Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 1–10 of 129

1

بَرَآءَةٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

(اے اہل اسلام اب) خدا اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ کی تیاری) ہے

(یہ) دست برداری ہے اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے، ان لوگوں سے کہ عہد کر رکھا تھا تم نے (ان) مشرکین سے(1) پس چلو پھرو تم زمین میں چار مہینے اورجان لوکہ بے شک تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ کو اور یہ کہ بلاشبہ اللہ رسوا کرنے والا ہے کافروں کو(2)

[2,1] یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے تمام مشرکین و معاندین سے اظہار براء ت ہے، انھیں چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے مامون ہیں اس مدت میں وہ اپنے اختیار سے زمین میں چل پھر لیں ۔ چار ماہ کے بعد ان کے ساتھ کوئی معاہدہ و میثاق نہیں ۔یہ معاملہ ان کفار کے ساتھ ہے جن کے ساتھ لامحدود مدت کے لیے معاہدہ ہے یا معاہدہ کی مدت چار ماہ یا اس سے کم ہے۔ رہا وہ معاہدہ جو چار ماہ سے زیادہ مدت کے لیے کیا گیا ہو، اگر معاہد سے خیانت کا خدشہ نہ ہو اور اس سے نقض عہد کی بھی ابتدا نہ ہوئی ہو تو مدت معینہ تک اس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو پورا کیاجائے گا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے معاہدین کو ان کی مدت عہد کے بارے میں ڈرایا ہے کہ اگرچہ وہ اس دوران میں مامون و محفوظ ہیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کر سکیں گے نہ اس سے بچ سکیں گے اور ان میں سے جو کوئی اپنے شرک پر قائم رہے گا اللہ تعالیٰ ضرور اسے رسوا کرے گا... اور یہ چیز ان کے اسلام میں داخل ہونے کا باعث بن گئی۔ سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے معاندانہ رویہ اختیار کیا اور اپنے کفر پر اصرار کیا اور اللہ تعالیٰ کی وعید کی کوئی پروا نہیں کی۔

2

فَسِيحُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍۢ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى ٱللَّهِ ۙ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُخْزِى ٱلْكَٰفِرِينَ

تو (مشرکو تم) زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہ کرسکو گے۔ اور یہ بھی کہ خدا کافروں کو رسوا کرنے والا ہے

(یہ) دست برداری ہے اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے، ان لوگوں سے کہ عہد کر رکھا تھا تم نے (ان) مشرکین سے(1) پس چلو پھرو تم زمین میں چار مہینے اورجان لوکہ بے شک تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ کو اور یہ کہ بلاشبہ اللہ رسوا کرنے والا ہے کافروں کو(2)

[2,1] یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے تمام مشرکین و معاندین سے اظہار براء ت ہے، انھیں چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے مامون ہیں اس مدت میں وہ اپنے اختیار سے زمین میں چل پھر لیں ۔ چار ماہ کے بعد ان کے ساتھ کوئی معاہدہ و میثاق نہیں ۔یہ معاملہ ان کفار کے ساتھ ہے جن کے ساتھ لامحدود مدت کے لیے معاہدہ ہے یا معاہدہ کی مدت چار ماہ یا اس سے کم ہے۔ رہا وہ معاہدہ جو چار ماہ سے زیادہ مدت کے لیے کیا گیا ہو، اگر معاہد سے خیانت کا خدشہ نہ ہو اور اس سے نقض عہد کی بھی ابتدا نہ ہوئی ہو تو مدت معینہ تک اس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو پورا کیاجائے گا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے معاہدین کو ان کی مدت عہد کے بارے میں ڈرایا ہے کہ اگرچہ وہ اس دوران میں مامون و محفوظ ہیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کر سکیں گے نہ اس سے بچ سکیں گے اور ان میں سے جو کوئی اپنے شرک پر قائم رہے گا اللہ تعالیٰ ضرور اسے رسوا کرے گا... اور یہ چیز ان کے اسلام میں داخل ہونے کا باعث بن گئی۔ سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے معاندانہ رویہ اختیار کیا اور اپنے کفر پر اصرار کیا اور اللہ تعالیٰ کی وعید کی کوئی پروا نہیں کی۔

3

وَأَذَٰنٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوْمَ ٱلْحَجِّ ٱلْأَكْبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِىٓءٌۭ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُۥ ۚ فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى ٱللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دستبردار ہے) ۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو

اور اعلان ہے اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے لوگوں کی طرف، دن حج اکبر کے، کہ بے شک اللہ دست بردار ہے مشرکین سے اوراس کا رسول (بھی)، پس اگر تم توبہ کرلو تو یہ بہتر ہے تمھارے لیے اوراگر تم نے منہ پھیر ے رکھا تو جان لو کہ بے شک تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ کواور خوشخبری دے دیجیے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، عذاب درد ناک کی(3)

[3] یہ اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ساتھ وعدہ ہے کہ وہ اپنے دین کو فتح مند اور اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور ان کے مشرک دشمنوں سے علیحدہ ہو جائے گا جنھوں نے رسول اللہﷺ اور آپ کے صحابہy کو مکہ مکرمہ اور اللہ تعالیٰ کے محترم گھر سے نکال کر حجاز کے اس خطہ ارضی سے جلا وطن کیا جس پر ان کا تسلط تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ اور مومنین کو فتح و نصرت سے نوازا حتیٰ کہ مکہ فتح ہوگیا۔ مشرکین مغلوب ہوئے اور ان علاقوں کا اقتدار اور غلبہ مسلمانوں کے ہاتھ آ گیا تو نبی اکرمﷺ نے اپنے اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ حج اکبر کے دن جو کہ قربانی اور جزیرۃ العرب کے مسلمانوں اور کفار کے اکٹھے ہونے کا دن ہے.... اعلان کر دے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بریء الذمہ ہے۔ رسول اللہﷺ کے ہاں اب ان کے لیے کوئی عہد اور میثاق نہیں ۔ وہ جہاں کہیں بھی ملیں گے ان کو قتل کیا جائے گا اور ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا کہ وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں اور یہ سن ۹ ہجری تھا۔حضرت ابوبکرt نے لوگوں کے ساتھ حج کیا اور قربانی کے روز رسول اللہﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت علی بن ابی طالبt نے براء ت کا اعلان کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو توبہ کی ترغیب دی اور ان کو شرک پر جمے رہنے سے ڈرایا۔ ﴿فَاِنۡ تُبۡتُمۡ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ١ۚ وَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّـكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي اللّٰهِ﴾ ’’پس اگر تم توبہ کر لو تو تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر نہ مانو تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرگز نہ تھکا سکو گے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے بھاگ نہیں سکتے بلکہ تم اس کے قبضۂ قدرت میں ہو اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ تم پر اپنے مومن بندوں کو مسلط کر دے۔ ﴿وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خوش خبری سنادو۔‘‘ جو دنیا میں قتل، اسیری اور جلا وطنی کی صورت میں انھیں دیا جائے گا اور آخرت میں جہنم کی آگ کا۔ جو بہت برا ٹھکانا ہے۔

4

إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنقُصُوكُمْ شَيْـًۭٔا وَلَمْ يُظَٰهِرُوا۟ عَلَيْكُمْ أَحَدًۭا فَأَتِمُّوٓا۟ إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَىٰ مُدَّتِهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ

البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور انہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو۔ (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے

مگر وہ لوگ جن سے تم نے عہد کر رکھا ہے، مشرکین میں سے، پھر نہیں کمی کی انھوں نے تمھارے ساتھ ذرا بھی اورنہ مدد کی تمھارے خلاف کسی کی، سو پورا کرو ان کے ساتھ ان کا عہد ان کی مدت(مقررہ) تک۔ بے شک اللہ پسند کرتا ہے متقیوں کو(4)

[4] یعنی یہ تمام مشرکین سے کامل اور براء ت مطلق کا اظہار ہے۔ ﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ عٰهَدۡتُّمۡ مِّنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’سوائے ان مشرکین کے جن سے تم نے معاہدہ کر رکھا ہے‘‘ اور وہ اپنے عہد پر قائم ہیں اور ان سے کسی ایسے فعل کا ارتکاب نہیں ہوا جو نقض عہد کا موجب ہو۔ انھوں نے معاہدے میں کوئی کوتاہی کی ہے نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی ہے۔ پس ان لوگوں کے ساتھ کیے ہوئے معاہدے کو، اس کی مدت مقررہ تک پورا کرو خواہ یہ مدت تھوڑی ہو یا زیادہ.... کیونکہ اسلام خیانت کا حکم نہیں دیتا وہ تو معاہدوں کو پورا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ پسند کرتا ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو‘‘ وہ لوگ جنھوں نے ان ذمہ داریوں کو ادا کیا جن کا انھیں حکم دیا گیا اور شرک، خیانت اور دیگر گناہوں سے بچے۔

5

فَإِذَا ٱنسَلَخَ ٱلْأَشْهُرُ ٱلْحُرُمُ فَٱقْتُلُوا۟ ٱلْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَٱحْصُرُوهُمْ وَٱقْعُدُوا۟ لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍۢ ۚ فَإِن تَابُوا۟ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ فَخَلُّوا۟ سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

پس جب گزر جائیں مہینے حرمت والے تو قتل کرو مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ تم انھیں اور پکڑو انھیں اور گھیرے میں لیے رکھو ان کو اور بیٹھو ان کی تاک میں ہر گھات پر ، پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ تو چھوڑ دو ان کا راستہ۔ بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(5)

[5] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡهُرُ الۡحُرُمُ ﴾ ’’پس جب گزر جائیں مہینے پناہ کے‘‘ یعنی وہ مہینے جن میں معاہد مشرکین کے خلاف جنگ کو حرام ٹھہرایا گیا ہے اور یہ آسانی کے چار ماہ ہیں اور جن کے ساتھ چار ماہ سے زیادہ مدت کا معاہدہ کیا گیا ہے، اس مدت کو پورا کیا جائے.... اس کے بعد ان کے ساتھ معاہدہ کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی۔ ﴿ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَيۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡهُمۡ ﴾ ’’پس مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کردو۔‘‘ یعنی وہ کسی زمانے میں جہاں کہیں بھی ہوں ۔ ﴿ وَخُذُوۡهُمۡ ﴾ ’’ان کو قیدی بناؤ‘‘ ﴿ وَاحۡصُرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور ان کو گھیر لو۔‘‘ یعنی ان پر زمین تنگ کر دو، اللہ کی اس زمین میں انھیں اس طرح نہ چھوڑ دو کہ وہ کھلے دندناتے پھرتے رہیں ، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے عبادت گاہ بنایا ہے۔ یہ لوگ اس زمین پر رہنے کے قابل نہیں بلکہ وہ اس زمین سے بالشت بھر جگہ کے بھی مستحق نہیں ۔ کیونکہ زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور کفار اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ، ان کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ زمین اللہ تعالیٰ کے دین سے خالی ہو جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔ ﴿ وَاقۡعُدُوۡا لَهُمۡ كُلَّ مَرۡصَدٍ ﴾ ’’اور ہر گھات کی جگہ پر ان کی تاک میں بیٹھو۔‘‘ یعنی ہر گھاٹی اور ہر راستے میں گھات لگا کر بیٹھو جہاں سے وہ گزرتے ہیں ۔ ان کے خلاف جہاد کے لیے پوری طرح تیار رہو اور جہاد میں اپنی پوری کوشش صرف کر دو اور ان کے خلاف اس وقت تک جہاد کرتے رہو جب تک کہ وہ اپنے شرک سے توبہ نہ کر لیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿فَاِنۡ تَابُوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ توبہ کرلیں ۔‘‘ یعنی اپنے شرک سے۔ ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اور نماز پڑھنے لگیں ۔‘‘ یعنی اسے اس کے حقوق کے ساتھ ادا کریں ۔ ﴿ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور زکاۃ دینے لگیں ۔‘‘ مستحقین کو زکاۃ دیں ۔ ﴿ فَخَلُّوۡا سَبِيۡلَهُمۡ ﴾ ’’تو ان کی راہ چھوڑ دو۔‘‘ یعنی ان کو چھوڑ دو اب وہ تمھارے برابر ہیں ان کے وہی حقوق ہیں جو تمھارے ہیں اور ان کے ذمے وہی فرائض ہیں جو تمھارے ذمے ہیں ۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کا شرک اور ان کے دیگر کم تر گناہ بخش دیتا ہے۔ انھیں توبہ کی توفیق بخش کر اور پھر اس توبہ کو قبول کر کے انھیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لیتا ہے۔یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی نماز قائم کرنے یا زکاۃ ادا کرنے سے رکے گا، اس کے خلاف اس وقت تک جنگ کی جائے گی جب تک کہ وہ نماز قائم نہیں کرتا اور زکاۃ ادا نہیں کرتا۔ جیسا کہ جناب ابوبکر صدیقt نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیا تھا۔

6

وَإِنْ أَحَدٌۭ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ٱسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُۥ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَعْلَمُونَ

اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچادو۔ اس لیے کہ یہ بےخبر لوگ ہیں

اور اگر کوئی مشرکین میں سے پناہ مانگے آپ سے تو پناہ دے دیں اس کوتاکہ سنے وہ کلام اللہ کا، پھر پہنچا دیں اس کو اس کے امن کی جگہ پر۔ یہ اس سبب سے کہ وہ لوگ ایسے ہیں کہ نہیں علم رکھتے(6)

[6] اللہ تبارک و تعالیٰ کا گزشتہ ارشاد ﴿ فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡهُرُ الۡحُرُمُ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَيۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡهُمۡ وَخُذُوۡهُمۡ وَاحۡصُرُوۡهُمۡ وَاقۡعُدُوۡا لَهُمۡ كُلَّ مَرۡصَدٍ ﴾ تمام اشخاص کے لیے اور تمام احوال میں ایک عام حکم ہے اگر مصلحت ان میں سے کسی کو قریب کرنے کا تقاضا کرتی ہو تو یہ جائز بلکہ واجب ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِنۡ اَحَدٌ مِّنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ اسۡتَجَارَكَ ﴾ ’’اگر مشرکین میں سے کوئی آپ سے پناہ طلب کرے‘‘ یعنی وہ یہ چاہے کہ آپ اس کو ضرر سے بچا لیں تو اس مقصد کے لیے اس کو پناہ دے دیں تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لے اور اسلام میں اچھی طرح غور و فکر کر لے۔ ﴿ فَاَجِرۡهُ حَتّٰى يَسۡمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ﴾ ’’تو اس کو پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔‘‘ یعنی پھر اگر وہ اسلام قبول کر لے تو بہتر ورنہ اسے امن کی جگہ پہنچا دیں یعنی وہ جگہ جہاں وہ مامون ہو اور اس کا سبب یہ ہے کہ کفار بے علم لوگ ہیں ۔ بسااوقات ان کا کفر پر قائم رہنا جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے، جب یہ سبب زائل ہو جاتا ہے تو وہ اسلام قبول کر لیتے ہیں۔اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ اور آپ کی امت کو احکام میں اس کے نمونے کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور وہ یہ کہ کفار میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کو سننے کی خواہش کرے تو اس کو امان دے دیں ۔اس آیت کریمہ میں اہل سنت والجماعت کے مذہب پر صریح دلیل ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام اور غیر مخلوق ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے اور اس نے اس کی اضافت اپنی طرف کی ہے جیسے صفت کی اضافت موصوف کی طرف ہوتی ہے.... نیز اس سے معتزلہ اور ان کے ہم نواؤں کے مذہب کا بطلان ثابت ہوتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن مخلوق ہے.... کتنے ہی دلائل ہیں جو ان کے اس قول کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں ۔ لیکن یہ ان کی تفصیل کا مقام نہیں ۔

7

كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِۦٓ إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّمْ عِندَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۖ فَمَا ٱسْتَقَٰمُوا۟ لَكُمْ فَٱسْتَقِيمُوا۟ لَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ

بھلا مشرکوں کے لیے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بےشک خدا پرہیز گاروں کو دوست رکھتا ہے

کیوں کر ہو سکتا ہے واسطے مشرکوں کے عہد، نزدیک اللہ کے اور نزدیک اس کے رسول کے سوائے ان لوگوں کے جن سے عہد کیا تم نے نزدیک مسجد حرام کے، پس جب تک سیدھے رہیں وہ تمھارے لیے تو سیدھے رہو تم بھی ان کے لیے ، بے شک اللہ پسند کرتا ہے متقیوں کو(7)

[7] یہ اس حکمت الٰہی کا بیان ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہوں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ كَيۡفَ يَكُوۡنُ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ۠ عَهۡدٌ عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ رَسُوۡلِهٖۤ ﴾ ’’کیوں کر ہو مشرکین کے لیے کوئی عہد اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک‘‘ کیا انھوں نے واجبات ایمان کو قائم کیا ہے؟ یا انھوں نے رسول اللہﷺ اور اہل ایمان کو اذیت دینی چھوڑ دی ہے؟.... (بلکہ) انھوں نے حق کے خلاف جنگ کی اور باطل کی مدد کی.... کیا انھوں نے زمین میں فساد پھیلانے کی بھرپور کوشش کر کے اپنے آپ کو اس بات کا مستحق نہیں ٹھہرا لیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے بری الذمہ ہو۔ اللہ اور اس کے رسول کے ہاں ان کے لیے کوئی عہد اور ذمہ نہ ہو؟ ﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ عٰهَدۡتُّمۡ ﴾ ’’سوائے ان کے جن سے تم نے عہد کیا‘‘ یعنی مشرکین میں سے جن کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا ﴿ عِنۡدَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾ ’’مسجد حرام کے پاس‘‘ پس اس عہد میں .... خاص طور پر فضیلت والی اس جگہ پر... ان کے لیے حرمت ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ ان کی رعایت رکھی جائے۔ ﴿ فَمَا اسۡتَقَامُوۡا لَكُمۡ فَاسۡتَقِيۡمُوۡا۠ لَهُمۡ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’پس جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہو بے شک اللہ اہل تقویٰ کو پسند کرتا ہے۔‘‘

بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:

8

كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا۟ عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا۟ فِيكُمْ إِلًّۭا وَلَا ذِمَّةًۭ ۚ يُرْضُونَكُم بِأَفْوَٰهِهِمْ وَتَأْبَىٰ قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَٰسِقُونَ

(بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب ان کا یہ حال ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کر دیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو) قبول نہیں کرتے۔ اور ان میں اکثر نافرمان ہیں

کیوں کر (رہ سکتا ہے عہد) درآں حالیکہ اگر غالب آجائیں وہ تم پر تو نہیں خیال کریں گے وہ تمھارے بارے میں رشتے داری کا اورنہ کسی عہد کا، وہ خوش کرتے ہیں تمھیں ساتھ اپنے مونہوں کے اور انکار کرتے ہیں دل ان کے اوراکثر ان کے نافرمان ہیں(8) بیچا انھوں نے اللہ کی آیتوں کو مول تھوڑے پر اور روکا (لوگوں کو) اس کے راستے سے، پس بے شک برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(9) نہیں خیال کرتے وہ کسی مومن کے بارے میں رشتے داری کا اور نہ کسی عہد کا اور یہ لوگ، وہی ہیں حد سے نکل جانے والے(10) پس اگر وہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ تو وہ تمھارے بھائی ہیں دین میں اور ہم مفصل بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں(11)

[8]﴿ كَيۡفَ﴾ ’’کیسے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لیے کیسے عہد و میثاق ہو سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّظۡهَرُوۡا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں ۔‘‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی رحم نہیں کریں گے۔ ﴿ لَا يَرۡقُبُوۡا فِيۡكُمۡ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً﴾ ’’تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہدکا۔‘‘ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمھارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے بلکہ وہ تمھیں بدترین عذاب دیں گے۔ پس اگر وہ غالب آجائیں تو ان کے ساتھ تمھارا یہ حال ہوگا۔ اگر وہ تم سے ڈر کر تمھارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمھیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ ﴿يُرۡضُوۡنَؔكُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَتَاۡبٰى قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے تمھیں خوش کر دیتے ہیں اور ان کے دل تمھاری طرف میلان اور محبت سے انکار کرتے ہیں ‘‘ بلکہ وہ تمھارے حقیقی دشمن ہیں اور تمھارے ساتھ دلی بغض رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاَكۡثَرُهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے اکثر بدعہد ہیں ‘‘ ان میں کوئی دیانت اور مروت نہیں۔

[9]﴿ اِشۡتَرَوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ﴾ ’’یہ اللہ کی آیات کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل کرنے کی بجائے اس دنیا میں جلدی حاصل ہونے والے خسیس عوض کو اختیار کر لیا۔ ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ انھوں نے خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ سَآءَؔ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ بہت ہی برے کام ہیں جو یہ کرتے ہیں ۔‘‘

[10]﴿ لَا يَرۡقُبُوۡنَ فِيۡ مُؤۡمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً﴾ ’’وہ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔‘‘ یعنی ایمان اور اہل ایمان سے عداوت کی بنا پر وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں کرتے۔ وہ وصف جس کی بنا پر وہ تم سے عداوت اور بغض رکھتے ہیں ... وہ ایمان ہے۔

[11] اس لیے اپنے دین کا دفاع کرو اور اس کی مدد کرو اور جو کوئی تمھارے دین سے عداوت رکھتا ہے اسے اپنا دشمن سمجھو اور جو تمھارے دین کی مدد کرتا ہے اسے اپنا دوست سمجھو۔ دوستی کے وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے دین کو حکم کا مدار بناؤ۔ طبیعت کو دوستی اور دشمنی کا معیار نہ بناؤ کہ جدھر خواہش کا میلان ہو تم بھی ادھر جھک جاؤ اور اس بارے میں اس نفس کی پیروی کرو جو برائی کا حکم دیتا ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ تَابُوۡا ﴾ ’’اگر وہ توبہ کرلیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے شرک سے توبہ کر کے ایمان کی طرف لوٹ آئیں ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخۡوَانُكُمۡ فِي الدِّيۡنِ ﴾ ’’اور نماز قائم کریں ، زکاۃ دیں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں ‘‘ اور اس عداوت کو فراموش کر دو جب وہ مشرک تھے تاکہ تم سب اللہ کے مخلص بندے بن جاؤ اور اس طرح بندہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم احکام کو بیان فرمایا ان میں سے کچھ احکام کی توضیح فرمائی، کچھ حکمتوں اور فیصلوں …

9

ٱشْتَرَوْا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا فَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦٓ ۚ إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

یہ خدا کی آیتوں کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے اور لوگوں کو خدا کے رستے سے روکتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں

کیوں کر (رہ سکتا ہے عہد) درآں حالیکہ اگر غالب آجائیں وہ تم پر تو نہیں خیال کریں گے وہ تمھارے بارے میں رشتے داری کا اورنہ کسی عہد کا، وہ خوش کرتے ہیں تمھیں ساتھ اپنے مونہوں کے اور انکار کرتے ہیں دل ان کے اوراکثر ان کے نافرمان ہیں(8) بیچا انھوں نے اللہ کی آیتوں کو مول تھوڑے پر اور روکا (لوگوں کو) اس کے راستے سے، پس بے شک برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(9) نہیں خیال کرتے وہ کسی مومن کے بارے میں رشتے داری کا اور نہ کسی عہد کا اور یہ لوگ، وہی ہیں حد سے نکل جانے والے(10) پس اگر وہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ تو وہ تمھارے بھائی ہیں دین میں اور ہم مفصل بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں(11)

[8]﴿ كَيۡفَ﴾ ’’کیسے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لیے کیسے عہد و میثاق ہو سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّظۡهَرُوۡا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں ۔‘‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی رحم نہیں کریں گے۔ ﴿ لَا يَرۡقُبُوۡا فِيۡكُمۡ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً﴾ ’’تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہدکا۔‘‘ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمھارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے بلکہ وہ تمھیں بدترین عذاب دیں گے۔ پس اگر وہ غالب آجائیں تو ان کے ساتھ تمھارا یہ حال ہوگا۔ اگر وہ تم سے ڈر کر تمھارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمھیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ ﴿يُرۡضُوۡنَؔكُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَتَاۡبٰى قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے تمھیں خوش کر دیتے ہیں اور ان کے دل تمھاری طرف میلان اور محبت سے انکار کرتے ہیں ‘‘ بلکہ وہ تمھارے حقیقی دشمن ہیں اور تمھارے ساتھ دلی بغض رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاَكۡثَرُهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے اکثر بدعہد ہیں ‘‘ ان میں کوئی دیانت اور مروت نہیں۔

[9]﴿ اِشۡتَرَوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ﴾ ’’یہ اللہ کی آیات کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل کرنے کی بجائے اس دنیا میں جلدی حاصل ہونے والے خسیس عوض کو اختیار کر لیا۔ ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ انھوں نے خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ سَآءَؔ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ بہت ہی برے کام ہیں جو یہ کرتے ہیں ۔‘‘

[10]﴿ لَا يَرۡقُبُوۡنَ فِيۡ مُؤۡمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً﴾ ’’وہ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔‘‘ یعنی ایمان اور اہل ایمان سے عداوت کی بنا پر وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں کرتے۔ وہ وصف جس کی بنا پر وہ تم سے عداوت اور بغض رکھتے ہیں ... وہ ایمان ہے۔

[11] اس لیے اپنے دین کا دفاع کرو اور اس کی مدد کرو اور جو کوئی تمھارے دین سے عداوت رکھتا ہے اسے اپنا دشمن سمجھو اور جو تمھارے دین کی مدد کرتا ہے اسے اپنا دوست سمجھو۔ دوستی کے وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے دین کو حکم کا مدار بناؤ۔ طبیعت کو دوستی اور دشمنی کا معیار نہ بناؤ کہ جدھر خواہش کا میلان ہو تم بھی ادھر جھک جاؤ اور اس بارے میں اس نفس کی پیروی کرو جو برائی کا حکم دیتا ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ تَابُوۡا ﴾ ’’اگر وہ توبہ کرلیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے شرک سے توبہ کر کے ایمان کی طرف لوٹ آئیں ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخۡوَانُكُمۡ فِي الدِّيۡنِ ﴾ ’’اور نماز قائم کریں ، زکاۃ دیں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں ‘‘ اور اس عداوت کو فراموش کر دو جب وہ مشرک تھے تاکہ تم سب اللہ کے مخلص بندے بن جاؤ اور اس طرح بندہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم احکام کو بیان فرمایا ان میں سے کچھ احکام کی توضیح فرمائی، کچھ حکمتوں اور فیصلوں …

10

لَا يَرْقُبُونَ فِى مُؤْمِنٍ إِلًّۭا وَلَا ذِمَّةًۭ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُعْتَدُونَ

یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ اور یہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

کیوں کر (رہ سکتا ہے عہد) درآں حالیکہ اگر غالب آجائیں وہ تم پر تو نہیں خیال کریں گے وہ تمھارے بارے میں رشتے داری کا اورنہ کسی عہد کا، وہ خوش کرتے ہیں تمھیں ساتھ اپنے مونہوں کے اور انکار کرتے ہیں دل ان کے اوراکثر ان کے نافرمان ہیں(8) بیچا انھوں نے اللہ کی آیتوں کو مول تھوڑے پر اور روکا (لوگوں کو) اس کے راستے سے، پس بے شک برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(9) نہیں خیال کرتے وہ کسی مومن کے بارے میں رشتے داری کا اور نہ کسی عہد کا اور یہ لوگ، وہی ہیں حد سے نکل جانے والے(10) پس اگر وہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ تو وہ تمھارے بھائی ہیں دین میں اور ہم مفصل بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں(11)

[8]﴿ كَيۡفَ﴾ ’’کیسے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لیے کیسے عہد و میثاق ہو سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّظۡهَرُوۡا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں ۔‘‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی رحم نہیں کریں گے۔ ﴿ لَا يَرۡقُبُوۡا فِيۡكُمۡ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً﴾ ’’تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہدکا۔‘‘ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمھارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے بلکہ وہ تمھیں بدترین عذاب دیں گے۔ پس اگر وہ غالب آجائیں تو ان کے ساتھ تمھارا یہ حال ہوگا۔ اگر وہ تم سے ڈر کر تمھارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمھیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ ﴿يُرۡضُوۡنَؔكُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَتَاۡبٰى قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے تمھیں خوش کر دیتے ہیں اور ان کے دل تمھاری طرف میلان اور محبت سے انکار کرتے ہیں ‘‘ بلکہ وہ تمھارے حقیقی دشمن ہیں اور تمھارے ساتھ دلی بغض رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاَكۡثَرُهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے اکثر بدعہد ہیں ‘‘ ان میں کوئی دیانت اور مروت نہیں۔

[9]﴿ اِشۡتَرَوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ﴾ ’’یہ اللہ کی آیات کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل کرنے کی بجائے اس دنیا میں جلدی حاصل ہونے والے خسیس عوض کو اختیار کر لیا۔ ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ انھوں نے خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ سَآءَؔ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ بہت ہی برے کام ہیں جو یہ کرتے ہیں ۔‘‘

[10]﴿ لَا يَرۡقُبُوۡنَ فِيۡ مُؤۡمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً﴾ ’’وہ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔‘‘ یعنی ایمان اور اہل ایمان سے عداوت کی بنا پر وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں کرتے۔ وہ وصف جس کی بنا پر وہ تم سے عداوت اور بغض رکھتے ہیں ... وہ ایمان ہے۔

[11] اس لیے اپنے دین کا دفاع کرو اور اس کی مدد کرو اور جو کوئی تمھارے دین سے عداوت رکھتا ہے اسے اپنا دشمن سمجھو اور جو تمھارے دین کی مدد کرتا ہے اسے اپنا دوست سمجھو۔ دوستی کے وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے دین کو حکم کا مدار بناؤ۔ طبیعت کو دوستی اور دشمنی کا معیار نہ بناؤ کہ جدھر خواہش کا میلان ہو تم بھی ادھر جھک جاؤ اور اس بارے میں اس نفس کی پیروی کرو جو برائی کا حکم دیتا ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ تَابُوۡا ﴾ ’’اگر وہ توبہ کرلیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے شرک سے توبہ کر کے ایمان کی طرف لوٹ آئیں ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخۡوَانُكُمۡ فِي الدِّيۡنِ ﴾ ’’اور نماز قائم کریں ، زکاۃ دیں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں ‘‘ اور اس عداوت کو فراموش کر دو جب وہ مشرک تھے تاکہ تم سب اللہ کے مخلص بندے بن جاؤ اور اس طرح بندہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم احکام کو بیان فرمایا ان میں سے کچھ احکام کی توضیح فرمائی، کچھ حکمتوں اور فیصلوں …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.