Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 31–40 of 129

31

ٱتَّخَذُوٓا۟ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَٰنَهُمْ أَرْبَابًۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلْمَسِيحَ ٱبْنَ مَرْيَمَ وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوٓا۟ إِلَٰهًۭا وَٰحِدًۭا ۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ عَمَّا يُشْرِكُونَ

انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو الله کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ اُن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے

اور کہا یہودیوں نے، عزیر بیٹا ہے اللہ کا اور کہا نصاریٰ نے ، مسیح بیٹا ہے اللہ کا، یہ بات ہے ان کے مونہوں کی، (یوں) مشابہت کرتے ہیں وہ ان لوگوں کی بات کی جنھوں نے کفر کیا ان سے پہلے، ہلاک کرے ان کو اللہ، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں(30) بنا لیا انھوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو(اپنا) رب، اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح ابن مریم کو(بھی) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ وہ عبادت کریں(صرف) ایک معبود کی، نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے، وہ پاک ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں(31)وہ چاہتے ہیں یہ کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے اورانکار کرتا ہے اللہ مگر یہ کہ پورا کرے اپنا نور، اگرچہ ناخوش ہوں کافر(32) وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ غالب کرے اس کو سب دینوں پر، اگرچہ ناخوش ہوں مشرک(33)

[30] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ قتال کا حکم دیا تو ان کے ان خبیث اقوال کا ذکر کیا، جو اہل ایمان کو، جن کے اندر اپنے دین اور اپنے رب کے بارے میں غیرت ہوتی ہے، ان کے ساتھ جنگ کرنے، ان کے خلاف جدوجہد کرنے اور اس میں پوری کوشش صرف کرنے پر آمادہ کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾ ’’یہود نے کہا، عزیر اللہ کے بیٹے ہیں ‘‘ ان کا یہ قول ان کے تمام عوام کا قول نہ تھا بلکہ ان میں سے ایک فرقے کا قول تھا، البتہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہودیوں کی سرشت میں خباثت اور شر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جس نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ بات کہنے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال میں نقص ثابت کرنے کی جسارت کی۔بعض اہل علم کہتے ہیں کہ حضرت عزیرu کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرنے کا سبب یہ تھا کہ جب (غیر اسرائیلی مشرک) بادشاہوں نے ان پر تسلط حاصل کر کے ان کو تتر بتر کر دیا اور حاملین تورات کو قتل کر دیا، اس کے بعد انھوں نے جناب عزیر کو پایا کہ تمام تورات یا اس کا بیشتر حصہ ان کو حفظ ہے، حضرت عزیرu نے ان کو تورات اپنے حافظہ سے املا کروا دی اور انھوں نے تورات کو لکھ لیا۔ بنابریں انھوں نے حضرت عزیرu کے بارے میں یہ بدترین دعویٰ کیا۔ ﴿ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الۡمَسِيۡحُ ﴾ ’’اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح‘‘ عیسیٰ ابن مریم ﴿ ابۡنُ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کا بیٹا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی وہ قول جو یہ کہتے ہیں ۔ ﴿ قَوۡلُهُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’باتیں ہیں ان کے مونہوں کی‘‘ جس کی صداقت پر یہ لوگ کوئی حجت اور دلیل قائم نہیں کر سکے۔ جس شخص کو اس بات کی پروا نہ ہو کہ وہ کیا بولتا ہے اگر وہ کیسی بھی بات کرے تو اس کے بارے میں یہ چیز تعجب خیز نہیں کیونکہ اس کے پاس کوئی عقل اور کوئی دین نہیں جو اس کو ایسی بات کرنے سے روکے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يُضَاهِــُٔوۡنَ ﴾ ’’وہ مشابہت رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اپنے اس قول میں مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ قَوۡلَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ان لوگوں کے قول کے جنھوں نے اس سے پہلے کفر کیا‘‘ یعنی ان کا قول مشرکین کے قول سے مشابہت رکھتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ باطل ہونے میں ان کے اقوال باہم مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞۚ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’اللہ ان کو ہلاک کرے، کہاں پھرے جاتے ہیں ‘‘ یعنی وہ کیسے واضح اور خالص حق کو واضح طور پر باطل کی طرف موڑ دیتے ہیں ۔

[31] یہ رویہ اگرچہ ایک بڑی امت سے بہت نادر اور عجیب سا لگتا ہے کہ وہ کسی ایسی بات پر متفق ہو جس کے بطلان پر ادنیٰ سا غور و فکر اور عقل اور سمجھ دلالت کرتے ہیں کیونکہ اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَحۡبَارَهُمۡ ﴾ ’’انھوں نے ٹھہرا لیا اپنے احبار کو‘‘ (اَحْبَار) سے مراد ان کے …

32

يُرِيدُونَ أَن يُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ وَيَأْبَى ٱللَّهُ إِلَّآ أَن يُتِمَّ نُورَهُۥ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَٰفِرُونَ

یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں۔ اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے

اور کہا یہودیوں نے، عزیر بیٹا ہے اللہ کا اور کہا نصاریٰ نے ، مسیح بیٹا ہے اللہ کا، یہ بات ہے ان کے مونہوں کی، (یوں) مشابہت کرتے ہیں وہ ان لوگوں کی بات کی جنھوں نے کفر کیا ان سے پہلے، ہلاک کرے ان کو اللہ، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں(30) بنا لیا انھوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو(اپنا) رب، اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح ابن مریم کو(بھی) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ وہ عبادت کریں(صرف) ایک معبود کی، نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے، وہ پاک ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں(31)وہ چاہتے ہیں یہ کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے اورانکار کرتا ہے اللہ مگر یہ کہ پورا کرے اپنا نور، اگرچہ ناخوش ہوں کافر(32) وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ غالب کرے اس کو سب دینوں پر، اگرچہ ناخوش ہوں مشرک(33)

[30] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ قتال کا حکم دیا تو ان کے ان خبیث اقوال کا ذکر کیا، جو اہل ایمان کو، جن کے اندر اپنے دین اور اپنے رب کے بارے میں غیرت ہوتی ہے، ان کے ساتھ جنگ کرنے، ان کے خلاف جدوجہد کرنے اور اس میں پوری کوشش صرف کرنے پر آمادہ کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾ ’’یہود نے کہا، عزیر اللہ کے بیٹے ہیں ‘‘ ان کا یہ قول ان کے تمام عوام کا قول نہ تھا بلکہ ان میں سے ایک فرقے کا قول تھا، البتہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہودیوں کی سرشت میں خباثت اور شر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جس نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ بات کہنے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال میں نقص ثابت کرنے کی جسارت کی۔بعض اہل علم کہتے ہیں کہ حضرت عزیرu کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرنے کا سبب یہ تھا کہ جب (غیر اسرائیلی مشرک) بادشاہوں نے ان پر تسلط حاصل کر کے ان کو تتر بتر کر دیا اور حاملین تورات کو قتل کر دیا، اس کے بعد انھوں نے جناب عزیر کو پایا کہ تمام تورات یا اس کا بیشتر حصہ ان کو حفظ ہے، حضرت عزیرu نے ان کو تورات اپنے حافظہ سے املا کروا دی اور انھوں نے تورات کو لکھ لیا۔ بنابریں انھوں نے حضرت عزیرu کے بارے میں یہ بدترین دعویٰ کیا۔ ﴿ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الۡمَسِيۡحُ ﴾ ’’اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح‘‘ عیسیٰ ابن مریم ﴿ ابۡنُ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کا بیٹا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی وہ قول جو یہ کہتے ہیں ۔ ﴿ قَوۡلُهُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’باتیں ہیں ان کے مونہوں کی‘‘ جس کی صداقت پر یہ لوگ کوئی حجت اور دلیل قائم نہیں کر سکے۔ جس شخص کو اس بات کی پروا نہ ہو کہ وہ کیا بولتا ہے اگر وہ کیسی بھی بات کرے تو اس کے بارے میں یہ چیز تعجب خیز نہیں کیونکہ اس کے پاس کوئی عقل اور کوئی دین نہیں جو اس کو ایسی بات کرنے سے روکے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يُضَاهِــُٔوۡنَ ﴾ ’’وہ مشابہت رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اپنے اس قول میں مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ قَوۡلَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ان لوگوں کے قول کے جنھوں نے اس سے پہلے کفر کیا‘‘ یعنی ان کا قول مشرکین کے قول سے مشابہت رکھتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ باطل ہونے میں ان کے اقوال باہم مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞۚ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’اللہ ان کو ہلاک کرے، کہاں پھرے جاتے ہیں ‘‘ یعنی وہ کیسے واضح اور خالص حق کو واضح طور پر باطل کی طرف موڑ دیتے ہیں ۔

[31] یہ رویہ اگرچہ ایک بڑی امت سے بہت نادر اور عجیب سا لگتا ہے کہ وہ کسی ایسی بات پر متفق ہو جس کے بطلان پر ادنیٰ سا غور و فکر اور عقل اور سمجھ دلالت کرتے ہیں کیونکہ اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَحۡبَارَهُمۡ ﴾ ’’انھوں نے ٹھہرا لیا اپنے احبار کو‘‘ (اَحْبَار) سے مراد ان کے …

33

هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُشْرِكُونَ

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے۔ اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں

اور کہا یہودیوں نے، عزیر بیٹا ہے اللہ کا اور کہا نصاریٰ نے ، مسیح بیٹا ہے اللہ کا، یہ بات ہے ان کے مونہوں کی، (یوں) مشابہت کرتے ہیں وہ ان لوگوں کی بات کی جنھوں نے کفر کیا ان سے پہلے، ہلاک کرے ان کو اللہ، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں(30) بنا لیا انھوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو(اپنا) رب، اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح ابن مریم کو(بھی) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ وہ عبادت کریں(صرف) ایک معبود کی، نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے، وہ پاک ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں(31)وہ چاہتے ہیں یہ کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے اورانکار کرتا ہے اللہ مگر یہ کہ پورا کرے اپنا نور، اگرچہ ناخوش ہوں کافر(32) وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ غالب کرے اس کو سب دینوں پر، اگرچہ ناخوش ہوں مشرک(33)

[30] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ قتال کا حکم دیا تو ان کے ان خبیث اقوال کا ذکر کیا، جو اہل ایمان کو، جن کے اندر اپنے دین اور اپنے رب کے بارے میں غیرت ہوتی ہے، ان کے ساتھ جنگ کرنے، ان کے خلاف جدوجہد کرنے اور اس میں پوری کوشش صرف کرنے پر آمادہ کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾ ’’یہود نے کہا، عزیر اللہ کے بیٹے ہیں ‘‘ ان کا یہ قول ان کے تمام عوام کا قول نہ تھا بلکہ ان میں سے ایک فرقے کا قول تھا، البتہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہودیوں کی سرشت میں خباثت اور شر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جس نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ بات کہنے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال میں نقص ثابت کرنے کی جسارت کی۔بعض اہل علم کہتے ہیں کہ حضرت عزیرu کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرنے کا سبب یہ تھا کہ جب (غیر اسرائیلی مشرک) بادشاہوں نے ان پر تسلط حاصل کر کے ان کو تتر بتر کر دیا اور حاملین تورات کو قتل کر دیا، اس کے بعد انھوں نے جناب عزیر کو پایا کہ تمام تورات یا اس کا بیشتر حصہ ان کو حفظ ہے، حضرت عزیرu نے ان کو تورات اپنے حافظہ سے املا کروا دی اور انھوں نے تورات کو لکھ لیا۔ بنابریں انھوں نے حضرت عزیرu کے بارے میں یہ بدترین دعویٰ کیا۔ ﴿ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الۡمَسِيۡحُ ﴾ ’’اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح‘‘ عیسیٰ ابن مریم ﴿ ابۡنُ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کا بیٹا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی وہ قول جو یہ کہتے ہیں ۔ ﴿ قَوۡلُهُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’باتیں ہیں ان کے مونہوں کی‘‘ جس کی صداقت پر یہ لوگ کوئی حجت اور دلیل قائم نہیں کر سکے۔ جس شخص کو اس بات کی پروا نہ ہو کہ وہ کیا بولتا ہے اگر وہ کیسی بھی بات کرے تو اس کے بارے میں یہ چیز تعجب خیز نہیں کیونکہ اس کے پاس کوئی عقل اور کوئی دین نہیں جو اس کو ایسی بات کرنے سے روکے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يُضَاهِــُٔوۡنَ ﴾ ’’وہ مشابہت رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اپنے اس قول میں مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ قَوۡلَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ان لوگوں کے قول کے جنھوں نے اس سے پہلے کفر کیا‘‘ یعنی ان کا قول مشرکین کے قول سے مشابہت رکھتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ باطل ہونے میں ان کے اقوال باہم مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞۚ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’اللہ ان کو ہلاک کرے، کہاں پھرے جاتے ہیں ‘‘ یعنی وہ کیسے واضح اور خالص حق کو واضح طور پر باطل کی طرف موڑ دیتے ہیں ۔

[31] یہ رویہ اگرچہ ایک بڑی امت سے بہت نادر اور عجیب سا لگتا ہے کہ وہ کسی ایسی بات پر متفق ہو جس کے بطلان پر ادنیٰ سا غور و فکر اور عقل اور سمجھ دلالت کرتے ہیں کیونکہ اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَحۡبَارَهُمۡ ﴾ ’’انھوں نے ٹھہرا لیا اپنے احبار کو‘‘ (اَحْبَار) سے مراد ان کے …

34

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلْأَحْبَارِ وَٱلرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلْبَٰطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۗ وَٱلَّذِينَ يَكْنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍۢ

مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنادو

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! بے شک بہت سے علماء اوردرویش ، البتہ کھاتے ہیں مال لوگوں کے باطل طریقے سےاور روکتے ہیں وہ (لوگوں کو) اللہ کے راستے سےاور وہ لوگ جو جمع کرکے رکھتے ہیں سونا اور چاندی اورنہیں خرچ کرتے اسے اللہ کی راہ میں۔ پس خوش خبری دے دیجیے ان کو ساتھ عذاب درد ناک کے(34) جس دن کہ تپایا جائے گا وہ (مال) جہنم کی آگ میں، پھر داغا جائے گا اس سے ان کی پیشانیوں کو اوران کے پہلوؤں کو اوران کی پیٹھوں کو(اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ جو تم جمع کرکرکے رکھتے تھے اپنے نفسوں کے لیے، سو (مزہ) چکھو تم (اس کا) جو تھے تم جمع کرکر کے رکھتے(35)

[34] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے اہل ایمان بندوں کو تحذیر ہے کہ وہ بہت سے احبار اور رہبان، یعنی اہل کتاب کے علماء اور عبادت گزاروں سے بچیں جو باطل یعنی ناحق طریقے سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور انھیں اللہ کے راستے سے روکتے ہیں کیونکہ ان کے علم، ان کی عبادت اور ان کی پیشوائی کی وجہ سے لوگوں کے مال اور ان کے چندوں میں سے ان کے وظائف مقرر ہیں ۔ یہ احبار و رہبان وظائف لیتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ۔ ان کا اس طریقے سے وظائف لینا حرام اور ظلم ہے۔ کیونکہ لوگ ان پر اپنا مال اس لیے خرچ کرتے تھے تاکہ وہ راہ راست کی طرف ان کی راہ نمائی کریں اور ناحق طریقے سے لوگوں کا مال ہتھیانے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ لوگ ان کو مال دے کر ایسا فتویٰ حاصل کرتے تھے یا ان سے ایسا فیصلہ کرواتے تھے جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق نہیں ہوتا تھا۔ ان احبار و رہبان کی ان دو حالتوں سے بچنا چاہیے :(۱) لوگوں کا مال ناحق لینا۔ (۲)لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا۔﴿ وَالَّذِيۡنَ يَكۡنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالۡفِضَّةَ’’اور جو لوگ سونا اور چاندي جمع كرتے هيں ۔‘‘ يعني ان كو روك ركهتے هيں ۔ ﴿ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَهَا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور ان کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی بھلائی کے راستوں میں خرچ نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے ہیں ۔ یہ وہ جمع کرنا ہے جو حرام ہے، یعنی مال کو روک رکھنا اور اسے وہاں خرچ نہ کرنا جہاں خرچ کرنا فرض ہے، مثلاً: زکاۃ ادا نہ کرنا، بیویوں اور دیگر اقارب کو نفقات واجبہ نہ دینا۔ ﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’تو انھیں دردناک عذاب کی خوشخبری دیجیے۔‘‘

[35] پھر اس عذاب کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُحۡمٰؔى عَلَيۡهَا﴾ ’’جس دن اس (مال) کو گرم کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کے مال پر آگ دہکائی جائے گی۔ ﴿ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ﴾ ’’جہنم کی آگ میں ۔‘‘ یعنی ہر دینار اور ہر درہم پر علیحدہ علیحدہ آگ دہکائی جائے گی۔ ﴿ فَتُكۡوٰى بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوۡبُهُمۡ وَظُهُوۡرُهُمۡ﴾ ’’(پھر اس سے قیامت کے روز) ان لوگوں کی پیشانیوں ، ان کے پہلوؤں اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا۔‘‘ جب بھی یہ دینار و درہم ٹھنڈے پڑ جائیں گے تو ان کو دوبارہ دن بھر تپایا جائے گا اور وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا اور انھیں زجر و توبیخ اور ملامت کرتے ہوئے کہا جائے گا۔ ﴿ هٰؔذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ فَذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَكۡنِزُوۡنَؔ ﴾’’یہی وہ مال ہے جو تم سینت سینت کر رکھتے تھے اپنی جانوں کے لیے اب مزہ چکھو اپنے جمع کرنے کا‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے تم پر ظلم نہیں کیا بلکہ تم نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اس خزانے کے ذریعے سے تم نے اپنی جانوں کو عذاب میں مبتلا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو آیات کریمہ میں انسان کے اپنے مال کے بارے میں انحراف کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ انحراف دو امور کے ذریعے سے ہوتا ہے۔(۱) انسان اس کو باطل کے راستے میں خرچ کرتا ہے جس کا اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ اس سے اس کو صرف نقصان ہی پہنچتا ہے، مثلاً:معاصی اور شہوات میں مال خرچ کرنا جس سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر …

35

يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِى نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا۟ مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ

جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا۔ پھر اس سے ان (بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! بے شک بہت سے علماء اوردرویش ، البتہ کھاتے ہیں مال لوگوں کے باطل طریقے سےاور روکتے ہیں وہ (لوگوں کو) اللہ کے راستے سےاور وہ لوگ جو جمع کرکے رکھتے ہیں سونا اور چاندی اورنہیں خرچ کرتے اسے اللہ کی راہ میں۔ پس خوش خبری دے دیجیے ان کو ساتھ عذاب درد ناک کے(34) جس دن کہ تپایا جائے گا وہ (مال) جہنم کی آگ میں، پھر داغا جائے گا اس سے ان کی پیشانیوں کو اوران کے پہلوؤں کو اوران کی پیٹھوں کو(اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ جو تم جمع کرکرکے رکھتے تھے اپنے نفسوں کے لیے، سو (مزہ) چکھو تم (اس کا) جو تھے تم جمع کرکر کے رکھتے(35)

[34] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے اہل ایمان بندوں کو تحذیر ہے کہ وہ بہت سے احبار اور رہبان، یعنی اہل کتاب کے علماء اور عبادت گزاروں سے بچیں جو باطل یعنی ناحق طریقے سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور انھیں اللہ کے راستے سے روکتے ہیں کیونکہ ان کے علم، ان کی عبادت اور ان کی پیشوائی کی وجہ سے لوگوں کے مال اور ان کے چندوں میں سے ان کے وظائف مقرر ہیں ۔ یہ احبار و رہبان وظائف لیتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ۔ ان کا اس طریقے سے وظائف لینا حرام اور ظلم ہے۔ کیونکہ لوگ ان پر اپنا مال اس لیے خرچ کرتے تھے تاکہ وہ راہ راست کی طرف ان کی راہ نمائی کریں اور ناحق طریقے سے لوگوں کا مال ہتھیانے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ لوگ ان کو مال دے کر ایسا فتویٰ حاصل کرتے تھے یا ان سے ایسا فیصلہ کرواتے تھے جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق نہیں ہوتا تھا۔ ان احبار و رہبان کی ان دو حالتوں سے بچنا چاہیے :(۱) لوگوں کا مال ناحق لینا۔ (۲)لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا۔﴿ وَالَّذِيۡنَ يَكۡنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالۡفِضَّةَ’’اور جو لوگ سونا اور چاندي جمع كرتے هيں ۔‘‘ يعني ان كو روك ركهتے هيں ۔ ﴿ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَهَا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور ان کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی بھلائی کے راستوں میں خرچ نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے ہیں ۔ یہ وہ جمع کرنا ہے جو حرام ہے، یعنی مال کو روک رکھنا اور اسے وہاں خرچ نہ کرنا جہاں خرچ کرنا فرض ہے، مثلاً: زکاۃ ادا نہ کرنا، بیویوں اور دیگر اقارب کو نفقات واجبہ نہ دینا۔ ﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’تو انھیں دردناک عذاب کی خوشخبری دیجیے۔‘‘

[35] پھر اس عذاب کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُحۡمٰؔى عَلَيۡهَا﴾ ’’جس دن اس (مال) کو گرم کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کے مال پر آگ دہکائی جائے گی۔ ﴿ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ﴾ ’’جہنم کی آگ میں ۔‘‘ یعنی ہر دینار اور ہر درہم پر علیحدہ علیحدہ آگ دہکائی جائے گی۔ ﴿ فَتُكۡوٰى بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوۡبُهُمۡ وَظُهُوۡرُهُمۡ﴾ ’’(پھر اس سے قیامت کے روز) ان لوگوں کی پیشانیوں ، ان کے پہلوؤں اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا۔‘‘ جب بھی یہ دینار و درہم ٹھنڈے پڑ جائیں گے تو ان کو دوبارہ دن بھر تپایا جائے گا اور وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا اور انھیں زجر و توبیخ اور ملامت کرتے ہوئے کہا جائے گا۔ ﴿ هٰؔذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ فَذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَكۡنِزُوۡنَؔ ﴾’’یہی وہ مال ہے جو تم سینت سینت کر رکھتے تھے اپنی جانوں کے لیے اب مزہ چکھو اپنے جمع کرنے کا‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے تم پر ظلم نہیں کیا بلکہ تم نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اس خزانے کے ذریعے سے تم نے اپنی جانوں کو عذاب میں مبتلا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو آیات کریمہ میں انسان کے اپنے مال کے بارے میں انحراف کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ انحراف دو امور کے ذریعے سے ہوتا ہے۔(۱) انسان اس کو باطل کے راستے میں خرچ کرتا ہے جس کا اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ اس سے اس کو صرف نقصان ہی پہنچتا ہے، مثلاً:معاصی اور شہوات میں مال خرچ کرنا جس سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر …

36

إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثْنَا عَشَرَ شَهْرًۭا فِى كِتَٰبِ ٱللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ مِنْهَآ أَرْبَعَةٌ حُرُمٌۭ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا۟ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَٰتِلُوا۟ ٱلْمُشْرِكِينَ كَآفَّةًۭ كَمَا يُقَٰتِلُونَكُمْ كَآفَّةًۭ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ

خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں۔ ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا۔ اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے

بے شک شمار مہینوں کا، نزدیک اللہ کے بارہ مہینے ہی ہیں،اللہ کی کتاب میں، جس دن کہ پیدا کیے اس نے آسمان اور زمین، ان میں سے چار (مہینے) ہیں حرمت والے، یہی ہے دین سیدھا، پس نہ ظلم کرو تم ان میں اپنی جانوں پراور لڑو تم مشرکوں سے اکٹھے جیسے وہ لڑتے ہیں تم سے اکٹھےاور جان لو کہ اللہ ساتھ ہے پرہیز گاروں کے(36)

[36]﴿ اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں ۔ ﴿ اثۡنَا عَشَرَ شَهۡرًا ﴾ ’’بارہ مہینے ہے‘‘ یہ وہی معروف مہینے ہیں ۔ ﴿ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی کتاب میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم قدری میں ۔ ﴿ يَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’جس دن اس نے پیدا کیے تھے آسمان اور زمین‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیل و نہار جاری کیے، اس کے اوقات کی مقدار مقرر کی اور اس کو ان بارہ مہینوں میں تقسیم کیا۔ ﴿ مِنۡهَاۤ اَرۡبَعَةٌ حُرُمٌؔ﴾’’ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ‘‘ اور یہ ہیں رجب، ذیقعد، ذوالحج اور محرم... اور ان کے احترام کی وجہ سے ان کو حرام مہینوں سے موسوم کیا گیا ہے۔ نیز ان کو اس وجہ سے بھی حرام مہینے کہا گیا ہے کہ ان میں قتال کرنا حرام ٹھہرایا گیا ہے۔﴿فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِيۡهِنَّ اَنۡفُسَكُمۡ﴾ ’’پس ان میں تم اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر بارہ مہینوں کی طرف لوٹتی ہے اور یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس نے ان مہینوں کو بندوں کے لیے وقت کی مقدار کے تعین کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ پس ان مہینوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے معمور رکھا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان پر اس کا شکر ادا کیا جائے۔ نیز یہ کہ اس نے ان مہینوں کو اپنے بندوں (کے مصالح) کے لیے مقرر فرمایا۔ پس اپنے آپ پر ظلم کرنے سے بچو۔ اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر چار حرام مہینوں کی طرف لوٹتی ہو یعنی ان کے لیے ممانعت ہے کہ وہ خاص طور پر ان چار مہینوں میں ظلم کریں ۔ حالانکہ تمام اوقات میں ظلم کرنے کی ممانعت ہے لیکن چونکہ ان چار مہینوں کی حرمت زیادہ ہے اور ان مہینوں میں دوسرے مہینوں کی نسبت ظلم کے گناہ کی شدت بھی زیادہ ہے، اس لیے ان مہینوں میں ظلم کرنے سے بطور خاص منع کیا گیا۔ان چار مہینوں میں ان علماء کے نزدیک، جو یہ کہتے ہیں کہ حرام مہینوں میں لڑائی کی تحریم منسوخ نہیں ، لڑائی کرنا ممنوع ہے۔ یہ ان مہینوں میں قتال کی تحریم کے بارے میں عام نصوص پر عمل کرتے ہیں ۔بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ان مہینوں میں قتال کی تحریم منسوخ ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی عمومیت پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ وَقَاتِلُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ كَآفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ كَآفَّةً﴾ ’’اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں ۔‘‘ یعنی تمام قسم کے مشرکین اور رب العالمین کا انکار کرنے والوں سے لڑو اور لڑائی کے لیے کسی کو مخصوص نہ کرو بلکہ تمام مشرکین اور کفار کو اپنا دشمن سمجھو جیسا کہ تمھارے ساتھ ان کا رویہ ہے۔ وہ اہل ایمان کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور شرارت سے کبھی نہیں چوکتے۔اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ ﴿ كَآفَّةً﴾ واؤ سے حال ہو، تب معنی یہ ہوگا کہ تم سب اکٹھے ہو کر مشرکین سے جنگ کرو، تب اس صورت میں تمام اہل ایمان پر جہاد کے لیے نکلنا فرض ہے۔ اس احتمال کے مطابق یہ آیت کریمہ، اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَمَا كَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لِيَنۡفِرُوۡا كَآفَّةً﴾(التوبۃ: 9؍122)’’اہل ایمان کے لیے ضروری نہ تھا کہ وہ سارے کے سارے نکل کھڑے ہوتے۔‘‘کے لیے ناسخ قرار پائے گی۔﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’اور جان رکھو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مدد، نصرت اور تائید کے ذریعے سے تقویٰ شعار لوگوں کے ساتھ ہے۔ پس تم اپنے ظاہر و باطن اور اطاعت الٰہی پر …

37

إِنَّمَا ٱلنَّسِىٓءُ زِيَادَةٌۭ فِى ٱلْكُفْرِ ۖ يُضَلُّ بِهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُحِلُّونَهُۥ عَامًۭا وَيُحَرِّمُونَهُۥ عَامًۭا لِّيُوَاطِـُٔوا۟ عِدَّةَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ فَيُحِلُّوا۟ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ ۚ زُيِّنَ لَهُمْ سُوٓءُ أَعْمَٰلِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ

امن کے کس مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں اضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کو جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔ اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

بے شک مہینے کو پیچھے ہٹا دینا تو زیادتی ہے کفر میں، گمراہ کیے جاتے ہیں اس کی وجہ سے کافر لوگ، حلال کرلیتے ہیں وہ اس کو ایک سال اور حرام کردیتے ہیں اس کو (دوسرے) سال تاکہ پوری کریں گنتی ان مہینوں کی جو حرام ٹھہرائے اللہ نے۔ پس وہ حلال کرلیتے ہیں جس کو حرام کیا اللہ نے، مزین کردیے گئے ان کے لیے برے عمل ان کےاور اللہ نہیں ہدایت دیتا کافر قوم کو(37)

[37]﴿النَّسِيۡٓءُ﴾’’تاخیر‘‘ وہ ہے جو اہل جاہلیت حرام مہینوں میں استعمال کیا کرتے تھے۔ یہ ان کی جملہ بدعات میں سے ایک بدعت تھی کہ جب انھیں حرام مہینوں میں سے کسی مہینے میں لڑائی کی ضرورت پڑتی تو وہ… اپنی فاسد آراء کے مطابق… سمجھتے تھے کہ حرام مہینوں کی گنتی کو پورا رکھا جائے جن کے اندر لڑائی حرام ہے۔ اور یہ کہ وہ بعض حرام مہینوں کو موخر یا مقدم کر دیتے تھے اور اس کی جگہ حلال مہینوں میں سے کسی مہینے کو حرام بنا لیتے تھے۔ جب ان حرام کی جگہ حلال مہینوں کو مقرر کر دیتے تو حرام مہینوں میں لڑائی کو حلال کر لیتے اور حلال مہینوں کو حرام قرار دے دیتے۔ ان کا یہ رویہ… جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے… ان کی طرف سے مزید کفر اور گمراہی کا رویہ ہے کیونکہ اس میں ایسے امور ہیں جن سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔(۱) انھوں نے ( نسئی)کو اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی شریعت اور دین قرار دے دیا حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں ۔(۲)انھوں نے دین کو بدل ڈالا، حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے ڈالا۔(۳)انھوں نے بزعم خود، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے ساتھ فریب کیا۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ان کے دین کو گڈ مڈ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کے دین میں حیلہ سازی اور فریب کاری کو استعمال کیا۔(۴) شریعت کی مخالفت میں بار بار کیے جانے والے اعمال پر دوام سے لوگوں کے دلوں سے ان کی قباحت زائل ہو جاتی ہے۔ بلکہ بسااوقات ایسے کام اچھے محسوس ہونے لگتے ہیں ، اس کے جو خطرناک نتائج نکلتے ہیں ، محتاج وضاحت نہیں ۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يُضَلُّ بِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُحِلُّوۡنَهٗ عَامًا وَّيُحَرِّمُوۡنَهٗ عَامًا لِّيُوَاطِــُٔوۡا۠ عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’گمراہی میں پڑتے ہیں اس سے کافر، حلال کر لیتے ہیں اس مہینے کو ایک برس اور حرام رکھتے ہیں اس کو دوسرے برس تاکہ پوری کر لیں گنتی ان مہینوں کی جن کو اللہ نے حرمت والا قرار دیا ہے‘‘ یعنی حرام مہینوں کے عدد میں موافقت کریں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے انھیں حلال قرار دے لیں ﴿ زُيِّنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ اَعۡمَالِهِمۡ﴾ ’’ان کے برے اعمال ان کے لیے مزین کردیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی شیاطین نے ان کے سامنے ان کے برے اعمال کو مزین کر دیا اور ان کے دلوں میں جو عقائد مزین ہوگئے ہیں ان کی وجہ سے وہ ان اعمال کو اچھا سمجھتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو کفر کے رنگ میں رنگے گئے ہیں اور تکذیب نے ان کے دلوں میں جڑ پکڑ لی ہے ، لہٰذا ان کے پاس اگر تمام نشانیاں بھی آجائیں تو یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

38

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ ٱنفِرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱثَّاقَلْتُمْ إِلَى ٱلْأَرْضِ ۚ أَرَضِيتُم بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا مِنَ ٱلْءَاخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا فِى ٱلْءَاخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ

مومنو! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تم (کاہلی کے سبب سے) زمین پر گرے جاتے ہو (یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے) کیا تم آخرت (کی نعمتوں) کو چھوڑ کر دینا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔ دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابل بہت ہی کم ہیں

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا ہے تمھیں؟ جب کہا جاتا ہے تم سے کہ کوچ کرو راہ میں اللہ کی تو بوجھل ہوجاتے(اور گرے جاتے) ہو تم طرف زمین کی، کیا تم نے پسند کرلیا ہے دنیا کی زندگی کو بمقابلہ آخرت کے؟ پس نہیں ہے فائدہ دنیا کی زندگی کا آخرت کے مقابلے میں مگر تھوڑا(38) اگر نہ کوچ کرو گے تم تو دے گا وہ تمھیں عذاب درد ناک اور بدل کر لے آئے گا کسی اور قوم کو سوائے تمھارے اورنہ بگاڑ سکو گے تم اس کا کچھ بھی اور اللہ ہر چیز پر خوب قادرہے(39)

[38] واضح رہے کہ اس سورۂ کریمہ کا اکثر حصہ غزوۂ تبوک میں نازل ہوا ہے، جب رسول اللہﷺ نے رومیوں کے مقابلے میں جنگ کے لیے لوگوں کو بلایا۔ اس وقت سخت گرمی کا موسم تھا، لوگوں کے پاس زادِ راہ بہت کم تھا اور ان کے معاشی حالات عسرت کا شکار تھے۔ اس کی وجہ سے بعض مسلمانوں میں سستی آگئی تھی جو اللہ تعالیٰ کے عتاب کی موجب بنی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جہاد کے لیے اٹھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو‘‘! کیا تم ایمان کے تقاضوں اور یقین کے داعیوں کو نہیں جانتے؟ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں سبقت کی جائے، اس کی رضا کے حصول، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور تمھارے دین کے دشمنوں کے خلاف جہاد کی طرف سرعت سے بڑھا جائے۔ پس ﴿ مَا لَكُمۡ اِذَا قِيۡلَ لَكُمُ انۡفِرُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اثَّاقَلۡتُمۡ اِلَى الۡاَرۡضِ﴾ ’’تمھیں کیا ہے کہ جب تمھیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں کوچ کرو تو گرے جاتے ہو زمین پر‘‘ یعنی تم سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیٹھ رہے ہو اور راحت و آرام کی طرف مائل ہو رہے ہو۔ ﴿ اَرَضِيۡتُمۡ بِالۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا مِنَ الۡاٰخِرَةِ﴾’’کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔‘‘ یعنی تمھارا حال تو بس اس شخص جیسا ہے جو دنیا کی زندگی پر راضی ہے اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کرتا ہے اور آخرت کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ گویا آخرت پر وہ ایمان ہی نہیں رکھتا۔﴿ فَمَا مَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’پس نہیں ہے نفع اٹھانا دنیا کی زندگی کا‘‘ جس کی طرف تم مائل ہو جس کو تم نے آخرت پر ترجیح دے رکھی ہے۔ ﴿ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’مگر بہت تھوڑا‘‘ کیا اللہ تعالیٰ نے تمھیں عقل سے نہیں نوازا جس کے ذریعے سے تم تمام معاملات کو تولو کہ کون سا معاملہ ہے جو ترجیح دیے جانے کا مستحق ہے؟ کیا ایسا نہیں کہ یہ دنیا.... اول سے لے کر آخر تک.... آخرت کے ساتھ اس کی کوئی نسبت ہی نہیں ؟ اس دنیا میں انسان کی عمر بہت تھوڑی ہے، یہ عمر اتنی نہیں کہ اسی کو مقصد بنا لیا جائے اور اس کے ماوراء کوئی مقصد ہی نہ ہو اور انسان کی کوشش، اس کی جہد اور اس کے ارادے اس انتہائی مختصر زندگی سے آگے نہ بڑھتے ہوں جو تکدر سے لبریز اور خطرات سے بھرپور ہے۔ تب کس بنا پر تم نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دے دی جو تمام نعمتوں کی جامع ہے جس میں وہ سب کچھ ہوگا نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تم اس آخرت میں ہمیشہ رہو گے.... اللہ کی قسم! وہ شخص جس کے دل میں ایمان جاگزیں ہو گیا ہے، جو صائب رائے رکھتا ہے اور جو عقل مندوں میں شمار ہوتا ہے، کبھی دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دے گا۔

[39] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاد کے لیے نہ نکلنے پر ان کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَنۡفِرُوۡا يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ ’’اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تم کو عذاب دے گا، دردناک عذاب‘‘ دنیا اور آخرت میں ۔ کیونکہ جہاد کے لیے بلانے پر، جہاد کے لیے گھر سے نہ نکلنا کبیرہ گناہ ہے جو سخت ترین عذاب کا موجب ہے کیونکہ اس میں شدید نقصان ہے بوقت ضرورت جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی منہیات کا ارتکاب ہے۔ جہاد سے گریز کرنے والے نے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کی نہ اس کی …

39

إِلَّا تَنفِرُوا۟ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْـًۭٔا ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

اور اگر تم نہ نکلو گے تو خدا تم کو بڑی تکلیف کا عذاب دے گا۔ اور تمہاری جگہ اور لوگ پیدا کر دے گا (جو خدا کے پورے فرمانبردار ہوں گے) اور تم اس کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکو گے اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا ہے تمھیں؟ جب کہا جاتا ہے تم سے کہ کوچ کرو راہ میں اللہ کی تو بوجھل ہوجاتے(اور گرے جاتے) ہو تم طرف زمین کی، کیا تم نے پسند کرلیا ہے دنیا کی زندگی کو بمقابلہ آخرت کے؟ پس نہیں ہے فائدہ دنیا کی زندگی کا آخرت کے مقابلے میں مگر تھوڑا(38) اگر نہ کوچ کرو گے تم تو دے گا وہ تمھیں عذاب درد ناک اور بدل کر لے آئے گا کسی اور قوم کو سوائے تمھارے اورنہ بگاڑ سکو گے تم اس کا کچھ بھی اور اللہ ہر چیز پر خوب قادرہے(39)

[38] واضح رہے کہ اس سورۂ کریمہ کا اکثر حصہ غزوۂ تبوک میں نازل ہوا ہے، جب رسول اللہﷺ نے رومیوں کے مقابلے میں جنگ کے لیے لوگوں کو بلایا۔ اس وقت سخت گرمی کا موسم تھا، لوگوں کے پاس زادِ راہ بہت کم تھا اور ان کے معاشی حالات عسرت کا شکار تھے۔ اس کی وجہ سے بعض مسلمانوں میں سستی آگئی تھی جو اللہ تعالیٰ کے عتاب کی موجب بنی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جہاد کے لیے اٹھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو‘‘! کیا تم ایمان کے تقاضوں اور یقین کے داعیوں کو نہیں جانتے؟ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں سبقت کی جائے، اس کی رضا کے حصول، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور تمھارے دین کے دشمنوں کے خلاف جہاد کی طرف سرعت سے بڑھا جائے۔ پس ﴿ مَا لَكُمۡ اِذَا قِيۡلَ لَكُمُ انۡفِرُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اثَّاقَلۡتُمۡ اِلَى الۡاَرۡضِ﴾ ’’تمھیں کیا ہے کہ جب تمھیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں کوچ کرو تو گرے جاتے ہو زمین پر‘‘ یعنی تم سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیٹھ رہے ہو اور راحت و آرام کی طرف مائل ہو رہے ہو۔ ﴿ اَرَضِيۡتُمۡ بِالۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا مِنَ الۡاٰخِرَةِ﴾’’کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔‘‘ یعنی تمھارا حال تو بس اس شخص جیسا ہے جو دنیا کی زندگی پر راضی ہے اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کرتا ہے اور آخرت کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ گویا آخرت پر وہ ایمان ہی نہیں رکھتا۔﴿ فَمَا مَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’پس نہیں ہے نفع اٹھانا دنیا کی زندگی کا‘‘ جس کی طرف تم مائل ہو جس کو تم نے آخرت پر ترجیح دے رکھی ہے۔ ﴿ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’مگر بہت تھوڑا‘‘ کیا اللہ تعالیٰ نے تمھیں عقل سے نہیں نوازا جس کے ذریعے سے تم تمام معاملات کو تولو کہ کون سا معاملہ ہے جو ترجیح دیے جانے کا مستحق ہے؟ کیا ایسا نہیں کہ یہ دنیا.... اول سے لے کر آخر تک.... آخرت کے ساتھ اس کی کوئی نسبت ہی نہیں ؟ اس دنیا میں انسان کی عمر بہت تھوڑی ہے، یہ عمر اتنی نہیں کہ اسی کو مقصد بنا لیا جائے اور اس کے ماوراء کوئی مقصد ہی نہ ہو اور انسان کی کوشش، اس کی جہد اور اس کے ارادے اس انتہائی مختصر زندگی سے آگے نہ بڑھتے ہوں جو تکدر سے لبریز اور خطرات سے بھرپور ہے۔ تب کس بنا پر تم نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دے دی جو تمام نعمتوں کی جامع ہے جس میں وہ سب کچھ ہوگا نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تم اس آخرت میں ہمیشہ رہو گے.... اللہ کی قسم! وہ شخص جس کے دل میں ایمان جاگزیں ہو گیا ہے، جو صائب رائے رکھتا ہے اور جو عقل مندوں میں شمار ہوتا ہے، کبھی دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دے گا۔

[39] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاد کے لیے نہ نکلنے پر ان کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَنۡفِرُوۡا يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ ’’اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تم کو عذاب دے گا، دردناک عذاب‘‘ دنیا اور آخرت میں ۔ کیونکہ جہاد کے لیے بلانے پر، جہاد کے لیے گھر سے نہ نکلنا کبیرہ گناہ ہے جو سخت ترین عذاب کا موجب ہے کیونکہ اس میں شدید نقصان ہے بوقت ضرورت جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی منہیات کا ارتکاب ہے۔ جہاد سے گریز کرنے والے نے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کی نہ اس کی …

40

إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ ٱللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ثَانِىَ ٱثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِى ٱلْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَٰحِبِهِۦ لَا تَحْزَنْ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَنَا ۖ فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُۥ بِجُنُودٍۢ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلسُّفْلَىٰ ۗ وَكَلِمَةُ ٱللَّهِ هِىَ ٱلْعُلْيَا ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو خدا اُن کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھر سے نکال دیا۔ (اس وقت) دو (ہی ایسے شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکرؓ تھے) اور دوسرے (خود رسول الله) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تو خدا نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کر دیا۔ اور بات تو خدا ہی کی بلند ہے۔ اور خدا زبردست (اور) حکمت والا ہے

اگہ نہ مدد کرو گے تم اس کی تو تحقیق مدد کی اس (پیغمبر) کی اللہ نے، جبکہ نکال دیا تھا اس کو ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، (وہ) دوسرا تھا دومیں سے، جب وہ دونوں تھے غار میں، جبکہ وہ کہہ رہا تھا اپنے ساتھی سے ، غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پس نازل کی اللہ نے اپنی سکینت اس پر اورمدد کی اس کی ایسے لشکروں سے کہ نہیں دیکھا تم نے ان کواور کردی اس نے بات ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، نیچی۔ اور بات اللہ کی وہی ہے بالااور اللہ بڑا زبردست بہت حکمت والا ہے(40)

[40] اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی مدد نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ تم سے بے نیاز ہے تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس نے انتہائی بدترین حالات میں بھی آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ اِذۡ اَخۡرَجَهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’جب اس کو کافروں نے نکال دیا۔‘‘ جب کفار نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تھا، جب انھوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کی اور وہ اس کی شدید خواہش رکھتے ہیں ۔ آخر انھوں نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ ﴿ ثَانِيَ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’وہ دو میں سے دوسرا تھا‘‘ یعنی نبی کریمﷺ اور ابوبکر صدیقt ﴿ اِذۡ هُمَا فِي الۡغَارِ ﴾’’جب وہ دونوں غار میں تھے‘‘ یعنی جب رسول اللہﷺ اور ابوبکر صدیقt مکہ مکرمہ سے نکل کر مکہ سے نیچے کی طرف واقع غار ثور میں پناہ گزین ہوئے۔ دونوں اس وقت تک غار میں ٹھہرے رہے جب تک کہ ان کی تلاش کا معاملہ ٹھنڈا نہیں پڑ گیا۔ دونوں اصحاب شدید حرج اور مشقت کی حالت میں مبتلا رہے۔ جب ان کے دشمن ان کی تلاش میں ہر طرف پھیل گئے تاکہ ان کو پکڑ کر قتل کر دیں اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نصرت نازل فرمائی جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔﴿ اِذۡ يَقُوۡلُ لِصَاحِبِهٖ﴾ ’’جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے۔‘‘ یعنی جب نبی اکرمﷺ نے اپنے ساتھی حضرت ابوبکرt سے، جبکہ وہ سخت غم زدہ اور قلق کا شکار تھے..... فرمایا:﴿ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا﴾ ’’غم نہ کھا، اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد، نصرت اور تائید ہمارے ساتھ ہے۔ ﴿فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَتَهٗ ﴾ ’’پس اتاری اللہ نے اپنی طرف سے اس پر سکینت‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ثابت قدمی، طمانیت اور ایسا سکون نازل فرمایا جو دل کی مضبوطی کا باعث ہوتا ہے۔ اس لیے جب آپ کا ساتھی گھبرایا تو آپ نے اس کو پرسکون کرتے ہوئے فرمایا ’’غم نہ کھا، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘﴿ وَاَيَّدَهٗ بِجُنُوۡدٍ لَّمۡ تَرَوۡهَا﴾’’اور اس کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں کہ تم نے نہیں دیکھیں ‘‘ اور وہ معزز فرشتے تھے جن کو اللہ نے آپ کا محافظ بنا دیا۔﴿ وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا السُّفۡلٰى﴾’’اور کافروں کی بات کو پست کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے کفار کو ساقط اور بے یار و مددگار چھوڑ دیا کیونکہ کفار سخت غضب ناک تھے اور رسول اللہﷺ پر سخت غصہ تھا وہ سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہﷺ کو گرفتار کر کے قتل کر سکتے ہیں ۔ انھوں نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا اور وہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے بلکہ وہ کچھ بھی حاصل نہ کر سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی مدافعت فرما کر آپ کو اپنی نصرت سے نوازا۔ یہی وہ مدد ہے جس کا اس مقام پر ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ مدد کی دو قسمیں ہیں ۔(۱)جب مسلمان دشمن کو زک پہنچانے کے خواہش مند ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی خواہش اور مقصد کو پورا کرتا ہے اور وہ اپنے دشمن پر غالب آجاتے ہیں ۔(۲)مدد کی دوسری قسم مستضعفین کی مدد ہے جن کو ان کا طاقتور دشمن نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے دشمن کو آپ سے دور کر کے اور دشمن سے آپ کا دفاع کر کے آپ کی مدد فرمائی اور شاید مدد و نصرت کی یہ قسم سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول کی مدد …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.