی دعوت پہنچی تو وہ شام کی طرف بھاگ نکلے۔ یہ صاحب جاہلیت میں عیسائی بن گئے تھے۔ چناچہ ان کی بہن اپنی قوم کے لوگوں کے ساتھ گرفتار ہوئی ، تو حضور اکرم نے ان کے ساتھ بہت ہی کریمانہ برتاؤ کیا اور اسے عطیات دئیے۔ یہ اپنے بھائی کے پاس واپس گئی اور اسے اسلام کی طرف رغبت دلائی اور اس پر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ جائیں۔ چناچہ حضرت عدی مدینہ گئے۔ یہ اپنی قوم دلی کے رئیس تھے اور ان کے والد حاتم الطائی جود و کرم میں مشہور زمانہ تھے۔ لوگوں کے اندر مدینہ میں اس کی آمد کا چرچا ہوا۔ یہ رسول اللہ ﷺ سے ملے۔ ان کے گلے میں سونے کی صلیب تھی حضور یہ آیت پڑھ رہے تھے اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ۔ تو وہ کہتے ہیں کہ میں نے سوال کیا کہ حضور عیسائی تو احبارو رہبان کی عبادت نہیں کرتے۔ تو حضور نے فرمایا یہ درست ہے کہ وہ ان کی عبادت نہیں کرتے۔ لیکن انہوں نے ان کے لیے حلال اور حرام کی حدود خود متعین کی ہیں اور لوگ اس معاملے میں ان کی اطاعت کرتے ہیں لہذا یہ ان عوام کی طرف سے ان کی بندگی ہے۔
امام سدی کہتے ہیں کہ انہوں نے انسانوں کو اپنا مقتدا بنا لیا تھا اور اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے : وما امروا الا …