Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi

Ayahs 1–10 of 129

1

بَرَآءَةٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

(اے اہل اسلام اب) خدا اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ کی تیاری) ہے

سورة التَّوْبَة

نام :

یہ سورہ دو ناموں سے مشہور ہے ۔ ایک التوبہ دوسرے البراءَۃ ۔ توبہ اس لحاظ سے کہ اس میں ایک جگہ بعض اہل ایمان کے قصوروں کی معافی کا ذکر ہے ۔ اور براءۃ اس لحاظ سے کہ اس کے آغاز میں مشرکین سے بریٔ الذمہ ہونے کا اعلان ہے ۔

بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ :

اس سورہ کی ابتداء میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں لکھی جاتی ۔ اس کے متعدد وجوہ مفسرین نے بیان کیے ہیں جن میں بہت کچھ اختلاف ہے ۔ مگر صحیح بات وہی ہے جو امام رازی نے لکھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کے آغاز میں بسم اللہ نہیں لکھوائی تھی اس لیے صحابہ کرام نے بھی نہیں لکھی اور بعد کے لوگ بھی اسی کی پیروی کرتے رہے ۔ یہ اس بات کا مزید ایک ثبوت ہے کہ قرآن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوں کا توں لینے اور جیسا دیا گیا تھا ویسا ہی اس کو محفوظ رکھنے میں کس درجہ احتیاط و اہتمام سے کام لیا گیا ہے ۔

زمانہ نزول اور اجزاءِ سوُرہ :

”یہ سورہ تین تقریروں پر مشتمل ہے:

پہلی تقریر آغازِ سورہ سے پانچویں رکوع کے آخر تک چلتی ہے ۔ اس کا زمانہ نزول ذی القعدہ سن ۹ ھجری یا اس کے لگ بھگ ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر الحاج مقرر کر کے مکہ روانہ کر چکے تھے کہ یہ تقریر نازل ہوئی اور حضور نے فوراً سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے بھیجا تا کہ حج کے موقع پر تمام عرب کے نمائندہ اجتماع میں اسے سنائیں اور اس کے مطابق جو طرزِ عمل تجویز کیا گیا تھا اس کا اعلان کر دیں ۔

دوسری تقریر رکوع ٦ کی ابتدا سے رکوع ۹ کے اختتام تک چلتی ہے اور یہ رجب ۹ ھجری یا اس سے کچھ پہلے نازل ہوئی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کی تیاری کر رہے تھے ۔ اس میں اہل ایمان کو جہاد پر اکسایا گیا ہے اور ان لوگوں کو سختی کے ساتھ ملامت کی گئی ہے جو نفاق یا ضعف ایمان یا سُستی و کاہلی کی وجہ سے راہِ خدا میں جان و مال کا زیاں برداشت کرنے سے جی چرا رہے تھے ۔

تیسری تقریر رکوع ۱۰ سے شروع ہو کر سورۃ کے ساتھ ختم ہوتی ہے اور یہ غزوہ تبوک سے واپسی پر نازل ہوئی ۔ اس میں متعدد ٹکڑے ایسے بھی ہیں جو انہی ایام میں مختلف مواقع پر اُترے اور بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ الہٰی سے ان سب کو یکجا کر کے ایک سلسہ تقریر میں منسلک کر دیا ۔ مگر چونکہ وہ ایک ہی مضمون اور ایک ہی سلسلہ واقعات سے متعلق ہیں اس لیے ربط تقریر میں کہیں خلل نہیں پایا جاتا ۔ اس میں منافقین کی حرکات پر تنبیہ ، غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں پر زجر و توبیخ ، اور ان صادق الایمان لوگوں پر ملامت کے ساتھ معانی کا اعلان ہے جو اپنے ایمان میں سچے تو تھے مگر جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ لینے سے باز رہے تھے ۔

نزول ترتیب کے لحاظ سے پہلی تقریر سب سے آخر میں آنی چاہیے تھی ، لیکن مضمون کی اہمیت کے لحاظ سے وہی سب سے مقدم تھی ، اس لیے مُصحَف کی ترتیب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پہلے رکھا اور بقیہ دونوں تقریروں کو مؤخر کر دیا ۔

تاریخی پس منظر :

زمانہ نزول کی تعیین کے بعد ہمیں اس سورہ کے تاریخی پس منظر پر ایک نگاہ ڈال لینی چاہیے ۔ جس سلسلہ واقعات سے اس کے مضامین کا تعلق ہے اس کی ابتدا صلح حدیبیہ سے ہوتی ہے ۔ حدیبیہ تک چھ سال کی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ اس شکل میں رونما ہو چکا تھا کہ عرب کے تقریبًا ایک تہائی حصہ میں اسلام ایک منظم سوسائٹی کا دین ، ایک مکمل تہذیب و تمدّن ، اور ایک کامل با اختیار ریاست بن گیا تھا ۔ حدیبیہ کی صلح جب واقع ہوئی تو اس دین کو یہ موقع بھی حاصل ہوگیا کہ اپنے اثرات نسبۃ زیادہ امن و اطمینان کے ماحول میں ہر چہار طرف پھیلا سکے ۔ اس کے بعد واقعات کی رفتار نے دو بڑے راستے اختیار کیے جو آگے چل کر نہایت اہم نتائج پر منتہی ہوئے …

2

فَسِيحُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍۢ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى ٱللَّهِ ۙ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُخْزِى ٱلْكَٰفِرِينَ

تو (مشرکو تم) زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہ کرسکو گے۔ اور یہ بھی کہ خدا کافروں کو رسوا کرنے والا ہے

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :3

یہ اعلان ۱۰ ذی الحجہ سن ۹ ھجری کو ہوا تھا ۔ اس وقت ۱۰ ربیع الثانی سن ۱۰ ھجری تک چار مہینہ کی مہلت ان لوگوں کو دی گئی کہ اس دوران میں اپنی پوزیشن پر اچھی طرح غور کرلیں ۔ لڑنا ہو تو لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں ، ملک چھوڑنا ہو تو اپنی جائے پناہ تلاش کر لیں ، اسلام قبول کرنا ہو تو سوچ سمجھ کر قبول کرلیں ۔

3

وَأَذَٰنٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوْمَ ٱلْحَجِّ ٱلْأَكْبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِىٓءٌۭ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُۥ ۚ فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى ٱللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دستبردار ہے) ۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :4

یعنی ۱۰ ذی الحجہ جسے یوم النحر کہتے ہیں ۔ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ حجۃ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے حاضرین سے پوچھا یہ کونسا دین ہے؟ لوگوں نے عرض کیا یوم النحر ہے ۔ فرمایا ھٰذا یوم الحج الاکبر ۔ ” یہ حج اکبر کا دن ہے“ ۔ حج اکبر کا لفظ حج اصغر کے مقابلہ میں ہے ۔ اہل عرب عمرے کو چھوٹا حج کہتے ہیں ۔ اس کے مقابلہ میں وہ حج جو ذوالحجہ کی مقررہ تاریخوں میں کیا جاتا ہے ، وہ حج اکبر کہلاتا ہے ۔

4

إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنقُصُوكُمْ شَيْـًۭٔا وَلَمْ يُظَٰهِرُوا۟ عَلَيْكُمْ أَحَدًۭا فَأَتِمُّوٓا۟ إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَىٰ مُدَّتِهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ

البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور انہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو۔ (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :5

یعنی یہ بات تقویٰ کے خلاف ہوگی کہ جنھوں نے تم سے کوئی عہد شکنی نہیں کی ہے ان سے تم عہد شکنی کرو ۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ صرف وہی لوگ ہیں جو ہرحال میں تقویٰ پر قائم رہیں ۔

5

فَإِذَا ٱنسَلَخَ ٱلْأَشْهُرُ ٱلْحُرُمُ فَٱقْتُلُوا۟ ٱلْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَٱحْصُرُوهُمْ وَٱقْعُدُوا۟ لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍۢ ۚ فَإِن تَابُوا۟ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ فَخَلُّوا۟ سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :6

یہاں حرام مہینوں سے اصطلاحی اشہُر حرُم مراد نہیں ہیں جو حج اور عُمرے کے لیے حرام قرار دیے گئے ہیں ۔ بلکہ اس جگہ وہ چار مہینے مراد ہیں جن کی مشرکین کو مہلت دی گئی تھی ۔ چونکہ اس مہلت کے زمانہ میں مسلمانوں کے لیے جائز نہ تھا کہ مشرکین پر حملہ آور ہوجاتے اس لیے انہیں حرام مہینے فرمایا گیا ہے ۔

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :7

یعنی کفر و شرک سے محض توبہ کر لینے پر معاملہ ختم نہ ہوگا بلکہ انہیں عملًا نماز قائم کرنی اور زکوٰۃ دینی ہوگی ۔ اس کے بغیر یہ نہیں مانا جائے گا کہ انہوں نے کفر چھوڑ کر اسلام اختیار کر لیا ہے ۔ اسی آیت سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فتنہ ارتداد کے زمانہ میں استدلال کیا تھا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جن لوگوں نے فتنہ برپا کیا تھا ان میں سے ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم اسلام کے منکر نہیں ہیں ، نماز بھی پڑھنے کے لیے تیار ہیں ، مگر زکوٰۃ نہیں دیں گے ۔ صحابہ کرام کو بالعموم یہ پریشانی لاحق تھی کہ آخر ایسے لوگوں کے خلاف تلوار کیسے اٹھائی جا سکتی ہے؟ مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کا حوالہ دے کر فرمایا کہ ہمیں تو ان لوگوں کو چھوڑ دینے کا حکم صرف اس صورت میں دیا گیا تھا جبکہ یہ شرک سے توبہ کریں ، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں ، مگر جب یہ تین شرطوں میں سے ایک شرط اُڑائے دیتے ہیں تو پھر انہیں ہم کیسے چھوڑ دیں ۔

6

وَإِنْ أَحَدٌۭ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ٱسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُۥ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَعْلَمُونَ

اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچادو۔ اس لیے کہ یہ بےخبر لوگ ہیں

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :8

یعنی دوران جنگ میں اگر کوئی دشمن تم سے درخواست کرے کہ میں اسلام کو سمجھنا چاہتا ہوں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ اسے امان دے کر اپنے ہاں آ نے کا موقع دیں اور اسے سمجھائیں ، پھر اگر وہ قبول نہ کرے تو اسے اپنی حفاظت میں اس کے ٹھکانے تک واپس پہنچا دیں ۔ فقہ اسلامی میں ایسے شخص کو جو امان لے کر دارالاسلام میں آئے مُستامن کہا جاتا ہے ۔

7

كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِۦٓ إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّمْ عِندَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۖ فَمَا ٱسْتَقَٰمُوا۟ لَكُمْ فَٱسْتَقِيمُوا۟ لَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ

بھلا مشرکوں کے لیے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بےشک خدا پرہیز گاروں کو دوست رکھتا ہے

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :9

یعنی بنی کنانہ اور بنی خزاعہ اور بنی ضمرہ

8

كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا۟ عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا۟ فِيكُمْ إِلًّۭا وَلَا ذِمَّةًۭ ۚ يُرْضُونَكُم بِأَفْوَٰهِهِمْ وَتَأْبَىٰ قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَٰسِقُونَ

(بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب ان کا یہ حال ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کر دیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو) قبول نہیں کرتے۔ اور ان میں اکثر نافرمان ہیں

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :10

یعنی بظاہر تو وہ صلح کی شرطیں طے کرتے ہیں مگر دل میں بدعہدی کا ارادہ ہوتا ہے اور اس کا ثبوت تجربے سے اس طرح ملتا ہے کہ جب کبھی انہوں نے معاہدہ کیا توڑنے ہی کے لیے کیا ۔

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :11

یعنی ایسے لوگ ہیں جنہیں نہ اخلاقی ذمہ داریوں کا احساس ہے اور نہ اخلاق کی پابندیوں کے توڑنے میں کوئی باک ۔

9

ٱشْتَرَوْا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا فَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦٓ ۚ إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

یہ خدا کی آیتوں کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے اور لوگوں کو خدا کے رستے سے روکتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :12

یعنی ایک طرف اللہ کی آیات ان کو بھلائی اور راستی اور قانون حق کی پابندی کا بلاوا دے رہی ہے دوسری طرف دنیوی زندگی کے وہ چند روزہ فائدے تھے جو خواہش نفس کی بے لگام پیروی سے حاصل ہوتے تھے ان لوگوں نے ان دونوں چیزوں کا موازنہ کیا اور پھر پہلی کو چھوڑ کر دوسری چیز کو اپنے لئے چن لیا ۔

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :13

یعنی ان ظالموں نے اتنے ہی پر اکتفا نہ کیا کہ ہدایت کے بجائے گمراہی کو خود اپنے لیے پسند کر لیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر انہوں نے کوشش یہ کی کہ دعوت حق کا کام کسی طرح چلنے نہ پائے ، خیر وہ صلاح کی اس پکار کو کوئی سننے نہ پائے ، بلکہ وہ منہ ہی بند کر دیے جائیں جن سے یہ پکار بلند ہوتی ہے ۔ جس صالح نظام زندگی کو اللہ تعالیٰ زمین میں قائم کرنا چاہتا تھا اس کے قیام کو روکنے میں انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور ان لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا جو اس نظام کو حق پا کر اس کے متبع بنے تھے ۔

10

لَا يَرْقُبُونَ فِى مُؤْمِنٍ إِلًّۭا وَلَا ذِمَّةًۭ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُعْتَدُونَ

یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ اور یہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

Explained together with ayah 9

Commentary: Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.