Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 91–100 of 129

91

لَّيْسَ عَلَى ٱلضُّعَفَآءِ وَلَا عَلَى ٱلْمَرْضَىٰ وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا۟ لِلَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۚ مَا عَلَى ٱلْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍۢ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر نہ ان پر جن کے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد نہ ہوں یعنی) جب کہ خدا اور اس کے رسول کے خیراندیش (اور دل سے ان کے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس لشکر میں خروج کا حکم اندھیرے کا سوٹا نہ تھا بلکہ اس میں معذوروں کا خیال رکھا گیا تھا۔ کیو کہ اسلام تو ایک معقول اور سہولت کا دین ہے۔ اس میں کسی سے اس کی استطاعت سے زیادہ کا مطالبہ نہیں ہوتا۔ لہذا معذوروں سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔

جو لوگ ضعیف ہیں ، بوڑھے ہیں ، معذور ہیں اور بیٹھے ہیں ان سے کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ وہ بیمار جو عارضی طور پر اس مہم میں شریک نہ ہوسکتے تھے ، قابل ملامت نہیں ہیں۔ وہ لوگ بھی معذور تصور ہوں گے جو سواری اور زاد راہ نہیں رکھتے۔ یہ لوگ اگر میدان معرکہ سے دور رہے تو ان کا کیا قصور ہے۔ لیکن ان کے دل اور ضمیر اور ان کے جذبات اللہ اور رسول کے ساتھ ہیں۔ ان لوگوں نے کسی بات کو چھپا نہیں رکھا ، دھوکہ نہیں کرتے اور مدینہ میں رہ کر وہ حفاظت ، چوکیداری اور دار الاسلام کی دوسری خدمات سر انجام دے رہے ہیں جو اسلامی ریاست کے لیے مفید اور ضروری ہیں۔ ایسے لوگ معذور ہونے کے ساتھ محسن بھی ہیں ان سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا اور نہ وہ قابل ملامت ہوں گے۔

92

وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ أَجِدُ مَآ أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا۟ وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا۟ مَا يُنفِقُونَ

اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے

اس طرح جنگی قوت رکھنے والے لیکن سواری نہ رکھنے والے بھی معذور ہوں گے جو پیادہ اس دور دراز سفر پر نہیں جاسکتے تھے۔ ایسے لوگ مجبوراً رہ گئے لیکن ان کے دل پھٹے جا رہے تھے اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے کہ وہ مجبوراً اس اعزاز سے محروم ہورہے ہیں۔

جہاد کی سچی چاہت کی یہ کس قدر اچھی تصویر کشی ہے۔ دلی رنج و الم کو کن خوبصورت الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔ رسول اللہ کے زمانے میں بعض عملی واقعات کی یہ اس آیت میں تصویر کھینچی گئی ہے۔ مختلف روایات میں مختلف فدایان اسلام کا ذکر ہے لیکن یہ سب اس آیت کا صحیح مصداق ہیں۔

وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ اِذَا مَآ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ۠ تَوَلَّوْا وَّاَعْيُنُهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَ : " اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود اگر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لیے سواریاں بہم پہنچائی جائیں ، اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواریوں کا انتطام نہیں کرسکتا تو وہ مجبوراً واپس گئے اور حال یہ تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریک جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے "

عوفی نے ابن عباس سے روایت کی ہے " یہ کہ رسول اللہ نے حکم دیا کہ لوگ آپ کے ساتھ جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ ایک جماعت آپ کے پاس آئی جن میں عبداللہ ابن مغفل ابن مقوی المازنی بھی تھا۔ تو انہوں نے مطالبہ کیا رسول خدا ہمیں سواری عنایت کیجیے ، تو حضور نے فرمایا خدا کی قسم میرے پاس کچھ نہیں ہے کہ میں تمہاری سواری کا بندوبست کروں۔ یہ لوگ واپس ہوئے اور ان کی آنکھوں سے انسو جاری تھے۔ ان کے لیے یہ بات بہت ہی گراں تھی کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ جائیں لیکن کوئی نفقہ اور سواری نہیں ہے۔ جب اللہ نے دیکھا کہ ان کو اللہ اور رسول اللہ سے کس قدر محبت ہے تو ان کے اعزاز میں یہ آیت نازل ہوئی۔

مجاہد کہتے ہیں کہ یہ مزینہ کے بنی مقرن کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ محمد ابن کعب فرماتے ہیں کہ یہ سات آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ بنی عمر ابن عوف کے سالم ابن عوف ، بنی وافق سے حری ابن عمر ، بنی مازن ابن نجار سے ، عبدالرحمن ابن کعب جس کی کنیت ابویعلی ہے ، بنی معلی سے فضل اللہ بنی سلمہ سے عمر ابن عتمہ اور عبداللہ ابن عمر المزنی۔

ابن اسحاق نے واقعات غزوہ تبوک میں کہا ہے " اس کے بعد مسلمانوں میں سے بعض لوگ رسول اللہ کے پاس آئے ، یہ لوگ انصار وغیرہ کے ساتھ آدمی تھے۔ بنی عمر ابن عوف سے سالم ابن عمیر اور علیہ ابن زید بنی حارثہ کے بھائی اور ابعیعلی عبدالرحمن ابن کعب بنی مازن کے بھائی اور عمرو بن حمام ابن جموح بنی سلمہ کے بھائی ، عبداللہ ابن مغل مزنی ، بعض نے اسے عبداللہ ابن عمر مزنی بتایا ہے۔ حرمی ابن عبداللہ ، بنی وافق کے بھائی اور عیاض ابن ساریہ الفزاری تو ان لوگوں نے رسول اللہ سے سواری کا مطالبہ کیا اور یہ لوگ فی الواقع غریب تھے تو حضور نے فرمایا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں کہ میں تمہاری سواری کا بندوبست کردوں۔ یہ لوگ واپس ہوگئے اور حال یہ تھا کہ آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ سواری نہ ملنے پر یہ لوگ دکھیا تھے۔

یہ روح اور جذبہ تھا جس کی وجہ سے اسلام غالب ہوا۔ اور ان قربانیوں کی وجہ سے اسلام کا جھنڈا بلند ہوا۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ان لوگوں کے مقابلے میں ہماری حالت کیا ہے۔ ہمیں اپنے جذبہ اسلام کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہمیں اگر کمزوری نر آئے تو ہمیں اللہ کے سامنے دست بدعا ہونا چاہیے کہ ہماری یہ کمزوری دور کردے۔ اور ہمیں اسلامی جہاد کے جذبے سے اس طرح سرشار کردے جس طرح صحابہ کرام تھے۔ واللہ المستعان۔

93

۞ إِنَّمَا ٱلسَّبِيلُ عَلَى ٱلَّذِينَ يَسْتَـْٔذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَآءُ ۚ رَضُوا۟ بِأَن يَكُونُوا۟ مَعَ ٱلْخَوَالِفِ وَطَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

الزام تو ان لوگوں پر ہے۔ جو دولت مند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہیں (یعنی) اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں۔ خدا نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ سمجھتے ہی نہیں

آیات 93 ۔۔۔ تا 96 ۔۔۔

پارہ 11 ایک نظر میں

یہ پارہ سورت توبہ کے بقیہ حصہ اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر تبصرہ اس کے آغاز میں ہوگا۔ ان شاء اللہ۔

سورت توبہ کے بارے میں بصرہ کرتے ہیں ہم نے چن دفقرے کہے تھے ، کہ اس سورت کا موضوع اور اس کے مضامین کی نوعیت کی ہے۔ پھر یہ کہ کن حالات میں اس کا نزول ہوا ، اور یہ کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کے دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات کی نوعیت کے تعین کے حوالے سے اس سورت کی اہمیت کیا ہے اور اس سوت سے اسلامی نظام کے قیام کے لیے جو تحریکی منہاج انقلاب سمجھ میں آتا ہے وہ کیا ہے۔ لہذا ان اہم فقرات کا یہاں دہرانا فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔

" یہ مدنی سورت ہے اور نزول قرآن کی آخری جھلکیاں اس میں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ اسے آخری قرآن نہیں کہہ سکتے۔ آخری جھلکیاں اس لیے کہ اس میں امت مسلمہ اور دوسری اقوام عالم کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کے ضوابط کو آخری شکل دی گئی ہے۔ نیز اس کے اندر خود اسلامی سوسائٹی کی تشکیل اس کی اقدار کا تعین ، اس میں مختلف طبقات کی قدروقیمت کا تعین اور مجموعی طور پر اس میں کسی اسلامی معاشرے کے بنیادی خدوخال کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں اپئے جانے والے تمام طبقات اور ان کے اوصاف کی بڑی گہری تصویر کشی کی گئی ہے۔

اس زاویہ سے یہ سورت توبہ بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں اسلامی نظام کے قیام کے منہاج کے تحریکی عمل کے کدوخال کو اور اس کے تمام مراحل کو بڑی تفصیل کے ساتھ متعین طور پر بیان کیا گیا ہے اس سلسلے میں اس موضوع پر اس سورت میں آخری اور فائنل احکام دیے گئے ہیں۔ اس جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منہاج کس قدر ٹھوس ہے اور کس قدر فیصلہ کن ہے۔ اس جائز کے بغیر احکام شریعت و قواعد شریعت کی اصل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اگر اس مجموعی جائزے کے بغیر آیات کو اپنے سیاق وسباق سے علیحدہ کرکے دیکھا جائے تو عبوری دور کے لیے جو احکام نازل ہوئے تھے وہ دائمی اور فائنل احکام نظر آئیں گے۔ اور پھر جو شخص چاہے ان آخری آیات و ہدایات کی تاویل کرکے بھی انہیں عبوری دور کے لیے آنے والے احکام کے تابع اور مطابق کردے۔ خصوصاً جہاد اسلامی موضوع رپ اس قسم کی مساعی عملاً بھی کی گئیں اور اسلامی معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں کے باہم تعلقات کے سلسلے میں بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا گیا۔

اس سورت کے تعارف میں ہم نے یہ بات بتائی تھی کہ باوجود اس کے کہ اس سورت کا موضوع ایک ہے اور وہ ایک جیسے حالات میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے کوئی حصے ہیں اور ہر حصے میں آخری اور فائنل احکام بیان کیے گئے ہیں۔

اس کے پہلے حصے میں کسی مسلم معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں اور حکومتوں کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے جبکہ دوسرے حصے میں مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے۔ تیسرے حصے میں ان لوگوں کے حالات پر تبصرہ ہے جنہیں غزوہ تبوک میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور انہوں نے اس فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی اور سستی کی تھی۔ یہ غزوہ ان اہل کتاب کے خلاف تھا جزیرۃ العرب کے مغربی کنارے پر بستے تھے اور جو اس نئی اسلامی مملکت پر فیصلہ کن وار کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے ، چوتھے حصے میں اسلامی معازشرے میں رہنے والے منافقین کی سازشوں اور کرتوتوں کو بےنقاب کیا گیا تھا۔ ان کی نفسیات اور عملی کیفیات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ نیز غزوہ تبوک سے قبل اس غزوے کے دوران اور اس کے بعد ان کے رویے کو قلم بند کرکے ان کی اصل نیتوں ، حیلہ سازیوں اور ان عذرات لنگ کی نقاب کشائی کی …

94

يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ ۚ قُل لَّا تَعْتَذِرُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا ٱللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ ۚ وَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُۥ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے تم کہنا کہ مت عذر کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے سب حالات بتا دیئے ہیں۔ اور ابھی خدا اور اس کا رسول تمہارے عملوں کو (اور) دیکھیں گے پھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا

آیات 93 ۔۔۔ تا 96 ۔۔۔

پارہ 11 ایک نظر میں

یہ پارہ سورت توبہ کے بقیہ حصہ اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر تبصرہ اس کے آغاز میں ہوگا۔ ان شاء اللہ۔

سورت توبہ کے بارے میں بصرہ کرتے ہیں ہم نے چن دفقرے کہے تھے ، کہ اس سورت کا موضوع اور اس کے مضامین کی نوعیت کی ہے۔ پھر یہ کہ کن حالات میں اس کا نزول ہوا ، اور یہ کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کے دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات کی نوعیت کے تعین کے حوالے سے اس سورت کی اہمیت کیا ہے اور اس سوت سے اسلامی نظام کے قیام کے لیے جو تحریکی منہاج انقلاب سمجھ میں آتا ہے وہ کیا ہے۔ لہذا ان اہم فقرات کا یہاں دہرانا فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔

" یہ مدنی سورت ہے اور نزول قرآن کی آخری جھلکیاں اس میں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ اسے آخری قرآن نہیں کہہ سکتے۔ آخری جھلکیاں اس لیے کہ اس میں امت مسلمہ اور دوسری اقوام عالم کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کے ضوابط کو آخری شکل دی گئی ہے۔ نیز اس کے اندر خود اسلامی سوسائٹی کی تشکیل اس کی اقدار کا تعین ، اس میں مختلف طبقات کی قدروقیمت کا تعین اور مجموعی طور پر اس میں کسی اسلامی معاشرے کے بنیادی خدوخال کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں اپئے جانے والے تمام طبقات اور ان کے اوصاف کی بڑی گہری تصویر کشی کی گئی ہے۔

اس زاویہ سے یہ سورت توبہ بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں اسلامی نظام کے قیام کے منہاج کے تحریکی عمل کے کدوخال کو اور اس کے تمام مراحل کو بڑی تفصیل کے ساتھ متعین طور پر بیان کیا گیا ہے اس سلسلے میں اس موضوع پر اس سورت میں آخری اور فائنل احکام دیے گئے ہیں۔ اس جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منہاج کس قدر ٹھوس ہے اور کس قدر فیصلہ کن ہے۔ اس جائز کے بغیر احکام شریعت و قواعد شریعت کی اصل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اگر اس مجموعی جائزے کے بغیر آیات کو اپنے سیاق وسباق سے علیحدہ کرکے دیکھا جائے تو عبوری دور کے لیے جو احکام نازل ہوئے تھے وہ دائمی اور فائنل احکام نظر آئیں گے۔ اور پھر جو شخص چاہے ان آخری آیات و ہدایات کی تاویل کرکے بھی انہیں عبوری دور کے لیے آنے والے احکام کے تابع اور مطابق کردے۔ خصوصاً جہاد اسلامی موضوع رپ اس قسم کی مساعی عملاً بھی کی گئیں اور اسلامی معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں کے باہم تعلقات کے سلسلے میں بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا گیا۔

اس سورت کے تعارف میں ہم نے یہ بات بتائی تھی کہ باوجود اس کے کہ اس سورت کا موضوع ایک ہے اور وہ ایک جیسے حالات میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے کوئی حصے ہیں اور ہر حصے میں آخری اور فائنل احکام بیان کیے گئے ہیں۔

اس کے پہلے حصے میں کسی مسلم معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں اور حکومتوں کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے جبکہ دوسرے حصے میں مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے۔ تیسرے حصے میں ان لوگوں کے حالات پر تبصرہ ہے جنہیں غزوہ تبوک میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور انہوں نے اس فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی اور سستی کی تھی۔ یہ غزوہ ان اہل کتاب کے خلاف تھا جزیرۃ العرب کے مغربی کنارے پر بستے تھے اور جو اس نئی اسلامی مملکت پر فیصلہ کن وار کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے ، چوتھے حصے میں اسلامی معازشرے میں رہنے والے منافقین کی سازشوں اور کرتوتوں کو بےنقاب کیا گیا تھا۔ ان کی نفسیات اور عملی کیفیات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ نیز غزوہ تبوک سے قبل اس غزوے کے دوران اور اس کے بعد ان کے رویے کو قلم بند کرکے ان کی اصل نیتوں ، حیلہ سازیوں اور ان عذرات لنگ کی نقاب کشائی کی …

95

سَيَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمْ إِذَا ٱنقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا۟ عَنْهُمْ ۖ فَأَعْرِضُوا۟ عَنْهُمْ ۖ إِنَّهُمْ رِجْسٌۭ ۖ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تو تمہارے روبرو خدا کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو سو اُن کی طرف التفات نہ کرنا۔ یہ ناپاک ہیں اور جو یہ کام کرتے رہے ہیں اس کے بدلہ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے

آیات 93 ۔۔۔ تا 96 ۔۔۔

پارہ 11 ایک نظر میں

یہ پارہ سورت توبہ کے بقیہ حصہ اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر تبصرہ اس کے آغاز میں ہوگا۔ ان شاء اللہ۔

سورت توبہ کے بارے میں بصرہ کرتے ہیں ہم نے چن دفقرے کہے تھے ، کہ اس سورت کا موضوع اور اس کے مضامین کی نوعیت کی ہے۔ پھر یہ کہ کن حالات میں اس کا نزول ہوا ، اور یہ کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کے دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات کی نوعیت کے تعین کے حوالے سے اس سورت کی اہمیت کیا ہے اور اس سوت سے اسلامی نظام کے قیام کے لیے جو تحریکی منہاج انقلاب سمجھ میں آتا ہے وہ کیا ہے۔ لہذا ان اہم فقرات کا یہاں دہرانا فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔

" یہ مدنی سورت ہے اور نزول قرآن کی آخری جھلکیاں اس میں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ اسے آخری قرآن نہیں کہہ سکتے۔ آخری جھلکیاں اس لیے کہ اس میں امت مسلمہ اور دوسری اقوام عالم کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کے ضوابط کو آخری شکل دی گئی ہے۔ نیز اس کے اندر خود اسلامی سوسائٹی کی تشکیل اس کی اقدار کا تعین ، اس میں مختلف طبقات کی قدروقیمت کا تعین اور مجموعی طور پر اس میں کسی اسلامی معاشرے کے بنیادی خدوخال کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں اپئے جانے والے تمام طبقات اور ان کے اوصاف کی بڑی گہری تصویر کشی کی گئی ہے۔

اس زاویہ سے یہ سورت توبہ بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں اسلامی نظام کے قیام کے منہاج کے تحریکی عمل کے کدوخال کو اور اس کے تمام مراحل کو بڑی تفصیل کے ساتھ متعین طور پر بیان کیا گیا ہے اس سلسلے میں اس موضوع پر اس سورت میں آخری اور فائنل احکام دیے گئے ہیں۔ اس جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منہاج کس قدر ٹھوس ہے اور کس قدر فیصلہ کن ہے۔ اس جائز کے بغیر احکام شریعت و قواعد شریعت کی اصل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اگر اس مجموعی جائزے کے بغیر آیات کو اپنے سیاق وسباق سے علیحدہ کرکے دیکھا جائے تو عبوری دور کے لیے جو احکام نازل ہوئے تھے وہ دائمی اور فائنل احکام نظر آئیں گے۔ اور پھر جو شخص چاہے ان آخری آیات و ہدایات کی تاویل کرکے بھی انہیں عبوری دور کے لیے آنے والے احکام کے تابع اور مطابق کردے۔ خصوصاً جہاد اسلامی موضوع رپ اس قسم کی مساعی عملاً بھی کی گئیں اور اسلامی معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں کے باہم تعلقات کے سلسلے میں بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا گیا۔

اس سورت کے تعارف میں ہم نے یہ بات بتائی تھی کہ باوجود اس کے کہ اس سورت کا موضوع ایک ہے اور وہ ایک جیسے حالات میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے کوئی حصے ہیں اور ہر حصے میں آخری اور فائنل احکام بیان کیے گئے ہیں۔

اس کے پہلے حصے میں کسی مسلم معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں اور حکومتوں کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے جبکہ دوسرے حصے میں مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے۔ تیسرے حصے میں ان لوگوں کے حالات پر تبصرہ ہے جنہیں غزوہ تبوک میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور انہوں نے اس فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی اور سستی کی تھی۔ یہ غزوہ ان اہل کتاب کے خلاف تھا جزیرۃ العرب کے مغربی کنارے پر بستے تھے اور جو اس نئی اسلامی مملکت پر فیصلہ کن وار کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے ، چوتھے حصے میں اسلامی معازشرے میں رہنے والے منافقین کی سازشوں اور کرتوتوں کو بےنقاب کیا گیا تھا۔ ان کی نفسیات اور عملی کیفیات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ نیز غزوہ تبوک سے قبل اس غزوے کے دوران اور اس کے بعد ان کے رویے کو قلم بند کرکے ان کی اصل نیتوں ، حیلہ سازیوں اور ان عذرات لنگ کی نقاب کشائی کی …

96

يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا۟ عَنْهُمْ ۖ فَإِن تَرْضَوْا۟ عَنْهُمْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ

یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہو جاؤ لیکن اگر تم اُن سے خوش ہو جاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا

آیات 93 ۔۔۔ تا 96 ۔۔۔

پارہ 11 ایک نظر میں

یہ پارہ سورت توبہ کے بقیہ حصہ اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر تبصرہ اس کے آغاز میں ہوگا۔ ان شاء اللہ۔

سورت توبہ کے بارے میں بصرہ کرتے ہیں ہم نے چن دفقرے کہے تھے ، کہ اس سورت کا موضوع اور اس کے مضامین کی نوعیت کی ہے۔ پھر یہ کہ کن حالات میں اس کا نزول ہوا ، اور یہ کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کے دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات کی نوعیت کے تعین کے حوالے سے اس سورت کی اہمیت کیا ہے اور اس سوت سے اسلامی نظام کے قیام کے لیے جو تحریکی منہاج انقلاب سمجھ میں آتا ہے وہ کیا ہے۔ لہذا ان اہم فقرات کا یہاں دہرانا فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔

" یہ مدنی سورت ہے اور نزول قرآن کی آخری جھلکیاں اس میں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ اسے آخری قرآن نہیں کہہ سکتے۔ آخری جھلکیاں اس لیے کہ اس میں امت مسلمہ اور دوسری اقوام عالم کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کے ضوابط کو آخری شکل دی گئی ہے۔ نیز اس کے اندر خود اسلامی سوسائٹی کی تشکیل اس کی اقدار کا تعین ، اس میں مختلف طبقات کی قدروقیمت کا تعین اور مجموعی طور پر اس میں کسی اسلامی معاشرے کے بنیادی خدوخال کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں اپئے جانے والے تمام طبقات اور ان کے اوصاف کی بڑی گہری تصویر کشی کی گئی ہے۔

اس زاویہ سے یہ سورت توبہ بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں اسلامی نظام کے قیام کے منہاج کے تحریکی عمل کے کدوخال کو اور اس کے تمام مراحل کو بڑی تفصیل کے ساتھ متعین طور پر بیان کیا گیا ہے اس سلسلے میں اس موضوع پر اس سورت میں آخری اور فائنل احکام دیے گئے ہیں۔ اس جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منہاج کس قدر ٹھوس ہے اور کس قدر فیصلہ کن ہے۔ اس جائز کے بغیر احکام شریعت و قواعد شریعت کی اصل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اگر اس مجموعی جائزے کے بغیر آیات کو اپنے سیاق وسباق سے علیحدہ کرکے دیکھا جائے تو عبوری دور کے لیے جو احکام نازل ہوئے تھے وہ دائمی اور فائنل احکام نظر آئیں گے۔ اور پھر جو شخص چاہے ان آخری آیات و ہدایات کی تاویل کرکے بھی انہیں عبوری دور کے لیے آنے والے احکام کے تابع اور مطابق کردے۔ خصوصاً جہاد اسلامی موضوع رپ اس قسم کی مساعی عملاً بھی کی گئیں اور اسلامی معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں کے باہم تعلقات کے سلسلے میں بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا گیا۔

اس سورت کے تعارف میں ہم نے یہ بات بتائی تھی کہ باوجود اس کے کہ اس سورت کا موضوع ایک ہے اور وہ ایک جیسے حالات میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے کوئی حصے ہیں اور ہر حصے میں آخری اور فائنل احکام بیان کیے گئے ہیں۔

اس کے پہلے حصے میں کسی مسلم معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں اور حکومتوں کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے جبکہ دوسرے حصے میں مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے۔ تیسرے حصے میں ان لوگوں کے حالات پر تبصرہ ہے جنہیں غزوہ تبوک میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور انہوں نے اس فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی اور سستی کی تھی۔ یہ غزوہ ان اہل کتاب کے خلاف تھا جزیرۃ العرب کے مغربی کنارے پر بستے تھے اور جو اس نئی اسلامی مملکت پر فیصلہ کن وار کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے ، چوتھے حصے میں اسلامی معازشرے میں رہنے والے منافقین کی سازشوں اور کرتوتوں کو بےنقاب کیا گیا تھا۔ ان کی نفسیات اور عملی کیفیات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ نیز غزوہ تبوک سے قبل اس غزوے کے دوران اور اس کے بعد ان کے رویے کو قلم بند کرکے ان کی اصل نیتوں ، حیلہ سازیوں اور ان عذرات لنگ کی نقاب کشائی کی …

97

ٱلْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًۭا وَنِفَاقًۭا وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوا۟ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام (شریعت) خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف (ہی) نہ ہوں۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

درس نمبر 93 ایک نظر میں

یہ سبق غزوہ تبوک سے قبل اسلامی معاشرے کے عناصر ترکیبی سے بحث کرتا ہے۔ نیز اس وقت اسلامی معاشرے میں جس قدر طبقات اہل ایمان شامل تھے۔ ان کی تفصیلات بتاتا ہے اور اس میں اسلامی معاشرے کی عضویاتی تشکیل سے بحث کی گئی ہے۔ مختلف طبقات کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور ان کے خدوخال بیان کیے گئے ہیں۔

اس سورت کے آغاز میں ہم نے تفصیل کے ساتھ بتایا تھا کہ وہ کیا تاریخی اسباب تھے جن کی وجہ سے اسلامی معاشرے میں اس قسم کے مختلف مزاج کے لوگ جمع ہوگئے تھے۔ یہاں مناسب ہے کہ چند پیرا گراف یہاں دوبارہ نقل کردیے جائیں تاکہ وہ حالات ذہن کے سامنے آجائیں جن سے اس وقت اسلامی معاشرہ گزر رہا تھا۔ جزیرۃ العرب میں اسلام کے پھیلاؤ کی راہ میں قریش ایک دیوار اور بند کی طرح کھڑے تھے ، کیونکہ دینی اور دنیاوی معاملات میں قریش کو ایک بڑا مقام حاصل تھا۔ پھر ادبی ، ثقافتی اور علمی و اقتصادی اعتبار سے بھی وہ دوسرے عربوں کے لیے قابل تقلید تھے۔ اس وجہ سے ان کا مقابلے پر اتر آنا اور اس دین کی راہ روک دینا اس بات کا باعث ہوا کہ تمام عرب نے اس دین سے منہ پھیرلیا اور اسلام میں داخل نہ ہوئے ، یا اگر انہوں نے صرف نظر نہ کیا تو کم از کم یہ صورت حالات ضرور تھی کہ لوگ تردد میں رہے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ انتظار کیا جائے ، تاکہ مسلمانوں اور قریش کی کشمکش کا کوئی فیصلہ ہوجائے۔ جب فتح مکہ کے بعد قریش سرنگوں ہوئے ہوازن و ثقیف بھی سرنگوں ہوگئے۔ مدینہ میں جو قوی یہودی قبائل تھے ، ان کی قوت اس سے پہلے ہی ٹوٹ گئی تھی۔ بنی قینقاع اور اور بنو نظیر شام کی طرف جلا وطن ہوگئے۔ بنو قریظہ بھی ختم ہوکر خیبر کا معاملہ بھی صاف ہوگیا تھا۔ ان واقعات کی وجہ سے اب پورے جزیرۃ العرب میں اسلام پھیل گیا اور لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہونے لگے اور صرف ایک سال کے عرصے میں لوگ دین اسلام میں داخل ہوگئے۔

اسلام کا گراف افقی طور پر بلند ہونے کی وجہ سے وہ کمزوریاں اسلامی صفوں میں در آئیں جو جنگ بدر کی حیران کن کامیابی کی وجہ سے آگئی تھی۔ اب یہ کمزوریاں بہت بڑے پیمانے پر تھیں۔ بدر الکبری کے بعد جو کمزور عناصر اسلامی صفوں میں در آئے تھے۔ ان کو تعلیم وتربیت کے ذریعے اس قدر پاک و صاف کردیا گیا کہ بدر الکبری کے بعد فتح مکہ تک سات سالوں میں قریب تھا کہ مدنی معاشرہ تمام کمزوریوں سے پاک ہوجائے اور اہل مدینہ اسلامی انقلاب کے لیے مضبوط بیس اور مضبوط بنیاد بن جائے۔ یہاں اولین ، مہاجرین و انصار کی ایسی ایسی جمعیت تیار بیٹھی تھی کہ وہ ہر وقت اسلامی نظام کے لیے امین تھی۔ اگر یہ جمعیت نہ ہوتی تو اس عظیم انقلاب کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا۔ لیکن بدر الکبری کے بعد اس جمعیت نے جو مہاجرین و انصار کے سابقین اولین پر مشتمل تھی اس عظیم انقلابی امانت کی مسلسل نگہبانی کی۔ ان سات سالوں میں اللہ تعالیٰ نے مدینہ طیبہ کی اس جمعیت کو اس کام کے لیے تیار کیا اور تربیت دی کہ یہ لوگ فتح عظیم کے بعد اسلام میں داخل ہونے والے انسانوں کے سیلاب کو کنٹرول کرسکیں۔ اللہ خوب جانتا تھا کہ وہ اپنی رسالت اور انقلابی رسالت کی حفاظت کا کام کس کے سپرد کرے۔

ان کمزوریوں کا سب سے پہلے ظہور یوم حنین میں ہوا۔ اس کا تذکرہ سورت توبہ میں ان الفاظ میں ہوا ہے :

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الأرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ (25) ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ (26): " اللہ اسے پہلے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد کرچکا ہے۔ ابھی غزوہ حنین کے روز۔ اس روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا …

98

وَمِنَ ٱلْأَعْرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغْرَمًۭا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ ٱلدَّوَآئِرَ ۚ عَلَيْهِمْ دَآئِرَةُ ٱلسَّوْءِ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ ان ہی پر بری مصیبت (واقع) ہو۔ اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

چونکہ اس سے پہلے کے پورے سبق میں منافقین مدینہ کا ذکر تھا اس لیے یہاں مومنین سے بھی پہلے منافقین کا ذکر کیا گیا تاکہ بدوی منافقین اور مدینہ کے منافقین کا ذکر ایک جگہ ہوجائے۔

ومن الاعراب من یتخذ ما ینفق مغرما " اور ان بدویوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو راہ خدا میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو اپنے اوپر زبردستی کی چٹی سمجھتے ہیں " اپنے ظاہری اعلان ایمان کی وجہ سے یہ لوگ مجبور ہیں کہ زکوۃ ادا کریں اور مسلمانوں کی جنگی مہمات کے لیے مالی امداد دیں کیونکہ اس ظاہر داری کے بغیر وہ اسلامی معاشرے میں پر امن زندگی کے ثمرات سے متمتع نہ ہوسکتے تھے۔ نیز مدینہ میں چونکہ اسلامی حکومت قائم تھی اور اس کے ساتھ بھی انہیں ہاں میں ہاں ملانا تھی۔ لیکن در حقیقت وہ ان تمام اخراجات کو زبردستی کی چٹی سمجھتے تھے ، وہ دل کی خوشی سے یہ اخراجات نہ کرتے تھے کیونکہ ان کو مسلمانوں کی فتح اور نصرت سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔

و یتربص بکم الدوائر " اور تمہارے حق میں زمانہ کی گردشون کا انتظار کر رہے ہیں تھے " وہ انتظار کرتے تھے کہ مسلمان کسی چکر میں پھسن جائیں اور ان کو شکست ہو اور ان کے غازی صحیح سلامت واپس نہ لوٹیں۔

ان یہاں ان کے حق میں اللہ کی جانب سے بد دعا آجاتی ہے۔ اللہ کی جانب سے بد دعا کا مفہوم تو یہ ہے کہ بددعا کا مفہوم عملاً ان پر واقعہ ہوجاتا ہے۔

علیہم دائرۃ السوء " حالانکہ بدی کا چکر ان پر مسلط ہے " گویا بدی ایک دائرہ ہے جس نے انہیں گھیرے میں لے لیا ہے ، اور اس سے وہ کسی طرح بچ کر نکل نہیں سکتے۔ وہ مکمل گھیرے میں ہیں۔ یہاں یہ معنی و مفہوم کو مجسم شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ یالی تجسیم ہے جس کے ذریعے مفہوم زیادہ موثر اور زندہ نظر آتا ہے ۔

واللہ سمیع علیم " اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے " یہاں اللہ کی صٖات سمع اور علم کو لایا گیا ہے ، جو زیر بحث صورت حال میں نہایت موزوں اور مناسب ہے۔ یہ لوگ دلوں میں خفیہ خواہشات بسائے اور چھپائے ہوے ہیں کہ کوئی مصیبت مسلمانوں پر نازل ہو ، نیز کفر کو چھپا کر ایمان کو ظاہر کر رہے تے اس لیے اللہ ان کی خفیہ باتوں کو سنتا ہے اور چھپائے ہوئے بھیدوں اور کفر کا علم رکھتا ہے۔ اور دوسرا گروہ جن کے دلوں کے اندر ایمان کی چمک پیدا ہوگئی :

99

وَمِنَ ٱلْأَعْرَابِ مَن يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَٰتٍ عِندَ ٱللَّهِ وَصَلَوَٰتِ ٱلرَّسُولِ ۚ أَلَآ إِنَّهَا قُرْبَةٌۭ لَّهُمْ ۚ سَيُدْخِلُهُمُ ٱللَّهُ فِى رَحْمَتِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قُربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دیکھو وہ بےشبہ ان کے لیے (موجب) قربت ہے خدا ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

اللہ پر ایمان اور جزائے یوم آخرت کی امیدواری کی وجہ سے یہ لوگ خرچ کرتے ہیں ، عوام الناس کے خوف کی وجہ سے نہیں اور نہ اہل اقتدار کو خوش کرنے کے لیے ۔ نہ ان لوگوں کے پیش نظر دنیا کا سود و زیاں ہے۔ بلکہ یہ فریق اللہ اور یوم آخرت پر پختہ ایمان رکھتا ہے اور جو کچھ خرچ کرتا ہے محض رضائے الہی کے لیے خرچ کرتا ہے۔ اور اس بات کا طلبگار ہے کہ رسول خدا ان کے حق میں دعائے خیر کردیں اور حضور کسی کے لیے تب ہی دعا کرتے ہیں جب وہ کسی سے راضی ہوں اور جب آپ کسی کے لیے دعا کردیں تو یقینی ہے کہ وہ شخص مفہوم دعا کو پا گیا۔ کیونکہ حضور کی دعا ہی ان کے ایمان ، بعد ، ایمان بالآخرت اور طلب رضائے الٰہی اور خلوص کی گارنٹی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ فوراً اعلان کردیا جاتا ہے کہ ایسے لوگو کی یہ سعی مشکور ہوئی۔

الا انہا قربۃ لہم " بیشک وہ ضرور ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے " اور ساتھ ہی یہ اعلان ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ مقصد کو پا گئے۔

سیدخلھم اللہ فی رحمتہ " اور اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا " یہاں قرآن کریم اللہ کی رحمت کو بھی مجسم شکل میں پیش کرتا ہے کہ وہ گویا ایک محل ہوگا جس میں یہ لوگ داخل ہوجائیں گے ، جس طرح اس سے قبل فریق مخالف کے ان منافقین اور کفار کے لیے مصیبت کو ایک دائرے کی شکل میں مجسم کرکے انہیں اس میں گھیرے ہوئے دکھایا تھا ، جو مسلمانوں کے لیے دل میں کینہ رکھتے تھے۔

ان اللہ غفور رحیم " یقینا اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے " وہ توبہ بھی قبول کرتا ہے ، نفقہ بھی قبول کرتا ہے ، اور جو تقصیرات اسلام کی راہ میں ہوگئی ہوں ان کو بھی معاف کرتا ہے اور جو رحمت کا طلبگا رہے اسے مایوس نہیں کرتا۔

100

وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلْأَوَّلُونَ مِنَ ٱلْمُهَٰجِرِينَ وَٱلْأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحْسَٰنٍۢ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى تَحْتَهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

بدوی معاشرے کے اس تجزیے کے بعد اب اگلی آیات میں اس وقت کے پورے اسلامی معاشرے کی پوزیشن کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں چار طبقات تھے۔ انصار و مہاجرین کے سابقین اولین مسلمان اور وہ لوگ جو صحیح معنوں میں ان کے متبع تھے۔ دوسرے وہ منافقین جو مدینہ کے باشندوں میں سے بھی تھے اور مدینہ کی اردگرد کی آبادیوں میں بھی پھیلے ہوئے تھے اور عمل نفاق میں خوب طاق ہوگئے تھے ، تیسرے وہ لوگ تھے جن کے کچھ کام اچھے تھے اور کچھ برے تھے اور چہارم وہ تھے جن کے بارے میں اللہ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ اس فیصلے کا انتظار تھا۔

پہلا گروہ : وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : " وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی ، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔ "

دوسرا گروہ : وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ړ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ : تمہارے گردوپیش میں جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے ، ہم انہیں جانتے ہیں۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزادیں گے ، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لئے واپس لائے جائیں گے۔

تیسرا گروہ : وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَـيِّـــًٔـا ۭعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْهِمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: کچھ اور لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا عمل مخلوط ہے ، کچھ نیک ہے اور کچھ بد۔ بعید نہیں کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہوجائے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اے نبی تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انہیں بڑھاؤ اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو ، کیوں کہ تمہاری دعا ان کے لئے وجہ تسکین ہوگی ، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی خیرات کو قبولیت عطا فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ بہت معاف کرنے والا اور رحیم ہے ؟ اور اے نبی تم ان لوگوں سے کہ دو کہ عمل کرو ، اللہ اور اس کا رسول اور مومنین سب دیکھیں گے کہ تمہارا طرز عمل اب کیا رہتا ہے ، پھر تم اس کی طرف پلٹائے جاؤگے جو کھلے اور چھپے سب کو جانتا ہے ، اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔

چوتھا گروہ : وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا يُعَذِّبُھُمْ وَاِمَّا يَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ: کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ ابھی خدا کے حکم پر ٹھرا ہوا ہے ، چاہے انہیں سزا دے اور چاہے ان پر ازسرنو مہربان ہوجائے۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم ودانا ہے۔

بظاہر یوں نظر آتا ہے کہ اس وقت کے اسلامی معاشرے کے عناصر ترکیبی پر یہ تبصرہ تبوک کی واپسی کے بعد اور لوگوں کے عذرات سننے کے بعد نازل ہوا۔ یہ عذرات ان منافقین نے بھی پیش کیے تھے جو اس غزوے کے باوجود تاکیدی حکم کے پیچھے رہ گئے تھے اور بعض مخلص مومنین نے بھی پیش کیے …

At-Tawba 9:100Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.