يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو
(سورۃ کے تعارف کا بقیہ حصہ)
جو لوگ نظریہ جہاد اسلامی کے اخلاقی جواز کے لیے صرف دار الاسلام کی حفاظت کے اسباب و وجوہ تلاش کرتے ہیں ، انہوں نے در اصل نظام اسلامی کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ ہی نہیں لگایا۔ وہ اس نظام کو ایک وطن سے بھی کم تر درجے کی کوئی چیز سمجھتے ہیں ، حالانکہ اسلامی نقطہ نظفر سے یہ خیال درست نہیں ہے۔ یہ بالکل ایک یا تصور ہے جو اسلامی تصور پر غالب ہورہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام پہلے عقیدے کو اہمیت دیتا ہے ، پھر اس نظام کو جو اس عقیدے پر مبنی ہوتا ہے۔ پھر اس معاشرے کو جس میں وہ نظام قائم ہوتا ہے یہی چیزیں اسلامی تصور حیات میں اہمیت کی حامل ہیں۔۔۔ باقی رہی صرف کوئی سرزمین تو بذات خود اسلام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ کسی اسلامی سرزمین کو اہمیت صرف اس وجہ سے حاصل ہوتی ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکومت قائم ہوتی ہے اور وہ اسلامی عقیدے کا گہوارا اور اسلامی نظام حیات کے لیے ایک کھیت کی حیثیت اختیار کرکے دار الاسلام قرار پاتی ہے اور " تحریک آزادی انسان " کے لیے مرکز بن جاتی ہے۔
دار الاسلام کی حفاظت بھی اس لیے ہوتی ہے کہ اس عقیدے ، اس نظام حیات اور اس معاشرے کی حفاظت ہو ، جو اس دار الاسلام میں قائم ہوتا ہے۔ بذات خود دار الاسلام کوئی مستقل بالذات مقصد نہیں اور نہ تحریک جہاد اسلامی منتہائے نظر صرف دار الاسلام کی حفاظت ہی ہے۔ اس کی حفاظت تو محض اس لیے کی جاتی ہے کہ وہاں حکومت الہیہ کا قیام عمل میں لایا جاسکے اور اس کے بعد تمام روئے زمین پر پھیلنے اور تمام نوع انسانی تک دعوت اسلامی کو پہنچانے کے لیے اسے مرکز بتایا جاسکے۔ اس طرح گویا پوری انسانیت اس دین کا موضوع ہے اور پورا کرہ ارض اس کا میدان کار ہے۔
جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ چکے ہیں ، جب بھی دین کو پھیلانے کا کام شروع ہوگا اس کے راستے میں اس وقت کی سیاسی طاقت ، اس وقت کے موجودہ اجتماعی نظام اور اس وقت کے معاشروں کی عادات واطوار کی جانب سے مادی رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں۔ پھر اسلام بھی ، ان تمام چیزوں کو اپنی قوت کے بل بوتے پر اپنے راستے سے ہٹاتا ہے تاکہ وہ براہ راست لوگوں کو اپیل کرسکے ، ان کے ضمیر اور ان کے افکار کو مخاطب کرسکے اور تبلیغ دین اور انسان کے درمیان کوئی مادی رکاوٹ نہ رہے۔ اس کے بعد انہیں اختیار دیا جائے کہ وہ اسلامی عقیدے کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔
ہمیں اسلام کے نظریہ جہاد کے بارے میں ، کسی سے مرعوب نہ ہونا چاہیے اور نہ مستشرقین کی وسوسہ اندازیوں سے متاثر ہونا چاہیے۔ موجودہ بین الاقوامی حالات سے دب کر ، اسلام کے نظریہ جہاد کی جدید تعبیر کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس سے اس کی روح ختم ہوجائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ حالات اور واقعات جن کا وقتی دفاع سے تھا ، اگر وہ نہ بھی ہوتے تو بھی مسلمان اسی طرح جہاد کرتے جس طرح انہوں نے ان حالات کے ہوتے ہوئے کیا۔
براہ راست مطالعہ
ہمیں صرف اسلامی نظام حیات کا تاریخی جائزہ لینا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ وہ کن کن امور کو اولیت دیتا ہے۔ اس کا مزاج کیا ہے ، اور وہ کس چیز کا اعلان کرتا ہے۔ اس کا طریق کار کیا ہے ؟ ان تمام امور کے بارے میں کوئی حتمی فیصلے کرتے وقت ہمیں وقتی اور دفاعی اقدامات اور دائمی نصب العین میں فرق کرنا چاہیے۔
یہ بات اپنی جگہ بالکل درست کہ یہ دین حملہ آوروں کا دفاع بھی کرتا ہے کیونکہ جاہلیت کسی حال میں بھی اسے برداشت نہیں کرسکتی۔ محض یہ اعلان ہی جاہلیت کے ایک بڑا چیلنج ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے۔ اس کے سوا کوئی انسان کسی کا غلام نہیں۔ خالی خولی اعلان ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک قیادت کے تحت عملی تحریک بھی منظم کرنا اور بالکل ایک نئے اور ممتاز معاشرہ کی بنیاد رکھنا ، جو سیاسی لحاظ سے اللہ کے سوا تمام حاکمیتوں کا انکار کرتا ہو ، یہ سب چیزیں ہمیشہ جاہلیت کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔ غرض اسلامی نظام زندگی کا …