Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 11–20 of 129

11

فَإِن تَابُوا۟ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِى ٱلدِّينِ ۗ وَنُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں۔ اور سمجھنے والے لوگوں کے لیے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

11 ۔ 12:۔ اب تفصیلاً بتایا جاتا ہے کہ ان حالات میں اہل ایمان مشرین کے حوالے سے کیا طرز عمل اختیار کریں۔

۔۔۔

مسلمانوں کا مقابلہ ایسے دشمنوں سے ہے جو ہر وقت تاک میں بیٹھا ہے اور وہ مسلمانوں پر بےرحم وار کرنے کے لیے محض اس لیے رکے ہوئے ہوتے ہیں کہ اندر وار کرنے کی سکت نہیں ہوتی۔ یہ وجہ نہیں ہوتی کہ وہ کسی عہد و پیمان کا لحاظ کرنے والے ہوتے ہیں یا کسی ذمہ داری کا احساس کرنے والے ہوتے ہیں یا ان پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت و مذمت کا کوئی اثر ہوتا ہے ، نہ وہ کسی رشتہ داری یا تعلق کا خیال رکھتے ہیں۔ دین اور لادینی کی کشمکش کی یہ ایک طویل تاریخ ہے اور یہ تاریخ اسی راہ پر چلتی رہی ہے۔ اس شاہراہ سے اگر کوئی انحراف ہوا ہے تو وہ محض عارضی اسباب کی وجہ سے اور جلدی تاریخ اپنے اسی خط پر رکتی ہے جو مقرر و مرسوم رہا ہے۔

ایک تو ہمارے سامنے یہ عملی تاریخ ہے ، دوسرے یہ کہ اسلام نظام حیات کے اہداف کی نوعیت ہے کہ اس کے پیش نطر لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی غلامی میں دینا ہے ، جبکہ اسلامی نظام حیات کے مقابلے میں تمام جاہلی نظام ہائے حیات کے اہداف یہ ہیں کہ لوگ لوگوں کے غلام رہیں۔ ایسے حالات میں اسلامی نظام حیات کا تحریکی عمل دنیا کو اس طرح خطاب کرتا ہے۔

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ ۭوَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ : " پس اگر ہی توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں "

وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ : " اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ (پھر تلوار ہی کے زور سے) وہ باز آئیں گے "

پھر صورت یہ ہوگی کہ یا تو وہ اس دین میں داخل ہوجائیں گے جس میں مسلمان داخل ہوئے ہیں اور سابقہ گناہوں سے تائب ہوجائیں گے اور شرک اور ظلم کو چھوڑ دیں گے۔ تو مسلمان ان کے شرک اور ظلم سے صرف نظر کردیں گے۔ اور ان کے درمیان نظریاتی تعلق قائم ہوجائے گا۔ اور یہ جدید مسلمان بھی قدیم مسلمانوں کے بھائی بن جائیں گے اور ان کا تمام ماضی بھلا دیا جائے گا۔ تاریخ سے بھی اور دلوں سے بھی۔ اور یہ کہا کہ و نفصل الایت لقوم یعلمون۔ یعنی ان احکام کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں اور ان کی حکمت تک وہی لوگ رسائی حاصل کرسکتے ہیں جو اہل علم ہوں۔ یا پھر یہ صورت ہوگی کہ وہ دین اسلام سے روگردانی کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے اس کا عہد کیا تھا۔ اور دین اسلام پر نکتہ چینیاں کرتے ہیں تو یہ کفر کے علمبردار ہوں گے۔ اور ان کے دلوں میں نہ ایمان ہوگا نہ ان کے عہد و پیمان کا کوئی اعتبار ہوگا۔ اور اب ہمارے لیے ماسوائے اس کے کہ ان کے ساتھ جنگ شروع کردیں اور کوئی راستہ ہی نہ ہوگا۔ شاید بزور تلوار یہ باز آجائیں۔ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں کہ اسلامی کیمپ کی قوت اور اس کا جنگی غلبہ بعض اوقات لوگوں کو اس بات پر مائل کردیتا ہے کہ وہ سچائی کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ حق غالب ہے لہذا وہ اسے قبول کرلیتے ہیں اور ان کا استدلال یہ ہوتا ہے چونکہ یہ نظام غالب ہے لہذا برحق ہے۔ اور یہ کہ اس کی پشت پر قوت الہیہ ہے اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آخر کار اللہ اور اس کے رسولوں نے غالب ہونا ہے۔ اس طرح یہ لوگ ذہنا قائل ہو کر ہدایت کو قبول کرلیں گے اور توبہ کرلیں گے۔ یہ نہ ہوگا کہ جنگ کی وجہ سے ان کا دین زبردستی تبدیل کردیا جائے گا۔ بلکہ وہ اس طرح مطمئن ہوجائیں گے کیونکہ دین …

12

وَإِن نَّكَثُوٓا۟ أَيْمَٰنَهُم مِّنۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا۟ فِى دِينِكُمْ فَقَٰتِلُوٓا۟ أَئِمَّةَ ٱلْكُفْرِ ۙ إِنَّهُمْ لَآ أَيْمَٰنَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ

اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں

11 ۔ 12:۔ اب تفصیلاً بتایا جاتا ہے کہ ان حالات میں اہل ایمان مشرین کے حوالے سے کیا طرز عمل اختیار کریں۔

۔۔۔

مسلمانوں کا مقابلہ ایسے دشمنوں سے ہے جو ہر وقت تاک میں بیٹھا ہے اور وہ مسلمانوں پر بےرحم وار کرنے کے لیے محض اس لیے رکے ہوئے ہوتے ہیں کہ اندر وار کرنے کی سکت نہیں ہوتی۔ یہ وجہ نہیں ہوتی کہ وہ کسی عہد و پیمان کا لحاظ کرنے والے ہوتے ہیں یا کسی ذمہ داری کا احساس کرنے والے ہوتے ہیں یا ان پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت و مذمت کا کوئی اثر ہوتا ہے ، نہ وہ کسی رشتہ داری یا تعلق کا خیال رکھتے ہیں۔ دین اور لادینی کی کشمکش کی یہ ایک طویل تاریخ ہے اور یہ تاریخ اسی راہ پر چلتی رہی ہے۔ اس شاہراہ سے اگر کوئی انحراف ہوا ہے تو وہ محض عارضی اسباب کی وجہ سے اور جلدی تاریخ اپنے اسی خط پر رکتی ہے جو مقرر و مرسوم رہا ہے۔

ایک تو ہمارے سامنے یہ عملی تاریخ ہے ، دوسرے یہ کہ اسلام نظام حیات کے اہداف کی نوعیت ہے کہ اس کے پیش نطر لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی غلامی میں دینا ہے ، جبکہ اسلامی نظام حیات کے مقابلے میں تمام جاہلی نظام ہائے حیات کے اہداف یہ ہیں کہ لوگ لوگوں کے غلام رہیں۔ ایسے حالات میں اسلامی نظام حیات کا تحریکی عمل دنیا کو اس طرح خطاب کرتا ہے۔

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ ۭوَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ : " پس اگر ہی توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں "

وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ : " اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ (پھر تلوار ہی کے زور سے) وہ باز آئیں گے "

پھر صورت یہ ہوگی کہ یا تو وہ اس دین میں داخل ہوجائیں گے جس میں مسلمان داخل ہوئے ہیں اور سابقہ گناہوں سے تائب ہوجائیں گے اور شرک اور ظلم کو چھوڑ دیں گے۔ تو مسلمان ان کے شرک اور ظلم سے صرف نظر کردیں گے۔ اور ان کے درمیان نظریاتی تعلق قائم ہوجائے گا۔ اور یہ جدید مسلمان بھی قدیم مسلمانوں کے بھائی بن جائیں گے اور ان کا تمام ماضی بھلا دیا جائے گا۔ تاریخ سے بھی اور دلوں سے بھی۔ اور یہ کہا کہ و نفصل الایت لقوم یعلمون۔ یعنی ان احکام کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں اور ان کی حکمت تک وہی لوگ رسائی حاصل کرسکتے ہیں جو اہل علم ہوں۔ یا پھر یہ صورت ہوگی کہ وہ دین اسلام سے روگردانی کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے اس کا عہد کیا تھا۔ اور دین اسلام پر نکتہ چینیاں کرتے ہیں تو یہ کفر کے علمبردار ہوں گے۔ اور ان کے دلوں میں نہ ایمان ہوگا نہ ان کے عہد و پیمان کا کوئی اعتبار ہوگا۔ اور اب ہمارے لیے ماسوائے اس کے کہ ان کے ساتھ جنگ شروع کردیں اور کوئی راستہ ہی نہ ہوگا۔ شاید بزور تلوار یہ باز آجائیں۔ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں کہ اسلامی کیمپ کی قوت اور اس کا جنگی غلبہ بعض اوقات لوگوں کو اس بات پر مائل کردیتا ہے کہ وہ سچائی کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ حق غالب ہے لہذا وہ اسے قبول کرلیتے ہیں اور ان کا استدلال یہ ہوتا ہے چونکہ یہ نظام غالب ہے لہذا برحق ہے۔ اور یہ کہ اس کی پشت پر قوت الہیہ ہے اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آخر کار اللہ اور اس کے رسولوں نے غالب ہونا ہے۔ اس طرح یہ لوگ ذہنا قائل ہو کر ہدایت کو قبول کرلیں گے اور توبہ کرلیں گے۔ یہ نہ ہوگا کہ جنگ کی وجہ سے ان کا دین زبردستی تبدیل کردیا جائے گا۔ بلکہ وہ اس طرح مطمئن ہوجائیں گے کیونکہ دین …

13

أَلَا تُقَٰتِلُونَ قَوْمًۭا نَّكَثُوٓا۟ أَيْمَٰنَهُمْ وَهَمُّوا۟ بِإِخْرَاجِ ٱلرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ أَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر (خدا) کے جلا وطن کرنے کا عزم مصمم کر لیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتدا کی۔ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو حالانکہ ڈرنے کے لائق خدا ہے بشرطیکہ ایمان رکھتے ہو

تفسیر آیات 13 تا 16:۔

تو یہ پیرا گراف اس لیے آیا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں مختلف سطح لوگ تھے اور بعض لوگوں کے دلوں میں یہ کھٹک تھی کہ وہ اس قدر فیصلہ کن اور سخت اقدام کیوں کریں۔ اس نکتے کے بارے میں ہم اس سے قبل تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش تھی اور وہ یہ امید بھی رکھتے تھے کہ شاید بقیہ مشرکین بھی اسلام قبول کرلیں گے اور شاید یہ قتال اور سختی ضروری نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی ان کے پیش نظر ہوں گی اور وہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ آسان راستہ کیوں اختیار نہ کیا جائے۔

ان آیات میں انہی تصورات ، اندیشوں اور وجوہات کو دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ماضی قریب و بعید کے واقعات سامنے کر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے اور مسلمانوں کے دلوں کو صاف کیا گیا ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ جب مشرکین کے ساتھ معاہدے کیے گئے تو ان کا حشر کیا ہوا۔ جو قسمیں وہ کھاتے تھے وہ کس قدر سچی تھیں پھر رسول اللہ کو انہوں نے کس بےدردی کے ساتھ ملک بدر کیا۔ مکہ سے آپ کو مجبوراً نکلنا پڑا۔ پھر مدینہ پر پہلے انہوں ہی نے چڑھائی کی۔ اس کے بعد ان کو شرم دلائی گئی ہے اور ان کی خودی کو جگایا گیا اور پوچھا گیا کہ تم ان لوگوں سے ڈرتے ہو۔ اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ سے ڈرو۔ اس کے بعد ان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کرو شاید اللہ کو منظور یہ ہے کہ وہ تمہارے ہاتھوں ان کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ یوں تمہیں ست قدر کا آلہ بننے کا اعزاز حاصل ہوگا۔ اور تمہارے ذریعے اللہ اپنے دشمنوں کو ذلیل کرے گا۔ اور وہ ذلت اور اللہ کے قہر کے مستحق بنیں گے۔ اور ان مومنین کے دل خوش ہوں گے جن کو اللہ کے راستے میں اذیت دی گئی۔ اس کے بعد ان لوگوں کی تمناؤں کو غلط بتایا جاتا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ شاید بغیر قتال کے یہ لوگ دین اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انہیں شکست دلا کر اور ذلیل کرکے اسلام میں داخل کرائے۔ شکست کی صورت میں جس کے مقدر میں لکھا ہوا ہو وہ توبہ کرلے گا اور غالب اسلام کے سامنے سرنگوں ہوگا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی نیک جماعتوں کو ایسی آزمائشوں میں ڈالتا رہتا ہے اور سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : کیا تم نہ لڑوگے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس سے زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔

مسلمانوں اور مشرکین کے تعلقات کی تاریخ میں دو الفاظ کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، ایمان سے روگردانی اور معاہدوں کی خلاف ورزی اور زیر بحث آیات کے وقت قریب ترین مثال صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی تھی۔ نبی ﷺ نے نے الہام ربانی اور ہدایت ربانی کے تحت اس صلح کو مشرکین کے شرائط کے مطابق تسلیم کیا تھا۔ اور جسے بعض مقتدر اصحاب رسول اللہ نے نہایت ہی ذلت آمیز شرائط قرار دیا تھا۔ اور اس میں مشرکین نے جو سخت شرائط عائد کی تھیں حضور ﷺ نے ان کی سختی سے پابندی کی اور نہایت ہی شریفانہ طرز عمل اختیار کیا تھا۔ لیکن خود انہوں نے اس صلح کی مخالفت کی۔ اور صرف دو سال کے بعد ہی اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ پھر یہ مشرکین ہی تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے شہر سے نکالا اور ہجرت سے پہلے مکہ میں انہوں نے آپ کے قتل کا فیصلہ کرلیا اور یہ فیصلہ انہوں نے بیت الحرام میں کیا جہاں قاتل کو بھی پناہ ملتی تھی۔ اور جہاں قاتل کا خون اور مال بھی محفوظ ہوتے تھے اور یہ قانون اس قدر محترم تھا کہ ایک …

14

قَٰتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ ٱللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍۢ مُّؤْمِنِينَ

ان سے (خوب) لڑو۔ خدا ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا

تفسیر آیات 13 تا 16:۔

تو یہ پیرا گراف اس لیے آیا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں مختلف سطح لوگ تھے اور بعض لوگوں کے دلوں میں یہ کھٹک تھی کہ وہ اس قدر فیصلہ کن اور سخت اقدام کیوں کریں۔ اس نکتے کے بارے میں ہم اس سے قبل تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش تھی اور وہ یہ امید بھی رکھتے تھے کہ شاید بقیہ مشرکین بھی اسلام قبول کرلیں گے اور شاید یہ قتال اور سختی ضروری نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی ان کے پیش نظر ہوں گی اور وہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ آسان راستہ کیوں اختیار نہ کیا جائے۔

ان آیات میں انہی تصورات ، اندیشوں اور وجوہات کو دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ماضی قریب و بعید کے واقعات سامنے کر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے اور مسلمانوں کے دلوں کو صاف کیا گیا ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ جب مشرکین کے ساتھ معاہدے کیے گئے تو ان کا حشر کیا ہوا۔ جو قسمیں وہ کھاتے تھے وہ کس قدر سچی تھیں پھر رسول اللہ کو انہوں نے کس بےدردی کے ساتھ ملک بدر کیا۔ مکہ سے آپ کو مجبوراً نکلنا پڑا۔ پھر مدینہ پر پہلے انہوں ہی نے چڑھائی کی۔ اس کے بعد ان کو شرم دلائی گئی ہے اور ان کی خودی کو جگایا گیا اور پوچھا گیا کہ تم ان لوگوں سے ڈرتے ہو۔ اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ سے ڈرو۔ اس کے بعد ان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کرو شاید اللہ کو منظور یہ ہے کہ وہ تمہارے ہاتھوں ان کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ یوں تمہیں ست قدر کا آلہ بننے کا اعزاز حاصل ہوگا۔ اور تمہارے ذریعے اللہ اپنے دشمنوں کو ذلیل کرے گا۔ اور وہ ذلت اور اللہ کے قہر کے مستحق بنیں گے۔ اور ان مومنین کے دل خوش ہوں گے جن کو اللہ کے راستے میں اذیت دی گئی۔ اس کے بعد ان لوگوں کی تمناؤں کو غلط بتایا جاتا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ شاید بغیر قتال کے یہ لوگ دین اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انہیں شکست دلا کر اور ذلیل کرکے اسلام میں داخل کرائے۔ شکست کی صورت میں جس کے مقدر میں لکھا ہوا ہو وہ توبہ کرلے گا اور غالب اسلام کے سامنے سرنگوں ہوگا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی نیک جماعتوں کو ایسی آزمائشوں میں ڈالتا رہتا ہے اور سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : کیا تم نہ لڑوگے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس سے زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔

مسلمانوں اور مشرکین کے تعلقات کی تاریخ میں دو الفاظ کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، ایمان سے روگردانی اور معاہدوں کی خلاف ورزی اور زیر بحث آیات کے وقت قریب ترین مثال صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی تھی۔ نبی ﷺ نے نے الہام ربانی اور ہدایت ربانی کے تحت اس صلح کو مشرکین کے شرائط کے مطابق تسلیم کیا تھا۔ اور جسے بعض مقتدر اصحاب رسول اللہ نے نہایت ہی ذلت آمیز شرائط قرار دیا تھا۔ اور اس میں مشرکین نے جو سخت شرائط عائد کی تھیں حضور ﷺ نے ان کی سختی سے پابندی کی اور نہایت ہی شریفانہ طرز عمل اختیار کیا تھا۔ لیکن خود انہوں نے اس صلح کی مخالفت کی۔ اور صرف دو سال کے بعد ہی اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ پھر یہ مشرکین ہی تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے شہر سے نکالا اور ہجرت سے پہلے مکہ میں انہوں نے آپ کے قتل کا فیصلہ کرلیا اور یہ فیصلہ انہوں نے بیت الحرام میں کیا جہاں قاتل کو بھی پناہ ملتی تھی۔ اور جہاں قاتل کا خون اور مال بھی محفوظ ہوتے تھے اور یہ قانون اس قدر محترم تھا کہ ایک …

15

وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ ۗ وَيَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

اور ان کے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کرے گا۔ اور خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

تفسیر آیات 13 تا 16:۔

تو یہ پیرا گراف اس لیے آیا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں مختلف سطح لوگ تھے اور بعض لوگوں کے دلوں میں یہ کھٹک تھی کہ وہ اس قدر فیصلہ کن اور سخت اقدام کیوں کریں۔ اس نکتے کے بارے میں ہم اس سے قبل تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش تھی اور وہ یہ امید بھی رکھتے تھے کہ شاید بقیہ مشرکین بھی اسلام قبول کرلیں گے اور شاید یہ قتال اور سختی ضروری نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی ان کے پیش نظر ہوں گی اور وہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ آسان راستہ کیوں اختیار نہ کیا جائے۔

ان آیات میں انہی تصورات ، اندیشوں اور وجوہات کو دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ماضی قریب و بعید کے واقعات سامنے کر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے اور مسلمانوں کے دلوں کو صاف کیا گیا ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ جب مشرکین کے ساتھ معاہدے کیے گئے تو ان کا حشر کیا ہوا۔ جو قسمیں وہ کھاتے تھے وہ کس قدر سچی تھیں پھر رسول اللہ کو انہوں نے کس بےدردی کے ساتھ ملک بدر کیا۔ مکہ سے آپ کو مجبوراً نکلنا پڑا۔ پھر مدینہ پر پہلے انہوں ہی نے چڑھائی کی۔ اس کے بعد ان کو شرم دلائی گئی ہے اور ان کی خودی کو جگایا گیا اور پوچھا گیا کہ تم ان لوگوں سے ڈرتے ہو۔ اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ سے ڈرو۔ اس کے بعد ان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کرو شاید اللہ کو منظور یہ ہے کہ وہ تمہارے ہاتھوں ان کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ یوں تمہیں ست قدر کا آلہ بننے کا اعزاز حاصل ہوگا۔ اور تمہارے ذریعے اللہ اپنے دشمنوں کو ذلیل کرے گا۔ اور وہ ذلت اور اللہ کے قہر کے مستحق بنیں گے۔ اور ان مومنین کے دل خوش ہوں گے جن کو اللہ کے راستے میں اذیت دی گئی۔ اس کے بعد ان لوگوں کی تمناؤں کو غلط بتایا جاتا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ شاید بغیر قتال کے یہ لوگ دین اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انہیں شکست دلا کر اور ذلیل کرکے اسلام میں داخل کرائے۔ شکست کی صورت میں جس کے مقدر میں لکھا ہوا ہو وہ توبہ کرلے گا اور غالب اسلام کے سامنے سرنگوں ہوگا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی نیک جماعتوں کو ایسی آزمائشوں میں ڈالتا رہتا ہے اور سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : کیا تم نہ لڑوگے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس سے زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔

مسلمانوں اور مشرکین کے تعلقات کی تاریخ میں دو الفاظ کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، ایمان سے روگردانی اور معاہدوں کی خلاف ورزی اور زیر بحث آیات کے وقت قریب ترین مثال صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی تھی۔ نبی ﷺ نے نے الہام ربانی اور ہدایت ربانی کے تحت اس صلح کو مشرکین کے شرائط کے مطابق تسلیم کیا تھا۔ اور جسے بعض مقتدر اصحاب رسول اللہ نے نہایت ہی ذلت آمیز شرائط قرار دیا تھا۔ اور اس میں مشرکین نے جو سخت شرائط عائد کی تھیں حضور ﷺ نے ان کی سختی سے پابندی کی اور نہایت ہی شریفانہ طرز عمل اختیار کیا تھا۔ لیکن خود انہوں نے اس صلح کی مخالفت کی۔ اور صرف دو سال کے بعد ہی اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ پھر یہ مشرکین ہی تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے شہر سے نکالا اور ہجرت سے پہلے مکہ میں انہوں نے آپ کے قتل کا فیصلہ کرلیا اور یہ فیصلہ انہوں نے بیت الحرام میں کیا جہاں قاتل کو بھی پناہ ملتی تھی۔ اور جہاں قاتل کا خون اور مال بھی محفوظ ہوتے تھے اور یہ قانون اس قدر محترم تھا کہ ایک …

16

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تُتْرَكُوا۟ وَلَمَّا يَعْلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُوا۟ مِنكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَا رَسُولِهِۦ وَلَا ٱلْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةًۭ ۚ وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ (بےآزمائش) چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی خدا نے ایسے لوگوں کو متمیز کیا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کئے اور خدا اور اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

تفسیر آیات 13 تا 16:۔

تو یہ پیرا گراف اس لیے آیا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں مختلف سطح لوگ تھے اور بعض لوگوں کے دلوں میں یہ کھٹک تھی کہ وہ اس قدر فیصلہ کن اور سخت اقدام کیوں کریں۔ اس نکتے کے بارے میں ہم اس سے قبل تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش تھی اور وہ یہ امید بھی رکھتے تھے کہ شاید بقیہ مشرکین بھی اسلام قبول کرلیں گے اور شاید یہ قتال اور سختی ضروری نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی ان کے پیش نظر ہوں گی اور وہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ آسان راستہ کیوں اختیار نہ کیا جائے۔

ان آیات میں انہی تصورات ، اندیشوں اور وجوہات کو دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ماضی قریب و بعید کے واقعات سامنے کر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے اور مسلمانوں کے دلوں کو صاف کیا گیا ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ جب مشرکین کے ساتھ معاہدے کیے گئے تو ان کا حشر کیا ہوا۔ جو قسمیں وہ کھاتے تھے وہ کس قدر سچی تھیں پھر رسول اللہ کو انہوں نے کس بےدردی کے ساتھ ملک بدر کیا۔ مکہ سے آپ کو مجبوراً نکلنا پڑا۔ پھر مدینہ پر پہلے انہوں ہی نے چڑھائی کی۔ اس کے بعد ان کو شرم دلائی گئی ہے اور ان کی خودی کو جگایا گیا اور پوچھا گیا کہ تم ان لوگوں سے ڈرتے ہو۔ اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ سے ڈرو۔ اس کے بعد ان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کرو شاید اللہ کو منظور یہ ہے کہ وہ تمہارے ہاتھوں ان کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ یوں تمہیں ست قدر کا آلہ بننے کا اعزاز حاصل ہوگا۔ اور تمہارے ذریعے اللہ اپنے دشمنوں کو ذلیل کرے گا۔ اور وہ ذلت اور اللہ کے قہر کے مستحق بنیں گے۔ اور ان مومنین کے دل خوش ہوں گے جن کو اللہ کے راستے میں اذیت دی گئی۔ اس کے بعد ان لوگوں کی تمناؤں کو غلط بتایا جاتا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ شاید بغیر قتال کے یہ لوگ دین اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انہیں شکست دلا کر اور ذلیل کرکے اسلام میں داخل کرائے۔ شکست کی صورت میں جس کے مقدر میں لکھا ہوا ہو وہ توبہ کرلے گا اور غالب اسلام کے سامنے سرنگوں ہوگا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی نیک جماعتوں کو ایسی آزمائشوں میں ڈالتا رہتا ہے اور سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : کیا تم نہ لڑوگے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس سے زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔

مسلمانوں اور مشرکین کے تعلقات کی تاریخ میں دو الفاظ کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، ایمان سے روگردانی اور معاہدوں کی خلاف ورزی اور زیر بحث آیات کے وقت قریب ترین مثال صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی تھی۔ نبی ﷺ نے نے الہام ربانی اور ہدایت ربانی کے تحت اس صلح کو مشرکین کے شرائط کے مطابق تسلیم کیا تھا۔ اور جسے بعض مقتدر اصحاب رسول اللہ نے نہایت ہی ذلت آمیز شرائط قرار دیا تھا۔ اور اس میں مشرکین نے جو سخت شرائط عائد کی تھیں حضور ﷺ نے ان کی سختی سے پابندی کی اور نہایت ہی شریفانہ طرز عمل اختیار کیا تھا۔ لیکن خود انہوں نے اس صلح کی مخالفت کی۔ اور صرف دو سال کے بعد ہی اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ پھر یہ مشرکین ہی تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے شہر سے نکالا اور ہجرت سے پہلے مکہ میں انہوں نے آپ کے قتل کا فیصلہ کرلیا اور یہ فیصلہ انہوں نے بیت الحرام میں کیا جہاں قاتل کو بھی پناہ ملتی تھی۔ اور جہاں قاتل کا خون اور مال بھی محفوظ ہوتے تھے اور یہ قانون اس قدر محترم تھا کہ ایک …

17

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا۟ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ شَٰهِدِينَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِم بِٱلْكُفْرِ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ وَفِى ٱلنَّارِ هُمْ خَٰلِدُونَ

مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بےکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

اعلان براءت کے بعد کسی کے لیے اب کوئی حجت باقی نہ رہی کہ کیوں وہ مشرکین کے ساتھ نہ لڑے۔ اب لوگوں کے ذہن میں یہ خلجان بھی نہ رہے کہ مشرکین زیارت حرم سے مھروم ہوں گے الا یہ کہ وہ اب مسجد حرام کی عمارت میں حصہ نہ لے سکیں گے جبکہ جاہلیت میں یہ مشرکین ان کاموں میں شریک ہوا کرتے تھے۔ اس لیے کہ مشرکین کا حق ہی نہیں ہے کہ وہ مسجدیں تعمیر کریں۔ یہ صرف اہل ایمان کا حق ہے کہ وہ مساجد تعمیر کریں اور ان میں فرائض دینی ادا کریں۔ دور جاہلیت میں تو وہ یہ کام کرتے تھے۔ مسجد حرام کی تعمیر اور حاجیوں کو پانی پلانے کا تو اب اس قاعدہ کلیہ سے مستثنی نہیں کیا جاسکتا۔ ان آیات میں ان خلجانات کو رفع کیا گیا ہے جو بعض مسلمانوں کے دلوں میں تھیں کہ اسی اصول نے ایک نیک کام سے لوگوں کو روک دیا ہے۔

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ : " مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور و خادم بنیں در آں حالیکہ اپنے اوپر وہ خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں "۔

یہ نہایت ہی مکروہ امر ہے اور اصول فطرت سے متضاد ہے کہ مشرکین مساجد کی تعمیر میں حصہ لیں۔ مساجد تو صرف ذکر الٰہی کے ہیے ہوتی ہیں اور اللہ کے سوا ان میں کسی اور کا نام نہیں لیا جاتا۔ لہذا تعمیر مساجد میں وہ لوگ کیسے حصہ لے سکتے ہیں جن کے دل میں توحید ہی نہ ہو اور وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہوں۔ پھر ان کی زندگی بھی شہادت حق کے بجائے شہادت کفر دے رہی ہو اور زندگی کی عملی شہادت ایسی شہادت ہوتی ہے جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس کا تو اقرار ہی کرنا پڑتا ہے۔

اُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ : " ان کے تو سارے اعمال ضاعئ ہوگئے اور جہنم میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے "۔ ان کے تو سب اعمال باطل ہیں۔ تعمیر مساجد پر بھی ان کو کوئی اجر ملنے والا نہیں ہے ، کیونکہ انہوں نے عقیدہ توحید قبول کرنے کے بجائے کفر و شرک کو اختیار کیا ہے۔

18

إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا ٱللَّهَ ۖ فَعَسَىٰٓ أُو۟لَٰٓئِكَ أَن يَكُونُوا۟ مِنَ ٱلْمُهْتَدِينَ

خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے اور زکواة دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں

عبادات و اعمال میں سے معتبر وہ ہوتے ہیں جو عقائد صحیحہ پر مبنی ہوں۔ اگر عقیدہ ہی ٹھیک نہ ہو تو اعمال کیسے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اس لیے جب تک ایمان و عقیدہ درست نہ ہوگا مسجد حرام کی تعمیر اور اس میں مراسم عبودیت بجا لانا کوئی معنی نہیں رکھتے۔ لہذا اعمال کو خالص عقیدہ توحید پر مبنی ہونا چاہیے اور یہ اعمال خالص اللہ کے لیے ہونے ضروری ہیں ، تب قبول ہوں گے۔

یہاں دو شرائط ، یعنی ایمان باللہ جو باطنی صفت ہے اور اعمال ظاہریہ کے ساتھ ایک شرط یہ ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی چیز سے خائف نہ ہو ، لازمی شرط ہے۔ یہ نفلی شرط نہیں ہے۔ لہذا اللہ کے لیے خالص ہونا لازمی ہے۔ اور انسان کے شعور ، اس کے طرز عمل میں شرک کا شائبہ تک نہ ہونا چاہیے۔ غیر اللہ سے ڈرنا بھی در اصل شرک خفی کا ایک رنگ ہے۔ اور یہاں قصدا اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تاکہ شعور و اعتقاد اور عمل اور سلوک میں انسان مکمل طور پر خالص اور پاک و صاف ہو۔ اس خلوص کے بعد اب مومن اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ وہ مساجد کی دیکھ بھال اور تعمیر کرے اور ایسے ہی لوگ ہدایت کی امید کرسکتے ہیں۔

فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ : " انہی سے یہ توقع ہے کہ سیدھی راہ چلیں گے "۔ اسی لیے کہ قلب متوجہ ہوتا ہے ، تب اعضاء عمل کرتے ہیں اور یہ سب کچھ تب ہوسکتا ہے کہ اللہ راضی ہو ، اللہ کی مشیئت ہو تو توجہ بھی ہوگی اعمال بھی ہوں گے اور ہدایت و کامیابی بھی ہوگی۔

یہ ہے اصول تعمیر مساجد کا اور یہ ہے اصل ذریعہ عبادات اور مراسم کی درستگی کا۔

19

۞ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ ٱلْحَآجِّ وَعِمَارَةَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ كَمَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَجَٰهَدَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ لَا يَسْتَوُۥنَ عِندَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم یعنی (خانہٴ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

اور مسلمانوں اور مشرکوں دونوں کے سامنے یہ اصول رکھا جاتا ہے۔ لہذا وہ لوگ جو جاہلیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے تھے اور اس میں حاجیوں کو پانی پلاتے تھے ، لیکن ان کے عقائد خالص نہ تھے اور انہوں نے نیک اعمال اور جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ بھی نہیں لیا اور لوگ جنہوں نے بیت اللہ کی تعمیر میں حصہ لیا اور جن کا ایمان صحیح کیا اور اس صحیح ایمان پر انہوں نے اچھے اعمال بھی کیے اور اللہ کی راہ میں جہاد بھی کیا باہم برابر نہیں ہوسکتے۔

اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاۗجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰه ِ ۭ لَا يَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ : " کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر ٹھہرا لیا جو ایمان لایا اللہ پر اور روز آخر پر اور جس نے جانفشانی کی اللہ کی راہ میں ؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دنوں برابر نہیں ہیں "

بیشک برابر نہیں ، کیونکہ اللہ کے میزان اور پیمانوں کے مطابق نہیں اور پیمانے اور اقدار تو اللہ ہی کی ہوتی ہیں۔

وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : " اور اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا "۔ وہ مشرک جو دین حق کو قبول نہیں کرتے اور جو اپنے عقائد کو شرک سے پاک نہیں کرتے۔ اگرچہ وہ بیت اللہ کے معمار ہوں اور حاجیوں کے ساقی و خادم ہوں۔

20

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ ٱللَّهِ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَآئِزُونَ

جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے۔ خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں۔ اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں

20 ۔ 22: یہ مضمون اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ مومنین ، مہاجرین اور مجاہدین بلند مرتبہ لوگ ہیں۔ اللہ کی رحمت اور رضامندی ان کے انتظار میں ہے اور ان کے لیے جنت میں نعیم مقیم ہے۔ اور اس کے علاوہ اجر عظیم بھی ہے۔

اس آیت میں افضل تفضیل کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اعظم درجۃ ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں کے درجے اسفل ہیں بلکہ اس سے مطلق فضیلت مراد ہے کیونکہ ان لوگوں کے بالمقابل وہ لوگ جن کے اعمال اکارت گئے اور جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ لہذا ایسے لوگوں کے درمیان اعمال و درجات کا کوئی تناسب نہیں ہے۔ ایک طرف کافر ہیں اور دوسری جانب مومنین مہاجرین اور مجاہدین ہیں جو اعلی درجوں میں اور دائمی نعمتوں میں ہوں گے۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.