وَإِن يُرِيدُوا۟ خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا۟ ٱللَّهَ مِن قَبْلُ فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی خدا سے دغا کرچکے ہیں تو اس نے ان کو (تمہارے) قبضے میں کر دیا۔ اور خدا دانا حکمت والا ہے
وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ : یعنی اگر وہ اسلام کا دعویٰ یا آئندہ آپ سے نہ لڑنے کا وعدہ صرف رہائی اور آپ کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہیں اور ان کے دل میں کھوٹ ہے، تو پہلے انھوں نے اللہ کے ساتھ شرک اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جنگ کی خیانت کر کے کیا حاصل کرلیا، یہی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان پر قابو عطا فرمایا، اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے خوش خبری اور قیدیوں کے لیے وعید ہے۔ ” فَاَمْكَنَ “ کا مفعول محذوف ہے، یعنی ” أَمْکَنَکَ مِنْھُمْ “ کہ اس نے آپ کو ان پر قابو دے دیا۔