Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 31–40 of 75

31

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُنَا قَالُوا۟ قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَٰذَآ ۙ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں اور یہ ہے ہی کیا صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں

اب یہاں سے آگے سیاق کلام میں کفار کے افعال اور احوال بیان کیے جاتے ہیں۔ ان کے دعوے اور ان کے اعترافات کا بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کا یہ دعویٰ بھی یہاں ریکارڈ کردیا جاتا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو وہ اس قسم کا کلام پیش کرسکتے ہیں جبکہ یہ قرآن ان کے زعم میں محض پرانے قصوں پر مشتمل کتاب ہے۔

علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں سعید ، سدی اور ابن جریج وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ یہ بات کہنے والا نضر ابن الحارث تھا۔ ” یہ ملعون فارس کے علاقوں میں پھرتا رہا تھا۔ اس نے ملوک فارس کی تاریخ اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر رکھے تھے۔ جب وہ فارس سے واپس ہوا تو حضور ﷺ کی بعثت ہوگئی تھی اور آپ لوگوں کے سامنے قرآن مجید پڑھتے تھے۔ جب حضور ﷺ کسی مجلس سے تبلیغ کرکے اٹھتے تو وہاں نضر ابن الحارث پہنچ جاتا اور لوگوں کو یہ قصے سناتا اور کہتا تمہیں خدا کی قسم سچ کہو ہم میں سے کن اچھا قصہ گو ہے۔ میں یا محمد ؟ جب بدر کی جنگ پیش آئی تو اللہ نے اسے گرفتار کیا۔ حضور ﷺ نے حکم دیا کہ میرے سامنے اس کی گردن اڑا دی جائے اور ایسا ہی ہوا۔ اسے مقداد ابن الاسود نے گرفتار کیا تھا۔ اس بارے میں ابن جریر محمد ابن بشار سے محمد ابن جعفر سے ، شعبہ سے ، ابو بشر سے ، سعید ابن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے بدر کے دن ، عقبہ بن ابومعیط ، طعیمہ ابن عدی اور نضر ابن الحارث کی گردن اڑانے کا حکم دیا تھا۔ مقداد نے نضر کو گرفتار کیا تھا۔ جب حضور ﷺ نے اس کے قتل کے احکام صادر کیے تو حضرت مقداد نے کہا ” رسول اللہ ، یہ تو میرا قیدی ہے “ اس پر حضور نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ اس پر دوبارہ حضرت مقداد نے کہا حضور یہ میرا قیدی ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا ” اے اللہ مقداد کو اپنے فضل سے غنی بنا دے “ اس پر حضرت مقداد نے کہا ” یہی تو میں چاہتا تھا “۔ کہتے ہیں ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے : وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ ۙ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ ۔ جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھی تو کہتے تھے کہ ” ہاں سن لیا ہم نے ، ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں ، یہ تو وہی پرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آ رہے ہیں “۔

قرآن کریم میں مشرکین کی اس بات کو بار بار لایا گیا ہے کہ قرآن کریم میں پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں :

قالوا اساطیر الاولین اکتتبھا فھی تملی علیہ بکرۃ واصلیا۔ وہ کہتے ہیں یہ پرانی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھ لی ہیں اور یہ صبح شام اسے لکھوائی جاتی ہیں “۔

یہ ان رکاوٹوں میں سے ایک ہے جو وہ قرآن کی انقلابی تعلیمات کے مقابلے میں کھڑی کرتے تھے ، حالانکہ قرآن کریم کا خطاب فطرت انسانی سے تھا اور یہ کلمات انسانی فطرت پر ایسا اثر کرتے تھے کہ وہ جھوم اٹھتی اور لبیک کہتی ۔ جب دلوں پر یہ کلمات پڑتے تو وہ لرز اٹھتے اور اس کے مقابلے میں ٹھہر نہ سکتے۔ چناچہ اس کلام کے مقابلے میں قریش کے لیڈر اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے۔ لیکن وہ خود بھی جانتے تھے کہ یہ چالیں کارگر نہ ہوں گی۔ بہرحال انہوں نے کلام الہی میں ایک ایسی چیز تلاش کرلی جو ان کی پرانی کہانیوں کے مشابہ تھی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے جاہل عربوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اس انقلابی تحریک سے متاثر نہ ہوجائیں اور عوام جس طرح ان کبراء کی غلامی میں چلے آ رہے تھے ، بدستور چلتے رہیں۔

قریش کے لیڈر یہ بھی جانتے تھے کہ دعوت اسلامی کی حقیقت کیا ہے ، وہ عرب تھے اور قرآن کے مضامین سے اچھی طرح واقف تھے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا مفہوم و رماد کیا ہے ؟ اس کا مقصد یہ ہے کہ شہادت دینے والا تمام انسانوں کے اقتدار اور حاکمیت کا انکار کر رہا ہے۔ یہ اپنے آپ کو تمام انسانوں کی حاکمیت سے نکال رہا ہے اور یہ اعلان کر رہا ہے کہ آج …

Al-Anfaal 8:31Listen in Qur'an →
32

وَإِذْ قَالُوا۟ ٱللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ ٱلْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ أَوِ ٱئْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍۢ

اور جب انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج

ذرا آگے ملاحظہ کیجیے۔ جب قرآن کے مقابلے سے یہ دشمن عاجز آجاتے ہیں اور ان کی سازش ناکام ہوجاتی ہے تو یہ اس کے مقابلے میں عجیب طرز عمل اختیار کرتے ہیں اور ان کا جذبہ عناد اور ان کا غرور انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ یہ رویہ اختیار کریں اور کسی صورت میں بھی مان کر نہ دیں۔ اب یہ لوگ تمناؤں کی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں کہ اگر یہ حق ہے تو اے اللہ ہم پر پتھر برسا دے۔ یا اور کوئی دردناک عذاب ہم پر نازل کردے۔ لیکن وہ حق کے اتباع اور حق کی حمایت کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں۔

یہ عجیب و غریب دعاء ہے ۔ اس سے اس کٹر بغض وعناد کا اندازہ ہوجاتا ہے جو ان لوگوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف پایا جاتا تھا کہ وہ ہلاکت اور بربادی کو دعوت دیتے ہیں۔ لیکن اسلام کو ماننے اور اس کی حمایت کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگرچہ وہ حق ہو۔ فطرت سلیمہ کا رویہ تو یہ ہوتا ہے کہ جب اسے کسی معاملے میں خلجان ہو تو ایسا شخص دعا کرتا ہے کہ اے اللہ مجھے اس معاملے میں راہ راست دکھا۔ وہ کبھی بھی اس معاملے میں تلخی محسوس نہیں کرتا۔ لیکن جب کبر و غرور اور بغض وعناد فطرت سلیمہ کو بگاڑ دیں پھر عالم یہ ہوتا ہے کہ غرور وعناد انسان کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ لوگ مرنا پسند کرتے ہیں لیکن سچائی کو قبول کرنا پسند نہیں کرتے۔ حالانکہ ان کے سامنے حق و باطل واضح ہوکر رہ جاتا ہے۔ اور اس میں خود ان کو کوئی شک نہیں رہتا۔ اس کی واضح مثال مشرکین مکہ کا رویہ ہے۔ یہ آخر دم تک رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا مقابلہ کرتے رہے لیکن ان کے اس بغض وعناد کے باوجودع یہ دعوت فتح یاب ہوئی۔

Al-Anfaal 8:32Listen in Qur'an →
33

وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ

اور خدا ایسا نہ تھا کہ جب تک تم ان میں سے تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور ایسا نہ تھا کہ وہ بخششیں مانگیں اور انہیں عذاب دے

اس عناد اور اس دعاء کے جواب میں قرآن کیا کہتا ہے ؟ ٹھیک ہے کہ یہ لوگ پتھروں کی بارش کے مستحق ہیں اور اس کا مطالبہ وہ اس شرط کے ساتھ کرتے ہیں کہ اگر یہ قرآن سچا ہو اور ظاہر ہے کہ قرآن سچا ہے اور شرط پوری ہے۔ لیکن ان کی جانب سے بربادی کی دعوت دینے کے باوجود اللہ ان پر یہ عمومی عذاب اس لیے نازل نہیں کرتا کہ حبیب خدا ان میں موجود ہیں اور مسلسل ان کو دعوت حق دے رہے ہیں اور اللہ نے کسی قوم کو بھی اس وقت تک مکمل بربادی سے دوچار نہیں کیا جب تک رسول ان میں موجود ہوتا ہے۔ دعوت دے رہا ہوتا ہے اور لوگوں کو بھی اللہ اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک وہ اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے رہتے ہیں۔ اور ان پر یہ عذاب صرف اس لیے نیں نازل ہورہا ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کے مکین ہیں اگرچہ وہ اس گھر کی تولیت کے مستحق نہیں ہیں۔

یہ اللہ کی عظیم رحمت ہے کہ انہیں مہلت دے دی اور ان کے اس گہرے عناد کی وجہ سے ان پر عذاب نہیں ٓ رہا ہے۔ مسجد حرام سے یہ لوگ لوگوں کو روکتے ہیں اور پھر بھی ان کے لیے مہلت کی رسی دراز ہو رہی ہے۔ اس دور میں یہ مسلمانوں کو حج کرنے سے بھی روکتے تھے۔ جبکہ مسلمان کسی کو نہ روکتے تھے اور نہ کسی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے تھے۔

یہ رحمت خداوندی ان کو اس لیے مہلت دیے جا رہی تھی کہ شاید ان میں سے جن لوگوں کے دلوں میں مادہ ایمان موجود ہے وہ ایمان لے آئیں اگرچہ وہ قدے بعد میں آئیں۔ اور رسول اللہ ﷺ بھی تو ابھی تک موجود ہیں اور کام کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں سے ابھی تک توقعات وابستہ تھیں۔ لہذا حضور ﷺ کے وجود بابرکت کی وجہ سے ان کو مہلت مل رہی تھی۔ ابھی تک عظیم عذاب سے بچنے کا دروازہ کھلا تھا ، اگر وہ مان لیں ، دعوت اسلامی کو قبول کرلیں اور اپنے رویے سے باز آجائیں۔

وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ۭ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ ۔ اس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جب کہ تو ان کے درمیان موجود تھا اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دے دے۔

لیکن اللہ اگر ان کے ساتھ ان کے حالات کے مطابق معاملہ کرنا چاہے تو وہ بیشک عذاب الہی کے مستحق ہیں۔

Al-Anfaal 8:33Listen in Qur'an →
34

وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ ٱللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ وَمَا كَانُوٓا۟ أَوْلِيَآءَهُۥٓ ۚ إِنْ أَوْلِيَآؤُهُۥٓ إِلَّا ٱلْمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اور (اب) ان کے لیے کون سی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جب کہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے

ان پر یہ عذاب اس لیے نہیں لیٹ ہورہا ہے جس کا وہ دعوی کرتے تھے کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں یا وہ بیت اللہ کے متولی ہیں۔ یہ تو ان کا محض دعوی ہی دعوی تھا ، اس کی کوئی اساس نہ تھی۔ یہ لوگ در اصل اس گھر کے خادم اور متولی تھے ہی نہیں۔ یہ تو اس گھر کے دشمن تھے۔ انہوں نے زبردستی اس پر قبضہ کرلیا تھا۔ یہ کوئی ترکہ تو تھا نہیں جو آباؤ اجداد سے وراثت میں لیا جاتا۔ بیت اللہ کی تولیت کا حق تو اللہ کے متقی بندوں کا حق ہے۔ ان کا یہ دعوی کہ وہ حضرت ابراہیم کے وارث ہیں ، یہ بھی غلط ہے۔ اس لیے کہ سچائی کا تعلق خون اور نسب سے نہیں ہوتا۔ سچائی میں وراثت تو دین اور عقیدے کی وراثت ہوتی ہے۔

کہ دریں راہ فلان ابن فلاں چیزی نیست

حضرت ابراہیم کے وارث تو اہل تقوی ہیں۔ حضرت ابراہیم نے اس گھر کو تعمیر کیا تاکہ لوگ اس کی زیارت کریں اور تم اس سے روکتے ہو اور تم نے اس کی تولیت کو بھی مستحق لوگوں سے چھین لیا ہے۔

Al-Anfaal 8:34Listen in Qur'an →
35

وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِندَ ٱلْبَيْتِ إِلَّا مُكَآءًۭ وَتَصْدِيَةًۭ ۚ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

اور ان لوگوں کی نماز خانہٴ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو

یہ لوگ ، اگرچہ اس گھر میں اپنی نماز پڑھتے ہیں۔ اس گھر کی تولیت کے مستحق نہیں ہیں۔ پھر ان کی نماز ہی کیا ہے ؟ سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا۔ ایسا شور و شغب اور ہائے ہو جس میں کوئی متانت اور سنجیدگی نہیں ہے نہ اس گھر کے احترام کا شعور ہے اور نہ اس میں اللہ کے تقدس اور کبریائی کا کچھ احساس ہے۔

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ یہ لوگ اپنی گالوں کو زمین پر رکھتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے۔ اور اس سے عالم اسلام ، نام نہاد عالم اسلام کی وہ تصویر ذہن میں آجاتی ہے جس میں لوگ آستانوں پر گاتے بجاتے ہیں ، شور شغب کرتے ہیں اور اللہ ہو کے نعرے لگاتے ہیں اور قبروں کی چوکھٹوں پر چہرے رگڑتے ہیں۔ غرض یہ سب جاہلیت کے مظاہرے ہیں جو کبھی اس صورت میں ظاہر ہوتے تھے اور کبھی اس صورت میں طاہر ہوتے ہیں۔ لیکن ان تمام صورتوں کی اصل اور بھنیادی صورت یہ ہے کہ دنیا میں انسانوں کی حاکمیت قائم ہو اور لوگوں پر انسان حکمران ہوں۔ یہ بڑی اور عظیم ہمہ گیر جاہلیت ہے جو تمام چھوٹی بڑی جاہلیتوں کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے اور یہ دوسری جاہلیتیں اس کی شاخ اور فریم ہوتی ہیں۔

فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ۔ پس اب لو ، اس عذاب کا مزہ چکھو اپنے اس انکار حق کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو۔

اور یہ عذاب کون سا عذاب ہے ، وہی جو میدان بدر میں جماعت مسلمہ کے ہاتھوں ان کو پہنچتا رہا وہ عذاب جو انہوں نے خود طلب کیا تھا کہ ان کی جڑ کاٹ دی جائے تو اللہ نے ان پر وہ عذاب اس لیے نازل نہیں کیا کہ اللہ رحیم و کریم ہے اور نبی ﷺ کی موجودگی میں اس قسم کے عذاب کا نزول مناسب نہ تھا کیونکہ آپ نبی رحمت ہیں اور کفار میں سے کئی لوگوں کی جانب سے توبہ و استغفار کی امید ابھی باقی ہے۔

Al-Anfaal 8:35Listen in Qur'an →
36

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ لِيَصُدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةًۭ ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ

جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لیے (موجب) افسوس ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے

اب ذرا ان کفار کے طرز عمل کو دیکھو یہ لوگ اپنے اموال اس مقصد کے لیے صرف کرتے ہیں کہ لوگوں کو راہ خدا سے روکیں۔ بدر میں ان کے مقاصد کیا تھے ، یہی کہ اس جنگ سے ان کے پیش نظر صرف یہ تھا کہ اس گروہ کو ختم کر کے دین داری کی تحریک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے جس طرح پہلے کیا گیا۔ بدر کے بعد بھی ان کی سوچ یہی رہی۔ اللہ تعالیٰ انہیں خبر دار فرماتے ہیں کہ آخر کار تم نے ناکام ہونا ہے اور تمہیں اپنے رویے پر بےحد افسوس ہوگا اس لیے کہ تم نے دنیا میں شکست سے دوچار ہونا ہے اور آخرت میں تمہارے لیے دردناک عذاب ہوگا۔

محمد بن اسحاق نے زہری وغیرہ سے نقل کیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ جب قریش کو بدر میں شکست ہوئی اور ان کا یہ شکست خوردہ لشکر مکہ پہنچا اور ابو سفیان قافلے کو لے کر وہاں پہنچا تو عبداللہ بن ربیعہ ، عکرمہ ابن ابوجہل ، صفوان ابن امیہ چند دوسرے لوگوں کو لے کر ان لوگوں کے گھروں میں گئے جن کے آباء اور اولاد اور بھائی اس جنگ میں قتل ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے ابو سفیان ابن حرب اور ان تمام لوگوں سے بات چیت کی جن کے اموال اس قافلے میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے اہل قریش ، محمد نے تم سے خوب بدلہ لیا اور اس میں حد سے بڑھ گئے۔ اور تمہارے بہترین لوگوں کو قتل کیا۔ لہذا تم قافلہ تجارت کے اموال چندے میں دے دو تاکہ ہم بدر کا بدلہ لے سکیں۔ انہوں نے یہ تجویز قبول کرلی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ ۔ یہ جو بدر میں ہوا یا بدر کے بعد ہوا یہ دین کے دشمنوں کا معمولی حربہ ہے۔ یہ لوگ اپنے اموال اور اپنی قوتوں کو دین کی بیخ کنی کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ دین کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور یہ لوگ ہر جگہ اور ہر دور میں اسلام کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ معرکہ ختم نہیں ہوا ہے ، دین کے دشمن کسی بھی وقت آرام سے نہیں بیٹھے اور انہوں نے کبھی ایک لمحہ بھر کے لیے بھی ، حامیان دین کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیا۔ اس لیے کہ اس دین کی واحد راہ ہی یہی ہے کہ وہ متحرک رہے اور جاہلیت پر ہجوم کرے۔ اہل دین کی صفت اور نصب العین ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت متحرک رہیں اور اہل جاہلیت کی کمر توڑ کر رکھ دیں۔ اللہ کے جھنڈے کو اس قدر بلند اور غالب کردیں کہ کسی دشمن دین کو اس کی طرف دیکھنے کی جرات نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خبردار فرماتے ہیں جو اپنے مال دین کی راہ روکنے میں صرف کرتے ہیں ان کا یہ فعل ان کے لیے حیرت کا باعث ہوگا۔ یہ تمام نفقات جلد ہی اکارت جائیں گے اور اہل حق اسی دنیا میں غالب و فتح یاب ہوں گے اور آخرت میں تو یہ لوگ جہنم کی طرف رواں دواں ہوں گے اور یہ ان کے لیے عظیم حیرت ہوگی۔

Al-Anfaal 8:36Listen in Qur'an →
37

لِيَمِيزَ ٱللَّهُ ٱلْخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ ٱلْخَبِيثَ بَعْضَهُۥ عَلَىٰ بَعْضٍۢ فَيَرْكُمَهُۥ جَمِيعًۭا فَيَجْعَلَهُۥ فِى جَهَنَّمَ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

تاکہ خدا ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر ایک ڈھیر بنا دے۔ پھر اس کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں

یہ عمل کس طرح جاری ہوگا ، یہ مال جو خرچ کیا جا رہا ہے یہ باطل کی قوتوں کو مجتمع کرتا ہے اور ان کو حق پر دست درازی کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ اور حق اس کا مقابلہ کرتا ہے اور سعی و جہد کا میدان گرم ہوتا ہے۔ حق ایک تحریک کی شکل میں آگے بڑھتا ہے اور باطل کا سر پھوڑ دیتا ہے اس کشمکش اور کڑوے عمل میں ہی حق و باطل کا امتیاز ہوجاتا ہے۔ اہل حق اور اہل باطل متمیز ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جو لوگ اسلامی صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں ، ان کے درمیان سے بھی کمزور لوگ چھٹ جاتے ہیں اور وہی لوگ رہ جاتے ہیں جو ثابت قدم ، صابر اور بہادر اور اللہ کی نصرت کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے ہی لوگ اس عظیم امانت کے اٹھانے کے قابل ہوتے ہیں۔ وہ کسی فتنے اور کسی بھی مشکل کی وجہ سے اپنے موقف سے نہیں ہٹتے۔ اسی عمل سے خباثت کے پلندوں کو جمع کرکے جہنم رسید کیا جاسکتا ہے اور یہی صورت اہل باطن کے خسران کا سبب بنتی ہے۔

قرآن کریم نے یہاں خباثت کو مجسم شکل میں پیش کیا ہے گویا اس کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور اسے جہنم میں لے جا کر ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے سوا اس کے ختم کرنے کا کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔

فَيَرْكُمَهٗ جَمِيْعًا فَيَجْعَلَهٗ فِيْ جَهَنَّمَ ۔ اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے۔ پھر اس پلندے کو جہنم میں جھونک دے۔ کسی مفہوم کو اس طرح مجسم شکل میں پیش کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ و احساس و شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا ایک منفرد اسلوب ہے۔

Al-Anfaal 8:37Listen in Qur'an →
38

قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِن يَنتَهُوا۟ يُغْفَرْ لَهُم مَّا قَدْ سَلَفَ وَإِن يَعُودُوا۟ فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ ٱلْأَوَّلِينَ

(اے پیغمبر) کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر پھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا)

اب بات فیصلہ کن نکتے تک آپہنچتی ہے اور اہل کفر کا انجام طے کردیا جاتا ہے ، اور گندگی کے ڈھیر کو ٹھکانے لگانے کا طریقہ متعین کردیا جاتا ہے۔ اب بات کا رخ حضور اکرم ﷺ کی طرف پھرتا ہے کہ اہل کفر کو آخری تنبیہ کردو ، اور اہل ایمان کو بھی حکم دے دیا جاتا ہے کہ تمہارے لیے جو راہ اور طریقہ کار متعین کردیا گیا ہے اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ جہاد و قتال ہی اسلام کا واحد راستہ ہے۔ اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کرہ ارض سے ہر قسم کا فتنہ و فساد ختم نہیں ہوجاتا ، اور دین خالص غالب نہیں ہوجاتا۔ اور تحریک اسلامی مطمئن اور مامون نہیں ہوجاتی۔ اسی صورت میں اللہ تحریک کا حامی و ناصر ہوگا اور لوگوں میں سے کوئی بھی بذریعہ جنگ یا بذریعہ سازش تحریک کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔

لہذا تمہارے لیے اب بھی موقع ہے کہ تم اپنے آپ کو اس انجام بد سے بچا لو ، اور اسلام کے خلاف اکٹھ نہ کرو اور اس میں اپنے اموال تجارت کو جھونکنے سے بچا لو ، توبہ کا دروازہ اب بھی تمہارے سامنے ہے اور کھلا ہے۔ اللہ کی راہ کی طرف واپس آجاؤ۔ اللہ تمہاری تمام کو تاہیاں معاف کردے گا۔ اور اگر اس تنبیہ کے بعد پھر یہ لوگ وہی رویہ اختیار کریں تو سنت الہیہ لازما اپنی راہ لے گی۔ وہی ان کا انجام ہوگا جو اس راہ پر چلنے والوں کا زمانہ قدیم سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے دوستوں کو غلبہ اور اقتدار اعلی نصیب ہوتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اب اے اہل کفر تم ایک فیصلہ کن دو را ہے پر کھڑے ہو۔ یہ فیصلے کی گھڑی ہے۔

اب (اگلی آیت میں) اہل کفر کے ساتھ ہم کلامی ختم کرکے اہل ایمان کو اسلامی انقلاب کا طریقہ کار بتلایا جاتا ہے

Al-Anfaal 8:38Listen in Qur'an →
39

وَقَٰتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌۭ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ كُلُّهُۥ لِلَّهِ ۚ فَإِنِ ٱنتَهَوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے

تفسیر آیات 39 ۔ 40 ۔ یہ ہیں اسلامی جہاد کے حدود وقیود۔ یہ ہر جگہ اور ہر دور کے لیے ہیں۔ یہ احکام حضور کے زمانے کے ساتھ مخصوص نہ تھے۔ اس سورة میں میں جہاد کے متعلق جو احکام آئے ہیں وہ اپنی آخری صورت میں نہیں آئے۔ اسلام کا قانون جنگ سورة توبہ میں مکمل ہوا ہے جو 9 ہجری میں نازل ہوئی۔ جیسا کہ ہم نے اس سورة کے آغاز میں کہا ہے کہ اسلام ایک مثبت تحریک ہے اور وہ پوری انسانیت کے مقابلے میں وہی وسائل اختیار کرتی ہے جو اس وقت کے حالت کے مطابق مناسب ہوں پھ ریہ تحریک ایک مرحلہ وار تحریک ہے اور ہر مرحلے کے لیے اس کے مخصوص احکام ہیں اور ہر مرحلے کے واضح اہداف و تقاضے ہیں۔

ان تمام باتوں کے باوجود یہ بات فیصلہ کن ہے کہ یہ حکم وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ” ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہوجائے “ یہ تحریک اسلامی کے لیے دائمی حکم ہے اور جاہلیت کے مقابلے کے لیے ایک مستقل پالیسی ہے۔

اس سورة کے آغاز میں ، اس کے تعارف کے دوران ہم نے کہا تھا کہ دنیا میں اسلام آیا ہی اس لیے ہے کہ انسان کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے نجات دلائے اور اس طرح کہ کوئی اپنے جیسے بندوں کی غلامی نہ کرے ، اسی طرح کوئی شخص اپنی خواہشات نفسانیہ کی غلامی بھی نہ کرے اور یہ مقصد صرف اس صورت میں حاصل کیا جاسکتا ہے کہ اس کرہ ارض پر صرف اللہ وحدہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ قائم کیا جائے اور صرف اللہ ہی اس کرہ ارض پر تمام انسانوں کے حاکم اور رب ہوں۔ یہ اعلان در اصل تمام انسانوں کی مروجہ حاکمیتوں اور اقتداروں کے خلاف اعلان بغاوت ہوتا ہے اور ان تمام صورتوں کے خلاف عملی جنگ ہوتی ہے جن میں کسی بھی شکل میں انسان کو حکومت انسان پر چل رہی ہو۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے اس پارے کے صفحات ۔۔ )

لہذا اس عظیم نصب العین کے حصول کے لیے دو باتوں کا ہونا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ اس دین پر اعتقاد رکھنے والے لوگ فتنہ و فساد سے مامون اور محفوظ ہوں۔ وہ اس پوزیشن میں ہوں کہ اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے آزادی کا اعلان کرسکتے ہوں اور صرف اللہ وحدہ کی غلامی کا اعلان کرسکتے ہوں۔ ان پر انسانوں میں سے کسی کا اقتدار اعلی نہ ہو۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ایک ایسا گروہ موجود نہ ہو اور جس کی اپنی قیادت نہ ہو اور جو اس نظریہ کو کسی خطہ ارض پر عملاً نافذ نہ کر رہی ہو ، اور اس خطے کے وہ عملاً ہر طاغوت کے مقابلے میں صف آرا نہ ہو رہی ہو۔ اور وہ ایسی قوتوں کا سدباب نہ کرے جو ایسی جماعت کو دین اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے سے روکتی ہو ، یا ایسے لوگوں پر تشدد کرتی ہو۔

دوسری شرط یہ ہے کہ دنیا میں ایسی کوئی قوت نہ ہو اور اگر ہو تو اسے پاش پاش کردیا جائے جو مقصد اولیٰ کی راہ میں سد راہ ہو۔ یعنی ایسی تمام قوتوں کو ختم کردیا جائے جو اس کرہ ارض پر حکومت الہیہ کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہوں۔ غرض اس کرہ ارض پر الہ کا اقتدار اعلی پوری طرح قائم کردیا جائے۔

یہاں یہ ضروری ہے کہ ایک اہم سوال کا جواب دے دیا جائے۔ وہ یہ کہ قرآن کریم میں اللہ کا حکم ہے۔ لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی۔ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ راہ ہدایت ، گمراہی سے ممتاز ہوچکا ہے۔

اس کے باوجود کہ اسلام کے نظریہ جہاد کے بارے میں ہم بحث کر آئے ہیں۔ خصوصا استاذ مولانا سید ابو الاعلی مودودی محترم کی کتاب الجہاد فی الاسلام سے ہم نے جو طویل اقتباس دیا تھا ، اس کے بعد اس موضوع پر کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہاں ہم چاہتے ہیں کہ اس مضمون کی قدرے مزید وضاحت کردی جائے اس لیے اس نکتے پر اسلام کے مکار دشمن ہر طرف سے پروپیگنڈہ کرکے شبہات پھیلاتے ہیں۔

اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے ، وہ یہ ہے کہ " دین پورے کا پورا اللہ کا ہوجائے ، اس سے مراد یہ ہے کہ دین کے مقابلے میں ایسی مادی …

Al-Anfaal 8:39Listen in Qur'an →
40

وَإِن تَوَلَّوْا۟ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَوْلَىٰكُمْ ۚ نِعْمَ ٱلْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ ٱلنَّصِيرُ

اور اگر روگردانی کریں تو جان رکھو کہ خدا تمہارا حمایتی ہے۔ (اور) وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے

تفسیر آیات 39 ۔ 40 ۔ یہ ہیں اسلامی جہاد کے حدود وقیود۔ یہ ہر جگہ اور ہر دور کے لیے ہیں۔ یہ احکام حضور کے زمانے کے ساتھ مخصوص نہ تھے۔ اس سورة میں میں جہاد کے متعلق جو احکام آئے ہیں وہ اپنی آخری صورت میں نہیں آئے۔ اسلام کا قانون جنگ سورة توبہ میں مکمل ہوا ہے جو 9 ہجری میں نازل ہوئی۔ جیسا کہ ہم نے اس سورة کے آغاز میں کہا ہے کہ اسلام ایک مثبت تحریک ہے اور وہ پوری انسانیت کے مقابلے میں وہی وسائل اختیار کرتی ہے جو اس وقت کے حالت کے مطابق مناسب ہوں پھ ریہ تحریک ایک مرحلہ وار تحریک ہے اور ہر مرحلے کے لیے اس کے مخصوص احکام ہیں اور ہر مرحلے کے واضح اہداف و تقاضے ہیں۔

ان تمام باتوں کے باوجود یہ بات فیصلہ کن ہے کہ یہ حکم وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ” ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہوجائے “ یہ تحریک اسلامی کے لیے دائمی حکم ہے اور جاہلیت کے مقابلے کے لیے ایک مستقل پالیسی ہے۔

اس سورة کے آغاز میں ، اس کے تعارف کے دوران ہم نے کہا تھا کہ دنیا میں اسلام آیا ہی اس لیے ہے کہ انسان کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے نجات دلائے اور اس طرح کہ کوئی اپنے جیسے بندوں کی غلامی نہ کرے ، اسی طرح کوئی شخص اپنی خواہشات نفسانیہ کی غلامی بھی نہ کرے اور یہ مقصد صرف اس صورت میں حاصل کیا جاسکتا ہے کہ اس کرہ ارض پر صرف اللہ وحدہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ قائم کیا جائے اور صرف اللہ ہی اس کرہ ارض پر تمام انسانوں کے حاکم اور رب ہوں۔ یہ اعلان در اصل تمام انسانوں کی مروجہ حاکمیتوں اور اقتداروں کے خلاف اعلان بغاوت ہوتا ہے اور ان تمام صورتوں کے خلاف عملی جنگ ہوتی ہے جن میں کسی بھی شکل میں انسان کو حکومت انسان پر چل رہی ہو۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے اس پارے کے صفحات ۔۔ )

لہذا اس عظیم نصب العین کے حصول کے لیے دو باتوں کا ہونا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ اس دین پر اعتقاد رکھنے والے لوگ فتنہ و فساد سے مامون اور محفوظ ہوں۔ وہ اس پوزیشن میں ہوں کہ اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے آزادی کا اعلان کرسکتے ہوں اور صرف اللہ وحدہ کی غلامی کا اعلان کرسکتے ہوں۔ ان پر انسانوں میں سے کسی کا اقتدار اعلی نہ ہو۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ایک ایسا گروہ موجود نہ ہو اور جس کی اپنی قیادت نہ ہو اور جو اس نظریہ کو کسی خطہ ارض پر عملاً نافذ نہ کر رہی ہو ، اور اس خطے کے وہ عملاً ہر طاغوت کے مقابلے میں صف آرا نہ ہو رہی ہو۔ اور وہ ایسی قوتوں کا سدباب نہ کرے جو ایسی جماعت کو دین اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے سے روکتی ہو ، یا ایسے لوگوں پر تشدد کرتی ہو۔

دوسری شرط یہ ہے کہ دنیا میں ایسی کوئی قوت نہ ہو اور اگر ہو تو اسے پاش پاش کردیا جائے جو مقصد اولیٰ کی راہ میں سد راہ ہو۔ یعنی ایسی تمام قوتوں کو ختم کردیا جائے جو اس کرہ ارض پر حکومت الہیہ کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہوں۔ غرض اس کرہ ارض پر الہ کا اقتدار اعلی پوری طرح قائم کردیا جائے۔

یہاں یہ ضروری ہے کہ ایک اہم سوال کا جواب دے دیا جائے۔ وہ یہ کہ قرآن کریم میں اللہ کا حکم ہے۔ لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی۔ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ راہ ہدایت ، گمراہی سے ممتاز ہوچکا ہے۔

اس کے باوجود کہ اسلام کے نظریہ جہاد کے بارے میں ہم بحث کر آئے ہیں۔ خصوصا استاذ مولانا سید ابو الاعلی مودودی محترم کی کتاب الجہاد فی الاسلام سے ہم نے جو طویل اقتباس دیا تھا ، اس کے بعد اس موضوع پر کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہاں ہم چاہتے ہیں کہ اس مضمون کی قدرے مزید وضاحت کردی جائے اس لیے اس نکتے پر اسلام کے مکار دشمن ہر طرف سے پروپیگنڈہ کرکے شبہات پھیلاتے ہیں۔

اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے ، وہ یہ ہے کہ " دین پورے کا پورا اللہ کا ہوجائے ، اس سے مراد یہ ہے کہ دین کے مقابلے میں ایسی مادی …

Al-Anfaal 8:40Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.