Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 111–120 of 129

111

۞ إِنَّ ٱللَّهَ ٱشْتَرَىٰ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلْجَنَّةَ ۚ يُقَٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّۭا فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ وَٱلْقُرْءَانِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِ ۚ فَٱسْتَبْشِرُوا۟ بِبَيْعِكُمُ ٱلَّذِى بَايَعْتُم بِهِۦ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں (اور اس کے) عوض ان کے لیے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے۔ جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے

یقینا اللہ نے خرید لیا ہے مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو بدلے اس کے کہ بلاشبہ ان کے لیے جنت ہے، وہ (مومن) لڑتے ہیں اللہ کے راستے میں ، پس قتل کرتے ہیں وہ اور قتل کیے جاتے ہیں ، یہ وعدہ ہے اللہ کے ذمے سچا تورات اور انجیل اور قرآن میں اور کون زیادہ پورا کرنے والا ہے اپنے عہد کو اللہ سے (بڑھ کر) ؟ پس خوش ہو جاؤ تم اپنے اس سودے پر وہ جو سودا کیا تم نے اللہ سے اور یہی ہے کامیابی بہت بڑی(111)

[111] اللہ تبارک و تعالیٰ سچی خبر دیتا ہے۔ ایک عظیم بیع اور ایک بہت بڑے معاوضے کا سچا وعدہ کرتا ہے اور وہ بیع یہ ہے ﴿ اشۡتَرٰى ﴾ ’’اس نے خرید لیا۔‘‘ یعنی اللہ نے بنفس نفیس خرید لیا ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ ﴾ ’’مومنوں سے ان کے جانوں اور ان کے مالوں کو‘‘ یعنی ان کی جان اور ان کے مال کی قیمت لگا دی گئی ہے اور یہ فروخت شدہ مال تجارت ہے۔ ﴿ بِاَنَّ لَهُمُ الۡجَنَّةَ﴾ ’’اس کے بدلے میں ان کے لیے (وہ) جنت ہے‘‘ جس میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی نفس خواہش کریں گے اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، یعنی انواع و اقسام کی لذتیں ، فرحتیں ، مسرتیں ، خوبصورت حوریں اور دلکش مکانات ہوں گے۔اس عقد و بیع کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر، اس کے دشمنوں کے خلاف جہاد میں ، اس کے کلمہ کو سربلند کرنے اور اس کے دین کو غالب کرنے کے لیے اپنی جان اور مال خرچ کرتے ہیں ۔ ﴿ يُقَاتِلُوۡنَؔ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيَقۡتُلُوۡنَؔ وَيُقۡتَلُوۡنَؔ ﴾ ’’وہ لڑتے ہیں اللہ کے راستے میں ، پس مارتے ہیں اور مارے جاتے ہیں ‘‘ یہ عقد و بیع بہت سی تاکیدات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئی ہے ﴿ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّا فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ وَالۡقُرۡاٰنِ﴾’’وعدہ ہو چکا ہے اس کے ذمے سچا تورات میں ، انجیل میں اور قرآن میں ۔‘‘ جو ان تمام کتابوں میں سب سے افضل و اعلیٰ کتاب ہے اور یہ کتابیں سب سے کامل کتابیں ہیں جو اس دنیا میں بھیجی گئیں اور ان کتابوں کو لانے والے سب سے کامل اور اولوالعزم رسول ہیں ، یہ تمام کتابیں اس سچے وعدے پر متفق ہیں ۔﴿ وَمَنۡ اَوۡفٰى بِعَهۡدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسۡتَبۡشِرُوۡا۠ ﴾ ’’اور کون ہے اللہ سے زیادہ قول کا پورا، پس خوشی کرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے وعدے پر قائم رہنے والے مومنو! ﴿ بِبَيۡعِكُمُ الَّذِيۡ بَايَعۡتُمۡ بِهٖ﴾ ’’اس سودے پر جو تم نے اس سے کیا ہے‘‘ تاکہ تم اس کا عزم کر لو تاکہ تم ایک دوسرے کو خوشخبری دو اور ایک دوسرے کو جہاد کی ترغیب دو ﴿ وَذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’اور یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس سے بڑی اور جلیل القدر اور کوئی کامیابی نہیں کیونکہ یہ کامیابی ابدی سعادت، دائمی نعمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا جو کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے، کو متضمن ہے۔اگر آپ اس معاہدۂ بیع کی قدر و منزلت کو جاننا چاہیں تو خریدار کی طرف دیکھیں کہ وہ کون ہے؟ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات گرامی ہے اور اس عوض کی طرف نظر کریں جو سب سے بڑا معاوضہ ہے اور اس معاوضے میں سب سے جلیل القدر چیز جنت ہے اور اس قیمت پر غور کریں جو اس معاوضے کے بدلے میں خرچ کی گئی ہے اور وہ ہے جان اور مال جو انسان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب چیز ہے اور اس ہستی کی طرف دیکھیں جس کے ہاتھ پر یہ معاہدۂ بیع منعقد ہوا ہے، وہ تمام رسولوں میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہستی ہے۔ یہ معاہدہ کون سی کتابوں میں رقم کیا گیا ہے... اللہ تعالیٰ کی عظیم کتابوں میں یہ معاہدہ تحریر کیا گیا ہے جو مخلوق میں سب سے افضل ہستیوں پر نازل کی گئی ہیں ۔

At-Tawba 9:111Listen in Qur'an →
112

ٱلتَّٰٓئِبُونَ ٱلْعَٰبِدُونَ ٱلْحَٰمِدُونَ ٱلسَّٰٓئِحُونَ ٱلرَّٰكِعُونَ ٱلسَّٰجِدُونَ ٱلْءَامِرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَٱلنَّاهُونَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَٱلْحَٰفِظُونَ لِحُدُودِ ٱللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ

توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک کاموں کا امر کرنے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے، خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے، (یہی مومن لوگ ہیں) اور اے پیغمبر مومنوں کو (بہشت کی) خوش خبری سنادو

وہ (مومن) توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے،حمدکرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، حکم کرنے والے نیکی کا اور روکنے والے برائی سے اور حفاظت کرنے والے ہیں حدود اللہ کی اور خوش خبری سنا دیجیے مومنوں کو(112)

[112] گویا کہ سوال کیا گیا ہے کہ وہ مومن کون ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں داخلے اور اس کی طرف سے عزت و اکرام کی خوشخبری ہے؟ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلتَّآىِٕبُوۡنَ﴾ ’’توبہ کرنے والے‘‘ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو ہر وقت تمام گناہوں سے توبہ کا التزام کرنے والے ہیں ﴿الۡعٰبِدُوۡنَ﴾ ’’عبادت کرنے والے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے لیے عبودیت کی صفت سے متصف ہیں ، ہر وقت واجبات و مستحبات کی ادائیگی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی دائمی اطاعت کا التزام کرتے ہیں ۔ جس کی بنا پر بندہ عبادت گزاروں میں شمار ہوتا ہے۔ ﴿الۡحٰؔمِدُوۡنَ﴾ ’’حمد کرنے والے‘‘ جو رنج و راحت، تنگ دستی اور خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا اعتراف کرتے رہتے ہیں ۔ دن رات ان نعمتوں کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ذریعے سے اس کی مدح و ثنا میں مصروف رہتے ہیں ۔ ﴿السَّؔآىِٕحُوۡنَ۠﴾ ’’سیاحت کرنے والے‘‘ سیاحت کی تفسیر روزوں سے کی گئی ہے یا طلب علم کے لیے سفر کرنے سے کی گئی ہے اور سیاحت کی تفسیر اللہ تعالیٰ کی معرفت و محبت اور اس کی طرف دائمی انابت میں قلب کی سیاحت سے کی گئی ہے۔ مگر اس کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ سیاحت سے مراد اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے حج، عمرہ، جہاد، طلب علم اور اقارب سے ملنے کے لیے سفر کرنا ہے۔ ﴿ الرّٰؔكِعُوۡنَ السّٰؔجِدُوۡنَ ﴾ ’’رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے‘‘ یعنی کثرت سے نماز پڑھتے ہیں جو رکوع و سجود پر مشتمل ہے۔ ﴿ الۡاٰمِرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ﴾ ’’نیک بات کا حکم دینے والے ہیں ‘‘ اس میں تمام واجبات و مستحبات داخل ہیں ﴿ وَالنَّاهُوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’بری بات سے روکنے والے ہیں ۔‘‘ اس میں وہ تمام امور شامل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے روکا ہے۔ ﴿ وَالۡحٰؔفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللّٰهِ﴾’’اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر جو حدود نازل فرمائی ہیں ، یعنی اوامر و نواہی اور احکام میں کیا چیز داخل ہے اور کیا چیز داخل نہیں ہے، ان کا علم حاصل کر کے ان حدود کی حفاظت کرتے ہیں اور ترکاً اور فعلاً ان کا التزام کرتے ہیں ۔﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور مومنوں کو خوش خبری سنا دیجیے‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں فرمایا کہ اہل ایمان کے لیے کس چیز کی خوشخبری ہے تاکہ یہ خوشخبری دین و دنیا اور آخرت کے ثواب کو شامل ہو جو ایمان پر مترتب ہوتا ہے۔ یہ خوشخبری ہر مومن کے لیے ہے۔ رہی اس خوشخبری کی مقدار اور اس کا وصف تو اہل ایمان کے احوال، ان کے ایمان کی قوت، ضعف اور اس کے تقاضے پر عمل کے مطابق ہوتی ہے۔

At-Tawba 9:112Listen in Qur'an →
113

مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن يَسْتَغْفِرُوا۟ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوٓا۟ أُو۟لِى قُرْبَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ

پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں

نہیں ہے لائق نبی کے اور (نہ) ان لوگوں کے جو ایمان لائے یہ کہ بخشش طلب کریں وہ( اللہ سے) مشرکوں کے لیے ، اگرچہ ہوں وہ قرابت دار ہی، بعد اس کے کہ واضح ہو گیا ان کے لیے یہ کہ بلاشبہ وہ دوزخی ہیں (113) اور نہیں تھا بخشش طلب کرنا ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مگر بوجہ ایک وعدے کے جو وعدہ کیا تھا ابراہیم نے اس سے، پھر جب واضح ہو گیا ابراہیم کے لیے یہ کہ وہ دشمن ہے اللہ کا تو بیزار ہو گیا ابراہیم اس سے، بے شک ابراہیم البتہ بہت آہ وزاری کرنے والے، بردبار تھے(114)

[113] یعنی نبیﷺ اور اہل ایمان کے لائق ہے نہ ان کے لیے زیبا ہے۔ ﴿ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا۠ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ۠﴾ ’’کہ وہ ان لوگوں کے لیے استغفار کریں جنھوں نے (کفر اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو) شریک کیا۔‘‘ ﴿ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اُولِيۡ قُرۡبٰى مِنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ اَنَّهُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اگرچہ وہ رشتے دار ہوں اس بات کے واضح ہو جانے کے بعد کہ وہ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ اس حال میں ان کے لیے بخشش کی دعا کرنا غلط اور ان کے لیے غیر مفید ہے اس لیے یہ استغفار نبی اکرمﷺ اور اہل ایمان کی شان کے لائق نہیں کیونکہ جب وہ شرک کی حالت میں مر گئے یا یقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ وہ شرک کی حالت میں مریں گے تو ان پر عذاب اور جہنم میں ہمیشہ رہنا واجب ہوگیا کسی شفاعت کرنے والے کی شفاعت اور ان کی بخشش کی دعا کرنے والے کی دعا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نبی کریمﷺ اور اہل ایمان پر واجب ہے کہ اپنے رب کی رضا اور ناراضی کے بارے میں اس کی موافقت کریں جس کو اللہ تعالیٰ نے دوست بنایا ہے اس سے موالات رکھیں اور جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دشمن قرار دیا ہے اس سے عداوت رکھیں اور جس شخص کے بارے میں یہ واضح ہو چکا ہو کہ وہ جہنمی ہے اس کے لیے استغفار کرنا اس کے منافی اور متناقض ہے۔

[114] اگر اللہ رحمن کے خلیل ابراہیمu نے اپنے باپ کے لیے استغفار کیا تھا ﴿ عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ﴾ تو ایک وعدے کی بنا پر تھا جو انھوں نے اپنے باپ کے ساتھ ان الفاظ میں کیا تھا ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم: 19؍47) ’’میں اپنے پروردگار سے آپ کے لیے ضرور دعا کروں گا کہ وہ آپ کو بخش دے کیونکہ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔‘‘ دعا کا یہ وعدہ حضرت ابراہیمu نے اس وقت کیا تھا جب آنجنابu کو اپنے باپ کے انجام کا علم نہیں تھا۔جب ابراہیمu پر واضح ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اسے موت بھی کفر ہی پر آئے گی اور وعظ و نصیحت نے اسے کوئی فائدہ نہ دیا ﴿ تَبَرَّاَ مِنۡهُ﴾ ’’تو اس سے بیزار ہوگئے۔‘‘ یعنی اپنے رب کی موافقت اور اس کی اتباع میں اس سے بیزاری کا اعلان کر دیا۔ ﴿ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ ابراہیمu بڑے نرم دل تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے اور بہت کثرت سے ذکر، دعا، استغفار کرنے والے اور اپنے رب کی طرف پلٹنے والے تھے۔ ﴿ حَلِيۡمٌ﴾ ’’نہایت بردبار تھے۔‘‘ یعنی وہ مخلوق الٰہی پر بہت مہربان اور اپنے حق میں ان سے صادر ہونے والی کوتاہیوں اور لغزشوں سے درگزر کرنے والے تھے۔ جہلاء کی جہالت انھیں آپے سے باہر نہیں کر سکتی تھی۔ وہ کسی مجرم کا مقابلہ جرم کے ذریعے سے نہیں کرتے تھے۔ ان کے باپ نے ان سے کہا: ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾(مریم: 19؍46) ’’میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔‘‘ جواب میں آپ نے فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ١ۚ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ ﴾(مریم: 19؍47) ’’آپ پر سلامتی ہو میں اپنے رب سے آپ کے لیے بخشش طلب کرتا رہوں گا۔‘‘ پس تم پر واجب ہے کہ تم حضرت ابراہیمu کی پیروی اور ہر معاملے میں ملت ابراہیمu کی اتباع کرو، سوائے آپ کے اس قول کے ﴿ اِلَّا قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ﴾(الممتحنۃ: 60؍4) ’’ابراہیمu کے اس قول کے …

At-Tawba 9:113Listen in Qur'an →
114

وَمَا كَانَ ٱسْتِغْفَارُ إِبْرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍۢ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥٓ أَنَّهُۥ عَدُوٌّۭ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ لَأَوَّٰهٌ حَلِيمٌۭ

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کا سبب تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے

نہیں ہے لائق نبی کے اور (نہ) ان لوگوں کے جو ایمان لائے یہ کہ بخشش طلب کریں وہ( اللہ سے) مشرکوں کے لیے ، اگرچہ ہوں وہ قرابت دار ہی، بعد اس کے کہ واضح ہو گیا ان کے لیے یہ کہ بلاشبہ وہ دوزخی ہیں (113) اور نہیں تھا بخشش طلب کرنا ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مگر بوجہ ایک وعدے کے جو وعدہ کیا تھا ابراہیم نے اس سے، پھر جب واضح ہو گیا ابراہیم کے لیے یہ کہ وہ دشمن ہے اللہ کا تو بیزار ہو گیا ابراہیم اس سے، بے شک ابراہیم البتہ بہت آہ وزاری کرنے والے، بردبار تھے(114)

[113] یعنی نبیﷺ اور اہل ایمان کے لائق ہے نہ ان کے لیے زیبا ہے۔ ﴿ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا۠ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ۠﴾ ’’کہ وہ ان لوگوں کے لیے استغفار کریں جنھوں نے (کفر اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو) شریک کیا۔‘‘ ﴿ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اُولِيۡ قُرۡبٰى مِنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ اَنَّهُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اگرچہ وہ رشتے دار ہوں اس بات کے واضح ہو جانے کے بعد کہ وہ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ اس حال میں ان کے لیے بخشش کی دعا کرنا غلط اور ان کے لیے غیر مفید ہے اس لیے یہ استغفار نبی اکرمﷺ اور اہل ایمان کی شان کے لائق نہیں کیونکہ جب وہ شرک کی حالت میں مر گئے یا یقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ وہ شرک کی حالت میں مریں گے تو ان پر عذاب اور جہنم میں ہمیشہ رہنا واجب ہوگیا کسی شفاعت کرنے والے کی شفاعت اور ان کی بخشش کی دعا کرنے والے کی دعا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نبی کریمﷺ اور اہل ایمان پر واجب ہے کہ اپنے رب کی رضا اور ناراضی کے بارے میں اس کی موافقت کریں جس کو اللہ تعالیٰ نے دوست بنایا ہے اس سے موالات رکھیں اور جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دشمن قرار دیا ہے اس سے عداوت رکھیں اور جس شخص کے بارے میں یہ واضح ہو چکا ہو کہ وہ جہنمی ہے اس کے لیے استغفار کرنا اس کے منافی اور متناقض ہے۔

[114] اگر اللہ رحمن کے خلیل ابراہیمu نے اپنے باپ کے لیے استغفار کیا تھا ﴿ عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ﴾ تو ایک وعدے کی بنا پر تھا جو انھوں نے اپنے باپ کے ساتھ ان الفاظ میں کیا تھا ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم: 19؍47) ’’میں اپنے پروردگار سے آپ کے لیے ضرور دعا کروں گا کہ وہ آپ کو بخش دے کیونکہ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔‘‘ دعا کا یہ وعدہ حضرت ابراہیمu نے اس وقت کیا تھا جب آنجنابu کو اپنے باپ کے انجام کا علم نہیں تھا۔جب ابراہیمu پر واضح ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اسے موت بھی کفر ہی پر آئے گی اور وعظ و نصیحت نے اسے کوئی فائدہ نہ دیا ﴿ تَبَرَّاَ مِنۡهُ﴾ ’’تو اس سے بیزار ہوگئے۔‘‘ یعنی اپنے رب کی موافقت اور اس کی اتباع میں اس سے بیزاری کا اعلان کر دیا۔ ﴿ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ ابراہیمu بڑے نرم دل تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے اور بہت کثرت سے ذکر، دعا، استغفار کرنے والے اور اپنے رب کی طرف پلٹنے والے تھے۔ ﴿ حَلِيۡمٌ﴾ ’’نہایت بردبار تھے۔‘‘ یعنی وہ مخلوق الٰہی پر بہت مہربان اور اپنے حق میں ان سے صادر ہونے والی کوتاہیوں اور لغزشوں سے درگزر کرنے والے تھے۔ جہلاء کی جہالت انھیں آپے سے باہر نہیں کر سکتی تھی۔ وہ کسی مجرم کا مقابلہ جرم کے ذریعے سے نہیں کرتے تھے۔ ان کے باپ نے ان سے کہا: ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾(مریم: 19؍46) ’’میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔‘‘ جواب میں آپ نے فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ١ۚ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ ﴾(مریم: 19؍47) ’’آپ پر سلامتی ہو میں اپنے رب سے آپ کے لیے بخشش طلب کرتا رہوں گا۔‘‘ پس تم پر واجب ہے کہ تم حضرت ابراہیمu کی پیروی اور ہر معاملے میں ملت ابراہیمu کی اتباع کرو، سوائے آپ کے اس قول کے ﴿ اِلَّا قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ﴾(الممتحنۃ: 60؍4) ’’ابراہیمu کے اس قول کے …

At-Tawba 9:114Listen in Qur'an →
115

وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ إِذْ هَدَىٰهُمْ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

اور خدا ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان کو وہ چیز نہ بتا دے جس سے وہ پرہیز کریں۔ بےشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

اور نہیں ہے اللہ (ایسا) کہ گمراہ کر دے کسی قوم کو بعد اس کے کہ ہدایت دی اس نے ان کو یہاں تک کہ واضح کر دے ان کے لیے وہ چیزیں کہ جن سے وہ بچیں، بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے(115) یقینا اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہ آسمانوں اور زمین کی، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست اور نہ مدد گار(116)

[115] یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہدایت سے نوازتا ہے اور اسے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کا حکم دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم پر اپنے احسان کی تکمیل کرتا ہے اور ان تمام امور کو ان پر واضح کر دیتا ہے جن کے وہ محتاج ہیں اور ضرورت جن کا تقاضا کرتی ہے، پس وہ انھیں ان کے دین کے امور کے بارے میں گمراہ اور جاہل نہیں چھوڑتا۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کی دلیل ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت بندوں کی ان تمام ضروریات کو پورا کرتی ہے جن کے وہ اپنے دین کے اصول و فروع میں محتاج ہوتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِلَّ قَوۡمًۢا بَعۡدَ اِذۡ هَدٰؔىهُمۡ حَتّٰى يُبَيِّنَ لَهُمۡ مَّا يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’اللہ ایسا نہیں کہ وہ کسی قوم کو راہ راست دکھانے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان پر وہ امور واضح نہ کر دے جن سے وہ بچیں ۔‘‘ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان پر وہ تمام امور واضح فرما دیتا ہے جن سے ان کو پرہیز کرنا چاہیے اور وہ ان پر عمل پیرا نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو واضح حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دیتا ہے لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ یعنی اس کا کامل اور ہر چیز کو شامل علم ہی ہے کہ اس نے تمھیں ان امور کی تعلیم دی جنھیں تم نہ جانتے تھے اور ہر وہ چیز تم پر واضح کر دی ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو۔

[116]﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ؕ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ﴾ ’’بے شک اللہ ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ زمین و آسمان کا مالک ہے وہ زندگی اور موت اور مختلف انواع کی تدابیر کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے جب اس کی تدبیر کونی و قدری میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا تو تدبیر دینی میں، جو اس کی الوہیت سے متعلق ہے، کیوں کر خلل واقع ہو سکتا ہے، وہ اپنے بندوں کو کیوں کر بیکار اور مہمل یا جاہل اور گمراہ چھوڑ سکتا ہےحالانکہ وہ اپنے بندوں کا سب سے بڑا سرپرست ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ﴾ ’’اور اللہ کے سوا تمھارا کوئی حمایتی نہیں ‘‘ جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں مختلف قسم کی منفعتیں عطا کرے۔ ﴿ وَّلَا نَصِيۡرٍ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار‘‘ تم سے مضرتیں دور کر کے تمھاری مدد کرے۔

At-Tawba 9:115Listen in Qur'an →
116

إِنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۚ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا نَصِيرٍۢ

خدا ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت ہے۔ وہی زندگانی بخشتا ہے (وہی) موت دیتا ہے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے

اور نہیں ہے اللہ (ایسا) کہ گمراہ کر دے کسی قوم کو بعد اس کے کہ ہدایت دی اس نے ان کو یہاں تک کہ واضح کر دے ان کے لیے وہ چیزیں کہ جن سے وہ بچیں، بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے(115) یقینا اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہ آسمانوں اور زمین کی، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست اور نہ مدد گار(116)

[115] یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہدایت سے نوازتا ہے اور اسے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کا حکم دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم پر اپنے احسان کی تکمیل کرتا ہے اور ان تمام امور کو ان پر واضح کر دیتا ہے جن کے وہ محتاج ہیں اور ضرورت جن کا تقاضا کرتی ہے، پس وہ انھیں ان کے دین کے امور کے بارے میں گمراہ اور جاہل نہیں چھوڑتا۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کی دلیل ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت بندوں کی ان تمام ضروریات کو پورا کرتی ہے جن کے وہ اپنے دین کے اصول و فروع میں محتاج ہوتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِلَّ قَوۡمًۢا بَعۡدَ اِذۡ هَدٰؔىهُمۡ حَتّٰى يُبَيِّنَ لَهُمۡ مَّا يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’اللہ ایسا نہیں کہ وہ کسی قوم کو راہ راست دکھانے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان پر وہ امور واضح نہ کر دے جن سے وہ بچیں ۔‘‘ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان پر وہ تمام امور واضح فرما دیتا ہے جن سے ان کو پرہیز کرنا چاہیے اور وہ ان پر عمل پیرا نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو واضح حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دیتا ہے لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ یعنی اس کا کامل اور ہر چیز کو شامل علم ہی ہے کہ اس نے تمھیں ان امور کی تعلیم دی جنھیں تم نہ جانتے تھے اور ہر وہ چیز تم پر واضح کر دی ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو۔

[116]﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ؕ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ﴾ ’’بے شک اللہ ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ زمین و آسمان کا مالک ہے وہ زندگی اور موت اور مختلف انواع کی تدابیر کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے جب اس کی تدبیر کونی و قدری میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا تو تدبیر دینی میں، جو اس کی الوہیت سے متعلق ہے، کیوں کر خلل واقع ہو سکتا ہے، وہ اپنے بندوں کو کیوں کر بیکار اور مہمل یا جاہل اور گمراہ چھوڑ سکتا ہےحالانکہ وہ اپنے بندوں کا سب سے بڑا سرپرست ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ﴾ ’’اور اللہ کے سوا تمھارا کوئی حمایتی نہیں ‘‘ جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں مختلف قسم کی منفعتیں عطا کرے۔ ﴿ وَّلَا نَصِيۡرٍ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار‘‘ تم سے مضرتیں دور کر کے تمھاری مدد کرے۔

At-Tawba 9:116Listen in Qur'an →
117

لَّقَد تَّابَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلنَّبِىِّ وَٱلْمُهَٰجِرِينَ وَٱلْأَنصَارِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ فِى سَاعَةِ ٱلْعُسْرَةِ مِنۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍۢ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُۥ بِهِمْ رَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ

بےشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھر جانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بےشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے

البتہ تحقیق توجہ فرمائی اللہ نے اوپر نبی اور مہاجرین اور انصار کے، وہ (مہاجرین و انصار) کہ جنھوں نے اتباع کیا آپ کا تنگی کی گھڑی میں بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ٹیڑھے ہو جائیں دل ایک فریق کے ان میں سے، پھر توجہ فرمائی اللہ نے ان پر، بلاشبہ اللہ ان پر بہت شفیق نہایت مہربان ہے(117)اور (توجہ فرمائی اللہ نے) ان تین شخصوں پر، جو چھوڑ دیے گئے تھے (حکم الٰہی کے انتظار میں ) یہاں تک کہ جب تنگ ہو گئی ان پر زمین باوجود فراخی کے اور تنگ ہو گئیں ان پر جانیں ان کی اور یقین کر لیا انھوں نے یہ کہ نہیں ہے کوئی جائے پناہ اللہ (کی ناراضی) سے مگر اسی کی طرف، پھر اللہ نے توجہ فرمائی ان پر تاکہ وہ توبہ کریں ، یقینا اللہ، وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا(118)

[117] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان ہے کہ ﴿ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ﴾ ’’مہربان ہوا وہ اپنے پیغمبر پر‘‘ ﴿وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ﴾ ’’اور مہاجرین اور انصار پر‘‘ پس ان کی تمام لغزشیں معاف کر دیں ، انھیں بے شمار نیکیاں عطا کیں اور انھیں بلند ترین مراتب پر فائز فرمایا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے نہایت مشکل اور مشقت سے لبریز عمل کیے، اسی لیے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ فِيۡ سَاعَةِ الۡعُسۡرَةِ﴾ ’’جو ساتھ رہے اس پیغمبر کے مشکل کی گھڑی میں ‘‘ یعنی وہ غزوہ تبوک میں دشمن کے ساتھ جنگ کے لیے آپ کے ساتھ نکلے، سخت گرمی کا موسم تھا، سامان سفر اور سواریوں وغیرہ کی قلت اور دشمن کی افرادی تعداد زیادہ تھی۔ یہ ایسے حالات تھے جو لوگوں کے پیچھے رہنے کا باعث بنتے ہیں ۔ پس اس صورت میں وہ اللہ تعالیٰ سے مدد کے طلب گار ہوئے اور اس پر قائم رہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيۡغُ قُلُوۡبُ فَرِيۡقٍ مِّؔنۡهُمۡ﴾ ’’بعد اس کے کہ قریب تھا کہ دل پھر جائیں ان میں سے کچھ لوگوں کے‘‘ یعنی ان کے دل آرام و راحت اور سکون کی طرف مائل تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا کی، ان کی تائید کی اور ان کو قوت سے نوازا اور زیغ قلب (دل کے پھر جانے) سے مراد ہے قلب کا صراط مستقیم سے انحراف کرنا۔ اگر یہ انحراف اصول دین میں ہو تو یہ کفر ہے اور اگر انحراف شرائع کے احکام میں ہو تو یہ انحراف اس حکم شریعت کے مطابق ہوگا جس سے انحراف کیا گیا ہے۔ یہ انحراف یا تو اس حکم شریعت پر عمل کی کوتاہی کے سبب سے ہوتا ہے یا اس شرعی حکم پر غیر شرعی طریقے سے عمل کرنے کے باعث ہوتا ہے فرمایا: ﴿ ثُمَّؔ تَابَ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’پھر وہ مہربان ہوا ان پر‘‘ یعنی اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمالی۔ ﴿ اِنَّهٗ بِهِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و رافت ہے کہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا پھر ان کی توبہ کو قبول فرمایا اور ان کو اس توبہ پر ثابت قدم رکھا۔

[118]﴿ وَّعَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِيۡنَ خُلِّفُوۡا﴾ ’’او ران تینوں پر بھی (اللہ مہربان ہوا) جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔‘‘ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان تین حضرات کی توبہ قبول کر لی جو اس غزوہ میں جہاد کے لیے مسلمانوں کے ساتھ نہ نکل سکے تھے۔ وہ تھے کعب بن مالک اور ان کے ساتھی (ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیعy) ان کا قصہ صحاح اور سنن میں مشہور و معروف ہے۔(صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب ﴿وعلي الثلاثۃ... الخ﴾ حدیث: 4677) ﴿ حَتّٰۤى اِذَا﴾ یہاں تک کہ جب وہ بہت زیادہ غم زدہ ہوگئے ﴿ ضَاقَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ﴾ ’’اور زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہو گئی‘‘ یعنی اپنی وسعت اور کشادگی کے باوجود ﴿ وَضَاقَتۡ عَلَيۡهِمۡ اَنۡفُسُهُمۡ﴾ ’’اور تنگ ہو گئیں ان پر ان کی جانیں ‘‘ جو کہ انھیں ہر چیز سے زیادہ محبوب تھیں ۔ پس کشادہ فضا ان کے لیے تنگ ہوگئی اور ہر محبوب چیز ان کے لیے تنگ ہوگئی جو عادۃً کبھی ان …

At-Tawba 9:117Listen in Qur'an →
118

وَعَلَى ٱلثَّلَٰثَةِ ٱلَّذِينَ خُلِّفُوا۟ حَتَّىٰٓ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ ٱلْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّوٓا۟ أَن لَّا مَلْجَأَ مِنَ ٱللَّهِ إِلَّآ إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب اُنہیں زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کے جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں۔ اور انہوں نے جان لیا کہ خدا (کے ہاتھ) سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

البتہ تحقیق توجہ فرمائی اللہ نے اوپر نبی اور مہاجرین اور انصار کے، وہ (مہاجرین و انصار) کہ جنھوں نے اتباع کیا آپ کا تنگی کی گھڑی میں بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ٹیڑھے ہو جائیں دل ایک فریق کے ان میں سے، پھر توجہ فرمائی اللہ نے ان پر، بلاشبہ اللہ ان پر بہت شفیق نہایت مہربان ہے(117)اور (توجہ فرمائی اللہ نے) ان تین شخصوں پر، جو چھوڑ دیے گئے تھے (حکم الٰہی کے انتظار میں ) یہاں تک کہ جب تنگ ہو گئی ان پر زمین باوجود فراخی کے اور تنگ ہو گئیں ان پر جانیں ان کی اور یقین کر لیا انھوں نے یہ کہ نہیں ہے کوئی جائے پناہ اللہ (کی ناراضی) سے مگر اسی کی طرف، پھر اللہ نے توجہ فرمائی ان پر تاکہ وہ توبہ کریں ، یقینا اللہ، وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا(118)

[117] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان ہے کہ ﴿ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ﴾ ’’مہربان ہوا وہ اپنے پیغمبر پر‘‘ ﴿وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ﴾ ’’اور مہاجرین اور انصار پر‘‘ پس ان کی تمام لغزشیں معاف کر دیں ، انھیں بے شمار نیکیاں عطا کیں اور انھیں بلند ترین مراتب پر فائز فرمایا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے نہایت مشکل اور مشقت سے لبریز عمل کیے، اسی لیے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ فِيۡ سَاعَةِ الۡعُسۡرَةِ﴾ ’’جو ساتھ رہے اس پیغمبر کے مشکل کی گھڑی میں ‘‘ یعنی وہ غزوہ تبوک میں دشمن کے ساتھ جنگ کے لیے آپ کے ساتھ نکلے، سخت گرمی کا موسم تھا، سامان سفر اور سواریوں وغیرہ کی قلت اور دشمن کی افرادی تعداد زیادہ تھی۔ یہ ایسے حالات تھے جو لوگوں کے پیچھے رہنے کا باعث بنتے ہیں ۔ پس اس صورت میں وہ اللہ تعالیٰ سے مدد کے طلب گار ہوئے اور اس پر قائم رہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيۡغُ قُلُوۡبُ فَرِيۡقٍ مِّؔنۡهُمۡ﴾ ’’بعد اس کے کہ قریب تھا کہ دل پھر جائیں ان میں سے کچھ لوگوں کے‘‘ یعنی ان کے دل آرام و راحت اور سکون کی طرف مائل تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا کی، ان کی تائید کی اور ان کو قوت سے نوازا اور زیغ قلب (دل کے پھر جانے) سے مراد ہے قلب کا صراط مستقیم سے انحراف کرنا۔ اگر یہ انحراف اصول دین میں ہو تو یہ کفر ہے اور اگر انحراف شرائع کے احکام میں ہو تو یہ انحراف اس حکم شریعت کے مطابق ہوگا جس سے انحراف کیا گیا ہے۔ یہ انحراف یا تو اس حکم شریعت پر عمل کی کوتاہی کے سبب سے ہوتا ہے یا اس شرعی حکم پر غیر شرعی طریقے سے عمل کرنے کے باعث ہوتا ہے فرمایا: ﴿ ثُمَّؔ تَابَ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’پھر وہ مہربان ہوا ان پر‘‘ یعنی اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمالی۔ ﴿ اِنَّهٗ بِهِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و رافت ہے کہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا پھر ان کی توبہ کو قبول فرمایا اور ان کو اس توبہ پر ثابت قدم رکھا۔

[118]﴿ وَّعَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِيۡنَ خُلِّفُوۡا﴾ ’’او ران تینوں پر بھی (اللہ مہربان ہوا) جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔‘‘ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان تین حضرات کی توبہ قبول کر لی جو اس غزوہ میں جہاد کے لیے مسلمانوں کے ساتھ نہ نکل سکے تھے۔ وہ تھے کعب بن مالک اور ان کے ساتھی (ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیعy) ان کا قصہ صحاح اور سنن میں مشہور و معروف ہے۔(صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب ﴿وعلي الثلاثۃ... الخ﴾ حدیث: 4677) ﴿ حَتّٰۤى اِذَا﴾ یہاں تک کہ جب وہ بہت زیادہ غم زدہ ہوگئے ﴿ ضَاقَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ﴾ ’’اور زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہو گئی‘‘ یعنی اپنی وسعت اور کشادگی کے باوجود ﴿ وَضَاقَتۡ عَلَيۡهِمۡ اَنۡفُسُهُمۡ﴾ ’’اور تنگ ہو گئیں ان پر ان کی جانیں ‘‘ جو کہ انھیں ہر چیز سے زیادہ محبوب تھیں ۔ پس کشادہ فضا ان کے لیے تنگ ہوگئی اور ہر محبوب چیز ان کے لیے تنگ ہوگئی جو عادۃً کبھی ان …

At-Tawba 9:118Listen in Qur'an →
119

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَكُونُوا۟ مَعَ ٱلصَّٰدِقِينَ

اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ رہو

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو! ڈرو اللہ سے اور ہو ساتھ سچ بولنے والوں کے(119)

[119]﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے اہل ایمان! اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور ان امور پر ایمان رکھنے والو! جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی منہیات سے اجتناب اور ان سے دور رہ کر تقویٰ کا التزام۔ ﴿وَؔكُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اور سچوں کے ساتھ رہو۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے ساتھ رہو جو اپنے اقوال، افعال اور احوال میں سچے ہیں ۔ جن کے اقوال سچے ہیں ، جن کے اعمال و احوال صدق پر مبنی ہیں ، جو کسل مندی اور فتور سے خالی اور برے مقاصد سے محفوظ ہیں ، جو اخلاص اور نیک نیتی پر مشتمل ہیں ۔ صدق نیکی کی طرف راہ نمائی کرتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾(المائدۃ: 5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی راست بازی فائدہ دے گی۔‘‘

At-Tawba 9:119Listen in Qur'an →
120

مَا كَانَ لِأَهْلِ ٱلْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ ٱلْأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُوا۟ عَن رَّسُولِ ٱللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا۟ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌۭ وَلَا نَصَبٌۭ وَلَا مَخْمَصَةٌۭ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَطَـُٔونَ مَوْطِئًۭا يَغِيظُ ٱلْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّۢ نَّيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِۦ عَمَلٌۭ صَٰلِحٌ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں ان کو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں خدا کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی، محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لیے عمل نیک لکھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

نہیں لائق واسطے اہل مدینہ کے اور ان کے جو آس پاس ہیں ان کے دیہاتیوں میں سے، یہ کہ پیچھے رہ جائیں وہ( جہاد میں ) رسول اللہ سے اور نہ یہ(جائزہے) کہ رغبت رکھیں وہ اپنی جانوں سے بے پروا ہو کر رسول اللہ کی جان سے، یہ اس لیے کہ بے شک وہ نہیں پہنچتی انھیں (کوئی تکلیف ، یعنی ) پیاس اور نہ تھکاوٹ اور نہ بھوک اللہ کے راستے میں اور نہیں روندتے (طے کرتے) وہ کسی مقام کو جو غضب ناک کردے کافروں کواور نہیں حاصل کرتے وہ دشمن سے کوئی کامیابی (غنیمت وغیرہ) مگر لکھا جاتا ہے ان کے لیے بدلے اس کے عمل صالح، بے شک اللہ نہیں ضائع کرتا اجر احسان کرنے والوں کا (120) اور نہیں خرچ کرتے وہ کوئی خرچ چھوٹا اور نہ بڑااور نہیں طے کرتے وہ کوئی وادی مگر لکھا جاتاہے وہ( سب) ان کے لیے تاکہ جزادے انھیں اللہ بہترین (جزا) اس کی جو تھے و ہ عمل کرتے (121)

[120] اللہ تبارک و تعالیٰ مدینہ منورہ میں رہنے والے مہاجرین و انصار اور مدینہ منورہ کے اردگرد رہنے والے اعراب کو، جو اسلام لائے اور انھوں نے اپنے اسلام کو صحیح کر لیا، ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ مَا كَانَ لِاَهۡلِ الۡمَدِيۡنَةِ وَمَنۡ حَوۡلَهُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ اَنۡ يَّتَخَلَّفُوۡا عَنۡ رَّسُوۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور نہیں چاہیے مدینے والوں کو اور ان کے ارد گرد رہنے والے گنواروں کو کہ وہ پیچھے رہ جائیں رسول اللہ کے ساتھ سے‘‘ یعنی یہ بات ان کو زیبا نہیں اور نہ ان کے احوال کے لائق ہے ﴿ وَلَا يَرۡغَبُوۡا بِاَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اور نہ یہ کہ وہ اپنی جانوں کو چاہیں ‘‘ اپنے نفس کی بقاء اور اپنی راحت و سکون کی خاطر ﴿ عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’رسول کی جان سے زیادہ‘‘ یعنی اپنے نفس کی تو حفاظت کریں لیکن نبی کریمﷺ کے نفس زکیہ و کریمہ کی حفاظت سے روگردانی کریں بلکہ اس کے برعکس ان کا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ نبی اکرمﷺ اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہوں ۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کو اپنی ذات پر مقدم رکھے اور آپ پر اپنی جان قربان کر دے۔ رسول اللہﷺ کی تعظیم، آپ سے محبت اور آپ پر کامل ایمان کی علامت یہ ہے کہ اہل ایمان آپ کو چھوڑ کر پیچھے نہ رہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس ثواب کا ذکر فرمایا جو جہاد کے لیے نکلنے پر آمادہ کرتا ہے۔ فرمایا:﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ ﴾ ’’یہ اس واسطے کہ وہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے ﴿ لَا يُصِيۡبُهُمۡ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچتی ان کو کوئی پیاس اور نہ محنت‘‘ یعنی تھکان اور مشقت ﴿ وَّلَا مَخۡمَصَةٌ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور نہ بھوک اللہ کی راہ میں ۔‘‘ ﴿ وَلَا يَطَـُٔوۡنَ مَوۡطِئًا يَّغِيۡظُ الۡكُفَّارَ ﴾ ’’اور نہیں قدم رکھتے کہیں جس سے کہ خفا ہوں کافر‘‘ یعنی ان کے دیار میں گھس جانے اور ان کے وطن پر قبضہ کر لینے کی وجہ سے﴿ وَلَا يَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّـيۡلًا﴾ ’’اور نہیں چھینتے وہ دشمن سے کوئی چیز‘‘ ، مثلاً: لشکر یا سریہ کے ذریعے سے فتح و ظفر یا مال غنیمت کا حصول ﴿ اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ﴾ ’’مگر اس کے بدلے ان کے لیے نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے‘‘ کیونکہ یہ وہ آثار ہیں جو ان کے اعمال سے جنم لیتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لیے احسن طریقے سے آگے بڑھتے ہیں ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرتے ہیں ۔ پس یہ اعمال ان کے عمل کے آثار ہیں ۔

[121] پھر فرمایا: ﴿ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَةً صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً وَّلَا يَقۡطَعُوۡنَ وَادِيًا ﴾ ’’اور نہیں خرچ کرتے ہیں کوئی خرچ چھوٹا اور نہ بڑا اور نہیں طے کرتے کوئی میدان‘‘ یعنی دشمن کی طرف جانے کے لیے ﴿ اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’مگر لکھ لیا جاتا ہے ان کے لیے …

At-Tawba 9:120Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.