Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 21–30 of 129

21

يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍۢ مِّنْهُ وَرِضْوَٰنٍۢ وَجَنَّٰتٍۢ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌۭ مُّقِيمٌ

ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے نعمت ہائے جاودانی ہے

20 ۔ 22: یہ مضمون اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ مومنین ، مہاجرین اور مجاہدین بلند مرتبہ لوگ ہیں۔ اللہ کی رحمت اور رضامندی ان کے انتظار میں ہے اور ان کے لیے جنت میں نعیم مقیم ہے۔ اور اس کے علاوہ اجر عظیم بھی ہے۔

اس آیت میں افضل تفضیل کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اعظم درجۃ ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں کے درجے اسفل ہیں بلکہ اس سے مطلق فضیلت مراد ہے کیونکہ ان لوگوں کے بالمقابل وہ لوگ جن کے اعمال اکارت گئے اور جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ لہذا ایسے لوگوں کے درمیان اعمال و درجات کا کوئی تناسب نہیں ہے۔ ایک طرف کافر ہیں اور دوسری جانب مومنین مہاجرین اور مجاہدین ہیں جو اعلی درجوں میں اور دائمی نعمتوں میں ہوں گے۔

22

خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجْرٌ عَظِيمٌۭ

(اور وہ) ان میں ابدالاآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے

20 ۔ 22: یہ مضمون اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ مومنین ، مہاجرین اور مجاہدین بلند مرتبہ لوگ ہیں۔ اللہ کی رحمت اور رضامندی ان کے انتظار میں ہے اور ان کے لیے جنت میں نعیم مقیم ہے۔ اور اس کے علاوہ اجر عظیم بھی ہے۔

اس آیت میں افضل تفضیل کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اعظم درجۃ ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں کے درجے اسفل ہیں بلکہ اس سے مطلق فضیلت مراد ہے کیونکہ ان لوگوں کے بالمقابل وہ لوگ جن کے اعمال اکارت گئے اور جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ لہذا ایسے لوگوں کے درمیان اعمال و درجات کا کوئی تناسب نہیں ہے۔ ایک طرف کافر ہیں اور دوسری جانب مومنین مہاجرین اور مجاہدین ہیں جو اعلی درجوں میں اور دائمی نعمتوں میں ہوں گے۔

23

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوٓا۟ ءَابَآءَكُمْ وَإِخْوَٰنَكُمْ أَوْلِيَآءَ إِنِ ٱسْتَحَبُّوا۟ ٱلْكُفْرَ عَلَى ٱلْإِيمَٰنِ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ

اے اہل ایمان! اگر تمہارے (ماں) باپ اور (بہن) بھائی ایمان کے مقابل کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں

اب اگلی آیات میں مسلمانوں کی سوچوں ، شعور اور باہمی روابط کو پاک وصاف کردیا جاتا ہے اس طرح کہ وہ دین رب العالمین کے لیے یکسو ہوجائیں چناچہ تمام رشتہ داریوں کی محبت ، ہر قسم کے مفادات اور تمام انسانی لذات اور خوشیوں کو ترازوں کے ایک پلڑے میں رکھا جاتا ہے اور اللہ ، رسول اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کو دوسرے پلڑے میں رکھا جاتا ہے اور مسلمانوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ آپ اب جو چاہیں ، پسند کرلیں۔

اسلامی نظریہ حیات بھی اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ قلب مومن میں کوئی شریک ہو ، یا تو ہم اپنے دل میں صرف اسلامی نظریہ حیات کو جگہ دیں گے اور یا پھر ہم اسے ترک کرکے دوسری محبتوں کو دل میں جگہ دیں۔ لیکن یہاں مطلوب یہ نہیں ہے کہ ایک مسلمان اپنے اہل و عیال ، اپنے خاندان ، اپنی بیوی خاندان ، اپنی بیوی خاوند ، اپنے مال و اولاد ، اپنے مال و اولاد ، اپنے کاروبار و سامان اور دنیاوی لذتوں سے قطع تعلق کرلے اور وہ رہبان اور تارک الدنیا بن جائے ، یہ ہر گز نہیں ہے ، لیکن اسلامی نظریہ حیات کا مطالبہ یہ ہے کہ ایک مسلمان اسلام کو عزیز و محبوب رکھے ، اس کے دل اور اس کی سوچ پر فکر جائے تو پھر ایسا مومن دنیا کی تمام سرگرمیوں میں شریک ہوسکتا ہے لیکن معیار یہ ہے کہ جب اسلامی انقلاب کا تقاضا ہو تو وہ اپنی تمام سرگرمیاں چھوڑ کر اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔

ان دو پوزیشنوں میں کیا لائن ہے ، جو فرق و امتیاز کرتی ہے ؟ یہ کہ آپ کے دل و دماغ اور زندگی پر نظریہ چھایا ہوا ہے یاد دنیا کا ساز و سامان۔ آپ کا پہلا نعرہ اور پہلی گفتگو اسلام کے لیے ہے یا اس دنیا کے اغراض و مطالبات میں سے کسی غرض کے لیے ہے۔ جب ایک مومن مطمئن ہوجائے کہ اس کا دل اور اس کی سوچ پر اسلامی نظریہ حیات چھا گیا ہے تو اس کے بعد اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔ اگر وہ بچوں ، بھائیوں ، بیوی خاوند ، خاندان اور مال و دولت اور سازوسامان لطف اندوز ہو اور زندگی کے تمام کاروبار میں شریک ہو ، وہ زیب وزینت بھی اختیار کرسکتا ہے اور اچھا کھا پی سکتا ہے ، بغیر اسراف کے اور بغیر تکبر کے۔ بلکہ ایسے حالات اور ایسے تصورات کے درمیان اس کے لیے یہ تلذذ اور متاع کا استعمال مستحب ہے۔ اس طرح کہ یہ بھی شکر الہی کا ایک رنگ ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو یوں بھی نوازتا ہے جبکہ ان کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ رزق منعم اور وہاب ہے۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ : " اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بناؤ، اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں "

یوں خالص خون اور نسب کے رابطوں کو توڑ دیا جاتا ہے۔ اگر ایسے افراد کے درمیان نظریاتی روابط ٹوٹ جاتے ہیں ، اگر اللہ کی قرابت داری ختم ہوجائے تو خاندانی رشتے بھی ختم ہوجاتے ہیں۔ اصل دوستی اللہ کی ہے اور اللہ ہی کے نام پر پوری انسانیت جمع ہوسکتی ہے اور اگر نظریاتی اتحاد نہ ہو تو تمام اتحاد اور رابطے ٹوٹ جاتے ہیں۔ رسی ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے۔

وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ : " تم میں سے جو ان کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوں گے " یہاں ظالمون سے مراد ہے مشرکون۔ اگر قوم اور خاندان ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کرتا ہو تو اس قوم اور خاندان کی دوستی کرنا کفر اور شرک ہے۔ یہ صورت حال ایمان کی کیفیات کے ساتھ لگا نہیں کھاتی۔

24

قُلْ إِن كَانَ ءَابَآؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ وَإِخْوَٰنُكُمْ وَأَزْوَٰجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَٰلٌ ٱقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَٰرَةٌۭ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَجِهَادٍۢ فِى سَبِيلِهِۦ فَتَرَبَّصُوا۟ حَتَّىٰ يَأْتِىَ ٱللَّهُ بِأَمْرِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَٰسِقِينَ

کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ خدا اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں کہا گیا کہ اس اصول کو بیان کردیا جائے بلکہ محبتوں کی مثالیں اور رنگ بھی بتا دیے جاتے ہیں۔ کون سے تعلقات ، کون سے روابط اور کون سے لذائذ ایمان کے خلاف ہوں گے تاکہ انہیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور ایمان اور اسلام کے تقاضون کو دوسرے پلڑے میں رکھ کر مشخص اور ممثل انداز میں بتایا جائے۔ مثلاً اباء ، ابناء ، اخوان ، میاں بیوی اور خاندان یعنی عام خون اور نسب کے رشتے اور قرابت داریاں اور اموال تجارت جن کے ساتھ فطری رغبت ہوتی ہے اور مکانات اور کوٹھیاں جہاں آرام کیا جاتا ہے اور زندگی کی لذتوں سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے ہے ان سب کو ایک پلڑے میں رکھ کر اور حب خدا ، حب رسول اور جہاد کی دلچسپیوں کو دوسرے پلڑے میں رکھ کر دعوت انتخاب دی جاتی ہے یہاں جہاد کے معنی اس قدر سادہ نہیں ہیں۔ جہاد میں مشقتیں ہوتی ہیں اور اس کے مخصوص تقاضے ہوتے ہیں۔ اس میں مشکلات اور واماندگیاں ہوتی ہیں ، اس میں تنگی اور ترشی ہوتی ہے اس میں قربانیاں اور محرومیاں بھی ہوتی ہیں اور اس میں زخم بھی کھائے جاتے ہیں اور جان بھی دینی ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ جہاد کے لفظ میں آتا ہے اور یہ سب کچھ اس کیفیت کے ساتھ ہو کہ اس میں شہرت اور نود و نمائش کا شائبہ تک نہ ہو ، جس میں فخر و غرور اور تکبر کا شائبہ تک نہ ہو۔ اس میں ملک گیری اور منصب گیری کا بھی کوئی شائبہ اور اشارہ نہ ہو۔ اگر ان بیماریوں میں سے کوئی بیمار بھی ہو تو مجاہد اجر اخروی سے محروم ہوگا۔ ذرا دوبارہ غور سے پڑھیے :۔

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ : " اے نبی ﷺ ، کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ ، اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے ، اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں ، تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے "

خبردار ! یہ نہایت ہی مشقت آمیز راہ ہے ، یہ نہایت ہی عظیم ذمہ داری ہے ! لیکن بات یہی ہے ، اگر یہ ذمہ داری پوری نہ کرو گے تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے " اور واللہ لا یہدی القوم الفسقین اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔ صرف ایک فرد ہی سے مطالبہ نہیں ہے کہ وہ اس قدر خلوص کا مظاہرہ کرے۔ پوری جامعت مسلمہ سے اس قسم کے خلوص کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ اسلامی مملکت کو بھی اس طرح مخلص ہونا چاہیے۔ اس لیے اسلامی معاشرے میں کوئی ترجیح اور کوئی نصب العین اسلامی نظریہ حیات اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقتضیات سے اہم نہیں ہونا چاہیے۔

کیا فطرت انسانی اس معیار پر جاسکتی ہے ؟ ظاہر ہے کہ اللہ نے جب اہل ایمان سے اس معیار کا تقاضا کیا تو ایسا معیار پیش کرنا ممکن ہے ، تبھی تو کیا ہے۔ کیونکہ اللہ کسی بھی نفس سے وہ مطالبہ نہیں فرماتے جو اس کے دائرہ طاقت میں نہ ہو۔ یہ اللہ کی نہایت کریمی ہے کہ اس نے اس ضعیف انسان کے اندر اس قدر صلاحیت اور طاقت رکھی ہے کہ وہ اس قدر مخلصانہ معیار پیش کرے اور اس قدر مشکلات برداشت کرے اور اس کو اس شعور اور خلوص کے اندر اس قدر لذت دی ہے کہ وہ اس کے لیے تمام لذات ارضی کو خیر آباد کہہ سکتا ہے۔ خدا کے ساتھ اتصال اور خدا رسیدگی کا شعور۔ اللہ کی رضا کے حصول کا شعور۔ انسان کو انسانی ضعف ، گراوٹ اور خون اور گوشت و پوست کی لذتوں سے بلند کردیتا ہے اور اس کی نظر دور افق پر کسی …

25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ فِى مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍۢ ۙ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْـًۭٔا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ ٱلْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ

خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے اور (جنگ) حنین کے دن۔ جب تم کو اپنی (جماعت کی) کثرت پر غرّہ تھا تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی۔ اور زمین باوجود (اتنی بڑی) فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر پھر گئے

25 ۔ تا۔ 27: اب ذرا ماضی قریب کی یادوں کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں۔ مسلمان قریب ہی کے زمانے میں ان حالات ہو کر گزرے تھے۔ ان حالات میں اللہ کی خاص نصرت نے کرشمہ دکھایا تھا۔ یہ کرشمہ ان کی قوت اور تعداد کا نہ تھا۔ حنین کے دن تو وہ بڑی تعداد میں تھے اور بڑی قوت رکھتے تھے مگر شکست کھا گئے۔ بعد میں اللہ کی نصرت جب آئی تو حالات کا نقشہ بدل گیا۔ اس دن فتح مکہ کے دو ہزار طلقاء اسلامی لشکر میں گھل مل گئے تھے۔ چند لمحے مسلمانوں پر ایسے آگئے تھے جب وہ قوت اور کثرت کے نشے غافل ہوگئے تھے۔ محض تعداد اور سازوسامان کی وجہ سے۔ یہ سبق تھا اہل ایمان کے لیے کہ خلوص اور للہ فی اللہ جہاد کے کیا معنی ہوتے ہیں کہ جب اللہ سے رابطے ہوں تو قلت تعداد میں بھی فتح ہے لیکن اگر اعتماد سازوسامان اور غیر مخلص بڑی تعداد پر کرلیا جائے تو میدان مارنا مشکل ہوگا۔

۔۔۔

اللہ تعالیٰ نے بیشمار مقامات و ایام میں مسلمانوں کی نصرت کی تھی اور ان ایام کی یادیں ان کے ذہن میں تازہ تھیں۔ حنین کی جنگ شوال آٹھ ہجری میں فتح مکہ کے بعد پیش آئی جب حضور فتح مکہ کے معاملات سے فارغ ہوئے اور فتح مکہ کے امور درست ہوگئے اور عام اہل مکہ مسلمان ہوگئے۔ اور حضور نے ان کو معاف کردیا اور اس طرح وہ " طلقاء " کے نام سے مشہور ہوگئے۔ اس موقعہ پر اپ کو یہ اطلاع ملی کہ قبائل ہوازن آپ کے خلاف جنگی کاروائی کرنے والے ہیں اور ان کے امیر مالک ابن عوف نضری قبائل ثقیف بن جثم و بنو سعد ابن بکر اور کچھ لوگ بنی بلالا اور کچھ ہبنی عمر ابن عامر اور عوف ابن عامر کے ، اس کی تائید میں ہیں۔ یہ لوگ عورتوں اور بچوں اور مال مویشی کو بھی ساتھ لائے ہیں اور سب کے سب اس لشکر میں نکل آئے۔ حضور اکرم ﷺ فتح مکہ کے لشکر کو لے کر ان کے مقابلے میں نکلے۔ یہ لشکر دس ہزار انصار و مہاجرین پر مشتمل تھا۔ اور کئی عرب قبائل اس میں شریک تھے۔ اور ان لوگوں میں وہ لوگ بھی تھے جو کل ہی مکہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ جنہیں طلقاء کہا جاتا تھا اور ان کی تعداد دو ہزار تھی۔ اس لشکر کو لے کر حضور دشمن کی طرف نکلے۔ مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی میں ان دونوں لشکوں کا آمنا سامنا ہوا۔ اس وادی کو وادی حنین کہا جاتا تھا۔ یہ مڈ بھیڑ دن کے آغاز ہی میں صبح کی ساہی میں ہوگئی۔ مسلمان جب سے وادی میں اترے تو آگے ہوازن کمین گاہوں میں چھپے ہوئے تھے۔ جب مسلمان وادی میں اترے تو انہیں پتہ چلا کہ ہوازن حملہ آور ہوگئے۔ انہوں نے تیروں کی بارش کردی اور تلواریں سونت لیں اور اس طرح حملہ کیا جس طرح ایک انسان حملہ کرتا ہے۔ یہ یکبارگی حملہ تھا اور اس کی پلاننگ ان کے بادشاہ نے کی تھی۔ پہلے حملے میں مسلمان بھاگ گئے جیسا کہ اللہ نے نص میں فرمایا۔ حضور ﷺ شہبا خچر پر سوار تھے۔ آپ اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ حضور ﷺ کے خچر کا دایاں لگام حضرت عباس نے پکڑا ہوا تھا اور بائیں جانب سے ابو سفیان لگام کو تھامے ہوئے تھے۔ یہ لوگ اس خچر کو روک رہے تھے کہ وہ جلدی دشمن کے درمیان تک نہ پہنچ جائے۔ حضور ﷺ اپنا نام لے کر لوگوں کو کو پکارا اور دعوت دی کہ لوٹ آؤ۔ " اے لوگو میری طرف آؤ میں رسول اللہ ہوں " اور ایسے ہی حالات میں آپ نے رجز پڑھا انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب۔ تقریباً سو افراد آپ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اسی افراد تھے۔ ان میں سے حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، عباس ، علی ، فضل ابن عباس ، ابو سفیان ابن الحارث ، ایمن ابن ام ایمن ، اسامہ بن زید وغیرہ ؓ اس کے بعد حضور ﷺ نے حضرت عباس سے کہا ، یہ بہت بلند آواز تھے کہ بلند آواز سے پکاریں۔ اے درخت کے نیچے بیعت رضوان کرنے والو ! اس درخت کے نیچے مسلمانوں نے بیعت کی تھی کہ وہ جنگ میں فرار اختیار نہ کریں گے۔ اس طرح اس نام سے بھی ان کو پکارا گیا ، اے اصحاب سمرہ ، اے اصحاب سورت بقرہ ، اس طرح لوگ سنتے اور یا لبیک یا لبیک کہتے ہوئے لوٹتے۔ چناچہ سب لوگ واپس …

26

ثُمَّ أَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُودًۭا لَّمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْكَٰفِرِينَ

پھر خدا نے اپنے پیغمبر پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی (اور تمہاری مدد کو فرشتوں کے) لشکر جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے (آسمان سے) اُتارے اور کافروں کو عذاب دیا۔ اور کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہے

25 ۔ تا۔ 27: اب ذرا ماضی قریب کی یادوں کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں۔ مسلمان قریب ہی کے زمانے میں ان حالات ہو کر گزرے تھے۔ ان حالات میں اللہ کی خاص نصرت نے کرشمہ دکھایا تھا۔ یہ کرشمہ ان کی قوت اور تعداد کا نہ تھا۔ حنین کے دن تو وہ بڑی تعداد میں تھے اور بڑی قوت رکھتے تھے مگر شکست کھا گئے۔ بعد میں اللہ کی نصرت جب آئی تو حالات کا نقشہ بدل گیا۔ اس دن فتح مکہ کے دو ہزار طلقاء اسلامی لشکر میں گھل مل گئے تھے۔ چند لمحے مسلمانوں پر ایسے آگئے تھے جب وہ قوت اور کثرت کے نشے غافل ہوگئے تھے۔ محض تعداد اور سازوسامان کی وجہ سے۔ یہ سبق تھا اہل ایمان کے لیے کہ خلوص اور للہ فی اللہ جہاد کے کیا معنی ہوتے ہیں کہ جب اللہ سے رابطے ہوں تو قلت تعداد میں بھی فتح ہے لیکن اگر اعتماد سازوسامان اور غیر مخلص بڑی تعداد پر کرلیا جائے تو میدان مارنا مشکل ہوگا۔

۔۔۔

اللہ تعالیٰ نے بیشمار مقامات و ایام میں مسلمانوں کی نصرت کی تھی اور ان ایام کی یادیں ان کے ذہن میں تازہ تھیں۔ حنین کی جنگ شوال آٹھ ہجری میں فتح مکہ کے بعد پیش آئی جب حضور فتح مکہ کے معاملات سے فارغ ہوئے اور فتح مکہ کے امور درست ہوگئے اور عام اہل مکہ مسلمان ہوگئے۔ اور حضور نے ان کو معاف کردیا اور اس طرح وہ " طلقاء " کے نام سے مشہور ہوگئے۔ اس موقعہ پر اپ کو یہ اطلاع ملی کہ قبائل ہوازن آپ کے خلاف جنگی کاروائی کرنے والے ہیں اور ان کے امیر مالک ابن عوف نضری قبائل ثقیف بن جثم و بنو سعد ابن بکر اور کچھ لوگ بنی بلالا اور کچھ ہبنی عمر ابن عامر اور عوف ابن عامر کے ، اس کی تائید میں ہیں۔ یہ لوگ عورتوں اور بچوں اور مال مویشی کو بھی ساتھ لائے ہیں اور سب کے سب اس لشکر میں نکل آئے۔ حضور اکرم ﷺ فتح مکہ کے لشکر کو لے کر ان کے مقابلے میں نکلے۔ یہ لشکر دس ہزار انصار و مہاجرین پر مشتمل تھا۔ اور کئی عرب قبائل اس میں شریک تھے۔ اور ان لوگوں میں وہ لوگ بھی تھے جو کل ہی مکہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ جنہیں طلقاء کہا جاتا تھا اور ان کی تعداد دو ہزار تھی۔ اس لشکر کو لے کر حضور دشمن کی طرف نکلے۔ مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی میں ان دونوں لشکوں کا آمنا سامنا ہوا۔ اس وادی کو وادی حنین کہا جاتا تھا۔ یہ مڈ بھیڑ دن کے آغاز ہی میں صبح کی ساہی میں ہوگئی۔ مسلمان جب سے وادی میں اترے تو آگے ہوازن کمین گاہوں میں چھپے ہوئے تھے۔ جب مسلمان وادی میں اترے تو انہیں پتہ چلا کہ ہوازن حملہ آور ہوگئے۔ انہوں نے تیروں کی بارش کردی اور تلواریں سونت لیں اور اس طرح حملہ کیا جس طرح ایک انسان حملہ کرتا ہے۔ یہ یکبارگی حملہ تھا اور اس کی پلاننگ ان کے بادشاہ نے کی تھی۔ پہلے حملے میں مسلمان بھاگ گئے جیسا کہ اللہ نے نص میں فرمایا۔ حضور ﷺ شہبا خچر پر سوار تھے۔ آپ اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ حضور ﷺ کے خچر کا دایاں لگام حضرت عباس نے پکڑا ہوا تھا اور بائیں جانب سے ابو سفیان لگام کو تھامے ہوئے تھے۔ یہ لوگ اس خچر کو روک رہے تھے کہ وہ جلدی دشمن کے درمیان تک نہ پہنچ جائے۔ حضور ﷺ اپنا نام لے کر لوگوں کو کو پکارا اور دعوت دی کہ لوٹ آؤ۔ " اے لوگو میری طرف آؤ میں رسول اللہ ہوں " اور ایسے ہی حالات میں آپ نے رجز پڑھا انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب۔ تقریباً سو افراد آپ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اسی افراد تھے۔ ان میں سے حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، عباس ، علی ، فضل ابن عباس ، ابو سفیان ابن الحارث ، ایمن ابن ام ایمن ، اسامہ بن زید وغیرہ ؓ اس کے بعد حضور ﷺ نے حضرت عباس سے کہا ، یہ بہت بلند آواز تھے کہ بلند آواز سے پکاریں۔ اے درخت کے نیچے بیعت رضوان کرنے والو ! اس درخت کے نیچے مسلمانوں نے بیعت کی تھی کہ وہ جنگ میں فرار اختیار نہ کریں گے۔ اس طرح اس نام سے بھی ان کو پکارا گیا ، اے اصحاب سمرہ ، اے اصحاب سورت بقرہ ، اس طرح لوگ سنتے اور یا لبیک یا لبیک کہتے ہوئے لوٹتے۔ چناچہ سب لوگ واپس …

27

ثُمَّ يَتُوبُ ٱللَّهُ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

پھر خدا اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

25 ۔ تا۔ 27: اب ذرا ماضی قریب کی یادوں کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں۔ مسلمان قریب ہی کے زمانے میں ان حالات ہو کر گزرے تھے۔ ان حالات میں اللہ کی خاص نصرت نے کرشمہ دکھایا تھا۔ یہ کرشمہ ان کی قوت اور تعداد کا نہ تھا۔ حنین کے دن تو وہ بڑی تعداد میں تھے اور بڑی قوت رکھتے تھے مگر شکست کھا گئے۔ بعد میں اللہ کی نصرت جب آئی تو حالات کا نقشہ بدل گیا۔ اس دن فتح مکہ کے دو ہزار طلقاء اسلامی لشکر میں گھل مل گئے تھے۔ چند لمحے مسلمانوں پر ایسے آگئے تھے جب وہ قوت اور کثرت کے نشے غافل ہوگئے تھے۔ محض تعداد اور سازوسامان کی وجہ سے۔ یہ سبق تھا اہل ایمان کے لیے کہ خلوص اور للہ فی اللہ جہاد کے کیا معنی ہوتے ہیں کہ جب اللہ سے رابطے ہوں تو قلت تعداد میں بھی فتح ہے لیکن اگر اعتماد سازوسامان اور غیر مخلص بڑی تعداد پر کرلیا جائے تو میدان مارنا مشکل ہوگا۔

۔۔۔

اللہ تعالیٰ نے بیشمار مقامات و ایام میں مسلمانوں کی نصرت کی تھی اور ان ایام کی یادیں ان کے ذہن میں تازہ تھیں۔ حنین کی جنگ شوال آٹھ ہجری میں فتح مکہ کے بعد پیش آئی جب حضور فتح مکہ کے معاملات سے فارغ ہوئے اور فتح مکہ کے امور درست ہوگئے اور عام اہل مکہ مسلمان ہوگئے۔ اور حضور نے ان کو معاف کردیا اور اس طرح وہ " طلقاء " کے نام سے مشہور ہوگئے۔ اس موقعہ پر اپ کو یہ اطلاع ملی کہ قبائل ہوازن آپ کے خلاف جنگی کاروائی کرنے والے ہیں اور ان کے امیر مالک ابن عوف نضری قبائل ثقیف بن جثم و بنو سعد ابن بکر اور کچھ لوگ بنی بلالا اور کچھ ہبنی عمر ابن عامر اور عوف ابن عامر کے ، اس کی تائید میں ہیں۔ یہ لوگ عورتوں اور بچوں اور مال مویشی کو بھی ساتھ لائے ہیں اور سب کے سب اس لشکر میں نکل آئے۔ حضور اکرم ﷺ فتح مکہ کے لشکر کو لے کر ان کے مقابلے میں نکلے۔ یہ لشکر دس ہزار انصار و مہاجرین پر مشتمل تھا۔ اور کئی عرب قبائل اس میں شریک تھے۔ اور ان لوگوں میں وہ لوگ بھی تھے جو کل ہی مکہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ جنہیں طلقاء کہا جاتا تھا اور ان کی تعداد دو ہزار تھی۔ اس لشکر کو لے کر حضور دشمن کی طرف نکلے۔ مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی میں ان دونوں لشکوں کا آمنا سامنا ہوا۔ اس وادی کو وادی حنین کہا جاتا تھا۔ یہ مڈ بھیڑ دن کے آغاز ہی میں صبح کی ساہی میں ہوگئی۔ مسلمان جب سے وادی میں اترے تو آگے ہوازن کمین گاہوں میں چھپے ہوئے تھے۔ جب مسلمان وادی میں اترے تو انہیں پتہ چلا کہ ہوازن حملہ آور ہوگئے۔ انہوں نے تیروں کی بارش کردی اور تلواریں سونت لیں اور اس طرح حملہ کیا جس طرح ایک انسان حملہ کرتا ہے۔ یہ یکبارگی حملہ تھا اور اس کی پلاننگ ان کے بادشاہ نے کی تھی۔ پہلے حملے میں مسلمان بھاگ گئے جیسا کہ اللہ نے نص میں فرمایا۔ حضور ﷺ شہبا خچر پر سوار تھے۔ آپ اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ حضور ﷺ کے خچر کا دایاں لگام حضرت عباس نے پکڑا ہوا تھا اور بائیں جانب سے ابو سفیان لگام کو تھامے ہوئے تھے۔ یہ لوگ اس خچر کو روک رہے تھے کہ وہ جلدی دشمن کے درمیان تک نہ پہنچ جائے۔ حضور ﷺ اپنا نام لے کر لوگوں کو کو پکارا اور دعوت دی کہ لوٹ آؤ۔ " اے لوگو میری طرف آؤ میں رسول اللہ ہوں " اور ایسے ہی حالات میں آپ نے رجز پڑھا انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب۔ تقریباً سو افراد آپ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اسی افراد تھے۔ ان میں سے حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، عباس ، علی ، فضل ابن عباس ، ابو سفیان ابن الحارث ، ایمن ابن ام ایمن ، اسامہ بن زید وغیرہ ؓ اس کے بعد حضور ﷺ نے حضرت عباس سے کہا ، یہ بہت بلند آواز تھے کہ بلند آواز سے پکاریں۔ اے درخت کے نیچے بیعت رضوان کرنے والو ! اس درخت کے نیچے مسلمانوں نے بیعت کی تھی کہ وہ جنگ میں فرار اختیار نہ کریں گے۔ اس طرح اس نام سے بھی ان کو پکارا گیا ، اے اصحاب سمرہ ، اے اصحاب سورت بقرہ ، اس طرح لوگ سنتے اور یا لبیک یا لبیک کہتے ہوئے لوٹتے۔ چناچہ سب لوگ واپس …

28

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْمُشْرِكُونَ نَجَسٌۭ فَلَا يَقْرَبُوا۟ ٱلْمَسْجِدَ ٱلْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَٰذَا ۚ وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةًۭ فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦٓ إِن شَآءَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

مومنو! مشرک تو پلید ہیں تو اس برس کے بعد وہ خانہٴ کعبہ کا پاس نہ جانے پائیں اور اگر تم کو مفلسی کا خوف ہو تو خدا چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ بےشک خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

مشرکین نجس عین ہیں ، ان کی روح اس قدر ناپاک ہے کہ یہ ناپاکی ان کے خون اور گوشت میں بھی سرایت کرگئی ہے۔ لہذا وہ کلیۃً نجس ہیں۔ پاکیزہ احساس ان کا تصور کرتے ہی ابا کرتا ہے۔ کراہت محسوس کرتا ہے اور پاکیزہ مزاج لوگ ان سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ معنوی نجاست ہے جو حسی نجاست سے زیادہ تیز ہے۔ ان کے اجسام نجس نہ ہوگے یہ قرآن کریم کا نہایت ہی موثر انداز تعبیر ہے جو روحانیات کو بھی حسی بنا دیتا ہے۔ جب نجس ہیں تو پھر کیا حکم ہے ؟

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، مشرکین ناپاک ہیں ، لہذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔ چونکہ مسجد حرام پاک ہے اور یہ ناپاک ہیں اس لیے ان کو مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے دیا جائے۔ حکم کو ان کی شخصیت سے متعلق کردیا گیا۔

لیکن اس اقدام کے معاشی نتائج بھی تو بھیانک تھے۔ موسم حج اور موسم تجارت آنے ہی والا تھا ، جس پر ان کا سالانہ بجٹ چلتا تھا۔ جزیرۃ العرب کے اکثر لوگ اس میں تجارت کرتے تھے اور ان کی گرمیوں اور سردیوں کے سفر بھی اسی نظام پر موقوف تھے۔ اور یہ ان کی معاشی زندگی کا خلاصہ تھا۔ اگر مشرکین کو یوں یکلخت منع کردیا جائے تو پوری زندگی کا متاثر ہونا لازمی ہے۔ پھر جب کفار اور مشرکین کے خلاف اعلان جنگ بھی کردیا جائے۔

یہ سب واقعات و حقائق درست ہیں لیکن اس مسئلے کا تعلق نظریات سے ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ تم اس نظرئیے کے لیے مخلص ہوجاؤ اور قربانی کے لیے تیار ہوجاؤ۔۔ رہا رزق اور تجارتی مفادات تو اس کا کفیل کوئی نظام نہیں ہے ، اللہ ہے اور اللہ ایسے اسباب کے ذریعے رزق پہنچاتا ہے جو عادی اور معروف نہیں ہوتے۔

و ان خفتم عیلۃ فسوف یغنیکم اللہ من فضلہ ان شاء ان اللہ علیم حکیم۔ (9:28) اور اگر تمہیں تنگ دستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمہیں اپنے فضل سے غنی کردے ، اللہ علیم و حکیم ہے۔ اللہ جب چاہتا ہے ، اسباب بدل دیتا ہے اور وہ ایک دروازہ بند کرکے دوسرے دروازے کھول دیتا ہے ، وہ علیم و حکیم ہے وہ اپنے علم اور اپنی حکمت کی وجہ سے اور اپنے اندازے اور حساب کی وجہ سے یہ انتظامات کرتا رہتا ہے۔

۔۔۔

غرض اب اسلامی نظام ایک ایسے معاشرے میں کام کر رہا تھا جو فاتح تھا اور اس کے اندر مختلف درجات ایمانیہ کے لوگ شامل ہوگئے تھے اور جیسا کہ اس پورے سبق میں ہم نے بتایا کہ اس معاشرے میں مختلف مقامات پر کمزور پہلو موجود تھے اور قرآن کریم ان کمزوریوں کو دور کرکے اس سوسائٹی کی ترتبیت کر رہا تھا۔ اس طرح قرآن کریم امت مسلمہ کی اصلاح میں اپنے منہاج کے مطابق مسلسل جدو جہد کر رہا تھا تاکہ یہ کمزور پہلو مضبوط ہوجائیں۔

قرآن کریم اس امت کو پاکیزگی اور اخلاص کے اعلی ترین مقام اور بلندی تک لے جانے کی جدوجہد کر رہا تھا تاکہ وہ اس دین اور اس نظام کے لیے مخلص ترین امت بن جائے۔ اس کی محبتیں ، اس کے روابط اور اس کی ترجیحات مکمل طور پر اس نظام کے لیے علیحدہ ہوجائیں اور یہ کام صرف اس صورت میں ممکن تھا کہ ایک ایسا سیاسی نظام قائم کیا جائے جس میں لوگ اپنے جیسے انسانوں کی بندگی کے نظام سے نکل کر اسلامی نظام میں داخل ہوجائیں جس میں صرف رب ذوالجلا کی بندگی ہم اور لوگ مکمل طور پر دو کیمپوں میں تقسیم ہوجائیں چونکہ ان ہی دو کیمپوں کے درمیان ملاپ ممکن ہی نہیں ہے۔

29

قَٰتِلُوا۟ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ ٱلْحَقِّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ حَتَّىٰ يُعْطُوا۟ ٱلْجِزْيَةَ عَن يَدٍۢ وَهُمْ صَٰغِرُونَ

جو اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں

درس نمبر 88 ایک نظر میں

اس سورت کا یہ دوسرا سبق ہے۔ اس دوسرے حصے میں اسلامی مملکت اور اہل کتاب کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کی آخری شکل بتائی گئی ہے۔ جیسا کہ پہلے حصے میں اسلامی مملکت اور جزیرۃ العرب کے مشرکین کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کی آخری نوعیت کی حد بندی کی گئی تھی۔

پہلے حصے کی آیت کا تعلق جزیرۃ العرب کے مشرکین کے ساتھ تھا اور ان آیات میں ان صفات کا ذکر تھا جو مشرکین میں پائی جاتی تھیں۔ وہ واقعات اور حادثات جو عملاً اس وقت جزیرۃ العرب میں واقع ہوئے تھے پہلے سبق کے موضوع بحث تھے اور یہ آیات ان پر براہ راست منطبق تھیں جبکہ اس حصے کی آیات کا تعلق عموماً اہل کتاب کے ساتھ ہے۔ اور اس حصے کی آیات لفظاً اور معنی عام ہیں خواہ اہل کتاب جزیرۃ العرب میں ہوں یا اس سے خارج کسی جگہ ہوں۔

ان نصوص کے ذریعے ان تعلقات میں بنیادی تبدیلی کردی گئی ہے جو اس سے قبل مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان قائم تھے ، خصوصاً نصاری کے ساتھ۔ یہودیوں کے ساتھ تو جنگی حالت اس سے پہلے بھی کوئی بار قائم ہوگئی تھی لیکن نصاری کے ساتھ اعلان جنگ کی حالت نہ تھی۔

کیا تبدیلی ہوئی ؟ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ حکم دیا گیا منحرل اہل کتاب کے ساتھ جنگ کی جائے جو دین الٰہی کے منکر ہیں اور یہ جنگ اس وقت تک جاری رکھی جائے جب تک وہ چھوٹے ہو کر جزیہ ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اب وہ وقت گزر گیا کہ کہ ان کے ساتھ معاہدے کیے جائیں یا دوستی اور امن کے تعلقات قائم ہوں ان کے ساتھ اب یا جنگ ہے اور یا ان کی جنگ ہے اور یا ان کی جانب سے قبول جزیہ ہے۔ اور ان کے لیے صرف یہ حق محفوظ ہے کہ وہ اسلامی مملکت کے تحت ذمی ہو کر رہیں اور ان کے اور مسلم رعایا کے درمیان امن قائم ہو۔ ہاں جب وہ اسلامی نظریہ کو قبول کرلیں اور پوری طرح اسلام میں داخل ہوجائیں تو پھر وہ دوسرے مسلمانوں کی طرح مسلمان ہیں۔

یہ بات طے شدہ ہے کہ اسلامی ریاست کے تحت وہ اپنا عقیدہ آزادانہ رکھ سکتے ہیں اور انہیں اسلام لانے پر مجبور نہ کیا جائے گا کیونکہ اسلام کا محکم اور طے شدہ اصول یہ ہے لا اکراہ فی الدین " دین قبول کرنے میں کوئی زبردستی نہیں ہے " لیکن وہ اپنا دین صرف اس صورت میں عالم اسلام میں جاری رکھ سکتے ہیں جب تک وہ جزیہ ادا کرتے رہیں۔ اور اس سلسلے میں ان کے اور اسلامی ریاست کے درمیان معاہدہ طے ہوجائے۔

اسلامی معاشرے اور اہل کتاب کے درمیان تعلقات کی اس تبدیل شدہ نوعیت کو تب ہی سمجھا جاسکتا ہے جب اسلامی نظام حیات اور جاہلی نظاموں کے درمیان تعلقات کی اس حتمی شکل کو اسلام کے تحریکی مزاج کے مطابق سمجھنے کی سعی کی جائے۔ اچھی طرح سمجھ کر بصیرت کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کی جائے۔ خصوصا اس زاویہ سے کہ ان بین الاقوامی تعلقات کے قوانین کو کئی مراحل سے گزر کر اس آخری شکل تک پہنچا پڑا ہے۔ اور اس میں عملی حالات کی وجہ سے اور نئے نئے مراحل کی وجہ سے ترمیم اور تبدیلی ہوتی رہی ہے۔

یہ آخری شکل کیا ہے ؟ وہ یہ کہ اسلامی نظام حیات اور جاہلی نظامہائے حیات چند مخصوص شرائط کے تحت باہم زندہ رہ سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ جاہلی نظام اسلام نظام کے اس ہدف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والا نہ ہو کہ اس کرہ ارض پر کوئی شخص دوسرے اشخاص کا غلام اور بندہ نہ ہوگا۔ کوئی انسان اپنے جسے انسان کی غلامی نہ کرے گا۔ اور اس کرہ ارض پر کوئی نظام کوئی حکومت اور کوئی معاشرہ ایسا نہ ہوگا جو اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ اس لیے کہ اسلام کا مزاج ہی یہ ہے کہ وہ غالب ہونا چاہتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں داخل کرے۔ اور یہ اسلام کا اعلان عام ہے جبکہ جاہلی نظامہائے حیات کا اولین ہدف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا دفاعی کریں کیونکہ یہ اعلان ان کے لیے اعلان موت ہے اور اس لیے وہ اس قسم کی ہر تحریک کو ختم کرنا چاہتے ہیں جبکہ اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ ہر …

30

وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ عُزَيْرٌ ٱبْنُ ٱللَّهِ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَى ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ ٱللَّهِ ۖ ذَٰلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَٰهِهِمْ ۖ يُضَٰهِـُٔونَ قَوْلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَبْلُ ۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُ ۚ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ

اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے یہ بھی انہیں کی ریس کرنے میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں

(سابقہ آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ)

اسلام اس کرہ ارض پر ایک دین برحق ہے۔ اور اس یہ حق ہے کہ وہ اپنی راہ سے ناجائز مادی رکاوٹوں کو دور کرے۔ اور تمام انسانوں کو دین حق (اسلام) کے علاوہ تمام دینوں سے آزاد کرکے چھوڑے کہ وہ جبری حالت سے نکل کر آزادانہ ، جو دین چاہیں اختیار کریں۔ ہر انسان کو آزادانہ طور پر یہ اختیار ہو کہ وہ جو دین چاہے اختیار کرے۔ کوئی بھی دین اختیار کرنے کے سلسلے میں اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

یہ حق کہ کوئی انسان کسی مادی رکاوٹ کے ہاتھوں مجبور نہ ہو اور اسلام یا گیر اسلام کوئی بھی دین قبول کرنے کے لیے آزاد ہو ، تب ہی متحقق ہوسکتا ہے کہ جاہلیت کی قوت اور شوکت کو تور دیا جائے۔ تمام غیر اسلامی قوتیں اسلامی مملکت کے تابع ہوں اور اسلامی نظام کی باج گزار ہوں۔

باج گزاری کے عمل سے انسان کی آزادی اپنی تکمیل کو پہنچ جاتی ہے۔ ہر فرد جس دین کو چاہے اختیار کرتا ہے جو اسلام پر مطمئن ہو وہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے۔ اور جو شخص مطمئن نہ ہو وہ اپنے دین پر باقی رہتا ہے۔ لیکن اس آزادی کی فیس اسے بطور جزیہ ادا کرنی ہوگی اور اس سے درج ذیل مقاصد حاصل ہوں گے۔

1 ۔ جزیہ دے کر وہ اعلان کر رہا ہوگا کہ اب وہ اسلام کی دشمنی میں کوئی مادی قوت بطور رکاوٹ کھڑی نہ کرے گا اور دعوت اسلامی کا سد راہ نہ ہوگا۔

2 ۔ وہ اپنے مال اور عزت کے دفاع اور آازی کے حق جس کی ضمانت اسے اسلام دیتا ہے ، کے عوض اخراجات میں مملکت میں اپنا حصہ ادا کرے گا۔ کیونکہ جو لوگ جزیہ دیتے ہیں اسلامی نظام مملکت ان کے مال اور جان اور آبرو کا محافظ ہوتا ہے۔ اور ان کی جانب سے دفاع کرتا ہے۔ خواہ خارجی حملہ ہو یا داخلی امن وامان ہو۔

3 ۔ پھر یہ کہ وہ بیت المال میں اپنا حصہ ادا کرے گا جس سے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کی کفالت کا بندوبست ہوتا ہے ہے۔ تمام ایسے لوگوں کو بیت المال سے وظیفہ دیا جاتا ہے جو کسب و عمل پر قادر نہ ہوں خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ہو جبکہ غیر مسلموں پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی۔

ہم اس سے آگے فقہی اختلافات میں نہیں پڑتے کہ کن کن غیر مسلموں سے جزیہ لیا جائے گا اور یہ کہ جزیہ کی مقدار کیا ہوگی اور یہ کہ اس کی وصلی کا طریقہ کار کیا ہوگا ؟ کیونکہ آج ہمارے سامنے کوئی عملی مسائل اس قسم کا درپیش نہیں ہے۔ فقہاء کے دور میں یہ مسئلہ عملاً درپیش تھا اس لیے انہوں اپنے دور کے لیے احکام جاری کیے اور فتوے دیے اور ان مسائل پر اجتہادی کلام کیا۔

آج یہ مسئلہ ایک تاریخی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ واقعی سوال نہیں ہے اس لیے کہ آج مسلمان عمل جہاد میں سرگرم نہیں ہیں۔ اور یہ اس لیے کہ حقیقی مسلمان ہمارے دور میں کمیاب ہیں۔ آج ہمارے سامنے حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ آج اسلام موجود ہے یا دنیا میں موجود ہیں یا نہیں۔

اسلامی نظام حیات کیا ہے ؟ جیسا کہ ہم نے بار بار اس سوال کا جواب دیا کہ وہ ایک سنجیدہ اور عملی نظام ہے۔ یہ نظام محض ہوائی باتوں پر بحث وجدال نہیں کرتا۔ نہ وہ ایسے فقہی مباحث میں دماغ سوزی کو ضروری سمجھتا ہے جو عملاً موجود نہ ہوں کیونکہ عالم واقعہ میں مسلمانوں کی کوئی سوسائٹی موجود نہیں ہے۔ جس میں اسلامی شریعت نافذ ہو۔ اور اسلامی فقہ اس کی عملی زندگی پر متصرف ہو۔ اسلام ایسے لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے جو مفروضے گھڑتے ہیں اور پھر ان پر مباث کے سلسلے اٹھاتے ہیں۔ ان کو اسلامی اصطلاح میں " ارئیتی " کہا جاتا ہے جو اس طرح سوال کرتے ہیں " دیکھو ، اگر یوں صورت حالات واقعہ ہوجائے تو کیا حکم ہوگا ؟ "

آج ہمیں احیاء اسلام کے کام کا آغاز اسی مقام سے کرنا ہے جس سے حجور اکرم نے کیا تھا اور وہ یہ کہ دیا میں کوئی ایسی سوسائٹی وجود میں آئے جو حکومت الہیہ قائم کرکے اس میں دین اسلام نافذ کردے۔ وہ پہلے شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی اور حاکم نہیں ہے اور محمد رسول اللہ ہیں ، شارع ہیں۔ لہذا ہماری سوسائٹی مٰ اللہ حاکم اور …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.