فَإِن تَابُوا۟ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِى ٱلدِّينِ ۗ وَنُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ
اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں۔ اور سمجھنے والے لوگوں کے لیے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں
11 ۔ 12:۔ اب تفصیلاً بتایا جاتا ہے کہ ان حالات میں اہل ایمان مشرین کے حوالے سے کیا طرز عمل اختیار کریں۔
۔۔۔
مسلمانوں کا مقابلہ ایسے دشمنوں سے ہے جو ہر وقت تاک میں بیٹھا ہے اور وہ مسلمانوں پر بےرحم وار کرنے کے لیے محض اس لیے رکے ہوئے ہوتے ہیں کہ اندر وار کرنے کی سکت نہیں ہوتی۔ یہ وجہ نہیں ہوتی کہ وہ کسی عہد و پیمان کا لحاظ کرنے والے ہوتے ہیں یا کسی ذمہ داری کا احساس کرنے والے ہوتے ہیں یا ان پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت و مذمت کا کوئی اثر ہوتا ہے ، نہ وہ کسی رشتہ داری یا تعلق کا خیال رکھتے ہیں۔ دین اور لادینی کی کشمکش کی یہ ایک طویل تاریخ ہے اور یہ تاریخ اسی راہ پر چلتی رہی ہے۔ اس شاہراہ سے اگر کوئی انحراف ہوا ہے تو وہ محض عارضی اسباب کی وجہ سے اور جلدی تاریخ اپنے اسی خط پر رکتی ہے جو مقرر و مرسوم رہا ہے۔
ایک تو ہمارے سامنے یہ عملی تاریخ ہے ، دوسرے یہ کہ اسلام نظام حیات کے اہداف کی نوعیت ہے کہ اس کے پیش نطر لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی غلامی میں دینا ہے ، جبکہ اسلامی نظام حیات کے مقابلے میں تمام جاہلی نظام ہائے حیات کے اہداف یہ ہیں کہ لوگ لوگوں کے غلام رہیں۔ ایسے حالات میں اسلامی نظام حیات کا تحریکی عمل دنیا کو اس طرح خطاب کرتا ہے۔
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ ۭوَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ : " پس اگر ہی توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں "
وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ : " اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ (پھر تلوار ہی کے زور سے) وہ باز آئیں گے "
پھر صورت یہ ہوگی کہ یا تو وہ اس دین میں داخل ہوجائیں گے جس میں مسلمان داخل ہوئے ہیں اور سابقہ گناہوں سے تائب ہوجائیں گے اور شرک اور ظلم کو چھوڑ دیں گے۔ تو مسلمان ان کے شرک اور ظلم سے صرف نظر کردیں گے۔ اور ان کے درمیان نظریاتی تعلق قائم ہوجائے گا۔ اور یہ جدید مسلمان بھی قدیم مسلمانوں کے بھائی بن جائیں گے اور ان کا تمام ماضی بھلا دیا جائے گا۔ تاریخ سے بھی اور دلوں سے بھی۔ اور یہ کہا کہ و نفصل الایت لقوم یعلمون۔ یعنی ان احکام کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں اور ان کی حکمت تک وہی لوگ رسائی حاصل کرسکتے ہیں جو اہل علم ہوں۔ یا پھر یہ صورت ہوگی کہ وہ دین اسلام سے روگردانی کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے اس کا عہد کیا تھا۔ اور دین اسلام پر نکتہ چینیاں کرتے ہیں تو یہ کفر کے علمبردار ہوں گے۔ اور ان کے دلوں میں نہ ایمان ہوگا نہ ان کے عہد و پیمان کا کوئی اعتبار ہوگا۔ اور اب ہمارے لیے ماسوائے اس کے کہ ان کے ساتھ جنگ شروع کردیں اور کوئی راستہ ہی نہ ہوگا۔ شاید بزور تلوار یہ باز آجائیں۔ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں کہ اسلامی کیمپ کی قوت اور اس کا جنگی غلبہ بعض اوقات لوگوں کو اس بات پر مائل کردیتا ہے کہ وہ سچائی کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ حق غالب ہے لہذا وہ اسے قبول کرلیتے ہیں اور ان کا استدلال یہ ہوتا ہے چونکہ یہ نظام غالب ہے لہذا برحق ہے۔ اور یہ کہ اس کی پشت پر قوت الہیہ ہے اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آخر کار اللہ اور اس کے رسولوں نے غالب ہونا ہے۔ اس طرح یہ لوگ ذہنا قائل ہو کر ہدایت کو قبول کرلیں گے اور توبہ کرلیں گے۔ یہ نہ ہوگا کہ جنگ کی وجہ سے ان کا دین زبردستی تبدیل کردیا جائے گا۔ بلکہ وہ اس طرح مطمئن ہوجائیں گے کیونکہ دین …