Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 71–75 of 75

71

وَإِن يُرِيدُوا۟ خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا۟ ٱللَّهَ مِن قَبْلُ فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی خدا سے دغا کرچکے ہیں تو اس نے ان کو (تمہارے) قبضے میں کر دیا۔ اور خدا دانا حکمت والا ہے

اے نبی! کہہ دیجیے! ان سے جو تمھارے ہاتھوں میں(گرفتار) قیدی ہیں، اگر جانے گا اللہ تمھارے دلوں میں بھلائی تو دے گا وہ تمھیں زیادہ بہتر اس سے جو (فدیے میں) لیا گیا تم سے اور بخش دے گا تمھیں اوراللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے(70) اور اگر ارادہ کریں وہ آپ سے خیانت کا تو تحقیق وہ خیانت کرچکے ہیں اللہ سے اس سے پہلے تو قدرت دی اللہ نے (آپ کو) ان پراور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے(71)

[70] یہ آیت کریمہ اسیران بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ان قیدیوں میں رسول اللہﷺ کے چچا حضرت عباس بھی شامل تھے۔ جب رہائی کے عوض ان سے فدیہ کا مطالبہ کیا گیا تو انھوں نے عرض کیا کہ انھوں نے اس سے قبل اسلام قبول کیا ہوا تھا۔ مگر مسلمانوں نے ان سے فدیہ کو ساقط نہ کیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی اور ان لوگوں کی دل جوئی کی خاطر یہ آیت کریمہ نازل فرمائی جو اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہوں ۔ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلۡ لِّمَنۡ فِيۡۤ اَيۡدِيۡكُمۡ مِّنَ الۡاَسۡرٰۤى١ۙ اِنۡ يَّعۡلَمِ اللّٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ خَيۡرًا يُّؤۡتِكُمۡ خَيۡرًا مِّؔمَّاۤ اُخِذَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’اے نبی ان سے کہہ دو! جو تمھارے ہاتھوں میں قیدی ہیں ، اگر اللہ تمھارے دلوں میں کچھ نیکی جانے گا تو تمھیں اس سے بہتر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے‘‘ یعنی جو مال تم سے لیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کے بدلے خیر کثیر عطا کرے گا۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ﴾ ’’اور (اللہ تعالیٰ) تمھارے گناہ بخش دے گا‘‘ اور تمھیں جنت میں داخل کرے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عباسt سے اپنا وعدہ پورا کر دیا، اس کے بعد انھیں بہت زیادہ مال حاصل ہوا۔ حتیٰ کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ کے پاس بہت زیادہ مال آیا، حضرت عباسt آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے کپڑے میں جتنا مال اٹھا سکتے ہیں لے لیں ۔ انھوں نے اتنا مال لیا کہ ان سے اٹھایا نہیں جا رہا تھا۔

[71]﴿ وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡا خِيَانَتَكَ ﴾ ’’اور اگر یہ لوگ آپ سے دغا کرنا چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ آپﷺ کے ساتھ جنگ کرنے کی کوشش کر کے خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں ﴿ فَقَدۡ خَانُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ فَاَمۡكَنَ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’تو وہ خیانت کر چکے ہیں اللہ کی اس سے پہلے، پس اس نے ان کو پکڑوا دیا‘‘ پس وہ آپ کے ساتھ خیانت کرنے سے بچیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان پر اختیار رکھتا ہے اور وہ اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ اور یعنی اللہ تعالیٰ علیم ہے، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے، وہ ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھتا ہے۔ یہ اس کا علم و حکمت ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے نہایت خوبصورت اور جلیل القدر احکام وضع فرمائے اور کفار کے شر اور ان کی خیانت کے ارادے کے مقابلے میں تمھاری کفایت کا ذمہ لیا۔

Al-Anfaal 8:71Listen in Qur'an →
72

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَوا۟ وَّنَصَرُوٓا۟ أُو۟لَٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍۢ ۚ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَمْ يُهَاجِرُوا۟ مَا لَكُم مِّن وَلَٰيَتِهِم مِّن شَىْءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا۟ ۚ وَإِنِ ٱسْتَنصَرُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ فَعَلَيْكُمُ ٱلنَّصْرُ إِلَّا عَلَىٰ قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَٰقٌۭ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے وہ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہوگی۔ مگر ان لوگوں کے مقابلے میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہو (مدد نہیں کرنی چاہیئے) اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اورانھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں اور وہ لوگ جنھوں نے (مہاجرین کو) جگہ دی اور مدد کی، یہی لوگ ہیں کہ بعض ان کے حمایتی ہیں بعض کےاور وہ جو ایمان لائے اور نہیں ہجرت کی انھوں نے، نہیں ہے تمھارے لیے ان کی حمایت سے کچھ بھی، یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں۔ اوراگر وہ مدد طلب کریں تم سے دین(کے کام) میں تو تم پر واجب ہے مدد کرنا مگر مقابلے میں اس قوم کے کہ تمھارے درمیان اوران کے درمیان کوئی عہد ہواور اللہ ان کو جو تم عمل کرتے ہودیکھنے والا ہے(72)

[72] یہ موالات اور محبت کا رشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کے درمیان.....جو ایمان لائے، جنھوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کی خاطر اپنے وطن کو چھوڑا .... اور انصار کے درمیان قائم کیا، جنھوں نے رسول اللہﷺ اور آپ کے اصحاب کرامy کو پناہ دی، اپنے گھر، مال اور خود ان کی ذات کے بارے میں ان کی مدد کی۔ یہ سب لوگ، اپنے کامل ایمان اور ایک دوسرے کے ساتھ مکمل اتصال کی بنا پر ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يُهَاجِرُوۡا مَا لَكُمۡ مِّنۡ وَّلَايَتِهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ حَتّٰى يُهَاجِرُوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی، تم کو ان کی رفاقت سے کچھ کام نہیں ، جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں ‘‘ کیونکہ انھوں نے تم سے علیحدہ ہو کر تمھاری ولایت و دوستی کا رشتہ ایسے وقت میں منقطع کر لیا جبکہ تمھیں مردوں کی مدد کی سخت ضرورت تھی اور چونکہ انھوں نے ہجرت نہیں کی اس لیے مومنین کی طرف سے ان کی کوئی دوستی نہیں ۔ البتہ ﴿ وَاِنِ اسۡتَنۡصَرُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ﴾ ’’اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں ۔‘‘ یعنی اگر کوئی قوم ان کے خلاف لڑائی کرے اور یہ اس لڑائی میں تم سے مدد مانگیں ﴿فَعَلَيۡكُمُ النَّصۡرُ ﴾’’تو تم کو مدد کرنی لازم ہے۔‘‘ یعنی تم پر ان کی مدد کرنا اور ان کے ساتھ مل کر ان کے دشمن کے خلاف لڑنا واجب ہے اور اگر وہ اس کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے لڑتے ہیں تو تم پر ان کی مدد کرنا واجب نہیں ۔﴿ اِلَّا عَلٰى قَوۡمٍۭؔ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ مِّؔيۡثَاقٌ ﴾ ’’مگر ان لوگوں کے مقابلہ میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہوچکا ہے (مدد نہیں کرنی چاہیے) ۔ ‘‘ یعنی جن کے ساتھ تمھارا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے اور وہ مومن جنھوں نے ہجرت نہیں کی اگر ان کے ساتھ لڑنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو ان کے خلاف ان مومنوں کی مدد نہ کرو کیونکہ تمھارے اور ان کے درمیان جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’اور اللہ تمھارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے احوال اور رویے کو جانتا ہے، اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام مشروع کیے ہیں جو تمھارے احوال کے لائق ہیں ۔

Al-Anfaal 8:72Listen in Qur'an →
73

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُن فِتْنَةٌۭ فِى ٱلْأَرْضِ وَفَسَادٌۭ كَبِيرٌۭ

اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہو جائے گا اور بڑا فساد مچے گا

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، بعض ان کے حمایتی ہیں بعض کے۔ اگر (مسلمانو!) نہ کرو گے تم ایسا(باہم حمایت) تو ہوگا فتنہ زمین میں اور فساد بڑا(73)

[73] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے درمیان موالات کا رشتہ قائم کر دیا تو اس نے آگاہ فرمایا کہ چونکہ کفار کو ان کے کفر نے اکٹھا کر دیا ہے اس لیے وہ ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں اور ان جیسے کفار کے سوا ان کا کوئی ولی اور دوست نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِلَّا تَفۡعَلُوۡهُ ﴾ ’’تو (مومنو) اگر تم (بھی) یہ (کام) نہ کرو گے۔‘‘ یعنی اگر تم مومنوں کے ساتھ موالات اور کفار کے ساتھ عداوت کے اصول پر عمل نہیں کرو گے یعنی تم اہل ایمان کی حمایت اور کفار سے دشمنی نہیں کرو گے یا تم کفار کی حمایت کرو گے اور اہل ایمان سے دشمنی رکھو گے ﴿ تَكُنۡ فِتۡنَةٌ فِي الۡاَرۡضِ وَفَسَادٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’تو ملک میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔‘‘ یعنی حق و باطل اور مومن و کافر کے اختلاط سے ایک ایسی برائی جنم لے گی جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا اور بہت سی بڑی بڑی عبادات ، مثلاً: جہاد اور ہجرت وغیرہ معدوم ہو جائیں گی۔ جب اہل ایمان صرف اہل ایمان ہی کو اپنا دوست اور حمایتی نہیں بنائیں گے تو شریعت اور دین کے اس قسم کے مقاصد فوت ہو جائیں گے۔

گزشتہ آیات میں مہاجرین و انصار کے رشتہ موالات کا تذکرہ تھا اور ان آیات میں ان کی مدح اور ثواب کا ذکر ہے، چنانچہ فرمایا:

Al-Anfaal 8:73Listen in Qur'an →
74

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَوا۟ وَّنَصَرُوٓا۟ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّۭا ۚ لَّهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ

اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لیے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا انھوں نے اللہ کی راہ میں اور (اسی طرح) وہ لوگ جنھوں نے (مہاجرین کو) جگہ دی اور مدد کی(ان کی) یہی ہیں مومن سچے، انھی کے لیے ہے مغفرت اور روزی باعزت(74) اور وہ لوگ جو ایمان لائے بعد میں اور ہجرت کی انھوں نے اور جہاد کیا تمھارے ساتھ (مل کر)، پس یہ لوگ تم ہی میں سے ہیں اور رشتے دار بعض ان میں سے زیادہ حق دار ہیں ساتھ بعض کے اللہ کی کتاب میں۔ بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(75)

[74]﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيۡنَ اٰوَوۡا وَّنَصَرُوۡۤا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنھوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) پناہ دی اور ان کی مدد کی۔‘‘ یعنی مہاجرین و انصار ﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ﴾ یعنی وہی سچے مومن ہیں کیونکہ انھوں نے ہجرت، نصرت دین، ایک دوسرے کے ساتھ موالات اور اپنے دشمنوں کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کر کے اپنے ایمان کی تصدیق کی ہے۔ ﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے مغفرت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ جس سے ان کی برائیاں محو ہو جائیں گی اور ان کی لغزشیں ختم ہو جائیں گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی۔‘‘ یعنی ان کے لیے ان کے رب کی طرف سے نعمتوں بھری جنتوں میں خیر کثیر ہے۔ بسا اوقات اس دنیا ہی میں انھیں بہت جلد ثواب عطا کر دیا جاتا ہے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور دل مطمئن ہوتے ہیں ۔

[75] اسی طرح جو لوگ ان مہاجرین و انصار کے بعد آئیں ، نیکیوں میں ان کی اتباع کریں ، ایمان لائیں ، ہجرت کریں اور اللہ کے راستے میں جہاد کریں ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’پس وہ لوگ تم ہی میں سے ہیں ‘‘ ان کے وہی حقوق ہیں جو تمھارے حقوق ہیں اور ان کے ذمے وہی فرائض ہیں جو تمھارے ذمے ہیں ۔ ایمان پر مبنی یہ موالات اسلام کے ابتدائی زمانے میں تھی ... اس کی بہت بڑی وقعت اور عظیم شان ہے۔ حتی کہ نبی مصطفیﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان جو اخوت قائم کی تھی، وہ خاص اخوت تھی۔ جو اخوت عامہ و ایمانیہ کے علاوہ ہے، حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرما دی۔ ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ﴾ ’’اور رشتے دار آپس میں زیادہ حق دار ہیں ایک دوسرے کے، اللہ کے حکم میں ‘‘ اس لیے میت کی وراثت صرف انھی لوگوں کو ملے گی جو اصحاب الفروض ہیں یا وہ میت کا عصبہ ہیں ۔ اگر میت کا عصبہ اور اصحاب الفروض موجود نہ ہوں تو ذوالارحام میں سے وہ لوگ وارث بنیں گے جو رشتہ میں میت کے سب سے زیادہ قریب ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا عموم دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی کتاب میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی کتاب میں ۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ اس کے احاطہ علم میں تمھارے احوال بھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی مناسبت سے تم پر دینی اور شرعی احکام جاری کرتا ہے۔

Al-Anfaal 8:74Listen in Qur'an →
75

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ مَعَكُمْ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مِنكُمْ ۚ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍۢ فِى كِتَٰبِ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۢ

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کرگئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا انھوں نے اللہ کی راہ میں اور (اسی طرح) وہ لوگ جنھوں نے (مہاجرین کو) جگہ دی اور مدد کی(ان کی) یہی ہیں مومن سچے، انھی کے لیے ہے مغفرت اور روزی باعزت(74) اور وہ لوگ جو ایمان لائے بعد میں اور ہجرت کی انھوں نے اور جہاد کیا تمھارے ساتھ (مل کر)، پس یہ لوگ تم ہی میں سے ہیں اور رشتے دار بعض ان میں سے زیادہ حق دار ہیں ساتھ بعض کے اللہ کی کتاب میں۔ بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(75)

[74]﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيۡنَ اٰوَوۡا وَّنَصَرُوۡۤا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنھوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) پناہ دی اور ان کی مدد کی۔‘‘ یعنی مہاجرین و انصار ﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ﴾ یعنی وہی سچے مومن ہیں کیونکہ انھوں نے ہجرت، نصرت دین، ایک دوسرے کے ساتھ موالات اور اپنے دشمنوں کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کر کے اپنے ایمان کی تصدیق کی ہے۔ ﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے مغفرت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ جس سے ان کی برائیاں محو ہو جائیں گی اور ان کی لغزشیں ختم ہو جائیں گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی۔‘‘ یعنی ان کے لیے ان کے رب کی طرف سے نعمتوں بھری جنتوں میں خیر کثیر ہے۔ بسا اوقات اس دنیا ہی میں انھیں بہت جلد ثواب عطا کر دیا جاتا ہے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور دل مطمئن ہوتے ہیں ۔

[75] اسی طرح جو لوگ ان مہاجرین و انصار کے بعد آئیں ، نیکیوں میں ان کی اتباع کریں ، ایمان لائیں ، ہجرت کریں اور اللہ کے راستے میں جہاد کریں ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’پس وہ لوگ تم ہی میں سے ہیں ‘‘ ان کے وہی حقوق ہیں جو تمھارے حقوق ہیں اور ان کے ذمے وہی فرائض ہیں جو تمھارے ذمے ہیں ۔ ایمان پر مبنی یہ موالات اسلام کے ابتدائی زمانے میں تھی ... اس کی بہت بڑی وقعت اور عظیم شان ہے۔ حتی کہ نبی مصطفیﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان جو اخوت قائم کی تھی، وہ خاص اخوت تھی۔ جو اخوت عامہ و ایمانیہ کے علاوہ ہے، حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرما دی۔ ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ﴾ ’’اور رشتے دار آپس میں زیادہ حق دار ہیں ایک دوسرے کے، اللہ کے حکم میں ‘‘ اس لیے میت کی وراثت صرف انھی لوگوں کو ملے گی جو اصحاب الفروض ہیں یا وہ میت کا عصبہ ہیں ۔ اگر میت کا عصبہ اور اصحاب الفروض موجود نہ ہوں تو ذوالارحام میں سے وہ لوگ وارث بنیں گے جو رشتہ میں میت کے سب سے زیادہ قریب ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا عموم دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی کتاب میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی کتاب میں ۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ اس کے احاطہ علم میں تمھارے احوال بھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی مناسبت سے تم پر دینی اور شرعی احکام جاری کرتا ہے۔

Al-Anfaal 8:75Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.