يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو
يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ : ” الْاَنْفَالِ “ یہ ” نَفَلٌ“ (نون اور فاء کے فتح کے ساتھ) کی جمع ہے، جیسا کہ ” فَرَسٌ“ کی جمع ” اَفْرَاسٌ“ ہے۔ جس کا معنی زائد چیز ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ) [ بنی إسرائیل : ٧٩ ] ” اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کے ساتھ بیدار رہ، اس حال میں کہ تیرے لیے زائد ہے۔ “ یعنی رات کا قیام فرض نمازوں سے زائد ہے۔ یہ لفظ کئی معنوں میں آتا ہے : 1 مال غنیمت، کیونکہ جہاد کا اصل مقصد تو ثواب اور حصول جنت ہے، غنیمت تو ایک زائد چیز ہے۔ شاید اسی لیے پہلی امتوں کے لیے غنیمت حلال نہیں تھی، اس امت کو ثواب پر مزید غنیمت بھی حلال کردی گئی۔ 2 امیر کسی خاص کارنامے پر غنیمت کے حصے سے زائد کسی انعام کا اعلان کر دے، یا دینا چاہے تو یہ بھی نفل ہے۔ 3 مقتول کے پاس جو بھی سامان اسلحہ یا سواری وغیرہ ہو وہ قاتل کو دیا جائے، اسے ” سلب “ کہتے ہیں، یہ بھی نفل ہے۔ 4 عام جنگ کے علاوہ کچھ دستے جنگ کے لیے جاتے ہوئے یا واپسی پر کسی بستی پر حملے کے لیے بھیجے جائیں اور وہ غنیمت لے کر آئیں تو وہ پورے لشکر کے لیے ہوگی، مگر اس دستے کو مجموعی غنیمت میں سے الگ زائد حصہ بھی دیا جائے گا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جاتے وقت چوتھا حصہ اور واپسی پر تیسرا حصہ عطا فرماتے تھے۔ 5 امیر غنیمت کی تقسیم سے پہلے کوئی ایک چیز اپنے لیے چن لے، مثلاً کوئی اسلحہ یا سواری، یا لونڈی وغیرہ، اسے ” صفی “ بھی کہتے تھے۔ - زمانۂ جاہلیت میں معمول تھا کہ جنگ میں جو شخص جو کچھ لوٹ لیتا اسی کا ہوتا۔ اسلام میں سب سے پہلا عظیم الشان معرکہ بدر واقع ہوا تو ابھی تک کفار سے حاصل ہونے والے مال کی تقسیم کا طریقہ مقرر نہیں ہوا تھا۔ بدر میں جب بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا تو یہ مسئلہ پیش آیا۔ چناچہ عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے تو میں آپ کے ساتھ بدر میں شریک ہوا۔ لوگوں کا باہمی مقابلہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دی، تو ایک گروہ انھیں ہزیمت دیتے اور قتل کرتے ہوئے ان کے پیچھے چل پڑا، ایک گروہ لشکر گاہ پر متوجہ ہو کر اس کی حفاظت اور مال جمع کرنے لگ گیا اور ایک گروہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد گھیرا ڈالے رکھا کہ دشمن آپ کے متعلق کسی غفلت سے فائدہ نہ اٹھا لے۔ آخر سب لوگ واپس آ کر جمع ہوئے تو جنھوں نے غنیمتیں جمع کی تھیں، کہنے لگے، یہ ہم نے جمع کی ہیں، کسی اور کا ان میں کوئی حصہ نہیں، جو دشمن کے پیچھے گئے تھے انھوں نے کہا تم ہم سے زیادہ اس کے حق دار نہیں ہو، ہم نے دشمن کو ان سے ہٹایا اور انھیں مار بھگایا ہے۔ جنھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد گھیر ڈالے رکھا، انھوں نے کہا، ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھیرے میں رکھا اور اس بات سے ڈرے کہ دشمن کسی طرح کی غفلت میں آپ کو نقصان نہ پہنچائے، چناچہ ہم اس کام میں مشغول رہے، تو اس وقت یہ آیات اتریں : (يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب دشمن کی زمین میں حملے کے لیے جاتے تو چوتھا حصہ بطور نفل (زائد) دیتے تھے، پھر جب واپس آتے، لوگ تھکے ہوئے ہوتے تو تیسرا حصہ بطور نفل عطا فرماتے تھے اور آپ خصوصاً زائد حصے دینا پسند نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے : ” مومنوں کا قوت والا ان کے کمزور پر غنیمت واپس لاتا ہے۔ “ [ أحمد : ٥؍٣٢٣، ٣٢٤، ح ٢٢٧٦٢، وقال شعیب الأرنؤوط حسن لغیرہ ] ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان اور مستدرک حاکم میں بھی اس حدیث کے بعض اجزا مروی ہیں۔- قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ : …