Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 31–40 of 75

31

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُنَا قَالُوا۟ قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَٰذَآ ۙ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں اور یہ ہے ہی کیا صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں

ہم بھی ایسا کلام بنا سکتے ہیں، ہم ناحق پر ہیں تو ہمارے اوپر پتھر کیوں نہیں برستا — یہ سب گھمنڈ کی باتیں ہیں۔ آدمی جب دنیا میں اپنے کو محفوظ حیثیت میں پاتاہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیداہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ بالکل درست ہے۔ اس کا یہ احساس اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلواتا ہے جو عام حالات میں کسی کی زبان سے نہیں نکلتے۔

اس قسم کے لوگوں میں یہ دلیری خدا کے قانونِ مہلت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا یقینا ًمجرموں کو سزا دیتا ہے مگر خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ آدمی کو ہمیشہ اس وقت پکڑتاہے جب کہ اس کے اوپر حق وباطل کی وضاحت کا کام مکمل طورپر انجام دے دیا گیا ہو۔ اس کام کی تکمیل سے پہلے کسی کو ہلاک نہیں کیا جاتا۔ نیز یہ کہ دعوتی عمل کے درمیان اگرا یک ایک دو دو آدمی اس سے متاثر ہوکر اپنی اصلاح کررہے ہوں تب بھی سزا کا نزول رکا رہتا ہے تاکہ یہ عمل اس حد تک مکمل ہوجائے کہ جتنی سعید روحیں ہیں سب اس سے باہر آچکی ہوں۔

امتوں میں بگاڑ آتاہے تو ایسانہیں ہوتاکہ ان کے درمیان سے دین کی صورتیں مٹ جائیں۔ بگاڑ کے زمانہ میں ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ خوفِ خدا والا دین جاتا رہتا ہے اور اس کی جگہ دھوم والا دین آجاتاہے۔ اب قوم کے پاس عمل نہیں ہوتا بلکہ ماضی کی شخصیتیں اور ان کے نام پر قائم شدہ گدّیاں ہوتی ہیں۔ لوگ ان شخصیتوں اور ان گدیوں سے وابستہ ہوکر سمجھتے ہیں کہ ان کو وہی عظمت حاصل ہوگئی ہے جو تاریخی اسباب سے خود ان شخصیتوں اور گدیوں کو حاصل ہے۔ لوگ اندر سے خالی ہوتے ہیں مگر بڑے بڑے ناموں پر نمائشی اعمال کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بڑا دینی کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔

مکہ کے لوگ اسی قسم کی نفسیات میں مبتلا تھے۔ ان کو فخر تھا کہ وہ بیت اللہ کے وارث ہیں۔ ابراہیم واسماعیل جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی امت ہیں۔ ان کو کعبہ کے خادم ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ان کا خیال تھا کہ جب ان کو اتنے دینی اعزازات حاصل ہیں اور وہ اتنے بڑے بڑے دینی کارنامے انجام دے رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو جہنم میں ڈال دے۔

Al-Anfaal 8:31Listen in Qur'an →
32

وَإِذْ قَالُوا۟ ٱللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ ٱلْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ أَوِ ٱئْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍۢ

اور جب انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج

ہم بھی ایسا کلام بنا سکتے ہیں، ہم ناحق پر ہیں تو ہمارے اوپر پتھر کیوں نہیں برستا — یہ سب گھمنڈ کی باتیں ہیں۔ آدمی جب دنیا میں اپنے کو محفوظ حیثیت میں پاتاہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیداہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ بالکل درست ہے۔ اس کا یہ احساس اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلواتا ہے جو عام حالات میں کسی کی زبان سے نہیں نکلتے۔

اس قسم کے لوگوں میں یہ دلیری خدا کے قانونِ مہلت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا یقینا ًمجرموں کو سزا دیتا ہے مگر خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ آدمی کو ہمیشہ اس وقت پکڑتاہے جب کہ اس کے اوپر حق وباطل کی وضاحت کا کام مکمل طورپر انجام دے دیا گیا ہو۔ اس کام کی تکمیل سے پہلے کسی کو ہلاک نہیں کیا جاتا۔ نیز یہ کہ دعوتی عمل کے درمیان اگرا یک ایک دو دو آدمی اس سے متاثر ہوکر اپنی اصلاح کررہے ہوں تب بھی سزا کا نزول رکا رہتا ہے تاکہ یہ عمل اس حد تک مکمل ہوجائے کہ جتنی سعید روحیں ہیں سب اس سے باہر آچکی ہوں۔

امتوں میں بگاڑ آتاہے تو ایسانہیں ہوتاکہ ان کے درمیان سے دین کی صورتیں مٹ جائیں۔ بگاڑ کے زمانہ میں ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ خوفِ خدا والا دین جاتا رہتا ہے اور اس کی جگہ دھوم والا دین آجاتاہے۔ اب قوم کے پاس عمل نہیں ہوتا بلکہ ماضی کی شخصیتیں اور ان کے نام پر قائم شدہ گدّیاں ہوتی ہیں۔ لوگ ان شخصیتوں اور ان گدیوں سے وابستہ ہوکر سمجھتے ہیں کہ ان کو وہی عظمت حاصل ہوگئی ہے جو تاریخی اسباب سے خود ان شخصیتوں اور گدیوں کو حاصل ہے۔ لوگ اندر سے خالی ہوتے ہیں مگر بڑے بڑے ناموں پر نمائشی اعمال کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بڑا دینی کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔

مکہ کے لوگ اسی قسم کی نفسیات میں مبتلا تھے۔ ان کو فخر تھا کہ وہ بیت اللہ کے وارث ہیں۔ ابراہیم واسماعیل جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی امت ہیں۔ ان کو کعبہ کے خادم ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ان کا خیال تھا کہ جب ان کو اتنے دینی اعزازات حاصل ہیں اور وہ اتنے بڑے بڑے دینی کارنامے انجام دے رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو جہنم میں ڈال دے۔

Al-Anfaal 8:32Listen in Qur'an →
33

وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ

اور خدا ایسا نہ تھا کہ جب تک تم ان میں سے تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور ایسا نہ تھا کہ وہ بخششیں مانگیں اور انہیں عذاب دے

ہم بھی ایسا کلام بنا سکتے ہیں، ہم ناحق پر ہیں تو ہمارے اوپر پتھر کیوں نہیں برستا — یہ سب گھمنڈ کی باتیں ہیں۔ آدمی جب دنیا میں اپنے کو محفوظ حیثیت میں پاتاہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیداہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ بالکل درست ہے۔ اس کا یہ احساس اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلواتا ہے جو عام حالات میں کسی کی زبان سے نہیں نکلتے۔

اس قسم کے لوگوں میں یہ دلیری خدا کے قانونِ مہلت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا یقینا ًمجرموں کو سزا دیتا ہے مگر خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ آدمی کو ہمیشہ اس وقت پکڑتاہے جب کہ اس کے اوپر حق وباطل کی وضاحت کا کام مکمل طورپر انجام دے دیا گیا ہو۔ اس کام کی تکمیل سے پہلے کسی کو ہلاک نہیں کیا جاتا۔ نیز یہ کہ دعوتی عمل کے درمیان اگرا یک ایک دو دو آدمی اس سے متاثر ہوکر اپنی اصلاح کررہے ہوں تب بھی سزا کا نزول رکا رہتا ہے تاکہ یہ عمل اس حد تک مکمل ہوجائے کہ جتنی سعید روحیں ہیں سب اس سے باہر آچکی ہوں۔

امتوں میں بگاڑ آتاہے تو ایسانہیں ہوتاکہ ان کے درمیان سے دین کی صورتیں مٹ جائیں۔ بگاڑ کے زمانہ میں ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ خوفِ خدا والا دین جاتا رہتا ہے اور اس کی جگہ دھوم والا دین آجاتاہے۔ اب قوم کے پاس عمل نہیں ہوتا بلکہ ماضی کی شخصیتیں اور ان کے نام پر قائم شدہ گدّیاں ہوتی ہیں۔ لوگ ان شخصیتوں اور ان گدیوں سے وابستہ ہوکر سمجھتے ہیں کہ ان کو وہی عظمت حاصل ہوگئی ہے جو تاریخی اسباب سے خود ان شخصیتوں اور گدیوں کو حاصل ہے۔ لوگ اندر سے خالی ہوتے ہیں مگر بڑے بڑے ناموں پر نمائشی اعمال کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بڑا دینی کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔

مکہ کے لوگ اسی قسم کی نفسیات میں مبتلا تھے۔ ان کو فخر تھا کہ وہ بیت اللہ کے وارث ہیں۔ ابراہیم واسماعیل جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی امت ہیں۔ ان کو کعبہ کے خادم ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ان کا خیال تھا کہ جب ان کو اتنے دینی اعزازات حاصل ہیں اور وہ اتنے بڑے بڑے دینی کارنامے انجام دے رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو جہنم میں ڈال دے۔

Al-Anfaal 8:33Listen in Qur'an →
34

وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ ٱللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ وَمَا كَانُوٓا۟ أَوْلِيَآءَهُۥٓ ۚ إِنْ أَوْلِيَآؤُهُۥٓ إِلَّا ٱلْمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اور (اب) ان کے لیے کون سی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جب کہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے

ہم بھی ایسا کلام بنا سکتے ہیں، ہم ناحق پر ہیں تو ہمارے اوپر پتھر کیوں نہیں برستا — یہ سب گھمنڈ کی باتیں ہیں۔ آدمی جب دنیا میں اپنے کو محفوظ حیثیت میں پاتاہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیداہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ بالکل درست ہے۔ اس کا یہ احساس اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلواتا ہے جو عام حالات میں کسی کی زبان سے نہیں نکلتے۔

اس قسم کے لوگوں میں یہ دلیری خدا کے قانونِ مہلت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا یقینا ًمجرموں کو سزا دیتا ہے مگر خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ آدمی کو ہمیشہ اس وقت پکڑتاہے جب کہ اس کے اوپر حق وباطل کی وضاحت کا کام مکمل طورپر انجام دے دیا گیا ہو۔ اس کام کی تکمیل سے پہلے کسی کو ہلاک نہیں کیا جاتا۔ نیز یہ کہ دعوتی عمل کے درمیان اگرا یک ایک دو دو آدمی اس سے متاثر ہوکر اپنی اصلاح کررہے ہوں تب بھی سزا کا نزول رکا رہتا ہے تاکہ یہ عمل اس حد تک مکمل ہوجائے کہ جتنی سعید روحیں ہیں سب اس سے باہر آچکی ہوں۔

امتوں میں بگاڑ آتاہے تو ایسانہیں ہوتاکہ ان کے درمیان سے دین کی صورتیں مٹ جائیں۔ بگاڑ کے زمانہ میں ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ خوفِ خدا والا دین جاتا رہتا ہے اور اس کی جگہ دھوم والا دین آجاتاہے۔ اب قوم کے پاس عمل نہیں ہوتا بلکہ ماضی کی شخصیتیں اور ان کے نام پر قائم شدہ گدّیاں ہوتی ہیں۔ لوگ ان شخصیتوں اور ان گدیوں سے وابستہ ہوکر سمجھتے ہیں کہ ان کو وہی عظمت حاصل ہوگئی ہے جو تاریخی اسباب سے خود ان شخصیتوں اور گدیوں کو حاصل ہے۔ لوگ اندر سے خالی ہوتے ہیں مگر بڑے بڑے ناموں پر نمائشی اعمال کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بڑا دینی کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔

مکہ کے لوگ اسی قسم کی نفسیات میں مبتلا تھے۔ ان کو فخر تھا کہ وہ بیت اللہ کے وارث ہیں۔ ابراہیم واسماعیل جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی امت ہیں۔ ان کو کعبہ کے خادم ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ان کا خیال تھا کہ جب ان کو اتنے دینی اعزازات حاصل ہیں اور وہ اتنے بڑے بڑے دینی کارنامے انجام دے رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو جہنم میں ڈال دے۔

Al-Anfaal 8:34Listen in Qur'an →
35

وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِندَ ٱلْبَيْتِ إِلَّا مُكَآءًۭ وَتَصْدِيَةًۭ ۚ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

اور ان لوگوں کی نماز خانہٴ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو

ہم بھی ایسا کلام بنا سکتے ہیں، ہم ناحق پر ہیں تو ہمارے اوپر پتھر کیوں نہیں برستا — یہ سب گھمنڈ کی باتیں ہیں۔ آدمی جب دنیا میں اپنے کو محفوظ حیثیت میں پاتاہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیداہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ بالکل درست ہے۔ اس کا یہ احساس اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلواتا ہے جو عام حالات میں کسی کی زبان سے نہیں نکلتے۔

اس قسم کے لوگوں میں یہ دلیری خدا کے قانونِ مہلت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا یقینا ًمجرموں کو سزا دیتا ہے مگر خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ آدمی کو ہمیشہ اس وقت پکڑتاہے جب کہ اس کے اوپر حق وباطل کی وضاحت کا کام مکمل طورپر انجام دے دیا گیا ہو۔ اس کام کی تکمیل سے پہلے کسی کو ہلاک نہیں کیا جاتا۔ نیز یہ کہ دعوتی عمل کے درمیان اگرا یک ایک دو دو آدمی اس سے متاثر ہوکر اپنی اصلاح کررہے ہوں تب بھی سزا کا نزول رکا رہتا ہے تاکہ یہ عمل اس حد تک مکمل ہوجائے کہ جتنی سعید روحیں ہیں سب اس سے باہر آچکی ہوں۔

امتوں میں بگاڑ آتاہے تو ایسانہیں ہوتاکہ ان کے درمیان سے دین کی صورتیں مٹ جائیں۔ بگاڑ کے زمانہ میں ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ خوفِ خدا والا دین جاتا رہتا ہے اور اس کی جگہ دھوم والا دین آجاتاہے۔ اب قوم کے پاس عمل نہیں ہوتا بلکہ ماضی کی شخصیتیں اور ان کے نام پر قائم شدہ گدّیاں ہوتی ہیں۔ لوگ ان شخصیتوں اور ان گدیوں سے وابستہ ہوکر سمجھتے ہیں کہ ان کو وہی عظمت حاصل ہوگئی ہے جو تاریخی اسباب سے خود ان شخصیتوں اور گدیوں کو حاصل ہے۔ لوگ اندر سے خالی ہوتے ہیں مگر بڑے بڑے ناموں پر نمائشی اعمال کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بڑا دینی کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔

مکہ کے لوگ اسی قسم کی نفسیات میں مبتلا تھے۔ ان کو فخر تھا کہ وہ بیت اللہ کے وارث ہیں۔ ابراہیم واسماعیل جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی امت ہیں۔ ان کو کعبہ کے خادم ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ان کا خیال تھا کہ جب ان کو اتنے دینی اعزازات حاصل ہیں اور وہ اتنے بڑے بڑے دینی کارنامے انجام دے رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو جہنم میں ڈال دے۔

Al-Anfaal 8:35Listen in Qur'an →
36

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ لِيَصُدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةًۭ ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ

جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لیے (موجب) افسوس ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے

انسانوں میں کچھ پاک ہیں اور كچھ ناپاک۔ کچھ روحوں کی غذا وہ چیزیں ہوتی ہیں جو خدا کو پسند ہیں اورکچھ روحوں کو ان چیزوں میں لذت ملتی ہے جو ان کے نفس کو یا شیطان کو مرغوب ہیں۔

عام حالات میں یہ دونوں قسم کے لوگ ایک دوسرے سے ملے رہتے ہیں۔ بظاہر ان میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ اس ليے اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق وباطل کی کش مکش برپا کرتاہے تاکہ دونوں قسم کے لوگ ایک دوسرے سے الگ ہوجائيں اور یہ معلوم ہوجائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا نهيں تھا۔

اس کش مکش کے دوران کھل جاتاہے کہ کون حق کے سامنے آنے کے بعد فوراً اس کو مان لیتاہے اور کون وہ ہے جو اس کا انکار کردیتاہے۔ کون دوسروں کے ساتھ معاملہ پڑنے پر انصاف کی حد پر قائم رہتاہے اور کون بے انصافی پر اترآتا ہے۔ کون خدا کی زمین میںمتواضع بن کر رہتاہے اور کون سرکش بن کر۔ کون سچائی کی راه میں اپنا مال خرچ کرنے والا هے اور کون تعصب اورنمائش کی راہ میں۔

جو لوگ حق کو چھوڑ کر دوسری راہوں میں اپنی کوششیں صرف کرتے ہیں ان کے اس عمل کو شیطان ان کی نظر میں اس طرح حسین بناتارہتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ کارنامے انجام دے رہے ہیں، وہ شان دار مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مگر اس غلط فہمی کی عمر بہت تھوڑی ہے۔ بہت جلد آدمی پر وہ وقت آجاتا ہے جب کہ وہ جان لیتا ہے کہ اس نے جو کچھ کیا وہ صرف اپنی قوت اور اپنے مال کو ضائع کرنا تھا، وہ جس مستقبل کی طرف بڑھ رہا تھاوہ حسرت اور مایوسی کا مستقبل تھا، اگر چہ جھوٹی خوش فہمی کے تحت وہ اس کو روشن مستقبل کی طرف سفر کے ہم معنیٰ سمجھتارہا تھا۔

بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو ملاوٹی دین کی بنیاد پر سرداری قائم كيے ہوئے تھے۔ وہ اس رواجی ڈھانچہ کی حفاظت میں اپنی ساری طاقت خرچ کردیتے ہیں جس کے اندر انھیں بڑائی کا مقام حاصل ہے۔ مگر ایسے لوگ بے آمیز حق کے مقابلہ میں لازماً ناکام ہوتے ہیں، کبھی دلیل کے میدان میں اور کبھی اسی کے ساتھ عمل کے میدان میں بھی۔

موجودہ دنیا کے ہنگامے صرف اس ليے جاری كيے گئے ہیں کہ پاک روحوں اور ناپاک روحوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا جائے۔ یہ چھانٹنے کا عمل جب پورا ہوجائے گا تو خدا پاک روحوں کو جنت میں داخل کردے گا اور ناپاک روحوں کو ایک ساتھ جمع کرکے جہنم میں دھکیل دے گا۔

Al-Anfaal 8:36Listen in Qur'an →
37

لِيَمِيزَ ٱللَّهُ ٱلْخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ ٱلْخَبِيثَ بَعْضَهُۥ عَلَىٰ بَعْضٍۢ فَيَرْكُمَهُۥ جَمِيعًۭا فَيَجْعَلَهُۥ فِى جَهَنَّمَ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

تاکہ خدا ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر ایک ڈھیر بنا دے۔ پھر اس کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں

انسانوں میں کچھ پاک ہیں اور كچھ ناپاک۔ کچھ روحوں کی غذا وہ چیزیں ہوتی ہیں جو خدا کو پسند ہیں اورکچھ روحوں کو ان چیزوں میں لذت ملتی ہے جو ان کے نفس کو یا شیطان کو مرغوب ہیں۔

عام حالات میں یہ دونوں قسم کے لوگ ایک دوسرے سے ملے رہتے ہیں۔ بظاہر ان میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ اس ليے اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق وباطل کی کش مکش برپا کرتاہے تاکہ دونوں قسم کے لوگ ایک دوسرے سے الگ ہوجائيں اور یہ معلوم ہوجائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا نهيں تھا۔

اس کش مکش کے دوران کھل جاتاہے کہ کون حق کے سامنے آنے کے بعد فوراً اس کو مان لیتاہے اور کون وہ ہے جو اس کا انکار کردیتاہے۔ کون دوسروں کے ساتھ معاملہ پڑنے پر انصاف کی حد پر قائم رہتاہے اور کون بے انصافی پر اترآتا ہے۔ کون خدا کی زمین میںمتواضع بن کر رہتاہے اور کون سرکش بن کر۔ کون سچائی کی راه میں اپنا مال خرچ کرنے والا هے اور کون تعصب اورنمائش کی راہ میں۔

جو لوگ حق کو چھوڑ کر دوسری راہوں میں اپنی کوششیں صرف کرتے ہیں ان کے اس عمل کو شیطان ان کی نظر میں اس طرح حسین بناتارہتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ کارنامے انجام دے رہے ہیں، وہ شان دار مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مگر اس غلط فہمی کی عمر بہت تھوڑی ہے۔ بہت جلد آدمی پر وہ وقت آجاتا ہے جب کہ وہ جان لیتا ہے کہ اس نے جو کچھ کیا وہ صرف اپنی قوت اور اپنے مال کو ضائع کرنا تھا، وہ جس مستقبل کی طرف بڑھ رہا تھاوہ حسرت اور مایوسی کا مستقبل تھا، اگر چہ جھوٹی خوش فہمی کے تحت وہ اس کو روشن مستقبل کی طرف سفر کے ہم معنیٰ سمجھتارہا تھا۔

بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو ملاوٹی دین کی بنیاد پر سرداری قائم كيے ہوئے تھے۔ وہ اس رواجی ڈھانچہ کی حفاظت میں اپنی ساری طاقت خرچ کردیتے ہیں جس کے اندر انھیں بڑائی کا مقام حاصل ہے۔ مگر ایسے لوگ بے آمیز حق کے مقابلہ میں لازماً ناکام ہوتے ہیں، کبھی دلیل کے میدان میں اور کبھی اسی کے ساتھ عمل کے میدان میں بھی۔

موجودہ دنیا کے ہنگامے صرف اس ليے جاری كيے گئے ہیں کہ پاک روحوں اور ناپاک روحوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا جائے۔ یہ چھانٹنے کا عمل جب پورا ہوجائے گا تو خدا پاک روحوں کو جنت میں داخل کردے گا اور ناپاک روحوں کو ایک ساتھ جمع کرکے جہنم میں دھکیل دے گا۔

Al-Anfaal 8:37Listen in Qur'an →
38

قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِن يَنتَهُوا۟ يُغْفَرْ لَهُم مَّا قَدْ سَلَفَ وَإِن يَعُودُوا۟ فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ ٱلْأَوَّلِينَ

(اے پیغمبر) کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر پھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا)

اسلام کا اصول یہ ہے کہ جو شخص جیسا عمل کرے اس کے مطابق وہ اپنا بدلہ پائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اس عام اصول میں اپنی رحمت سے ایک خاص استثناء رکھا ہے۔ وہ یہ کہ آدمی جب ’’توبہ‘‘ کرلے تو اس کے بعد اس کے پچھلے اعمال پر اس کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ ایک شخص خدا سے دوری کی زندگی گزار رہا تھا۔ پھر اس کو ہدایت کی روشنی ملی۔ اس نے سچا مومن بن کر صالح زندگی اختیار کرلی تو اس سے پہلے اس نے جو برائیاں کی تھیں وہ سب معاف کردی جائیںگی۔ اس کے پچھلے گناہوں کی بنا پر اس کو نہیں پکڑا جائے گا۔

ٹھیک یہی اصول اجتماعی اور سیاسی معاملہ میں بھی ہے۔ کسی مقام پر حق اور باطل کی کش مکش برپا ہوتی ہے، آپس میں ٹکراؤ ہوتا ہے، اس ٹکراؤ کے دوران باطل کے علم بردار حق کے ليے اٹھنے والوں پر ظلم کرتے ہیں۔ بالآخر جنگ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ حق پرست غالباً آجاتے ہیں اور ناحق کے علم بردار مغلوب ہو کر زیر کرديے جاتے ہیں۔ اس معاملہ میں بھی اسلام کا اصول وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ یعنی فتح کے بعد پچھلے ظلم وستم پر کسی کو سزا نہیں دی جائے گی۔ البتہ جو شخص فتح کے بعد کوئی ایسی حرکت کرے جو اسلامی قانون میں جرم قرار دی گئی ہو تو ضرور کارروائی کے بعد اس کو وہ سزا ملے گی جو شریعت نے ایسے ایک مجرم کے ليے مقرر کی ہے۔

فتنہ کا مطلب ستانا (persecution) ہے۔ قدیم زمانہ میں سرداری اور حکومت شرک کی بنیاد پر قائم ہوتی تھی۔ آج حکومت کرنے والے عوام کے نمائندہ بن کر حکومت کرتے ہیں۔ ماضی میں خدا یا خدا کے شریکوں کا نمائندہ بن کر لوگ حکومت کیا کرتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں شرک کو قدیم سماج میں با اقتدار حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اہل شرک اہل توحید کو ستاتے رہتے تھے۔ اللہ نے اپنے رسول اور آپ کے ساتھیوں کو حکم دیا کہ شرک اور اقتدار کے باہمی تعلق کو توڑ دو تاکہ مشرکین اہل توحید کو ستانے کی طاقت سے محروم ہوجائیں۔ چنانچہ آپ کے ذریعہ جو عالمی انقلاب آیا اس نے ہمیشہ کے ليے شرک کا رشتہ سیاسی نظام سے ختم کردیا۔ اب شرک ساری دنیا میں صرف ایک مذہبی عقیدہ ہے، نہ کہ وہ سیاسی نظریہ جس کی بنیاد پر حکومتوں کا قیام عمل میںآتا ہے۔

تاہم جہاں تک عرب کا تعلق ہے وہاں یہ مقصد دہری صورت میں مطلوب تھا، یہاں شرک اور مشرکین دونوں کو ختم کرنا تھا تاکہ حرمین کے علاقہ کو ابدی طورپر خالص توحید کا مرکز بنا دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جزیرہ عرب سے مشرکین کو نکال دو۔ یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شر وع ہوا اور حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں اپنی تکمیل کو پہنچا۔

Al-Anfaal 8:38Listen in Qur'an →
39

وَقَٰتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌۭ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ كُلُّهُۥ لِلَّهِ ۚ فَإِنِ ٱنتَهَوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے

اسلام کا اصول یہ ہے کہ جو شخص جیسا عمل کرے اس کے مطابق وہ اپنا بدلہ پائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اس عام اصول میں اپنی رحمت سے ایک خاص استثناء رکھا ہے۔ وہ یہ کہ آدمی جب ’’توبہ‘‘ کرلے تو اس کے بعد اس کے پچھلے اعمال پر اس کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ ایک شخص خدا سے دوری کی زندگی گزار رہا تھا۔ پھر اس کو ہدایت کی روشنی ملی۔ اس نے سچا مومن بن کر صالح زندگی اختیار کرلی تو اس سے پہلے اس نے جو برائیاں کی تھیں وہ سب معاف کردی جائیںگی۔ اس کے پچھلے گناہوں کی بنا پر اس کو نہیں پکڑا جائے گا۔

ٹھیک یہی اصول اجتماعی اور سیاسی معاملہ میں بھی ہے۔ کسی مقام پر حق اور باطل کی کش مکش برپا ہوتی ہے، آپس میں ٹکراؤ ہوتا ہے، اس ٹکراؤ کے دوران باطل کے علم بردار حق کے ليے اٹھنے والوں پر ظلم کرتے ہیں۔ بالآخر جنگ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ حق پرست غالباً آجاتے ہیں اور ناحق کے علم بردار مغلوب ہو کر زیر کرديے جاتے ہیں۔ اس معاملہ میں بھی اسلام کا اصول وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ یعنی فتح کے بعد پچھلے ظلم وستم پر کسی کو سزا نہیں دی جائے گی۔ البتہ جو شخص فتح کے بعد کوئی ایسی حرکت کرے جو اسلامی قانون میں جرم قرار دی گئی ہو تو ضرور کارروائی کے بعد اس کو وہ سزا ملے گی جو شریعت نے ایسے ایک مجرم کے ليے مقرر کی ہے۔

فتنہ کا مطلب ستانا (persecution) ہے۔ قدیم زمانہ میں سرداری اور حکومت شرک کی بنیاد پر قائم ہوتی تھی۔ آج حکومت کرنے والے عوام کے نمائندہ بن کر حکومت کرتے ہیں۔ ماضی میں خدا یا خدا کے شریکوں کا نمائندہ بن کر لوگ حکومت کیا کرتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں شرک کو قدیم سماج میں با اقتدار حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اہل شرک اہل توحید کو ستاتے رہتے تھے۔ اللہ نے اپنے رسول اور آپ کے ساتھیوں کو حکم دیا کہ شرک اور اقتدار کے باہمی تعلق کو توڑ دو تاکہ مشرکین اہل توحید کو ستانے کی طاقت سے محروم ہوجائیں۔ چنانچہ آپ کے ذریعہ جو عالمی انقلاب آیا اس نے ہمیشہ کے ليے شرک کا رشتہ سیاسی نظام سے ختم کردیا۔ اب شرک ساری دنیا میں صرف ایک مذہبی عقیدہ ہے، نہ کہ وہ سیاسی نظریہ جس کی بنیاد پر حکومتوں کا قیام عمل میںآتا ہے۔

تاہم جہاں تک عرب کا تعلق ہے وہاں یہ مقصد دہری صورت میں مطلوب تھا، یہاں شرک اور مشرکین دونوں کو ختم کرنا تھا تاکہ حرمین کے علاقہ کو ابدی طورپر خالص توحید کا مرکز بنا دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جزیرہ عرب سے مشرکین کو نکال دو۔ یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شر وع ہوا اور حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں اپنی تکمیل کو پہنچا۔

Al-Anfaal 8:39Listen in Qur'an →
40

وَإِن تَوَلَّوْا۟ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَوْلَىٰكُمْ ۚ نِعْمَ ٱلْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ ٱلنَّصِيرُ

اور اگر روگردانی کریں تو جان رکھو کہ خدا تمہارا حمایتی ہے۔ (اور) وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے

اسلام کا اصول یہ ہے کہ جو شخص جیسا عمل کرے اس کے مطابق وہ اپنا بدلہ پائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اس عام اصول میں اپنی رحمت سے ایک خاص استثناء رکھا ہے۔ وہ یہ کہ آدمی جب ’’توبہ‘‘ کرلے تو اس کے بعد اس کے پچھلے اعمال پر اس کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ ایک شخص خدا سے دوری کی زندگی گزار رہا تھا۔ پھر اس کو ہدایت کی روشنی ملی۔ اس نے سچا مومن بن کر صالح زندگی اختیار کرلی تو اس سے پہلے اس نے جو برائیاں کی تھیں وہ سب معاف کردی جائیںگی۔ اس کے پچھلے گناہوں کی بنا پر اس کو نہیں پکڑا جائے گا۔

ٹھیک یہی اصول اجتماعی اور سیاسی معاملہ میں بھی ہے۔ کسی مقام پر حق اور باطل کی کش مکش برپا ہوتی ہے، آپس میں ٹکراؤ ہوتا ہے، اس ٹکراؤ کے دوران باطل کے علم بردار حق کے ليے اٹھنے والوں پر ظلم کرتے ہیں۔ بالآخر جنگ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ حق پرست غالباً آجاتے ہیں اور ناحق کے علم بردار مغلوب ہو کر زیر کرديے جاتے ہیں۔ اس معاملہ میں بھی اسلام کا اصول وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ یعنی فتح کے بعد پچھلے ظلم وستم پر کسی کو سزا نہیں دی جائے گی۔ البتہ جو شخص فتح کے بعد کوئی ایسی حرکت کرے جو اسلامی قانون میں جرم قرار دی گئی ہو تو ضرور کارروائی کے بعد اس کو وہ سزا ملے گی جو شریعت نے ایسے ایک مجرم کے ليے مقرر کی ہے۔

فتنہ کا مطلب ستانا (persecution) ہے۔ قدیم زمانہ میں سرداری اور حکومت شرک کی بنیاد پر قائم ہوتی تھی۔ آج حکومت کرنے والے عوام کے نمائندہ بن کر حکومت کرتے ہیں۔ ماضی میں خدا یا خدا کے شریکوں کا نمائندہ بن کر لوگ حکومت کیا کرتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں شرک کو قدیم سماج میں با اقتدار حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اہل شرک اہل توحید کو ستاتے رہتے تھے۔ اللہ نے اپنے رسول اور آپ کے ساتھیوں کو حکم دیا کہ شرک اور اقتدار کے باہمی تعلق کو توڑ دو تاکہ مشرکین اہل توحید کو ستانے کی طاقت سے محروم ہوجائیں۔ چنانچہ آپ کے ذریعہ جو عالمی انقلاب آیا اس نے ہمیشہ کے ليے شرک کا رشتہ سیاسی نظام سے ختم کردیا۔ اب شرک ساری دنیا میں صرف ایک مذہبی عقیدہ ہے، نہ کہ وہ سیاسی نظریہ جس کی بنیاد پر حکومتوں کا قیام عمل میںآتا ہے۔

تاہم جہاں تک عرب کا تعلق ہے وہاں یہ مقصد دہری صورت میں مطلوب تھا، یہاں شرک اور مشرکین دونوں کو ختم کرنا تھا تاکہ حرمین کے علاقہ کو ابدی طورپر خالص توحید کا مرکز بنا دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جزیرہ عرب سے مشرکین کو نکال دو۔ یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شر وع ہوا اور حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں اپنی تکمیل کو پہنچا۔

Al-Anfaal 8:40Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.