Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 71–75 of 75

71

وَإِن يُرِيدُوا۟ خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا۟ ٱللَّهَ مِن قَبْلُ فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی خدا سے دغا کرچکے ہیں تو اس نے ان کو (تمہارے) قبضے میں کر دیا۔ اور خدا دانا حکمت والا ہے

بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا مسلمانوں کے ليے ایک جنگي غلطی تھی۔ مگر خود قیدیوں کے حق میں یہ ایک نئی زندگی فراہم کرنے کے ہم معنیٰ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ لوگ جو اپنی مخالفتِ حق کے نتیجہ میں ہلاکت کے مستحق ہوچکے تھے ان کو ایک بار اور موقع مل گیا کہ وہ اسلام کی دعوت اور اس کے مقابلہ میں اپنی بے جا روش پر دوبارہ غور کرسکیں۔ اس مہلت نے ان کے ليے اپنی اصلاح کا نیا دروازہ کھول دیا۔

اب ایک صورت یہ تھی کہ ان قیدیوں کے دل میں شکست کی بنا پر انتقام کی آگ بھڑکے۔ فدیہ دینے کی وجہ سے ان کو جو ذلت اور نقصان ہوا ہے اس کا بدلہ لینے کے ليے وہ بے چین ہوجائیں۔ ایسی صورت میں وہ پھر اسی غلطی کو دہرائیں گے جس کے نتیجے میں وہ خدا کی پکڑ کے مستحق بن گئے تھے۔ وہ اپنی قوتوں کو اسلام کی مخالفت میں صرف کریںگے، جس کا انجام دنیا میں ہلاکت ہے اور آخرت میں عذاب۔

دوسری صورت یہ تھی کہ وہ بدر کے میدان میں پیش آنے والے غیر معمولی واقعہ پر غور کریں کہ مسلمانوں کو کم تر اسباب کے باوجود اتنی کھلی ہوئی فتح کیوں نصیب ہوئی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ خدا مسلمانوں کے دین کے ساتھ ہے، نہ کہ قریش کے دین کے ساتھ۔ یہ دوسرا ذہن اگر پیدا ہوجائے تو وہ ان کو آمادہ کرے گا کہ وہ اپنی سابقہ روش کو بدلیں اور جس دین کو پہلے اختیار نہ کرسکے، اس کو اب سے اختیار کرلیں۔ اور اس طرح دنیا اور آخرت میں خداکے انعام کے مستحق بنیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ قریش کے لوگوں میں ایک تعداد ایسی نکلی جن کے دل میں مذکورہ سوال جاگ اٹھا اور جلد یا بدیر وہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ حضرت عباس بن عبد المطلب نے زمانہ قید ہی میں اسلام قبول کرلیا۔ کچھ دوسرے لوگ بعد کو اسلام کے حلقہ میں آگئے۔ یہ لوگ اگرچہ گروہی تعصب کی نظر میں ذلیل ہوئے مگر انھوں نے خدا کی نظر میں عزت حاصل کرلی۔ دنیا کا نقصان اٹھا کر وہ آخرت کے فائدہ کے مالک بن گئے۔

قیدیوں کو چھوڑنے کی وجہ سے مسلمانوں کو یہ اندیشہ تھا کہ وہ اس کو احسان سمجھ کر اس کا اعتراف نہیں کریں گے بلکہ پہلے کی طرح دوبارہ سازش اور تخریب کاری کا راستہ اختیار کرکے اسلام کی راه میں رکاوٹ بن جائیں گے۔ مگر قرآن نے اس اندیشہ کو اہمیت نہ دی۔ کیوں خالص حق کے ليے جو تحریک اٹھتی ہے وہ عام طرز کی انسانی تحریک نہیں ہوتی۔ وہ ایک خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کی پشت پر خود خدا ہوتا ہے اور خدا سے لڑنا کسی کے بس کی بات نہیں۔

Al-Anfaal 8:71Listen in Qur'an →
72

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَوا۟ وَّنَصَرُوٓا۟ أُو۟لَٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍۢ ۚ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَمْ يُهَاجِرُوا۟ مَا لَكُم مِّن وَلَٰيَتِهِم مِّن شَىْءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا۟ ۚ وَإِنِ ٱسْتَنصَرُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ فَعَلَيْكُمُ ٱلنَّصْرُ إِلَّا عَلَىٰ قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَٰقٌۭ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے وہ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہوگی۔ مگر ان لوگوں کے مقابلے میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہو (مدد نہیں کرنی چاہیئے) اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

عام طورپر جب ایک آدمی دوسرے کی مدد کرتاہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ آدمی اس کے اپنے خاندان کا ہے، اس سے گروہی اور جماعتی تعلق ہے۔ مگر ہجرت کے بعد مدینہ میں جو اسلامی معاشرہ قائم ہوا وہ ایسا معاشرہ تھا جس میں گھر والوں نے اپنے گھر ایسے لوگوں کو ديے جن سے تعلق کی بنیاد صرف دین تھی۔ جو لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر مدینہ آئے وہ بھی اللہ کے ليے اور آخرت طلبی کے ليے آئے۔ اور جنھوں نے ان اجنبی لوگوں کو اپنے مال اور اپنی جائداد میں شریک کیا وہ بھی صرف اس ليے تاکہ ان کا خدا ان سے خوش ہو اور آخرت میں انھیں جنتوں میں داخل کرے۔

یہ ایسا سماج تھا جس میںاہم چیز خاندان اور نسب نہیں بلکہ ایمان و اسلام تھا۔ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے مگر دنیوی فائدہ کے ليے نہیں بلکہ آخرت کے فائدہ کے ليے۔ وہ ایک دوسرے کو دیتے تھے مگر پانے والےسے کسی بدلہ کی امید میں نہیں بلکہ اللہ سے انعام کی امید میں۔ وہی معاشرہ حقیقۃ ً اسلامی معاشرہ ہے جہاں تعلقات خاندانی رشتوں اور گروہی عصبیتوں پر قائم نہ ہوں بلکہ حق کی بنیاد پر قائم ہوں۔ جہاں لوگ ایک دوسرے کے حامی وناصر اس بنیاد پر ہوں کہ وہ ان کے دینی بھائی ہیں، نہ کہ اس بنیاد پر کہ دنیوی مصلحتوں میں سے کوئی مصلحت ان کے ساتھ وابستہ ہے۔

ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان سے حق کے معاملہ میں مدد طلب کرے تو اس وقت اس کی مدد کرنا بالکل لازم ہے۔ اگر مسلمانوں میں باہمی مدد کی یہ روح باقی نہ رہے تو یہ ہوگا کہ شریر لوگ کمزور مسلمانوں پر دلیر ہوجائیں گے اور ان کی زندگی اور ان کے ایمان کا محفوظ رہنا سخت مشکل ہوجائے گا۔ حق کے مخالفین اپنے ساتھیوں کی مدد کے ليے انتهائی متعصب ہوتے ہیں پھر حق کے ماننے والے اپنے ساتھیوں کی مدد میں کیوں نہ سرگرم ہوں۔ اس میں استثنا صرف اس وقت ہے جب کہ معاملہ بین اقوامی ہو اور مسلمانوں کی مدد کرنا بین اقوامی پیچیدگیاں پیدا کرنے کے ہم معنی سمجھا جائے۔

’’ہجرت‘‘ جنت میں داخلہ کا دروازہ ہے۔ ایک بندہ جب خدا کے ناپسندیدہ مقام سے نکل کر خدا کے پسندیدہ مقام کی طرف جاتاہے تو دراصل وہ غیر جنت کو چھوڑ کر جنت میں داخل ہوتا ہے۔

Al-Anfaal 8:72Listen in Qur'an →
73

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُن فِتْنَةٌۭ فِى ٱلْأَرْضِ وَفَسَادٌۭ كَبِيرٌۭ

اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہو جائے گا اور بڑا فساد مچے گا

عام طورپر جب ایک آدمی دوسرے کی مدد کرتاہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ آدمی اس کے اپنے خاندان کا ہے، اس سے گروہی اور جماعتی تعلق ہے۔ مگر ہجرت کے بعد مدینہ میں جو اسلامی معاشرہ قائم ہوا وہ ایسا معاشرہ تھا جس میں گھر والوں نے اپنے گھر ایسے لوگوں کو ديے جن سے تعلق کی بنیاد صرف دین تھی۔ جو لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر مدینہ آئے وہ بھی اللہ کے ليے اور آخرت طلبی کے ليے آئے۔ اور جنھوں نے ان اجنبی لوگوں کو اپنے مال اور اپنی جائداد میں شریک کیا وہ بھی صرف اس ليے تاکہ ان کا خدا ان سے خوش ہو اور آخرت میں انھیں جنتوں میں داخل کرے۔

یہ ایسا سماج تھا جس میںاہم چیز خاندان اور نسب نہیں بلکہ ایمان و اسلام تھا۔ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے مگر دنیوی فائدہ کے ليے نہیں بلکہ آخرت کے فائدہ کے ليے۔ وہ ایک دوسرے کو دیتے تھے مگر پانے والےسے کسی بدلہ کی امید میں نہیں بلکہ اللہ سے انعام کی امید میں۔ وہی معاشرہ حقیقۃ ً اسلامی معاشرہ ہے جہاں تعلقات خاندانی رشتوں اور گروہی عصبیتوں پر قائم نہ ہوں بلکہ حق کی بنیاد پر قائم ہوں۔ جہاں لوگ ایک دوسرے کے حامی وناصر اس بنیاد پر ہوں کہ وہ ان کے دینی بھائی ہیں، نہ کہ اس بنیاد پر کہ دنیوی مصلحتوں میں سے کوئی مصلحت ان کے ساتھ وابستہ ہے۔

ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان سے حق کے معاملہ میں مدد طلب کرے تو اس وقت اس کی مدد کرنا بالکل لازم ہے۔ اگر مسلمانوں میں باہمی مدد کی یہ روح باقی نہ رہے تو یہ ہوگا کہ شریر لوگ کمزور مسلمانوں پر دلیر ہوجائیں گے اور ان کی زندگی اور ان کے ایمان کا محفوظ رہنا سخت مشکل ہوجائے گا۔ حق کے مخالفین اپنے ساتھیوں کی مدد کے ليے انتهائی متعصب ہوتے ہیں پھر حق کے ماننے والے اپنے ساتھیوں کی مدد میں کیوں نہ سرگرم ہوں۔ اس میں استثنا صرف اس وقت ہے جب کہ معاملہ بین اقوامی ہو اور مسلمانوں کی مدد کرنا بین اقوامی پیچیدگیاں پیدا کرنے کے ہم معنی سمجھا جائے۔

’’ہجرت‘‘ جنت میں داخلہ کا دروازہ ہے۔ ایک بندہ جب خدا کے ناپسندیدہ مقام سے نکل کر خدا کے پسندیدہ مقام کی طرف جاتاہے تو دراصل وہ غیر جنت کو چھوڑ کر جنت میں داخل ہوتا ہے۔

Al-Anfaal 8:73Listen in Qur'an →
74

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَوا۟ وَّنَصَرُوٓا۟ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّۭا ۚ لَّهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ

اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لیے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے

خدا پر ایمان لانا خداکے ليے زندگی گزارنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ ایسے لوگ اکثر ان لوگوں کے درمیان اجنبی بن جاتے ہیں جو خدا کے سوا کسی اور چیز کی خاطر زندگی گزار رہے ہوں۔ یہ اجنبیت کبھی اتنی بڑھتی ہے کہ ہجرت کی نوبت آجاتی ہے۔ ماحول کی مخالفت کے نتیجہ میں پوری زندگی جدوجہد اور جاں فشانی کی زندگی بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی لوگ ہیں جو خدا کے نزدیک سچے مومن ہیں۔ اس کے بعد سچا ایمان ان لوگوں کا ہے جو اسلام کی خاطر برباد ہوجانے والے اس قافلہ کے پشت پناہ بنیں وہ ان کو جگہ دیں اور ان کی ہر ممکن مدد کے ليے کھڑے ہوجائیں۔ جن کی زندگیاں نہیں لٹی ہیں وہ اپنا اثاثہ ان لوگوں کے حوالے کردیں جن کی زندگیاں اسلام کی راہ میں لٹ گئی ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ حقیقی مسلم بننے کے ليے آدمی کو دو میں سے کم از کم ایک چیز کا ثبوت دینا ہے۔ آدمی یا تو اپنے آپ کو اسلام کے ساتھ اس طرح وابستہ کرے کہ اگر اس کو اپنی بنی بنائی دنیا اجاڑ دینی پڑے تو اس سے بھی دریغ نہ کرے، آرام کی زندگی کو بے آرام کی زندگی بنا دینا پڑے تو اس کو بھی گوارا کرلے۔ پھر یہ کہ اسلام کی خاطر جب کچھ لوگ اپنا اثاثہ لٹا دیں تو وہ لوگ جو ابھی لٹنے سے محفوظ ہیں وہ پہلے فریق کی مدد کے ليے اپنا بازو کھول دیں، حتی کہ ضرورت ہو تو اپنی کمائی اور اپنی جائداد میں بھی ان کو شریک کرلیں— سچا ایمان کسی کو یا تو ’’مہاجر‘‘ بننے کی سطح پر ملتا ہے یا ’’انصار‘‘ بننے کی سطح پر۔

یہی دو قسم کے لوگ ہیں جن کے ليے خدا کے یہاں مغفرت اور رزق کریم ہے۔ آخرت میں آنے والی جنت انتہائی ستھری اور نفیس دنیا ہے۔ وہ ایک کامل دنیا ہے اور کامل دنیا میں بسائے جانے کے لائق وہی لوگ ہوسکتے ہیںجو خود بھی کامل ہوں۔ کوئی انسان اپنی بشری کمزوریوں کی بنا پر ایسی کاملیت کا ثبوت نہیں دے سکتا۔ تاہم اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جوشخص مذکورہ دونوں کسوٹی میں سے کسی ایک کسوٹی پر پورا اترے گا خدا اپنی قدرت سے اس کی کمیوں کی تلافی کرکے اس کو جنت میں داخل کردے گا۔

دین کی بنیاد پر بھائی بننے والوں کی مدد اور حمایت بے حد اہم ہے تاہم وہ رحمی رشتوں کے حقوق اور ان کے درمیان وراثتوں کی تقسیم پر اثر انداز نہ ہوگی۔ اپنی خواہش کے تحت کوئی شخص اپنے اہل خاندان کے ليے جن چیزوں کو ضروری سمجھ لے ان کی کوئی اہمیت اللہ کے نزدیک نہیں ہے۔ تاہم اللہ نے خود اپنی کتاب میں اہل خاندان کے لیے حقوق اور وراثت کا جو قانون مقرر کردیا ہے وہ ہر حال میں قائم رہے گا۔ اور کوئی دوسری چیز اس کی ادائيگی کے ليے عذر نہیں بن سکتی۔

Al-Anfaal 8:74Listen in Qur'an →
75

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ مَعَكُمْ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مِنكُمْ ۚ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍۢ فِى كِتَٰبِ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۢ

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کرگئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

خدا پر ایمان لانا خداکے ليے زندگی گزارنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ ایسے لوگ اکثر ان لوگوں کے درمیان اجنبی بن جاتے ہیں جو خدا کے سوا کسی اور چیز کی خاطر زندگی گزار رہے ہوں۔ یہ اجنبیت کبھی اتنی بڑھتی ہے کہ ہجرت کی نوبت آجاتی ہے۔ ماحول کی مخالفت کے نتیجہ میں پوری زندگی جدوجہد اور جاں فشانی کی زندگی بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی لوگ ہیں جو خدا کے نزدیک سچے مومن ہیں۔ اس کے بعد سچا ایمان ان لوگوں کا ہے جو اسلام کی خاطر برباد ہوجانے والے اس قافلہ کے پشت پناہ بنیں وہ ان کو جگہ دیں اور ان کی ہر ممکن مدد کے ليے کھڑے ہوجائیں۔ جن کی زندگیاں نہیں لٹی ہیں وہ اپنا اثاثہ ان لوگوں کے حوالے کردیں جن کی زندگیاں اسلام کی راہ میں لٹ گئی ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ حقیقی مسلم بننے کے ليے آدمی کو دو میں سے کم از کم ایک چیز کا ثبوت دینا ہے۔ آدمی یا تو اپنے آپ کو اسلام کے ساتھ اس طرح وابستہ کرے کہ اگر اس کو اپنی بنی بنائی دنیا اجاڑ دینی پڑے تو اس سے بھی دریغ نہ کرے، آرام کی زندگی کو بے آرام کی زندگی بنا دینا پڑے تو اس کو بھی گوارا کرلے۔ پھر یہ کہ اسلام کی خاطر جب کچھ لوگ اپنا اثاثہ لٹا دیں تو وہ لوگ جو ابھی لٹنے سے محفوظ ہیں وہ پہلے فریق کی مدد کے ليے اپنا بازو کھول دیں، حتی کہ ضرورت ہو تو اپنی کمائی اور اپنی جائداد میں بھی ان کو شریک کرلیں— سچا ایمان کسی کو یا تو ’’مہاجر‘‘ بننے کی سطح پر ملتا ہے یا ’’انصار‘‘ بننے کی سطح پر۔

یہی دو قسم کے لوگ ہیں جن کے ليے خدا کے یہاں مغفرت اور رزق کریم ہے۔ آخرت میں آنے والی جنت انتہائی ستھری اور نفیس دنیا ہے۔ وہ ایک کامل دنیا ہے اور کامل دنیا میں بسائے جانے کے لائق وہی لوگ ہوسکتے ہیںجو خود بھی کامل ہوں۔ کوئی انسان اپنی بشری کمزوریوں کی بنا پر ایسی کاملیت کا ثبوت نہیں دے سکتا۔ تاہم اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جوشخص مذکورہ دونوں کسوٹی میں سے کسی ایک کسوٹی پر پورا اترے گا خدا اپنی قدرت سے اس کی کمیوں کی تلافی کرکے اس کو جنت میں داخل کردے گا۔

دین کی بنیاد پر بھائی بننے والوں کی مدد اور حمایت بے حد اہم ہے تاہم وہ رحمی رشتوں کے حقوق اور ان کے درمیان وراثتوں کی تقسیم پر اثر انداز نہ ہوگی۔ اپنی خواہش کے تحت کوئی شخص اپنے اہل خاندان کے ليے جن چیزوں کو ضروری سمجھ لے ان کی کوئی اہمیت اللہ کے نزدیک نہیں ہے۔ تاہم اللہ نے خود اپنی کتاب میں اہل خاندان کے لیے حقوق اور وراثت کا جو قانون مقرر کردیا ہے وہ ہر حال میں قائم رہے گا۔ اور کوئی دوسری چیز اس کی ادائيگی کے ليے عذر نہیں بن سکتی۔

Al-Anfaal 8:75Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.