Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 121–129 of 129

121

وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةًۭ صَغِيرَةًۭ وَلَا كَبِيرَةًۭ وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ ٱللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور (اسی طرح) جو وہ خرچ کرتے ہیں تھوڑا یا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے (اعمال صالحہ) میں لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دے

ولا ینفقون نفقۃ صغیرۃ ولا کبیرۃ اور نیز جو کچھ چھوٹا بڑا (راہ خدا میں) انہوں نے صرف کیا۔ جیسے حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف نے جیش عسرت کی تیاری کے موقع پر مال صرف کیا۔

ولا یقطعون وادیاً الا کتب لھم اور جتنے میدان ان کو طے کرنا پڑے ‘ یہ سب بھی ان کے نام نیکیوں میں لکھے گئے۔ یعنی آتے جاتے جس وادی کو بھی وہ قطع کرتے ہیں ‘ اس کو لکھ لیا جاتا ہے۔ وادی نالہ جس میں سیلاب کا پانی (پہاڑ سے آ کر) بہتا ہے۔ وادی اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ وَدِی (ماضی) جاری ہوگیا ‘ بہہ گیا۔ مجازاً اس سے زمین مراد ہوتی ہے ‘ اس معنی میں استعمال عام ہے۔

لیجزیھم اللہ احسن ما کانوا یعملون تاکہ اللہ ان کو ان کے نیک کاموں کا اچھے سے اچھا بدلہ دے۔

یعنی ان کے اچھے اعمال کی جزاء اچھے عمل سے ‘ مراد ہے جہاد۔ یا ان کے اعمال کی اچھی جزاء۔ حضرت ابو مسعود انصاری کی روایت ہے کہ ایک آدمی نکیل پڑی اونٹنی لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا : یہ اللہ کی راہ میں ہے۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : قیامت کے دن اس کے عوض تجھے سات سو نکیل پڑی اونٹنیاں ملیں گی۔ رواہ مسلم

حضرت زید بن خالد راوی ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کیلئے سامان تیار کر کے دیا ‘ اس نے بھی جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے بیوی بچوں کی اس کے بعد خبرگیری کی ‘ اس نے بھی جہاد کیا۔ رواہ البخاری ومسلم فی صحیحہما۔ وا اللہ اعلم

کلبی نے ذکر کیا ہے کہ قبائل بنی اسد بن خزیمہ قحط سالی میں مبتلا ہو کر (گھروں کو چھوڑ کر) بچوں کو لے کر مدینہ میں آپڑے۔ ان کی وجہ سے مدینہ کے راستے گندے ہوگئے اور چیزوں کے نرخ گراں ہوگئے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :

At-Tawba 9:121Listen in Qur'an →
122

۞ وَمَا كَانَ ٱلْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا۟ كَآفَّةًۭ ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍۢ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌۭ لِّيَتَفَقَّهُوا۟ فِى ٱلدِّينِ وَلِيُنذِرُوا۟ قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوٓا۟ إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ

اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں۔ تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا (علم سیکھتے اور اس) میں سمجھ پیدا کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو ان کو ڈر سناتے تاکہ وہ حذر کرتے

وما کان المؤمنون لینفروا کآفۃ اور (ہمیشہ کیلئے) مسلمانوں کو یہ بھی نہ چاہئے کہ جہاد کیلئے سب کے سب ہی نکل کھڑے ہوں۔ یہ نفی بمعنی نہی ہے ‘ یعنی طلب علم کیلئے تمام مسلمان اپنے وطنوں سے نہ نکل پڑیں ‘ اس سے معاشرہ کا بگاڑ اور معاش کا فساد پیدا ہوجائے گا۔

فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طآئفۃ لیتفقھوا فی الدین سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ یہ (باقی ماندہ) لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں۔ یعنی ہر بڑی جماعت مثلاً ایک قبیلہ یا ایک شہر یا ایک بستی میں سے چھوٹا گروہ کیوں طلب علم کیلئے نہیں نکلا کہ تکلیفیں اور مشقتیں اٹھا کر دینی سمجھ حاصل کرتا اور دین کے مسائل سمجھتا۔ صاحب نہایہ نے لکھا ہے : فقہ کا اصلی لغوی معنی ہے سمجھنا۔ اس کا اشتقاق ‘ شق اور فتح (کے مفہوم سے) ہے۔ ” فرقۃ “ سے مراد بڑی جماعت ہے۔ ” طائفۃ “ چھوٹی جماعت۔ قاموس میں ہے : فقہ بکسر فاء کسی چیز کو جاننا سمجھنا۔ چونکہ (تمام علوم میں) علم دین کو فضیلت حاصل ہے ‘ اسلئے فقہ کا لفظ (اصطلاح میں) علم دین کیلئے مخصوص کرلیا گیا۔ بعض نے کہا : معلوم کے ذریعے سے نامعلوم کو حاصل کرنا فقہ ہے یعنی علم استدلالی کیلئے یہ لفظ خاص ہے ‘ اس صورت میں لفظ علم عام اور لفظ فقہ خاص ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَمَا لھآؤُلاآءِ الْقَوْمِ لاَ یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ حَدِیْثًاان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ بات سمجھ بھی نہیں سکتے۔ یعنی بات کے مضمون کا استنباط نہیں کرتے (بات کے مغز کو نہیں سمجھتے) ۔

امام ابوحنیفہ نے فرمایا : نفس کے ضرر رساں اور فائدہ بخش امور کو جاننا فقہ ہے (خواہ فکر و عقیدہ کے لحاظ سے ہو یا قول و عمل کے اعتبار سے۔ اصول کا علم ہو یا فروع کا) فروع دین کے علم کو خصوصیت کے ساتھ فقہ کہنا اصطلاح جدید ہے (قرن اول میں یہ خصوصیت نہیں تھی) ۔

ظاہر یہ ہے کہ لفظ فقہ کے اندر مقلد کا علم بھی داخل ہے ‘ مجتہد سے یامجتہد کی کتاب سے علم حاصل کرنے سے اس فرض کی ادائیگی ہوجاتی ہے جس کا حکم آیت مندرجہ میں دیا گیا ہے۔

ولینذروا قومھم اذا رجعوآ الیھم لعلھم یحذرون۔ اور (جانے والے) لوگ جب واپس آئیں تو یہ ان کو ڈرائیں تاکہ وہ (ان سے دین کی باتیں سیکھ کر) برے کاموں سے احتیاط رکھیں۔

یعنی جب وہ لوگ اپنے وطن کو لوٹ کر آئیں تو جو لوگ تحصیل علم کیلئے نہیں گئے تھے اور وطن ہی میں مقیم رہے ‘ ان کو واپس آ کر (ا اللہ کے دئیے ہوئے احکام کی مخالفت سے) ڈرائیں (اور ان کو احکام بتائیں) مجاہد نے کہا : کچھ لوگ تبلیغ کرنے اور دعوت ہدایت دینے کیلئے دیہات اور صحراء کی طرف گئے تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا : تم ہمارے پاس (تو تبلیغ کیلئے) آگئے اور اپنے ساتھی (یعنی رسول اللہ (ﷺ) کو چھوڑ کر آگئے۔ یہ بات سن کر ان حضرات کے دلوں میں کچھ احساس ہوا ‘ وہ فوراً دیہات سے لوٹ آئے اور رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ اس پر آیت مذکورۂ بالا نازل ہوئی۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا ہے : سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح انسانوں کی بھی تم کانیں پاؤ گے (خیر و شر کے مختلف معاون ہیں اور مختلف انسان ‘ مختلف معاون کی پیداوار ہیں) پس جو لوگ (طبعاً ) جاہلیت (کے دور) میں بہتر تھے ‘ وہ اسلام میں بھی بہتر ہوں گے بشرطیکہ سمجھ پیدا کرلیں۔ رواہ الشافعی وکذا روی الشیخان فی الصحیحین واحمد عن ابی ہریرہ۔ طبرانی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : آدمی (بس) دو ہیں : عالم اور متعلم ‘ ان کے سوا باقی (آدمیوں) میں کوئی خیر نہیں۔

آیت دلالت کر رہی ہے کہ خبر آحاد (شرعی) حجت ہے (یعنی کسی مسئلہ کو جاننے کیلئے خبر آحاد کو بشرطیکہ وہ قابل وثوق روایت سے پہنچی ہو ‘ ماننا ضروری ہے) کیونکہ آیت میں ” کل فرقۃ “ کا لفظ عام ہے جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ اگر کسی بستی میں تین ہی آدمی ہوں تو ان میں سے بھی کسی ایک کو علم حاصل کرنے …

At-Tawba 9:122Listen in Qur'an →
123

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَٰتِلُوا۟ ٱلَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ ٱلْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا۟ فِيكُمْ غِلْظَةًۭ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ

اے اہلِ ایمان! اپنے نزدیک کے (رہنے والے) کافروں سے جنگ کرو اور چاہیئے کہ وہ تم میں سختی (یعنی محنت وقوت جنگ) معلوم کریں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے

یایھا الذین امنوا قاتلوا الذین یلونکم من الکفار اے ایمان والو ! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس رہتے ہیں۔

اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ کافروں سے جہاد کرنے کا آغاز الاقرب فالاقرب کے طریقے پر کیا جائے۔ سکونت اور نسبی قرابت کے اعتبار سے جو کافر قریب ترین ہوں ‘ ان سے جہا دشروع کیا جائے۔ قریب ترین کافروں کو اصلاح طلبی اور شفقت کا سب سے زیادہ حق ہے ‘ اسی لئے رسول اللہ (ﷺ) کو سب سے پہلے اپنے قریب ترین خاندان والوں کو تبلیغ کرنے کا حکم دیا گیا اور ہجرت کے بعد بنی قریظہ ‘ بنی نضیر اور خیبر کے یہودیوں سے جہاد کرنے کا حکم سب سے پہلے دیا گیا۔ جب عرب سے جہاد ختم ہوگیا اور ضرورت نہ رہی تو رومیوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس آیت میں رومیوں سے جہاد کرنے ہی کا حکم دیا گیا ہے۔ رومی شام میں رہتے تھے (اور ایرانی عراق میں) اور عراق کی بہ نسبت شام مدینہ سے قریب تھا۔ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ (ﷺ) نے تبوک کی طرف رومیوں سے جہاد کرنے کیلئے خروج کیا ‘ جیسا کہ ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد کے قول سے اور ابن جریر نے حضرت سعید بن جبیر کے حوالے سے نقل کیا ہے۔

اس آیت کے مقتضا کا لحاظ کرتے ہوئے علماء فقہ نے صراحت کی ہے کہ کفار کی سرحد کے قریب جو مسلمان رہتے ہوں ‘ ان پر سرحدی کافروں سے جہاد کرنا واجب ہے۔ اگر وہ کافی نہ ہوں اور زیادہ طاقت کی ضرورت ہو یا وہ سستی کریں اور حکم جہاد کی پرواہ نہ کریں تو ان سرحدی مسلمانوں کے متصل جو مسلمان رہتے ہوں ‘ ان پر سرحدی کافروں سے جہاد کرنا واجب ہوجاتا ہے اور ان میں بھی اگر بقدر ضرورت طاقت نہ ہو یا سستی کی وجہ سے وہ جہاد ترک کر بیٹھیں تو ان سے پیچھے والے مسلمانوں کا وہی فریضہ ہوجاتا ہے جو سستی کرنے والوں کا تھا۔ اسی ترتیب کے ساتھ مشرق و مغرب کے تمام مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت ہوجاتی ہے۔ میّت کی تجہیز و تکفین کا سامان مہیا کرنا اور میّت کی نماز پڑھنے کا بھی یہی حکم ہے۔

ولیْجدوا فیکم غلظۃ اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہئے۔

غلطۃًکا معنی ہے شدت اور اسلام کی حمیت۔ حسن کے نزدیک غلظت سے مراد ہے جہاد پر صبر۔ بظاہر لیجدوا کا صیغہ امر کا ہے جس کی ضمیر کافروں کی طرف راجع ہے اور کفار مامور ہیں ‘ لیکن حقیقت میں امر کا رجوع مسلمانوں کی طرف ہے اور مراد یہ ہے کہ مسلمانو ! تم کافروں کے مقابلہ میں سختی اور شدت اختیار کرو (ان کو تمہارے اندر کوئی نرمی اور بزدلی محسوس نہ ہو) ۔

واعلموا ان اللہ مع المتقین۔ اور جان لو کہ اللہ کی مدد اور نصرت متقیوں کے ساتھ ہے۔ کافروں کے ساتھ نہیں ہے ‘ اسلئے تم ان کی جنگ کی پرواہ نہ کرو (خوف زدہ نہ ہو) ۔

At-Tawba 9:123Listen in Qur'an →
124

وَإِذَا مَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌۭ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَٰذِهِۦٓ إِيمَٰنًۭا ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فَزَادَتْهُمْ إِيمَٰنًۭا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافق (استہزاء کرتے اور) پوچھتے کہ اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے۔ سو جو ایمان والے ہیں ان کا ایمان تو زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں

واذا مآ انزلت سورق فمنھم من یقول ایکم زادتہ ھذٓہ ایمانًا فاما الذین امنوا فزادتھم ایمانًا اور جب کوئی (جدید) سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافق (غرباء مسلمین سے بطور تمسخر) کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان میں ترقی دی ؟ سو (سنو ! ) جو لوگ ایماندار ہیں ‘ اس سورت نے ان کے ایمان میں ترقی دی ہے۔

یعنی جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو منافقوں میں سے کچھ لوگ اپنے بھائی بندوں سے بطور مذاق کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان و یقین میں اضافہ کیا۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا : ایمانداروں کے ایمان کو نازل شدہ سورت بڑھاتی ہے۔ سورت کے اندر جو اعجاز بیان ہوتا ہے ‘ اس سے مؤمنوں کے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور نازل شدہ سورت پر ان کو یقین ہوجاتا ہے ‘ اسلئے سابق ایمان کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے (پہلے اسی حصہ پر ان کا ایمان تھا جو نازل ہوچکا تھا ‘ پھر سورت جدیدہ پر بھی ان کا ایمان ہوجاتا ہے اور جو کچھ سورت میں علمی اور اعجازی حصہ ہوتا ہے ‘ وہ بھی ان کو حاصل ہوجاتا ہے۔ اس طرح ایمان بڑھ جاتا ہے) ۔

وھم یستبشرون۔ اور وہ (سورت کے نزول سے) خوش ہو رہے ہیں کیونکہ سورت کی وجہ سے ان کے علم و کمال میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کے درجات اونچے ہوجاتے ہیں۔

At-Tawba 9:124Listen in Qur'an →
125

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌۭ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا۟ وَهُمْ كَٰفِرُونَ

اور جن کے دلوں میں مرض ہے، ان کے حق میں خبث پر خبث زیادہ کیا اور وہ مرے بھی تو کافر کے کافر

واما الذین فی قلوبھم مرض فزادتھم رجسًا الی رجسھم وماتوا وھم کافرون۔ اور جن کے دلوں میں (نفاق کا) آزار ہے ‘ اس سورت نے ان میں ان کی (پہلی) گندگی کے ساتھ اور نئی گندگی بڑھا دی اور وہ حالت کفر میں مر گئے۔

مرض سے مراد ہے شک و نفاق۔ رجس گندگی ‘ مراد کفر۔ یعنی پہلے وہ سابق میں نازل شدہ آیات دسور کے منکر تھے ‘ اب اس جدید سورت کے بھی منکر ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کفر بالائے کفر ہوجاتا ہے۔

کفر کی حالت پر مرنے کی صراحت اسلئے فرمائی کہ ایمان ایک خداداد چیز ہے۔ آیات کا کام ایمان بخشی نہیں۔ اللہ ایمان نہ دے تو آیات غیر مفید ہوتی ہیں۔ مجاہد نے کہا : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے (یعنی ایمان مرکب ہے ‘ اس کے اجزاء میں کمی بیشی ہوتی ہے) حضرت عمر اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایک یا دو آدمیوں کا ہاتھ پکڑ کر فرماتے تھے : آؤ ‘ ہم اپنا ایمان بڑھائیں (یعنی اگر کوئی جدید آیت یا سورت نازل ہوئی ہو تو اس کو چل کر سنیں تاکہ ہماے ایمان میں اضافہ ہو) حضرت علی نے فرمایا : دل کے اندر ایمان ایک سفید نقطہ کی شکل میں نمودار ہوتا ہے ‘ جتنا ایمان بڑھتا ہے ‘ اتنی ہی سفیدی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ پورا دل سفید ہوجاتا ہے اور نفاق دل میں سیاہ نقطہ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ‘ پھر جتنا نفاق بڑھتا ہے ‘ سیاہی بھی بڑھتی ہے یہاں تک کہ پورا دل کالا ہوجاتا ہے۔ خدا کی قسم ! اگر تم مؤمن کا دل چیر کر دیکھو گے تو اس کو سفید پاؤ گے اور اگر منافق کا دل چیر کر دیکھو گے تو اس کو سیاہ پاؤ گے۔

At-Tawba 9:125Listen in Qur'an →
126

أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِى كُلِّ عَامٍۢ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ

کیا یہ دیکھتے نہیں کہ یہ ہر سال ایک یا دو بار بلا میں پھنسا دیئے جاتے ہیں پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت پکڑتے ہیں

اولایرون انھم یفتنون فی کل عامر مرۃ او مرتین ثم لا یتوبون ولا ھم یذکرون۔ اور کیا ان کو نہیں دکھائی دیتا کہ ہر سال ایک یا دو بار وہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں پھر بھی باز نہیں آتے اور نہ وہ کچھ سمجھتے ہیں (کہ آئندہ باز آنے کی امید ہو) ۔

یعنی طرح طرح کے امراض اور مصائب بھیج کر ان کی آزمائش کی جاتی ہے۔ مجاہد نے کہا : قحط اور شدت میں مبتلا کر کے آزمائش کی جاتی ہے۔ قتادہ نے کہا : رسول اللہ (ﷺ) کی ہمرکابی میں جہاد کو جاتے ہیں اور جو صداقت کی نشانیاں ظہور پذیر ہوتی ہیں ‘ ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ مقاتل بن جان نے کہا : ان کے نفاق کو ظاہر کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی رسوائی ہوتی ہے۔ عکرمہ نے کہا : منافقت کرتے ہیں ‘ پھر ایمان لے آتے ہیں ‘ پھر منافق ہوجاتے ہیں۔ یمان نے کہا : عہد شکنی کرتے ہیں۔

پھر توبہ نہیں کرتے یعنی عہد شکنی سے ‘ گناہوں سے اور نفاق سے جو مصائب کے آنے اور رسوائیاں ہونے کا سبب ہے۔

اور نہ وہ نصیحت پکڑتے ہیں اس بات سے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر سے نصرت کا اور مسلمانوں سے فتح کا جو وعدہ کیا تھا ‘ اس کو کس طرح پورا کیا۔

At-Tawba 9:126Listen in Qur'an →
127

وَإِذَا مَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌۭ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ هَلْ يَرَىٰكُم مِّنْ أَحَدٍۢ ثُمَّ ٱنصَرَفُوا۟ ۚ صَرَفَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُم بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگتے ہیں (اور پوچھتے ہیں کہ) بھلا تمہیں کوئی دیکھتا ہے پھر پھر جاتے ہیں۔ خدا نے ان کے دلوں کو پھیر رکھا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے

واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض اور جب کوئی سورة اتاری جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے۔ یعنی آنکھوں آنکھوں میں انکاریہ یا استہزائیہ اشارہ کرتا ہے ‘ یا آنکھوں کے اشارے سے غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ اس سورة میں ان کے عیوب کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی رسوائی کی گئی ہے اور مجلس سے اٹھ کر بھاگ جانے کا ارادہ کرتے ہوئے آنکھوں کے اشارہ سے ایک دوسرے سے کہتا ہے۔

ھل یراں کم من احد کیا تمہیں کوئی (مسلمان) دیکھ رہا ہے ؟ اگر اس مجلس سے اٹھ جاؤ گے تو کیا کسی کی نظر پڑجائے گی۔ پھر اگر کوئی مسلمان نہیں دیکھتا ہوتا تو وہ مسجد سے سرک جاتے ‘ اگر دیکھنے کا یقین ہوتا تو جمے بیٹھے رہتے۔

ثم انصرفوا پھر (یعنی اس سورت نازلہ پر ایمان لانے سے) پھرگئے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ اس مقام سے جہاں بیٹھے سورت سن رہے تھے ‘ یعنی مجلس رسول اللہ (ﷺ) سے پھرگئے۔ بیٹھے رہنے میں ان کو رسوائی کا اندیشہ تھا۔

صرف اللہ قلوبھم اللہ نے ان کے دلوں کو (ایمان سے) پھیر دیا۔ ابو اسحاق نے کہا : اللہ نے ان کے کرتوت کی سزا میں ان کو گمراہ کردیا۔ یہ جملہ (بجائے خبریہ ہونے کے) بددعائیہ بھی ہو سکتا ہے (مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے دلوں کو ایمان سے پھر دے ‘ رہاسہا شائبۂ ایمان بھی ان کے دلوں سے جاتا رہے) ۔

بانھم قوم لا یفقھون اس سبب سے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (اپنی بدفہمی اور غلط تدبر کی وجہ سے حق کو) نہیں سمجھتے۔

At-Tawba 9:127Listen in Qur'an →
128

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌۭ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِٱلْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ

(لوگو) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے (اور) مہربان ہیں

واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض اور جب کوئی سورة اتاری جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے۔ یعنی آنکھوں آنکھوں میں انکاریہ یا استہزائیہ اشارہ کرتا ہے ‘ یا آنکھوں کے اشارے سے غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ اس سورة میں ان کے عیوب کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی رسوائی کی گئی ہے اور مجلس سے اٹھ کر بھاگ جانے کا ارادہ کرتے ہوئے آنکھوں کے اشارہ سے ایک دوسرے سے کہتا ہے۔

ھل یراں کم من احد کیا تمہیں کوئی (مسلمان) دیکھ رہا ہے ؟ اگر اس مجلس سے اٹھ جاؤ گے تو کیا کسی کی نظر پڑجائے گی۔ پھر اگر کوئی مسلمان نہیں دیکھتا ہوتا تو وہ مسجد سے سرک جاتے ‘ اگر دیکھنے کا یقین ہوتا تو جمے بیٹھے رہتے۔

ثم انصرفوا پھر (یعنی اس سورت نازلہ پر ایمان لانے سے) پھرگئے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ اس مقام سے جہاں بیٹھے سورت سن رہے تھے ‘ یعنی مجلس رسول اللہ (ﷺ) سے پھرگئے۔ بیٹھے رہنے میں ان کو رسوائی کا اندیشہ تھا۔

صرف اللہ قلوبھم اللہ نے ان کے دلوں کو (ایمان سے) پھیر دیا۔ ابو اسحاق نے کہا : اللہ نے ان کے کرتوت کی سزا میں ان کو گمراہ کردیا۔ یہ جملہ (بجائے خبریہ ہونے کے) بددعائیہ بھی ہو سکتا ہے (مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے دلوں کو ایمان سے پھر دے ‘ رہاسہا شائبۂ ایمان بھی ان کے دلوں سے جاتا رہے) ۔

بانھم قوم لا یفقھون اس سبب سے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (اپنی بدفہمی اور غلط تدبر کی وجہ سے حق کو) نہیں سمجھتے۔

At-Tawba 9:128Listen in Qur'an →
129

فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُلْ حَسْبِىَ ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْعَظِيمِ

پھر اگر یہ لوگ پھر جائیں (اور نہ مانیں) تو کہہ دو کہ خدا مجھے کفایت کرتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے

واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض اور جب کوئی سورة اتاری جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے۔ یعنی آنکھوں آنکھوں میں انکاریہ یا استہزائیہ اشارہ کرتا ہے ‘ یا آنکھوں کے اشارے سے غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ اس سورة میں ان کے عیوب کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی رسوائی کی گئی ہے اور مجلس سے اٹھ کر بھاگ جانے کا ارادہ کرتے ہوئے آنکھوں کے اشارہ سے ایک دوسرے سے کہتا ہے۔

ھل یراں کم من احد کیا تمہیں کوئی (مسلمان) دیکھ رہا ہے ؟ اگر اس مجلس سے اٹھ جاؤ گے تو کیا کسی کی نظر پڑجائے گی۔ پھر اگر کوئی مسلمان نہیں دیکھتا ہوتا تو وہ مسجد سے سرک جاتے ‘ اگر دیکھنے کا یقین ہوتا تو جمے بیٹھے رہتے۔

ثم انصرفوا پھر (یعنی اس سورت نازلہ پر ایمان لانے سے) پھرگئے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ اس مقام سے جہاں بیٹھے سورت سن رہے تھے ‘ یعنی مجلس رسول اللہ (ﷺ) سے پھرگئے۔ بیٹھے رہنے میں ان کو رسوائی کا اندیشہ تھا۔

صرف اللہ قلوبھم اللہ نے ان کے دلوں کو (ایمان سے) پھیر دیا۔ ابو اسحاق نے کہا : اللہ نے ان کے کرتوت کی سزا میں ان کو گمراہ کردیا۔ یہ جملہ (بجائے خبریہ ہونے کے) بددعائیہ بھی ہو سکتا ہے (مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے دلوں کو ایمان سے پھر دے ‘ رہاسہا شائبۂ ایمان بھی ان کے دلوں سے جاتا رہے) ۔

بانھم قوم لا یفقھون اس سبب سے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (اپنی بدفہمی اور غلط تدبر کی وجہ سے حق کو) نہیں سمجھتے۔

At-Tawba 9:129Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.