(سابقہ آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ)
اسلام اس کرہ ارض پر ایک دین برحق ہے۔ اور اس یہ حق ہے کہ وہ اپنی راہ سے ناجائز مادی رکاوٹوں کو دور کرے۔ اور تمام انسانوں کو دین حق (اسلام) کے علاوہ تمام دینوں سے آزاد کرکے چھوڑے کہ وہ جبری حالت سے نکل کر آزادانہ ، جو دین چاہیں اختیار کریں۔ ہر انسان کو آزادانہ طور پر یہ اختیار ہو کہ وہ جو دین چاہے اختیار کرے۔ کوئی بھی دین اختیار کرنے کے سلسلے میں اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
یہ حق کہ کوئی انسان کسی مادی رکاوٹ کے ہاتھوں مجبور نہ ہو اور اسلام یا گیر اسلام کوئی بھی دین قبول کرنے کے لیے آزاد ہو ، تب ہی متحقق ہوسکتا ہے کہ جاہلیت کی قوت اور شوکت کو تور دیا جائے۔ تمام غیر اسلامی قوتیں اسلامی مملکت کے تابع ہوں اور اسلامی نظام کی باج گزار ہوں۔
باج گزاری کے عمل سے انسان کی آزادی اپنی تکمیل کو پہنچ جاتی ہے۔ ہر فرد جس دین کو چاہے اختیار کرتا ہے جو اسلام پر مطمئن ہو وہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے۔ اور جو شخص مطمئن نہ ہو وہ اپنے دین پر باقی رہتا ہے۔ لیکن اس آزادی کی فیس اسے بطور جزیہ ادا کرنی ہوگی اور اس سے درج ذیل مقاصد حاصل ہوں گے۔
1 ۔ جزیہ دے کر وہ اعلان کر رہا ہوگا کہ اب وہ اسلام کی دشمنی میں کوئی مادی قوت بطور رکاوٹ کھڑی نہ کرے گا اور دعوت اسلامی کا سد راہ نہ ہوگا۔
2 ۔ وہ اپنے مال اور عزت کے دفاع اور آازی کے حق جس کی ضمانت اسے اسلام دیتا ہے ، کے عوض اخراجات میں مملکت میں اپنا حصہ ادا کرے گا۔ کیونکہ جو لوگ جزیہ دیتے ہیں اسلامی نظام مملکت ان کے مال اور جان اور آبرو کا محافظ ہوتا ہے۔ اور ان کی جانب سے دفاع کرتا ہے۔ خواہ خارجی حملہ ہو یا داخلی امن وامان ہو۔
3 ۔ پھر یہ کہ وہ بیت المال میں اپنا حصہ ادا کرے گا جس سے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کی کفالت کا بندوبست ہوتا ہے ہے۔ تمام ایسے لوگوں کو بیت المال سے وظیفہ دیا جاتا ہے جو کسب و عمل پر قادر نہ ہوں خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ہو جبکہ غیر مسلموں پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی۔
ہم اس سے آگے فقہی اختلافات میں نہیں پڑتے کہ کن کن غیر مسلموں سے جزیہ لیا جائے گا اور یہ کہ جزیہ کی مقدار کیا ہوگی اور یہ کہ اس کی وصلی کا طریقہ کار کیا ہوگا ؟ کیونکہ آج ہمارے سامنے کوئی عملی مسائل اس قسم کا درپیش نہیں ہے۔ فقہاء کے دور میں یہ مسئلہ عملاً درپیش تھا اس لیے انہوں اپنے دور کے لیے احکام جاری کیے اور فتوے دیے اور ان مسائل پر اجتہادی کلام کیا۔
آج یہ مسئلہ ایک تاریخی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ واقعی سوال نہیں ہے اس لیے کہ آج مسلمان عمل جہاد میں سرگرم نہیں ہیں۔ اور یہ اس لیے کہ حقیقی مسلمان ہمارے دور میں کمیاب ہیں۔ آج ہمارے سامنے حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ آج اسلام موجود ہے یا دنیا میں موجود ہیں یا نہیں۔
اسلامی نظام حیات کیا ہے ؟ جیسا کہ ہم نے بار بار اس سوال کا جواب دیا کہ وہ ایک سنجیدہ اور عملی نظام ہے۔ یہ نظام محض ہوائی باتوں پر بحث وجدال نہیں کرتا۔ نہ وہ ایسے فقہی مباحث میں دماغ سوزی کو ضروری سمجھتا ہے جو عملاً موجود نہ ہوں کیونکہ عالم واقعہ میں مسلمانوں کی کوئی سوسائٹی موجود نہیں ہے۔ جس میں اسلامی شریعت نافذ ہو۔ اور اسلامی فقہ اس کی عملی زندگی پر متصرف ہو۔ اسلام ایسے لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے جو مفروضے گھڑتے ہیں اور پھر ان پر مباث کے سلسلے اٹھاتے ہیں۔ ان کو اسلامی اصطلاح میں " ارئیتی " کہا جاتا ہے جو اس طرح سوال کرتے ہیں " دیکھو ، اگر یوں صورت حالات واقعہ ہوجائے تو کیا حکم ہوگا ؟ "
آج ہمیں احیاء اسلام کے کام کا آغاز اسی مقام سے کرنا ہے جس سے حجور اکرم نے کیا تھا اور وہ یہ کہ دیا میں کوئی ایسی سوسائٹی وجود میں آئے جو حکومت الہیہ قائم کرکے اس میں دین اسلام نافذ کردے۔ وہ پہلے شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی اور حاکم نہیں ہے اور محمد رسول اللہ ہیں ، شارع ہیں۔ لہذا ہماری سوسائٹی مٰ اللہ حاکم اور …