لَّيْسَ عَلَى ٱلضُّعَفَآءِ وَلَا عَلَى ٱلْمَرْضَىٰ وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا۟ لِلَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۚ مَا عَلَى ٱلْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍۢ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ
نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر نہ ان پر جن کے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد نہ ہوں یعنی) جب کہ خدا اور اس کے رسول کے خیراندیش (اور دل سے ان کے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
اور آئے بہانہ کرنے والے دیہاتیوں میں سے تاکہ اجازت دی جائے ان کواور بیٹھ گئے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اوراس کے رسول سے، عنقریب پہنچے گا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب بہت درد ناک(90) نہیں ہے ضعیفوں پر اورنہ بیماروں پر اور نہ اوپر ان لوگوں کے جو نہیں پاتے وہ چیز کہ خرچ کریں، کوئی گناہ (پیچھے رہنے میں) جبکہ خیر خواہی کرتے ہیں وہ اللہ کی اوراس کے رسول کی، نہیں ہے نیکی کرنے والوں پر(گرفت کرنے کی) کوئی راہ اوراللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(91) اورنہ ان لوگوں پر کہ جب آئے وہ آپ کے پاس تاکہ سواری دیں آپ انھیں تو آپ نے کہا، نہیں پاتا میں ایسی چیز کہ سوار کروں میں تم کو اس پر تو وہ لوٹے جبکہ ان کی آنکھیں بہتی تھیں آنسوؤں سے، اس غم سے کہ نہیں پاتے وہ، جو وہ خرچ کریں(92) بے شک (گرفت کی) راہ تو اوپر ان لوگوں کے ہے جو اجازت مانگتے ہیں آپ سے، حالانکہ وہ مال دار ہیں، وہ راضی ہوگئے اس بات پر کہ ہوجائیں وہ ساتھ پیچھے رہنے والی عورتوں کےاور مہر لگا دی اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں جانتے(93)
[90]﴿ وَجَآءَ الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠ مِنَ الۡاَعۡرَابِ لِيُؤۡذَنَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور آئے بہانے کرنے والے گنوار، تاکہ ان کو رخصت مل جائے‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے سستی کی اور جہاد کے لیے نکلنے سے قاصر رہے، اس لیے آئے کہ انھیں ترک جہاد کی اجازت مل جائے۔ انھیں اپنی جفا، عدم حیا اور اپنے کمزور ایمان کی بنا پر معذرت کرنے کی بھی پروا نہیں ... اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا، انھوں نے اعتذار کو بالکل ہی ترک کر دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠﴾ ’’عذر کرنے والے‘‘ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے اور وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ان کی معذرت قبول فرمائیں اور رسول اللہﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ عذر پیش کرنے والے کا عذر قبول فرما لیا کرتے تھے۔ ﴿وَقَعَدَ الَّذِيۡنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور بیٹھ رہے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اور اس کے رسول سے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے دعوائے ایمان میں ، جو جہاد کے لیے نکلنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ان کے عمل نہ کرنے میں ، اللہ اور رسول سے جھوٹ بولا، پھر ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اب پہنچے گا ان کو جو کافر ہیں ان میں دردناک عذاب‘‘ دنیا و آخرت میں ۔
[91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے معذرت پیش کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ ان کی دو قسمیں ہیں : (۱)جو شرعی طور پر معذور ہیں ۔(۲) جو شرعی طور پر غیر معذور ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے معذور لوگوں کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے ﴿ لَيۡسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ ﴾ ’’نہیں ہے (حرج)کمزوروں پر۔‘‘جو کمزور جسم اور کمزور نظر والے ہیں جو جہاد کے لیے باہر نکلنے اور دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔﴿ وَلَا عَلَى الۡمَرۡضٰى ﴾ ’’اور نہ بیماروں پر‘‘ یہ آیت ان تمام امراض کو شامل ہے جن کی بنا پر مریض جہاد اور قتال کے لیے باہر نہیں نکل سکتا، مثلاً: لنگڑا پن، اندھا پن، بخار، نمونیہ اور فالج وغیرہ۔ ﴿ وَلَا عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ مَا يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو نہیں ہے‘‘ یعنی ان کے پاس زاد راہ ہے نہ سواری جس کے ذریعے سے وہ تیزی سے سفر کر سکیں ۔ پس ان مذکورہ لوگوں کے لیے کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی رکھتے ہوں ، صادق الایمان ہوں ، ان کی نیت اور ان کا عزم یہ ہو کہ اگر وہ جہاد پر قادر ہوئے تو وہ ضرور جہاد کریں گے اور ایسے کام کرتے ہوں جن پر وہ قدرت رکھتے ہیں ، مثلاً: لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینا اور جہاد کے لیے ان کا حوصلہ بڑھانا۔ ﴿ مَا عَلَى الۡمُحۡسِنِيۡنَ مِنۡ …