Muslim99Muslim99
← Tafsir library

9. At-Tawba

The Repentance · Medinan · 129 ayahs

سُورَةُ التَّوۡبَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 101–110 of 129

101

وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ ٱلْأَعْرَابِ مُنَٰفِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ ٱلْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا۟ عَلَى ٱلنِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍۢ

اور تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے۔ ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے

اس سے قبل منافقین کے بارے میں عمومی بات ہوچکی ہے اور ان کے احوال کا انکشاف کردیا گیا ہے ان کا علق اہل مدینہ سے بھی تھا اور اہل مدینہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے بدوی منافقین سے بھی تھا۔ یہاں منفقین کی ایک خاص صنف کا تذکرہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہنر نفاق میں طاق ہوگئے ہی اور اس آرٹ میں انہوں نے بہت ہی اچھا تجربہ حاصل کرلیا ہے۔ یہ عمل نفاق میں ڈوب چکے ہیں اور وہ اس قدر فنکار بن گئے ہیں کہ خود رسول اللہ ﷺ اپنی پیغمبرانہ بصیرت کے باوجود ان کو نہیں پہچان سکے حالانکہ آپ نے اس دور تک ان کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کرلی تھیں اور تجربات کے ایک طویل دور سے گزر چکے تھے۔

اللہ فرماتے ہیں کہ اس قسم کے منافقین اہل مدینہ اور ارد گرد کی آبادی میں اب بھی موجود ہیں۔ اس قسم کے منافقین کی سازشون اور نیش زنیوں سے حضور اور اہل ایمان مطمئن ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایک طرف حضور کو فرماتے ہیں کہ آپ کے علم میں ان کی ریشہ دوانیاں نہیں ہیں ان کے ساتھ ساتھ ان کو بھی سخت تنبیہہ کردی جاتی ہے کہ وہ اس سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ ان کی مکاری اور ہوشیاری اور شاطرانہ چالیں اللہ کے مقابلے میں کارگر نہیں ، اللہ ان کو اس دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل و خوار کرے گا جبکہ آخرت میں ان کو دوگنا عذاب دیا جائے گا۔

لا تعلمھم نحن نعلمہم سنعذبھم مرتین ثم یردون الی عذاب عظیم " تم انہیں نہیں جانتے ، ہم ان کو جانتے ہیں۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے ، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے۔ دنیا میں ان کو دوگنا عذاب دیا جائے گا ؟ قریب الفہم مفہوم یہ ہے کہ ایک تو ان کو اس بات پر سخت قلق ہوگا کہ اسلامی سوسائٹی میں ان کی شاطرانہ چالوں کے باوجود ان کی حقیقت لوگوں پر واضح کردی گئی اور دوسرا عذاب یہ کہ ان کی موت اس حالت میں آئے گی کہ ان کو روح کو سختی سے قبض کیا جائے گا اور قبض روح کی حالت میں ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر ضربیں رسید کی جائیں گی یا یہ عذاب کہ وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ مسلمانوں کو فتح پر فتح نصیب ہو رہی ہے اور وہ دل ہی دل میں جلتے ہیں اور دوسرا عذاب یہ کہ یہ لوگ ہر وقت اس ڈر میں رہتے ہیں کہ ان کی حالت کا انکشاف مسلمانوں پر نہ ہوجائے اور یہ کہ وہ عمل جہاد کا نشانہ نہ بن جائیں۔

یہ تو تھے دو انتہائی معیار اور ان کے درمیان کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بین بین ہیں۔

At-Tawba 9:101Listen in Qur'an →
102

وَءَاخَرُونَ ٱعْتَرَفُوا۟ بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا۟ عَمَلًۭا صَٰلِحًۭا وَءَاخَرَ سَيِّئًا عَسَى ٱللَّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌ

اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں انہوں نے اچھے برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

1 :۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دس آدمی تھے جو غزوہ تبوک میں رسول اللہ (ﷺ) سے پیچھے رہ گئے تھے جب رسول اللہ (ﷺ) واپس تشریف لے آئے تو ان میں سے سات آدمیوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا جب نبی کریم (ﷺ) مسجد میں ان کے پاس سے گزرے اور ان کو دیکھ کر فرمایا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا ہے صحابہ کرام ؓ نے فرمایا یہ ابو لبابہ اور ان کے ساتھی ہیں جو آپ سے یارسول اللہ (ﷺ) پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا اور قسم اٹھائی کہ کوئی ان کو نہ کھولے گا یہاں تک کہ نبی کریم (ﷺ) ان کو کھولیں گے اور ان کا عذر قبول فرمائیں گے آپ نے فرمایا میں بھی اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کو نہیں کھولوں گا اور نہ ان کا عذر قبول کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کو کھولیں گے کیوں کہ انہوں نے مجھ سے اعراض کیا اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے سے پیچھے رہ گئے ۔ جب ان کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا ہم اپنے آپ کو نہیں کھولیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی ہم کو کھولنے والے ہیں ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت ) نازل فرمائی (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا۔ عسی اللہ ان یتوب علیہم “ اور قریب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ قبول ہوجائے اور وہ بہت توبہ قبول کرنے والے اور رحم کرنے والے ہیں جب (یہ آیت) نازل ہوئی تو نبی کریم (ﷺ) نے ان تک یہ آیت پہنچائی ان کو کھول دیا اور ان کا عذر قبول کرلیا وہ مال لے آئے اور کہا یا رسول اللہ یہ ہمارے لئے مال ہیں ہماری طرف سے اس کو صدقہ کردیجئے اور ہمارے لئے استغفار فرمائیے آپ نے فرمایا مجھے تمہارا مال لینے کا حکم نہیں دیا گیا تو اللہ جل شانہ نے یہ نازل فرمایا (آیت) خذ من اموالہم صدقۃ تطھرھم وتزکیہم بھا وصل علیم “ فرمایا کہ ان کے لئے استغفار کیجئے (آگے فرمایا) (آیت) ” ان صلوتک سکن لہم “ یعنی آُ کی دعا ان کے لئے رحمت ہوگی آپ نے ان سے صدقہ لے لیا اور ان کے لئے استغفار فرمایا اور ان میں سے تین آدمی ایسے تھے جنہوں نے اپنے آپ کو ستونوں سے نہیں باندھا ان کا معاملہ ایک سال موخر کردیا گیا وہ نہیں جانتے تھے کیا ان کو عذاب دیا جائے گا یا ان کو توبہ قبول کی جائے گی تو اللہ عزوجل نے (یہ آیت ) ” لقد تاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ “ اتاری آیت کے آخر تک پھر فرمایا (آیت) وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ سے لے کر (آیت) ” ثم تاب علیہم لیتوبوا ، ان اللہ ھو التواب الرحیم (118) تک یعنی ” ان استقاموا “ اگر وہ صراط مستقیم پر قائم رہے ۔

2 :۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے بغیر اسی طرح روایت بیان کی ۔

3 :۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے دلائل میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اعترفوا بذنوبہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ابولبابہ تھے جب انہوں نے قریظہ کو کچھ کہا تو ساتھ ہی اپنے گلے کی طرف اشارہ کردیا کہ محمد (ﷺ) تم ذبح کریں گے اگر تم ان کے حکم پر اتر آئے ۔

ابولبابہ ؓ کا اپنے آپ کو ستون سے باندھنا :

4 :۔ البیہقی (رح) نے دلائل میں سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ بنوقریظہ (یہودی) ابو لبابہ کے حلیف تھے انہوں نے اوپر سے جھانک کر ان کی طرف دیکھا اور آپ ان کو رسول اللہ (ﷺ) کے حکم کی طرف دعوت دینے لگے انہوں نے کہا اے ابولبابہ کیا تو ہم کو حکم دیتا ہے کہ ہم نیچے اتر آئیں تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے گلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ذبح کردیئے جاؤ گے رسول اللہ (ﷺ) کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا کیا تو خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھ سے غافل ہیں جب تو نے ان کی طرف اس کے ذریعہ اپنے گلے کی …

At-Tawba 9:102Listen in Qur'an →
103

خُذْ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ صَدَقَةًۭ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٌۭ لَّهُمْ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

ان کے مال میں سے زکوٰة قبول کر لو کہ اس سے تم ان کو (ظاہر میں بھی) پاک اور (باطن میں بھی) پاکیزہ کرتے ہو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے

خذ من اموالھم صدقۃً ان کے مالوں سے صدقہ لے لو۔ یعنی گناہوں کے کفارہ میں (جو مال وہ دے رہے ہیں) لے لو۔ بعض کے نزدیک صدقہ سے مراد زکوٰۃ ہے۔

تطھرھم (وہ صدقہ) ان کو گناہوں سے پاک کر دے گا ‘ یا تم ان کو مال صدقہ لے کر گناہوں سے پاک کر دو گے۔ پہلی صورت میں تطہر کی ضمیر مؤنث غائب صدقہ کی طرف راجع ہوگی۔ دوسری صورت میں خطاب کا صیغہ ہوگا اور رسول اللہ (ﷺ) کو خطاب ہوگا۔

فتزکیھم بھا اور تم ان کو صدقہ لے کر پاکیزہ و صاف کر دو گے۔ یعنی ان کی نیکیاں بڑھا دو گے اور مخلص اہل ایمان کے درجات پر پہنچا دو گے۔

ابن جریر نے علی بن ابی طلحہ کے طریق سے حضرت ابن عباس کا قول یہی نقل کیا ہے اور حضرت سعید بن جبیر ‘ ضحاک اور زید بن اسلم کے اقوال سے بھی یہی مقدار نقل کی ہے۔ لیکن بغوی نے لکھا ہے کہ عطیہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کے قول میں ستونوں سے خود بندھ جانے والے لوگوں کی تعداد صرف پانچ بیان کی گئی ہے جن میں ابولبابہ بھی تھے۔ اور حضرت سعید بن جبیر و زید بن اسلم کے اقوال میں آٹھ اور قتادہ و ضحاک کے اقوال میں سات بیان کی گئی ہے۔ ابن مردویہ اور ابن ابی حاتم نے بروایت عوفی ‘ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) (ایک) جہاد پر تشریف لے گئے مگر ابولبابہ اور ان کے ساتھ پانچ دوسرے آدمی پیچھے رہ گئے (جہاد پر نہ جاسکے) پھر ابو لبابہ نے اور پانچ میں سے دو آدمیوں نے غور کیا ‘ پشیمان ہوئے اور ان لوگوں کو اپنی تباہی (یعنی دین کی بربادی) کا یقین ہوگیا۔ کہنے لگے : ہم تو (ٹھنڈے) سایہ میں عورتوں کے ساتھ چین کریں اور رسول اللہ (ﷺ) کے ہمرکاب (دوسرے) مسلمان جہاد میں شریک ہوں (یہ بڑا گناہ ہے) خدا کی قسم ! ہم ستونوں سے خود اپنے کو باندھ دیں گے اور اس وقت تک نہ کھولیں گے جب تک رسول اللہ (ﷺ) خود نہ کھولیں۔ چناچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ تین آدمی رہ گئے جنہوں نے اپنے آپ کو نہیں بندھوایا تھا (الحدیث) ۔

عبد نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت سات آدمیوں کے حق میں نازل ہوئی جن میں سے چار یعنی ابو البابہ ‘ مرداس ‘ اوس اور جذام نے اپنے آپ کو ستونوں سے باندھ دیا تھا۔

ابن مندہ نے الصحابہ میں اور ابو الشیخ نے بطریق ثوری از اعمش از ابو سفیان ‘ حضرت جابر کا بیان نقل کیا ہے کہ جو لوگ رسول اللہ (ﷺ) کی ہمرکابی سے رہ گئے تھے ‘ ان میں سے ابو البابہ ‘ اوس بن جذام ‘ ثعلبہ بن ودیعہ ‘ کعب بن مالک ‘ مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تھے۔ ابو لبابہ اور ثعلبہ (وغیرہ) نے اپنے آپ کو ستونوں سے بندھوا دیا تھا اور (رہائی کے بعد) اپنے مال لا کر خدمت گرامی میں پیش کئے تھے اور عرض کیا تھا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اس کو لے لیجئے ‘ اسی نے ہم کو آپ کے ہمرکاب جانے سے روکا تھا۔ حضور (ﷺ) نے انہی حضرات کے متعلق فرمایا تھا : میں ان کو نہیں کھولوں گا جب تک اللہ ان کو نہ کھلوائے۔ انہی کے متعلق آیت وَاٰخَرُوْنَ اِعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِھِمْ الخ نازل ہوئی تھی۔ اس حدیث کی سند قوی ہے۔

بغوی نے لکھا ہے : تمام روایات حضرت ابو لبابہ کے نام پر متفق ہیں۔ بعض لوگوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ آیت کا نزول صرف ابولبابہ کے حق میں ہوا۔

بغوی نے لکھا ہے : اس میں اختلاف ہے کہ ابو لبابہ کا جرم کونسا تھا جس کے سلسلہ میں یہ آیت اتری۔ مجاہد نے کہا : ابولبابہ نے بنی قریظہ سے کہا کہ اگر ان (یعنی حضرت معاذ) کے فیصلہ کی شرط پر راضی ہو کر تم اپنی گڑھی سے نیچے اترے تو (حلق پر انگلی پھیرتے ہوئے اشارہ کیا کہ یہ ہوجائے گا ‘ یعنی) ذبح کر دئیے جاؤ گے۔ ہم نے یہ قصہ سورة الانفال کی آیت یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَخُوْنُوا اللّٰہَ الخ کی تفسیر کے ذیل میں ذکر کردیا ہے۔ ابن اسحاق اور بیہقی کا بھی یہی خیال ہے کہ حضرت ابو لبابہ کا ستون سے خود بندھنا بنی قریظہ کے واقعہ ہی سے متعلق تھا۔

زہری کا قول ہے کہ آیت کے نزول کا تعلق تبوک کے واقعہ سے ہے۔ میں کہتا …

At-Tawba 9:103Listen in Qur'an →
104

أَلَمْ يَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ ٱلتَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِۦ وَيَأْخُذُ ٱلصَّدَقَٰتِ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ خدا ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات (وخیرات) لیتا ہے اور بےشک خدا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ یاخذ الصدقات کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور ان کے صدقات کو (قبول کے ہاتھوں سے) لے لیتا ہے۔ یعنی اس طرح قبول کرلیتا ہے جیسے کوئی کسی چیز کو معاوضہ ادا کرنے کیلئے لے لیتا ہے۔

حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو بندہ پاک کمائی سے خیرات کرتا ہے ‘ اور اللہ صرف پاک (کمائی کی خیرات) کو ہی قبول فرماتا ہے اور آسمان کی طرف پاک (کلام ‘ عمل ‘ خیرات) کو ہی عروج نصیب ہوتا ہے تو وہ گویا اس خیرات کو اللہ کے ہاتھ میں رکھتا ہے ‘ اللہ اپنے ہاتھ میں اس کو (اس طرح) بڑھاتا ہے جس طرح تم اپنے بچے کو (اس کی پشت پر ہاتھ پھیر پھیر کر) پرورش کرتے ہو یہاں تک کہ ایک لقمہ قیامت کے دن بڑے پہاڑ کے برابر ہو کر سامنے آئے گا۔ یہ فرمانے کے بعد حضور (ﷺ) نے آیت اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَأخُذُ الصَّدَقٰتِ تلاوت فرمائی۔ رواہ الشافعی۔

صحیحین کی روایت بھی اسی روایت کی ہم معنی ہے ‘ اس میں اتنا اور ہے کہ جو شخص پاک کمائی سے ایک چھوارے برابر خیرات کرتا ہے اور اللہ پاک کو ہی قبول کرتا ہے تو اللہ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کو قبول فرما لیتا ہے الخ۔

وان اللہ ھو التواب الرحیم اور اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے۔ یعنی توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرنا اور ان پر مہربانی کرنا اس کی شان ہے۔

At-Tawba 9:104Listen in Qur'an →
105

وَقُلِ ٱعْمَلُوا۟ فَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُۥ وَٱلْمُؤْمِنُونَ ۖ وَسَتُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

اور ان سے کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔ اور تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تم کو بتا دے گا

وقل اور آپ کہہ دیجئے۔ یہ خطاب رسول اللہ (ﷺ) کو ہے ‘ یا سب لوگوں کو۔

اعملوا (جو چاہو) کرو۔

فسیری اللہ عملکم اللہ تمہارے (اچھے برے) عمل کو دیکھ لے گا ‘ اس سے کچھ پوشیدہ نہیں ہے۔

ورسولہ والمؤمنون اور اللہ کا رسول اور مسلمان بھی (دیکھ لیں گے) جو چیز تم چھپاؤ گے ‘ اللہ وحی کے ذریعے سے اپنے رسول پر اس کا اظہار کر دے گا اور پھر مسلمان بھی واقف ہوجائیں گے۔

مجاہد نے کہا : یہ دھمکی ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کے دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ اپنے نبی کو اطلاع دے دے گا اور مؤمنوں کی واقفیت اس طرح ہوگی کہ اللہ ان کے دلوں میں اہل صلاح کی محبت پیدا کر دے گا اور جو لوگ مفسد ہوں گے ‘ ان کی نفرت اہل ایمان کے دلوں میں ڈال دے گا۔

وستر دون الی علم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون۔ اور ضرور تم کو ایسے کے پاس لے جایا جائے گا جو تمام کھلی اور چھپی چیزوں کا جاننے والا ہے ‘ سو وہ تم کو تمہارا سب کیا ہوا بتا دے گا۔

At-Tawba 9:105Listen in Qur'an →
106

وَءَاخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ ٱللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا کام خدا کے حکم پر موقوف ہے۔ چاہے ان کو عذاب دے اور چاہے ان کو معاف کر دے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

واخرون مرجون لامر اللہ اما یعذبھم واما یتوب علیھم اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک ملتوی ہے کہ ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا۔ یعنی مدینہ کے رہنے والے ان لوگوں میں سے جو تبوک کے جہاد پر نہیں گئے ‘ کچھ اور لوگ ہیں جن کا فیصلہ اللہ کے حکم آنے تک ڈھیل میں پڑا ہوا ہے۔ وہ چاہے تو عذاب دے ‘ اس کو صغیرہ گناہ پر بھی عذاب دینے کا اختیار ہے اور چاہے تو بغیر توبہ کے معاف کر دے ‘ وہ کبیرہ گناہوں کو بھی بغیر توبہ کے معاف کرسکتا ہے ‘ کوئی چیز اس پر لازم نہیں ہے ‘ لہٰذا بندوں کو امید بھی رکھنی چاہئے اور ڈرتے بھی رہنا چاہئے (ا اللہ کو تو کسی کو عذاب دینے یا بخش دینے میں کوئی تردد ہو نہیں سکتا ‘ اس کا علم تو یقینی ہے کہ کس کو معاف کرے گا اور کس کو سزا دے گا ۔ شک تو بندوں کے علم میں ہوتا ہے اور عذاب و مغفرت میں تردد تو بندوں کو ہی ہونا چاہئے ‘ اسلئے آیت میں) لفظ اِمَّا کا استعمال بندوں کے لحاظ سے کیا گیا ہے (یعنی اِمَّاشک و تردد کے موقع پر آتا ہے اور بندوں کو مغفرت و عذاب میں تردد ہو سکتا ہے ‘ اسلئے انہی کے علم کی مناسبت سے لفظ اِمَّا ذکر کیا گیا) ۔

وا اللہ علیم حکیم۔ اور اللہ (ان کے احوال کو) خوب جاننے والا ہے اور (جو سلوک ان سے کرے گا اس کی) مصلحت سے بھی وہی واقف ہے۔ شیخین نے حضرت کعب بن مالک کی روایت سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِسے مراد کعب بن مالک ‘ ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع ہیں۔ یہ ان دس آدمیوں میں سے تھے جو تبوک میں شریک نہیں ہوئے تھے اور مسجد کے ستونوں سے بھی انہوں نے اپنے آپ کو بندھوایا نہ تھا (مگر اپنے جرم کا کھل کر اقرار کرلیا تھا ‘ کوئی بہانہ نہیں کیا تھا) رسول اللہ (ﷺ) نے مسلمانوں کو حکم دے دیا تھا کہ ان تینوں حضرات سے سلام کلام ترک کردیں۔ ان حضرات نے جب سلوک دیکھا تو خلوص نیت کے ساتھ تائب ہوگئے اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا۔ آخر اللہ نے ان پر رحم کیا (اور ان کا قصور بھی معاف کردیا گیا) ہم ان کا قصہ آگے لکھیں گے۔

محمد بن اسحاق نے حضرت ابو رہم کلثوم بن حصین غفاری کی روایت سے بیان کیا ہے۔ حضرت ابو رہم ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے حضور (ﷺ) کے دست مبارک پر (تجدید) بیعت کی تھی۔

ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ نیز ابن المنذر نے حضرت سعید بن جبیر کی روایت سے اور محمد بن عمر نے یزید بن رومان کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ عمرو بن عوف کے قبیلہ نے ایک مسجد تعمیر کی اور رسول اللہ (ﷺ) کے پاس آدمی کو بھیجا کہ آپ (ﷺ) تشریف لا کر اس مسجد میں نماز پڑھیں۔ غنم بن عوف کے قبیلہ نے جب یہ بات دیکھی تو ان کو حسد ہوا اور انہوں نے کہا : ہم بھی ایک مسجد بنائیں گے جیسی انہوں نے بنائی ہے (بات یہ ہوئی تھی کہ) شام کو روانہ ہونے سے پہلے ابو عامر فاسق نے ان سے کہا تھا : تم لوگ ایک مسجد تعمیر کرو اور جتنے اسلحہ ممکن ہوں اس میں (پوشیدہ طور پر) جمع کرلو۔ میں قیصر روم کے پاس جا رہا ہوں ‘ وہاں سے رومیوں کا ایک لشکر لا کر محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کو یہاں سے نکال باہر کر دوں گا۔ ابو عامر فاسق اللہ اور رسول (ﷺ) کے خلاف بغاوت کر کے رسول اللہ (ﷺ) سے لڑنے کے ارادہ سے مدینہ سے گیا تھا ‘ چناچہ یہ لوگ ابو عامر کے آنے (اور رومیوں کا لشکر ساتھ لانے) کے انتظار میں تھے۔ مسجد تیار ہوگئی تو انہوں نے چاہا کہ رسول اللہ (ﷺ) اس میں نماز پڑھیں تاکہ ان کا جو مقصد تھا یعنی فساد ‘ کفر اور اسلام سے عناد ‘ اس کو کامیاب ہونے کا موقع مل جائے۔ جب رسول اللہ (ﷺ) تبوک کو روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے کہ ان کی طرف سے کچھ لوگوں نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! ہم نے ایک مسجد بنائی ہے۔ …

At-Tawba 9:106Listen in Qur'an →
107

وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مَسْجِدًۭا ضِرَارًۭا وَكُفْرًۭا وَتَفْرِيقًۢا بَيْنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًۭا لِّمَنْ حَارَبَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ مِن قَبْلُ ۚ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَآ إِلَّا ٱلْحُسْنَىٰ ۖ وَٱللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ

اور (ان میں سے ایسے بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنوائی کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لیے گھات کی جگہ بنائیں۔ اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصود تو صرف بھلائی تھی۔ مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں

والذین اتخذوا مسجدًا اضرارًا اور بعض لوگ ایسے ہیں جنہوں نے (اسلام کو) ضرر پہنچانے کیلئے مسجد بنائی ہے۔ یعنی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کیلئے۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ بارہ آدمیوں نے اس مسجد کی تعمیر کی تھی : (1) قبیلۂ بنی عبید بن زید کا حذام بن خالد ‘ یہ بنی عمرو بن عوف کا ایک فرد تھا (2) قبیلۂ بنی امیہ بن زید کا ثعلبہ بن حاطب (3) بنی صبیعہ بن زید کا معتب بن قشیر (4) حبیبہ بن ازعر اور (5) نبتل بن حارث (6) نجاد بن عثمان اور (7) قبیلۂ بنی عمرو بن عوف کا عباد بن حنیف جو سہل بن حنیف کا بھائی تھا اور (8) حارثہ بن عامر اور اس کے دونوں بیٹے (9) مجمع بن حارثہ اور (10) زید بن حارثہ اور (11) ودیعہ بن ثابت اور ایک اور شخص جس کو (12) بخرج کہا جاتا تھا۔ ان سب نے اس مسجد کی تعمیر مسجد قبا کو ضرر پہنچانے کیلئے کی تھی۔

وکفرًا اور اللہ و رسول کا انکار کرنے کے سبب۔

وتفریقًا بین المؤمنین اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کیلئے۔ مسلمان مسجد قبا میں نماز پڑھتے تھے ‘ مجمع بن حارثہ نماز پڑھتا تھا۔ ان لوگوں نے دوسری مسجد اس غرض سے بنائی کہ (مسجد قبا میں نماز پڑھنے والے) کچھ لوگ اس مسجد میں نماز پڑھنے لگیں اور اس طرح (دین کے نام پر) مسلمانوں کے ٹکڑے ہوجائیں اور اختلاف پیدا ہوجائے۔

وارصادًا لمن حارب اللہ و رسولہ من قبل اور اس شخص کے قیام کا سامان کرنے کیلئے جو پہلے سے ہی اللہ اور اس کے رسول کا مخالف تھا۔

بغوی نے لکھا ہے : مَنْ حَارَبَ اللّٰہَ سے مراد ابو عامر راہب ہے جو حضرت حنظلہ غسیل الملائکہ کا باپ تھا اور قبیلۂ بنی عمرو بن عوف کا ایک فرد تھا۔ اسلام آنے سے پہلے یہ شخص کمبل پوش عیسائی راہب ہوگیا تھا۔ جب رسول اللہ (ﷺ) مدینہ میں تشریف لائے تو ابو عامر نے پوچھا : آپ یہ کیا مذہب لے کر آئے ہیں ؟ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : یہ خالص دین توحید ہے جو ابراہیم کا دین تھا۔ ابو عامر نے کہا : دین حنیفیت پر تو میں ہوں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : تم دین حنیفیت (دین ابراہیمی) پر نہیں ہو۔ ابوعامر نے کہا : کیوں نہیں (میں یقیناً دین ابراہیمی پر ہوں) آپ نے حنیفیت کے اندر دوسری چیزوں کو شامل کرلیا ہے۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : میں نے ایسا نہیں کیا ‘ میں تو خالص ‘ نکھری ہوئی ‘ روشن شریعت لے کر آیا ہوں۔ ابو عامر نے کہا : تو ہم میں سے جو جھوٹا ہو ‘ خدا کرے وہ یکہ و تنہا ‘ خانہ بدر ‘ مسافرت کی حالت میں مرے۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : اللہ ایسا ہی کرے۔ حضور (ﷺ) نے (بجائے راہب کے) اس کا نام ابو عامر فاسق رکھ دیا۔ احد کی لڑائی کے دن ابو عامر نے رسول اللہ (ﷺ) سے کہا تھا : جو قوم بھی آپ سے لڑے گی ‘ میں اس کے ساتھ مل کر آپ سے لڑوں گا۔ چناچہ جنگ حنین تک وہ برابر رسول اللہ (ﷺ) کے خلاف دوسری قوموں سے مل کر لڑتا رہا۔ ہوازن کی شکست کے بعد شام بھاگ گیا اور منافقوں کو یہ پیام بھیجا گیا کہ تم لوگ تیار رہنا۔ ایک مسجد بنا کر جس قدر اسلحہ ہو سکیں ‘ اس میں جمع رکھنا۔ میں قیصر روم کے پاس جا رہا ہوں ‘ وہاں سے رومیوں کا ایک لشکر لا کر محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کو نکال باہر کر دوں گا۔ ابو عامر کے مشورہ کے موافق ان لوگوں نے مسجد قبا کے برابر ایک مسجد بنا لی۔ مِنْ قَبْلُسے مراد یا تو یہ معنی ہیں کہ مسجد بنانے سے پہلے اس شخص نے اللہ اور رسول (ﷺ) کے خلاف بغاوت اور جنگ کی تھی ‘ یا یہ مطلب ہے کہ تبوک کے جہاد سے غیر حاضر ہونے سے پہلے ہی انہوں نے مسجد بنا لی تھی۔ اوّل مطلب پر مِنْ قَبْلُکا تعلق حارَبَ سے اور دوسری صورت میں اتّخذوا سے ہوگا۔

ولیحلفن ان اردنا الا الحسنٰی اور یہ لوگ قسمیں کھائیں گے کہ سوائے بھلائی کے ہماری اور کچھ نیت نہیں۔

الحسنٰی بھلائی یعنی سخت گرمی اور بارش میں مسلمانوں کا آرام اور جو ضعیف و کمزور رسول اللہ (ﷺ) کی مسجد تک نہ پہنچ سکتے ہوں ‘ ان کیلئے سہولت ہمارے پیش نظر تھی۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے عوفی کی سند …

At-Tawba 9:107Listen in Qur'an →
108

لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًۭا ۚ لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى ٱلتَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِجَالٌۭ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا۟ ۚ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُطَّهِّرِينَ

تم اس (مسجد) میں کبھی (جاکر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو کہ پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے

لا تقسم فیہ ابدًا آپ (نماز کیلئے) اس میں کبھی نہ کھڑے ہوں۔ حضرت ابن عباس نے تفسیری مطلب یہی فرمایا۔

ابن النجار نے کہا : منافقوں نے یہ مسجد قبا والی مسجد کے مقابلہ میں بنائی تھی۔ سب وہاں جمع ہوتے اور رسول اللہ (ﷺ) کی برائی کرتے اور آپ کا مذاق بناتے تھے۔ جب (تبوک سے واپسی میں) رسول اللہ (ﷺ) مقام ذی اوان میں تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن اسحاق نے بسلسلۂ زہری حضرت ابو رہم کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے بنی سالم بن عوف کے مالک بن دخشم کو اور قبیلۂ عاصم بن عدی کے معن بن عدی کو طلب فرمایا۔ بغوی نے مالک بن دخشم کے ساتھ عامر بن اسکن اور حضرت حمزہ کے قاتل وحشی کا بھی ذکر کیا ہے ‘ عاصم کا ذکر نہیں کیا اور ذہبی نے التجرید میں سوید بن عباس انصاری کا نام بھی بیان کیا ہے اور فرمایا : حق ناشناس لوگوں کی بنائی ہوئی اس مسجد کو جا کر ڈھا دو اور جلادو۔ حسب الحکم یہ حضرات تیزی کے ساتھ چلے گئے اور سالم بن عوف کے محلہ میں پہنچ کر مالک نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا : آپ لوگ میرا انتظار کریں ‘ میں آتا ہوں۔ یہ کہہ کر اپنے گھر جا کر کھجور کی کچھ خشک ٹہنیاں لے کر ان میں آگ لگائی ‘ پھر سب حضرات دوڑ کر مغرب و عشاء کے درمیان مسجد میں پہنچے ‘ اس وقت مسجد والے مسجد میں موجود تھے۔ ان حضرات نے مسجد کو آگ لگا دی اور ڈھا کر زمین کے برابر کردیا۔ اہل مسجد ادھر ادھر منتشر ہوگئے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے حکم دیا : اس جگہ کوڑا گھر بنا دیا جائے جہاں مرد اور جانور اور غلاظتیں ڈالی جائیں۔ ابو عامر فاسق ملک شام میں یکہ و تنہا ‘ خانہ برباد ‘ مسافت کی حالت میں مر گیا۔

محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺ) مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے عاصم بن عدی کو پیشکش کی کہ اس مسجد کے مقام پر وہ اپنا مکان بنا لیں۔ حضرت عاصم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اس مسجد کے بارے میں اللہ نے جو حکم نازل فرمایا ہے ۔ اس کے بعد تو میں اس میں مکان نہیں بنا سکتا۔ البتہ ثابت بن اقرم کو یہ جگہ عنایت فرما دیجئے ‘ ان کے پاس کوئی مکان نہیں ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ثابت کو وہ جگہ عطا فرما دی لیکن اس مکان میں ثابت کا کوئی بچہ پیدا نہ ہوا۔ نہ کسی کبوتر نے وہاں بچہ نکالا نہ کسی مرغی نے انڈے سیئے (یعنی انڈوں پر بیٹھ کر بچہ نہیں نکالا) ۔

بغوی نے بیان کیا : روایت میں آیا ہے کہ بنی عمرو بن عوف جنہوں نے مسجد قبا بنائی تھی ‘ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی کہ مجمع بن حارثہ کو ان کی مسجد میں امام بنا دیں۔ حضرت عمر نے انکار کردیا اور فرمایا : (اس کی) آنکھ ٹھنڈی نہ ہو ‘ کیا یہ مسجد ضرار میں امام نہ تھا ؟ حضرت مجمع نے عرض کیا : امیر المؤمنین ! میرے خلاف فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کیجئے۔ میں نے مسجد ضرار میں نماز ضرور پڑھی تھی لیکن مجھے معلوم نہ تھا کہ ان لوگوں کی نیت کیا ہے۔ اگر مجھے ان کا مخفی ارادہ معلوم ہوتا تو میں وہاں نماز نہیں پڑھتا۔ میں لڑکا تھا مگر قرآن پڑھا ہو اور وہ لوگ بوڑھے تھے مگر ناخواندہ ‘ اسلئے میں نے نماز پڑھا دی۔ میں یہ ہی خیال کرتا تھا کہ تعمیر مسجد سے ان کی غرض حصول ثواب ہے ‘ ان کے دلوں کے خیالات کا مجھے علم نہ تھا۔ حضرت عمر نے حضرت مجمع کے اس عذر کو قبول فرما لیا اور ان کے بیان کی تصدیق کی اور ان کو مسجد قبا میں نماز پڑھانے کا حکم دے دیا۔

لمسجد اسس علی التقویٰ من اول یوم احق ان تقوم فیہ پہلے دن سے جس مسجد کی بنیاد تقوے پر رکھی گئی اس میں نماز پڑھنی بلاشبہ تمہارے لئے زیادہ مناسب ہے۔ پہلے دن سے مراد ہے تعمیر و تاسیس کا پہلا دن ‘ یا ہجرت کے بعد رسول اللہ (ﷺ) کے مدینہ میں فروکش ہونے کا پہلا دن۔ کذا قال السہیلی۔ حضرت ابن عمر ‘ حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابوسعید خدری نے فرمایا : لَمَسْجِدٌسے مراد مسجد نبوی ہے ‘ یعنی مدینہ والی مسجد۔ امام احمد ‘ ابن ابی شیبہ ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابو یعلی ‘ ابن جریر ‘ ابن …

At-Tawba 9:108Listen in Qur'an →
109

أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَٰنَهُۥ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَٰنَهُۥ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍۢ فَٱنْهَارَ بِهِۦ فِى نَارِ جَهَنَّمَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری اور خدا ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا

افمن اسس بنیانہ علی تقوی من اللہ ورضوان خیر ام من اسس بنیانہ علی شفاجرف ھارٍ فانھا ربہ فی نار جھنم پھر کیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت (مسجد) کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی یا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی (غار) کے کنارے پر جو کہ گرنے ہی کو ہو ‘ رکھی پھر وہ عمارت اپنے بنانے والے کو لے کر دوزخ کی آگ میں گر پڑی۔

اَفَمَنْ میں سوال تقریری ہے اور جواب چونکہ واضح تھا ‘ اسلئے اس کو ذکر نہیں کیا۔ بُنْیَانَہٗ سے مراد ہے اپنے دین کی بنیاد یا اپنی عمارت کی بنیاد۔ عَلی اتقوٰی یعنی اللہ کے خوف اور اللہ کی رضا جوئی کی مضبوط دیواروں اور بنیادوں پر۔ عَلٰی شفاجُرُفٍ یعنی کمزور ترین بنیادوں اور ضعیف ترین دیواروں پر۔ شفا ۔ شفیر ۔ جرف سب کا معنی ہے کنارہ ‘ یعنی کسی وادی اور نالہ کا وہ کنارہ جس کے اندر سیلاب کی وجہ سے خلا پیدا ہوگیا ہو اور کنارے کی نوک باہر کو نکل آئی ہو۔ ہَارٍپھٹا ہوا جو گرنے کے قریب ہو۔ ہَارٍکی اصل ھَوِرٌ اور بقول بغوی ہائرتھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ لفظ ہار یَھَارٌسے مشتق ہے۔ ہارَکا معنی ہے : گر گیا ‘ ڈھ گیا۔ اس جگہ ہارٍ سے مراد ہے : وہ کنارہ جو گر پڑنے کے قریب ہو۔

مطلب یہ ہے کہ جس نے مضبوط بنیادوں پر یعنی اللہ کے خوف اور رضا جوئی پر اپنی عمارت کی تاسیس کی ‘ وہ بہتر ہے یا وہ شخص بہتر ہے جس نے کمزور ترین بنیادوں پر یعنی باطل اور نفاق پر اپنی عمارت اٹھائی۔ تقویٰ کی ضد شرک و نفاق ہے ‘ اسلئے شفاجُرُفٍ سے بطور کنایہ شریک و نفاق مراد ہے۔ فَانْھَارَ بِہٖ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی ان کا نفاق ان کو جہنم میں لے گیا۔ بغوی نے کہا : مراد یہ ہے کہ اس مسجد کی بناء نقصان رسانی کیلئے ایسی ہے جیسے جہنم کے آخری کنارہ (کڑاڑہ) پر تعمیر کی گئی ہو کہ کنارہ ڈھ کر اوپر عمارت بنانے والوں کو جہنم میں لے گرے گا۔

محمد بن یوسف صالحی نے ابن عطیہ کا قول نقل کیا ہے ‘ مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے فرمایا : وہ مسجد جس کی بناء و تاسیس تقویٰ پر قرار دی گئی ہے ‘ اس سے مراد رسول اللہ (ﷺ) کی مسجد ہے اور اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی تَقْوٰی مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ میں بینانِ سے مراد مسجد قبا ہے اور اَمْ مَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَاجُرُفٍ میں بنیانٍ سے مراد بالاجماع مسجد ضرار ہے۔

وا اللہ لا یھدی القوم الظالمین۔ اور اللہ ایسے ظالموں (کافروں) کو ہدایت نہیں فرماتا ‘ یعنی صلاح و نجات کا راستہ نہیں بتاتا۔

ابن المنذر نے حضرت سعید بن جبیر اور قتادہ اور جریج کا قول نقل کیا ہے ‘ نیز ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ کی روایت بیان کی ہے۔ ان تینوں حضرات کا بیان ہے : ہم سے ذکر کیا گیا کہ مسجد ضرار میں جب ایک جگہ کھو دی گئی تو لوگوں نے وہاں سے دھواں نکلتا دیکھا۔ بغوی نے حضرت جابر بن عبد اللہ کا بیان نقل کیا ہے ‘ آپ نے فرمایا : میں نے مسجد ضرار سے دھواں نکلتے دیکھا۔

At-Tawba 9:109Listen in Qur'an →
110

لَا يَزَالُ بُنْيَٰنُهُمُ ٱلَّذِى بَنَوْا۟ رِيبَةًۭ فِى قُلُوبِهِمْ إِلَّآ أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ ان کے دل پاش پاش ہو جائیں اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

لا یزال بینانھم الذی بنوا ریبۃ فی قلوبھم وہ عمارت جو انہوں نے بنائی ‘ ہمیشہ ان کے دلوں میں (کانٹا بن کر) کھٹکتی رہے گی۔ ریبۃً سے مراد ہے : شک و نفاق ‘ یعنی یہ عمارت ان کے دلوں میں شک و نفاق کے ترقی کرنے کا سبب بنی رہے گی اور وہ برابر یہی خیال کرتے رہیں گے کہ ہم نے یہ بھلائی کا کام کیا ‘ جیسے حضرت موسیٰ کی قوم کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ گئی تھی (اسی طرح اس مسجد ضرار کی محبت ان منافقوں کے دلوں میں جم گئی ہے) حضرت ابن عباس نے یہی تفسیر فرمائی ہے۔ کلبی نے ریبۃً کا ترجمہ کیا : حسرت و پشیمانی ‘ کیونکہ ان لوگوں کو اس مسجد کی تعمیر پر پشیمانی ہوگئی تھی۔ سدی نے ریبۃً کا معنی کیا : غیظاً ‘ یعنی اس عمارت کو ڈھا دینا ہمیشہ ان کے دلوں کے اندر غصہ اور غضب کو بھڑکاتا رہے گا۔

الا ان تقطع قلوبھم ہاں ان کے دل پارہ پارہ ہوجائیں (تو شک و نفاق ان کے دلوں سے ختم ہوجائے گا) یعنی نفاق برابر ہر وقت ان کے دلوں میں جما رہے گا ‘ مگر اس وقت ختم ہوگا کہ ان کے دل ہی پھٹ جائیں اور ایسا وقت آجائے کہ ان کے دلوں میں جاننے کی صلاحیت ہی نہ رہے۔ بعض علماء نے کہا : دلوں کے پارہ پارہ ہونے سے مراد ہے : منافقوں کا قتل ہونا ‘ یا قبر میں چلا جانا ‘ یا دوزخ میں پہنچ جانا۔ ضحاک اور قتادہ نے کہا : مرتے دم تک یہ شک میں پڑے رہیں گے ‘ مر جائیں گے تو شک دور ہوگا اور حقیقت کا یقین ہوگا۔

وا اللہ علیم حکیم۔ اور اللہ (ان کی نیتوں کو) جاننے والا ہے (اور مسجد ضرار کو گرا دینے کا جو حکم اس نے دیا ‘ اس کی مصلحت سے واقف ہے) ۔

اہل سیر نے بیان کیا ہے کہ بعثت کے گیا رھویں سال حج کے زمانہ میں رسول اللہ (ﷺ) باہر نکلے ‘ یعنی مکہ سے برآمد ہوئے اور قبائل عرب پر اپنی نبوت پیش کی۔ ایک روز گھاٹی کے پاس تھے کہ قبیلۂ خزرج کی ایک جماعت سے ملاقات ہوگئی۔ حضور (ﷺ) نے پوچھا : آپ لوگ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : خزرج کے لوگ ہیں۔ فرمایا : کیا (کچھ دیر) بیٹھ سکتے ہو ‘ میں تم سے کچھ بات کروں گا۔ خزرجیوں نے جواب دیا : بیشک۔ چناچہ حضور (ﷺ) کے ساتھ سب بیٹھ گئے۔ آپ نے ان کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی ‘ اسلام پیش کیا اور قرآن پڑھ کر سنایا۔

اللہ کی قدرت کہ یہودی ان لوگوں کے ساتھ ان بستیوں میں رہتے تھے اور اہل کتاب تھے۔ اوس و خررج تعداد میں یہودیوں سے زائد تھے مگر سب بت پرست تھے۔ یہودیوں سے جب ان لوگوں کا کچھ جھگڑا ہوا تھا تو یہودی کہتے تھے : ایک نبی کی بعثت اب ہونے ہی والی ہے ‘ اس کی بعثت کا زمانہ قریب آپہنچا ہے۔ ہم اس کے ساتھ مل کر تم کو قتل کریں گے۔

جب رسول اللہ (ﷺ) نے ان لوگوں سے بات کی تو وہ آپ کے اوصاف کو پہچان گئے (کیونکہ یہودیوں کی زبانی آنے والے پیغمبر کے اوصاف کا ان کو علم پہلے ہی سے تھا) اور آپس میں کہنے لگے : دیکھو ! یہودی ان کے پاس تم سے پہلے نہ پہنچنے پائیں۔ چناچہ سب نے رسول اللہ (ﷺ) کی دعوت کو قبول کرلیا اور قبیلۂ خزرج کے چھ آدمی مسلمان ہوگئے : اسعد بن زرارہ ‘ عوف بن حارث جن کی والدہ کا نام عفراء تھا ‘ رافع بن مالک ‘ قطبہ بن عامر بن جدیدہ ‘ عقبہ بن عامر بن نابی ‘ جابر بن عبد اللہ بن رباب۔ بعض روایات میں جابر کی جگہ عبادہ بن صامت کا نام آیا ہے۔ بعض نے سات آدمیوں کے مسلمان ہونے کی صراحت کی ہے ‘ گویا جابر اور عبادہ دونوں کو جمع کیا ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : کیا تم میری پشت پناہی کرو گے کہ میں اپنے رب کا پیام پہنچا سکوں۔ ان لوگوں نے عرض کیا : (یا رسول اللہ (ﷺ) ! ) پچھلے سال ہی جنگ بعاث ہمارے آپس میں ہوچکی ہے ‘ اس روز ہم نے آپس میں خوب کشت و خون کیا تھا ۔ اگر ایسی حالت میں آپ ہمارے ہاں تشریف لائیں گے تو ہماری پوری جماعت آپ کے ساتھ نہ ہو سکے گی۔ اب تو آپ ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم لوگ اپنے قبائل میں لوٹ کر چلے جائیں ‘ ممکن ہے کہ اللہ ہماری باہم صلح کرا دے اور ہم ان لوگوں کو اسی چیز کی دعوت دیں جس چیز کی طرف آپ …

At-Tawba 9:110Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.