Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 21–30 of 75

21

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم (خدا) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے

دوسری آیت میں اسی مضمون کی مزید تاکید کے لئے ارشاد فرمایا (آیت) وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ ، یعنی تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم نے سن لیا مگر درحقیقت سنا سنایا کچھ نہیں۔ ان لوگوں سے مراد عام کفار بھی ہیں جو سننے کا دعوی کرتے ہیں اعتقاد کا نہیں کرتے۔ اور منافقین بھی ہیں جو سننے کے ساتھ سمجھنے اور اعتقاد رکھنے کے بھی مدعی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ غور و فکر اور صحیح سمجھ سے یہ دونوں محروم ہیں اس لئے ان کا سننا نہ سننے کے حکم میں ہے مسلمانوں کو ان لوگوں کے مشابہ ہونے سے منع فرمایا گیا۔

Al-Anfaal 8:21Listen in Qur'an →
22

۞ إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلصُّمُّ ٱلْبُكْمُ ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ

کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے

تیسری آیت میں ان لوگوں کی شدید مزمت ہے جو حق بات کو غور و تدبر کے ساتھ نہیں سنتے اور اس کو قبول نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کو قرآن کریم نے جانوروں سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔ ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ ۔- لفظ دواب دابہ کی جمع ہے اصل لغت کے اعتبار سے ہر زمین پر چلنے والے کو دابہ کہا جاتا ہے مگر عرف و محاورہ میں صرف چوپایہ جانوروں کو دابة کہتے ہیں۔ معنی آیت کے یہ ہوئے کہ سب سے بدترین چوپائے اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو حق کو سننے سے بہرے اور اس کے قبول کرنے سے گونگے ہیں اور بہرے گونگے میں اگر کچھ عقل ہو تو وہ بھی اشاروں سے اپنے دل کی بات کہہ لیتا ہے اور دوسروں کی بات سمجھ لیتا ہے یہ لوگ بہرے گونگے ہونے کے ساتھ بےعقل بھی ہیں اور یہ ظاہر ہے جو بہرا گونگا عقل سے بھی خالی ہو اس کے سمجھنے سمجھانے کا کوئی راستہ نہیں۔ - اس آیت میں حق تعالیٰ نے یہ واضح کردیا کہ انسان کو جو احسن تقویم میں پیدا کیا گیا اور اشرف المخلوقات اور مخدوم کائنات بنایا گیا یہ سب انعامات صرف اطاعت حق میں مضمر اور منحصر ہیں جب انسان نے حق بات کے سننے سمجھنے اور ماننے سے اعراض کیا تو یہ سارے انعامات اس سے سلب ہوجاتے ہیں اور وہ جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔- تفسیر روح البیان میں ہے کہ انسان اپنی اصل خلقت کے اعتبار سے سب جانوروں سے افضل و اعلی ہے اور فرشتوں سے کم درجہ رکھتا ہے۔ لیکن جب وہ اپنے سعی و عمل اور اطاعت حق میں جد و جہد کرتا ہے تو فرشتوں سے بھی اعلی و اشرف ہوجاتا ہے اور اگر اس نے اطاعت حق سے روگردانی کی تو پھر وہ اسفل سافلین میں جاتا ہے اور جانوروں سے بھی زیادہ بدتر ہوجاتا ہے۔

Al-Anfaal 8:22Listen in Qur'an →
23

وَلَوْ عَلِمَ ٱللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًۭا لَّأَسْمَعَهُمْ ۖ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا۟ وَّهُم مُّعْرِضُونَ

اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے

چوتھی آیت میں ارشاد ہے (آیت) وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ، یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی بھلائی دیکھتے تو ان کو اعتقاد کے ساتھ سننے کی توفیق بخش دیتے اور اگر ان کو بحالت موجودہ کہ ان میں طلب حق نہیں ہے حق بات سنا دیں تو وہ ضرور روگردانی کریں گے بےرخی کرتے ہوئے۔ - بھلائی سے مراد اس جگہ طلب حق ہے کہ طلب ہی کے ذریعہ تدبر اور فہم کے دروازے کھلتے ہیں اور اسی سے اعتقاد و عمل کی توفیق ہوتی ہے۔ اور جس میں طلب حق نہیں گویا اس میں کوئی بھلائی نہیں، معنی یہ ہیں کہ اگر ان میں کوئی بھلائی موجود ہوتی تو ظاہر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی جب اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں۔ تو معلوم ہوا کہ درحقیقت وہ ہر بھلائی سے محروم ہیں اور اس محرومی کی حالت میں اگر ان کو غور و تدبر اور اعتقاد حق کی دعوت دی جائے تو وہ ہرگز قبول نہ کریں گے بلکہ اس سے منہ پھیر کر بھاگیں گے۔ یعنی ان کی یہ روگردانی اس بنا پر نہ ہوگی کہ دین میں ان کو اعتراض کی بات نظر آگئی اس لئے نہیں مانا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے حق بات پر دھیان ہی نہیں دیا۔ - اس تقریر سے وہ منطقی شبہ بھی رفع ہوگیا جو اہل علم کے دلوں میں کھٹکتا ہے کہ یہ قیاس کی شکل اول ہے حد اوسط حذف کریں تو نتیجہ غلط نکل رہا ہے۔ جواب یہ ہے کہ درحقیقت یہاں حد اوسط مکرر نہیں کیونکہ پہلے لَّاَسْمَعَهُمْ کا مفہوم الگ ہے دوسرے اسمعھم کا الگ پہلے میں سماع قبول اور سماع نافع مراد ہے دوسرے میں خالی سماع۔

Al-Anfaal 8:23Listen in Qur'an →
24

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَجِيبُوا۟ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَقَلْبِهِۦ وَأَنَّهُۥٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

مومنو! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حامل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤ گے

پانچویں آیت میں پھر اہل ایمان کو خطاب کرکے اللہ اور رسول کے احکام کی تعمیل و اطاعت کا حکم ایک خاص انداز سے دیا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں جس چیز کی دعوت دیتے ہیں اس میں اللہ اور رسول کا اپنا کوئی فائدہ مضمر نہیں بلکہ سب احکام تمہارے ہی فائدہ کیلئے دیئے گئے ہیں ارشاد فرمایا (آیت) اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ ، یعنی بات مانو اللہ کی اور رسول کی جب کہ رسول تم کو ایسی چیز کی طرف بلائے جو تمہارے لئے زندگی بخش ہے۔- وہ حیات جس کا ذکر اس آیت میں ہے کیا ہے اس میں کئی احتمال ہیں اس لئے علماء تفسیر نے مختلف قول اختیار کئے ہیں۔ سدی نے کہا کہ وہ حیات بخش چیز ایمان ہے کیونکہ کافر مردہ ہے۔ قتادہ نے فرمایا کہ وہ قرآن ہے جس میں دنیا و آخرت کی زندگی اور فلاح مضمر ہے۔ مجاہد نے فرمایا کہ وہ حق ہے۔ ابن اسحاق نے فرمایا کہ مراد اس سے جہاد ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عزت بخشی۔ اور یہ سب احتمالات اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں ان میں کوئی تضاد نہیں اور مراد یہ ہے کہ ایمان یا قرآن یا اتباع حق وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کا دل زندہ ہوتا ہے اور دل کی زندگی یہ ہے کہ بندہ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو غفلت و شہوت وغیرہ کے حجابات حائل ہیں وہ راہ سے ہٹ جائیں اور حجابات کی ظلمت دور ہو کر نور معرفت دل میں جگہ کرلے۔ - ترمذی اور نسائی نے بروایت حضرت ابوہریرہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک روز ابی بن کعب کو بلایا۔ ابی بن کعب نماز پڑھ رہے تھے جلدی جلدی نماز پوری کرکے حاضر ہوئے، آپ نے فرمایا کہ میرے پکارنے پر آنے میں دیر کیوں لگائی۔ ابی بن کعب نے عرض کیا کہ میں نماز میں تھا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں سنا (آیت) اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ ۔ ابی بن کعب نے عرض کیا کہ آئندہ اس کی اطاعت کروں گا اگر بحالت نماز بھی آپ بلائیں گے فورا حاضر ہوجاؤں گا۔ - اس حدیث کی بنا پر بعض فقہاء نے فرمایا کہ حکم رسول کی اطاعت سے نماز میں جو کام بھی کریں اس سے نماز میں خلل نہیں ہوتا، اور بعض نے فرمایا کہ اگرچہ خلاف نماز افعال سے نماز قطع ہوجائے گی اور اس کی بعد میں قضا کرنا پڑے گی لیکن کرنا یہی چاہئے کہ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کو بلائیں اور وہ نماز میں بھی ہو تو نماز کو قطع کرکے تعمیل حکم کرے۔- یہ صورت تو صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص ہے لیکن دوسرے ایسے کام جن میں تاخیر کرنے سے کسی شدید نقصان کا خطرہ ہو اس وقت بھی نماز قطع کردینا اور پھر قضا کرلینا چاہئے، جیسے کوئی نمازی یہ دیکھے کہ نابینا آدمی کنویں یا گڑھے کے قریب پہنچ کر گرا چاہتا ہے تو فورا نماز توڑ کر اس کو بچانا چاہئے۔- آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ ، یعنی یہ بات سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ آڑ بن جایا کرتا ہے آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان۔ اس جملہ کے دو معنی ہوسکتے ہیں اور دونوں میں عظیم حکمت و موعظت پائی جاتی ہے جو ہر انسان کو ہر وقت یاد رکھنی چاہئے۔- ایک معنی تو یہ ہوسکتے ہیں کہ جب کسی نیک کام کے کرنے یا گناہ سے بچنے کا موقع آئے تو اس کو فورا کر گزرو۔ دیر نہ کرو اور اس فرصت وقت کو غنیمت سمجھو کیونکہ بعض اوقات آدمی کے ارادہ کے درمیان قضاء الہی حائل ہوجاتی ہے وہ اپنے ارادہ میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کوئی بیماری پیش آجائے یا موت آجائے یا کوئی ایسا مشغلہ پیش آجائے کہ اس کام کی فرصت نہ ملے۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ فرصت عمر اور فرصت وقت کو غنیمت سمجھ کر آج کا کام کل پر نہ ڈالے کیونکہ معلوم نہیں کل کیا ہونا ہے - من نمی گویم زیان کن یا بفکر سود باش ای زفرصت بیخبر در ہرچہ باشی …

Al-Anfaal 8:24Listen in Qur'an →
25

وَٱتَّقُوا۟ فِتْنَةًۭ لَّا تُصِيبَنَّ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنكُمْ خَآصَّةًۭ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

خلاصہ تفسیر - اور ( جس طرح تم پر اپنی اصلاح کے متعلق اطاعت واجب ہے اسی طرح یہ بھی اطاعت واجبہ میں داخل ہے کہ بقدر وسع دوسروں کی اصلاح میں بطریق امر بالمعروف و نہی عن المنکر بالید یا باللسان ترک اختلاط یا نفرت بالقلب جو کہ آخری درجہ ہے کوشش کرو ورنہ درصورت مداہنت ان منکرات کا وبال جیسا مرتکبین منکرات پر واقع ہوگا ایسا ہی کسی درجہ میں ان مداہنت کرنے والوں پر بھی واقع ہوگا جب یہ بات ہے تو) تم ایسے وبال سے بچو کہ جو خاص ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں ان گناہوں میں مرتکب ہوئے ہیں ( بلکہ ان گناہوں کو دیکھ کر جنہوں نے مداہنت کی ہے وہ بھی اس میں شریک ہوں گے اور اس سے بچنا یہی ہے کہ مداہنت مت کرو) اور یہ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں ( ان کی سزا سے خوف کرکے مداہنت سے بچو) اور ( اس غرض سے کہ نعمتوں کے یاد کرنے سے اطاعت منعم کا شوق ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اور خاص کر) اس حالت کو یاد کرو جب کہ تم ( ایک وقت میں یعنی قبل ہجرت عدد میں بھی) قلیل تھے ( اور قوت کے اعتبار سے بھی) سرزمین ( مکہ) میں کمزور شمار کئے جاتے تھے ( اور غایت ضعف حالت میں) اللہ تعالیٰ نے تم کو ( مدینہ میں اطمینان سے) رہنے کو جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی ( سامان سے بھی اور مردم شماری کو زیادہ کرنے سے بھی جس سے قلت اور استضعاف اور خوف اختطاف سب زائل ہوگیا) اور ( صرف یہی نہیں کہ تمہاری مصیبت ہی کو دور کردیا ہو بلکہ اعلی درجہ کی خوشحالی بھی عطا فرمائی کہ دشمنوں پر تم کو غلبہ دے کر کثرت فتوحات سے) تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم ( ان نعمتوں کا) شکر کرو ( اور بڑا شکر یہ ہے کہ اطاعت کرو) اے ایمان والوں ( ہم مخالفت اور معصیت سے اس لئے ممانعت کرتے ہیں کہ اللہ اور رسول کے تم پر کچھ حقوق ہیں جن کا نفع تمہاری ہی طرف عائد ہوتا ہے اور معصیت سے ان حقوق میں خلل پڑتا ہے جس سے واقع میں تمہارے ہی نفع میں خلل پڑتا ہے جب یہ بات ہے تو) تم اللہ اور رسول کے حقوق میں خلل مت ڈالو اور ( باعتبار انجام کے اس مضمون کو اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ تم) اپنی قابل حفاظت چیزوں میں (کہ وہ تمہارے منافع ہیں جو اعمال پر مرتب ہوتے ہیں) خلل مت ڈالو اور تم تو ( اس کا مضر ہونا) جانتے ہو اور ( اکثر اوقات مال و اولاد کی محبت مخل اطاعت ہوجاتی ہے اس لئے تم کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ) تم اس بات کو جان رکھو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد ایک امتحان کی چیز ہے ( کہ دیکھیں کون ان کی محبت کو ترجیح دیتا ہے اور کون اللہ تعالیٰ کی محبت کو ترجیح دیتا ہے سو تم اس کی محبت کو ترجیح مت دینا) اور ( اگر ان کے منافع کی طرف نظر جائے تو تم) اس بات کو بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ( ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی محبت کو ترجیح دیتے ہیں) بڑا بھاری اجر ( موجود) ہے ( کہ اس کے سامنے یہ فانی منفعتیں محض ہیچ ہیں) ۔- معارف ومسائل - قرآن کریم نے غزوہ بدر کی کچھ تفصیلات اور اس میں مسلمانوں پر اپنے انعامات کا ذکر فرمانے کے بعد اس سے حاصل شدہ نتائج اور پھر اس کے مناسب مسلمانوں کو کچھ پند و نصیحت کے ارشادات بیان فرمائے ہیں جن کا سلسلہ (آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ سے شروع ہوا ہے۔ اسی سلسلہ کی یہ آیات ہیں جو اوپر لکھی گئی ہیں۔- ان میں سے پہلی آیت میں ایسے گناہ سے بچنے کی خاص طور پر ہدایت کی گئی ہے جس کا عذاب شدید صرف گناہ کرنے والوں پر محدود نہیں رہتا بلکہ ناکردہ گناہ لوگ بھی اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔- وہ گناہ کو نسا ہے اس میں علماء تفسیر کے متعدد اقوال ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ گناہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یعنی لوگوں کو نیک کاموں کی ہدایت اور برے کاموں سے روکنے کی جد و جہد کا ترک کردینا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس کا …

Al-Anfaal 8:25Listen in Qur'an →
26

وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌۭ مُّسْتَضْعَفُونَ فِى ٱلْأَرْضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ ٱلنَّاسُ فَـَٔاوَىٰكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِهِۦ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اور اس وقت کو یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو

دوسری آیت میں بھی احکام الہیہ کی اطاعت کو آسان کرنے اور اس پر ترغیب دینے کے لئے مسلمانوں کو ان کی پچلھی خستہ حالی اور ضعف و کمزوری پھر اس کے بعد اپنے فضل و انعام سے حالات بدل کر ان کو قوت اور اطمینان عطا فرمانے کا ذکر ہے۔ ارشاد فرمایا :- (آیت) وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۔ یعنی اے مسلمانو اپنے اس حال کو یاد کرو جو قبل ہجرت مکہ معظمہ میں تھا کہ تعداد میں بھی کم تھے اور قوت میں بھی ہر وقت یہ خطرہ لگا ہوا تھا کہ دشمن ان کو نوچ کھسوٹ لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو مدینہ میں بہترین ٹھکانا عطا فرمایا۔ اور نہ صرف ٹھکانا بلکہ اپنی تائید و نصرت سے ان کو قوت اور دشمنوں پر فتح اور اموال عظیمہ عطا فرما دیئے۔ آخر آیت میں فرمایا لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۔ یعنی تمہارے حالات کی اس کایا پلٹ اور انعامات الہیہ کا مقصد یہ ہے کہ تم شکر گزار بندے بنو۔ اور ظاہر ہے کہ شکر گزاری اس کے احکام کی اطاعت میں منحصر ہے۔

Al-Anfaal 8:26Listen in Qur'an →
27

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَخُونُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ وَتَخُونُوٓا۟ أَمَٰنَٰتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو

تیسری آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق میں یا آپس میں بندوں کے حقوق میں خیانت نہ کریں کہ حق ادا ہی نہ کریں یا اس میں کوئی اور کوتاہی کرکے ادا کریں۔ آخر آیت میں (آیت) وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ فرما کر یہ بتلا دیا کہ تم تو خیانت کی برائی اور اس کے وبال کو جانتے ہی ہو پھر اس پر اقدام کرنا قرین دانشمندی نہیں اور چونکہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی سے غفلت و کوتاہی کا سبب عموما انسان کے اموال و اولاد ہوا کرتے ہیں اس لئے اس پر تنبیہ کرنے کے لئے فرمایا :

Al-Anfaal 8:27Listen in Qur'an →
28

وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَآ أَمْوَٰلُكُمْ وَأَوْلَٰدُكُمْ فِتْنَةٌۭ وَأَنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجْرٌ عَظِيمٌۭ

اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے

(آیت) وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۔ یعنی یہ بات سمجھ رکھو کہ تمہارے مال و اولاد تمہارے لئے فتنہ ہیں۔ - فتنہ کے معنی امتحان کے بھی آتے ہیں اور عذاب کے بھی اور ایسی چیزوں کو بھی فتنہ کہا جاتا ہے جو عذاب کا سبب بنیں۔ قرآن کریم کی مختلف آیتوں میں ان تینوں معنی کے لئے لفظ فتنہ استعمال ہوا ہے۔ یہاں تنیوں معنی کی گنجائش ہے بعض اوقات مال و اولاد خود بھی انسان کے لئے دنیا ہی میں وبال جان بن جاتے ہیں اور ان کے سبب غفلت و معصیت میں مبتلا ہو کر سبب عذاب بن جانا تو بالکل ظاہر ہے۔ اول یہ کہ مال و اولاد کے ذریعہ تمہارا امتحان لینا مقصود ہے کہ یہ چیزیں ہمارے انعامات ہیں۔ تم انعام لے کر شکر گزار اور اطاعت شعار بنتے ہو یا ناشکرے اور نافرمان۔ دوسرے اور تیسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ مال اور اولاد کی محبت میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کو ناراض کیا تو یہی مال و اولاد تمہارے لئے عذاب بن جائیں گے۔ بعض اوقات تو دنیا ہی میں یہ چیزیں انسان کو سخت مصیبتوں میں مبتلا کردیتی ہیں اور دنیا ہی میں مال و اولاد کو وہ عذاب محسوس کرنے لگتے ہیں ورنہ یہ تو لازمی ہے کہ دنیا میں جو مال اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف کمایا گیا یا خرچ کیا گیا وہ مال ہی آخرت میں اس کے لئے سانپ بچھو اور آگ میں داغ دینے کا ذریعہ بن جائے گا۔ جیسا کہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں اور بیشمار روایات حدیث میں اس کی تصریحات موجود ہیں۔ اور تیسرے معنی یہ کہ یہ چیزیں سبب عذاب بن جائیں یہ تو ظاہر ہی ہے کہ جب یہ چیزیں اللہ تعالیٰ سے غفلت اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کا سبب بنیں تو عذاب کا سبب بن گئیں۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۔ یعنی یہ بھی سمجھ لو کہ جو شخص اللہ اور رسول کے احکام کی تعمیل میں مال و اولاد کی محبت سے مغلوب نہ ہو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔- اس آیت کا مضمون تو سب مسلمانوں کو عام اور شامل ہے مگر واقعہ اس کے نزول کا اکثر مفسرین کے نزدیک حضرت ابو لبابہ (رض) کا قصہ ہے جو غزوہ بنو قریظہ میں پیش آیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام نے بنو قریظہ کے قلعہ کا اکیس روز تک محاصرہ جاری رکھا جس سے عاجز ہو کر انہوں نے وطن چھوڑ کر ملک شام چلے جانے کی درخواست کی آپ نے ان کی شرارتوں کے پیش نظر اس کو قبول نہیں فرمایا بلکہ یہ ارشاد فرمایا کہ صلح کی صرف یہ صورت ہے کہ سعد بن معاذ تمہارے بارے میں جو کچھ فیصلہ کریں اس پر راضی ہوجاؤ۔ انہوں نے درخواست کی کہ سعد بن معاذ کے بجائے ابو لبابہ کو یہ کام سپرد کردیا جائے۔ کیونکہ حضرت ابولبابہ کے اہل و عیال اور جائیداد بنو قریظہ میں تھے، ان سے یہ خیال تھا کہ وہ ہمارے معاملہ میں رعایت کریں گے۔ آپ نے ان کی درخواست پر حضرت ابو لبابہ کو بھیج دیا۔ بنوقریظہ کے سب مرد و زن ان کے گرد جمع ہو کر رونے لگے اور یہ پوچھا کہ اگر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر اتر آئیں تو کیا ہمارے معاملہ میں وہ کچھ نرمی فرمائیں گے۔ ابولبابہ کو معلوم تھا کہ ان کے معاملہ میں نرمی برتنے کی رائے نہیں ہے۔ انہوں نے کچھ ان لوگوں کی گریہ وزاری سے اور کچھ اپنے اہل و عیال کی محبت سے متاثر ہو کر اپنے گلے پر تلوار کی طرح ہاتھ پھیر کر اشارہ سے بتلا دیا کہ ذبح کئے جاؤ گے۔ گویا اس طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا راز فاش کردیا۔- مال و اولاد کی محبت میں یہ کام کر تو گزرے۔ مگر فورا تنبہ ہوا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خیانت کی۔ جب وہاں سے واپس ہوئے تو اس درجہ ندامت سوار ہوئی کہ آپ کی خدمت میں لوٹنے کے بجائے سیدھے مسجد میں پہنچے اور مسجد کے ایک ستون کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ دیا اور قسم کھائی کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہوگی اسی طرح بندھا …

Al-Anfaal 8:28Listen in Qur'an →
29

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تَتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًۭا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ

مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے امر فارق پیدا کردے گا (یعنی تم کو ممتاز کردے گا) تو وہ تمہارے گناہ مٹادے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑا فضل والا ہے

خلاصہ تفسیر - ( اور) اے ایمان والو ( اطاعت کی اور برکات سنو وہ یہ کہ) اگر تم اللہ سے ڈر ( کر اطاعت کرتے) رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا ( اس میں ہدایت اور نور قلب جس سے حق و باطل میں علمی فیصلہ ہوتا ہے اور غلبہ علی الاعداء اور نجات آخرت جس سے حق و باطل میں عملی فیصلہ ہوتا ہے سب آگیا) اور تم سے تمہارے گناہ دور کردے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے ( خدا جانے اپنے فضل سے اور کیا کیا دے دے جو قیاس و گمان میں بھی نہ آتا ہو) اور ( اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کے سامنے تذکیر نعمت کے لئے) اس واقعہ کا بھی ذکر کیجئے جب کہ کافر لوگ آپ کی نسبت ( بری بری) تدبیریں سوچ رہے تھے کہ ( آیا) آپ کو قید کرلیں یا آپ کو قتل کر ڈالیں یا آپ کو خارج وطن کردیں اور وہ تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر ( ان تدبیروں کے دفع کرنے کے لئے) کررہے تھے اور سب سے زیادہ مستحکم تدبیر والا اللہ ہے ( جس کے سامنے ان کی ساری تدبیریں گاؤ خورد ہوگئیں اور آپ بال بال محفوظ رہے اور صحیح سالم مدینہ آپہنچے۔ چونکہ آپ کا اس طرح بچ رہنا مومنین کے حق میں بےانتہا ابواب سعادات کی مفتاح ہے اس لئے اس واقعہ کے ذکر کا حکم فرمایا) اور ( ان کفار کی یہ حالت ہے کہ) جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سن ( کر دیکھ) لیا ( یہ تو کوئی معجزہ نہیں کیونکہ) اگر ہم ارادہ کریں تو اس کی برابر ہم بھی کہہ لائیں ( پس) یہ ( قرآن) تو ( کلام الہی و معجزہ وغیرہ) کچھ بھی نہیں صرف بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے منقول چلی آرہی ہیں ( کہ پہلے اہل ملل بھی یہی دعوٰی توحید و بعثت وغیرہ کے کرتے آئے ہیں انہی کے مضامین آپ نقل کررہے ہیں) اور ( اس سے بڑھ کر قابل ذکر وہ حالت ہے) جب کہ ان لوگوں نے ( اپنے اس جہل مرکب میں غایت صلابت و جلادت ظاہر کرنے کو یہ بھی) کہا کہ اے اللہ اگر یہ قرآن آپ کی طرف سے واقعی ہے تو ہم پر ( اس کے نہ ماننے کی وجہ سے) آسمان سے پتھر برسایئے یا ہم پر کوئی ( اور) دردناک عذاب واقع کر دیجئے ( جو کہ خارق عادت ہونے میں مثل بارش سنگ کے ہو اور جب ایسے عذاب واقع نہ ہوئے تو اپنی حقانیت پر ناز کرتے ہیں) اور ( یہ نہیں سمجھتے کہ باوجود ان کے بطلان کے خاص موانع کی وجہ سے یہ عقوبات مذکورہ نازل نہیں ہوتیں ان موانع کا بیان یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ ایسا نہ کریں گے کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو ( ایسا) عذاب دیں اور ( نیز) اللہ تعالیٰ ان کو ( ایسا) عذاب نہ دیں گے جس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے رہتے ہیں ( گو وہ آخرت میں بوجہ ایمان نہ ہونے کے نافع نہ ہو لیکن آخر عمل صالح ہے دنیا میں تو کفار کو نافع ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ کہ ان عقوبات خارقہ سے دو امر مانع ہیں، ایک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تشریف رکھنا مکہ میں یا دنیا میں۔ اور دوسرا ان لوگوں کا اپنے طواف وغیرہ میں یہ کہنا غفرانک جو کہ بعد ہجرت و بعد وفات بھی باقی تھا اور ایک مانع حدیثوں میں ہے کہ حضور کی امت میں کسی کا ہونا گو امت دعوت ہی ہو یہ مانع باوجود کسی کے استغفار نہ کرنے کے بھی باقی ہے پس یہ امور فی نفسة مانع ہوئے گو احیانًا مانع کے ہوتے ہوئے بھی کوئی عذاب خارق کسی عارضی مصلحت سے واقع ہوجائے جیسا قذف و مسخ وغیرہ کا قرب قیامت میں ہونا حدیثوں میں وارد ہے۔- معارف ومسائل - پچلھی آیت میں اس کا ذکر تھا کہ انسان کے لئے مال اور اولاد ایک فتنہ یعنی آزمائش کی چیز ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی محبت میں مغلوب ہو کر انسان عمومًا اللہ تعالیٰ اور آخرت سے غافل ہوجاتا ہے حالانکہ اس عظیم نعمت کا عقلی تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کی وجہ سے اس کی طرف اور زیادہ جھکتا۔ - مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت اسی مضمون کی تکمیل ہے اس میں فرمایا ہے کہ جو شخص عقل کو طبیعت پر غالب رکھ کر اس آزمائش میں ثابت قدم …

Al-Anfaal 8:29Listen in Qur'an →
30

وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ ۚ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ ٱللَّهُ ۖ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَٰكِرِينَ

اور (اے محمدﷺ اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (اُدھر) خدا چال چل رہا تھا۔ اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے

دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کے ایک خاص انعام و احسان کا ذکر ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام پر بلکہ پوری دنیا پر ہوا ہے۔ کہ قبل از ہجرت جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار کے نرغہ میں تھے اور وہ آپ کے قید یا قتل کرنے کے مشورے کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلامت و عافیت مدینہ طیبہ پہنچا دیا۔ جس کا واقعہ تفسیر ابن کثیر اور مظہری میں بروایت محمد بن اسحاق و امام احمد و ابن جریر وغیرہ یہ نقل کیا گیا ہے کہ جب مدینہ طیبہ سے آنے والے انصار کا مسلمان ہوجانا مکہ میں مشہور ہوا تو قریش مکہ کو یہ فکر دامنگیر ہوگئی کہ اب تک تو ان کا معاملہ صرف مکہ میں دائر تھا جہاں ہر طرح کی قوت ہمارے ہاتھ میں ہے اور اب جب کہ مدینہ میں اسلام پھیلنے لگا اور بہت سے صحابہ کرام ہجرت کرکے مدینہ طیبہ پہنچ گئے تو اب ان کا ایک مرکز مدینہ طیبہ قائم ہوگیا جہاں یہ ہر طرح کی قوت ہمارے خلاف جمع کرسکتے ہیں اور پھر ہم پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ اور ان کو یہ بھی احساس ہوگیا کہ اب تک تو کچھ صحابہ کرام ہی ہجرت کرکے مدینہ طیبہ پہنچے ہیں اب یہ بھی قوی امکان ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی وہاں چلے جائیں اس لئے رؤ ساء مکہ نے مشورہ کے لئے دارالندوہ میں ایک خاص مجلس طلب کی۔ دارالند وہ مسجد حرام کے متصل قصی بن کلاب کا مکان تھا جس کو ان لوگوں نے قومی مسائل میں مشورہ اور مجلس کرنے کے لئے مخصوص کر رکھا تھا اور زمانہ اسلام میں اس کو مسجد حرام میں داخل کرلیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ باب الزیادات ہی وہ جگہ تھی جس کو دارالندوہ کہا جاتا تھا۔- حسب عادت اس مہم مشورہ کے لئے قریشی سرداروں کا اجتماع دارالندوہ میں ہوا جس میں ابوجہل، نضر بن حارث، عتبہ، امیہ بن خلف، ابو سفیان وغیرہ قریش کے تمام نمایاں اشخاص شامل ہوئے اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بڑھتی ہوئی قوت کے مقابلہ کی تدبیریں زیر غور آئیں۔- ابھی مشورہ کی مجلس شروع ہی ہوئی تھی کہ ابلیس لعین ایک سن رسیدہ عربی شیخ کی صورت میں دارالندوہ کے دروازہ پر آکھڑا ہوا۔ لوگوں نے پوچھا کہ تم کون ہو کیوں آئے ہو۔ بتلایا کہ میں نجد کا باشندہ ہوں مجھے معلوم ہوا کہ آپ لوگ ایک اہم مشورہ کر رہے ہیں تو قومی ہمدردی کے پیش نظر میں بھی حاضر ہوگیا کہ ممکن ہے میں کوئی مفید مشورہ دے سکوں۔- یہ سن کر اس کو اندر بلا لیا گیا اور مشورہ شروع ہوا تو سہیلی کی روایت کے مطابق ابو البختری ابن ہشام نے یہ مشورہ پیش کیا کہ ان کو یعنی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آہنی زنجیروں میں قید کر کے مکان کا دروازہ بند کردیا جائے اور چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ معاذ اللہ وہ آپ اپنی موت مرجائیں یہ سن کر شیخ نجدی ابلیس لعین نے کہا کہ یہ رائے صحیح نہیں۔ کیونکہ اگر تم نے ایسا کیا تو معاملہ چھپے گا نہیں بلکہ اس کی شہرت دور دور پہنچ جائے گی اور ان کے صحابہ اور رفقاء کے فدائیانہ کا رنامے تمہارے سامنے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ لوگ جمع ہو کر تم پر حملہ کردیں اور اپنے قیدی کو تم سے چھڑا لیں۔ سب طرف سے آوزیں اٹھیں کہ شیخ نجدی کی بات صحیح ہے اس کے بعد ابوالاسود نے یہ رائے پیش کی کہ ان کو مکہ سے نکال دیا جائے یہ باہر جاکر جو چاہیں کرتے رہیں ہمارا شہر ان کے فساد سے مامون ہوجائے گا۔ اور ہمیں کچھ جنگ وجدال بھی کرنا نہ پڑے گا۔ شیخ نجدی یہ سن کر پھر بولا کہ یہ رائے بھی صحیح نہیں، کیا تمیھیں معلوم نہیں کہ وہ کیسے شیریں کلام آدمی ہیں لوگ ان کا کلام سن کر مفتون اور مسحور ہوجاتے ہیں۔ اگر ان کو اس طرح آزاد چھوڑ دیا تو بہت جلد اپنی طاقتور جماعت بنالیں گے اور تم پر حملہ کرکے شکست دے دیں گے۔ اب ابوجہل بولا کہ جو کرنے کا کام ہے تم میں سے کسی نے نہیں سمجھا۔ میری سمجھ میں ایک بات آئی ہے وہ یہ کہ ہم عرب کے …

Al-Anfaal 8:30Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.