Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 71–75 of 75

71

وَإِن يُرِيدُوا۟ خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا۟ ٱللَّهَ مِن قَبْلُ فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی خدا سے دغا کرچکے ہیں تو اس نے ان کو (تمہارے) قبضے میں کر دیا۔ اور خدا دانا حکمت والا ہے

غزوہ بدر کے قیدیوں میں سے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کے بارے میں یہ کھٹک لوگوں کے دل میں تھی کہ شاید یہ لوگ مکہ پہنچ کر اسلام سے پھرجائیں اور پھر ہمیں کوئی نقصان پہنچائیں۔ حق تعالیٰ نے اس کے بعد والی آیت میں اس خطرہ کو اس طرح دور فرما دیا (آیت) وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ یعنی اگر یہ لوگ آپ کے ساتھ خیانت ہی کا ارادہ کرلیں تو اس سے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا یہ تو وہی لوگ ہیں جو اس سے پہلے اللہ کے ساتھ خیانت کرچکے ہیں یعنی میثاق ازل میں جو اللہ تعالیٰ کے رب العالمین ہونے کا اقرار کیا تھا اس کی مخالفت کرنے لگے تھے۔ لیکن ان کی یہ خیانت خود انھیں کے لئے مضر ثابت ہوئی کہ انجام کار ذلیل و خوار اور گرفتار ہوئے۔ اور اللہ تعالیٰ تو دلوں کے رازوں کو جاننے والے اور بڑی حکمت والے ہیں۔ اگر یہ لوگ اب بھی آپ کی مخالفت کرنے لگیں گے تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ سے باہر کہاں چلے جائیں گے وہ پھر ان کو اسی طرح پکڑلے گا۔ پچھلی آیت میں آزاد ہونے والے قیدیوں کو اسلام کی طرف دعوت ترغیبی انداز میں دی گئی تھی اس آیت میں ترہیب کے ذریعہ ان کو آگاہ کردیا کہ تمہاری دنیا و آخرت کی بھلائی اسلام و ایمان میں منحصر ہے۔- یہاں تک کفار کے ساتھ قتل و قتال اور ان کے قید کرنے، آزاد کرنے کے اور ان سے صلح و مصالحت کے احکام کا بیان ہورہا تھا۔ اگلی آیات میں آخر سورت تک اسی سلسلہ کے ایک خاص باب کا ذکر اور اس کے احکام کی کچھ تفصیل مذکور ہے اور وہ احکام ہجرت ہیں کیونکہ کفار کے ساتھ مقابلہ میں کبھی ایسے حالات بھی پیش آسکتے ہیں کہ نہ مسلمانوں کو ان کے مقابلہ پر قتل و قتال کی طاقت ہے اور نہ وہ صلح پر راضی ہیں۔ ایسی کمزوری کی حالت میں اسلام اور مسلمانوں کی نجات کی راہ ہجرت ہے کہ اس شہر اور ملک کو چھوڑ کر کسی دوسری زمین میں جاکر قیام کریں جہاں اسلامی احکام پر آزادانہ عمل ہو سکے۔

Al-Anfaal 8:71Listen in Qur'an →
72

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَوا۟ وَّنَصَرُوٓا۟ أُو۟لَٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍۢ ۚ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَمْ يُهَاجِرُوا۟ مَا لَكُم مِّن وَلَٰيَتِهِم مِّن شَىْءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا۟ ۚ وَإِنِ ٱسْتَنصَرُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ فَعَلَيْكُمُ ٱلنَّصْرُ إِلَّا عَلَىٰ قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَٰقٌۭ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے وہ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہوگی۔ مگر ان لوگوں کے مقابلے میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہو (مدد نہیں کرنی چاہیئے) اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

خلاصہ تفسیر - بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت بھی کی اور اپنے مال اور جان سے اللہ کے راستہ میں جہاد بھی کیا (جس کا وقوع لوازم عادیہ ہجرت سے تھا گو مدار حکم توارث نہیں اور یہ جماعت مہاجرین سے ملقب ہے) اور جن لوگوں نے (ان مہاجرین کو) رہنے کو جگہ دی اور (ان کی) مدد کی (اور یہ جماعت انصار سے ملقب ہے) یہ (دونوں قسم کے) لوگ باہم ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور جو لوگ ایمان تو لائے اور ہجرت نہیں کی تمہارا (یعنی مہاجرین کا) ان سے میراث کا کوئی تعلق نہیں (نہ یہ ان کے وارث نہ وہ ان کے) جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں (اور جب ہجرت کرلیں پھر وہ بھی اسی حکم میں داخل ہوجائیں گے) اور (گو ان سے تمہارا توارث نہ ہو لیکن) اگر وہ تم سے دین کے کام (یعنی قتال مع الکفار) میں مدد چاہیں تو تمہارے ذمے (ان کی) مدد کرنا واجب ہے مگر اس قوم کے مقابلہ میں نہیں کہ تم میں اور ان میں باہم عہد (صلح کا) ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو دیکھتے ہیں (پس ان کے مقررہ احکام میں خلل ڈال کر مستحق ناخوشی نہ ہونا) اور (جس طرح باہم تم میں علاقہ توارث کا ہے اسی طرح) جو لوگ کافر ہیں وہ باہم ایک دوسرے کے وارث ہیں (نہ تم ان کے وارث نہ وہ تمہارے وارث) اگر اس (حکم مذکور) پر عمل نہ کرو گے (بلکہ باوجود تخالف دین محض قرابت کی بناء پر مومن و کافر میں علاقہ توارث قائم رکھو گے) تو دنیا میں بڑا فتنہ اور بڑا فساد پھیلے گا۔ (کیونکہ توارث سے سب ایک جماعت سمجھی جائے گی اور بدون جدا جماعت ہوئے اسلام کو قوت و شوکت حاصل نہیں ہوسکتی اور ضعف اسلام سرمایہ تمام تر فتنہ و فساد عالم کا ہے جیسا کہ ظاہر ہے) اور (اس حکم توارث بین المہاجرین والانصار میں ہرچند کہ سب مہاجرین برابر ہیں خواہ زمانہ ہجرت نبویہ میں انہوں نے ہجرت کی ہو یا بعد میں لیکن فضیلت و مرتبہ میں باہم متفاوت ہیں چنانچہ) جو لوگ (اول) مسلمان ہوئے اور انہوں نے (ہجرت نبویہ کے زمانہ میں) ہجرت کی اور (اول ہی سے) اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے اور جن لوگوں نے (ان مہاجرین کو) اپنے یہاں ٹھہرایا اور ان کی مدد کی یہ لوگ (تو) ایمان کا پورا حق ادا کرنے والے ہیں (کیونکہ اس کا حق یہی ہے کہ اس کے قبول کرنے میں سبقت کرے) ان کے لئے (آخرت میں) بڑی مغفرت اور (جنت میں) بڑی معزز روزی (مقرر) ہے اور جو لوگ (ہجرت نبویہ کے) بعد کے زمانہ میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ جہاد کیا (یعنی کام تو سب کئے مگر بعد میں) سو یہ لوگ (گو فضیلت میں تمہارے برابر نہیں لیکن تاہم) تمہارے ہی شمار میں ہیں (فضیلت میں تو من وجہ کیونکہ اعمال کے تفاضل سے احکام شرعیہ میں تفاوت نہیں ہوتا) اور (ان بعد والے مہاجرین میں) جو لوگ (باہم یا مہاجرین سابقین کے) رشتہ دار ہیں (گو فضل و رتبہ میں کم ہوں لیکن میراث کے اعتبار سے) کتاب اللہ (یعنی حکم شرعی یا آیت میراث) میں ایک دوسرے (کی میراث) کے (بہ نسبت غیر رشتہ داروں کے) زیادہ حقدار ہیں (گو غیر رشتہ دار فضل و رتبہ میں زیادہ ہوں) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں (اس لئے ہر وقت کی مصلحت کے مناسب حکم مقرر فرماتے ہیں) ۔- معارف و مسائل - یہ سورة انفال کی آخری چار آیتیں ہیں۔ ان میں اصل ہجرت کے وہ احکام ہیں جن کا تعلق مہاجر مسلمانوں کی وراثت سے ہے، اس کے بالمقابل غیر مہاجر مسلمان اور غیر مسلموں کی وراثت کا بھی ذکر آیا ہے۔- خلاصہ ان احکام کا یہ ہے کہ جن لوگوں پر شرعی احکام عائد ہوتے ہیں وہ اولا دو قسم پر ہیں۔ مسلم، کافر۔ پھر مسلم اس وقت کے لحاظ سے دو قسم کے تھے ایک مہاجر جو مکہ سے ہجرت فرض ہونے پر مدینہ طیبہ میں آکر مقیم ہوگئے تھے۔ دوسرے غیر مہاجر جو کسی جائز عذر سے یا کسی دوسری وجہ سے مکہ ہی میں رہ گئے تھے۔- باہمی رشتہ داری اور قرابت ان سب قسم کے افراد میں دائر تھی کیونکہ اوائل اسلام میں بکثرت ایسا تھا کہ بیٹا مسلمان ہے باپ کافر یا باپ مسلمان ہے …

Al-Anfaal 8:72Listen in Qur'an →
73

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُن فِتْنَةٌۭ فِى ٱلْأَرْضِ وَفَسَادٌۭ كَبِيرٌۭ

اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہو جائے گا اور بڑا فساد مچے گا

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۔ یعنی کافر لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ لفظ ولی جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے ایک عام مفہوم رکھتا ہے جس میں وراثت بھی داخل ہے اور معاملات کی ولایت و سرپرستی بھی۔ اس لئے اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر لوگ آپس میں ایک دوسرے کے وارث سمجھے جائیں گے اور تقسیم وراثت کا جو قانون ان کے اپنے مذہب میں رائج ہے ان کی وراثت کے معاملہ میں اسی قانون کو نافذ کیا جائے گا۔ نیز ان کے یتیم بچوں کا ولی لڑکیوں کے نکاح کا ولی بھی انھیں میں سے ہوگا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عائلی مسائل میں غیر مسلموں کا اپنا مذہبی قانون اسلامی حکومت میں محفوظ رکھا جائے گا۔- آخر آیت میں ارشاد ہے (آیت) اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْاَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ۔ یعنی اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پوری زمین میں فتنہ اور بڑا فساد پھیل جائے گا۔- اس جملہ کا تعلق ان تمام احکام کے ساتھ ہے جو اس سے پہلے ذکر کئے گئے ہیں مثلا یہ کہ مہاجرین و انصار کو آپس میں ایک دوسرے کے اولیاء ہونا چاہئے جس میں باہمی امداد و اعانت بھی داخل ہے اور وراثت بھی۔ دوسرے یہ کہ اس وقت کے مہاجر اور غیر مہاجر مسلمانوں کے آپس میں وراثت کا تعلق نہ رہنا چاہئے۔ مگر امداد و نصرت کا تعلق اپنی شرائط کے ساتھ باقی رہنا چاہئے۔ تیسرے یہ کہ کفار آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں ان کے قانون ولایت اور وراثت میں کوئی دخل اندازی مسلمانوں کو نہیں چاہئے۔- اگر ان احکام پر عمل نہ کیا گیا تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد پھیل جائے گا۔ یہ تنبیہ غالبا اس لئے کی گئی کہ جو احکام اس جگہ بیان ہوئے ہیں وہ عدل و انصاف اور امن عامہ کے لئے بنیادی اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ ان آیات نے یہ واضح کردیا کہ باہمی امداد و اعانت اور وراثت کا تعلق جیسے رشتہ داری پر مبنی ہے ایسے ہی اس میں مذہبی اور دینی رشتہ بھی قابل لحاظ ہے بلکہ نسبی رشتہ پر دینی رشتہ کو ترجیح حاصل ہے اسی وجہ سے کافر مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوسکتا اگرچہ وہ آپس میں نسبی رشتہ سے باپ اور بیٹے یا بھائی بھائی ہوں۔ اس کے ساتھ ہی مذہبی تعصب اور عصبیت جاہلیت کی روک تھام کرنے کے لئے یہ بھی ہدایت دے دی گئی ہے کہ مذہبی رشتہ اگرچہ اتنا قوی اور مضبوط ہے مگر معاہدہ کی پابندی اس سے بھی زیادہ مقدم اور قابل ترجیح ہے۔ مذہبی تعصب کے جوش میں معاہدہ کی خلاف ورزی جائز نہیں۔ اسی طرح یہ بھی ہدایت دے دی گئی کہ کفار آپس میں ایک دوسرے کے ولی اور وارث ہیں ان کی شخصی ولایت و وراثت میں مداخلت نہ کی جائے۔ دیکھنے کو تو یہ چند فرعی اور جزئی احکام ہیں مگر در حقیقت امن عالم کے لئے عدل و انصاف کے بہترین اور جامع بنیادی اصول ہیں۔ اسی لئے اس جگہ ان احکام کو بیان فرمانے کے بعد ایسے الفاظ سے تنبیہ فرمائی گئی جو عام طور پر دوسرے احکام کے لئے نہیں کی گئی کہ اگر تم نے ان احکام پر عمل نہ کیا تو زمین میں فتنہ اور فساد پھیل جائے گا۔ ان الفاظ میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ احکام فتنہ و فساد کو روکنے میں خاص دخل اور اثر رکھتے ہیں۔

Al-Anfaal 8:73Listen in Qur'an →
74

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَوا۟ وَّنَصَرُوٓا۟ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّۭا ۚ لَّهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ

اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لیے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے

تیسری آیت میں مکہ سے ہجرت کرنے والے صحابہ اور ان کی مدد کرنے والے انصار مدینہ کی تعریف و ثنا اور ان کے سچا مسلمان ہونے کی شہادت اور ان سے مغفرت اور باعزت روزی کا وعدہ مذکور ہے ارشاد فرمایا (آیت) اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤ ْمِنُوْنَ حَقًّا یعنی یہی لوگ سچے پکے مسلمان ہیں اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ ہجرت نہ کرنے والے حضرات بھی اگرچہ مسلمان ہیں مگر ان کا اسلام کامل بھی نہیں اور یقینی بھی نہیں کیونکہ یہ احتمال بھی ہے کہ دراصل منافق ہوں بظاہر اسلام کا دعوی رکھتے ہوں۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ۔ یعنی ان کے لئے مقرر ہے مغفرت جیسا کہ صحیح احادیث میں ہے الاسلام یھدم ما کان قبلہ والھجرة تھدم ما کان قبلہا۔ یعنی مسلمان ہوجانا پچھلے سب گناہوں کے انبار کو ڈھا دیتا ہے اسی طرح ہجرت کرنا پچھلے سب گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔

Al-Anfaal 8:74Listen in Qur'an →
75

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ مَعَكُمْ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مِنكُمْ ۚ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍۢ فِى كِتَٰبِ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۢ

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کرگئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

چوتھی آیت میں مہاجرین کے مختلف طبقات کا حکم بیان فرمایا ہے کہ اگرچہ ان میں بعض لوگ مہاجرین اولین ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ سے پہلے ہجرت کی اور بعض دوسرے درجہ کے مہاجر ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ کے بعد ہجرت کی اور اس کی وجہ سے ان کے اخروی درجات میں فرق ہوگا مگر احکام دنیا میں ان کا حکم بھی وہی ہے جو مہاجرین اولین کا ہے وہ ایک دوسرے کے وارث ہیں۔ اسی لئے مہاجرین کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا (آیت) فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ ۔ یعنی یہ دوسرے درجہ کے مہاجرین بھی تمہارے ہی زمرہ میں شامل ہیں اس لئے وراثت کے احکام میں بھی ان کا حکم عام مہاجرین کی طرح ہے۔- یہ سورة انفال کی بالکل آخری آیت ہے اس کے آخر میں قانون میراث کا ایک جامع ضابطہ بیان فرمایا گیا ہے جس کے ذریعہ اس عارضی حکم کو منسوخ کردیا گیا ہے جو اوائل ہجرت میں مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات کے ذریعہ ایک دوسرے کا وارث بننے کے متعلق جاری ہوا تھا (آیت) وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ ۔- لفظ اولو عربی زبان میں صاحب کے معنی میں آتا ہے جس کا ترجمہ اردو میں والے سے کیا جاتا ہے اولو العقل عقل والے اولو الامر امر والے اس لئے اولو الارحام کے معنی ہوئے ارحام والے ارحام رحم کی جمع ہے جو اصل میں اس عضو کا نام ہے جس کے اندر بچہ کی تخیلق عمل میں آتی ہے اور چونکہ رشتہ داری کا تعلق رحم کی شرکت سے قائم ہوتا ہے اس لئے اولو الارحام رشتہ داروں کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔- معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگرچہ ایک ولایت عامہ سب مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حاصل ہے جس کے سبب بوقت ضرورت ایک دوسرے کی امداد و اعانت بھی واجب ہوتی ہے اور ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے ہیں لیکن جو مسلمان آپس میں قرابت اور رشتہ کا تعلق رکھتے ہوں وہ دوسرے مسلمانوں سے مقدم ہیں۔ فی کتب اللہ کے معنی اس جگہ فی حکم اللہ کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم خاص سے یہ قانون بنادیا ہے۔- اس آیت نے یہ ضابطہ بتادیا کہ تقسیم وراثت رشتہ داری کے معیار پر ہونا چاہئے۔ اور لفظ اولو الارحام مطلقا اقرباء اور رشتہ داروں کے لئے بولا جاتا ہے۔ ان میں سے خاص خاص رشتہ داروں کے حصے تو خود قرآن کریم نے سورة نساء میں متعین فرمادیئے جن کو علم میراث کی اصطلاح میں اہل فرائض یا ذوی الفروض کہا جاتا ہے، ان کو دینے کے بعد جو مال بچے وہ اس آیت کی رو سے دوسرے رشتہ داروں میں تقسیم ہونا چاہئے۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ سب رشتہ داروں میں کسی مال کا تقسیم کرنا کسی کی قدرت میں نہیں کیونکہ دور کی رشتہ داری تو ساری دنیا کے انسانوں کے درمیان بلاشبہ موجود ہے کہ سب کے سب ایک ہی باپ اور ماں آدم و حواء (علیہما السلام) سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس لئے رشتہ داروں میں تقسیم کرنے کی عملی صورت یہی ہوسکتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں کو بعید پر مقدم رکھ کر قریب کے سامنے بعید کو محروم کیا جائے۔ جس کا تفصیلی بیان احادیث رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اس طرح موجود ہے کہ ذوی الفروض کے حصے دینے کے بعد جو کچھ بچے وہ میت کے عصبات یعنی جدی رشتہ داروں کو درجہ بدرجہ دیا جائے یعنی عصبہ قریب کو بعید پر مقدم رکھ کر قریب کے سامنے بعید کو محروم کیا جائے۔ اور اگر عصبات میں سے کوئی بھی زندہ موجود نہیں تو پھر باقی رشتہ داروں میں تقسیم کیا جائے۔- عصبات کے علاوہ جو دوسرے رشتہ دار ہوتے ہیں علم میراث و فرائض کی خاص اصطلاح میں لفظ ذوی الارحام انھیں کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے۔ لیکن یہ اصطلاح بعد میں مقرر کی گئی ہے قرآن کریم میں اولو الارحام کا لفظ لغوی معنی کے مطابق تمام رشتہ داروں پر حاوی ہے جس میں ذوی الفروض اور عصبات اور ذوی الارحام سب اجمالی طور پر داخل ہیں۔- پھر اس کی کچھ تفصیل سورة نساء کی آیات میں آگئی جن میں خاص خاص رشتہ داروں کے حصے حق تعالیٰ نے خود مقرر فرما دیئے جن کو اصطلاح میراث میں ذوی …

Al-Anfaal 8:75Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.