Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 41–50 of 129

41

ٱنفِرُوا۟ خِفَافًۭا وَثِقَالًۭا وَجَٰهِدُوا۟ بِأَمْوَٰلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

تم سبکبار ہو یا گراں بار (یعنی مال و اسباب تھوڑا رکھتے ہو یا بہت، گھروں سے) نکل آؤ۔ اور خدا کے رستے میں مال اور جان سے لڑو۔ یہی تمہارے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو

ہر حال میں نکلو ، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل ، اور جہاد کرو الل کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے ، اگر تم جانو۔ ہر حال میں نکلو ، جانی اور مالی قربانی دو ، حجتیں نہ گڑھو اور عذرات نہ پیش کرو ، مشکلات اور رکاوٹوں کو پاٹتے جاؤ۔

ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : " تمہارے لیے یہ بہتر ہے ، اگر تم جانتے ہو "۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ مخلص مومنین ان حقائق کو پا گئے۔ وہ تمام رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود نکل کھڑے ہوئے۔ ان کے پاس عذرات موجود تھے لیکن انہوں نے عذرات سے فائدہ نہ اٹھایا۔ تو اللہ نے ان کے سامنے زمین کے دروازے کھول دئیے۔ ان کے لیے لوگوں کے دل بھی کھل گئے اور ان مخلصین کے ذریعے اللہ نے اپنے کلمے کو بلند کردیا۔ اور اللہ کے کلمات کے ذریعے خود ان کو بلند اور ممتاز کردیا۔ اور ان کے ہاتھوں وہ وہ کارنامے وجود میں آئے کہ آج بھی وہ تاریخ انسانی کا اعجوبہ ہیں۔

حضرت ابوطلحہ سورت توبہ پڑھ رہے تھے ، جب وہ اس آیت پر آئے تو انہوں نے فرمایا : ہمارے رب نے ہمیں نکلنے کا حکم دیا ہے ، خواہ ہم بوڑھے ہوں یا نوجوان ! بیٹو ! مجھے تیار کرو ، اس کے بیٹوں نے کہا : ابو تم پر اللہ کا رحم ہو ، تم نے تو رسول اللہ کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے ، تم نے حضرت ابوبکر کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے ، تم نے حضرت عمر کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے۔ اب تو ہم آپ کی طرف سے جہاد کریں گے۔ لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اور بحری بیڑے میں چلے گئے۔ سمندر میں آپ کو موت نے آ لیا۔ بحریہ کو کوئی جزیرہ نہ ملا کہ اسے دفن کردے۔ نو دنوں کے بعد انہیں جزیرہ ملا۔ ان نو دنوں میں ان کے جسم میں کوئی تغیر واقع نہ ہوا تھا۔ چناچہ انہوں نے اسے اس جزیرے میں دفن کردیا۔

ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے۔ وہ ابوراشد حرانی سے روایت کرتے ہیں ، کہتے ہیں : " میں نے رسول اللہ کے سوا مقداد ابن اسود ؓ سے ملا۔ یہ ایک صراف کے تابوت پر بیٹھے ہوئے تھے اور جہاد کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے ان سے کہا : چچا آپ تو عنداللہ معذور ہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم پر سورت البعوث نازل ہوئی ہے (یعنی توبہ)

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا " نکلو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل " حبان ابن زید الشرعی سے روایت ہے کہ ہم صفوان ابن عمرو کے ساتھ جہاد پر نکلے ، یہ حمص کے گورنر تھے۔ ہم افسوس کی جانب جراجمہ کی طرف گئے۔ میں نے ایک ایسے بوڑھے کو دیکھا جس کی بھنویں اس کی آنکھوں پر گری ہوئی تھیں اور یہ اہل دمشق کے لوگوں سے تھا اور گھورے پر سوار تھا۔ میں اس کی طرف متوجہ ہوا اور کہا اے چچا تم تو اللہ کے نزدیک رہو۔ کہتے ہیں اس بوڑھے نے اپنی دونوں بھنویں اوپر کو اٹھائیں اور کہا بھتیجے اللہ نے تو ہم سے مطالبہ کیا ہے کہ نکلو اللہ کی راہ میں ہلکے ہو یا بوجھل۔ یاد رکھو ، جسے اللہ محبوب رکھتا ہے اسے مشکلات سے دو چار کرتا ہے اور پھر اسے صحیح و سلامت واپس لاتا ہے لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے صرف اس شخص کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے جو صبر کرے ، شکر کرے اور اسے یاد کرے اور اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرے۔

یہ تھی وہ جدوجہد اور جہاد مسلسل جس کے ذریعے اللہ نے اسلام کو دنیا میں پھیلایا اور اللہ کے ان بندوں نے تمام انسانیت کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر صرف اللہ وحدہ کی بندگی میں داخل کردیا۔ اور اسلام کی مدوجزر کی تاریخ میں وہ معجزہ رونما ہوا جس کی کوئی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ہے۔

42

لَوْ كَانَ عَرَضًۭا قَرِيبًۭا وَسَفَرًۭا قَاصِدًۭا لَّٱتَّبَعُوكَ وَلَٰكِنۢ بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ ٱلشُّقَّةُ ۚ وَسَيَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَوِ ٱسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ يُهْلِكُونَ أَنفُسَهُمْ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ

اگر مالِ غنیمت سہل الحصول اور سفر بھی ہلکا سا ہوتا تو تمہارے ساتھ (شوق سے) چل دیتے۔ لیکن مسافت ان کو دور (دراز) نظر آئی (تو عذر کریں گے) ۔ اور خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ ضرور نکل کھڑے ہوتے یہ (ایسے عذروں سے) اپنے تئیں ہلاک کر رہے ہیں۔ اور خدا جانتا ہے کہ جھوٹے ہیں

درس نمبر 91 تشریح آیات

42 ۔۔۔۔ تا۔۔۔ 91

یہاں سے ان لوگوں کے بارے میں تبصرہ شروع ہوتا ہے جن سے اس موقعہ پر کمزوریوں اور کوتاہیوں کا ظہور ہوا۔ اس پورے سبق میں ان منافقین کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو اسلام کے نام پر اسلامی صفوں میں گھستے ہوئے تھے ، خصوصا اس وقت جب اسلام غالب ہوگیا تھھا اور ان لوگوں کی سلامتی اور ان کے مفادات کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ اسلام کے سامنے سرنگوں ہوجائیں اور اسلامی صفوں میں داخل ہو کر اسلام کے خلاف سازشیں کریں کیونکہ ظاہری حالات ایسے ہوگئے تھے کہ اسلام سے باہر رہ کر وہ اسلام کے خلاف کچھ نہ کرسکتے تھے۔

اس سبق میں وہ تمام حال ہمارے سامنے آئیں گے جن کی طرف سے ہم نے اس سورت کے مقدمے میں اشارہ کیا تھا ، ان حالات کی تصویر کشی قرآن کے الفاظ میں ہوگی۔ سورت کے آغاز میں ہم نے جو اصولی بحث کی تھی اس کی روشنی میں اب ان نصوص کو سمجھنا کوئی زیادہ مشکل کام ہرگز نہ ہوگا جیسا کہ پہلے ہم کہہ آئے ہیں :

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيْبًا وَّسَفَرًا : اگر یہ معاملہ دنیاوی مفادات کا ہوتا اور ہوتا بھی سہل الحصول ، یا کوئی مختصر اور نفع بخش سفر ہوتا جس کے نتائج یقینی ہوتے تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ ہولیتے۔ لیکن یہ سفر دور کا سفر ہے اور پر مشقت ہے اور ہمت شکن سفر ہے۔ کمزور ہمتوں اور ضعیف العزم لوگ جراءت کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ یہ سفر اس عظیم اور بلند نصب العین کی طرف ہے جس کو دیکھ کر کمزور ارواح کے لوگ ڈرجاتے ہیں ، کمزور دل والوں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور کم ظرف لوگ اس سے پیچے رہ جاتے ہیں۔ یہ مہم در اصل ایک مثالی مہم تھی اور انسانیت کی تاریخ میں ایسی مہمات ہمیشہ مثالی حیثیت رکھی ہیں اور کسی بھی ملک کے لیے فخریہ حکایات و روایات فراہم کرتی ہیں۔

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لاتَّبَعُوكَ وَلَكِنْ بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ " اے نبی اگر فائدہ سہل الحصول ہوتا اور سر ہلکا ہوتا تو وہ ضرور تمہارے پیچھے چلنے پر آمادہ ہوجاتے ، مگر ان پر تو یہ راستہ بہت کٹھن ہوگیا "

اگر مقام شرف و منزلت کی طرف بسہولت آگے بڑھا جاسکتا ہو ، تو امیدواران منزل بکثرت سامنے آجاتے ہیں لیکن راستہ دشوار گزار ہو تو لوگوں کی بڑی تعداد پہلو تہی کرتی ہے۔ اور راستے کی مشکلات کی خاطر لشکر سے پیچھے رہ جاتی ہے اور ان کے پیش نظر دنیا کا نہایت ہی بےقیمت اور بےحقیقت مقصد ہوتا ہے۔ ہر دور اور ہر زمانے میں ایسے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں اور مشہور و معروف ہوتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ شاذ و نادر نہیں بلکہ ایسے لوگ تو ہر زمانے میں بکثرت ائے جاتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ زندگی کے ایک کنارے پر بےوقعت مقام کے مکین ہوتے ہیں۔ گرچہ یہ لوگ اپنے زعم میں یہ خیال کرتے ہیں کہ انہوں نے مفادات حاصل کیے ، انہوں نے اعلی دنیاوی مقاصد پا لیے اور وہ کسی بھی مقصد کے لیے اعلی قربانیاں دینے سے بچ گئے۔ لیکن انہیں معلوم نہیں کہ کوئی جس قدر قیمت دے گا ، اسے اس کی قیمت ہی کے مطابق مقام ملے گا۔ اس دنیا میں بھی کسی کو ہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ قیمت ادا کرتا ہے۔

وَسَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ : " اب وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر چل سکتے تو یقینا تمہارے ساتھ چلتے " یہ وہ جھوٹا عذر ہے جو ہمیشہ کمزور لوگ پیش کیا کرتے ہیں۔ عذرات پیش کرنے والے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔ اگرچہ بظاہر عذرات پیش کرنے والے قوی اور بہادر نظر آئیں لیکن در حقیقت یہ کمزور قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ بہادر وہ ہوتا ہے جو مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور ضعیف وہ ہوتا ہے جو پہلو تہی کرتا ہے یہ وہ اصول ہے جس میں کوئی استثناء نہیں ہے۔ یہ اصول ہمیشہ جاری رہتا ہے۔

يُهْلِكُونَ أَنْفُسَهُمْ : " وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں " یہ جھوٹ بول کر اور جھوٹی قسمیں کھا کر ، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کے نزدیک گویا کامیاب ہوگئے ، حالانکہ …

43

عَفَا ٱللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُوا۟ وَتَعْلَمَ ٱلْكَٰذِبِينَ

خدا تمہیں معاف کرے۔ تم نے پیشتر اس کے کہ تم پر وہ لوگ بھی ظاہر ہو جاتے ہیں جو سچے ہیں اور وہ بھی تمہیں معلوم ہو جاتے جو جھوٹے ہیں اُن کو اجازت کیوں دی

اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر اس قدر مہربان ہے کہ عتاب سے پہلے ہی معافی کا اعلان فرماتا ہے۔ جب ان لوگوں نے جھوٹے عذرات پیش کیے تو رسول اللہ نے ان کے عذرات قبول کرلیے اور ایسے لوگوں نے ان عذرات کی اوٹ میں اپنے آپ کو چھپایا۔ حجور نے ان لوگوں کے عذرات کو اس لیے قبول کرلیا تھا کہ اس وقت سچے اور جھوٹے عذرات کی تحقیقات کا موعہ نہ تھا اور یہ بھی ممکن تھا کہ بعض لوگ لشکر سے بلا کسی عذر کے پیچھے رہ جائیں اور اس طرح ان کی حقیقت کھل جائے اور ان کے لیے اذن رسول کا بہانہ بھی نہ رہے۔

44

لَا يَسْتَـْٔذِنُكَ ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ أَن يُجَٰهِدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلْمُتَّقِينَ

جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو تم سے اجازت نہیں مانگتے (کہ پیچھے رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور خدا ڈرنے والوں سے واقف ہے

حضور نے چونکہ منافقین کے نفاق کا انکشاف نہ کیا تھا ، اس لیے اللہ نے یہاں ایسے اصول اور ایسی صفات کو بیان کردیا جن کی روشنی میں منافقین کو اچھی طرح پہانا جاسکے۔ اور یہ صفات مومنین اور منافقین کے درمیان امتیازی سفات ہوں۔

لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ الخ : جو لوگ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے۔ اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔

اِنَّمَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایسی درخواستیں تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں رکھتے ، جن کے دلوں میں شک ہے اور وہ اپنے شک ہی میں متردد ہو رہے ہیں

یہ وہ اصول ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتا۔ جو لوگ صحیح معنوں میں اللہ پر ایمان لے آتے ہیں اور جن کو یقین ہوتا ہے کہ ایک دن انہوں نے اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ وہ اس بات کا انتظار نہیں کرتے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت لیں۔ اور جب بھی ان کو اللہ کی راہ میں جان اور مال قربان کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ ایک منٹ کے لیے بھی پس و پیش نہیں کرتے۔ بلکہ وہ ہلکے ہوں یا بوجھل ہوں ، اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ، اطاعت امیر کرتے ہیں اور ان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کو پوری پوری جزا دے گا اور ان سے راضی ہوگا وہ جہاد کے لیے اس قدر بےتاب ہوتے ہیں کہ از خود اس عمل کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور انہیں اس بات کی ضرور نہیں پڑتی کہ کوئی انہیں اس کے لیے جوش دلائے ، جہاد سے پیچھے رہنے کے لیے عذرات پیش کرنا تو بہت بڑی بات ہے۔ عذرات تو صرف وہ لوگ پیش کرتے ہیں جن کے دل ایمان و یقین کی دولت سے خالی ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ پس و یش کرتے ہیں اور عذرات تلاش کرکے چھٹیاں لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس عقیدے کا انہوں نے اظہار کیا ہے اس کے تقاضے پورے کرنے سے ان کی راہ میں رکاوٹیں ہیں در حقیت وہ شک کے مریض ہوتے ہیں اور متردد ہوتے ہیں۔

اللہ کی طرف جو راستہ جاتا ہے وہ واضح ہے اور بالکل سیدھا ہے۔ اس سلسلے میں تردد اور پس و پیش وہی شخص کرسکتا ہے جو دولت یقین سے محروم ہو یا وہ شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ رسول برحق ہیں۔ لیلکن ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے وہ مشکلات کی راہ سے گھبرا جاتا ہے۔

45

إِنَّمَا يَسْتَـْٔذِنُكَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَٱرْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِى رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ

اجازت وہی لوگ مانگتے ہیں جو خدا پر اور پچھلے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ سو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں

حضور نے چونکہ منافقین کے نفاق کا انکشاف نہ کیا تھا ، اس لیے اللہ نے یہاں ایسے اصول اور ایسی صفات کو بیان کردیا جن کی روشنی میں منافقین کو اچھی طرح پہانا جاسکے۔ اور یہ صفات مومنین اور منافقین کے درمیان امتیازی سفات ہوں۔

لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ الخ : جو لوگ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے۔ اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔

اِنَّمَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایسی درخواستیں تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں رکھتے ، جن کے دلوں میں شک ہے اور وہ اپنے شک ہی میں متردد ہو رہے ہیں

یہ وہ اصول ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتا۔ جو لوگ صحیح معنوں میں اللہ پر ایمان لے آتے ہیں اور جن کو یقین ہوتا ہے کہ ایک دن انہوں نے اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ وہ اس بات کا انتظار نہیں کرتے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت لیں۔ اور جب بھی ان کو اللہ کی راہ میں جان اور مال قربان کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ ایک منٹ کے لیے بھی پس و پیش نہیں کرتے۔ بلکہ وہ ہلکے ہوں یا بوجھل ہوں ، اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ، اطاعت امیر کرتے ہیں اور ان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کو پوری پوری جزا دے گا اور ان سے راضی ہوگا وہ جہاد کے لیے اس قدر بےتاب ہوتے ہیں کہ از خود اس عمل کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور انہیں اس بات کی ضرور نہیں پڑتی کہ کوئی انہیں اس کے لیے جوش دلائے ، جہاد سے پیچھے رہنے کے لیے عذرات پیش کرنا تو بہت بڑی بات ہے۔ عذرات تو صرف وہ لوگ پیش کرتے ہیں جن کے دل ایمان و یقین کی دولت سے خالی ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ پس و یش کرتے ہیں اور عذرات تلاش کرکے چھٹیاں لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس عقیدے کا انہوں نے اظہار کیا ہے اس کے تقاضے پورے کرنے سے ان کی راہ میں رکاوٹیں ہیں در حقیت وہ شک کے مریض ہوتے ہیں اور متردد ہوتے ہیں۔

اللہ کی طرف جو راستہ جاتا ہے وہ واضح ہے اور بالکل سیدھا ہے۔ اس سلسلے میں تردد اور پس و پیش وہی شخص کرسکتا ہے جو دولت یقین سے محروم ہو یا وہ شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ رسول برحق ہیں۔ لیلکن ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے وہ مشکلات کی راہ سے گھبرا جاتا ہے۔

46

۞ وَلَوْ أَرَادُوا۟ ٱلْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا۟ لَهُۥ عُدَّةًۭ وَلَٰكِن كَرِهَ ٱللَّهُ ٱنۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيلَ ٱقْعُدُوا۟ مَعَ ٱلْقَٰعِدِينَ

اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے لیے سامان تیار کرتے لیکن خدا نے ان کا اُٹھنا (اور نکلنا) پسند نہ کیا تو ان کو ہلنے جلنے ہی نہ دیا اور (ان سے) کہہ دیا گیا کہ جہاں (معذور) بیٹھے ہیں تم بھی ان کے ساتھ بیٹھے رہو

اس موقعہ پر جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ لشکر کشی کی قدرت رکھتے تھے۔ ان کے پاس وسائل سفر موجود تھے ، سازوسامان بھی موجود تھا۔

وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا : " اگر واقعی ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو وہ اس کے لیے کچھ تیاری کرتے " ایسے لوگوں کے سرخیل عبداللہ ابن ابی ابن سلول تھے ، جد ابن قیس بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ یہ اپنے قبائل کے معتبرین میں سے تھے اور با اثر اور مالدار تھے۔

وَّلٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِيْنَ : " لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا۔ اس لیے اس نے انہیں سست کردیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ "

اللہ کو ان لوگوں کے مزاج اور ان کے نفاق کا علم تھا اور ان لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بغض و عداوت جس طرح کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اس کا تذکرہ آگے آ رہا ہے۔ اس لیے اللہ نے انہیں اس موقع پر بٹھا دیا اور ان کی ہمت ہی ختم کردی۔ یہ لوگ گھروں اور عورتوں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ بچوں اور ناداروں کے ساتھ وہ پیچھے رہ گئے جو حقیقتاً اس لشکر میں جانے کی طاقت و وسائل نہ رکھتے تھے۔ لہذا گری ہوئی ہمتوں ور کمزور یقین رکھنے والوں کے لیے بہتر یہی تھا کہ وہ بیٹھے رہیں اور اس اعزاز سے محروم رہیں۔ اور اس میں دعوت اسلامی کی بھلائی تھی۔

47

لَوْ خَرَجُوا۟ فِيكُم مَّا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًۭا وَلَأَوْضَعُوا۟ خِلَٰلَكُمْ يَبْغُونَكُمُ ٱلْفِتْنَةَ وَفِيكُمْ سَمَّٰعُونَ لَهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ

اگر وہ تم میں (شامل ہوکر) نکل بھی کھڑے ہوتے تو تمہارے حق میں شرارت کرتے اور تم میں فساد ڈلوانے کی غرض سے دوڑے دوڑے پھرتے اور تم میں ان کے جاسوس بھی ہیں اور خدا ظالموں کو خوب جانتا ہے

پست ہمت اور بزدل وری فوج کو پست ہمت اور بزدل بنا دیتے ہیں اور خیانت کار پوری سوسائٹی کو خائن بنا دیتے ہیں۔ اگر یہ منافقین مسلمانوں کے ہمراہی بن بھی جاتے تو اسلام صفوں کے اندر بےچینی ، بد دلی اور انتشار پیدا کردیتے اور اسلامی فوج کے اندر فتنہ و فساد اور تفرقہ اور خذلان پیدا کردیتے ، یہ اس لیے کہ مسلمانوں کے اندر بھی ایسے لوگ موجود تھے جن کے ان سابقہ قائدین کے ساتھ سماجی تعلقات تھے اور ابھی تک مسلمان ان لوگوں کی باتوں پر کان دھرتے تھے لیکن اللہ اپنی دعوت کا محافظ خود تھا اور وہ داعیوں کی نگہبانی بھی اپنی نگرانی میں کر رہا تھا۔ اللہ نے موممنین کو فتنے سے اس طرح بچایا کہ منافقین اور ذلیل لوگ بی تھے ہی رہ گئے۔

وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ : " اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے " یہاں ظالموں سے مراد مشرک ہیں۔ زیر بحث لوگوں کو بھی اللہ نے مشرکین کے زمرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کا ماضی ان کے دلوں کا غماز ہے۔ اور ان کی بدفطرتی پر ان کی تاریخ گواہ ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول خدا کی راہ روکی۔ اور تحریک اسلامی کی مخالفت میں انہوں نے وہی کچھ کیا جو ان لوگوں کے بس میں تھا۔ لیکن جب تحریک اسلامی غالب ہوئی تو انہوں نے سر تسلیم خم کردیا البتہ ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری موجود رہی۔

48

لَقَدِ ٱبْتَغَوُا۟ ٱلْفِتْنَةَ مِن قَبْلُ وَقَلَّبُوا۟ لَكَ ٱلْأُمُورَ حَتَّىٰ جَآءَ ٱلْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ ٱللَّهِ وَهُمْ كَٰرِهُونَ

یہ پہلے بھی طالب فساد رہے ہیں اور بہت سی باتوں میں تمہارے لیے الٹ پھیر کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ حق آپہنچا اور خدا کا حکم غالب ہوا اور وہ برا مانتے ہی رہ گئے

یہ واقعہ اس وقت ہوا جب حضور ﷺ عوامی تائید کے ذریعے مدینہ تشریف لائے اور حالات یہ تھے کہ ابھی تک انہیں اپنے دشمنوں پر فیصلہ کن غلبہ حاصل نہ ہوا تھا اور مدینہ میں جب حضور کو کامیابی نصیب ہوتی رہیں تو ان اعداء نے بھی سر جھکا دئیے لیکن دل سے وہ تحریک جدید کو بدستور ناپسند کرتے رہے اور انتظار کرتے رہے کہ اسلام پر کوئی برا وقت آئے اور انہیں ریشہ دوانیوں کا موقع ملے۔

49

وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ ٱئْذَن لِّى وَلَا تَفْتِنِّىٓ ۚ أَلَا فِى ٱلْفِتْنَةِ سَقَطُوا۟ ۗ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌۢ بِٱلْكَٰفِرِينَ

اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے تو اجازت ہی دیجئے اور آفت میں نہ ڈالئے۔ دیکھو یہ آفت میں پڑگئے ہیں اور دوزخ سب کافروں کو گھیرے ہوئے ہے

اب قرآن کریم ان لوگوں کی مختلف اقسام کی طرف اشارات کرتا ہے اور ان کے جعلی عذرات پر بھی کلام ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رسول اللہ کے خلاف ان کے سینوں میں کیا کیا عناد اور بغض بھرے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف وہ کس قدر کینہ رکھتے ہیں۔

محمد بن اسحاق نے زہری وغیرہ سے روایت کی ہے کہ ایک دن حضور ﷺ جہاد کی تیاریوں میں مصروف تھے (تبوک کے موقع پر) تو آپ نے بنو سلمہ کے بھائی جد ابن قیس سے کہا کہ جد کیا تم کو بنی اصغر (رومیوں) کے ساتھ جہاد میں دلچسپی ہے ؟ تو اس نے کہا حضور آپ مجھے اجازت ہی دے دیں اور فتنے میں نہ ڈالیں ؟ کدا کی قسم میری قوم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھ سے زیادہ یعورتوں کے ساتھ دلچسپی لینے والا کوئی نہیں ہے۔ اور مجھے یہ خوف ہے کہ اگر میں نے بنی الاصغر (رومیوں) کی عورتوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کرسکوں گا۔ رسولا للہ نے اس سے منہ پھیرلیا اور کہا " میں نے تمہیں اجات دے دی " تو اس جد ابن قیس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔

تمام منافقین اسی قسم کے عذرات پیش کرتے اور اللہ نے ان کو یہی جواب دیا۔ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّيْ وَلَا تَفْتِنِّىْ ۭ اَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا ۭوَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ : " ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ " مجھے رخصت دے دیجئے اور مجھ کو فتنے میں نہ ڈالیے " سن رکھو ! فتنے ہی میں تو یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں اور جہنم نے ان کافروں کو گھیر رکھا ہے "۔ منظر کشی اس طرح ہے کہ گویا جہنم ایک فتنہ ہے۔ اور یہ لوگ اس میں گرتے جا رہے ہیں۔ جہنم ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور ان کے بچنے کے تمام راستے بند ہوچکے ہیں۔ اور جہنم کا واحد رستہ کھلا ہے اور یہ لوگ آتے جاتے ہیں اور گرتے جاتے ہیں۔ یہ انداز تعبیر اس بات سے کنایہ ہے کہ انہوں نے پیچھے رہ کر ایک عظیم غلطی کا ارتکاب کرلیا ہے اور اب عذاب جہنم ان کے لیے حتمی ہے۔ اور یہ جزاء ان کے لیے جہاد سے پیچھے رہ جانے ، گرا ہوا موقف اپنانے اور بھونڈے عذرات پیش کرنے کی وجہ سے مقدر ہوچکی ہے۔ اس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اگرچہ یہ لوگ اظہار اسلام کرتے ہیں لیکن درحقیقت یہ منافق ہیں اور کافروں سے بد تر ہیں۔

50

إِن تُصِبْكَ حَسَنَةٌۭ تَسُؤْهُمْ ۖ وَإِن تُصِبْكَ مُصِيبَةٌۭ يَقُولُوا۟ قَدْ أَخَذْنَآ أَمْرَنَا مِن قَبْلُ وَيَتَوَلَّوا۟ وَّهُمْ فَرِحُونَ

(اے پیغمبر) اگر تم کو آسائش حاصل ہوتی ہے تو ان کو بری لگتی ہے۔ اور کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہیں (درست) کر لیا تھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں

ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ یہ رسول اللہ اور مسلمانوں کی بھلائی نہیں چاہتے اور اس بات پر بہت کڑھتے ہیں کہ رسول اللہ اور مسلمانوں کو کوئی برتری نصیب ہو۔ اگر مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے تو یہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرلی تھیں اس لیے ہم بچ گئے اور ہمیں ان مشکلات سے دوچار ہونا نہ پڑا اور اپنی جگہ یہ خوشیاں مناتے ہیں۔

لیکن یہ بہت ہی کم عقل ہیں صرف ظاہری باتوں پر ان کی نظر ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ مصائب ہر حال میں برے ہوتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں گھروں میں بیٹھ کر اور جہاد سے پیچھے رہ کر انہوں نے بھلائی کما لی۔ حالانکہ ان کے دلوں میں اطاعت الٰہی نہ رہی اور انہوں نے رضائے الہی کے مقصد عظیم کو گنوادیا۔ حالانکہ ان کی بھلائی تو تسلیم و رضا اور جہاد میں تھی۔ ایک سچا مسلمان تو ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے ، آگے ہی بڑھتا ہے اور ڈرتا نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ خیر و شر تو اللہ کی طرف سے آتا ہے اور اللہ ہی ناصر اور معین ہے۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.