Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 91–100 of 129

91

لَّيْسَ عَلَى ٱلضُّعَفَآءِ وَلَا عَلَى ٱلْمَرْضَىٰ وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا۟ لِلَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۚ مَا عَلَى ٱلْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍۢ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر نہ ان پر جن کے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد نہ ہوں یعنی) جب کہ خدا اور اس کے رسول کے خیراندیش (اور دل سے ان کے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

اور آئے بہانہ کرنے والے دیہاتیوں میں سے تاکہ اجازت دی جائے ان کواور بیٹھ گئے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اوراس کے رسول سے، عنقریب پہنچے گا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب بہت درد ناک(90) نہیں ہے ضعیفوں پر اورنہ بیماروں پر اور نہ اوپر ان لوگوں کے جو نہیں پاتے وہ چیز کہ خرچ کریں، کوئی گناہ (پیچھے رہنے میں) جبکہ خیر خواہی کرتے ہیں وہ اللہ کی اوراس کے رسول کی، نہیں ہے نیکی کرنے والوں پر(گرفت کرنے کی) کوئی راہ اوراللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(91) اورنہ ان لوگوں پر کہ جب آئے وہ آپ کے پاس تاکہ سواری دیں آپ انھیں تو آپ نے کہا، نہیں پاتا میں ایسی چیز کہ سوار کروں میں تم کو اس پر تو وہ لوٹے جبکہ ان کی آنکھیں بہتی تھیں آنسوؤں سے، اس غم سے کہ نہیں پاتے وہ، جو وہ خرچ کریں(92) بے شک (گرفت کی) راہ تو اوپر ان لوگوں کے ہے جو اجازت مانگتے ہیں آپ سے، حالانکہ وہ مال دار ہیں، وہ راضی ہوگئے اس بات پر کہ ہوجائیں وہ ساتھ پیچھے رہنے والی عورتوں کےاور مہر لگا دی اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں جانتے(93)

[90]﴿ وَجَآءَ الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠ مِنَ الۡاَعۡرَابِ لِيُؤۡذَنَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور آئے بہانے کرنے والے گنوار، تاکہ ان کو رخصت مل جائے‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے سستی کی اور جہاد کے لیے نکلنے سے قاصر رہے، اس لیے آئے کہ انھیں ترک جہاد کی اجازت مل جائے۔ انھیں اپنی جفا، عدم حیا اور اپنے کمزور ایمان کی بنا پر معذرت کرنے کی بھی پروا نہیں ... اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا، انھوں نے اعتذار کو بالکل ہی ترک کر دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠﴾ ’’عذر کرنے والے‘‘ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے اور وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ان کی معذرت قبول فرمائیں اور رسول اللہﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ عذر پیش کرنے والے کا عذر قبول فرما لیا کرتے تھے۔ ﴿وَقَعَدَ الَّذِيۡنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور بیٹھ رہے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اور اس کے رسول سے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے دعوائے ایمان میں ، جو جہاد کے لیے نکلنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ان کے عمل نہ کرنے میں ، اللہ اور رسول سے جھوٹ بولا، پھر ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اب پہنچے گا ان کو جو کافر ہیں ان میں دردناک عذاب‘‘ دنیا و آخرت میں ۔

[91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے معذرت پیش کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ ان کی دو قسمیں ہیں : (۱)جو شرعی طور پر معذور ہیں ۔(۲) جو شرعی طور پر غیر معذور ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے معذور لوگوں کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے ﴿ لَيۡسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ ﴾ ’’نہیں ہے (حرج)کمزوروں پر۔‘‘جو کمزور جسم اور کمزور نظر والے ہیں جو جہاد کے لیے باہر نکلنے اور دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔﴿ وَلَا عَلَى الۡمَرۡضٰى ﴾ ’’اور نہ بیماروں پر‘‘ یہ آیت ان تمام امراض کو شامل ہے جن کی بنا پر مریض جہاد اور قتال کے لیے باہر نہیں نکل سکتا، مثلاً: لنگڑا پن، اندھا پن، بخار، نمونیہ اور فالج وغیرہ۔ ﴿ وَلَا عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ مَا يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو نہیں ہے‘‘ یعنی ان کے پاس زاد راہ ہے نہ سواری جس کے ذریعے سے وہ تیزی سے سفر کر سکیں ۔ پس ان مذکورہ لوگوں کے لیے کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی رکھتے ہوں ، صادق الایمان ہوں ، ان کی نیت اور ان کا عزم یہ ہو کہ اگر وہ جہاد پر قادر ہوئے تو وہ ضرور جہاد کریں گے اور ایسے کام کرتے ہوں جن پر وہ قدرت رکھتے ہیں ، مثلاً: لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینا اور جہاد کے لیے ان کا حوصلہ بڑھانا۔ ﴿ مَا عَلَى الۡمُحۡسِنِيۡنَ مِنۡ …

92

وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ أَجِدُ مَآ أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا۟ وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا۟ مَا يُنفِقُونَ

اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے

اور آئے بہانہ کرنے والے دیہاتیوں میں سے تاکہ اجازت دی جائے ان کواور بیٹھ گئے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اوراس کے رسول سے، عنقریب پہنچے گا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب بہت درد ناک(90) نہیں ہے ضعیفوں پر اورنہ بیماروں پر اور نہ اوپر ان لوگوں کے جو نہیں پاتے وہ چیز کہ خرچ کریں، کوئی گناہ (پیچھے رہنے میں) جبکہ خیر خواہی کرتے ہیں وہ اللہ کی اوراس کے رسول کی، نہیں ہے نیکی کرنے والوں پر(گرفت کرنے کی) کوئی راہ اوراللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(91) اورنہ ان لوگوں پر کہ جب آئے وہ آپ کے پاس تاکہ سواری دیں آپ انھیں تو آپ نے کہا، نہیں پاتا میں ایسی چیز کہ سوار کروں میں تم کو اس پر تو وہ لوٹے جبکہ ان کی آنکھیں بہتی تھیں آنسوؤں سے، اس غم سے کہ نہیں پاتے وہ، جو وہ خرچ کریں(92) بے شک (گرفت کی) راہ تو اوپر ان لوگوں کے ہے جو اجازت مانگتے ہیں آپ سے، حالانکہ وہ مال دار ہیں، وہ راضی ہوگئے اس بات پر کہ ہوجائیں وہ ساتھ پیچھے رہنے والی عورتوں کےاور مہر لگا دی اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں جانتے(93)

[90]﴿ وَجَآءَ الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠ مِنَ الۡاَعۡرَابِ لِيُؤۡذَنَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور آئے بہانے کرنے والے گنوار، تاکہ ان کو رخصت مل جائے‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے سستی کی اور جہاد کے لیے نکلنے سے قاصر رہے، اس لیے آئے کہ انھیں ترک جہاد کی اجازت مل جائے۔ انھیں اپنی جفا، عدم حیا اور اپنے کمزور ایمان کی بنا پر معذرت کرنے کی بھی پروا نہیں ... اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا، انھوں نے اعتذار کو بالکل ہی ترک کر دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠﴾ ’’عذر کرنے والے‘‘ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے اور وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ان کی معذرت قبول فرمائیں اور رسول اللہﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ عذر پیش کرنے والے کا عذر قبول فرما لیا کرتے تھے۔ ﴿وَقَعَدَ الَّذِيۡنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور بیٹھ رہے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اور اس کے رسول سے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے دعوائے ایمان میں ، جو جہاد کے لیے نکلنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ان کے عمل نہ کرنے میں ، اللہ اور رسول سے جھوٹ بولا، پھر ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اب پہنچے گا ان کو جو کافر ہیں ان میں دردناک عذاب‘‘ دنیا و آخرت میں ۔

[91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے معذرت پیش کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ ان کی دو قسمیں ہیں : (۱)جو شرعی طور پر معذور ہیں ۔(۲) جو شرعی طور پر غیر معذور ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے معذور لوگوں کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے ﴿ لَيۡسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ ﴾ ’’نہیں ہے (حرج)کمزوروں پر۔‘‘جو کمزور جسم اور کمزور نظر والے ہیں جو جہاد کے لیے باہر نکلنے اور دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔﴿ وَلَا عَلَى الۡمَرۡضٰى ﴾ ’’اور نہ بیماروں پر‘‘ یہ آیت ان تمام امراض کو شامل ہے جن کی بنا پر مریض جہاد اور قتال کے لیے باہر نہیں نکل سکتا، مثلاً: لنگڑا پن، اندھا پن، بخار، نمونیہ اور فالج وغیرہ۔ ﴿ وَلَا عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ مَا يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو نہیں ہے‘‘ یعنی ان کے پاس زاد راہ ہے نہ سواری جس کے ذریعے سے وہ تیزی سے سفر کر سکیں ۔ پس ان مذکورہ لوگوں کے لیے کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی رکھتے ہوں ، صادق الایمان ہوں ، ان کی نیت اور ان کا عزم یہ ہو کہ اگر وہ جہاد پر قادر ہوئے تو وہ ضرور جہاد کریں گے اور ایسے کام کرتے ہوں جن پر وہ قدرت رکھتے ہیں ، مثلاً: لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینا اور جہاد کے لیے ان کا حوصلہ بڑھانا۔ ﴿ مَا عَلَى الۡمُحۡسِنِيۡنَ مِنۡ …

93

۞ إِنَّمَا ٱلسَّبِيلُ عَلَى ٱلَّذِينَ يَسْتَـْٔذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَآءُ ۚ رَضُوا۟ بِأَن يَكُونُوا۟ مَعَ ٱلْخَوَالِفِ وَطَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

الزام تو ان لوگوں پر ہے۔ جو دولت مند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہیں (یعنی) اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں۔ خدا نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ سمجھتے ہی نہیں

اور آئے بہانہ کرنے والے دیہاتیوں میں سے تاکہ اجازت دی جائے ان کواور بیٹھ گئے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اوراس کے رسول سے، عنقریب پہنچے گا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب بہت درد ناک(90) نہیں ہے ضعیفوں پر اورنہ بیماروں پر اور نہ اوپر ان لوگوں کے جو نہیں پاتے وہ چیز کہ خرچ کریں، کوئی گناہ (پیچھے رہنے میں) جبکہ خیر خواہی کرتے ہیں وہ اللہ کی اوراس کے رسول کی، نہیں ہے نیکی کرنے والوں پر(گرفت کرنے کی) کوئی راہ اوراللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(91) اورنہ ان لوگوں پر کہ جب آئے وہ آپ کے پاس تاکہ سواری دیں آپ انھیں تو آپ نے کہا، نہیں پاتا میں ایسی چیز کہ سوار کروں میں تم کو اس پر تو وہ لوٹے جبکہ ان کی آنکھیں بہتی تھیں آنسوؤں سے، اس غم سے کہ نہیں پاتے وہ، جو وہ خرچ کریں(92) بے شک (گرفت کی) راہ تو اوپر ان لوگوں کے ہے جو اجازت مانگتے ہیں آپ سے، حالانکہ وہ مال دار ہیں، وہ راضی ہوگئے اس بات پر کہ ہوجائیں وہ ساتھ پیچھے رہنے والی عورتوں کےاور مہر لگا دی اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں جانتے(93)

[90]﴿ وَجَآءَ الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠ مِنَ الۡاَعۡرَابِ لِيُؤۡذَنَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور آئے بہانے کرنے والے گنوار، تاکہ ان کو رخصت مل جائے‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے سستی کی اور جہاد کے لیے نکلنے سے قاصر رہے، اس لیے آئے کہ انھیں ترک جہاد کی اجازت مل جائے۔ انھیں اپنی جفا، عدم حیا اور اپنے کمزور ایمان کی بنا پر معذرت کرنے کی بھی پروا نہیں ... اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا، انھوں نے اعتذار کو بالکل ہی ترک کر دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠﴾ ’’عذر کرنے والے‘‘ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے اور وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ان کی معذرت قبول فرمائیں اور رسول اللہﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ عذر پیش کرنے والے کا عذر قبول فرما لیا کرتے تھے۔ ﴿وَقَعَدَ الَّذِيۡنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور بیٹھ رہے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اور اس کے رسول سے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے دعوائے ایمان میں ، جو جہاد کے لیے نکلنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ان کے عمل نہ کرنے میں ، اللہ اور رسول سے جھوٹ بولا، پھر ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اب پہنچے گا ان کو جو کافر ہیں ان میں دردناک عذاب‘‘ دنیا و آخرت میں ۔

[91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے معذرت پیش کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ ان کی دو قسمیں ہیں : (۱)جو شرعی طور پر معذور ہیں ۔(۲) جو شرعی طور پر غیر معذور ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے معذور لوگوں کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے ﴿ لَيۡسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ ﴾ ’’نہیں ہے (حرج)کمزوروں پر۔‘‘جو کمزور جسم اور کمزور نظر والے ہیں جو جہاد کے لیے باہر نکلنے اور دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔﴿ وَلَا عَلَى الۡمَرۡضٰى ﴾ ’’اور نہ بیماروں پر‘‘ یہ آیت ان تمام امراض کو شامل ہے جن کی بنا پر مریض جہاد اور قتال کے لیے باہر نہیں نکل سکتا، مثلاً: لنگڑا پن، اندھا پن، بخار، نمونیہ اور فالج وغیرہ۔ ﴿ وَلَا عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ مَا يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو نہیں ہے‘‘ یعنی ان کے پاس زاد راہ ہے نہ سواری جس کے ذریعے سے وہ تیزی سے سفر کر سکیں ۔ پس ان مذکورہ لوگوں کے لیے کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی رکھتے ہوں ، صادق الایمان ہوں ، ان کی نیت اور ان کا عزم یہ ہو کہ اگر وہ جہاد پر قادر ہوئے تو وہ ضرور جہاد کریں گے اور ایسے کام کرتے ہوں جن پر وہ قدرت رکھتے ہیں ، مثلاً: لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینا اور جہاد کے لیے ان کا حوصلہ بڑھانا۔ ﴿ مَا عَلَى الۡمُحۡسِنِيۡنَ مِنۡ …

94

يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ ۚ قُل لَّا تَعْتَذِرُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا ٱللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ ۚ وَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُۥ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے تم کہنا کہ مت عذر کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے سب حالات بتا دیئے ہیں۔ اور ابھی خدا اور اس کا رسول تمہارے عملوں کو (اور) دیکھیں گے پھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا

عذر پیش کریں گے وہ تمھارے سامنے جب لوٹو گے تم ان کی طرف ، فرما دیجیے! مت عذر پیش کرو، ہرگز نہیں یقین کریں گے ہم تمھارا، تحقیق خبر دار کر دیا ہے ہمیں اللہ نے تمھارے حالات سے اور عنقریب دیکھے گا اللہ تمھارے عمل کو اوراس کا رسول بھی، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی جو جاننے والا ہے چھپی اور کھلی بات کو، پس خبر دے گا وہ تمھیں ساتھ اس کے جو تھے تم عمل کرتے(94) عنقریب قسمیں کھائیں گے وہ اللہ کی تمھارے سامنے جب لوٹ کر جاؤ گے تم ان کی طرف تاکہ درگزر کرو تم ان سے، پس درگزر (ہی) کرو تم ان سے، یقینا وہ لوگ ناپاک ہیں اور ٹھکانا ان کا جہنم ہے بدلے میں ان کاموں کے جو تھے وہ کماتے(95) قسمیں کھائیں گے وہ تمھارے سامنے تاکہ تم راضی ہو جاؤ ان سے، سو اگر تم راضی بھی ہو جاؤ ا سے تو یقینا اللہ نہیں راضی ہو گا ان لوگوں سے جو فاسق ہیں (96)

[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے دولت مند منافقین کے پیچھے رہنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پیچھے رہنے کے لیے ان کے پاس کوئی عذر نہ تھا اور یہ بھی آگاہ فرمایا: ﴿ يَعۡتَذِرُوۡنَؔ اِلَيۡكُمۡ اِذَا رَجَعۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔‘‘ یعنی جب تم ان کے پاس اپنے غزوہ سے واپس لوٹو گے تو یہ منافقین تمھارے پاس معذرت کریں گے۔ ﴿ قُلۡ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ لَّا تَعۡتَذِرُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكُمۡ ﴾ ’’تم بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمھاری بات نہیں مانیں گے‘‘ یعنی ہم تمھاری جھوٹی معذرتوں کی تصدیق نہیں کریں گے۔ ﴿ قَدۡ نَبَّاَ نَا اللّٰهُ مِنۡ اَخۡبَارِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے ہمیں تمھارے حالات سے خبردار کر دیا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے قول میں سچا ہے اب معذرت پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ ایسی ایسی معذرتیں پیش کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو آگاہ فرمایا ہے وہ اس کے عین برعکس ہے اور یہ قطعاً محال ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے جھوٹ ہونے کی خبر دے رہا ہے وہ سچ ہو، اللہ تعالیٰ کی خبر تو صداقت کے بلند ترین مرتبے پر ہے۔ ﴿وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اللہ اور اس کا رسول تمھارے اعمال دیکھیں گے۔‘‘ یعنی دنیا میں کیونکہ عمل صداقت کی میزان ہے اور عمل کے ذریعے سے سچ اور جھوٹ میں امتیاز ہوتا ہے۔ رہے مجرد اقوال تو ان کی صداقت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ﴿ ثُمَّؔ تُرَدُّوۡنَؔ اِلٰى عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ﴾ ’’پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ جس سے کوئی چیز اوجھل نہیں ۔ ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمھیں بتائے گا۔‘‘ یعنی تم برا یا بھلا جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ فرمائے گا اور تم پر ذرہ بھر ظلم کیے بغیر اپنے عدل اور فضل سے تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔

[95]واضح رہے کہ برائی کا ارتکاب کرنے والے کے تین احوال ہیں :(۱)ظاہر اور باطن میں اس کی بات اور عذر کو قبول کیا جائے اور اس بنا پر اس کو معاف کر دیا جائے اور اس کی یہ حالت ہو جائے گویا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔(۲)اس کو سزا دی جائے اور اس کے گناہ پر فعلی تعزیر دی جائے۔(۳) گناہ کا ارتکاب کرنے والے سے اعراض کیا جائے اور اس نے جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس کے بدلے میں عقوبت فعلی سے گریز کیا جائے۔یہ تیسرا رویہ ہے جس کی بابت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ منافقین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿سَيَحۡلِفُوۡنَؔ بِاللّٰهِ لَكُمۡ اِذَا انۡقَلَبۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ لِتُعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ١ؕ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ﴾ ’’وہ تمھارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو، پس تم ان سے درگزر کرو۔‘‘ یعنی ان کو زجر و توبیخ کرو، نہ ان کو مارو پیٹو اور نہ ان کو قتل کرو ﴿ اِنَّهُمۡ رِجۡسٌ﴾ ’’وہ ناپاک ہیں ۔‘‘ …

95

سَيَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمْ إِذَا ٱنقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا۟ عَنْهُمْ ۖ فَأَعْرِضُوا۟ عَنْهُمْ ۖ إِنَّهُمْ رِجْسٌۭ ۖ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تو تمہارے روبرو خدا کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو سو اُن کی طرف التفات نہ کرنا۔ یہ ناپاک ہیں اور جو یہ کام کرتے رہے ہیں اس کے بدلہ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے

عذر پیش کریں گے وہ تمھارے سامنے جب لوٹو گے تم ان کی طرف ، فرما دیجیے! مت عذر پیش کرو، ہرگز نہیں یقین کریں گے ہم تمھارا، تحقیق خبر دار کر دیا ہے ہمیں اللہ نے تمھارے حالات سے اور عنقریب دیکھے گا اللہ تمھارے عمل کو اوراس کا رسول بھی، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی جو جاننے والا ہے چھپی اور کھلی بات کو، پس خبر دے گا وہ تمھیں ساتھ اس کے جو تھے تم عمل کرتے(94) عنقریب قسمیں کھائیں گے وہ اللہ کی تمھارے سامنے جب لوٹ کر جاؤ گے تم ان کی طرف تاکہ درگزر کرو تم ان سے، پس درگزر (ہی) کرو تم ان سے، یقینا وہ لوگ ناپاک ہیں اور ٹھکانا ان کا جہنم ہے بدلے میں ان کاموں کے جو تھے وہ کماتے(95) قسمیں کھائیں گے وہ تمھارے سامنے تاکہ تم راضی ہو جاؤ ان سے، سو اگر تم راضی بھی ہو جاؤ ا سے تو یقینا اللہ نہیں راضی ہو گا ان لوگوں سے جو فاسق ہیں (96)

[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے دولت مند منافقین کے پیچھے رہنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پیچھے رہنے کے لیے ان کے پاس کوئی عذر نہ تھا اور یہ بھی آگاہ فرمایا: ﴿ يَعۡتَذِرُوۡنَؔ اِلَيۡكُمۡ اِذَا رَجَعۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔‘‘ یعنی جب تم ان کے پاس اپنے غزوہ سے واپس لوٹو گے تو یہ منافقین تمھارے پاس معذرت کریں گے۔ ﴿ قُلۡ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ لَّا تَعۡتَذِرُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكُمۡ ﴾ ’’تم بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمھاری بات نہیں مانیں گے‘‘ یعنی ہم تمھاری جھوٹی معذرتوں کی تصدیق نہیں کریں گے۔ ﴿ قَدۡ نَبَّاَ نَا اللّٰهُ مِنۡ اَخۡبَارِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے ہمیں تمھارے حالات سے خبردار کر دیا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے قول میں سچا ہے اب معذرت پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ ایسی ایسی معذرتیں پیش کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو آگاہ فرمایا ہے وہ اس کے عین برعکس ہے اور یہ قطعاً محال ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے جھوٹ ہونے کی خبر دے رہا ہے وہ سچ ہو، اللہ تعالیٰ کی خبر تو صداقت کے بلند ترین مرتبے پر ہے۔ ﴿وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اللہ اور اس کا رسول تمھارے اعمال دیکھیں گے۔‘‘ یعنی دنیا میں کیونکہ عمل صداقت کی میزان ہے اور عمل کے ذریعے سے سچ اور جھوٹ میں امتیاز ہوتا ہے۔ رہے مجرد اقوال تو ان کی صداقت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ﴿ ثُمَّؔ تُرَدُّوۡنَؔ اِلٰى عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ﴾ ’’پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ جس سے کوئی چیز اوجھل نہیں ۔ ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمھیں بتائے گا۔‘‘ یعنی تم برا یا بھلا جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ فرمائے گا اور تم پر ذرہ بھر ظلم کیے بغیر اپنے عدل اور فضل سے تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔

[95]واضح رہے کہ برائی کا ارتکاب کرنے والے کے تین احوال ہیں :(۱)ظاہر اور باطن میں اس کی بات اور عذر کو قبول کیا جائے اور اس بنا پر اس کو معاف کر دیا جائے اور اس کی یہ حالت ہو جائے گویا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔(۲)اس کو سزا دی جائے اور اس کے گناہ پر فعلی تعزیر دی جائے۔(۳) گناہ کا ارتکاب کرنے والے سے اعراض کیا جائے اور اس نے جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس کے بدلے میں عقوبت فعلی سے گریز کیا جائے۔یہ تیسرا رویہ ہے جس کی بابت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ منافقین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿سَيَحۡلِفُوۡنَؔ بِاللّٰهِ لَكُمۡ اِذَا انۡقَلَبۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ لِتُعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ١ؕ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ﴾ ’’وہ تمھارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو، پس تم ان سے درگزر کرو۔‘‘ یعنی ان کو زجر و توبیخ کرو، نہ ان کو مارو پیٹو اور نہ ان کو قتل کرو ﴿ اِنَّهُمۡ رِجۡسٌ﴾ ’’وہ ناپاک ہیں ۔‘‘ …

96

يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا۟ عَنْهُمْ ۖ فَإِن تَرْضَوْا۟ عَنْهُمْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ

یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہو جاؤ لیکن اگر تم اُن سے خوش ہو جاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا

عذر پیش کریں گے وہ تمھارے سامنے جب لوٹو گے تم ان کی طرف ، فرما دیجیے! مت عذر پیش کرو، ہرگز نہیں یقین کریں گے ہم تمھارا، تحقیق خبر دار کر دیا ہے ہمیں اللہ نے تمھارے حالات سے اور عنقریب دیکھے گا اللہ تمھارے عمل کو اوراس کا رسول بھی، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی جو جاننے والا ہے چھپی اور کھلی بات کو، پس خبر دے گا وہ تمھیں ساتھ اس کے جو تھے تم عمل کرتے(94) عنقریب قسمیں کھائیں گے وہ اللہ کی تمھارے سامنے جب لوٹ کر جاؤ گے تم ان کی طرف تاکہ درگزر کرو تم ان سے، پس درگزر (ہی) کرو تم ان سے، یقینا وہ لوگ ناپاک ہیں اور ٹھکانا ان کا جہنم ہے بدلے میں ان کاموں کے جو تھے وہ کماتے(95) قسمیں کھائیں گے وہ تمھارے سامنے تاکہ تم راضی ہو جاؤ ان سے، سو اگر تم راضی بھی ہو جاؤ ا سے تو یقینا اللہ نہیں راضی ہو گا ان لوگوں سے جو فاسق ہیں (96)

[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے دولت مند منافقین کے پیچھے رہنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پیچھے رہنے کے لیے ان کے پاس کوئی عذر نہ تھا اور یہ بھی آگاہ فرمایا: ﴿ يَعۡتَذِرُوۡنَؔ اِلَيۡكُمۡ اِذَا رَجَعۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔‘‘ یعنی جب تم ان کے پاس اپنے غزوہ سے واپس لوٹو گے تو یہ منافقین تمھارے پاس معذرت کریں گے۔ ﴿ قُلۡ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ لَّا تَعۡتَذِرُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكُمۡ ﴾ ’’تم بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمھاری بات نہیں مانیں گے‘‘ یعنی ہم تمھاری جھوٹی معذرتوں کی تصدیق نہیں کریں گے۔ ﴿ قَدۡ نَبَّاَ نَا اللّٰهُ مِنۡ اَخۡبَارِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے ہمیں تمھارے حالات سے خبردار کر دیا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے قول میں سچا ہے اب معذرت پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ ایسی ایسی معذرتیں پیش کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو آگاہ فرمایا ہے وہ اس کے عین برعکس ہے اور یہ قطعاً محال ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے جھوٹ ہونے کی خبر دے رہا ہے وہ سچ ہو، اللہ تعالیٰ کی خبر تو صداقت کے بلند ترین مرتبے پر ہے۔ ﴿وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اللہ اور اس کا رسول تمھارے اعمال دیکھیں گے۔‘‘ یعنی دنیا میں کیونکہ عمل صداقت کی میزان ہے اور عمل کے ذریعے سے سچ اور جھوٹ میں امتیاز ہوتا ہے۔ رہے مجرد اقوال تو ان کی صداقت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ﴿ ثُمَّؔ تُرَدُّوۡنَؔ اِلٰى عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ﴾ ’’پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ جس سے کوئی چیز اوجھل نہیں ۔ ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمھیں بتائے گا۔‘‘ یعنی تم برا یا بھلا جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ فرمائے گا اور تم پر ذرہ بھر ظلم کیے بغیر اپنے عدل اور فضل سے تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔

[95]واضح رہے کہ برائی کا ارتکاب کرنے والے کے تین احوال ہیں :(۱)ظاہر اور باطن میں اس کی بات اور عذر کو قبول کیا جائے اور اس بنا پر اس کو معاف کر دیا جائے اور اس کی یہ حالت ہو جائے گویا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔(۲)اس کو سزا دی جائے اور اس کے گناہ پر فعلی تعزیر دی جائے۔(۳) گناہ کا ارتکاب کرنے والے سے اعراض کیا جائے اور اس نے جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس کے بدلے میں عقوبت فعلی سے گریز کیا جائے۔یہ تیسرا رویہ ہے جس کی بابت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ منافقین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿سَيَحۡلِفُوۡنَؔ بِاللّٰهِ لَكُمۡ اِذَا انۡقَلَبۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ لِتُعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ١ؕ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ﴾ ’’وہ تمھارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو، پس تم ان سے درگزر کرو۔‘‘ یعنی ان کو زجر و توبیخ کرو، نہ ان کو مارو پیٹو اور نہ ان کو قتل کرو ﴿ اِنَّهُمۡ رِجۡسٌ﴾ ’’وہ ناپاک ہیں ۔‘‘ …

97

ٱلْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًۭا وَنِفَاقًۭا وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوا۟ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام (شریعت) خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف (ہی) نہ ہوں۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

بدوی(دیہاتی) زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں اور زیادہ لائق ہیں اس بات کے کہ نہ جانیں وہ ان احکام کو جو نازل کیے اللہ نے اپنے رسول پراور اللہ خوب جاننے والا ، خوب حکمت والاہے(97) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو خیال کرتے ہیں اس کو ، جو وہ خرچ کرتے ہیں (اللہ کی راہ میں ) تاوان اور انتظار کرتے ہیں تم پر زمانے کی گردشوں کا، انھیں پر ہے گردش بری اور اللہ خوب سنتا جانتا ہے(98) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اللہ اور یوم آخرت کےاورخیال کرتے ہیں اس کو جو خرچ کرتے ہیں ( دین کے لیے) قربت کاذریعہ اللہ کے ہاں اور( ذریعہ) دعائیں لینے کا رسول کی، آگاہ رہو! یقینا یہ (خرچ کرنا) قربت کاذریعہ ہے ان کے لیے ، عنقریب داخل کرے گا ان کو اللہ اپنی رحمت میں ، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے(99)

[97] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَلۡاَعۡرَابُ ﴾ ’’بدوی‘‘ اس سے مراد صحرا اور دیہات میں رہنے والے لوگ ہیں ﴿ اَشَدُّ كُفۡرًا وَّنِفَاقًا ﴾’’زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں ۔‘‘ یعنی صحرا میں رہنے والوں میں شہر کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ کفر اور نفاق ہے جن میں نفاق کا مرض پایا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں ۔(۱) بدوی لوگ شریعت، اعمال اور احکام سے بہت دور ہوتے ہیں ۔ پس وہ اسی قابل ہوتے ہیں ﴿ وَّاَجۡدَرُ اَلَّا يَعۡلَمُوۡا حُدُوۡدَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ﴾ ’’اور اس قابل ہیں کہ جو احکام اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، ان سے واقف نہ ہوں ۔‘‘ یعنی جو احکام شریعت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، مثلاً: اصول ایمان اور اوامر و نواہی وغیرہ... ان سے واقف نہ ہوں ۔ اس کے برعکس شہر میں رہنے والے لوگ اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدود سے واقف ہوں جو اس نے اپنے رسولﷺ پر نازل فرمائی ہیں اور اس علم کے سبب سے ان میں خوبصورت تصورات اور نیکی کے ارادے جنم لیتے ہیں جن کے بارے میں یہ شہری لوگ جانتے ہیں ، بدوی ان کا علم نہیں رکھتے۔ (۲)شہریوں میں لطافت طبع پائی جاتی ہے اور ان میں داعی حق کی اطاعت کا جذبہ موجود ہوتا ہے جو بدویوں میں نہیں ہوتا۔(۳) شہری بدویوں کی نسبت اہل ایمان کے ساتھ زیادہ اٹھتے بیٹھتے اور ان کے ساتھ زیادہ اختلاط رکھتے ہیں ۔ بنا بریں وہ بدویوں کی نسبت بھلائی کے زیادہ اہل ہوتے ہیں ۔ ہر چند کہ کفار اور منافقین شہر اور دیہات دونوں جگہ پائے جاتے ہیں مگر دیہات میں شہر کی نسبت کفر و نفاق زیادہ شدید ہوتا ہے۔

[98](۴) بدوی مال و متاع کے زیادہ حریص ہوتے ہیں اور مال کے بارے میں ان میں زیادہ بخل پایا جاتا ہے۔بدویوں ہی میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ﴿ مَنۡ يَّؔتَّؔخِذُ مَا يُنۡفِقُ ﴾ ’’جو سمجھتے ہیں اس کو جسے وہ خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زکاۃ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کو ﴿ مَغۡرَمًا ﴾ ’’تاوان‘‘ یعنی خسارہ اور نقصان اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اخروی ثواب نہیں چاہتے اور بہت ناگواری سے زکاۃ و صدقات ادا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَّيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآىِٕرَ﴾ ’’اور انتظار کرتے ہیں وہ تم پر زمانے کی گردشوں کا‘‘ یعنی اہل ایمان کے ساتھ اپنے بغض اور عداوت کی بنا پر وہ تمھارے بارے میں گردش ایام اور مصائب زمانہ کے منتظر ہیں مگر یہ گردش ایام الٹا انھی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ﴿ عَلَيۡهِمۡ دَآىِٕرَةُ السَّوۡءِ ﴾ ’’یہ بری مصیبت انھی پر واقع ہوگی۔‘‘ رہے اہل ایمان تو ان کے لیے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی اور ان کا انجام اچھا ہے ﴿ وَ اللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ علم رکھنے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ وہ بندوں کی نیتوں کو خوب جانتا ہے اور بندوں سے جو اعمال اخلاص کے ساتھ اور اخلاص کے بغیر صادر ہوتے ہیں وہ ان سے بھی آگاہ ہے۔

[99] تمام اعراب قابل مذمت نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں ﴿مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ …

98

وَمِنَ ٱلْأَعْرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغْرَمًۭا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ ٱلدَّوَآئِرَ ۚ عَلَيْهِمْ دَآئِرَةُ ٱلسَّوْءِ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ ان ہی پر بری مصیبت (واقع) ہو۔ اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

بدوی(دیہاتی) زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں اور زیادہ لائق ہیں اس بات کے کہ نہ جانیں وہ ان احکام کو جو نازل کیے اللہ نے اپنے رسول پراور اللہ خوب جاننے والا ، خوب حکمت والاہے(97) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو خیال کرتے ہیں اس کو ، جو وہ خرچ کرتے ہیں (اللہ کی راہ میں ) تاوان اور انتظار کرتے ہیں تم پر زمانے کی گردشوں کا، انھیں پر ہے گردش بری اور اللہ خوب سنتا جانتا ہے(98) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اللہ اور یوم آخرت کےاورخیال کرتے ہیں اس کو جو خرچ کرتے ہیں ( دین کے لیے) قربت کاذریعہ اللہ کے ہاں اور( ذریعہ) دعائیں لینے کا رسول کی، آگاہ رہو! یقینا یہ (خرچ کرنا) قربت کاذریعہ ہے ان کے لیے ، عنقریب داخل کرے گا ان کو اللہ اپنی رحمت میں ، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے(99)

[97] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَلۡاَعۡرَابُ ﴾ ’’بدوی‘‘ اس سے مراد صحرا اور دیہات میں رہنے والے لوگ ہیں ﴿ اَشَدُّ كُفۡرًا وَّنِفَاقًا ﴾’’زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں ۔‘‘ یعنی صحرا میں رہنے والوں میں شہر کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ کفر اور نفاق ہے جن میں نفاق کا مرض پایا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں ۔(۱) بدوی لوگ شریعت، اعمال اور احکام سے بہت دور ہوتے ہیں ۔ پس وہ اسی قابل ہوتے ہیں ﴿ وَّاَجۡدَرُ اَلَّا يَعۡلَمُوۡا حُدُوۡدَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ﴾ ’’اور اس قابل ہیں کہ جو احکام اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، ان سے واقف نہ ہوں ۔‘‘ یعنی جو احکام شریعت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، مثلاً: اصول ایمان اور اوامر و نواہی وغیرہ... ان سے واقف نہ ہوں ۔ اس کے برعکس شہر میں رہنے والے لوگ اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدود سے واقف ہوں جو اس نے اپنے رسولﷺ پر نازل فرمائی ہیں اور اس علم کے سبب سے ان میں خوبصورت تصورات اور نیکی کے ارادے جنم لیتے ہیں جن کے بارے میں یہ شہری لوگ جانتے ہیں ، بدوی ان کا علم نہیں رکھتے۔ (۲)شہریوں میں لطافت طبع پائی جاتی ہے اور ان میں داعی حق کی اطاعت کا جذبہ موجود ہوتا ہے جو بدویوں میں نہیں ہوتا۔(۳) شہری بدویوں کی نسبت اہل ایمان کے ساتھ زیادہ اٹھتے بیٹھتے اور ان کے ساتھ زیادہ اختلاط رکھتے ہیں ۔ بنا بریں وہ بدویوں کی نسبت بھلائی کے زیادہ اہل ہوتے ہیں ۔ ہر چند کہ کفار اور منافقین شہر اور دیہات دونوں جگہ پائے جاتے ہیں مگر دیہات میں شہر کی نسبت کفر و نفاق زیادہ شدید ہوتا ہے۔

[98](۴) بدوی مال و متاع کے زیادہ حریص ہوتے ہیں اور مال کے بارے میں ان میں زیادہ بخل پایا جاتا ہے۔بدویوں ہی میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ﴿ مَنۡ يَّؔتَّؔخِذُ مَا يُنۡفِقُ ﴾ ’’جو سمجھتے ہیں اس کو جسے وہ خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زکاۃ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کو ﴿ مَغۡرَمًا ﴾ ’’تاوان‘‘ یعنی خسارہ اور نقصان اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اخروی ثواب نہیں چاہتے اور بہت ناگواری سے زکاۃ و صدقات ادا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَّيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآىِٕرَ﴾ ’’اور انتظار کرتے ہیں وہ تم پر زمانے کی گردشوں کا‘‘ یعنی اہل ایمان کے ساتھ اپنے بغض اور عداوت کی بنا پر وہ تمھارے بارے میں گردش ایام اور مصائب زمانہ کے منتظر ہیں مگر یہ گردش ایام الٹا انھی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ﴿ عَلَيۡهِمۡ دَآىِٕرَةُ السَّوۡءِ ﴾ ’’یہ بری مصیبت انھی پر واقع ہوگی۔‘‘ رہے اہل ایمان تو ان کے لیے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی اور ان کا انجام اچھا ہے ﴿ وَ اللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ علم رکھنے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ وہ بندوں کی نیتوں کو خوب جانتا ہے اور بندوں سے جو اعمال اخلاص کے ساتھ اور اخلاص کے بغیر صادر ہوتے ہیں وہ ان سے بھی آگاہ ہے۔

[99] تمام اعراب قابل مذمت نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں ﴿مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ …

99

وَمِنَ ٱلْأَعْرَابِ مَن يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَٰتٍ عِندَ ٱللَّهِ وَصَلَوَٰتِ ٱلرَّسُولِ ۚ أَلَآ إِنَّهَا قُرْبَةٌۭ لَّهُمْ ۚ سَيُدْخِلُهُمُ ٱللَّهُ فِى رَحْمَتِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قُربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دیکھو وہ بےشبہ ان کے لیے (موجب) قربت ہے خدا ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

بدوی(دیہاتی) زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں اور زیادہ لائق ہیں اس بات کے کہ نہ جانیں وہ ان احکام کو جو نازل کیے اللہ نے اپنے رسول پراور اللہ خوب جاننے والا ، خوب حکمت والاہے(97) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو خیال کرتے ہیں اس کو ، جو وہ خرچ کرتے ہیں (اللہ کی راہ میں ) تاوان اور انتظار کرتے ہیں تم پر زمانے کی گردشوں کا، انھیں پر ہے گردش بری اور اللہ خوب سنتا جانتا ہے(98) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اللہ اور یوم آخرت کےاورخیال کرتے ہیں اس کو جو خرچ کرتے ہیں ( دین کے لیے) قربت کاذریعہ اللہ کے ہاں اور( ذریعہ) دعائیں لینے کا رسول کی، آگاہ رہو! یقینا یہ (خرچ کرنا) قربت کاذریعہ ہے ان کے لیے ، عنقریب داخل کرے گا ان کو اللہ اپنی رحمت میں ، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے(99)

[97] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَلۡاَعۡرَابُ ﴾ ’’بدوی‘‘ اس سے مراد صحرا اور دیہات میں رہنے والے لوگ ہیں ﴿ اَشَدُّ كُفۡرًا وَّنِفَاقًا ﴾’’زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں ۔‘‘ یعنی صحرا میں رہنے والوں میں شہر کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ کفر اور نفاق ہے جن میں نفاق کا مرض پایا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں ۔(۱) بدوی لوگ شریعت، اعمال اور احکام سے بہت دور ہوتے ہیں ۔ پس وہ اسی قابل ہوتے ہیں ﴿ وَّاَجۡدَرُ اَلَّا يَعۡلَمُوۡا حُدُوۡدَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ﴾ ’’اور اس قابل ہیں کہ جو احکام اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، ان سے واقف نہ ہوں ۔‘‘ یعنی جو احکام شریعت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، مثلاً: اصول ایمان اور اوامر و نواہی وغیرہ... ان سے واقف نہ ہوں ۔ اس کے برعکس شہر میں رہنے والے لوگ اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدود سے واقف ہوں جو اس نے اپنے رسولﷺ پر نازل فرمائی ہیں اور اس علم کے سبب سے ان میں خوبصورت تصورات اور نیکی کے ارادے جنم لیتے ہیں جن کے بارے میں یہ شہری لوگ جانتے ہیں ، بدوی ان کا علم نہیں رکھتے۔ (۲)شہریوں میں لطافت طبع پائی جاتی ہے اور ان میں داعی حق کی اطاعت کا جذبہ موجود ہوتا ہے جو بدویوں میں نہیں ہوتا۔(۳) شہری بدویوں کی نسبت اہل ایمان کے ساتھ زیادہ اٹھتے بیٹھتے اور ان کے ساتھ زیادہ اختلاط رکھتے ہیں ۔ بنا بریں وہ بدویوں کی نسبت بھلائی کے زیادہ اہل ہوتے ہیں ۔ ہر چند کہ کفار اور منافقین شہر اور دیہات دونوں جگہ پائے جاتے ہیں مگر دیہات میں شہر کی نسبت کفر و نفاق زیادہ شدید ہوتا ہے۔

[98](۴) بدوی مال و متاع کے زیادہ حریص ہوتے ہیں اور مال کے بارے میں ان میں زیادہ بخل پایا جاتا ہے۔بدویوں ہی میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ﴿ مَنۡ يَّؔتَّؔخِذُ مَا يُنۡفِقُ ﴾ ’’جو سمجھتے ہیں اس کو جسے وہ خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زکاۃ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کو ﴿ مَغۡرَمًا ﴾ ’’تاوان‘‘ یعنی خسارہ اور نقصان اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اخروی ثواب نہیں چاہتے اور بہت ناگواری سے زکاۃ و صدقات ادا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَّيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآىِٕرَ﴾ ’’اور انتظار کرتے ہیں وہ تم پر زمانے کی گردشوں کا‘‘ یعنی اہل ایمان کے ساتھ اپنے بغض اور عداوت کی بنا پر وہ تمھارے بارے میں گردش ایام اور مصائب زمانہ کے منتظر ہیں مگر یہ گردش ایام الٹا انھی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ﴿ عَلَيۡهِمۡ دَآىِٕرَةُ السَّوۡءِ ﴾ ’’یہ بری مصیبت انھی پر واقع ہوگی۔‘‘ رہے اہل ایمان تو ان کے لیے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی اور ان کا انجام اچھا ہے ﴿ وَ اللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ علم رکھنے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ وہ بندوں کی نیتوں کو خوب جانتا ہے اور بندوں سے جو اعمال اخلاص کے ساتھ اور اخلاص کے بغیر صادر ہوتے ہیں وہ ان سے بھی آگاہ ہے۔

[99] تمام اعراب قابل مذمت نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں ﴿مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ …

100

وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلْأَوَّلُونَ مِنَ ٱلْمُهَٰجِرِينَ وَٱلْأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحْسَٰنٍۢ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى تَحْتَهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

اور سبقت کرنے والے( قبول اسلام میں ) سب سے پہلے مہاجرین اور انصار میں سے اور وہ لوگ جنھوں نے اتباع کیا ان کا ساتھ احسان کے، راضی ہو گیا اللہ ان سے اور وہ راضی ہو گئے اللہ سے اور تیار کیے ہیں اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات کہ بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک ، یہی ہے کامیابی بہت بڑی(100)

[100]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴾ ’’جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلے‘‘ اس سے مراد اس امت کے وہ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان، ہجرت، جہاد اور اقامت دین میں سبقت کی۔ ﴿ مِنَ الۡمُهٰؔجِرِيۡنَ ﴾ ’’ہجرت کرنے والوں میں سے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو ان کے گھروں اور مال و متاع سے بے دخل کر کے نکال دیا گیا، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رضا کی تلاش میں رہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں ۔ یہی درحقیقت سچے لوگ ہیں ۔ ﴿ وَالۡاَنۡصَارِ ﴾ ’’اور انصار میں سے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے مہاجرین سے پہلے، ہجرت کے گھر (یعنی مدینہ منورہ)اور ایمان میں جگہ پکڑی، جو کوئی ہجرت کر کے ان کے پاس جاتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو عطا کیا گیا ہے وہ اس کے متعلق دل میں کوئی خلش نہیں پاتے اور مہاجرین کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی کیوں نہ ہو۔﴿ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِـاِحۡسَانٍ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی پیروی کی نیکی کے ساتھ‘‘ جنھوں نے عقائد، اقوال اور اعمال میں ان مہاجرین و انصار کی پیروی کی، یہی وہ لوگ ہیں جو مذمت سے بچے ہوئے ہیں ، جنھیں مدح کا بلند ترین درجہ اور اللہ کی طرف سے کرامت کا افضل ترین مقام حاصل ہے۔ ﴿ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اللہ ان سے راضی ہو گیا‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی رضا جنت کی نعمتوں سے بھی بڑی ہے۔ ﴿ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔‘‘ بہنے والی وہ نہریں جو جنت، جنت کی خوبصورت پھلواریوں اور جنت کے عمدہ باغات کو سیراب کرتی ہیں ۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا﴾’’ہمیشہ اس میں رہیں گے ابد تک۔‘‘ یعنی وہ اس جنت سے کسی اور جگہ منتقل ہونا چاہیں گے نہ اس کو بدلنا کیونکہ وہ جب بھی کسی چیز کی تمنا کریں گے اس کو حاصل کر لیں گے اور جب بھی کسی چیز کا ارادہ کریں گے اس کو موجود پائیں گے۔﴿ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی ہے بڑی کامیابی۔‘‘ جہاں انھیں ان کے نفس کی ہر محبوب چیز، روح کی لذت، دلوں کی نعمت اور بدن کی شہوت حاصل ہوگی اور بچنے کے قابل ہر چیز کو ان سے دور رکھا جائے گا۔

At-Tawba 9:100Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.