Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 111–120 of 129

111

۞ إِنَّ ٱللَّهَ ٱشْتَرَىٰ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلْجَنَّةَ ۚ يُقَٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّۭا فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ وَٱلْقُرْءَانِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِ ۚ فَٱسْتَبْشِرُوا۟ بِبَيْعِكُمُ ٱلَّذِى بَايَعْتُم بِهِۦ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں (اور اس کے) عوض ان کے لیے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے۔ جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے

ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ بلاشبہ اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور مال (اس وعدہ پر) خرید لئے ہیں کہ ان کیلئے (اس کے عوض) جنت ہے۔ جان و مال خرچ کرنے کے عوض عطائے جنت کو اللہ نے خرید وفروخت قرار دیا۔ اہل سیر نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے جس نے رسول اللہ (ﷺ) کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ مارا ‘ وہ براء بن معرور یا ابوالہثیم یا اسعد تھے اور یہ شرط کی کہ جس (مصیبت) سے وہ اپنے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے ‘ اس سے رسول اللہ (ﷺ) کی بھی حفاظت کریں گے اور ہر گورے کالے (یعنی تمام انسانوں) کے مقابل آپ کی حمایت کریں گے۔ سب سے پہلے قتال و جہاد کے بارے میں یہی آیت نازل ہوئی ‘ اس کے بعد اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ الخ۔

جب گھاٹی کی رات کو ان حضرات کی یہ بیعت ختم ہوگئی اور کفار قریش سے چھپا کر یہ بیعت ہوئی تھی تو اس کے بعد رسول اللہ نے اپنے ساتھیوں کو مکہ چھوڑ کر مدینہ کو چلے جانے کا حکم دے دیا اور خود مکہ میں ٹھہر کر (ا اللہ کی طرف سے) اجازت ملنے کا انتظار کرتے رہے۔

تیسری گھاٹی کی بیعت سے ایک سال پہلے حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد جو حبشہ سے آئے تھے اور مکہ والوں نے ان کو بڑی تکلیفیں دی تھیں ‘ جب ان کو انصار کے مسلمان ہوجانے کی اطلاع ملی تو مدینہ کو ہجرت کر گئے۔ آپ کا نمبر مدنی مہاجرین میں سب سے پہلا تھا ‘ پھر حضرت عامر بن ربیعہ اور ان کی بیوی لیلیٰ نے ہجرت کی ‘ پھر حضرت عبد اللہ بن حجش نے ‘ پھر پے در پے دوسرے مسلمانوں نے ‘ پھر حضرت عمر بن خطاب اور آپ کے بھائی زید نے اور بیس سواروں کے ساتھ عباس بن ربیعہ نے۔ ان سب نے (مدینہ میں پہنچ کر) حوالی مدینہ میں پڑاؤ کیا۔ پھر حضرت عثمان بن عفان نے ہجرت کی۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بارہا حضور (ﷺ) سے ہجرت کی درخواست کی مگر حضور (ﷺ) فرماتے رہے : جلدی نہ کرو ‘ شاید اللہ کسی کو تمہارا ساتھی کر دے۔ خیال یہ تھا کہ شاید رسول اللہ (ﷺ) بھی ان کے ساتھ ہی ہجرت کریں۔ اس کے بعد چوپال میں قریش کا اجتماع ہوا (اور رسول اللہ (ﷺ) کو شہید کردینے کی انہوں نے خفیہ سازش کی) سورة الانفال میں قریش کی سازش کا اور رسول اللہ (ﷺ) کے ہجرت کرنے کا بیان آچکا ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔

یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون ویقتلون وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں۔ یہ کلام ابتدائی ہے ‘ اس میں خریدنے کی غرض کا اظہار کیا گیا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ یقاتلون (اگرچہ مضارع کا صیغہ ہے مگر) امر کے معنی میں ہے (یعنی لڑو ‘ مارو اور مارے جاؤ) ۔

وعدا علیہ حقًا اللہ نے (اس) خرید پر (جنت دینے کا) سچا پکا وعدہ کرلیا ہے۔ علیہ کی ضمیر شرائ کی طرف لوٹ رہی ہے اور وعدًا فعل محذوف کا مفعول مطلق (برائے تاکید) ہے۔ حقًّا ‘ وعدًاکی صفت ہے یا یہ بھی فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے۔

فی التورٰۃ والانجیل والقران توریت اور انجیل اور قرآن میں۔ توریت و انجیل میں وعدہ کرنے کی صراحت بتا رہی ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو بھی جہاد پر مامور کیا گیا تھا اور اس کے بدلہ میں ان سے جنت کا وعدہ کیا گیا تھا۔

ومن اوفٰی بعھدہ من اللہ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا اور کون ہے ؟ (استفہام انکاری ہے)

یعنی کوئی نہیں ہے۔ وعدہ کی خلاف ورزی بری ہے اور اللہ سے اس کا صدور ناممکن ہے۔ وعدہ کی وفا کرم ہے اور اللہ سے بڑھ کر کوئی کریم نہیں۔ نفی کو بصورت استفہام ذکر کرنے میں پرزور طور پر وفائے عہد کا اظہار کیا ہے اور تاکیدی طرز کلام کے ساتھ وعدۂ الٰہی کے حق ہونے کی صراحت ہے۔

فاستبشروا ببیعکم الذی بالعتم بہ پس تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے اللہ سے معاملہ ٹھہرایا ہے ‘ خوشی مناؤ۔

پس تم خوب خوش ہوجاؤ ‘ خوشیاں مناؤ۔ یہ جہاد کرنے والے مؤمنوں کو خطاب ہے۔ پہلے ان کا ذکر غائبانہ تھا ‘ اب مخاطب بنایا گیا۔ بشارت کی وجہ یہ ہے کہ زوال …

At-Tawba 9:111Listen in Qur'an →
112

ٱلتَّٰٓئِبُونَ ٱلْعَٰبِدُونَ ٱلْحَٰمِدُونَ ٱلسَّٰٓئِحُونَ ٱلرَّٰكِعُونَ ٱلسَّٰجِدُونَ ٱلْءَامِرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَٱلنَّاهُونَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَٱلْحَٰفِظُونَ لِحُدُودِ ٱللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ

توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک کاموں کا امر کرنے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے، خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے، (یہی مومن لوگ ہیں) اور اے پیغمبر مومنوں کو (بہشت کی) خوش خبری سنادو

التآئبون (شرک سے) توبہ کرنے والے یعنی وہ لوگ جنہوں نے شرک سے توبہ کرلی اور نفاق سے پاک ہوگئے۔

التائبون خبر ہے ‘ مبتداء محذوف ہے یعنی وہ توبہ کرنے والے ہیں۔ یعنی جن لوگوں نے رسول اللہ (ﷺ) سے بیعت کرلی اور تمام احکام کی تعمیل کا عہد کرلیا ‘ وہ ان تمام اوصاف کے حامل ہیں ‘ جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ التائبون مبتداء ہو اور بعد کو ذکر ہونے والے اصاف خبر ہوں یعنی حقیقت میں کفر کرنے والے اوصاف کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خبر محذوف ہو یعنی توبہ کرنے والے جنتی ہیں ‘ خواہ انہوں نے اس وقت جہاد میں شرکت نہ کی ہو مگر ان کے اندر عداوت وعناد کا جذبہ نہ ہو اور یہ ارادہ نہ ہو کہ جب اللہ جہاد کی طاقت دے گا تب بھی جہاد نہیں کریں گے۔ زجاج نے کہا : گویا (اس صورت میں) جنت کا وعدہ تمام مؤمنوں سے ہوگا ‘ جیسے اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا ہے : وَکُلاَّ وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی اور سب سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔

العٰبدون (شرک جلی و خفی کو چھوڑ کر فقط اللہ کی) عبادت کرنے والے۔

الحامدون (دکھ سکھ میں اللہ کی) تعریف کرنے والے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : بہت زیادہ ثنائے خدا کرنے والوں کو جو دکھ سکھ میں (یعنی راحت ہو یا تکلیف ‘ ہر حال میں) اللہ کی تعریف کرتے ہیں ‘ سب سے پہلے جنت کی طرف بلایا جائے گا۔ رواہ الطبرانی ‘ والحاکم ‘ والبیہقی فی شعب الایمان بسند صحیح عن ابن عباس۔

السآئحون روزے رکھنے والے۔ ابن جریر نے حضرت عبید بن عمر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) سے السائحون کا معنی دریافت کیا گیا۔ فرمایا : روزے رکھنے والے۔ بغوی نے حضرت ابن مسعود کا بھی یہی قول بیان کیا ہے۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ کا موقوف قول نقل کیا ہے کہ اس آیت میں سیاحت (کا معنی) روزے رکھنا ہے۔

سفیان بن عیینہ نے فرمایا : روزے دار کو سائح اسلئے کہا جاتا ہے کہ وہ تمام لذتیں ‘ کھانا ‘ پینا اور قربت صنفی کرنا ترک کردیتا ہے (جیسے مسافر ان لذتوں سے محروم ہوجاتا ہے) حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : آدم زاد کے ہر نیک عمل کا اجر دس گنے سے سات سو گنے تک بڑھا دیا جاتا ہے سوائے روزہ کے ‘ جس کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دوں گا۔ بندہ میرے لئے اپنی خواہش صنفی اور کھانا ترک کرتا ہے (الحدیث ) متفق علیہ۔

عطاء نے کہا : السائحون سے مراد غازی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ جیسا کہ ابن ماجہ ‘ حاکم اور بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجئے۔ فرمایا : میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔

عکرمہ نے کہا : سیاحت کرنے والوں سے مراد طالب علم ہیں جو علم کی طلب میں ملکوں میں پھرتے ہیں۔ حضرت ابو درداء کا بیان ہے : میں نے خود سنا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) فرما رہے تھے : جو طلب علم کی راہ میں چلتا ہے ‘ اللہ اس کو جنت کے راستہ پر چلائے جائے گا اور فرشتے طالب علم کیلئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور عالم کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ وہ (ملائکہ) جو آسمانوں میں ہیں اور وہ (ملائکہ اور انس و جن) جو زمین میں ہیں اور پانی کے اندر مچھلیاں۔ عالم کی برتری عابد پر ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی فضیلت دوسرے ستاروں پر۔ علماء ‘ انبیاء کے (علم کے) وارث ہیں اور انبیاء نے کوئی درہم و دینار میراث میں نہیں چھوڑا بلکہ علم کی میراث چھوڑی ۔ اب جو اس ترکہ کا وارث ہوا ‘ وہ بڑا خوش نصیب ہوا۔ رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ وابو داؤد۔

الراکعون الساجدون رکوع کرنے والے ‘ سجدہ کرنے والے یعنی نماز پڑھنے والے۔ نماز پڑھنے والوں کا ذکر …

At-Tawba 9:112Listen in Qur'an →
113

مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن يَسْتَغْفِرُوا۟ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوٓا۟ أُو۟لِى قُرْبَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ

پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں

ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی من بعد ماتبین لھم انھم اصحب الجحیم پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکوں کیلئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں ‘ اس امر کے ظاہر ہونے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔

اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ زندہ مشرکوں کیلئے دعائے مغفرت جائز ہے کیونکہ ایسی دعاء کا معنی ہے مشرکوں کو توفیق ایمان ملنے کی درخواست (اور اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ مستحسن ہے) مسلم نے حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے چچا سے فرمایا تھا : لا الٰہ الا اللہ کہہ دیجئے ‘ میں قیامت کے دن آپ کیلئے اس کی شہادت دوں گا۔ چچا نے کہا : اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ قریش عار دلائیں گے اور کہیں گے کہ ابو طالب نے ڈر کر ایسا اقرار کرلیا تو میں یہ کلمہ کہہ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کردیتا۔ اس پر اللہ نے آیت اِنَّکَ لاَ تَھْدِیْ مَنْ اَجْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَھدِیْ مَنْ یَّشَاء نازل فرمائی۔

بخاری نے حضرت ابو سعید خدری کا قول نقل کیا ہے ‘ حضرت ابو سعید نے فرمایا : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے چچا کا تذکرہ آنے کے وقت فرمایا : شاید قیامت کے دن ان کو میری شفاعت (کچھ) فائدہ پہنچائے اور ان کو ٹخنوں ٹخنوں تک آگ میں کردیا جائے جس سے ان کا دماغ ابلنے لگے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ آیت مندرجۂ بالا مکہ میں ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔

ترمذی اور حاکم نے بیان کیا اور ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا بھی ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : میں نے ایک شخص کو اپنے مشرک ماں باپ کیلئے دعائے مغفرت کرتے سنا تو میں نے کہا : کیا تو اپنے ماں باپ کیلئے دعائے مغفرت کر رہا ہے باوجودیکہ وہ مشرک تھے ؟ اس نے جواب دیا : حضرت ابراہیم نے بھی تو اپنے مشرک باپ کیلئے دعائے مغفرت کی تھی۔ میں نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں کیا۔ اس پر آیت مَا کَان للنَّبِیِّ الخ نازل ہوئی۔

ممکن ہے یہ قصہ بھی ابو طالب کی موت کے واقعہ ہی کے زمانہ میں ہوا ہو (اور دونوں واقعات آیت مذکورہ کے نزول کا سبب ہوں) ۔

بعض روایات میں آیا ہے کہ آیت مذکورہ کا نزول رسول اللہ (ﷺ) کی والدہ آمنہ بی بی کے متعلق ہوا تھا۔ ان روایات میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ہے ‘ نہ اس قابل ہے کہ جو قوی روایت ہم نے اوپر ذکر کی ہے (جس میں آیت کا نزول ابو طالب کے متعلق بیان کیا گیا ہے) اس کے مقابلہ میں پیش کی جاسکے ‘ اسلئے ایسی روایات کو قبول نہ کرنا ضروری ہے۔

حاکم نے اور بیہقی نے دلائل میں ایوب بن ہانی کے طریق سے بروایت مسروق ‘ حضرت ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک روز رسول اللہ (ﷺ) قبرستان تشریف لے گئے ‘ ہم بھی ساتھ گئے۔ آپ نے ہم کو بیٹھ جانے کا حکم دیا ‘ ہم بیٹھ گئے۔ آپ قبروں کو پھلانگتے ہوئے ایک قبر کے پاس پہنچے اور دیر تک کچھ چپکے چپکے قبر سے فرمایا ‘ پھر روتے ہوئے اٹھ گئے۔ آپ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے۔ پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ حضرت عمر سامنے آگئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! آپ کو کس بات سے رونا آگیا ؟ ہم بھی آپ کے رونے کی وجہ سے رونے لگے اور گھبرا گئے۔ حضور (ﷺ) تشریف لے آئے اور ہمارے پاس بیٹھ کر فرمایا : میرے رونے کی وجہ سے تم لوگ گھبرا گئے۔ ہم نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : جس قبر سے تم نے مجھے چپکے چپکے کچھ کہتے دیکھا تھا ‘ وہ (میری والدہ) آمنہ بنت وہب کی قبر ہے۔ میں نے اس کی زیارت کرنے کی اللہ سے اجازت مانگی تھی ‘ اللہ نے اجازت دے دی۔ پھر میں نے ان کیلئے دعائے مغفرت کرنے کی اللہ سے اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہیں ملی اور مجھ پر مَا کَان للنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے دو آیات نازل ہوئیں۔ اس کی وجہ سے مجھ پر وہ رقت طاری ہوئی جو ماں کی وجہ سے اولاد پر طاری ہوتی ہے ‘ اسی بات نے مجھے رلایا۔

حاکم نے اس حدیث کو …

At-Tawba 9:113Listen in Qur'an →
114

وَمَا كَانَ ٱسْتِغْفَارُ إِبْرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍۢ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥٓ أَنَّهُۥ عَدُوٌّۭ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ لَأَوَّٰهٌ حَلِيمٌۭ

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کا سبب تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے

وما کان استغفار ابرھیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ اور حضرت ابراہیم کا اپنے باپ کیلئے دعائے مغفرت کرنا صرف اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے باپ سے اس کا وعدہ کرلیا تھا۔

حضرت ابراہیم کے بات سے مراد آزر ہے۔ آزر آپ کا چچا تھا ‘ باپ کا نام تارخ تھا۔ اس کی پوری تفصیل سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔

بعض اہل تفسیر کا خیال ہے کہ وَعَدَ کی ضمیر بات کی طرف راجع ہے اور ایَّاہُ سے مراد حضرت ابراہیم ہیں ‘ یعنی باپ نے حضرت ابراہیم سے مسلمان ہونے کا وعدہ کرلیا تھا ‘ اس پر حضرت ابراہیم نے فرمایا : میں آپ کیلئے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا ‘ جبکہ آپ مسلمان ہوجائیں گے۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک وَعَدَ کا فاعل حضرت ابراہیم ہیں اور ایَّاہُ سے مراد حضرت ابراہیم کا باپ (ہم نے ترجمہ اسی قول کے موافق کیا ہے (یعنی حضرت ابراہیم نے باپ کے مسلمان ہوجانے کی امید میں یہ وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارے لئے دعائے مغفرت کروں گا۔ اس تفسیر کی تائید اس امر سے ہوتی ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے : قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبِرٰھِیْمَ ....... لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَکَتک۔ اس آیت میں حضرت ابراہیم کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے مگر حضرت ابراہیم نے جو باپ کیلئے دعائے مغفرت کی تھی اس کو عمومی حکم اتباع سے مستثنیٰ کردیا ‘ یعنی اس میں حضرت ابراہیم کی پیروی نہ کی جائے۔ اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ حضرت ابراہیم کا باپ مشرک تھا اور باوجود اس کے مشرک ہونے کے محض اس کے مسلمان ہوجانے کی امید پر حضرت ابراہیم نے اس سے وعدہ کرلیا تھا کہ میں تیرے لئے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا۔ صحیح حدیث ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اولاد آدم (علیہ السلام) کے جتنے قرون (صدیاں) گذرے ان سب میں سے بہترین دور میں میں مبعوث ہوا (یعنی میرے آباؤ اجداد بہترین قرون میں قرن در قرن گذرتے گئے۔ آخری قرن جو سب سے بہتر قرن ہے ‘ میری بعثت کا قرن ہے) اس حدیث کے صحیح ہوتے ہوئے کیسے کہا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کے سلسلۂ آباؤ اجداد میں کوئی کافر گذرا ہے۔

فلما تبین لہ ان عدو اللہ تبرا منہ (باپ کے کفر کی حالت پر مرنے سے یا اللہ کی طرف سے اطلاع ملنے کی وجہ سے کہ وہ کافر مرے گا) جب حضرت ابراہیم پر کھل گیا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے باپ سے بیزار ہوجانے کا اظہار کیا اور دعائے مغفرت قطع کردی۔

بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت کا تعلق آخرت سے ہے ‘ یعنی آخرت میں جب حضرت ابراہیم پر واضح ہوجائے گا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوجائیں گے۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : قیامت کے دن حضرت ابراہیم کی ملاقات ان کے باپ آزر سے ہوگی۔ آزر کا چہرہ اس وقت دھنوالا ‘ پژمردہ ‘ خاک آلود ہوگا۔ حضرت ابراہیم اس سے کہیں گے : کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ میری ہدایت کے خلاف نہ کر۔ باپ جواب دے گا : آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت ابراہیم (بارگاہ الٰہی میں) عرض کریں گے : اے میرے مالک ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جس روز لوگوں کو (قبروں سے) اٹھایا جائے گا اس روز تو مجھے رسوا نہیں کرے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور کونسی رسوائی ہوگی جو میرے باپ کی حالت ہے۔ اللہ فرمائے گا : میں نے کافروں کیلئے جنت حرام کردی ہے۔ پھر حکم ہوگا : ابراہیم ! اپنے قدموں کے نیچے دیکھو۔ حضرت ابراہیم اپنے قدموں کی طرف دیکھیں گے تو ان کو (گندگی یا کیچڑ میں) لتھڑا ہوا ایک پشمی بجو نظر آئے گا ‘ پھر اس کو ٹانگوں سے پکڑ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک روایت میں اتنا اور بھی آیا ہے کہ حضرت ابراہیم اس سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔

ان ابرھیم لاواہ حلیم۔ واقعی ابراہیم رحیم المزاج ‘ حلیم الطبع تھے۔ حضرت کعب احبار نے کہا : اوَّاہٌ وہ شخص ہے جو اللہ کے خوف کی وجہ سے بہت زیادہ آہیں کھینچے (آہ آہ کرے) حضرت ابراہیم اپنی زندگی …

At-Tawba 9:114Listen in Qur'an →
115

وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ إِذْ هَدَىٰهُمْ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

اور خدا ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان کو وہ چیز نہ بتا دے جس سے وہ پرہیز کریں۔ بےشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

وما کان اللہ لیضل قومًا بعد اذھدھم حتی یبین لھم ما یتقون اور ہدایت یاب کردینے کے بعد اللہ کسی قوم کو اس وقت تک گمراہ نہیں قرار دیتا جب تک وہ چیزیں ان کو نہ بتا دے جن سے ان کو پرہیز رکھنا چاہئے۔ یعنی اسلام کی ہدایت دینے کے بعد اللہ کسی قوم کو گمراہ نہیں قرار دیتا اور نہ ان کا کسی فعل پر مؤاخذہ کرے گا تاوقتیکہ ان کے سامنے کھول کر وہ امور نہ بیان کر دے جن سے ان کو بچنا لازم ہے اور جن کو آئندہ اختیار کرنے کے بعد وہ گمراہ قرار پانے کے مستحق ہوجاتے ہیں۔

بعض علماء نے کہا : رسول اللہ (ﷺ) نے جو اپنے چچا کے متعلق فرمایا تھا کہ جب تک مجھے ممانعت نہ ہوجائے میں آپ کیلئے دعائے مغفرت کرتا رہوں گا۔ اس آیت میں رسول اللہ (ﷺ) کیلئے قول مذکور کا عذر بیان فرما دیا (کہ یہ قول رسول اور وعدۂ استغفار ممانعت دعا سے پہلے تھا ‘ اسلئے ناقابل مؤاخذہ ہے) یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممانعت سے پہلے جن لوگوں نے اپنے مشرک آباؤ اجداد کیلئے دعائے مغفرت کی تھی ان کو اس آیت میں معذور ‘ ناقابل مؤاخذہ قرار دینا مقصود ہے۔ مجاہد نے کہا : آیت میں مشرکوں کیلئے دعائے مغفرت کرنے والے مؤمنوں کا حکم تو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے لیکن حکم عام ہے (قبل از نزول حکم) ہر معصیت وطاعت کو شامل ہے (یعنی نزول حکم سے پہلے کا کوئی فعل قابل مؤاخذہ نہیں۔ یہ ضابطہ عمومی ہے ‘ مشرکوں کیلئے قبل از ممانعت دعائے مغفرت کرنے کی ہی اس میں خصوصیت نہیں ہے) ۔

ان اللہ بکل شیء علیم۔ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ یعنی کس نے ناواقفیت اور عدم علم کی وجہ سے ایسا کیا اور کس نے سرکشی اور تمرد کے جذبہ کے زیر اثر کیا ‘ کون گمراہ قرار دیئے جانے کا مستحق ہے اور کون اس کا مستحق نہیں ہے ‘ اللہ ان باتوں کو خوب جانتا ہے۔

At-Tawba 9:115Listen in Qur'an →
116

إِنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۚ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا نَصِيرٍۢ

خدا ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت ہے۔ وہی زندگانی بخشتا ہے (وہی) موت دیتا ہے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے

ان اللہ لہ ملک السموت والارض یحي ویمیت وما لکم من دون اللہ من ولی ولانصیر۔ بلاشبہ آسمانوں کی اور زمین کی حکومت اللہ ہی کی ہے ‘ وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔ (اے لوگو ! ) اللہ کے سوا نہ کوئی تمہارا حامی ہے کہ اللہ سے تم کو بچا سکے نہ کوئی مددگار کہ اللہ کے بھیجے ہوئے ضرر کو روک سکے ‘ اسلئے تمہارے لئے جائز نہیں کہ مشرکوں سے (قلبی) دوستی کرو اور ان کیلئے مغفرت کی دعائیں کرو خواہ وہ تمہارے قرابتدار ہی ہوں۔ تمہارے لئے اللہ کی دوستی اور مدد کافی ہے۔

At-Tawba 9:116Listen in Qur'an →
117

لَّقَد تَّابَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلنَّبِىِّ وَٱلْمُهَٰجِرِينَ وَٱلْأَنصَارِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ فِى سَاعَةِ ٱلْعُسْرَةِ مِنۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍۢ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُۥ بِهِمْ رَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ

بےشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھر جانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بےشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے

لقد تاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر اور مہاجرین و انصار کے حال پر توجہ فرمائی۔ منافقوں کو تبوک کے جہاد میں شرکت نہ کرنے کی جو اجازت دے دی گئی تھی ‘ اس قصور کو اللہ نے معاف کردیا۔ یا یہ معنی ہے کہ کہ گناہگار قرار دینے سے اللہ نے ان کو بچا لیا ‘ جیسے (رسول اللہ (ﷺ) کے متعلق ) فرمایا ہے : لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذُنِبْکَم وَمَا تَأْخَّرَ ۔ بعض نے کہا : یہ توبہ کی ترغیب ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں جو توبہ کا محتاج نہ ہو ‘ یہاں تک کہ رسول اللہ (ﷺ) اور صحابہ بھی توبہ کے ضرورت مند ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : تم سب اللہ سے توبہ کرو۔ بات یہ ہے کہ ہر شخص جس درجہ پر بھی ہو ‘ اپنے سے اونچے درجہ پر پہنچنے سے قاصر رہتا ہی ہے (اور اونچے درجہ تک پہنچنا چاہتا ہے) لہٰذا جو کمی اس کے اندر ہو اس سے توبہ کرنا ضروری ہے۔ آیت میں توبہ کی فضیلت کا اظہار کیا گیا ہے کہ توبہ انبیاء و صالحین کا خصوصی مقام ہے۔ بعض نے کہا : اس آیت میں رسول کا ذکر بطور تمہید ہے ‘ کیونکہ آپ صحابہ کی توبہ قبول ہونے کا ذریعہ تھے ‘ اسلئے آپ کا ذکر شروع میں بطور تمہید کردیا گیا۔ جیسے آیت لِلّٰہِ خُمُسُہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی میں اللہ کا ذکر بطور تمہید ہے۔

الذین اتبعوا فی ساعۃ العسرۃ جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا۔ یعنی جب رسول اللہ (ﷺ) نے مہاجرین و انصار کو تبوک کے جہاد کی ترغیب دی تو انہوں نے آپ کا اتباع کیا۔ ساعۃ سے مراد ہے وقت۔ عُسرت سختی۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کیلئے سواری ‘ زاد راہ اور پانی کی بہت تنگی اور دشواری تھی ‘ اسلئے غزوۂ تبوک کو غزوۃ العسرۃ یا غزوۃ جیش العسرت کہا جاتا ہے ‘ غزوۃ الجیش بھی اسی کو کہتے ہیں۔ کذا قال البغوی

حسن نے کہا : دس دس آدمیوں کیلئے صرف ایک ایک اونٹ تھا ‘ باری باری سے دس آدمی ایک ہی اونٹ پر سوار ہوجاتے تھے۔ ایک اترتا تھا تو دوسرا چڑھتا تھا۔ زاد راہ کیلئے گھنے ہوئے چھوارے اور خراب قسم کے جَو تھے۔ جو کچھ ساتھ تھا ‘ لوگ اس کو باہم تقسیم کرلیا کرتے تھے۔ پھر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ بعض لوگ انتہائی بھوک کی وجہ سے ایک چھوارہ لے کر منہ میں گھماتے اور جب مزہ لے لیتے تو اپنے ساتھی کو دے دیتے اور وہ اس کو چوستا ‘ پھر ایک گھونٹ اوپر سے پانی پی لیتا۔ اس طرح ایک ہی چھوارہ سب لوگ باری باری سے چوستے اور چوسنے میں ہی چھوارہ ختم ہوجاتا ‘ صرف گٹھلی رہ جاتی۔ لیکن ایمان و یقین کے ساتھ رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ چلے جاتے تھے۔

امام احمد ‘ ابن خزیمہ ‘ ابن حبان اور حاکم نے حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت عمر نے فرمایا : ہم سخت گرمی کے دنوں میں (رسول اللہ (ﷺ) کے ہمرکاب) تبوک کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ ایک پڑاؤ پر اترے اور اتنی پیاس لگی کہ ہم نے خیال کیا کہ اب ہماری گردنیں ٹوٹ جائیں گی۔ بعض لوگ پانی کی تلاش میں جاتے اور خیال ہوتا کہ یہ زندہ لوٹ کر نہ آئے گا۔ بعض لوگ اپنا اونٹ ذبح کر کے اس کے اوجھ سے پانی نکال کر نچوڑ کر پی لیتے اور جو کچھ باقی رہتا ‘ اس کو اپنے کلیجے پر رکھ لیتے۔ حضرت ابوبکر نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اللہ نے دعائے خیر کا آپ کو عادی بنا دیا ہے (یعنی آپ دعائے خیر کرتے ہی ہیں اور اللہ آپ کی دعا قبول فرماتا ہے) اللہ سے ہمارے لئے دعا کر دیجئے۔ حضور (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس کو پسند کرتے ہو ؟ حضرت ابوبکر نے عرض کیا : جی ہاں۔ حضور (ﷺ) نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دئیے اور لوٹا کر نیچے نہ لانے پائے تھے کہ بادل اٹھ کر (لشکر پر) چھا گیا۔ پھر اتنی بارش ہوئی کہ لوگوں کے پاس جو برتن تھے ‘ وہ سب بھر لئے۔ اس کے بعد جو ہم دیکھنے چلے (کہ کہاں کہاں بارش ہوئی) تو معلوم ہوا کہ لشکر سے آگے کہیں بارش نہیں ہوئی) ۔

ابن ابی حاتم نے حضرت ابو حرزہ انصاری کی روایت سے بیان کیا کہ لوگ (تبوک کے راستہ …

At-Tawba 9:117Listen in Qur'an →
118

وَعَلَى ٱلثَّلَٰثَةِ ٱلَّذِينَ خُلِّفُوا۟ حَتَّىٰٓ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ ٱلْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّوٓا۟ أَن لَّا مَلْجَأَ مِنَ ٱللَّهِ إِلَّآ إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب اُنہیں زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کے جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں۔ اور انہوں نے جان لیا کہ خدا (کے ہاتھ) سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

وعلی الثلثۃ الذین خلفوا اور ان تین شخصوں کے حال پر بھی توجہ فرمائی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا۔

عَلَی الثَّلٰثَۃِکا عطف عَلَیْھِمْ پر ہے۔ خُلِفُوْا کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود غزوۂ تبوک سے رہ گئے (رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ نہیں گئے) یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابو لبابہ اور ان کے ساتھیوں کی توبہ قبول ہونے سے پیچھے جن کا معاملہ چھوڑ دیا گیا ‘ ملتوی رکھا گیا۔ یہ تینوں حضرات کعب بن مالک ‘ شاعر مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تھے۔ یہ حضرات انصاری تھے۔

شیخین نے صحیحین میں اور امام احمد و ابن ابی شیبہ ‘ ابن اسحاق اور عبدالرزاق نے حضرت کعب بن مالک کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت کعب نے فرمایا : جس غزوہ پر بھی رسول اللہ (ﷺ) تشریف لے گئے ‘ میں کسی غزوہ میں حضور (ﷺ) کے ساتھ سے سوائے غزوۂ تبوک کے ‘ پیچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوۂ بدر میں ساتھ نہیں گیا تھا (اور بدر میں میرا شریک نہ ہونا قابل مؤاخذہ نہ تھا کیونکہ ) جو لوگ بدر کو نہ جاسکے ان میں سے کسی پر اللہ نے عتاب نہیں کیا۔ وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ (ﷺ) قریش کے قافلہ کے ارادہ سے نکلے تھے (لڑائی کا ارادہ ہی نہ تھا) لیکن بغیر کسی مقررہ وعدہ کے دشمن سے بحکم خدا مڈبھیڑ ہوگئی۔ میں عقبہ والی رات میں بھی حاضر تھا (یعنی تیسرے عقبہ کے موقع پر جب انصار نے بیعت کی تھی ‘ میں بھی موجود تھا) وہاں ہم سب نے اسلام پر مضبوط عہد و پیمان کیا تھا۔ اگرچہ لوگوں میں بدر کی شہرت زیادہ ہے لیکن شب عقبہ کی حاضری کے مقابلہ میں بدر کی شرکت میرے خیال میں افضل نہیں ہے۔

میرا واقعہ یہ ہوا کہ غزوۂ تبوک کے زمانہ میں میں بڑا طاقتور اور فراخ حال تھا ‘ اس سے پہلے کبھی میں اتنا مرفہ الحال اور طاقتور نہ ہوا۔ اس زمانہ میں پہلی ہی مرتبہ میرے پاس سواری کی دو اونٹنیاں ہوئیں ‘ اس سے پہلے میرے پاس کبھی دو سواریاں نہیں ہوئیں۔ رسول اللہ (ﷺ) کا قاعدہ تھا کہ جب کسی جہاد کا ارادہ کرتے تھے تو بطور توریہ کسی دوسرے جہاد کا نام لے دیتے تھے اور فرماتے تھے : لڑائی خفیہ تدبیر (کا نام) ہے۔ جب تبوک کے جہاد کا موقع آیا تو گرمی سخت تھی ‘ سفر طویل تھا ‘ راستہ میں بیابان تھے ‘ دشمنوں کی تعداد بہت تھی ‘ اسلئے رسول اللہ (ﷺ) نے مسلمانوں سے کھول کر بیان فرما دیا تھا اور اپنے رخ کی صحیح اطلاع دے دی تھی تاکہ اپنے جہاد کی تیاری کرلیں ۔ مسلمانوں کی تعداد رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ بہت تھی۔ بقول مسلم دس ہزار مسلمان ساتھ تھے۔ حاکم نے اکلیل میں حضرت معاذ کی روایت سے لکھا ہے کہ غزوۂ تبوک کو جانے کے وقت ہماری تعداد تیس ہزار سے بھی زائد تھی۔ ابو زرعہ نے کہا : کسی کتاب میں ان کے نام محفوظ نہ تھے۔ زہری نے کہا : کتاب سے مراد رجسٹر ہے۔ جو آدمی بھی غیر حاضر ہونا چاہتا تھا ‘ وہ یہی سمجھتا تھا کہ جب تک میرے بارے میں اللہ کی طرف سے وحی نہ آئے ‘ میرا معاملہ پوشیدہ ہے (کسی کو پتہ بھی نہ چلے گا) حضور (ﷺ) نے غزوۂ تبوک کا ارادہ ایسے وقت کیا جب پھل اور (درختوں کے) سائے خوشگوار ہوگئے تھے۔ حضور (ﷺ) اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے تیاریاں کرلیں اور جمعرات کے دن روانہ ہوگئے۔ آپ سفر پر خواہ جہاد کا ہو یا کسی اور غرض سے ‘ جمعرات کو روانہ ہونا ہی پسند فرماتے تھے۔ میں بھی (روزانہ) صبح کو تیاری کرنے کے ارادہ سے گھر سے نکلتا تھا مگر بغیر کچھ کئے واپس آجاتا تھا اور دل میں کہتا تھا : مجھ میں استطاعت ہے ‘ جب چاہوں گا فوراً کرلوں گا۔ یونہی وقت ٹلتا رہا ‘ یہاں تک کہ گرمی سخت ہوگئی اور رسول اللہ (ﷺ) مسلمانوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوگئے اور میں اپنی کچھ بھی تیاری نہ کرسکا اور دل میں خیال کرلیا کہ حضور (ﷺ) کے بعد ایک دو روز میں تیاری مکمل کر کے پیچھے سے جا پہنچوں گا۔ مسلمانوں کی روانگی کے بعد میں تیاری کرنے کیلئے صبح کو نکلا ‘ مگر بغیر کچھ کئے لوٹ آیا۔ پھر دوسرے روز صبح کو نکلا ‘ تب بھی کچھ نہیں کیا۔ اسی طرح مدت بڑھتی گئی ‘ …

At-Tawba 9:118Listen in Qur'an →
119

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَكُونُوا۟ مَعَ ٱلصَّٰدِقِينَ

اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ رہو

یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین۔ اے ایمان والو ! اللہ (کی نافرمانی اور عذاب) سے ڈرو اور رہو سچوں کے ساتھ۔ یعنی جو لوگ ایمان اور وعدوں میں سچے ہیں۔ یا وہ لوگ جو اسلام میں سچے ہیں ‘ نیت کے خلوص ‘ قول کی صداقت اور عمل کے اعتبار سے (گویا پہلے قول پر صدق سے مراد ہے ایمان اور وعدہ کی سچائی اور دوسرے قول پر مراد ہے نیت کا خلوص اور قول و عمل کی سچائی) مطلب یہ ہے کہ ہر چیز میں سچائی کو اختیار کرو اور سچائی کی پابندی کرو۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر نے فرمایا : یعنی محمد (ﷺ) اور آپ کے صحابہ کے ساتھ رہو جن کی نیتیں خالص ہیں ‘ دل بےلوث ہیں اور اعمال میں اخلاص ہے۔ اخلاص اور سچے ارادہ سے رسول اللہ (ﷺ) کے ہمرکاب تبوک کو نکلے ہیں۔ منافقوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے رسول اللہ (ﷺ) کا ساتھ نہیں دیا۔ حضرت سعید بن جبیر نے الصادقین کی تفسیر ابوبکر وعمر سے کی ‘ یعنی ابوبکر و عمر کے ساتھ رہو۔ ضحاک نے کہا : حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر اور ان حضرات کے ساتھیوں کے ساتھ رہنے کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب کے ساتھ رہو۔ سفیان ثوری نے فرمایا : یہ (اپنی طرف سے) تفسیری اختلاف ہے ‘ آیت ان سب تفسیروں کو شامل ہے۔ یہ بھی مراد ہے ‘ وہ بھی مراد ہے (کسی ایک کی تعیین نہیں) ۔

ابن جریج نے کہا : الصادقین سے مہاجرین مراد ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : لِلْفُقَرَاء الْمُھَاجِرِیْنَ ......... اُولٰٓءِکَ ھُمُ الصَّدِقُوْنَ (اس آیت میں مہاجرین کو ہی صادقین فرمایا ہے) ۔

بعض نے کہا : الصادقین سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے اپنے گناہ کا سچے دل سے اعتراف کرلیا ‘ جھوٹے عذر نہیں پیش کئے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : جھوٹ بولنا کسی طرح درست نہیں ‘ نہ مذاق میں نہ سنجیدہ کلام میں۔ کوئی شخص اپنے بچہ (کو بہلانے کیلئے اس) سے ایسا وعدہ نہ کرے جس کو پورا نہ کرے۔ اگر تم (اس قول کی) تصدیق چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو۔ پھر آپ نے آیت مندرجۂ بالا پڑھی :

At-Tawba 9:119Listen in Qur'an →
120

مَا كَانَ لِأَهْلِ ٱلْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ ٱلْأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُوا۟ عَن رَّسُولِ ٱللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا۟ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌۭ وَلَا نَصَبٌۭ وَلَا مَخْمَصَةٌۭ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَطَـُٔونَ مَوْطِئًۭا يَغِيظُ ٱلْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّۢ نَّيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِۦ عَمَلٌۭ صَٰلِحٌ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں ان کو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں خدا کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی، محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لیے عمل نیک لکھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

ما کان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ ولا یرغبوا بانفسھم عن نفسہ مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش رہتے ہیں ‘ ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ (ﷺ) کا ساتھ نہ دیں اور نہ یہ زیبا تھا کہ اپنی جانوں کو ان کی جانوں سے زیادہ عزیز سمجھیں۔

بظاہر الفاظ یہ کلام خبری ہے لیکن حقیقت میں نہی اور ممانعت ہے ‘ جیسے دوسری آیت آئی ہے : وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْل اللّٰہِ اَلْاَعْرَاب یعنی قبائل مزینہ ‘ جہنیہ ‘ اشجع ‘ اسلم ‘ غفار جو صحراء میں رہتے تھے (مدینہ کے اندر نہیں رہتے تھے) ۔

عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ کا یہ مطلب ہے کہ جب خود رسول اللہ (ﷺ) بنفس نفیس جہاد پر تشریف لے جائیں تو آپ کا ساتھ چھوڑ دینا اور ہمراہ نہ جانا جائز نہیں۔ وَلاَ یَرْغَبُوْا کا یہ مطلب ہے کہ جس جہاد سے رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے نفس کو الگ نہیں رکھا اس سے لوگ بھی اپنی جانوں کو الگ نہ رکھیں۔

ذلک بانھم لا یصیبھم ظمأ ولا نصب ولا مخمصۃ فی سبیل اللہ ولا یطؤن موطءًا یغیظ

الکفار ولا ینالون من عدو نیلاً الا کتب لھم بہ عمل صالح ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین یہ (ساتھ جانے کی ضرورت) اس سبب سے ہے کہ اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی اور جو ماندگی پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو چلنا چلے جو کفار کیلئے موجب غیظ ہوا اور دشمنوں کی جو کچھ خبر لی ‘ ان کے نام اس کی وجہ سے ایک ایک نیک کام لکھا گیا۔ یقیناً اللہ مخلصوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

ذٰلِکَ سے اشارہ حکم ممانعت کی طرف ہے جو اوپر کے کلام سے سمجھا جا رہا ہے۔ بِاَنَّھُمْ میں باء سببی ہے بسبب اس کے۔ ظمأ پیاس کی حقیر مقدار۔ نصبٌ تھکان۔ مَخْصَمَۃٌ بھوک۔ مَوْطِءًا مصدر ہے (تاکید فعل کیلئے) یا ظرف ہے ‘ یعنی وہ نہیں جائیں گے کسی زمین پر۔ نیلاً تاکہ کسی قسم کا قابو پائیں خواہ قتل کریں ‘ یا قید کریں ‘ یا لوٹیں ‘ یا مال غنیمت حاصل کریں۔ اِلاَّ کُتِبَیعنی وہ اس کی وجہ سے ثواب کے مستحق ہوجاتے ہیں اور یہ وعدہ چاہتا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ جائیں ‘ ہمراہ جانے سے منہ نہ موڑیں۔ اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَیہ جملہ گزشتہ حکم کی علت ہے اور اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ جہاد ایک بھلائی ہے (سب انسانوں کے حق میں) کافروں کے حق میں جہاد کا بھلائی ہونا تو اس وجہ سے ہے کہ کافروں کو دوزخ سے رہا کرانے اور ان کی انسانیت کو مکمل کرنے کی یہ انتہائی کوشش ہے ‘ جیسے پاگل کو مارنا (کبھی اس کیلئے علاج ہوتا ہے) اور بچہ کو ادب سکھانے کیلئے مارنا (اس کے حق میں بھلائی ہوتا ہے) مؤمنوں کے حق میں جہاد کی بھلائی یہ ہے کہ جہاد ہی کے ذریعے سے اہل ایمان کافروں کی چیرہ دستی ‘ اقتدار اور تسلط سے محفوظ رہتے ہیں۔ حضرت ابو عبس کی روایت ہے ‘ انہوں نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ (ﷺ) کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ کی راہ میں جس کے قدم گرد آلود ہوں گے ‘ اللہ نے اس کیلئے دوزخ حرام کردی ہے۔ رواہ البخاری فی الصحیح واحمد فی المسند والترمذی والنسائی۔

حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا جب تک جہاد سے واپس نہیں آتا ‘ اس کی حالت ایسی ہوتی ہے جیسے (ہر روز) روزہ رکھنے والا ‘ (رات) کو نماز پڑھنے والا ‘ اللہ کی آیات کی تلاوت کرنے والا جو روزہ نماز سے سست نہیں پڑتا ہو (چستی کے ساتھ برابر مشغول رہتا ہو) بغوی نے لکھا ہے : اس آیت کے حکم (کے عام یا خاص ‘ ہنگامی یا دوامی ہونے) میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔

قتادہ کا قول ہے : یہ حکم رسول اللہ (ﷺ) کے ہمراہ جانے کی صورت سے تعلق رکھتا ہے (عمومی نہیں ہے) جب رسول اللہ (ﷺ) خود جہاد پر تشریف لے جائیں تو کسی کیلئے بغیر (شرعی) عذر کے ساتھ نہ جانا جائز نہ تھا۔ دوسرے خلفاء اور حکام کے ساتھ جانے کا وجوبی حکم اس آیت میں نہیں ہے۔ اگر مسلمانوں کو جہاد کرنے کی ضرورت نہ ہو تو …

At-Tawba 9:120Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.