Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 61–70 of 129

61

وَمِنْهُمُ ٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ ٱلنَّبِىَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌۭ ۚ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍۢ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ ۚ وَٱلَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لیے۔ وہ خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے عذاب الیم (تیار) ہے

زکوۃ و صدقات کے اصول وضع کرنے کے بعد ، اور ان کے مصارف کی نشاندہی کے بعد اب سیاق کلام پھر منافقین کے اعمال و افعال کی طرف مڑ جاتا ہے اور یہاں آیت صدقات کو اس لیے لایا گیا کہ جو لوگ تقسیم صدقات کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ پر نکتہ چینی کرتے تھے ان کے موقف کی کمزوری واضح ہوجائے۔

وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ وَيَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ: " ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو اپنی باتوں سے نبی کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے۔ "

یہ رسول اللہ کے بارے میں سوٗ ادب ، ایک صرح گستاخی ، معلوم ہوتا ہے کہ یہ گستاخی صدقات کے معاملے کے علاوہ ہے۔ یہ دیکھتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ لوگوں کی باتیں کس قدر سلیقے ، شرافت اور سنجیدگی کے ساتھ سنتے ہیں اور یہ کہ حضور ﷺ شریعت کے قانون کے مطابق لوگوں کی ظاہری حالت کے مطابق ان سے معاملہ کرتے تھے۔ لوگوں کی طرف اچھی طرح متوجہ ہوتے تھے اور ان کے ساتھ دل کھول کر بات فرماتے تھے۔ لیکن ان نکتہ چینی کرنے والوں نے حضور کی اس شائستگی کو آپ کی کمزوری سے تعبیر کیا اور اچھائی کو برائی کہہ دیا۔ کہنے لگے کہ حضور کان کے کچے ہیں۔ یعنی ہر کسی کی بات سنتے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ کوئی آپ سے جھوٹ کہے ، دھوکہ دے اور چرب لسانی سے کام نکالے اور آپ بات کو سمجھ نہ سکیں۔ وہ یہ باتیں اپنی اس خام خیالی کی وجہ سے کہتے تھے کہ حضور ان کے معاملے کو کسی طرح کھول سکتے ہیں یا یہ کہ حضور ان کے نفاق کو کس ذریعے سے معلوم کرلیں گے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان منافقین کے اعمال و اقوال کے بارے میں مخلص مومنین آپ کو جو اطلاعات فراہم کرتے تے اور آپ ان پر یقین کرتے تھے تو یہ لوگ اس صورت حال پر نکتہ چینی کرتے تھے۔ اس آیت کے سبب نزول کے سلسلے میں اس قسم کی بعض روایات بھی وارد ہیں۔ یہ دونوں امر یہاں اس آیت کا پس منظفر ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ دونوں امر منافقین میں موجود تھے۔

قرآن کریم پہلے ان کا قول نقل کرتا ہے : " یقولون ھو اذن " (کہتے ہیں کہ یہ شخص کان کا کچا ہے ہاں یہ درست ہے لیکن کہو تمہارے بھلائی کے لیے ایسا ہے) کیا اس میں تمہاری بھلائی نہیں ہے کہ وہ غور سے وحی سنتا ہے اور پھر تم تک اسے پہنچاتا ہے جس میں تمہاری بھلائی ہے اور تمہاری اصلاح ہے۔ پھر کان کا کچا ہونا تمہارے لیے یوں بھی بہتر ہے کہ تمہاری بات کو غور سے سنتا ہے اور شرافت سے سنتا ہے اور تمہیں یہ تاثر نہیں دیتا کہ تم و منافق ہو۔ یہ اشارہ بھی نہیں دیتا کہ تم دھوکہ دیتے ہو اور تم اس کے جو ریاکارانہ برتاؤ کرتے ہو جانتے ہوئے بھی وہ تمہاری سرزنش نہیں کرتا۔

یومن باللہ (وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے) اور اللہ تعالیٰ اس کو تمہارے بارے میں جو اطلاع دیتا ہے اس پر اسے پور پورا یقین ہے۔ دوسرے لوگوں کے بارے میں اس کو جو اطلاع دی جاتی ہے ، اس پر بھی اسے یقین ہے)

و یومن للمومنین (اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے) وہ پورے اطمینان سے ان کی باتوں کو سچ تسلیم کرتا ہے۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ وہ سچے مسلمان ہیں اور ان کا ایمان اس قدر مضبوط ہے کہ جھوٹ ، ریاکاری اور بہانہ سازی سے انہیں روکتا ہے۔

ورحمۃ للذین امنوا (اور تم میں سے ایماندار لوگوں کے لیے سراسر رحمت ہے) اس لیے کہ اللہ غیور ہے۔ وہ کس طرح برداشت کرسکتا ہے کہ لوگ اس کے رسول کو اذیت دیں حالانکہ وہ ان تک اللہ کا پیغام پہنچانے والا ہے۔

62

يَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَحَقُّ أَن يُرْضُوهُ إِن كَانُوا۟ مُؤْمِنِينَ

مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کر دیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اس کے پیغمبر خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں

یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھا کر تم کو راضی کرنا چاہتے ہیں اور منافقین کا ہر دور میں یہی وطیرہ رہا ہے۔ یہ لوگ ہمیشہ کہتے کچھ ین اور کرتے کچھ ہیں۔ سامنے ان کا رویہ اور ہوتا ہے اور پیٹھ پیچھے ان کا رویہ اور ہوتا ہے۔ پھر ایک وقت یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ مومنین صادقین کے ساتھ آنکھیں بھی نہیں ملا سکتے۔ نہ ان کے ساتھ بات کرسکتے ہیں چناچہ پھر وہ قسموں کا سہارا لے کر چاپلوسی اور ذلت اختیار کرکے لوگوں کی رضامندی حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ، اگر یہ سچے مومن ہیں تو اللہ و رسول اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں۔ کیونکہ لوگوں کا مقام ہی کیا ہے ؟ لوگوں کی حیثیت ہی کیا ہے ؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ پر ایمان نہیں لاتا اور اس کے سامنے نہیں جھکتا ، وہ لوگوں پر ایمان لاتا ہے اور اپنے جیسے انسان سے ڈرتا ہے۔ ان کے لیے بہتر تو یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ کے سامنے سرنگوں ہوتے جو سب کا خدا ہے۔ اس میں ان کے لیے کوئی ذلت نہیں ہے۔ ذلت تو اس میں ہے کہ کوئی اپنے جیسے انسان کے سامنے جھکے جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے۔ وہ جھوٹا نہیں ہوتا بلکہ جو شخص اللہ کے سوا دوسروں سے ڈرتا ہے وہ جھوٹا ہوتا ہے۔

63

أَلَمْ يَعْلَمُوٓا۟ أَنَّهُۥ مَن يُحَادِدِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَأَنَّ لَهُۥ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدًۭا فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْخِزْىُ ٱلْعَظِيمُ

کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے

یہ استفہام انکار ہے اور مخاطبین کو جھڑکنا اور متنبہ کرنا مطلوب ہے کہ یہ لوگ دعائے ایمان کرتے ہیں اور پھر بھی اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ محاربت اور جنگ کرتے ہیں۔ لہذا انہیں معلوم ہونا چاہی کہ اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ جنگ کرنا ایک عظیم گناہ ہے اور جو شخص اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ دشنی رکھتا ہے ، جہنم اس کے انتظار میں ہے۔ اور ان کے اس غرور اور سرکشی کے بدلے انہیں ذلت اور رسوائی کی سزا دی جائے گی۔ اگر وہ سچے مومن ہیں جیسا کہ وہ دعوائے ایمان کرتے ہیں تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس حقیقت سے بیخبر ہوں۔

یہ اللہ کے بندوں سے تو ڈرتے ہیں اور ڈر کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ ان کو راضی کریں اور ان خبروں کی تردید کریں جو ان بندوں تک ان کی بابت پہنچ رہی ہیں۔ لیکن یہ بات حیرت انگیز ہے کہ وہ خالق کائنات سے نہیں ڈرتے کہ اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں اور اس کے دین کی دشمنی کرتے ہیں۔ گویا وہ اللہ سے لڑتے ہیں اور اس کی طاقت اس قدر برتر ہے کہ اس سے کوئی نہیں لڑ سکتا۔ بلکہ وہ شرمناک گناہ کا ارتکاب کرتے اور یہ ایک عظیم غلطی ہے جو یہ کر رہے ہیں اور یہ بات ان کے لیے بہت ہی خطرناک ہے کہ وہ دین کے خلاف سازشیں کریں اور رسول اللہ کو اذیت دیں۔

یہ لوگ بزدل اس قدر ہیں کہ یہ دین اور اہل دین اور رسول اللہ کے مقابلے میں کھل کر نہیں آسکتے۔ پھر یہ اس سے بھی ڈرتے ہیں کہ اللہ ان کے راز اہل ایمان پر بھی کھول نہ دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولسم کو ان کی خفیہ نیتوں سے مطلع نہ کردیا جائے۔

64

يَحْذَرُ ٱلْمُنَٰفِقُونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌۭ تُنَبِّئُهُم بِمَا فِى قُلُوبِهِمْ ۚ قُلِ ٱسْتَهْزِءُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ مُخْرِجٌۭ مَّا تَحْذَرُونَ

منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر) پر کہیں کوئی ایسی سورت (نہ) اُتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو ان (مسلمانوں) پر ظاہر کر دے۔ کہہ دو کہ ہنسی کئے جاؤ۔ جس بات سے تم ڈرتے ہو خدا اس کو ضرور ظاہر کردے گا

یحذر المنافقون ۔۔۔ کانوا مجرمین (آیت 64 تا 66) یہ آیات تمام منافقین کے عمومی رویے پر تبصرہ ہے کہ وہ اس بات سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے دلوں میں جو کھوٹ ہے اس کے بارے میں کہیں آیات نازل نہ ہوجائیں۔ اور ان کی دلی کیفیات کا انکشاف نہ ہوجائے۔ ان کے راز لوگوں پر کھل نہ جائیں۔ اس موضوع پر کئی روایات میں متعدد واقعات متعین طور پر بھی نقل ہوئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول یہ خاص واقعات ہیں۔

ابو معشر مدینی نے محمد ابن کعب قرظی سے روایت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ منافقین میں سے ایک شخص نے یہ کہا کہ میرے خیال میں ہم سے جو لوگ زیادہ قرآن پڑھتے ہیں وہ ہم سے پیٹ کے بارے میں زیادہ لالچی ہیں اور بات میں ہم سے زیادہ جھوٹے ہیں اور جنگ کے وقت بزدل ہیں (ان کا تبصرہ ان لوگوں کے بارے میں تھا جو قاری قرآن تھے) یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی۔ تو یہ منافق رسول اللہ کے پاس پہنچا۔ اس وقت رسول اللہ سفر پر روانہ ہونے کے لیے ناقہ پر سوار ہوگے تھے۔ اس منافق نے کہا رسول خدا ہم تو گپ شپ لگا رہے تھے۔ تو حضور نے فرمایا کیا تم اللہ ، اس کی آیات اور اس کے رسول کی بابت گپ شپ لگا رہے تھے۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں قل اباللہ تا کانوا مجرمین اس شخص کے پاؤں پتھر پر رگڑے جا رہے تھے اور رسول اللہ اس کی طرف دیکھ بھی نہ رہے تھے اور یہ شخص رسول اللہ کی تلوار کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ محمد ابن اسحاق نے یہ نقل کیا ہے کہ منافقین کی ایک جماعت تھی جن میں ودیعہ ابن ثابت بنی امیہ کے بھائی ، ولد زید ولد عمرو ، ولد عوف تھے اور ایک شخص مخشی ابن حمیر بھی تھا جو اشجع قبیلے کا فرد تھا اور اشجع بنی سلمہ کا حلیف تھا۔ یہ جماعت حضور کے ساتھ تبوک کی طرف جا رہی تھی۔ ان میں سے بعض نے دوسروں سے کہا کیا تم سمجھتے ہو کہ رومی اس طرح لڑتے ہیں جس طرح عرب عربوں کے ساتھ لڑتے ہیں ؟ خدا کی قسم ہم تو دیکھتے ہیں کہ کل ہم رسیوں میں بندھے ہوں گے۔ یہ لوگ اہل ایمان کے اندر خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کہتے تھے۔ اس موقع پر مخشی ابن حمیر نے کہا خدا کی قسم میں تو اپنے لی یہ سزا تجویز کرتا ہوں کہ ہم میں ہر شخص کو سو کوڑے مارے جائیں مگر ہمارے بارے میں تمہاری ان باتوں کی وجہ سے قرآن مجید نازل نہ ہوجائے ، مجھ تک جو اطلاعات بھی پہنچی ہیں ، ان میں یہ بھی ہے کہ حضور نے عمار ابن یاسر کو حکم دیا کہ ان لوگوں کی مدد کو ہنچو یہ تو جہنم رسید ہوگئے ہیں۔ اور ان سے پوچھو کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔ اگر وہ انکار کردیں تو پھر بتا دو کہ تم نے تو یہ کہا تھا۔ عمار ان تک گئے اور ان سے یہ بات کی۔ یہ لوگ رسول اللہ کے پاس آئے اور معذرت کرنے لگے۔ رسول اللہ اپنی سواری پر بیٹھ چکے تھے اور ودیعہ ابن ثابت پہنچے۔ اس نے سواری کا کجاوا پکڑآ ہوا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ہم تو گپ شپ لگا رہے تھے۔ مخشی ابن حمیر نے رسول اللہ سے کہا فعد بی اسمی اور اسم ابی چناچہ اس آیت میں جسے معافی ملی وہ مخشی ابن حمیر تھے۔ بعد اس نے اپنا نام عبدالرحمن رکھ دیا تھا۔ اور اس نے خدا سے سوال کیا تھا کہ وہ خدا کی راہ میں اس طرح شہید ہوں کہ اس کا نام و نشان بھی معلوم نہ ہو۔ چناچہ یمامہ کی جنگ میں وہ شہید ہوا اور اس کا کوئی اتا پتا نہ ملا۔

ابن منذر ، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ غزوہ تبوک کے لیے پا بہ رکاب تھے کہ آپ کے ساتھ ایک گروہ منافقین بھی تھا۔ جنہوں نے کہا : کیا یہ شخص یہ امید لگائے بیٹھا کہ شام کے محلات اور قلعے اس کے لیے کھل جائیں گے۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اللہ نے حضور کو اس کی اطلاع دے دی تو حضور نے حکم دیا کہ ان لوگوں کی سواریوں کو روک دو ۔ حضور نے ان لوگوں سے جا کر دریافت کیا کہ کیا تم نے یہ کہا ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ہم تو ہنسی مذاق کر رہے تے تو ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔

ہم ہنسی مذاق کر رہے تھے یعنی جن موضوعات پر وہ …

65

وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ۚ قُلْ أَبِٱللَّهِ وَءَايَٰتِهِۦ وَرَسُولِهِۦ كُنتُمْ تَسْتَهْزِءُونَ

اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے

یحذر المنافقون ۔۔۔ کانوا مجرمین (آیت 64 تا 66) یہ آیات تمام منافقین کے عمومی رویے پر تبصرہ ہے کہ وہ اس بات سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے دلوں میں جو کھوٹ ہے اس کے بارے میں کہیں آیات نازل نہ ہوجائیں۔ اور ان کی دلی کیفیات کا انکشاف نہ ہوجائے۔ ان کے راز لوگوں پر کھل نہ جائیں۔ اس موضوع پر کئی روایات میں متعدد واقعات متعین طور پر بھی نقل ہوئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول یہ خاص واقعات ہیں۔

ابو معشر مدینی نے محمد ابن کعب قرظی سے روایت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ منافقین میں سے ایک شخص نے یہ کہا کہ میرے خیال میں ہم سے جو لوگ زیادہ قرآن پڑھتے ہیں وہ ہم سے پیٹ کے بارے میں زیادہ لالچی ہیں اور بات میں ہم سے زیادہ جھوٹے ہیں اور جنگ کے وقت بزدل ہیں (ان کا تبصرہ ان لوگوں کے بارے میں تھا جو قاری قرآن تھے) یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی۔ تو یہ منافق رسول اللہ کے پاس پہنچا۔ اس وقت رسول اللہ سفر پر روانہ ہونے کے لیے ناقہ پر سوار ہوگے تھے۔ اس منافق نے کہا رسول خدا ہم تو گپ شپ لگا رہے تھے۔ تو حضور نے فرمایا کیا تم اللہ ، اس کی آیات اور اس کے رسول کی بابت گپ شپ لگا رہے تھے۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں قل اباللہ تا کانوا مجرمین اس شخص کے پاؤں پتھر پر رگڑے جا رہے تھے اور رسول اللہ اس کی طرف دیکھ بھی نہ رہے تھے اور یہ شخص رسول اللہ کی تلوار کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ محمد ابن اسحاق نے یہ نقل کیا ہے کہ منافقین کی ایک جماعت تھی جن میں ودیعہ ابن ثابت بنی امیہ کے بھائی ، ولد زید ولد عمرو ، ولد عوف تھے اور ایک شخص مخشی ابن حمیر بھی تھا جو اشجع قبیلے کا فرد تھا اور اشجع بنی سلمہ کا حلیف تھا۔ یہ جماعت حضور کے ساتھ تبوک کی طرف جا رہی تھی۔ ان میں سے بعض نے دوسروں سے کہا کیا تم سمجھتے ہو کہ رومی اس طرح لڑتے ہیں جس طرح عرب عربوں کے ساتھ لڑتے ہیں ؟ خدا کی قسم ہم تو دیکھتے ہیں کہ کل ہم رسیوں میں بندھے ہوں گے۔ یہ لوگ اہل ایمان کے اندر خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کہتے تھے۔ اس موقع پر مخشی ابن حمیر نے کہا خدا کی قسم میں تو اپنے لی یہ سزا تجویز کرتا ہوں کہ ہم میں ہر شخص کو سو کوڑے مارے جائیں مگر ہمارے بارے میں تمہاری ان باتوں کی وجہ سے قرآن مجید نازل نہ ہوجائے ، مجھ تک جو اطلاعات بھی پہنچی ہیں ، ان میں یہ بھی ہے کہ حضور نے عمار ابن یاسر کو حکم دیا کہ ان لوگوں کی مدد کو ہنچو یہ تو جہنم رسید ہوگئے ہیں۔ اور ان سے پوچھو کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔ اگر وہ انکار کردیں تو پھر بتا دو کہ تم نے تو یہ کہا تھا۔ عمار ان تک گئے اور ان سے یہ بات کی۔ یہ لوگ رسول اللہ کے پاس آئے اور معذرت کرنے لگے۔ رسول اللہ اپنی سواری پر بیٹھ چکے تھے اور ودیعہ ابن ثابت پہنچے۔ اس نے سواری کا کجاوا پکڑآ ہوا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ہم تو گپ شپ لگا رہے تھے۔ مخشی ابن حمیر نے رسول اللہ سے کہا فعد بی اسمی اور اسم ابی چناچہ اس آیت میں جسے معافی ملی وہ مخشی ابن حمیر تھے۔ بعد اس نے اپنا نام عبدالرحمن رکھ دیا تھا۔ اور اس نے خدا سے سوال کیا تھا کہ وہ خدا کی راہ میں اس طرح شہید ہوں کہ اس کا نام و نشان بھی معلوم نہ ہو۔ چناچہ یمامہ کی جنگ میں وہ شہید ہوا اور اس کا کوئی اتا پتا نہ ملا۔

ابن منذر ، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ غزوہ تبوک کے لیے پا بہ رکاب تھے کہ آپ کے ساتھ ایک گروہ منافقین بھی تھا۔ جنہوں نے کہا : کیا یہ شخص یہ امید لگائے بیٹھا کہ شام کے محلات اور قلعے اس کے لیے کھل جائیں گے۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اللہ نے حضور کو اس کی اطلاع دے دی تو حضور نے حکم دیا کہ ان لوگوں کی سواریوں کو روک دو ۔ حضور نے ان لوگوں سے جا کر دریافت کیا کہ کیا تم نے یہ کہا ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ہم تو ہنسی مذاق کر رہے تے تو ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔

ہم ہنسی مذاق کر رہے تھے یعنی جن موضوعات پر وہ …

66

لَا تَعْتَذِرُوا۟ قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَٰنِكُمْ ۚ إِن نَّعْفُ عَن طَآئِفَةٍۢ مِّنكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِأَنَّهُمْ كَانُوا۟ مُجْرِمِينَ

بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں

یحذر المنافقون ۔۔۔ کانوا مجرمین (آیت 64 تا 66) یہ آیات تمام منافقین کے عمومی رویے پر تبصرہ ہے کہ وہ اس بات سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے دلوں میں جو کھوٹ ہے اس کے بارے میں کہیں آیات نازل نہ ہوجائیں۔ اور ان کی دلی کیفیات کا انکشاف نہ ہوجائے۔ ان کے راز لوگوں پر کھل نہ جائیں۔ اس موضوع پر کئی روایات میں متعدد واقعات متعین طور پر بھی نقل ہوئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول یہ خاص واقعات ہیں۔

ابو معشر مدینی نے محمد ابن کعب قرظی سے روایت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ منافقین میں سے ایک شخص نے یہ کہا کہ میرے خیال میں ہم سے جو لوگ زیادہ قرآن پڑھتے ہیں وہ ہم سے پیٹ کے بارے میں زیادہ لالچی ہیں اور بات میں ہم سے زیادہ جھوٹے ہیں اور جنگ کے وقت بزدل ہیں (ان کا تبصرہ ان لوگوں کے بارے میں تھا جو قاری قرآن تھے) یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی۔ تو یہ منافق رسول اللہ کے پاس پہنچا۔ اس وقت رسول اللہ سفر پر روانہ ہونے کے لیے ناقہ پر سوار ہوگے تھے۔ اس منافق نے کہا رسول خدا ہم تو گپ شپ لگا رہے تھے۔ تو حضور نے فرمایا کیا تم اللہ ، اس کی آیات اور اس کے رسول کی بابت گپ شپ لگا رہے تھے۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں قل اباللہ تا کانوا مجرمین اس شخص کے پاؤں پتھر پر رگڑے جا رہے تھے اور رسول اللہ اس کی طرف دیکھ بھی نہ رہے تھے اور یہ شخص رسول اللہ کی تلوار کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ محمد ابن اسحاق نے یہ نقل کیا ہے کہ منافقین کی ایک جماعت تھی جن میں ودیعہ ابن ثابت بنی امیہ کے بھائی ، ولد زید ولد عمرو ، ولد عوف تھے اور ایک شخص مخشی ابن حمیر بھی تھا جو اشجع قبیلے کا فرد تھا اور اشجع بنی سلمہ کا حلیف تھا۔ یہ جماعت حضور کے ساتھ تبوک کی طرف جا رہی تھی۔ ان میں سے بعض نے دوسروں سے کہا کیا تم سمجھتے ہو کہ رومی اس طرح لڑتے ہیں جس طرح عرب عربوں کے ساتھ لڑتے ہیں ؟ خدا کی قسم ہم تو دیکھتے ہیں کہ کل ہم رسیوں میں بندھے ہوں گے۔ یہ لوگ اہل ایمان کے اندر خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کہتے تھے۔ اس موقع پر مخشی ابن حمیر نے کہا خدا کی قسم میں تو اپنے لی یہ سزا تجویز کرتا ہوں کہ ہم میں ہر شخص کو سو کوڑے مارے جائیں مگر ہمارے بارے میں تمہاری ان باتوں کی وجہ سے قرآن مجید نازل نہ ہوجائے ، مجھ تک جو اطلاعات بھی پہنچی ہیں ، ان میں یہ بھی ہے کہ حضور نے عمار ابن یاسر کو حکم دیا کہ ان لوگوں کی مدد کو ہنچو یہ تو جہنم رسید ہوگئے ہیں۔ اور ان سے پوچھو کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔ اگر وہ انکار کردیں تو پھر بتا دو کہ تم نے تو یہ کہا تھا۔ عمار ان تک گئے اور ان سے یہ بات کی۔ یہ لوگ رسول اللہ کے پاس آئے اور معذرت کرنے لگے۔ رسول اللہ اپنی سواری پر بیٹھ چکے تھے اور ودیعہ ابن ثابت پہنچے۔ اس نے سواری کا کجاوا پکڑآ ہوا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ہم تو گپ شپ لگا رہے تھے۔ مخشی ابن حمیر نے رسول اللہ سے کہا فعد بی اسمی اور اسم ابی چناچہ اس آیت میں جسے معافی ملی وہ مخشی ابن حمیر تھے۔ بعد اس نے اپنا نام عبدالرحمن رکھ دیا تھا۔ اور اس نے خدا سے سوال کیا تھا کہ وہ خدا کی راہ میں اس طرح شہید ہوں کہ اس کا نام و نشان بھی معلوم نہ ہو۔ چناچہ یمامہ کی جنگ میں وہ شہید ہوا اور اس کا کوئی اتا پتا نہ ملا۔

ابن منذر ، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ غزوہ تبوک کے لیے پا بہ رکاب تھے کہ آپ کے ساتھ ایک گروہ منافقین بھی تھا۔ جنہوں نے کہا : کیا یہ شخص یہ امید لگائے بیٹھا کہ شام کے محلات اور قلعے اس کے لیے کھل جائیں گے۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اللہ نے حضور کو اس کی اطلاع دے دی تو حضور نے حکم دیا کہ ان لوگوں کی سواریوں کو روک دو ۔ حضور نے ان لوگوں سے جا کر دریافت کیا کہ کیا تم نے یہ کہا ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ہم تو ہنسی مذاق کر رہے تے تو ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔

ہم ہنسی مذاق کر رہے تھے یعنی جن موضوعات پر وہ …

67

ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلْمُنَٰفِقَٰتُ بَعْضُهُم مِّنۢ بَعْضٍۢ ۚ يَأْمُرُونَ بِٱلْمُنكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ ۚ نَسُوا۟ ٱللَّهَ فَنَسِيَهُمْ ۗ إِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ

منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس (یعنی ایک طرح کے) ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے اور نیک کاموں سے منع کرتے اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ انہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ان کو بھلا دیا۔ بےشک منافق نافرمان ہیں

منافقین تصورات ، اعمال اور اقوال پر یہاں تک تبصرہ کرنے کے بعد اب یہاں منافقین کی عمومی حقیقت کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ ان کی وہ عمومی صفات بیان کردی جاتی ہیں جن کی بنا پر وہ مومنین صادقین سے جدا تصورت ہوتے ہیں۔ اور بتایا جاتا ہے کہ ان کے لیے کس قسم کا عذاب انتظار میں ہے۔

منافقین اور منافقات کی اک ہی فطرت اور خمیر ہے۔ ان کا مزاج بھی یکساں ہے۔ ہر زمان و مکان اور ہمیشہ ان کے یہی خدوخال رہے ہیں۔ ان کے اقوال و اعمال اگرچہ مختلف ہیں لیکن وہ ایک ہی مزاج اور ایک ہی سرچشمے سے ماخوذ ہوتے ہیں یعنی کینہ پروری اور بدفطرتی ، خفیہ سازشیں کرنا اور بےجا تنقیدیں کرنا اور کھل کر سامنے آنے سے کترانا اور کھل کر بات کرنے کی جرات نہ کرنا۔ یہ ہیں منافقین کی اصل علامتیں۔ اب ان کا طرز عمل کیا ہے۔ وہ منکر کا حکم دیتے ہیں اور معروف سے روکتے ہیں اور وہ پرلے درجے کے بخیل ہیں۔ اور اگر خرچ کرتے ہیں تو لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور وہ جب امر بالمنکر اور نہی عن المعروف کرتے ہیں۔ تو یہ کام وہ چھپ چھپا کر کرتے ہیں۔ اشاروں کنایوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے اندر اس قدر جراءت نہیں ہے کہ یہ لوگ کھل کر کام کریں یہ کھل کر کام اس وقت کرتے ہیں جب ان کو یقین ہو کہ حالات درست ہیں اور ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے اللہ اور اس کی رضا کو بھلا دیا ہے۔ نسو اللہ لہزا ان کے ہر کام کی غرض وغایت لوگوں کی رضا یا مالی مفاد ہوتا ہے۔ یہ لوگ جب خدا سے نہیں ڈرتے تو پھر یہ زمین کے زور آور لوگوں سے بہت ہی ڈرتے ہیں۔ یہ ان کے سامنے ذلیل ہو کر رہتے ہیں اور ان کی خوشامد کرتے ہیں۔ لہذا اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا فنسیہم لہذا اب ان کا کوئی وزن و اعتبار نہیں ہے۔ یہ دنیا میں لوگوں کے سامنے بھی بےوزن اور بےاعتبار ہوں گے اور آخرت میں بھی اللہ کے ہاں بےوزن اور بےاعتبار ہوں گے۔ کیونکہ دنیا میں لوگ تو جاندار اور زور آور لوگوں کو اہمیت دیتے ہیں جو صاف صاف بات کرتے ہیں اور علی الاعلان بات کرتے ہیں جو اپنے نظریات پر رہتے ہیں اور جو اپنے نظریات کے معاملے میں لوگوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ اگر جنگ کرتے ہیں تو پھر بھی علانیہ اور اگر صلح کرتے ہیں تو پھر بھی علانیہ۔ یہ لوگ لوگوں کو بھول جاتے ہیں اور لوگوں کے الہہ العالمین کو یاد رکھتے ہیں لہذا وہ حق کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے وار وہ چونکہ اللہ کو یاد کرتے ہیں اس لیے لوگ انہیں یاد کرتے ہیں اور ان کی قدر کرتے ہیں۔

بیشک منافق ہی فاسق ہوتے ہیں ان المنفقین ھم الفسقون لہذا وہ دائرہ ایمان سے خارج ہوتے ہیں۔ یہ اصل راہ سے منحرف ہیں اور اللہ نے ان کے لیے ایسا انجام تجویز کردیا ہے جو کفار کے لیے تجویز ہوا ہے۔

68

وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلْمُنَٰفِقِينَ وَٱلْمُنَٰفِقَٰتِ وَٱلْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ هِىَ حَسْبُهُمْ ۚ وَلَعَنَهُمُ ٱللَّهُ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌۭ مُّقِيمٌۭ

الله نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ وہی ان کے لائق ہے۔ اور خدا نے ان پر لعنت کر دی ہے۔ اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب (تیار) ہے

پس یہ انجام ان کے لیے اور ان کے اس مجرمانہ طرز عمل کے لیے کافی ہے۔ اس انجام اور جہنم کے ساتھ ساتھ ان پر لعنت بھی ہوتی رہے گی اور اس عذاب میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

69

كَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ كَانُوٓا۟ أَشَدَّ مِنكُمْ قُوَّةًۭ وَأَكْثَرَ أَمْوَٰلًۭا وَأَوْلَٰدًۭا فَٱسْتَمْتَعُوا۟ بِخَلَٰقِهِمْ فَٱسْتَمْتَعْتُم بِخَلَٰقِكُمْ كَمَا ٱسْتَمْتَعَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُم بِخَلَٰقِهِمْ وَخُضْتُمْ كَٱلَّذِى خَاضُوٓا۟ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو، جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ تھے تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہوچکے۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا۔ اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے۔ اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں

منافقوں کا بےعمل ، منحرف اور گمراہ طبقہ انسانی تاریخ میں ہمیشہ رہتا ہے۔ یہ کسی بھی وقت انوکھا نہیں رہا ہے۔ اسلام سے قبل بھی انسانی تاریخ میں اس کے نمونے موجود رہے ہیں اور ادوار سابقہ کے منافقین کا انجام بھی ان کے فسق و فجور کے مطابق ایسا ہی رہا ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کی فطرت میں کجی آجاتی ہے اور وہ صحیح راہ پر نہیں چلتے۔ اس سے قبل جو کافر اور منافق گزرے ہیں وہ حضور کے دور کے منافقین سے زیادہ مادار اور زیادہ افرادی قوت کے مالک تھے۔ لیکن یہ مالی اور افرادی وسائل انہیں نہ بچا سکے۔

قرآن کریم امم سابقہ کے منافقین کی طرف اشارہ کرکے انہیں بتاتا ہے کہ دیکھو تم ان لوگوں ہی کے راستے پر تو چل رہے ہو۔ آخر کیوں تمہارا انجام ان سے مختلف ہوگا۔

قوت کا فتنہ بھی خطرناک فتنہ ہوتا ہے۔ مالی قوت اور افرادی قوت سے انسان فتنے میں پڑجاتا ہے۔ جن لوگوں کا رابطہ بڑی قوت سے ہوتا ہے وہ چھوٹی قوتوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ وہ صرف قوی تر قوت سے ڈرنے والے ہوتے ہیں۔ لہذا وہ سمع و اطاعت اس بڑی قوت کی کرتے ہیں اور اس بڑی قوت کی بات کو اونچا کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر مالی قوت اور افرادی قوت اثر نہیں کرتی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مال و دولت اور انصآر و اولاد دینے والا تو اللہ ہے جو برتر قوت ہے۔ لہذا اگر ان کے پاس نعمت آجائے تو وہ شکر ادا کرنے میں بہت حریص ہوتے ہیں اور وہ مالی قوت اور افرادی قوت کو بھی اللہ کی اطاعت میں کھپا دیتے ہیں اور جن لوگوں کی فطرت میں انحراف ہوتا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ اس قوت کا سرچشمہ کیا ہے۔ تو وہ تکبر ، غرور اور سرکشی اختیار کرلیتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو کھانے پینے تک محدود کردیتے ہیں جس طرح مویشی کھاتے تپیتے ہیں۔

اُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ : " سو ان کا انجام یہ ہوا کہ دنیا اور آخرت میں ان کا سب کیا دھرا ضائع ہوگیا اور وہی خسارے میں ہیں "

حبط اعمال کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال بنیاد ہی سے باطل ہوگئے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے پودے کے مانند تھے جس کی جڑیں نہ تھیں۔ اس قسم کا پودا نہ سرسبز ہوا ہے اور منہ پھلتا پوھلتا ہے۔ اور ایسا پودا لگانے والے آخر کار گھاٹے میں ہوتے ہیں اور ان کا گھاٹا ہمہ گیر ہوتا ہے۔

70

أَلَمْ يَأْتِهِمْ نَبَأُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوحٍۢ وَعَادٍۢ وَثَمُودَ وَقَوْمِ إِبْرَٰهِيمَ وَأَصْحَٰبِ مَدْيَنَ وَٱلْمُؤْتَفِكَٰتِ ۚ أَتَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ ۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے لے کر آئے۔ اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

اب منافقین کو چھوڑ کر روئے سخن عام ہوجاتا ہے۔ یہ عام خطاب تعجب کرتے ہوئے کیا جاتا ہے کہ عجیب ہیں یہ لوگ کہ سابقہ لوگوں کے انجام کو دیکھتے ہوئے اور جانتے ہوئے یہ لوگ اس راہ پر بدستور چلتے ہیں۔

یہ لوگ اس دنیا کے مزے لوٹ رہے ہیں اور اس کو اپنی حالت کا اچھی طرح شعور نہی ہے۔ یہ لوگ ہلاکت کی راہ پر مسلسل چل رہ ہی اور کسی نصیحت کو پلے نہیں باندھتے۔

الم یاتھم نبا الذین من قبلہم " کیا ان لوگوں کو اپنے پیش روؤں کی تاریخ نہیں پہنچی ؟ " جو اسی راہ پر چلے جس پر یہ چلتے ہیں۔ ذرا قوم نوح کی تاریخ کو پڑھیں کہ کس طرح انہیں طوفان نے گھیر لیا اور ہلاک کیے گئے اور یہ سخوت خوفناک ہلاکت تھی۔ قوم عاد جسے ایک شدید آندھی نے آ لیا۔ قوم ثمود جسے ایک زبردست چیخ اور آواز نے ہلاک کردیا۔ قوم ابراہیم عع جو بڑے بڑے جباروں پر مشتمل تھی ، اسے ہلاک کرکے اللہ نے حضرت ابراہیم کو معجزانہ طور پر نجات دی۔ اصحاب مدین جن کو شدید زلزلے نے آ لیا۔ اور قوم لوط جن کی نسل کو اللہ نے کاٹ کر رکھ دیا اور چند لوگ ہی اس عذاب سے بچے۔ کیا ان لوگوں کو ان تاریخی واقعات کا علم نہیں ہے۔ ان اقوام کے پاس بھی رسول روشن دلائل دے کر بھیجے گئے تھے۔ لیکن ان اقوام نے ناحق ان کی تکذیب کی اور اللہ نے ان کو پکڑا۔

فما کان اللہ لیظلمہم ولکن کانوا انفسہم یظلمون " پھر یہ اللہ کا کام نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے "۔ ایک منحرف انسان کو قوت اور اقتدار مزید سرکش بنا دیتا ہے۔ پھر مال و دولت کی وجہ سے ایسے لوگ اندھے ہوجاتے ہیں۔ لہذا ماضی کے تاریخی واقعات صرف ان لوگوں کو فائدے دیتے ہیں۔ لہذا ماضی کے تاریخ واقعات صرف ان لوگوں کو فائدے دیتے ہیں جن کی چشم بصیرت وا ہوتی ہے اور وہ لوگ سنت الہی کو سمجھنے کی استعداد رکھتے ہیں کیونکہ سنت الہی اٹل ہوتی ہے۔ اور ہمیشہ کام کرتی رہتی ہے۔ اور وہ کسی شخص کی کوئی رعایت بھی نہیں کرتے۔ اکثر لوگ جو قوت و اقتدار اور انعام و کرام سے نوازے جاتے ہیں اور ان کو آزماش میں ڈآلا جاتا ہے ، اندھے ہوجاتے ہیں اور ان کی قوت بصارت و بصیرت پر پردے پڑجاتے ہیں اور وہ حقائق کے ادراک سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ دیکھ نہیں سکتے کہ تاریخ میں بڑی بڑی قوتیں کس طرح سرنگوں ہوئیں۔ اکثر لوگ ان باغیوں اور سرکشوں کے انجام پر غور نہیں کرتے۔ جب انسان اپنے آپ کو اس طرح اندھا اور بہرا بنا دے۔ تو پھر وہ اللہ کے عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اب سنت الہیہ اپنا کام کرتی ہے اور مکافات عمل کا اصول سامنے اٹا ہے اور ایسے لوگ اور اقوام پکڑی جاتی ہیں۔ ان کو اپنی قوت پر غرہ ہوتا ہے اور انعامات و عیاشیوں میں سرکش ہوکر غفلت میں ہوتے ہیں اور اچانک اللہ کے گھیرے میں آجاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ غفلت ، نادانی اور نابینی مال و دولت کے ساتھ چمٹی رہتی ہے اور اس کا انجام ہر دور میں اچھا نہیں ہوتا اور اس برے انجام سے جو لوگ بچ نکلتے ہیں وہ وہی ہوتے ہیں جن پر اللہ کا خصوصی کرم ہو۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.