Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 1–10 of 75

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو

سورہ انفال جنگ بدر (2 ہجری) کے بعد اتری۔ اس جنگ میںمسلمانوں کو فتح ہوئی تھی اور اس کے بعد میدانِ جنگ سے کافی مال غنیمت حاصل ہوا تھا۔ مگر یہ اموال عملاً ایک گروہ کے قبضہ میں تھے۔اس بنا پر جنگ کے بعد غنیمت کی تقسیم پر نزاع پیدا ہوگئی۔ جنگ میں کچھ لوگ پچھلی صف میں تھے۔ کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں لگے ہوئے تھے۔ کچھ لوگ آخری مرحلہ میں دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ اس طرح میدان جنگ سے مالِ غنیمت لوٹنے کا موقع ایک خاص فریق کو ملا۔ دوسرے لوگ جو اس وقت میدانِ جنگ سے دور تھے وہ دشمن کے چھوڑے ہوئے اموال کو حاصل نہ کرسکے۔

اب صورتِ حال یہ تھی کہ اصولی طو رپر تو جنگ کے تمام شرکاء اپنے کو مال غنیمت میں حصہ دارسمجھتے تھے۔ مگر مالِ غنیمت عملاً صرف ایک گروہ کے قبضہ میں تھا۔ ایک فریق کے پاس دلیل تھی اور دوسرے فریق کے پاس مال۔ ایک کے پاس اپنے حق کو ثابت کرنے کے ليے صرف الفاظ تھے، جب کہ دوسرے کا حق کسی دلیل وثبوت کے بغیر خود قبضہ کے زور پر قائم تھا۔

اس قسم کے تمام جھگڑے خدا کے خوف کے منافی ہیں۔ خدا کا خوف آدمی کے اندر ذمہ داری کی نفسیات ابھارتا ہے۔ ایسے آدمی کی توجہ فرائض پر ہوتی ہے، نہ کہ حقوق پر۔ وہ اپنی طرف دیکھنے کے بجائے خدا کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔ اس کادل خدا و رسول کی اطاعت کے ليے نرم پڑ جاتاہے۔ وہ خدا کا عبادت گزار بندہ بن جاتا ہے۔ لوگوں کو دے کر اسے تسکین ملتی ہے، نہ کہ لوگوں سے چھین کر۔ یہ اوصاف آدمی کے اندر حقیقت پسندی اور حق کے اعتراف کا مادہ پیدا کرتے ہیں۔حقیقت پسندی اور اعترافِ حق کی فضا کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپس کے جھگڑے ختم ہوجاتے ہیں۔ اور اگر کبھی اتفاقاً ابھرتے ہیں تو ایک بار کی تنبیہ ان کی اصلاح کے ليے کافی ہوجاتی ہے۔

خدا کی پکڑ کا اندیشہ ہرایک کو اس حد پر پہنچا دیتاہے جس حد پر اس کو فی الواقع ہونا چاہیے تھا۔ اور جہاں ہر آدمی اپنی واقعی حد پر ركنے کے ليے راضی ہوجائے وہاں جھگڑے کا کوئی گزر نہیں۔

2

إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُهُۥ زَادَتْهُمْ إِيمَٰنًۭا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں

سورہ انفال جنگ بدر (2 ہجری) کے بعد اتری۔ اس جنگ میںمسلمانوں کو فتح ہوئی تھی اور اس کے بعد میدانِ جنگ سے کافی مال غنیمت حاصل ہوا تھا۔ مگر یہ اموال عملاً ایک گروہ کے قبضہ میں تھے۔اس بنا پر جنگ کے بعد غنیمت کی تقسیم پر نزاع پیدا ہوگئی۔ جنگ میں کچھ لوگ پچھلی صف میں تھے۔ کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں لگے ہوئے تھے۔ کچھ لوگ آخری مرحلہ میں دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ اس طرح میدان جنگ سے مالِ غنیمت لوٹنے کا موقع ایک خاص فریق کو ملا۔ دوسرے لوگ جو اس وقت میدانِ جنگ سے دور تھے وہ دشمن کے چھوڑے ہوئے اموال کو حاصل نہ کرسکے۔

اب صورتِ حال یہ تھی کہ اصولی طو رپر تو جنگ کے تمام شرکاء اپنے کو مال غنیمت میں حصہ دارسمجھتے تھے۔ مگر مالِ غنیمت عملاً صرف ایک گروہ کے قبضہ میں تھا۔ ایک فریق کے پاس دلیل تھی اور دوسرے فریق کے پاس مال۔ ایک کے پاس اپنے حق کو ثابت کرنے کے ليے صرف الفاظ تھے، جب کہ دوسرے کا حق کسی دلیل وثبوت کے بغیر خود قبضہ کے زور پر قائم تھا۔

اس قسم کے تمام جھگڑے خدا کے خوف کے منافی ہیں۔ خدا کا خوف آدمی کے اندر ذمہ داری کی نفسیات ابھارتا ہے۔ ایسے آدمی کی توجہ فرائض پر ہوتی ہے، نہ کہ حقوق پر۔ وہ اپنی طرف دیکھنے کے بجائے خدا کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔ اس کادل خدا و رسول کی اطاعت کے ليے نرم پڑ جاتاہے۔ وہ خدا کا عبادت گزار بندہ بن جاتا ہے۔ لوگوں کو دے کر اسے تسکین ملتی ہے، نہ کہ لوگوں سے چھین کر۔ یہ اوصاف آدمی کے اندر حقیقت پسندی اور حق کے اعتراف کا مادہ پیدا کرتے ہیں۔حقیقت پسندی اور اعترافِ حق کی فضا کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپس کے جھگڑے ختم ہوجاتے ہیں۔ اور اگر کبھی اتفاقاً ابھرتے ہیں تو ایک بار کی تنبیہ ان کی اصلاح کے ليے کافی ہوجاتی ہے۔

خدا کی پکڑ کا اندیشہ ہرایک کو اس حد پر پہنچا دیتاہے جس حد پر اس کو فی الواقع ہونا چاہیے تھا۔ اور جہاں ہر آدمی اپنی واقعی حد پر ركنے کے ليے راضی ہوجائے وہاں جھگڑے کا کوئی گزر نہیں۔

3

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ

(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں

سورہ انفال جنگ بدر (2 ہجری) کے بعد اتری۔ اس جنگ میںمسلمانوں کو فتح ہوئی تھی اور اس کے بعد میدانِ جنگ سے کافی مال غنیمت حاصل ہوا تھا۔ مگر یہ اموال عملاً ایک گروہ کے قبضہ میں تھے۔اس بنا پر جنگ کے بعد غنیمت کی تقسیم پر نزاع پیدا ہوگئی۔ جنگ میں کچھ لوگ پچھلی صف میں تھے۔ کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں لگے ہوئے تھے۔ کچھ لوگ آخری مرحلہ میں دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ اس طرح میدان جنگ سے مالِ غنیمت لوٹنے کا موقع ایک خاص فریق کو ملا۔ دوسرے لوگ جو اس وقت میدانِ جنگ سے دور تھے وہ دشمن کے چھوڑے ہوئے اموال کو حاصل نہ کرسکے۔

اب صورتِ حال یہ تھی کہ اصولی طو رپر تو جنگ کے تمام شرکاء اپنے کو مال غنیمت میں حصہ دارسمجھتے تھے۔ مگر مالِ غنیمت عملاً صرف ایک گروہ کے قبضہ میں تھا۔ ایک فریق کے پاس دلیل تھی اور دوسرے فریق کے پاس مال۔ ایک کے پاس اپنے حق کو ثابت کرنے کے ليے صرف الفاظ تھے، جب کہ دوسرے کا حق کسی دلیل وثبوت کے بغیر خود قبضہ کے زور پر قائم تھا۔

اس قسم کے تمام جھگڑے خدا کے خوف کے منافی ہیں۔ خدا کا خوف آدمی کے اندر ذمہ داری کی نفسیات ابھارتا ہے۔ ایسے آدمی کی توجہ فرائض پر ہوتی ہے، نہ کہ حقوق پر۔ وہ اپنی طرف دیکھنے کے بجائے خدا کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔ اس کادل خدا و رسول کی اطاعت کے ليے نرم پڑ جاتاہے۔ وہ خدا کا عبادت گزار بندہ بن جاتا ہے۔ لوگوں کو دے کر اسے تسکین ملتی ہے، نہ کہ لوگوں سے چھین کر۔ یہ اوصاف آدمی کے اندر حقیقت پسندی اور حق کے اعتراف کا مادہ پیدا کرتے ہیں۔حقیقت پسندی اور اعترافِ حق کی فضا کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپس کے جھگڑے ختم ہوجاتے ہیں۔ اور اگر کبھی اتفاقاً ابھرتے ہیں تو ایک بار کی تنبیہ ان کی اصلاح کے ليے کافی ہوجاتی ہے۔

خدا کی پکڑ کا اندیشہ ہرایک کو اس حد پر پہنچا دیتاہے جس حد پر اس کو فی الواقع ہونا چاہیے تھا۔ اور جہاں ہر آدمی اپنی واقعی حد پر ركنے کے ليے راضی ہوجائے وہاں جھگڑے کا کوئی گزر نہیں۔

4

أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّۭا ۚ لَّهُمْ دَرَجَٰتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ

یہی سچے مومن ہیں اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے

سورہ انفال جنگ بدر (2 ہجری) کے بعد اتری۔ اس جنگ میںمسلمانوں کو فتح ہوئی تھی اور اس کے بعد میدانِ جنگ سے کافی مال غنیمت حاصل ہوا تھا۔ مگر یہ اموال عملاً ایک گروہ کے قبضہ میں تھے۔اس بنا پر جنگ کے بعد غنیمت کی تقسیم پر نزاع پیدا ہوگئی۔ جنگ میں کچھ لوگ پچھلی صف میں تھے۔ کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں لگے ہوئے تھے۔ کچھ لوگ آخری مرحلہ میں دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ اس طرح میدان جنگ سے مالِ غنیمت لوٹنے کا موقع ایک خاص فریق کو ملا۔ دوسرے لوگ جو اس وقت میدانِ جنگ سے دور تھے وہ دشمن کے چھوڑے ہوئے اموال کو حاصل نہ کرسکے۔

اب صورتِ حال یہ تھی کہ اصولی طو رپر تو جنگ کے تمام شرکاء اپنے کو مال غنیمت میں حصہ دارسمجھتے تھے۔ مگر مالِ غنیمت عملاً صرف ایک گروہ کے قبضہ میں تھا۔ ایک فریق کے پاس دلیل تھی اور دوسرے فریق کے پاس مال۔ ایک کے پاس اپنے حق کو ثابت کرنے کے ليے صرف الفاظ تھے، جب کہ دوسرے کا حق کسی دلیل وثبوت کے بغیر خود قبضہ کے زور پر قائم تھا۔

اس قسم کے تمام جھگڑے خدا کے خوف کے منافی ہیں۔ خدا کا خوف آدمی کے اندر ذمہ داری کی نفسیات ابھارتا ہے۔ ایسے آدمی کی توجہ فرائض پر ہوتی ہے، نہ کہ حقوق پر۔ وہ اپنی طرف دیکھنے کے بجائے خدا کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔ اس کادل خدا و رسول کی اطاعت کے ليے نرم پڑ جاتاہے۔ وہ خدا کا عبادت گزار بندہ بن جاتا ہے۔ لوگوں کو دے کر اسے تسکین ملتی ہے، نہ کہ لوگوں سے چھین کر۔ یہ اوصاف آدمی کے اندر حقیقت پسندی اور حق کے اعتراف کا مادہ پیدا کرتے ہیں۔حقیقت پسندی اور اعترافِ حق کی فضا کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپس کے جھگڑے ختم ہوجاتے ہیں۔ اور اگر کبھی اتفاقاً ابھرتے ہیں تو ایک بار کی تنبیہ ان کی اصلاح کے ليے کافی ہوجاتی ہے۔

خدا کی پکڑ کا اندیشہ ہرایک کو اس حد پر پہنچا دیتاہے جس حد پر اس کو فی الواقع ہونا چاہیے تھا۔ اور جہاں ہر آدمی اپنی واقعی حد پر ركنے کے ليے راضی ہوجائے وہاں جھگڑے کا کوئی گزر نہیں۔

5

كَمَآ أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَيْتِكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًۭا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ لَكَٰرِهُونَ

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی

شعبان 2 ھ میں معلوم ہوا کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جا رہا ہے۔ اس قافلہ کے ساتھ تقریباً 50 ہزار اشرفی کا سامان تھا۔ اس کا راستہ مدینہ کے قریب سے گزرتا ہے۔ یہ اندیشہ تھا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے قافلۂ تجارت پر حملہ کریں۔ چنانچہ قافلہ کے سردار ابو سفیان بن حرب نے تیز رفتار اونٹنی کے ذریعہ مکہ والوں کے پاس یہ خبر بھیجی کہ مدد کے ليے دوڑو ورنہ مسلمان تجارتی قافلہ کو لوٹ لیں گے۔ مکہ میں اس خبر سے بڑا جوش پیدا ہوگیا۔ چنانچہ 950 سوار جن میں 600 زرہ پوش تھے مکہ سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام خبریں مل رہی تھیں۔ اب مدینہ کے مسلمان دو گروہوں کے درمیان تھے۔ ایک شام سے آنے والا تجارتی قافلہ۔ دوسرا مکہ سے مدینہ کی طرف بڑھنے والا جنگی لشکر۔ مسلمانوں کے ایک طبقہ میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ تجارتی قافلہ کی طرف بڑھا جائے۔ اس قافلہ کے ساتھ بمشکل 40 محافظ تھے۔ اس کو به آسانی مغلوب کرکے اس کے سامان پر قبضہ کیا جاسکتاتھا۔ مگر خدا کا منصوبہ دوسرا تھا۔ خدا کو دراصل منکرین حق کا زور توڑنا تھا، نہ کہ کچھ اقتصادی فائدہ حاصل کرنا۔ خدا نے مخصوص حالات پیدا کرکے ایسا کیا کہ تمام مخالف سرداروں کو مکہ سے نکالا اور ان کو مدینہ سے 20 میل کے فاصلہ پر بدر کے مقام پر پہنچا دیا تاکہ مسلمانوں کو ان سے ٹکرا کر ہمیشہ کے ليے ان کا خاتمہ کردیا جائے۔ اللہ کے رسول نے جب مسلمانوں کو خدا کے اس منصوبہ سے مطلع کیا تو سب کے سب متفق ہو کر بدر کی طرف بڑھے۔ ان کی تعداد اگر چہ صرف 313 تھی۔ ان کے پاس ہتھیار کم تھے۔ مگر اللہ نے ان کی خصوصی مدد فرمائی۔ انھوں نے قریش کے لشکر کو بری طرح شکست دی۔ ان کے ستر سردار قتل ہوئے اور ستر گرفتار کر ليے گئے۔ بد رکا میدان کفر کے مقابلہ میں اسلام کی فتح کا میدان بن گیا— جب بھی ایسا ہو کہ ایک طرف مادی فائدہ ہو اور دوسری طرف دینی فائدہ تو یہ تقسیم خود اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کی مرضی دینی فائدہ کی طرف ہے، نہ کہ مادی فائدہ کی طرف۔

اسلامی جدوجہد کا نشانہ کبھی معاشی مفاد حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ اسلامی جدوجہد کا نشانہ ہمیشہ باطل کا زور توڑنا ہوتاہے۔ خواہ وہ نظریاتی طاقت کے ذریعہ ہو یا حالات کے اعتبار سے مادی طاقت کے ذریعہ۔

6

يُجَٰدِلُونَكَ فِى ٱلْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى ٱلْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے گویا موت کی طرف دھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں

شعبان 2 ھ میں معلوم ہوا کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جا رہا ہے۔ اس قافلہ کے ساتھ تقریباً 50 ہزار اشرفی کا سامان تھا۔ اس کا راستہ مدینہ کے قریب سے گزرتا ہے۔ یہ اندیشہ تھا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے قافلۂ تجارت پر حملہ کریں۔ چنانچہ قافلہ کے سردار ابو سفیان بن حرب نے تیز رفتار اونٹنی کے ذریعہ مکہ والوں کے پاس یہ خبر بھیجی کہ مدد کے ليے دوڑو ورنہ مسلمان تجارتی قافلہ کو لوٹ لیں گے۔ مکہ میں اس خبر سے بڑا جوش پیدا ہوگیا۔ چنانچہ 950 سوار جن میں 600 زرہ پوش تھے مکہ سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام خبریں مل رہی تھیں۔ اب مدینہ کے مسلمان دو گروہوں کے درمیان تھے۔ ایک شام سے آنے والا تجارتی قافلہ۔ دوسرا مکہ سے مدینہ کی طرف بڑھنے والا جنگی لشکر۔ مسلمانوں کے ایک طبقہ میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ تجارتی قافلہ کی طرف بڑھا جائے۔ اس قافلہ کے ساتھ بمشکل 40 محافظ تھے۔ اس کو به آسانی مغلوب کرکے اس کے سامان پر قبضہ کیا جاسکتاتھا۔ مگر خدا کا منصوبہ دوسرا تھا۔ خدا کو دراصل منکرین حق کا زور توڑنا تھا، نہ کہ کچھ اقتصادی فائدہ حاصل کرنا۔ خدا نے مخصوص حالات پیدا کرکے ایسا کیا کہ تمام مخالف سرداروں کو مکہ سے نکالا اور ان کو مدینہ سے 20 میل کے فاصلہ پر بدر کے مقام پر پہنچا دیا تاکہ مسلمانوں کو ان سے ٹکرا کر ہمیشہ کے ليے ان کا خاتمہ کردیا جائے۔ اللہ کے رسول نے جب مسلمانوں کو خدا کے اس منصوبہ سے مطلع کیا تو سب کے سب متفق ہو کر بدر کی طرف بڑھے۔ ان کی تعداد اگر چہ صرف 313 تھی۔ ان کے پاس ہتھیار کم تھے۔ مگر اللہ نے ان کی خصوصی مدد فرمائی۔ انھوں نے قریش کے لشکر کو بری طرح شکست دی۔ ان کے ستر سردار قتل ہوئے اور ستر گرفتار کر ليے گئے۔ بد رکا میدان کفر کے مقابلہ میں اسلام کی فتح کا میدان بن گیا— جب بھی ایسا ہو کہ ایک طرف مادی فائدہ ہو اور دوسری طرف دینی فائدہ تو یہ تقسیم خود اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کی مرضی دینی فائدہ کی طرف ہے، نہ کہ مادی فائدہ کی طرف۔

اسلامی جدوجہد کا نشانہ کبھی معاشی مفاد حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ اسلامی جدوجہد کا نشانہ ہمیشہ باطل کا زور توڑنا ہوتاہے۔ خواہ وہ نظریاتی طاقت کے ذریعہ ہو یا حالات کے اعتبار سے مادی طاقت کے ذریعہ۔

7

وَإِذْ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحْدَى ٱلطَّآئِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ ٱلشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُحِقَّ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَيَقْطَعَ دَابِرَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے

شعبان 2 ھ میں معلوم ہوا کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جا رہا ہے۔ اس قافلہ کے ساتھ تقریباً 50 ہزار اشرفی کا سامان تھا۔ اس کا راستہ مدینہ کے قریب سے گزرتا ہے۔ یہ اندیشہ تھا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے قافلۂ تجارت پر حملہ کریں۔ چنانچہ قافلہ کے سردار ابو سفیان بن حرب نے تیز رفتار اونٹنی کے ذریعہ مکہ والوں کے پاس یہ خبر بھیجی کہ مدد کے ليے دوڑو ورنہ مسلمان تجارتی قافلہ کو لوٹ لیں گے۔ مکہ میں اس خبر سے بڑا جوش پیدا ہوگیا۔ چنانچہ 950 سوار جن میں 600 زرہ پوش تھے مکہ سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام خبریں مل رہی تھیں۔ اب مدینہ کے مسلمان دو گروہوں کے درمیان تھے۔ ایک شام سے آنے والا تجارتی قافلہ۔ دوسرا مکہ سے مدینہ کی طرف بڑھنے والا جنگی لشکر۔ مسلمانوں کے ایک طبقہ میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ تجارتی قافلہ کی طرف بڑھا جائے۔ اس قافلہ کے ساتھ بمشکل 40 محافظ تھے۔ اس کو به آسانی مغلوب کرکے اس کے سامان پر قبضہ کیا جاسکتاتھا۔ مگر خدا کا منصوبہ دوسرا تھا۔ خدا کو دراصل منکرین حق کا زور توڑنا تھا، نہ کہ کچھ اقتصادی فائدہ حاصل کرنا۔ خدا نے مخصوص حالات پیدا کرکے ایسا کیا کہ تمام مخالف سرداروں کو مکہ سے نکالا اور ان کو مدینہ سے 20 میل کے فاصلہ پر بدر کے مقام پر پہنچا دیا تاکہ مسلمانوں کو ان سے ٹکرا کر ہمیشہ کے ليے ان کا خاتمہ کردیا جائے۔ اللہ کے رسول نے جب مسلمانوں کو خدا کے اس منصوبہ سے مطلع کیا تو سب کے سب متفق ہو کر بدر کی طرف بڑھے۔ ان کی تعداد اگر چہ صرف 313 تھی۔ ان کے پاس ہتھیار کم تھے۔ مگر اللہ نے ان کی خصوصی مدد فرمائی۔ انھوں نے قریش کے لشکر کو بری طرح شکست دی۔ ان کے ستر سردار قتل ہوئے اور ستر گرفتار کر ليے گئے۔ بد رکا میدان کفر کے مقابلہ میں اسلام کی فتح کا میدان بن گیا— جب بھی ایسا ہو کہ ایک طرف مادی فائدہ ہو اور دوسری طرف دینی فائدہ تو یہ تقسیم خود اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کی مرضی دینی فائدہ کی طرف ہے، نہ کہ مادی فائدہ کی طرف۔

اسلامی جدوجہد کا نشانہ کبھی معاشی مفاد حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ اسلامی جدوجہد کا نشانہ ہمیشہ باطل کا زور توڑنا ہوتاہے۔ خواہ وہ نظریاتی طاقت کے ذریعہ ہو یا حالات کے اعتبار سے مادی طاقت کے ذریعہ۔

8

لِيُحِقَّ ٱلْحَقَّ وَيُبْطِلَ ٱلْبَٰطِلَ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں

شعبان 2 ھ میں معلوم ہوا کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جا رہا ہے۔ اس قافلہ کے ساتھ تقریباً 50 ہزار اشرفی کا سامان تھا۔ اس کا راستہ مدینہ کے قریب سے گزرتا ہے۔ یہ اندیشہ تھا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے قافلۂ تجارت پر حملہ کریں۔ چنانچہ قافلہ کے سردار ابو سفیان بن حرب نے تیز رفتار اونٹنی کے ذریعہ مکہ والوں کے پاس یہ خبر بھیجی کہ مدد کے ليے دوڑو ورنہ مسلمان تجارتی قافلہ کو لوٹ لیں گے۔ مکہ میں اس خبر سے بڑا جوش پیدا ہوگیا۔ چنانچہ 950 سوار جن میں 600 زرہ پوش تھے مکہ سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام خبریں مل رہی تھیں۔ اب مدینہ کے مسلمان دو گروہوں کے درمیان تھے۔ ایک شام سے آنے والا تجارتی قافلہ۔ دوسرا مکہ سے مدینہ کی طرف بڑھنے والا جنگی لشکر۔ مسلمانوں کے ایک طبقہ میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ تجارتی قافلہ کی طرف بڑھا جائے۔ اس قافلہ کے ساتھ بمشکل 40 محافظ تھے۔ اس کو به آسانی مغلوب کرکے اس کے سامان پر قبضہ کیا جاسکتاتھا۔ مگر خدا کا منصوبہ دوسرا تھا۔ خدا کو دراصل منکرین حق کا زور توڑنا تھا، نہ کہ کچھ اقتصادی فائدہ حاصل کرنا۔ خدا نے مخصوص حالات پیدا کرکے ایسا کیا کہ تمام مخالف سرداروں کو مکہ سے نکالا اور ان کو مدینہ سے 20 میل کے فاصلہ پر بدر کے مقام پر پہنچا دیا تاکہ مسلمانوں کو ان سے ٹکرا کر ہمیشہ کے ليے ان کا خاتمہ کردیا جائے۔ اللہ کے رسول نے جب مسلمانوں کو خدا کے اس منصوبہ سے مطلع کیا تو سب کے سب متفق ہو کر بدر کی طرف بڑھے۔ ان کی تعداد اگر چہ صرف 313 تھی۔ ان کے پاس ہتھیار کم تھے۔ مگر اللہ نے ان کی خصوصی مدد فرمائی۔ انھوں نے قریش کے لشکر کو بری طرح شکست دی۔ ان کے ستر سردار قتل ہوئے اور ستر گرفتار کر ليے گئے۔ بد رکا میدان کفر کے مقابلہ میں اسلام کی فتح کا میدان بن گیا— جب بھی ایسا ہو کہ ایک طرف مادی فائدہ ہو اور دوسری طرف دینی فائدہ تو یہ تقسیم خود اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کی مرضی دینی فائدہ کی طرف ہے، نہ کہ مادی فائدہ کی طرف۔

اسلامی جدوجہد کا نشانہ کبھی معاشی مفاد حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ اسلامی جدوجہد کا نشانہ ہمیشہ باطل کا زور توڑنا ہوتاہے۔ خواہ وہ نظریاتی طاقت کے ذریعہ ہو یا حالات کے اعتبار سے مادی طاقت کے ذریعہ۔

9

إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَٱسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّى مُمِدُّكُم بِأَلْفٍۢ مِّنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ مُرْدِفِينَ

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے

بدر کی لڑائی بڑے نازک حالات میں ہوئی۔ تقریباً ایک ہزار مسلّح دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی۔ ان کے پاس ہتھیار بھی کم تھے۔ اس قسم کے حالات دیکھ کر بعض مسلمانوں کے دل میں یہ وسوسہ آنے لگا کہ جس مشن کے ليے وہ اپنی زندگی ویران کررہے ہیں اس کے ساتھ شاید خدا کی مدد شامل نہیں۔ اگر وہ حق ہوتا تو ایسے نازک موقع پر خدا کیوں ان کا ساتھ نہ دیتا۔ کیوں اسباب کے اعتبار سے دشمن برتر نظر آرهے هيں۔

اس وقت اللہ تعالیٰ نے بدر کے علاقہ میں زور کی بارش برسائی۔ مسلمانوں نے حوض بنا بنا کر بارش کا پانی جمع کرلیا۔ دشمن نے مسلمانوں کو زمین کے پاني سے محروم کیا تھا، خدا نے ان کے ليے آسمان سے پانی کا انتظام کردیا۔ اسی طرح خدا نے یہ غیر معمولی انعام فرمایا کہ مسلمانوں کے اوپر نیند طاری کردی۔ سونا آدمی کے تازہ دم ہونے کے ليے بہت ضروری ہے۔ مگر میدان جنگ کے حالات اس قدر وحشت ناک ہوتے ہیں کہ آدمی کی نیند اڑ جاتی ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی یہ خصوصی مدد فرمائی کہ جنگ کے دن سے پہلے والی رات کو ان پر نیند طاری کردی۔ وہ رات کو ذہنی بوجھ سے فارغ ہو کر سوگئے اور صبح کو پوری طرح تازہ دم ہو کر اٹھے — جو حالات مسلمانوں کے اندر وسوسہ پیدا کرنے کا سبب بن رہے تھے، انھیں حالات کے اندر خدا نے ایسے امکانات پیدا کرديے کہ ان کے اندر نیا یقین واعتماد ابھر آیا۔

مقابلہ کے وقت اہل حق سے جو چیز مطلوب ہے وہ ثابت قدمی ہے۔ انھیں کسی حال میں بد دل نہیں ہونا چاہیے۔ اس ثابت قدمی کا نقد انعام خدا کی طرف سے یہ ملتا ہے کہ دشمنانِ حق کے دلوں میں رعب ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جو گروہ اپنے حریف سے مرعوب ہوجائے اس کو کوئی چیز شکست سے نہیں بچاسکتی۔

10

وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِۦ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا ٱلنَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو الله ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

بدر کی لڑائی بڑے نازک حالات میں ہوئی۔ تقریباً ایک ہزار مسلّح دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی۔ ان کے پاس ہتھیار بھی کم تھے۔ اس قسم کے حالات دیکھ کر بعض مسلمانوں کے دل میں یہ وسوسہ آنے لگا کہ جس مشن کے ليے وہ اپنی زندگی ویران کررہے ہیں اس کے ساتھ شاید خدا کی مدد شامل نہیں۔ اگر وہ حق ہوتا تو ایسے نازک موقع پر خدا کیوں ان کا ساتھ نہ دیتا۔ کیوں اسباب کے اعتبار سے دشمن برتر نظر آرهے هيں۔

اس وقت اللہ تعالیٰ نے بدر کے علاقہ میں زور کی بارش برسائی۔ مسلمانوں نے حوض بنا بنا کر بارش کا پانی جمع کرلیا۔ دشمن نے مسلمانوں کو زمین کے پاني سے محروم کیا تھا، خدا نے ان کے ليے آسمان سے پانی کا انتظام کردیا۔ اسی طرح خدا نے یہ غیر معمولی انعام فرمایا کہ مسلمانوں کے اوپر نیند طاری کردی۔ سونا آدمی کے تازہ دم ہونے کے ليے بہت ضروری ہے۔ مگر میدان جنگ کے حالات اس قدر وحشت ناک ہوتے ہیں کہ آدمی کی نیند اڑ جاتی ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی یہ خصوصی مدد فرمائی کہ جنگ کے دن سے پہلے والی رات کو ان پر نیند طاری کردی۔ وہ رات کو ذہنی بوجھ سے فارغ ہو کر سوگئے اور صبح کو پوری طرح تازہ دم ہو کر اٹھے — جو حالات مسلمانوں کے اندر وسوسہ پیدا کرنے کا سبب بن رہے تھے، انھیں حالات کے اندر خدا نے ایسے امکانات پیدا کرديے کہ ان کے اندر نیا یقین واعتماد ابھر آیا۔

مقابلہ کے وقت اہل حق سے جو چیز مطلوب ہے وہ ثابت قدمی ہے۔ انھیں کسی حال میں بد دل نہیں ہونا چاہیے۔ اس ثابت قدمی کا نقد انعام خدا کی طرف سے یہ ملتا ہے کہ دشمنانِ حق کے دلوں میں رعب ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جو گروہ اپنے حریف سے مرعوب ہوجائے اس کو کوئی چیز شکست سے نہیں بچاسکتی۔

Al-Anfaal 8:10Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.