Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 71–75 of 75

71

وَإِن يُرِيدُوا۟ خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا۟ ٱللَّهَ مِن قَبْلُ فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی خدا سے دغا کرچکے ہیں تو اس نے ان کو (تمہارے) قبضے میں کر دیا۔ اور خدا دانا حکمت والا ہے

انہوں نے اللہ کے ساتھ یوں خیانت کی کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کیا۔ اور اللہ وحدہ کو اپنا رب تسلیم نہ کیا حالانکہ اس نے ان کی فطرت سے یہ عہد لیا تھا۔ اور اگر انہوں نے حضور ﷺ سے بھی خیانت کا ارادہ کیا۔ حالانکہ اب وہ آپ کی قید میں ہیں تو ان کو پہلی خیانت کے نتائج پر غور کرنا چاہئے کہ اب وہ مسلمانوں کے ہاں قید ہیں اور اللہ نے ان کو رسول اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔

امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں ابن عربی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جب مشرکین قید ہوئے تو ان میں سے بعض لووں نے اسلام کے متعلق بات کی۔ لیکن وہ دل سے مسلمان نہ تھے۔ اسلام کے بارے میں انہوں نے جو بات کی ، وہ بھی دو ٹوک نہ تھی۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے قریب آجائیں لیکن مشرکین سے بھی دور نہ ہوں۔ ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اگر کوئی کافر ایمان کی بات کرے ، زبان سے اقرار بھی کرے لیکن وہ اس میں صاحب عزیمت نہ ہو تو وہ مومن تصور نہ ہوگا ، لیکن اگر مومنین میں سے کوئی اس قسم کی مذبذب بات کرے تو وہ کافر ہوگا۔ الا یہ کہ دل میں کوئی ایسا وسوسہ آجائے جو انسان کی قدرت سے ابہر ہوتا ہے ، کیونکہ اسے تو خود اللہ نے معاف کردیا ہے۔ اللہ نے اپنے رسول کے سامنے یہ حقیقت کھول دی ہے۔ و ان یریدوا خیانتک یعنی یہ بات اگر ان کی جانب سے بطور مکر و فریب اور خیانت ہے تو انہوں نے اس سے قبل بھی اللہ کی خیانت کا ارتکاب کیا ہے کہ انہوں نے کفر کو اپنایا ، اسلام کے خلاف سازشیں کیں اور آپ کے خلاف آمادہ جنگ ہوگئے۔ اگرچہ ان کی یہ بات برائے ظاہر داری اچھی ہے اور اللہ بھی جانتا ہے کہ اس کی پشت پر کوئی بھلائی موجود ہے تو اللہ ان کو معاف کردے گا اور ان کے سابقہ کرتوتوں کو ساقط کردے گا۔

Al-Anfaal 8:71Listen in Qur'an →
72

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَوا۟ وَّنَصَرُوٓا۟ أُو۟لَٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍۢ ۚ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَمْ يُهَاجِرُوا۟ مَا لَكُم مِّن وَلَٰيَتِهِم مِّن شَىْءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا۟ ۚ وَإِنِ ٱسْتَنصَرُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ فَعَلَيْكُمُ ٱلنَّصْرُ إِلَّا عَلَىٰ قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَٰقٌۭ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے وہ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہوگی۔ مگر ان لوگوں کے مقابلے میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہو (مدد نہیں کرنی چاہیئے) اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

تفسیر آیات 72 تا 75:۔

اب یہ درس ختم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ یہ سورت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اس میں اسلامی معاشرے کے اندرونی حالات و تعلقات اور اسلامی معاشرے اور دوسرے معاشروں کے مابین تعلقات کو منضبط کیا گیا ہے۔ اور اس بارے میں منظم بین الاقوامی قانون کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ان احکام و ضوابط پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے۔ وہ کیا بنیاد ہے جس کے اوپر اس کی عمارت اٹھتی ہے اور وہ کیا انتہا ہے جس تک یہ نظام بڑھتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد خونی رشتوں پر نہیں ہے۔ زمین اور علاقائی رشتوں پر بھی نہیں ہے۔ رنگ و سنل کے رشتوں پر بھی نہیں ہے۔ تاریخی مشترکہ ورثے کے تعلقات پر بھی نہیں ہے۔ مشترکہ زبان اور مشترکہ اقتصادی نظام کے تعلقات پر بھی نہیں ہے۔ یہ نظام نہ رشتہ داری کا نظام ہے ، نہ وطنیت ہے ، نہ قومیت ہے اور نہ اقتصادی مصالح کا نام ہے۔ بلکہ یہ نظام ایک نظریے پر بنا ہے۔ یہ ایک رسول کی قیادت پر وجود میں آیا ہے۔ یہ ایک تحریک کا نام ہے ، لہذا جو لوگ ایمان لائے ، انہوں نے اپنا وطن چھوڑ کر دار ہجرت میں آگئے ، اور انہوں نے اپنے تمام زمینی رشتے کاٹ دیے ، اپنی زمین کو چھوڑ دیا ، قوم کو چھوڑ دیا ، مفادات کو چھوڑ دیا اور اپنے مالوں اور اپنی جان کے ذریعے جہاد فی سبیل اللہ کیا اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور امداد دی اور وہ ان لوگوں کے قریب ہوگئے ، نظریات کی وجہ سے ، اور انہوں نے اسلامی قیادت کو قبول کرکے تحریک میں شامل ہوگئے۔ یہی لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے بھائی اور ولی ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے مگر دار الاسلام کی طرف ہجرت نہ کی تو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی ولایت نہیں کیونکہ اسلامی عقیدے کے قبول کرنے کے بعد وہ اس عقیدے کے لیے وقف نہ ہوئے اور اس عقیدے کے نظام کو قبول نہ کیا اور اجتماعی تحریک کی قیادت کے احکامات قبول نہ کیے ، کیونکہ اسلامی معاشرے میں پائے جانے والے نظریاتی دو افراد کے درمیان پائے جانے والے تعلقات وراثت سے زیادہ اہم ہیں۔ اور اس کے مقابلے میں کفار ایک دوسرے کے ولی بھی ہیں اور وارث بھی ہیں۔ یہ ہیں وہ اہم خطوط جن پر اسلامی معاشرے کی عمارت اٹھتی ہے۔ اور ان لائنوں پر افراد معاشرہ کے درمیان تعلقات بنتے اور بگڑتے ہیں جیسا کہ ان قرآنی آیات میں ضبط کیا گیا ہے۔

یوم بدر تک اسلام کے آغاز میں مسلمانوں کے درمیان ولایت کی نوعیت یہ تھی کہ ان کے درمیان توارث اور تکافل کے تعلقات تھے اور وہ اس کے تحت دیت ادا کرتے تھے اور ان کے درمیان ایک دوسرے کی نصرت اور اخوت کی ولایت قائم تھی اور یہ ولایت قرابت ، نسبت اور خون کی ولایت کے قائم مقام تھی۔ لیکن جب یوم بدر کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو استحکام بخش دیا اور اسلامی مملکت مستحکم ہوگئی تو ولایت اور نصرت رہ گئی اور میراث اور دیات میں تکافل کو اسلامی معاشرے کے اندر خورنی رشتوں کی طرف لوٹا دیا۔ اس آیت میں جس ہجرت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور جسے اس ولایت کے لیے شرط قرار دیا گیا خواہ ولایت عامہ ہو یا خاصہ ہو ، تو اس سے مراد دار الشرک سے دار الاسلام کی طرف ہجرت ہے جس کی استطاعت ہو ، جو لوگ ہجرت کرسکتے ہیں اور نہ کریں اور اس لیے نہ کریں کہ انہیں دار الشرک میں مفادات اور رشتہ داریاں عزیز ہوں تو ایسے لوگوں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی ولایت نہیں ہے۔ اور یہی مسئلہ ان دیہاتی لوگوں کا تھا جو اسلام کو قبول کرچکے تھے لیکن ایسے ہی حالات کی وجہ سے انہوں نے ہجرت نہ کی۔ اس قسم سے بعض لوگ مکہ میں بھی تھے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اللہ نے ان کی نصرت لازم کی ہے بشرطیکہ وہ نصرت طلب کریں اور ان کی جس قوم کے ساتھ دشمنی ہو ، مسلمانوں اور اس قوم کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو کیونکہ اسلامی معاشرے کا عہد و پیمان اور اس کا تحریکی منصوبہ انفرادی ضرورتوں سے زیادہ اہم ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ان آیات اور ان …

Al-Anfaal 8:72Listen in Qur'an →
73

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُن فِتْنَةٌۭ فِى ٱلْأَرْضِ وَفَسَادٌۭ كَبِيرٌۭ

اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہو جائے گا اور بڑا فساد مچے گا

تفسیر آیات 72 تا 75:۔

اب یہ درس ختم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ یہ سورت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اس میں اسلامی معاشرے کے اندرونی حالات و تعلقات اور اسلامی معاشرے اور دوسرے معاشروں کے مابین تعلقات کو منضبط کیا گیا ہے۔ اور اس بارے میں منظم بین الاقوامی قانون کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ان احکام و ضوابط پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے۔ وہ کیا بنیاد ہے جس کے اوپر اس کی عمارت اٹھتی ہے اور وہ کیا انتہا ہے جس تک یہ نظام بڑھتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد خونی رشتوں پر نہیں ہے۔ زمین اور علاقائی رشتوں پر بھی نہیں ہے۔ رنگ و سنل کے رشتوں پر بھی نہیں ہے۔ تاریخی مشترکہ ورثے کے تعلقات پر بھی نہیں ہے۔ مشترکہ زبان اور مشترکہ اقتصادی نظام کے تعلقات پر بھی نہیں ہے۔ یہ نظام نہ رشتہ داری کا نظام ہے ، نہ وطنیت ہے ، نہ قومیت ہے اور نہ اقتصادی مصالح کا نام ہے۔ بلکہ یہ نظام ایک نظریے پر بنا ہے۔ یہ ایک رسول کی قیادت پر وجود میں آیا ہے۔ یہ ایک تحریک کا نام ہے ، لہذا جو لوگ ایمان لائے ، انہوں نے اپنا وطن چھوڑ کر دار ہجرت میں آگئے ، اور انہوں نے اپنے تمام زمینی رشتے کاٹ دیے ، اپنی زمین کو چھوڑ دیا ، قوم کو چھوڑ دیا ، مفادات کو چھوڑ دیا اور اپنے مالوں اور اپنی جان کے ذریعے جہاد فی سبیل اللہ کیا اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور امداد دی اور وہ ان لوگوں کے قریب ہوگئے ، نظریات کی وجہ سے ، اور انہوں نے اسلامی قیادت کو قبول کرکے تحریک میں شامل ہوگئے۔ یہی لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے بھائی اور ولی ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے مگر دار الاسلام کی طرف ہجرت نہ کی تو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی ولایت نہیں کیونکہ اسلامی عقیدے کے قبول کرنے کے بعد وہ اس عقیدے کے لیے وقف نہ ہوئے اور اس عقیدے کے نظام کو قبول نہ کیا اور اجتماعی تحریک کی قیادت کے احکامات قبول نہ کیے ، کیونکہ اسلامی معاشرے میں پائے جانے والے نظریاتی دو افراد کے درمیان پائے جانے والے تعلقات وراثت سے زیادہ اہم ہیں۔ اور اس کے مقابلے میں کفار ایک دوسرے کے ولی بھی ہیں اور وارث بھی ہیں۔ یہ ہیں وہ اہم خطوط جن پر اسلامی معاشرے کی عمارت اٹھتی ہے۔ اور ان لائنوں پر افراد معاشرہ کے درمیان تعلقات بنتے اور بگڑتے ہیں جیسا کہ ان قرآنی آیات میں ضبط کیا گیا ہے۔

یوم بدر تک اسلام کے آغاز میں مسلمانوں کے درمیان ولایت کی نوعیت یہ تھی کہ ان کے درمیان توارث اور تکافل کے تعلقات تھے اور وہ اس کے تحت دیت ادا کرتے تھے اور ان کے درمیان ایک دوسرے کی نصرت اور اخوت کی ولایت قائم تھی اور یہ ولایت قرابت ، نسبت اور خون کی ولایت کے قائم مقام تھی۔ لیکن جب یوم بدر کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو استحکام بخش دیا اور اسلامی مملکت مستحکم ہوگئی تو ولایت اور نصرت رہ گئی اور میراث اور دیات میں تکافل کو اسلامی معاشرے کے اندر خورنی رشتوں کی طرف لوٹا دیا۔ اس آیت میں جس ہجرت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور جسے اس ولایت کے لیے شرط قرار دیا گیا خواہ ولایت عامہ ہو یا خاصہ ہو ، تو اس سے مراد دار الشرک سے دار الاسلام کی طرف ہجرت ہے جس کی استطاعت ہو ، جو لوگ ہجرت کرسکتے ہیں اور نہ کریں اور اس لیے نہ کریں کہ انہیں دار الشرک میں مفادات اور رشتہ داریاں عزیز ہوں تو ایسے لوگوں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی ولایت نہیں ہے۔ اور یہی مسئلہ ان دیہاتی لوگوں کا تھا جو اسلام کو قبول کرچکے تھے لیکن ایسے ہی حالات کی وجہ سے انہوں نے ہجرت نہ کی۔ اس قسم سے بعض لوگ مکہ میں بھی تھے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اللہ نے ان کی نصرت لازم کی ہے بشرطیکہ وہ نصرت طلب کریں اور ان کی جس قوم کے ساتھ دشمنی ہو ، مسلمانوں اور اس قوم کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو کیونکہ اسلامی معاشرے کا عہد و پیمان اور اس کا تحریکی منصوبہ انفرادی ضرورتوں سے زیادہ اہم ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ان آیات اور ان …

Al-Anfaal 8:73Listen in Qur'an →
74

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَوا۟ وَّنَصَرُوٓا۟ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّۭا ۚ لَّهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ

اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لیے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے

اس کے بعد قرآن کریم صریح الفاظ میں ان کو بتاتا ہے کہ حقیقی ایمان کا تحقق یوں ہوتا ہے

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطاؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے۔

وہی سچے مومن ہیں ، بلکہ وہی مومن ہیں ، کے الفاظ پر غور کریں۔ گویا ایمان کی حقیقی صورت یہی ہے۔ اور اسی صورت میں اور اسی شکل میں حققی دین نشوونما پاتا ہے۔ دین اسلام کی حقیقت محض اعلان نظریہ سے وجود میں نہیں آتی۔ نہ مجرد عقیدے کو قبول کرلینے سے دین کی حقیقت وجود میں آجاتی ہے ، نہ صرف دین کے شعائر اور مراسم عبودیت کے بجا لانے ہی سے دین وجود میں آجاتا ہے۔ یہ دین ایک ایسا نظام حیات ہے اور وہ عملاً تب ہی وجود میں آتا ہے کہ جب وہ اجتماعی تحریکی معاشرے کی شکل میں وجود میں آئے۔ صرف عقیدے کی صورت میں اقرار سے حکماً تو دین وجود میں آجاتا ہے لیکن حقیقتاً وجود میں نہیں آتا۔ حقیقتاً تب وجود میں آتا ہے جب وہ ایک عملی تحریکی معاشرے اور اجتماعیت کی شکل اختیار کرے۔

ایسے ہی لوگ حقا مومن ہیں اور ان کے لیے مغفرت اور رزق کریم واجب ہے۔ یہاں رزق کریم کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہاں جہاد فی سبیل اللہ ، انفاق فی سبیل اللہ ، پناہ گاہ کی فراہمی اور امداد کی فراہمی اور دوسری مشکلات کا موضوع چل رہا ہے اور ان سب کاموں کے اوپر اجر و صلہ اللہ کی مغفرت ہے جو عظیم انعام اور مہمان نوازی ہے۔

Al-Anfaal 8:74Listen in Qur'an →
75

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ مَعَكُمْ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مِنكُمْ ۚ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍۢ فِى كِتَٰبِ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۢ

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کرگئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین کا درجہ بلند ہے ، لیکن بعد میں آنے والے لوگ بھی انہی کے ساتھ اور ان کے حکم میں شامل ہیں اور یہ بعد میں آنے والے بھی ولایت اور اسلامی تحریکی معاشرے کی ممبری کے مستحق ہیں۔

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ ۔ اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کرکے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں۔ ہجرت کا یہ نظام اس وقت تک قائم رہا جب تک مکہ فتح نہ ہوچکا۔ فتح مکہ کے بعد عرب کی سرزمین اسلامی قیادت کے زیر نگیں آگئی۔ اور لوگ سب کے سب اسلامی معاشرے میں منظ ہوگئے۔ لیکن فتح مکہ کے بعد ہجرت کا یہ حکم ختم کردیا گیا اور جہاد کو جاری رکھا گیا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ پوزیشن 12 سو سال تک قائم رہی اور اسلام اس کرہ ارض پر حکمران رہا۔ اسلامی نظام قانون نافذ رہا اور اسلامی قیادت حاکم اور حکمران رہی۔ لیکن آج اس پوری دنیا پر جاہلیت پھر سے غآلب اور حکمران ہوگئی ہے اور اس وقت کرہ ارض کے کسی خطے میں بھی لوگوں کی زندگیوں پر اللہ کی شریعت نافذ نہیں بلکہ اقتدار اور قانونی نظام پوری دنیا میں طاغوت کا چل رہا ہے۔ لوگ اپنے جیسے انسانوں کی غلامی میں داخل ہوگئے ہیں جبکہ اسلام نے ان کو انسانوں کی غلامی سے نکال دیا تھا۔ لہذا اب تحریک اسلامی دوبارہ انہی ادوار سے گزرے گی جس طرح پہلے وہ گزری تھی۔ اس نے تنظیم شروع کی تھی ، مرحلہ وار تحریک آگے بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ دار الہجرت قائم ہوگا اور پھر وہ دار الاسلام اور دار الہجرت سے پھیلاؤ شروع کرے گی اور پھر ہجرت ختم ہوگی مگر جہاد جاری رہے گا جس طرح پہلی بار میں ہوا۔

پہلی بار جب تحریک اسلامی برپا ہوئی تو اس تحریکی عمل کے لیے کچھ مخصوص احکام تھے۔ اس تحریک پر مخصوص حالات کی وجہ سے کچھ مخصوص ذمہ داریاں تھیں۔ اس وقت اخوت اور برادری کے تعلقات کو خون اور نسب کی بنیادوں سے ہٹا کر اسلامی نظریات کی اساس پر رکھ دیا گیا تھا۔ مواخات کی تمام شکلوں ، تمام ذمہ داریوں یعنی برائے اجتماعی تکافل دیت اور دوسرے معاہدات تاوان کو اسلامی اخوت پر قائم کردیا گیا تھا لیکن جب اسلامی معاشرہ قائم ہوگیا۔ اور جنگ بدر میں مسلمانوں کو غلبہ نصیب ہوگیا تو بعض عبوری احکامات میں تبدیلی کردی گئی کیونکہ یہ عبوری احکامات وقتی اور استثنائی حالات کے لیے تھے۔ اور ان میں سے اہم تبدیلیاں یہ تھیں کہ اجتماعی کفالت ، دیت کی ادائیگی اور وراثت کے تعلقات کو لوٹا کر قرابت اور رشتہ داری کی بنیادوں پر قائم کردیا لیکن اسلامی معاشرے کے اندر اور اسلامی خطوط کے اوپر۔

واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتاب اللہ " مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں "۔ لہذا اسلام کے عملاً قیام کے بعد ، اسلام کے دائرے کے اندر اقربا کو اہمیت دی جاسکتی ہے۔ یہ انسان کی فطری خواہش کا ایک پہلو ہے۔ اور اسلام اس بات پر پابندی عائد نہیں کرتا کہ انسان کی فطری خواہشات کو دبایا جائے بشرطیکہ انسان کے یہ فطری میلانات معاشرے کے اسلامی اور اجتماعی پہلو کو نقصان نہ پہنچاتے ہوں اور اسی طرح کے دوسرے فطری احساس و شعور کے لیے مضر نہ ہوں۔ اسلام فطری میلانات کو توڑتا نہیں بلکہ ان کو منضبط کرتا ہے اور منضبط اس طرح کرتا ہے کہ اسلامی معاشرے کے اعلی وجود کے لیے وہ مفید بن جائیں۔ وہ ان کو منضبط بھی اسلامی معاشرے کے اجتماعی وجود کے لیے کرتا ہے۔ اگر اسلامی معاشرے کے اجتماعی وجود کی ضروریات نہ ہوں تو پھر اسلام انسان کے فطری میلانات کو آزاد چھوڑتا ہے۔ اسلامی نظام کے عمومی دائرے کے اندر۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں بعض احکامات عارضی اور عبوری ہوتے ہیں اور یہ اسلام کے تحریکی عمل کے ہوتے ہیں۔ ایسے احکام کو اسلام کے فائنل قانونی احکام تصور نہیں کیا جاتا جو …

Al-Anfaal 8:75Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.