إِذْ يُغَشِّيكُمُ ٱلنُّعَاسَ أَمَنَةًۭ مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ لِّيُطَهِّرَكُم بِهِۦ وَيُذْهِبَ عَنكُمْ رِجْزَ ٱلشَّيْطَٰنِ وَلِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ ٱلْأَقْدَامَ
جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لیے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اُڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسادیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کردے۔ اور اس لیے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے
خلاصہ تفسیر - اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ تم پر اونگ طاری کر رہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لئے اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا تاکہ اس پانی کے ذریعہ تم کو ( بےوضو یا بےغسل ہونے کی حالت سے) پاک کردے اور ( تاکہ اس کے ذریعہ) تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کردے اور ( تاکہ) تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور (تاکہ) تمہارے پاؤں جمادے ( یعنی تم ریگ میں نہ دھسو) اس وقت کو یاد کرو جب کہ آپ کا رب ( ان) فرشتوں کو ( جو امداد کے لئے نازل ہوئے تھے) حکم دیتا تھا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں تو ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ میں ابھی کفار کے قلوب میں رعب ڈالے دیتا ہوں سو تم کفار کی گردنوں پر ( حربہ) مارو اور ان کے پور پور کو مارو۔ یہ اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ( اس کو سخت سزا دیتے ہیں ( خواہ دنیا میں کسی حکمت سے یا آخرت میں یا دونوں میں) سو ( بالفعل) یہ سزا چکھو اور جان رکھو کہ کافروں کے لئے جہنم کا عذاب مقرر ہی ہے۔