Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 61–70 of 75

61

۞ وَإِن جَنَحُوا۟ لِلسَّلْمِ فَٱجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے

آیت 61 وَاِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا اگر مخالف فریق صلح پر آمادہ نظر آئے تو آپ ﷺ بھی امن کی خاطر مناسب شرائط پر ان سے صلح کرلیں۔وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِط اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ یعنی آپ ﷺ ان کی منفی چالوں سے فکر مند نہ ہوں ‘ اللہ پر توکل رکھیں اور صلح کا جواب صلح سے ہی دیں۔

Al-Anfaal 8:61Listen in Qur'an →
62

وَإِن يُرِيدُوٓا۟ أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ ٱللَّهُ ۚ هُوَ ٱلَّذِىٓ أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِۦ وَبِٱلْمُؤْمِنِينَ

اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہیں کفایت کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی

آیت 62 وَاِنْ یُّرِیْدُوْٓا اَنْ یَّخْدَعُوْکَ فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ ط۔گویا ان کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے خلاف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضمانت دی جا رہی ہے۔ہُوَ الَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ یہ نکتہ قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی مدد اہل ایمان کے ذریعے سے کی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے آپ ﷺ کو ایسے مخلص اور جاں نثار صحابہ عطا کیے کہ جہاں آپ ﷺ کا پسینہ گرا وہاں انہوں نے اپنے خون کی ندیاں بہا دیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس خصوصی امداد کی شان اس وقت خوب نکھر کر سامنے آتی ہے جب ہم محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رض کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کا طرز عمل دیکھتے ہیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لوگوں سے فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلو ‘ تو انہوں نے صاف کہہ دیا تھا : فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوْنَ المائدۃ تو جایئے آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا رب دونوں جا کر لڑیں ‘ ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بیزاری سے یہاں تک کہہ دیا تھا : رَبِّ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ الاَّ نَفْسِیْ وَاَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ اے میرے رب ! میں تو اپنی جان اور اپنے بھائی کے علاوہ کسی پر کوئی اختیار نہیں رکھتا ‘ لہٰذا آپ ہمارے اور اس فاسق قوم کے درمیان علیحدگی کردیں۔ایک طرف یہ طرز عمل ہے جبکہ دوسری طرف نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کا انداز اخلاص اور جذبہ جاں نثاری ہے۔ غزوۂ بدر سے پہلے جب حضور ﷺ نے مقام صفراء پر صحابہ رض سے مشاورت کی اور یہ بڑی کانٹے دار مشاورت تھی تو کچھ لوگ مسلسل زور دے رہے تھے کہ ہمیں قافلے کی طرف چلنا چاہیے اور وہ اپنے اس موقف کے حق میں بڑی زور دار دلیلیں دے رہے تھے ‘ مگر حضور ﷺ ہر بار فرما دیتے کہ کچھ اور لوگ بھی مشورہ دیں ! اس پر مہاجرین میں سے حضرت مقداد رض نے کھڑے ہو کر یہی بات کی تھی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! جدھر آپ کا رب آپ کو حکم دے رہا ہے اسی طرف چلئے ‘ آپ ہمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کی طرح نہ سمجھئے ‘ جنہوں نے کہہ دیا تھا : فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوْنَ ۔ ہم آپ ﷺ کے ساتھی ہیں ‘ آپ ﷺ جو حکم دیں ہم حاضر ہیں۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رض نے بھی اظہار خیال فرمایا ‘ لیکن حضور ﷺ انصار کی رائے معلوم کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے کہ بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر انصار نے یہ وعدہ کیا تھا کہ مدینہ پر حملہ ہوا تو ہم آپ ﷺ کی حفاظت کریں گے ‘ لیکن یہاں معاملہ مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنے کا تھا ‘ لہٰذا جنگ کا فیصلہ انصار کی رائے معلوم کیے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا۔ حضرت سعد بن معاذ رض نے آپ ﷺ کی منشا کو بھانپ لیا ‘ لہٰذا وہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ شاید آپ ﷺ کا روئے سخن ہماری انصار کی طرف ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ! اس پر انہوں نے کہا : لَقَدْ اٰمَنَّا بِکَ وَصَدَّقْنَاکَ۔۔ ہم آپ ﷺ پر ایمان لا چکے ہیں ‘ ہم آپ ﷺ کی تصدیق کرچکے ہیں ‘ ہم آپ ﷺ کو اللہ کا رسول مان چکے ہیں اور آپ ﷺ سے سمع وطاعت کا پختہ عہد باندھ چکے ہیں ‘ اب ہمارے پاس آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل کے علاوہ کوئی راستہ option نہیں ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ‘ اگر آپ اپنی سواری اس سمندر میں ڈال دیں گے تو ہم بھی آپ کے پیچھے اپنی سواریاں سمندر میں ڈال دیں گے۔ اور خدا کی قسم ‘ اگر آپ ﷺ ہمیں کہیں گے تو ہم برک الغماد یمن کا شہر تک جا پہنچیں گے ‘ چاہے اس میں ہماری اونٹنیاں لاغر ہوجائیں۔ ہم کو یہ ہرگز ناگوار نہیں ہے کہ آپ ﷺ کل ہمیں لے کر دشمن سے جا ٹکرائیں۔ ہم جنگ میں ثابت قدم رہیں گے ‘ مقابلہ میں سچی جاں نثاری دکھائیں گے ‘ اور بعید نہیں کہ اللہ آپ ﷺ کو ہم سے وہ کچھ …

Al-Anfaal 8:62Listen in Qur'an →
63

وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا مَّآ أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اور اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بےشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے

آیت 63 وَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْط لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیْنَہُمْ ط سورۂ آل عمران کی آیت 103 میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فضل خاص کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے : وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًاج وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْہَا ط اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ تم لوگ ایک دوسرے کے دشمن تھے ‘ پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں باہم الفت پیدا کردی تو اس کی نعمت سے تم بھائی بھائی بن گئے ‘ اور تم لوگ تو آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے جہاں سے اللہ نے تمہیں بچایا ہے۔

Al-Anfaal 8:63Listen in Qur'an →
64

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ حَسْبُكَ ٱللَّهُ وَمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اے نبی! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے

آیت 64 یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔اگر اس آیت کو پچھلی آیت کے ساتھ تسلسل سے پڑھا جائے تو اس کا ترجمہ یہی ہوگا جو اوپر کیا گیا ہے ‘ لیکن اس کا دوسرا ترجمہ یوں ہوگا : اے نبی ﷺ اللہ کافی ہے آپ کے لیے بھی اور جو آپ کی پیروی کرنے والے مسلمان ہیں ان کے لیے بھی۔ عبارت کا انداز ایسا ہے کہ اس میں یہ دونوں مفاہیم آگئے ہیں۔

Al-Anfaal 8:64Listen in Qur'an →
65

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ حَرِّضِ ٱلْمُؤْمِنِينَ عَلَى ٱلْقِتَالِ ۚ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَٰبِرُونَ يَغْلِبُوا۟ مِا۟ئَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةٌۭ يَغْلِبُوٓا۟ أَلْفًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ

اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو۔ اور اگر تم بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب رہیں گے۔ اور اگر سو (ایسے) ہوں گے تو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اس لیے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے

آیت 65 یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ ط۔ہجرت کے بعد 9 سال تک قتال کے لیے ترغیب ‘ تشویق اور تحریص کے ذریعے ہی زور دیا گیا۔ یہ تحریص گاڑھی ہو کر تحریض بن گئی۔ اس دور میں مجاہدین کی فضیلت بیان کی گئی ‘ ان سے بلند درجات کا وعدہ کیا گیا النساء : 95 مگر قتال کو ہر ایک کے لیے فرض عین قرار نہیں دیا گیا۔ لیکن 9 ہجری میں غزوۂ تبوک کے موقع پر جہاد کے لیے نکلنا تمام اہل ایمان پر فرض کردیا گیا۔ اس وقت تمام اہل ایمان کے لیے نفیر عام تھی اور کسی کو بلا عذر پیچھے رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا ماءَتَیْنِ ج وَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّاءَۃٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّ یَفْقَہُوْنَ ۔یہاں سمجھ نہ رکھنے سے مراد یہ ہے کہ انہیں اپنے موقف کی سچائی کا یقین نہیں ہے۔ ایک طرف وہ شخص ہے جسے اپنے نظریے اور موقف کی حقانیت پر پختہ یقین ہے ‘ اس کا ایمان ہے کہ وہ حق پر ہے اور حق کے لیے لڑ رہا ہے۔ دوسری طرف اس کے مقابلے میں وہ شخص ہے جو نظریاتی طور پر ڈانواں ڈول ہے ‘ کسی کا تنخواہ یافتہ ہے یا کسی کے حکم پر مجبور ہو کر لڑ رہا ہے۔ اب ان دونوں اشخاص کی کارکردگی میں زمین و آسمان کا فرق ہوگا۔ چناچہ کفار کو جنگ میں ثابت قدمی اور استقلال کی وہ کیفیت حاصل ہو ہی نہیں سکتی جو نظریے کی سچائی پر جان قربان کرنے کے جذبے سے پیدا ہوتی ہے۔ دونوں اطراف کے افراد کی نظریاتی کیفیت کے اسی فرق کی بنیاد پر کفار کے ایک سو افراد پر دس مسلمانوں کو کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے۔ اس کے بعد والی آیت اگرچہ زمانی لحاظ سے کچھ عرصہ بعد نازل ہوئی مگر مضمون کے تسلسل کے باعث یہاں شامل کردی گئی ہے۔

Al-Anfaal 8:65Listen in Qur'an →
66

ٱلْـَٰٔنَ خَفَّفَ ٱللَّهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًۭا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةٌۭ صَابِرَةٌۭ يَغْلِبُوا۟ مِا۟ئَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌۭ يَغْلِبُوٓا۟ أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اب خدا نے تم پر سے بوجھ ہلکا کر دیا اور معلوم کرلیا کہ (ابھی) تم میں کسی قدر کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے۔ اور اگر ایک ہزار ہوں گے تو خدا کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اور خدا ثابت قدم رہنے والوں کا مدد گار ہے

آیت 66 اَلْءٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا ط۔یہ کس کمزوری کا ذکر ہے اور یہ کمزوری کیسے آئی ؟ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ جہاں تک مہاجرین اور انصار میں سے ان صحابہ کرام رض کا تعلق ہے جو سابقون الاوّلُون میں سے تھے تو ان کے اندر معاذ اللہ کسی قسم کی بھی کوئی کمزوری نہیں تھی ‘ لیکن جو لوگ نئے مسلمان ہو رہے تھے ان کی تربیت ابھی اس انداز میں نہیں ہوپائی تھی جیسے پرانے لوگوں کی ہوئی تھی۔ ان کے دلوں میں ابھی ایمان پوری طرح راسخ نہیں ہوا تھا اور مسلمانوں کی مجموعی تعداد میں ایسے نئے لوگوں کا تناسب روز بروز بڑھ رہا تھا۔ مثلاً اگر پہلے ہزار لوگوں میں پچاس یا سو نئے لوگ ہوں تو اب ان کی تعداد خاصی زیادہ ہوتی جا رہی تھی۔ لہٰذا اوسط کے اعتبار سے مسلمانوں کی صفوں میں پہلے کی نسبت اب کمزوری آگئی تھی۔فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّاءَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا ماءَتَیْنِ ج وَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط اور اگر تم میں ایک ہزار ہوں گے تو وہ دو ہزار پر غالب آجائیں گے اللہ کے حکم سے۔

Al-Anfaal 8:66Listen in Qur'an →
67

مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ ٱلدُّنْيَا وَٱللَّهُ يُرِيدُ ٱلْءَاخِرَةَ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے

آیت 67 مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ ط۔یہ آیت غزوۂ بدر میں پکڑے جانے والے قیدیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ غزوۂ بدر میں قریش کے ستر لوگ قیدی بنے۔ ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رض سے مشاورت کی۔ حضرت ابوبکر رض کی رائے تھی کہ ان لوگوں کے ساتھ نرمی کی جائے اور فدیہ وغیرہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے۔ خود حضور ﷺ چونکہ رؤف و رحیم اور رقیق القلب تھے اس لیے آپ ﷺ کی بھی یہی رائے تھی۔ مگر حضرت عمر رض اس اعتبار سے بہت سخت گیر تھے اَشَدُّ ھُمْ فِی اَمْرِ اللّٰہِ عُمَرِ ۔ آپ رض کی رائے یہ تھی کہ یہ لوگ آزاد ہو کر پھر کفر کے لیے تقویت کا باعث بنیں گے ‘ اس لیے جب تک کفر کی کمر پوری طرح ٹوٹ نہیں جاتی ان کے ساتھ نرمی نہ کی جائے۔ آپ رض کا اصرار تھا کہ تمام قیدیوں کو قتل کردیا جائے ‘ بلکہ مہاجرین اپنے قریب ترین عزیزوں کو خود اپنے ہاتھوں سے قتل کریں۔ بعد میں ان قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ ہوا اور اس پر عمل درآمد بھی ہوگیا۔ اس فیصلے پر اس آیت کے ذریعے گرفت ہوئی کہ جب تک باطل کی کمر پوری طرح سے توڑ نہ دی جائے اس وقت تک حملہ آور کفار کو جنگی قیدی بنانا درست نہیں۔ انہیں قیدی بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ زندہ رہیں گے ‘ اور آج نہیں تو کل انہیں چھوڑنا ہی پڑے گا۔ لہٰذا وہ پھر سے باطل کی طاقت کا سبب بنیں گے اور پھر سے تمہارے خلاف لڑیں گے۔ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَاق یہ فدیے کی طرف اشارہ ہے۔ اب نہ تو رسول اللہ ﷺ کی یہ نیت ہوسکتی تھی معاذ اللہ اور نہ ہی حضرت ابوبکر رض کی ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کا معاملہ ایسا ہے کہ اس کے ہاں جب اپنے مقرب بندوں کی گرفت ہوتی ہے تو الفاظ بظاہر بہت سخت استعمال کیے جاتے ہیں۔ چناچہ ان الفاظ میں بھی ایک طرح کی سختی موجود ہے ‘ لیکن ظاہر ہے کہ یہ بات نہ حضور ﷺ کے لیے ہے اور نہ حضرت ابوبکر رض کے لیے۔

Al-Anfaal 8:67Listen in Qur'an →
68

لَّوْلَا كِتَٰبٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَآ أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا

آیت 68 لَوْلاَ کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ۔اس سے مراد سورة محمد ﷺ کا وہ حکم ہے آیت 4 جو بہت پہلے نازل ہوچکا تھا۔ اس کی تفصیل ہم ان شاء اللہ سورة محمد ﷺ کے مطالعے کے دوران پڑھیں گے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حکم کی تعبیر interpretation میں کس طرح فدیہ لینے کی گنجائش نکالی تھی۔ یہ دراصل قانون کی تشریح و تعبیر کا معاملہ ہے۔ جیسا کہ سورة الزمر کی آیت 18 میں ارشاد ہے : الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ ط یعنی وہ لوگ جو کسی بات کو سن کر پیروی کرتے ہیں اس میں سے بہترین کی اور اس کے اعلیٰ ترین درجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چناچہ اس قانون کی تعبیر میں بھی ایسے ہی ہوا۔ چونکہ مذکورہ حکم کے اندر یہ گنجائش یا رعایت موجود تھی اس لیے حضور ﷺ نے اپنی طبیعت کی نرمی کے سبب اس کو اختیار فرما لیا۔ آیت زیر نظر کے اندر سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ سورة محمد ﷺ میں نازل شدہ حکم میں رعایت کی یہ گنجائش موجود تھی ‘ اسی لیے تو اس حکم کا حوالہ دے کر فرمایا گیا کہ اگر وہ حکم پہلے نازل نہ ہوچکا ہوتا تو جو بھی تم نے فدیہ وغیرہ لیا ہے اس کے باعث تم پر بڑا عذاب آتا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر رض اس آیت کے نزول کے بعد روتے رہے ہیں۔ بہر حال اس فیصلے میں کسی صریح حکم کی خلاف ورزی نہیں تھی اور جو بھی رائے اختیار کی گئی تھی وہ اجتہادی تھی اور آپ ﷺ نے اجتہاد کے ذریعے اس حکم میں سے نرمی اور رعایت کا ایک پہلو اختیار کرلیا تھا۔

Al-Anfaal 8:68Listen in Qur'an →
69

فَكُلُوا۟ مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَٰلًۭا طَيِّبًۭا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

تو جو مالِ غنیمت تمہیں ملا ہے اسے کھاؤ (کہ وہ تمہارے لیے) حلال طیب رہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

آیت 69 فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلاً طَیِّبًاز ایک مال غنیمت تو وہ تھا جو مسلمانوں کو عین حالت جنگ میں ملا تھا ‘ اور دوسرے اس مال کو بھی غنیمت قرار دے کر بلا کراہت حلال اور جائز قرار دے دیا گیا جو قیدیوں سے بطور فدیہ حاصل کیا گیا تھا۔

Al-Anfaal 8:69Listen in Qur'an →
70

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّمَن فِىٓ أَيْدِيكُم مِّنَ ٱلْأَسْرَىٰٓ إِن يَعْلَمِ ٱللَّهُ فِى قُلُوبِكُمْ خَيْرًۭا يُؤْتِكُمْ خَيْرًۭا مِّمَّآ أُخِذَ مِنكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اے پیغمبر جو قیدی تمہارے ہاتھ میں (گرفتار) ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کرے گا تو جو (مال) تم سے چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عنایت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

آیت 70 یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْٓ اَیْدِیْکُمْ مِّنَ الْاَسْرآیلا اس آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے پس منظر کے طور پر غزوۂ بدر کے قیدیوں کے بارے میں دو باتیں ذہن میں رکھیے۔ ایک تو ان قیدیوں میں بہت سے وہ لوگ بھی شامل تھے جو اپنی مرضی سے جنگ لڑنے نہیں آئے تھے۔ وہ اپنے سرداروں کے دباؤ یا بعض دوسری مصلحتوں کے تحت بادل نخواستہ جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ دوسری اہم بات ان کے بارے میں یہ تھی کہ ان میں سے بہت سے لوگ بعض مسلمانوں کے بہت قریبی رشتہ دار تھے۔ خود نبی اکرم ﷺ کے حقیقی چچا حضرت عباس رض بن عبدالمطلب بھی ان قیدیوں میں شامل تھے۔ ان کے بارے میں گمان غالب یہی ہے کہ وہ ایمان تو لا چکے تھے مگر اس وقت تک انہوں نے اپنے ایمان کا اعلان نہیں کیا تھا۔ روایات میں ہے کہ حضرت عباس رض جن رسیوں میں بندھے ہوئے تھے ان کے بند بہت سخت تھے۔ وہ تکلیف کے باعث بار بار کراہتے تو حضور ﷺ ان کی آواز سن کر بےچین ہوجاتے تھے ‘ مگر قانون تو قانون ہے ‘ لہٰذا آپ ﷺ نے ان کے لیے کسی رعایت کی خواہش کا اظہار نہیں فرمایا۔ مگر جب ان کی تکلیف طبیعت پر زیادہ گراں گزری تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ تمام قیدیوں کے بند ڈھیلے کردیے جائیں۔ اسی طرح آپ ﷺ کے داماد ابوالعاص بھی قید ہو کر آئے تھے اور جب آپ ﷺ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب رض نے اپنے شوہر کو چھڑانے کے لیے اپنا ہار فدیے کے طور پر بھیجا ‘ جو ان کو حضرت خدیجہ رض نے ان کی شادی کے موقع پر دیا تھا تو حضور ﷺ کے لیے بڑی رقت آمیز صورت حال پیدا ہوگئی۔ آپ ﷺ نے جب وہ ہار دیکھا تو آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ حضرت خدیجہ رض کے ساتھ گزاری ہوئی ساری زندگی ‘ آپ رض کی خدمت گزاری اور وفا شعاری کی یاد مجسم ہو کر نگاہوں کے سامنے آگئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ لوگ اگر اجازت دیں تو یہ ہار واپس کردیا جائے تاکہ ماں کی نشانی بیٹی کے پاس ہی رہے۔ چناچہ سب کی اجازت سے وہ ہار واپس بھجوا دیا گیا۔ یوں قیدیوں کے ساتھ اکثر مہاجرین کے خونی رشتے تھے ‘ اس لیے کہ یہ سب لوگ ایک ہی خاندان اور ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہاں نبی اکرم ﷺ سے خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ آپ کے قبضے میں جو قیدی ہیں آپ ان سے کہہ دیجیے :اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰہُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ خَیْرًا یُّؤْتِکُمْ خَیْرًا مِّمَّآ اُخِذَ مِنْکُمْ یعنی تمہاری نیتوں کا معاملہ تمہارے اور اللہ کے مابین ہے ‘ جبکہ برتاؤ تمہارے ساتھ خالصتاً قانون کے مطابق ہوگا۔ تم سب لوگ جنگ میں کفار کا ساتھ دینے کے لیے آئے تھے اور اب قانوناً جنگی قیدی ہو۔ جنگ میں کوئی اپنی خوشی سے آیا تھا یا مجبوراً ‘ کوئی دل میں ایمان لے کر آیا تھا یا کفر کی حالت میں آیا تھا ‘ ان سب باتوں کی حقیقت کو اللہ خوب جانتا ہے اور وہ دلوں کی نیتوں کے مطابق ہی تم سب کے ساتھ معاملہ کرے گا اور جس کے دل میں خیر اور بھلائی پائے گا اس کو کہیں بہتر انداز میں وہ اس بھلائی کا صلہ دے گا۔

Al-Anfaal 8:70Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.