Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 41–50 of 75

41

۞ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَىْءٍۢ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ ٱلْفُرْقَانِ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

خلاصہ تفسیر - اور اس بات کو جان لو کہ جو شئے (کفار سے) بطور غنیمت کے تم کو حاصل ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ (اس کے کل پانچ حصے کئے جائیں جن میں سے چار حصے تو مقاتلین کا حق ہے اور ایک حصہ یعنی) اس کا پانچواں حصہ (پھر پانچ حصوں پر تقسیم ہوگا جن میں سے ایک تو) اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول کا ہے (یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملے گا جن کو دینا بمنزلہ اس کے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کردیا) اور (ایک حصہ) آپ کے قرابت داروں کا ہے اور (ایک حصہ) یتیموں کا ہے (ایک حصہ) غریبوں کا ہے اور (ایک حصہ) مسافروں کا ہے اگر تم اللہ پر یقین رکھتے ہو اور اس چیز پر (یقین رکھتے ہو) جس کو ہم نے اپنے بندہ (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فیصلہ کے دن (یعنی) جس دن کہ (بدر میں) دونوں جماعتیں (مؤ منین اور کفار کی) باہم مقابل ہوئی تھیں نازل فرمایا تھا (مراد اس سے امداد غیبی بواسطہ ملائکہ کے ہے یعنی اگر ہم پر اور ہمارے الطاف غیبیہ پر یقین رکھتے ہو تو اس حکم کو جان رکھو اور عمل کرو یہ اس لئے بڑھا دیا کہ خمس نکالنا شاق نہ ہوا اور یہ سمجھ لیں کہ یہ ساری غنیمت اللہ ہی کی امداد سے تو ہاتھ آئی پھر اگر ہم کو ایک خمس نہ ملا تو کیا ہوا وہ چار خمس بھی تو ہماری قدرت سے خارج تھے بلکہ محض قدرت الہیہ سے حاصل ہوئے) اور اللہ (ہی) ہر شئے پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں (پھر تمہارا استحقاق تو اتنا بھی نہیں تھا یہ بھی بہت مل گیا) ۔- معارف ومسائل - اس آیت میں مال غنیمت کے احکام اور اس کی تقسیم کا قانون مذکور ہے۔ اس سے پہلے چند ضروری الفاظ کی تشریح سن لیجئے۔ - لفظ غنیمت لغت میں اس مال کے لئے بولا جاتا ہے جو دشمن سے حاصل کیا جائے، اصطلاح شریعت میں غیر مسلموں سے جو مال جنگ و قتال اور قہر و غلبہ کے ذریعہ حاصل ہو اس کو غنیمت کہتے ہیں اور جو صلح و رضامندی سے حاصل ہو جیسے جزیہ و خراج وغیرہ اس کو فیئ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں انھیں دونوں لفظوں سے ان دونوں قسموں کے احکام بتلائے گئے ہیں۔ سورة انفال میں مال غنیمت کے احکام کا ذکر ہے جو جنگ و قتال کے وقت غیر مسلموں سے حاصل ہو۔ - یہاں سب سے پہلے ایک بات پیش نظر رہنا چاہئے وہ یہ کہ اسلامی اور قرآنی نظریہ کے مطابق تمام کائنات کی اصلی ملکیت صرف اس ذات حق تعالیٰ کی ہے جس نے انھیں پیدا کیا ہے انسان کی طرف کسی چیز کی ملکیت کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے ذریعہ کسی شخص کی ملکیت قرار دے دی ہو۔ جیسے سورة یسین میں چوپائے جانوروں کے ذکر میں ارشاد فرمایا (آیت) اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَآ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ ۔ یعنی کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ چوپاؤں کو ہم اپنے ہاتھوں سے بنایا پھر لوگ ان کے مالک بن گئے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی ملکیت ذاتی نہیں ہم نے اپنے فضل سے ان کو مالک بنادیا۔ - جب کوئی قوم اللہ سے بغاوت کرتی ہے یعنی کفر و شرک میں مبتلا ہوجاتی ہے تو پہلے حق تعالیٰ ان کی اصلاح کے لئے اپنے رسول اور کتابیں بھیجتے ہیں جو بدبخت اس انعام الہی سے بھی متاثر نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو ان کے مقابلہ میں جہاد و قتال کا حکم دے دیتے ہیں جس کا حاصل یہ ہوتا کہ ان باغیوں کے جان و مال سب مباح کردیئے گئے ان کو اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اموال سے نفع اٹھانے کا حق نہیں رہا۔ بلکہ ان کے اموال بحق سرکار ضبط ہوگئے۔ انھیں ضبط شدہ اموال کا دوسرا نام مال غنیمت ہے جو کفار کی ملکیت سے نکل کر خالص حق تعالیٰ کی ملکیت میں رہ گئے۔- ان ضبط شدہ اموال کے لئے زمانہ قدیم سے حق تعالیٰ کا قانون یہ رہا ہے کہ ان سے کسی کو فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی بلکہ ایسے اموال کو جمع کرکے کسی کھلی جگہ میں رکھ دیا جاتا اور آسمان سے ایک بجلی آکر ان کو جلادیتی تھی۔ یہی علامت ہوتی تھی اس جہاد کے قبول ہونے …

Al-Anfaal 8:41Listen in Qur'an →
42

إِذْ أَنتُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلدُّنْيَا وَهُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلْقُصْوَىٰ وَٱلرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنكُمْ ۚ وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ لَٱخْتَلَفْتُمْ فِى ٱلْمِيعَٰدِ ۙ وَلَٰكِن لِّيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًۭا كَانَ مَفْعُولًۭا لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٍۢ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَىَّ عَنۢ بَيِّنَةٍۢ ۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ

جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے

خلاصہ تفسیر - یہ وہ وقت تھا کہ جب تم اس میدان کے ادھر والے کنارہ پر تھے اور وہ لوگ ( یعنی کفار) اس میدان کے ادھر والے کنارہ پر تھے ( ادھر والے سے مراد مدینہ سے نزدیک کا موقع اور ادھر والے سے مراد مدینہ سے دور کا موقع) اور وہ قافلہ ( قریش کا) تم سے نیچے کی طرف کو ( بچا ہوا) تھا ( یعنی سمندر کے کنارے کنارے جارہا تھا حاصل یہ کہ پورے جوش کا سامان جمع ہو رہا تھا کہ دونوں آپس میں آمنے سامنے تھے کہ ہر ایک دوسرے کو دیکھ کر جوش میں آئے ادھر قافلہ رستہ ہی میں تھا جس کی وجہ سے لشکر کفار کو اس کی حمایت کا خیال دلنشین ہوا جس سے اور جوش میں زیادتی ہو غرض وہ ایسا شدید وقت تھا پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تم پر امداد غیبی نازل کی جیسا اوپر ارشاد ہوا ہے (آیت) اَنْزَلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا) اور ( وہ تو مصلحت یہ ہوئی کہ اتفاقا مقابلہ ہوگیا ورنہ) اگر ( پہلے سے حسب معمول و عادت) تم اور وہ ( لڑائی کے لئے) کوئی بات ٹھہراتے ( کہ فلاں وقت لڑیں گے) تو ( مقتضا حالت موجودہ کا یہ تھا کہ) ضرور اس تقرر کے بارے میں تم میں اختلاف ہوتا ( یعنی خواہ صرف مسلمانوں میں باہم کہ بوجہ بےسرو سامانی کے کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ کہتا اور خواہ کفار کے ساتھ اختلاف ہوتا جس کی وجہ اس طرف بےسرو سامانی اور اس طرف مسلمانوں کا رعب بہرحال دونوں طرح اس جنگ کی نوبت نہ آتی پس اس میں جو فوائد ہوئے وہ ظہور میں نہ آتے جن کا بیان لِّيَهْلِكَ میں آتا ہے) لیکن ( اللہ تعالیٰ نے ایسا سامان کردیا کہ اس کی نوبت نہیں آئی بلا قصد لڑائی ٹھن گئی) تاکہ جو کام اللہ کو کرنا منظور تھا اس کی تکمیل کردے یعنی تاکہ ( حق کا نشان ظاہر ہوجائے اور) جس کو برباد ( یعنی گمراہ) ہونا ہے وہ نشان آئے پیچھے برباد ہو اور جس کو زندہ ( یعنی ہدایت یافتہ) ہونا ہے وہ ( بھی) نشان آئے پیچھے زندہ ہو ( مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کو منظور تھا لڑائی ہونا تاکہ ایک خاص طریق سے اسلام کا حق ہونا ظاہر ہوجائے کہ اس قلت عدد و کم سامانی پر مسلمان غالب آئے جو کہ خارق عادت ہے جس سے معلوم ہوا کہ اسلام حق ہے پس اس سے حجت الہیہ تام ہوگئی اس کے بعد جو گمراہ ہوگا وہ وضوح حق کے بعد ہوگا کہ جس میں عذاب کا پورا استحقاق ہوگیا اور عذر کی گنجائش ہی نہ رہی اسی طرح جس کو ہدایت ہونا ہوگا وہ حق قبول کرلے گا۔ خلاصہ حکمت کا یہ ہوا کہ حق واضح ہوجائے) اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والے خوب جاننے والے ہیں ( کہ اس وضوح کے بعد زبان اور قلب سے کون کفر کرتا ہے اور کون ایمان لاتا ہے اور) وہ وقت بھی قابل ذکر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے خواب میں آپ کو وہ لوگ کم دکھلائے ( چناچہ آپ نے صحابہ کو اس خواب کی خبر کی ان کے دل خوب قوی ہوگئے) اور اگر اللہ تعالیٰ آپ کو وہ لوگ زیادہ کرکے دکھا دیتے ( اور آپ صحابہ سے فرما دیتے) تو ( اے صحابہ) تمہاری ہمتیں ہار جاتیں اور اس امر ( قتال) میں تم میں باہم نزاع ( اور اختلاف) ہوجاتا لیکن اللہ تعالیٰ نے ( اس کم ہمتی اور اختلاف سے تم کو بچا لیا بیشک وہ دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے ( اس کو معلوم تھا کہ اس طرح ضعف پیدا ہوگا اس طرح قوت، اس لئے ایسی تدبیر کی) اور ( صرف خواب ہی میں آپ کو کم دکھلانے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ تتمیم حکمت کے لئے بیداری میں مقابلہ کے وقت مسلمانوں کی نظر میں بھی کفار کم دکھلائی دیئے جیسا کہ بالعکس بھی ہوا جو کہ واقع کے مطابق بھی تھا چناچہ فرماتے ہیں کہ) اس وقت کو یاد کرو جبکہ اللہ تعالیٰ تمہیں جبکہ تم مقابل ہوئے ان لوگوں کو تمہاری نظر میں کم کرکے دکھلا رہے تھے اور ( اسی طرح) ان کی نگاہ میں تم کو کم کرکے دکھلا رہے تھے تاکہ جو کام اللہ کو کرنا منظور تھا اس کی تکمیل کردے ( جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ الخ) اور سب مقدمے خدا ہی کی طرف رجوع کئے جائیں گے ( وہ ہالک اور حی یعنی گمراہ اور مہتد کو سزا و جزا دیں گے ) ۔- معارف …

Al-Anfaal 8:42Listen in Qur'an →
43

إِذْ يُرِيكَهُمُ ٱللَّهُ فِى مَنَامِكَ قَلِيلًۭا ۖ وَلَوْ أَرَىٰكَهُمْ كَثِيرًۭا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَٰزَعْتُمْ فِى ٱلْأَمْرِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ سَلَّمَ ۗ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ بےشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے

تینتالیسویں اور چوالیسویں دونوں آیتوں میں ایک خاص کرشمہ قدرت کا ذکر ہے جو غزوہ بدر کے میدان میں اس غرض کے لئے عمل میں لایا گیا کہ ایسا نہ ہونے پائے کہ دونوں لشکروں میں سے کوئی بھی میدان جنگ چھوڑ کر اس جنگ کو ہی ختم کر ڈالے کیونکہ اس جنگ کے نتیجہ میں مادی حیثیت سے بھی حقانیت اسلام کا مظاہرہ کرنا مقدر تھا۔- اور وہ کرشمہ قدرت یہ تھا کہ لشکر کفار اگرچہ واقع میں مسلمانوں سے تین گنا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے مسلمانوں کو ان کی تعداد بہت کم کرکے دکھلائی۔ تاکہ مسلمانوں میں کمزوری اور اختلاف پیدا نہ ہوجائے۔ اور یہ واقعہ دو مرتبہ پیش آیا۔ ایک مرتبہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خواب میں دکھلایا گیا آپ نے سب مسلمانوں سے بتلا دیا جس سے ان کی ہمت بڑھ گئی۔ دوسری مرتبہ عین میدان جنگ میں جب دونوں فریق آمنے سامنے کھڑے تھے مسلمانوں کو ان کی تعداد کم دکھلائی گئی۔ آیت ٤٣ میں خواب کا واقعہ اور ٤٤ میں بیداری کا مذکور ہے۔- حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ہماری نظروں میں اپنا مقابل لشکر ایسا نظر آرہا تھا کہ میں نے اپنے قریب کے ایک آدمی سے کہا کہ یہ لوگ نوے آدمیوں کی تعداد میں ہوں گے اس شخص نے کہا کہ نہیں سو (100) ہوں گے۔

Al-Anfaal 8:43Listen in Qur'an →
44

وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ ٱلْتَقَيْتُمْ فِىٓ أَعْيُنِكُمْ قَلِيلًۭا وَيُقَلِّلُكُمْ فِىٓ أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًۭا كَانَ مَفْعُولًۭا ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ

اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام منظور کرنا تھا اسے کر ڈالے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا کی طرف ہے

آخری آیت میں اس کے ساتھ یہ بھی مذکور ہے (آیت) يُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِهِمْ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بھی مقابل لشکر کی نظر میں کم کرکے دکھلایا۔ اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں مسلمانوں کی تعداد تو حقیقت ہی میں کم تھی وہ صحیح تعداد ان کو دکھلا دی اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ جتنی تعداد واقعی تھی اس سے بھی کم کرکے دکھلایا گیا جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ ابوجہل نے مسلمانوں کے لشکر کو دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان کی تعداد تو اس سے زیادہ معلوم نہیں ہوتی جن کی خوراک ایک اونٹ ہو۔ عرب میں کسی لشکر کی تعداد معلوم کرنے کے لئے اس سے اندازہ قائم کیا جاتا تھا کہ کتنے جانور ان کی خوراک کے لئے ذبح ہوتے ہیں، ایک اونٹ سو آدمیوں کی خوراک سمجھا جاتا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس میدان بدر میں وہاں کے کچھ لوگوں سے قریش مکہ کے لشکر کا بتہ چلانے کے لئے پوچھا تھا کہ ان کے لشکر میں روزانہ کتنے اونٹ ذبح کئے جاتے ہیں تو آپ کو دس اونٹ روزانہ بتلائے گئے جس سے آپ نے ایک ہزار لشکر کا تخمینہ قائم فرمایا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ابو جہل کی نظر میں مسلمان کل سو آدمی کی تعداد میں دکھلائے گئے۔ یہاں بھی کم کرکے دکھلانے میں یہ حکمت تھی کہ مشرکین کے قلوب پر مسلمانوں کا رعب پہلے ہی نہ چھا جائے جس کی وجہ سے وہ میدان چھوڑ بھاگیں۔- فائدہ :- اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض اوقات معجزہ اور خرق عادت کے طور پر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنکھوں کا مشاہدہ غلط ہوجائے۔ جیسا یہاں ہوا۔ اسی لئے اس جگہ دوبارہ فرمایا (آیت) لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا۔ یعنی یہ کرشمہ قدرت اور آنکھوں کے مشاہدات پر تصرف اس لئے ظاہر کیا گیا کہ جو کام اللہ تعالیٰ کرنا چاہتے ہیں وہ پورا ہوجائے۔ یعنی مسلمانوں کو قلت و بےسامانی کے باوجود فتح دے کر اسلام کی حقانیت اور تائید غیبی کا اظہار جو اس جنگ سے مقصود تھا وہ پورا کر دکھائے۔ - آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ، یعنی آخر کار سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں جو چاہے کرے جو چاہے حکم دے۔ قلت کو کثرت پر قوت کو ضعف پر غلبہ دے دے کم کو زیادہ، زیادہ کو کم کر دے۔ مولانا رومی نے خوب فرمایا :- گر تو خواہی عین غم شادی شود عین بند پائے آزادی شود - چوں تو خواہی آتش آب خوش شود در تو خواہی آب ہم آتش شود - خاک و باد و آب و آتش بندہ اند بامن و تو مردہ باحق زندہ اند

Al-Anfaal 8:44Listen in Qur'an →
45

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةًۭ فَٱثْبُتُوا۟ وَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِيرًۭا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

مومنو! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کرو

خلاصہ تفسیر - اے ایمان والو جب تم کو ( کفار کی کسی) جماعت سے ( جہاد میں) مقابلہ کا اتفاق ہوا کرے تو ( ان آداب کا لحاظ رکھو ایک یہ کہ) ثابت قدم رہو ( بھاگو مت) اور ( دوسرے یہ کہ) اللہ کا خوب کثرت سے ذکر کرو ( کہ ذکر سے قلب میں قوت ہوتی ہے) امید ہے تم ( مقابلہ میں) کامیاب ہو ( کیونکہ ثبات قدم اور ثبات قلب جب جمع ہوں تو کامیابی غالب ہے) اور ( تیسرے یہ کہ تمام امور متعلقہ حرب میں) اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ( کا لحاظ) کیا کرو ( کہ کوئی کارروائی خلاف شرع نہ ہو) اور ( چوتھے یہ کہ اپنے امام سے اور باہم بھی) نزاع مت کرو ورنہ ( باہمی نااتفاقی سے) کم ہمت ہوجاؤ گے ( کیونکہ قوتیں منتشر ہوجائیں گی ایک کو دوسرے پر وثوق نہ ہوگا اور اکیلا آدمی کیا کرسکتا ہے) اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی ( ہوا خیزی سے مراد بد رعبی ہے کیونکہ دوسروں کو اس نااتفاقی کی اطلاع ہونے سے یہ امر لازمی ہے) اور (پانچویں یہ کہ اگر کوئی امر ناگواری کا پیش آئے تو اس پر) صبر کرو بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں ( اور معیت الہی موجب نصرت ہے) اور ( چھٹے یہ کہ نیت خالص رکھو تفاخر اور نمائش میں) ان ( کافر) لوگوں کے مشابہ مت ہونا کہ جو ( اسی واقعہ بدر میں) اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو ( اپنی شان و سامان) دکھلاتے ہوئے نکلے اور ( اس فخر و ریا کے ساتھ یہ بھی نیت تھی کہ) لوگوں کو اللہ کے رستہ ( یعنی دین) سے روکتے تھے ( کیونکہ مسلمانوں کو زک دینے چلے تھے جس کا اثر عام طبائع پر بھی دین سے بعد ہوتا) اور اللہ تعالیٰ ( ان لوگوں کو پوری سزا دے گا چناچہ وہ) ان کے اعمال کو ( اپنے علم کے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔- معارف و مسائل - جنگ و جہاد میں کامیابی کے لئے قرآنی ہدایات پہلی دو آیتوں میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو میدان جنگ اور مقابلہ دشمن کے لئے ایک خاص ہدایت نامہ دیا ہے جو ان کے لئے دنیا میں کامیابی اور فتح مندی کا اور آخرت کی نجات و فلاح کا نسخہ اکسیر ہے اور قرون اولی کی تمام جنگوں میں مسلمانوں کی فوق العادت کامیابیوں اور فتوحات کا راز اسی میں مضمر ہے۔ اور وہ چند چیزیں ہیں۔ اول ثبات۔ یعنی ثابت رہنا اور جمنا۔ جس میں ثبات قلب اور ثبات قدم دونوں داخل ہیں کیونکہ جب تک کسی شخص کا دل مضبوط اور ثابت نہ ہو اس کا قدم اور اعضاء ثابت نہیں رہ سکتے اور یہ چیز ایسی ہے جس کو ہر مومن و کافر جانتا اور سمجھتا ہے اور دنیا کی ہر قوم اپنی جنگوں میں اس کا اہتمام کرتی ہے۔ کیونکہ اہل تجربہ سے مخفی نہیں کہ میدان جنگ کا سب سے پہلا اور سب سے زیادہ کامیاب ہتھیار ثبات قلب و قدم ہی ہے دوسرے سارے ہتھیار اس کے بغیر بیکار ہیں۔ - دوسرے ذکر اللہ یہ وہ مخصوص اور معنوی ہتھیار ہے جس سے مومن کے سوا عام دنیا غافل ہے پوری دنیا جنگ کے لئے بہترین اسلحہ اور نئے سے نیا سامان مہیا کرنے اور فوج کے ثابت قدم رکھنے کی تو پوری تدبیریں کرتی ہے۔ مگر مسلمانوں کے اس روحانی اور معنوی ہتھیار سے بیخبر اور ناآشنا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر میدان میں جہاں مسلمانوں کا مقابلہ ان ہدایات کے مطابق کسی قوم سے ہوا مخالف کی پوری طاقت اور اسلحہ اور سامان کو بیکار کردیا۔ ذکر اللہ کی اپنی ذاتی اور معنوی برکات تو اپنی جگہ ہیں ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ ثبات قدم کا اس سے بہتر کوئی نسخہ بھی نہیں۔ اللہ کی یاد اور اس پر اعتماد وہ بجلی کی طاقت ہے جو ایک انسان ضعیف کو پہاڑوں سے ٹکرا جانے پر آمادہ کردیتی ہے اور کیسی ہی مصیبت اور پریشانی ہو اللہ کی یاد سب کو ہوا میں اڑا دیتی ہے اور انسان کے قلب کو مضبوط اور قدم کو ثابت رکھتی ہے۔ - یہاں یہ بات بھی پیش نظر رکھئے کہ جنگ و قتال کا وقت عادةً ایسا وقت ہوتا ہے کہ اس میں کوئی کسی کو یاد نہیں کرتا اپنی فکر پڑی ہوتی ہے۔ اس لئے جاہلیت عرب کے شعراء میدان جنگ میں بھی اپنے محبوب کو یاد کرنے پر فخر کیا کرتے ہیں کہ وہ بڑی قوت قلت اور …

Al-Anfaal 8:45Listen in Qur'an →
46

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَٰزَعُوا۟ فَتَفْشَلُوا۟ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے

چھیالیسویں آیت میں ایک تیسری چیز کی تلقین اور کی گئی وہ ہے (آیت) وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو لازم پکڑو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی امداد و نصرت اس کی اطاعت ہی کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے معصیت اور نافرمانی تو اللہ کی ناراضی اور ہر فضل سے محرومی کے اسباب ہوتے ہیں۔ اس طرح میدان جنگ کے لئے قرآنی ہدایت نامہ کی تین دفعات ہوگئیں ثبات، ذکر اللہ، اطاعت۔ اس کے بعد فرمایا (آیت) وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا، اس میں مضر پہلوؤں پر تنبیہ کرکے ان سے بچنے کی ہدایت ہے۔ اور وہ مضر پہلو جو جنگ کی کامیابی میں مانع ہوتا ہے باہمی نزاع و اختلاف ہے۔ اس لئے فرمایا وَلَا تَنَازَعُوْا یعنی آپس میں نزاع اور کشاکش نہ کرو۔ ورنہ تم میں بزدلی پھیل جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ - اس میں باہمی نزاع کے دو نتیجے بیان کئے گئے ہیں ایک یہ کہ تم ذاتی طور پر کمزور اور بزدل ہوجاؤ گے۔ دوسرے یہ کہ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی دشمن کی نظروں میں حقیر ہوجاؤ گے باہمی کشاکش اور نزاع سے دوسروں کی نظر میں حقیر ہوجانا تو بدیہی امر ہے لیکن خود اپنی قوت پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے کہ اس میں کمزوری اور بزدلی آجائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باہمی اتحاد و اعتماد کی صورت میں ہر ایک انسان کے ساتھ پوری جماعت کی طاقت لگی ہوئی ہوتی ہے اس لئے ایک آدمی اپنے اندر بقدر اپنی جماعت کے قوت محسوس کرتا ہے اور جب باہمی اتحاد و اعتماد نہ رہا تو اس کی اکیلی قوت رہ گئی وہ ظاہر ہے جنگ و قتال کے میدان میں کوئی چیز نہیں۔ - اس کے بعد ارشاد فرمایا واصْبِرُوْا۔ یعنی صبر کو لازم پکڑو۔ سیاق کلام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نزاع اور جھگڑوں سے بچنے کا کامیاب نسخہ بتلایا گیا ہے اور بیان اس کا یہ ہے کہ کوئی جماعت کتنی ہی متحد الخیال اور متحد المقصد ہو مگر افراد انسانی کی طبعی خصوصیات ضرور مختلف ہوا کرتی ہیں نیز کسی مقصد کے لئے سعی و کوشش میں اہل عقل و تجربہ کی رایوں کا اختلاف بھی ناگزیر ہے۔ اس لئے دوسروں کے ساتھ چلنے اور ان کو ساتھ رکھنے کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ آدمی خلاف طبع امور پر صبر کرنے اور نظر انداز کرنے کا عادی ہو اور اپنی رائے پر اتنا جماؤ اور اصرار نہ ہو کہ اس کو قبول نہ کیا جائے تو لڑ بیٹھے۔ اسی صفت کا دوسرا نام صبر ہے۔ آج کل یہ تو ہر شخص جانتا اور کہتا ہے کہ آپس کا نزاع بہت بری چیز ہے مگر اس سے بچنے کا جو گُر ہے کہ آدمی خلاف طبع امور پر صبر کرنے کا خوگر بنے اپنی بات منوانے اور چلانے کی فکر میں نہ پڑے۔ یہ بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے اسی لئے اتحاد و اتفاق کے سارے وعظ و پند بےسود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ آدمی کو دوسرے سے اپنی بات منوا لینے پر تو قدرت نہیں ہوتی مگر خود دوسرے کی بات مان لینا اور اگر اس کی عقل و دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ اس کو نہ مانے تو کم از کم نزاع سے بچنے کے لئے سکوت کرلینا تو بہرحال اختیار میں ہے اس لئے قرآن کریم نے نزاع سے بچنے کی ہدایت کے ساتھ ساتھ صبر کی تلقین بھی ہر فرد جماعت کو کردی تاکہ نزاع سے بچنا عملی دنیا میں آسان ہوجائے۔ - یہاں یہی بات بھی قابل نظر ہے کہ قرآن کریم نے اس جگہ لَا تَنَازَعُوْا فرمایا ہے یعنی باہمی کشاکش کو روکا ہے رائے کے اختلاف یا اس کے اظہار سے منع نہیں کیا۔ اختلاف رائے جو دیانت اور اخلاص کے ساتھ ہو وہ کبھی نزاع کی صورت اختیار نہیں کیا کرتا۔ نزاع وجدال وہیں ہوتا ہے جہان اختلاف رائے کے ساتھ اپنی بات منوانے اور دوسرے کی بات نہ ماننے کا جذبہ کام کر رہا ہو۔ اور یہی وہ جذبہ ہے جس کو قرآن کریم نے واصْبِرُوْا کے لفظ سے ختم کیا ہے اور آخر میں صبر کرنے کا ایک عظیم الشان فائدہ بتلا کر صبر کی تلخی کو دور فرما دیا۔ ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ۔ یعنی صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی …

Al-Anfaal 8:46Listen in Qur'an →
47

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ خَرَجُوا۟ مِن دِيَٰرِهِم بَطَرًۭا وَرِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌۭ

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے

سینتالیسویں آیت میں ایک اور مضر پہلو پر تنبیہ اور اس سے پرہیز کی ہدایت دی گئی ہے وہ ہے اپنی قوت و کثرت پر ناز یا کام میں اخلاص کے بجائے اپنی کوئی اور غرض مضمر ہونا کیونکہ یہ دونوں چیزیں بھی بڑی طاقتور جماعتوں کو پسپا اور زیر کردیا کرتی ہیں۔ - اس آیت میں اشارہ قریش مکہ کے حالات کی طرف بھی ہے جو اپنے تجارتی قافلہ کی حفاظت کے لئے بھاری تعداد اور سامان لے کر اپنی قوت و کثرت پر اتراتے ہوئے نکلے تھے۔ اور جب تجارتی قافلہ مسلمانوں کی زد سے باہر ہوگیا اس وقت بھی اس لئے واپس نہیں ہوئے کہ اپنی شجاعت و بہادری کا مظاہرہ کرنا تھا۔ - مستند روایات میں ہے کہ جب ابوسفیان اپنا تجارتی قافلہ لے کر مسلمانوں کی زد سے بچ نکلے تو ابوجہل کے پاس قاصد بھیجا کہ اب تمہارے آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں رہی واپس آجاؤ اور بھی بہت سے قریش سرداروں کی یہی رائے تھی۔ مگر ابوجہل اپنے کبر و غرور اور شہرت پرستی کے جذبہ میں قسم کھا بیٹھا کہ ہم اس وقت تک واپس نہ ہوں گے جب تک چند روز مقام بدر پر پہنچ کر اپنی فتح کا جشن نہ منالیں۔- جس کے نتیجہ میں وہ اور اس کے بڑے بڑے ساتھی سب وہیں ڈھیر ہوئے اور ایک گڑھے میں ڈالے گئے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو ان کے طریقہ کار سے پرہیز کرنے کی ہدایت فرمائی گئی۔

Al-Anfaal 8:47Listen in Qur'an →
48

وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ ٱلْيَوْمَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَإِنِّى جَارٌۭ لَّكُمْ ۖ فَلَمَّا تَرَآءَتِ ٱلْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّنكُمْ إِنِّىٓ أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ ۚ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور جب شیطانوں نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر کے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوئیں تو پسپا ہو کر چل دیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

خلاصہ تفسیر - اور اس وقت کا ان سے ذکر کیجئے جب کہ شیطان نے ان (کفار) کو (بذریعہ وسوسہ) انکے اعمال ( کفریہ عداوت و مخالفت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ( خوشنما کرکے دکھلائے ( کہ انہوں نے ان باتوں کو اچھا سمجھا) اور ( وسوسہ سے بڑھ کر یہ کیا کہ بالمشافہ ان سے) کہا کہ ( تم کو وہ قوت و شوکت ہے کہ تمہارے مخالف) لوگوں میں سے آج کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور میں تمہارا حامی ہوں ( نہ بیرونی دشمنوں سے ڈرو اور نہ اندرونی دشمنوں سے اندیشہ کرو) پھر جب دونوں جماعتیں ( کفار و مسلیمن کی) ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئیں (اور اس نے ملائکہ کا نزول دیکھا) تو وہ الٹے پاؤں بھاگا اور یہ کہا کہ میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں ( میں حامی وامی کچھ نہیں بنتا کیونکہ) میں ان چیزوں کو دیکھ رہا ہوں جو تم کو نظر نہیں آتیں ( مراد فرشتے ہیں) میں تو خدا سے ڈرتا ہوں ( کبھی کسی فرشتہ سے دنیا ہی میں میری خبر لوا دے) اللہ تعالیٰ سکت سزا دینے والے ہیں۔ اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے کہ جب منافقین ( مدینہ والوں میں سے) اور جن کے دلوں میں ( شک کی) بیماری تھی (مکہ والوں میں سے مسلمانوں کا بےسرو سامانی کے ساتھ مقابلہ کفار میں آجانا دیکھ کر) یوں کہتے تھے کہ ان ( مسلمان) لوگوں کو ان کے دین نے بھول میں ڈال رکھا ہے ( کہ اپنے دین کے حق ہونے کے بھروسے ایسے خطرہ میں آپڑے۔ اللہ جواب دیتے ہیں) اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو ( وہ اکثر غالب ہی آتا ہے کیونکہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ زبردست ہیں ( اس لئے اپنے اوپر بھروسہ کرنے والے کو غالب کردیتے ہیں کیونکہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ زبردست ہیں ( اس لئے اپنے اوپر بھروسہ کرنے والے کو غالب کردیتے ہیں اور احیانًا ایسا شخص مغلوب ہوجائے تو اس میں کچھ مصلحت ہوتی ہے کیونکہ) وہ حکمت والے ( بھی) ہیں ( غرض ظاہری سامان و بےسامانی پر مدار نہیں قادر کوئی اور ہی ہے ) ۔ - معارف و مسائل - سورة انفال میں شروع سے غزوہ بدر میں پیش آنے والے واقعات اور حالات کا اور ان سے حاصل ہونی والی نصائح اور عبرتوں کا اور متعلقہ احکام کا بیان چل رہا ہے۔- اسی میں ایک واقعہ قریش مکہ کو شیطان کے فریب دے کر مسلمانوں کے مقابلہ پر ابھارنے اور پھر عین میدان جنگ میں ساتھ چھوڑ کر الگ ہوجانے کا ہے جو آیات مذکورہ کے شروع میں مذکورہ ہے۔ - شیطان کا یہ فریب قریش کے دلوں میں وسوسہ ڈالنے کی صورت سے تھا یا انسانی شکل میں آکر روبرو گفتگو سے۔ اس میں دونوں احتمال ہیں مگر الفاظ قرآن سے زیادہ تر تائید دوسری ہی صورت کی ہوتی ہے کہ بشکل انسانی سامنے آکر فریب دیا۔ - امام ابن جریر نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت سے نقل کیا ہے کہ جب قریش مکہ کا لشکر مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے مکہ سے نکلا تو ان کے دلوں پر ایک خطرہ اس کا سوار تھا کہ ہمارے قریب میں قبیلہ بنو بکر بھی ہمارا دشمن ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم مسلمانوں کے مقابلہ پر جائیں اور یہ دشمن قبیلہ موقع پا کر ہمارے گھروں اور عورتوں، بچوں پر چھاپہ مار دے۔ امیر قافلہ ابو سفیان کی گھبرائی ہوئی فریاد پر تیار ہو کر نکل تو کھڑے ہوئے مگر یہ خطرہ ان کے لئے زنجیر پا بنا ہوا تھا کہ اچانک شیطان سراقہ بن مالک کی صورت میں اس طرح سامنے آیا کہ اس کے ہاتھ میں جھنڈا اور اس کے ساتھ ایک دستہ بہادر فوج کا ہے۔ سراقہ بن مالک اس علاقہ اور قبیلہ کا بڑا سردار تھا جن سے حملہ کا خطرہ تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر قریشی جوانوں کے لشکر سے خطاب کیا اور دو طرح سے فریب میں مبتلا کیا۔ اول یہ کہ (آیت) لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ ، یعنی آج تمام لوگوں میں تم پر کوئی غالب آنے والا نہیں۔ مطلب یہ تھا کہ مجھے تمہارے مقابل فریق کی قوت کا بھی اندازہ ہے اور تمہاری قوت و کثرت کو بھی دیکھ رہا ہوں اس لئے تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم بےفکر ہو کر آگے بڑھو تمہیں غالب رہو گے کوئی تمہارے مقابلہ پر غالب آنے …

Al-Anfaal 8:48Listen in Qur'an →
49

إِذْ يَقُولُ ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَٰٓؤُلَآءِ دِينُهُمْ ۗ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے

شیطانی دجل و فریب اور اس سے بچنے کا طریقہ :- اول یہ کہ شیطان انسان کا دشمن ہے اس کو نقصان پہنچانے کے لئے طرح طرح کے حیلے کرتا اور بہروپ بدلتا ہے۔ بعض اوقات محض دل میں وسوسہ ڈال کر پریشان کرتا ہے اور بعض اوقات سامنے آکر دھوکا دیتا ہے۔ - دوسرے یہ کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے اس کی قدرت دی ہے کہ وہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ ایک مشہور حنفی فقیہ کی کتاب آکام المرجان فی احکام الجان میں اس کو بوضاحت ثابت کیا گیا ہے۔ اسی لئے محققین صوفیائے کرام جو اصحاب کشف و شہود ہیں انہوں نے لوگوں کو اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ کسی شخص کو دیکھ کر یا اس کا کلام سن کر بغیر تحقیق حال کے اس کے پیچھے چلنا بڑا خطرناک ہوتا ہے۔ کشف والہام میں بھی شیطانی تلبیسات ہوسکتی ہیں۔ مولانا رومی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے :- اے بسا ابلیس آدم روئے ست پس بہر دستے نشاید داد دست - اور حافظ نے فرامایا : - در راہ عشق وسوسہ اہر من بےست ہشدار و گوش رابہ پیام سروش دار - پیام سروش سے مراد وحی الہی ہے۔- کامیابی کے لئے صرف اخلاص نیت ہی کافی نہیں اس سے پہلے راستہ سیدھا ہونا ضروری ہے :- تیسرے یہ کہ جو لوگ کفر و شرک یا دوسرے ناجائز اعمال میں مبتلا ہوتے ہیں اس کا بشیتر سبب یہی ہوتا ہے کہ شیطان ان کے اعمال بد کو خوبصورت مستحسن اور نفع بخش ظاہر کرکے ان کے دل و دماغ کو حق و صدق اور صحیح نتائج کی طرف سے پھیر دیتا ہے وہ اپنے باطل ہی کو حق اور برے کو بھلا سمجھنے لگتے ہیں اور اہل حق کی طرح اپنے باطل پر جان دینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ اسی لئے قریشی لشکر اور اس کے سردار جب بیت اللہ سے رخصت ہو رہے تھے تو بیت اللہ کے سامنے ان الفاظ سے دعا کر کے چلے تھے کہ اللھم انصر اھدی الطائفتین یعنی اے اللہ ہم دونوں جماعتوں میں سے جو زیادہ ہدایت پر ہے اس کی مدد فرمایئے اور فتح دیجئے۔ یہ بیخبر لوگ شیطانی فریب میں آکر اپنے آپ ہی کو زیادہ ہدایت پر اور حق بجانب سمجھتے تھے۔ اور پورے اخلاص کے ساتھ اپنے باطل کی حمایت و نصرت میں جان مال قربان کرتے تھے۔ - اس سے معلوم ہوگیا کہ نرا اخلاص کافی نہیں جب تک کہ عمل کا رخ درست نہ ہو۔ - اس کے بعد کی دوسری آیت میں منافقین مدینہ اور مشرکین مکہ کا ایک مشترک مقولہ مسلمانوں کے بارے میں یہ نقل کیا جو گویا ان پر ترس کھا کر کہا گیا ہے کہ (آیت) غَرَّ ھٰٓؤ ُ لَاۗءِ دِيْنُهُمْ ۔ یعنی میدان بدر میں یہ مٹھی بھر مسلمان اتنے بھاری اور قوی لشکر سے ٹکرانے آگئے ان بےچاروں کو ان کے دین نے فریب میں ڈال کر موت کے منہ میں دے دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا (آیت) وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔ یعنی جو شخص اللہ پر توکل اور بھروسہ کرلیتا ہے تو یاد رکھو کہ وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ سب پر غالب ہے اس کی حکمت کے سامنے سب کی عقل و دانش رکھی رہ جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم لوگ صرف مادہ اور مادیات کو جاننے والے اور اسی پر بھروسہ کرنے والے ہو تمہیں اس مخفی طاقت کی خبر نہیں جو اس مادہ اور مادیات کے پیدا کرنے والے کے خزانوں میں ہے اور جو ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اعتماد رکھتے ہیں۔ - آج بھی دیندار بھولے بھالے مسلمانوں کو دیکھ کر بہت سے عقل و دانش کے مدعی یوں ہی کہا کرتے ہیں کہ :- اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انھیں کچھ نہ کہو - لیکن اگر ان میں اللہ پر ایمان اور اعتماد پورا ہو تو انھیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا۔

Al-Anfaal 8:49Listen in Qur'an →
50

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۙ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَٰرَهُمْ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ

اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو

خلاصہ تفسیر - اور اگر آپ ( اس وقت کا واقعہ) دیکھیں ( تو عجیب واقعہ نظر آئے) جب کہ فرشتے ان ( موجودہ) کافروں کی جان قبض کرتے جاتے ہیں ( اور) ان کے منہ پر اور ان کی پشتوں پر مارتے جاتے ہیں اور یہ کہتے جاتے ہیں کہ ( ابھی کیا ہے آگے چل کر) آگ کی سزا جھیلنا ( اور) یہ عذاب ان اعمال ( کفریہ) کی وجہ سے ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سمیٹے ہیں اور یہ امر ثابت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والے نہیں ( سو اللہ تعالیٰ نے بےجرم سزا نہیں دی پس) ان کی حالت ( اس بارے میں کہ کفر پر سزا یاب ہوئے) ایسی ہے جیسی فرعون والوں کی اور ان سے پہلے ( کافر) لوگوں کی حالت تھی کہ انہوں نے آیات الہیہ کا انکار کیا سو اللہ تعالیٰ نے ان کے ( ان) گناہوں پر ان کو ( عذاب میں) پکڑ لیا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کسی عذاب کو ہٹا سکے اور) یہ بات ( کہ بلا جرم ہم سزا نہیں دیتے) اس سبب سے ہے ( کہ ہمارا ایک قاعدہ کلیہ مقرر ہے اور بلا جرم سزا نہ دینا اسی قاعدہ کی ایک فرع ہے اور وہ قاعدہ یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ کسی ایسی نعمت کو جو کسی قوم کو عطا فرمائی ہو نہیں بدلتے جب تک کہ وہی لوگ اپنے ذاتی اعمال کو نہیں بدل ڈالتے اور یہ امر ثابت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑے سننے والے بڑے جاننے والے ہیں ( پس وہ تغیر قولی کو سنتے ہیں تغیر فعلی کو جانتے ہیں سو ان کفار موجودین نے اپنی یہ حالت بدلی کہ ان میں باوجود کفر کے اول ایمان لانے کی استعداد قریب تھی انکار و مخالفت کر کر کے اس کو بعید کر ڈالا پس ہم نے اپنی نعمت امہال کو جو پہلے سے ان کو حاصل تھی مبدل بدار و گیر کردیا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ انہوں نے بطریق مذکور نعمت قرب استعداد کو بدل ڈالا ) ۔- معارف و مسائل - مذکورہ آیات میں سے پہلی دو آیتوں میں موت کے وقت کافروں کے عذاب اور فرشتوں کی تنبیہات کا ذکر ہے۔ اس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرکے فرمایا ہے کہ اگر آپ ان کافروں کا حال اس وقت دیکھتے جبکہ اللہ کے فرشتے ان کی روح قیض کرنے کے وقت ان کے چہروں اور پشتوں پر مار رہے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ آگ میں جلنے کا عذاب چکھو۔ آپ ایک بڑا عبرتناک منظر دیکھتے۔- ائمہ تفسیر میں سے بعض حضرات نے اس کو ان کفار قریش کے متعلق قرار دیا ہے جو میدان بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ پر آئے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی امداد کے لئے فرشتوں کا لشکر بھیج دیا تھا اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ میدان بدر میں جو قریشی سردار مارے گئے ان کے مارنے میں فرشتوں کا ہاتھ تھا جو ان کے سامنے سے چہروں پر اور پیچھے سے ان کی پشتوں پر مار کر ان کو ہلاک کر رہے تھے اور ساتھ ہی آخرت میں جہنم کے عذاب کی خبر سنا رہے تھے۔- اور جن حضرات نے الفاظ آیت کے عموم کی بنا پر اس کا مضمون عام رکھا ہے ان کے مطابق معنی آیت کے یہ ہیں کہ جب کوئی کافر مرتا ہے فرشتہ موت ان کی روح قبض کرنے کے وقت ان کے چہرہ اور پشت پر مارتا ہے بعض روایات میں ہے کہ آگ کے کوڑے اور لوہے کے گرز ان کے ہاتھ میں ہوتے ہیں جن سے وہ مرنے والے کافر کو مارتے ہیں۔ مگر چونکہ اس عذاب کا تعلق اس عالم عناصر سے نہیں بلکہ عالم قبر سے ہے جس کو برزخ کہا جاتا ہے اس لئے یہ عذاب عام طور پر آنکھوں سے نہیں دیکھا جاتا۔- اسی لئے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ خطاب کیا گیا اگر آپ دیکھتے تو بڑا عبرتناک منظر دیکھتے اس سے معلوم ہوا کہ موت کے بعد عالم برزخ میں کفار کو عذاب ہوتا ہے مگر اس کا تعلق عالم غیب سے ہے اس لئے عام طور پر دیکھا نہیں جاتا۔ عذاب قبر کا ذکر قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی آیا ہے اور روایات حدیث تو اس معاملہ میں بیشمار ہیں۔

Al-Anfaal 8:50Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.