۞ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَىْءٍۢ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ ٱلْفُرْقَانِ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ
اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ : غنیمت وہ مال ہے جو کفار سے جنگ کی صورت میں حاصل ہو، اگر ان سے جنگ کے بغیر کوئی مال حاصل ہو تو اسے فے کہتے ہیں، اس کا ذکر سورة حشر (٦ تا ٩) میں ہے، مثلاً کفار خود ہی ہتھیار پھینک دیں، یا صلح کی صورت میں ان سے جزیہ وصول ہو، یا زمین کا خراج وغیرہ ہو۔ غنیمت اور فے بعض اوقات ایک دوسرے کے معنی میں بھی آجاتے ہیں۔ ” غَنَمٌ“ کا معنی بھیڑ بکریاں ہے، جو عرب میں اکثر جنگ کے بعد غالب فریق کے قبضے میں آتی تھیں۔ بعد میں قبضے میں آنے والی ہر چیز کو غنیمت کہنے لگے۔ - سورت کے شروع میں ” انفال “ کو اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت قرار دیا گیا تھا، اب غنیمت کی تقسیم کا طریقہ بیان ہوتا ہے۔ ایک مناسبت یہ ہے کہ اس سے پہلے (وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ) میں لڑائی کا حکم ہے جس کے نتیجے میں عموماً مال غنیمت حاصل ہوتا ہے، اس لیے اب اس کے خرچ کی جگہیں بیان فرمائیں۔ - مِّنْ شَيْءٍ : اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی چیز بڑی سے بڑی ہو یا چھوٹی سے چھوٹی، کوئی شخص اپنے پاس نہیں رکھ سکتا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق سوئی دھاگا حتیٰ کہ اونٹ کی اون کی گچھی تک جمع کروانا ہوگی، اگر رکھے گا تو یہ غلول (خیانت) شمار ہوگا، جس کی وعید سورة آل عمران (١٦١) میں ہے۔ - فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ : مطلب یہ ہے کہ کل غنیمت کے پانچ حصے کیے جائیں گے، چار حصے ان لوگوں کو ملیں گے جنھوں نے جنگ میں شرکت کی، ان میں بھی پیادے کو ایک حصہ اور سوار کو تین حصے ملیں گے، ایک اس کا اپنا اور دو حصے گھوڑے کے اور خمس ( پانچواں حصہ) ان اغراض کے لیے الگ کرلیا جائے گا جن کا آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ یہ بھی امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر احسان ہے، ورنہ پہلی امتوں میں تو اموال غنیمت حلال ہی نہ تھے بلکہ انھیں جلا دیا جاتا تھا۔ - یہاں اللہ تعالیٰ کا نام بطور برکت و تمہید آیا ہے، کیونکہ سب مال اللہ ہی کا ہے۔ اصل میں خمس کے مصرف پانچ ہیں، ایک حصہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی اور اپنی بیویوں کی ضروریات کے بعد عام مسلمانوں کی مصلحت میں خرچ کرتے تھے، مثلاً مجاہدین کے لیے اسلحہ اور سواریاں وغیرہ۔ آپ کے بعد خلیفۂ وقت جہاں مناسب سمجھے خرچ کرنے میں آپ کا جانشین ہوگا۔ خمس کے علاوہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سارے مال غنیمت میں سے کوئی ایک چیز مثلاً کوئی ہتھیار یا گھوڑا یا لونڈی اپنے لیے رکھنے کا اختیار تھا، اسے ” صَفِیٌّ“ کہتے ہیں۔ ” وَلِذِي الْقُرْبٰي “ سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قرابت دار ہیں، آپ کے جد اعلیٰ عبد مناف کی اولاد چار قبیلے تھے، بنو ہاشم، بنو مطلب، بنو عبد شمس اور بنو نوفل۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو ہاشم میں سے تھے، مگر آپ نے ” ذَوِی الْقُرْبٰی “ میں سے پہلے دو قبیلوں کو خمس میں سے حصہ دیا، بعد والے دو کو نہیں دیا اور ان کے پوچھنے پر بتایا کہ بنو مطلب اسلام لانے سے پہلے بھی بنو ہاشم کے ساتھی رہے ہیں، جبکہ آخری دونوں قبیلے اس وقت مخالفت میں سر گرم رہتے تھے۔ ” وَالْيَتٰمٰي “ وہ نابالغ بچے جن کے باپ فوت ہوچکے ہوں۔ ” وَالْمَسٰكِيْنِ “ وہ ضرورت مند جن کی آمدنی ضرورت سے کم ہو۔ ” وَابْنِ السَّبِيْلِ “ راہ گیر مسافر۔ اس خمس کا پانچ حصوں میں تقسیم کا طریقہ کیا ہوگا ؟ کیا سب کو برابر دیا جائے گا، یا حسب ضرورت خرچ کیا جائے گا ؟ امام مالک اور اکثر سلف (رض) کا خیال ہے کہ امام ( خلیفۂ اسلام) کو اختیار ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی مصلحت، مثلاً جہاد کی تیاری، اسلحہ کی خریداری وغیرہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے جس طرح چاہے اسے تقسیم یا خرچ کرے۔ اسی پر خلفائے اربعہ (رض) کا عمل رہا ہے۔ (قرطبی) نسائی کی حدیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے، عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ …