Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 61–70 of 75

61

۞ وَإِن جَنَحُوا۟ لِلسَّلْمِ فَٱجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے

تیسری آیت میں صلح کے احکام اور اس کے متعلقات کا بیان ہے ارشاد فرمایا (آیت) وَاِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا، لفظ سلم بفتح السین اور سلم بکسرا لسین دونوں طرح صلح کے معنی میں آتا ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر کفار کسی وقت صلح کی طرف جھکیں تو آپ کو بھی جھک جانا چاہئے۔ یہاں صیغہ امر تخییر کے لئے استعمال فرمایا ہے مراد یہ ہے کہ جب کفار صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ کو بھی اختیار ہے اگر مسلمانوں کی مصلحت صلح میں محسوس کریں تو صلح کرسکتے ہیں۔ اور اِنْ جَنَحُوْا کی قید سے معلوم ہوا کہ صلح اسی وقت کی جاسکتی ہے جب کفار کی طرف سے صلح کی خواہش ظاہر ہو۔ کیونکہ بغیر ان کی خواہش کے اگر مسلمان خود ہی صلح کی تحریک کریں تو یہ ان کی کمزوری سمجھی جائے گی۔- ہاں اگر کوئی موقع ایسا آپڑے کہ مسلمان کسی نرغہ میں گھر جائیں اور اپنی سلامتی کے لئے کوئی صورت بجز صلح کے نظر نہ آئے تو صلح میں پیش قدمی بھی بقول فقہاء جائز اور اشارات نصوص سے ثابت ہے۔- اور چونکہ دشمن کی جانب سے صلح کی خواہش ہونے میں یہ احتمال رہتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو دھوکہ دے کر غفلت میں ڈال دیں اور پھر یکبارگی حملہ کردیں اس لئے آخر آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت دی گئی کہ (آیت) وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭاِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ، یعنی آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں کہ وہی خوب سننے والے جاننے والے ہیں۔ وہ انکی گفتگو کو بھی سنتے ہیں۔ اور ان کے دلوں میں چھپے ہوئے ارادوں کو بھی جانتے ہیں وہ آپ کی مدد کے لئے کافی ہیں۔ آپ ایسے بےدلیل احتمالات پر اپنے کاموں کی بنیاد نہ رکھیں۔ اور ایسے خطرات کو اللہ کے حوالہ کردیں۔

Al-Anfaal 8:61Listen in Qur'an →
62

وَإِن يُرِيدُوٓا۟ أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ ٱللَّهُ ۚ هُوَ ٱلَّذِىٓ أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِۦ وَبِٱلْمُؤْمِنِينَ

اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہیں کفایت کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی

اس کے بعد چوتھی آیت میں اسی مضمون کو اور زیادہ صراحت اور وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان فرمایا (آیت) وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ ۭهُوَ الَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤ ْمِنِيْنَ ۔- یعنی اگر یہی احتمال واقع ہوجائے کہ صلح کرنے سے ان کی نیت خراب ہو آپ کو دھوکہ ہی دینا چاہیں تب بھی آپ کوئی پروانہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کے لئے کافی ہیں پہلے بھی اللہ تعالے ہی کی امداد و تائید سے آپ کا کام چلا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مدد سے آپ کی تائید فرمائی جو آپ کی فتح و کامیابی کی اصل بنیاد اور حقیقت ہے اور ظاہری طور پر مسلمانوں کی جماعت آپ کی امداد کے لئے کھڑی کردی جو اسباب ظاہرہ میں سے ہیں۔ تو جس مالک حقیقی اور قادر مطلق نے تمام اسباب فتح و کامیابی کو وجود عطا فرمایا وہ آج بھی دشمنوں کے دھوکہ فریب کے معاملہ میں آپ کی مدد فرمائے گا۔ اسی وعدہ خداوندی کے تحت اس آیت کے نزول کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عمر بھر کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ دشمنوں کے دھوکہ فریب سے کوئی گزند پہنچی ہو۔ اسی لئے علماء تفسیر نے فرمایا ہے کہ یہ وعدہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ایسا ہے جیسا کہ (آیت) وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کا وعدہ کہ اس آیت کے نزول کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نگرانی کرنے والے صحابہ کرام کو مطمئن اور سبکدوش فرما دیا تھا۔ اسی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص تھا ( بیان القرآن) دوسرے لوگوں کو ظاہری تدبیر اور گرد و پیش کے حالات کے تابع کام کرنا چاہئے۔

Al-Anfaal 8:62Listen in Qur'an →
63

وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا مَّآ أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اور اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بےشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے

خلاصہ تفسیر - اور (مسلمانوں کو ذریعہ امداد بنانے کے لئے) ان کے قلوب میں اتفاق پیدا کردیا ( چناچہ ظاہر ہے کہ اگر باہم اتفاق نہ ہو تو کوئی کام خصوص دین کی نصرت مل کر نہیں کرسکتے اور ان میں بوجہ حب ریاست اور غلبہ بغض و عداوت اتفاق ایسا دشوار تھا کہ) اگر آپ ( باوجودیکہ عقل و تدبیر بھی کامل رکھتے ہیں اور سامان بھی اس کے لئے آپ کے پاس کافی ہوتا یہاں تک کہ) دنیا بھر کا مال ( اس کام کے لئے) خرچ کرتے تب بھی ان کے قلوب میں اتفاق پیدا نہ کرسکتے لیکن (یہ) اللہ ہی (کا کام تھا کہ اس) نے ان میں باہم اتفاق پیدا کردیا بیشک وہ زبردست ہیں ( کہ جو چاہیں اپنی قدرت سے کردیں اور) حکمت والے ہیں (کہ جس طریق سے مناسب جانیں اس کام کو کردیں اور جب اللہ تعالیٰ کا اپنی غیبی امداد اور مومین سے آپ کی نصرت فرمانا معلوم ہوگیا تو) اے نبی ( اس سے ثابت ہوگیا کہ) آپ کے لئے ( حقیقت میں) اللہ کافی ہے اور جن مومین نے آپ کا اتباع کیا ہے ( ظاہرا) وہ کافی ہیں اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مومین کو جہاد کی ترغیب دیجئے ( اور اس کے متعلق یہ قانون سنا دیجئے کہ) اگر تم میں کے بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو) اپنے سے دس گونہ عدد پر یعنی) دو سو پر غالب آجائیں گے اور ( اسی طرح) اگر تم میں کے سو آدمی ہوں گے تو ہزار کفار پر غالب آجائیں گے اس وجہ سے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو ( دین کو) کچھ نہیں سمجھتے ( اور اس وجہ سے کفر پر مصر ہیں اور اس سبب سے ان کو غیبی امداد نہیں پہنچتی اس سبب سے وہ مغلوب ہوجاتے ہیں پس تم پر واجب ہے کہ اپنے سے دس گونہ کے مقابلہ سے بھی پسپا نہ ہو۔ اول یہ حکم نازل ہوا تھا جب صحابہ پر شاق ہوا تو عرض کیا ایک مدت کے بعد یہ دوسری آیت جس سے وہ پہلا حکم منسوخ ہوگیا نازل ہوئی یعنی) اب اللہ تعالیٰ نے تم پر تخفیف کردی اور معلوم کرلیا کہ تم میں ہمت کی کمی ہے سو ( یہ حکم دیا جاتا ہے کہ) اگر تم میں کے سو آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو ( اپنے سے دو گونہ عدد پر یعنی) دو سو پر غالب آجائیں گے اور ( اسی طرح) اگر تم میں کے ہزار ہوں گے تو دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آجائیں گے اور ( ہم نے جو صابر کی قید لگائی تو اس لئے کہ) اللہ تعالیٰ صابرین ( یعنی جو دل اور قدم سے ثابت رہیں ان) کے ساتھ ہیں ( یعنی ان کی مدد کرتے ہیں) - معارف و مسائل - سورة انفال کی مذکورہ چار آیتوں میں سے پہلی آیت میں مسلمانوں کی فتح و کامیابی کے اصلی سبب اور اس کے حصول کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خطاب کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس نے اپنی خاص مدد سے اور مسلمانوں کی جماعت سے آپ کی تائید اور نصرت فرمائی ہے۔ اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی جماعت سے کسی کی امداد و نصرت ظاہر ہے کہ صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب کہ یہ جماعت باہم متفق اور متحد ہو۔ اور بقدر اتفاق و اتحاد ہی اس کی قوت اور وزن ہوتا ہے۔ باہمی اتحاد و یگانگت کے رشتے قوی ہیں تو پوری جماعت قوی ہے اور اگر یہ رشتے ڈھیلے ہیں تو پوری جماعت ڈھیلی اور کمزور ہے۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے اس خاص انعام کا ذکر فرمایا جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تائید و نصرت کے لئے عام مسلمانوں پر ہوا کہ ان کے دلوں میں مکمل وحدت و الفت پیدا کردی گئی۔ حالانکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت مدینہ سے پہلے ان کے دو قبلیوں۔ اوس و خزرج کے آپس میں شدید جنگیں لڑی جاچکی تھیں اور جھگڑے چلتے رہتے تھے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برکت سے اللہ تعالے نے ان جانی دشمنوں کو باہم شیر و شکر بھائی بھائی بنادیا۔ مدینہ میں قائم ہونے والی نئی ریاست کے قیام وبقاء اور دشمنوں پر غالب آنے کا حقیقی اور معنوی سبب تو اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد تھی اور ظاہری سبب مسلمانوں کی آپس میں مکمل الفت و محبت …

Al-Anfaal 8:63Listen in Qur'an →
64

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ حَسْبُكَ ٱللَّهُ وَمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اے نبی! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے

دوسری آیت میں بھی یہی مضمون خلاصہ کے طور پر بیان فرما کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کے لئے حقیقت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ اور ظاہر کے اعتبار سے مؤمنین کی جماعت کافی ہے آپ کسی بڑے سے بڑے دشمن کی تعداد یا سامان سے خوف زدہ نہ ہوں۔ حضرت مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ آیت غزوہ بدر کے میدان میں جنگ شروع ہونے سے پہلے نازل ہوئی تھی تاکہ قلیل التعداد، بےسامان مسلمان اپنے مقابل کی بھاری تعداد اور بھاری سامان سے مرعوب نہ ہوجائیں۔

Al-Anfaal 8:64Listen in Qur'an →
65

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ حَرِّضِ ٱلْمُؤْمِنِينَ عَلَى ٱلْقِتَالِ ۚ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَٰبِرُونَ يَغْلِبُوا۟ مِا۟ئَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةٌۭ يَغْلِبُوٓا۟ أَلْفًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ

اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو۔ اور اگر تم بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب رہیں گے۔ اور اگر سو (ایسے) ہوں گے تو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اس لیے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے

تیسری اور چوتھی آیت میں مسلمانوں کے لئے ایک جنگی قانون کا ذکر ہے کہ ان کو کس حد تک اپنے حریف کے مقابلہ پر جمنا فرض اور اس سے ہٹنا گناہ ہے۔ پچھلی آیات اور واقعات میں اس کا ذکر تفصیل کے ساتھ آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی امداد غیبی مسلمانوں کے ساتھ ہوتی ہے اس لئے ان کا معاملہ عام اقوام دنیا کا سا معاملہ نہیں یہ تھوڑے بھی بہت سوں پر غالب آسکتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے (آیت) كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ (یعنی بہت سی قلیل التعداد جماعتیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے کثرت والے مقابل پر غالب آجاتی ہیں)- اس لئے اسلام کے سب سے پہلے جہاد غزوہ بدر میں دس مسلمانوں کو سو آدمیوں کے برابر قرار دے کر یہ حکم دیا گیا کہ : - اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو دشمنوں پر غالب آجائیں گے اور اگر تم سو ہوگے تو ایک ہزار کافروں پر غالب آجاؤ گے۔- عنوان تعبیر اس میں ایک خبر کا رکھا گیا ہے کہ سو مسلمان ایک ہزار کافروں پر غالب آجائیں گے مگر مقصد یہ حکم دینا ہے کہ سو مسلمانوں کو ایک ہزار کفار کے مقابلہ سے بھاگنا جائز نہیں۔ عنوان خبر کا رکھنے میں مصلحت یہ ہے کہ مسلمانوں کے دل اس خوشخبری سے مضبوط ہوجائیں کہ اللہ کا وعدہ ہماری حفاظت اور غلبہ کا ہے۔ اگر حکم کو بصیغہ امر قانون کی صورت میں پیش کیا جاتا تو فطری طور پر وہ بھاری معلوم ہوتا۔- غزوة بدر پہلے پہل کی جنگ ایسی حالت میں تھی جب کہ مسلمانوں کی مجموعی تعداد ہی بہت کم تھی اور وہ بھی سب کے سب محاذ جنگ پر گئے نہ تھے بلکہ فوری طور پر جو لوگ تیار ہوسکے وہی اس جنگ کی فوج بنے اس لئے جہاد میں سو مسلمانوں کو ایک ہزار کافروں کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ایسے انداز میں دیا کہ فتح و نصرت کا وعدہ ساتھ تھا۔- چوتھی آیت میں اس حکم کو آئندہ کے لئے منسوخ کرکے دوسرا حکم یہ دیا گیا کہ اب اللہ تعالیٰ نے تخفیف کردی اور معلوم کرلیا کہ تم میں ہمت کی کمی ہے سو اگر تم میں کے سو آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آجائیں گے۔- یہاں بھی مقصد یہ ہے کہ سو مسلمانوں کو دو سو کافروں کے مقابلہ سے گریز کرنا جائز نہیں۔ پہلی آیت میں ایک مسلمان کو دس کے مقابلہ سے گریز ممنوع قرار دیا تھا اس آیت میں ایک کو دو کے مقابلہ سے گریز ممنوع رہ گیا۔ اور یہی آخری حکم ہے جو ہمیشہ کے لئے جاری اور باقی ہے۔ یہاں بھی حکم کو حکم کے عنوان سے نہیں بلکہ خبر اور خوشخبری کے انداز سے بیان فرمایا گیا ہے جس میں اشارہ ہے کہ ایک مسلمان کو دو کافروں کے مقابلہ پر جمنے کا حکم معاذ اللہ کوئی بےانصافی یا تشدد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان میں اس کے ایمان کی وجہ سے وہ قوت رکھ دی ہے کہ ان میں کا ایک دو کے برابر رہتا ہے۔- مگر دونوں جگہ اس فتح و نصرت کی خوشخبری کو اس شرط کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے کہ یہ مسلمان ثابت قدم رہنے والے ہوں اور ظاہر ہے یہ قتل و قتال کے میدان میں اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر ثابت قدم رہنا اسی کا کام ہوسکتا ہے جس کا ایمان کامل ہو۔ کیونکہ ایمان کامل انسان کو شوق شہادت کا جذبہ عطا کرتا ہے اور یہ جذبہ اس کی طاقت کو بہت کچھ بڑھا دیتا ہے۔

Al-Anfaal 8:65Listen in Qur'an →
66

ٱلْـَٰٔنَ خَفَّفَ ٱللَّهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًۭا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةٌۭ صَابِرَةٌۭ يَغْلِبُوا۟ مِا۟ئَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌۭ يَغْلِبُوٓا۟ أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اب خدا نے تم پر سے بوجھ ہلکا کر دیا اور معلوم کرلیا کہ (ابھی) تم میں کسی قدر کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے۔ اور اگر ایک ہزار ہوں گے تو خدا کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اور خدا ثابت قدم رہنے والوں کا مدد گار ہے

آخر آیت میں عام قانون کی صورت سے بتلا دیا (آیت) وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ ثابت قدم رہنے والوں کا ساتھی ہے۔ اس میں میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے والے بھی شامل ہیں اور عام احکام شرعیہ کی پابندی پر ثابت قدم رہنے والے حضرات بھی۔ ان سب کے لئے معیت الہیہ کا وعدہ ہے اور یہ معیت ہی ان کی فتح و ظفر کا اصلی راز ہے۔ کیونکہ جس کو قادر مطلق کی معیت نصیب ہوگئی اس کو ساری دنیا مل کر بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلاسکتی۔

Al-Anfaal 8:66Listen in Qur'an →
67

مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ ٱلدُّنْيَا وَٱللَّهُ يُرِيدُ ٱلْءَاخِرَةَ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے

خلاصہ تفسیر - (اے مسلمانو تم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو ان قیدیوں سے کچھ لے کر چھوڑ دینے کا مشورہ دیا یہ بےجا تھا کیونکہ) نبی کی شان کے لائق نہیں کہ ان کے قیدی باقی رہیں (بلکہ قتل کردیئے جائیں) جب تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح (کفار کی) خونریزی نہ کرلیں (کیونکہ مشروعیت جہاد کی اصلی غرض دفع فساد ہے اور بدوں اس حد کے جس میں کہ بالکل شوکت کفار کی ٹوٹ جائے دفع فساد ممکن نہیں پس اس نوبت سے پہلے قیدیوں کا زندہ چھوڑ دینا آپ کی شان اصلاح کے مناسب نہیں البتہ جب ایسی قوت ہوجائے پھر قتل ضروری نہیں بلکہ اور صورتیں بھی مشروع ہیں پس ایسی نامناسب رائے تم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیوں دی) تم تو دنیا کا مال و اسباب چاہتے ہو (اس لئے فدیہ کی رائے دی) اور اللہ تعالیٰ آخرت (کی مصلحت) کو چاہتے ہیں (اور وہ اس میں ہے کہ کفار خوف سے مغلوب ہوجائیں جس میں آزادی سے اسلام کا نور و ہدایت پھیلے اور بےروک ٹوک لوگ بکثرت مسلمان ہوں اور نجات پاویں) اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست بڑی حکمت والے ہیں (وہ تم کو کفار پر غالب کرتے اور فتوحات کی کثرت سے تم کو مالدار کردیتے گو کسی حکمت کے سبب اس میں دیر ہوتی جو فعل تم سے واقع ہوا ہے وہ ایسا ناپسندیدہ ہے کہ) اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہوچکتا (وہ یہ کہ ان قیدیوں میں لوگ مسلمان ہوجائیں گے جس سے فساد محتمل واقع نہ ہوگا۔ اگر یہ ہوتا) تو جو امر تم نے اختیار کیا ہے اس کے بارے میں تم پر کوئی بڑی سزا واقع ہوتی (لیکن چونکہ کوئی فساد نہ ہوا اور اتفاقا تمہارا مشورہ صائب نکل آیا اس لئے تم سزا سے بچ گئے یعنی ہم نے اس فدیہ کو مباح کردیا) سو جو کچھ تم نے (ان سے فدیہ میں) لیا ہے اس کو حلال پاک سمجھ کر کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ( کہ آئندہ ہر طرح کی احتیاط رکھو) بیشک اللہ تعالیٰ بڑے بخشنے والے بڑی رحمت والے ہیں (کہ تمہارا گناہ بھی معاف کردیا یہ مغفرت ہے اور فدیہ بھی حلال کردیا یہ رحمت ہے) ۔- معارف و مسائل - آیات مذکورہ کا تعلق غزوہ بدر کے ایک خاص واقعہ سے ہے اس لئے ان کی تفسیر سے پہلے صحیح اور مستند روایات حدیث کے ذریعہ اس واقعہ کا بیان ضروری ہے۔- واقعہ یہ ہے کہ غزوہ بدر اسلام میں سب سے پہلا جہاد ہے اور اچانک پیش آیا ہے اس وقت تک جہاد سے متعلقہ احکام کی تفصیل قرآن میں نازل نہیں ہوئی تھی جہاد میں اگر مال غنیمت ہاتھ آجائے تو اسے کیا کیا جائے۔ دشمن کے سپاہی اپنے قبضہ میں آجائیں تو ان کو گرفتار کرنا جائز ہے یا نہیں اور گرفتار کرلیا جائے تو پھر ان کے ساتھ معاملہ کیا کرنا چاہئے۔- مال غنیمت کے متعلق پچھلے تمام انبیاء کی شریعتوں میں قانون یہ تھا کہ مسلمانوں کو اس سے نفع اٹھانا اور استعمال کرنا حلال نہیں تھا بلکہ حکم یہ تھا کہ پورا مال غنیمت جمع کرکے کسی میدان میں رکھ دیا جائے اور دستور الہی یہ تھا کہ آسمان سے ایک آگ آتی اور اس سارے مال کو جلا کر خاک کردیتی۔ یہی علامت اس جہاد کے مقبول ہونے کی سمجھی جاتی تھی۔ اگر مال غنیمت کو جلانے کے لئے آسمانی آگ نہ آئے تو یہ اس کی علامت ہوتی ہے کہ جہاد میں کوئی کوتاہی رہی ہے جس کے سبب وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں۔- صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطاء کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کفار سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کسی کے لئے حلال نہیں تھا مگر امت مرحومہ کے لئے حلال کردیا گیا۔ مال غنیمت کا اس امت کے لئے خصوصی طور پر حلال ہونا اللہ تعالیٰ کے تو علم میں تھا مگر غزوہ بدر کے واقعہ تک اس کے متعلق کوئی وحی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس کے حلال ہونے کے متعلق نازل نہیں ہوئی تھی۔ اور غزوہ بدر میں صورت حال یہ پیش آئی کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بالکل خلاف …

Al-Anfaal 8:67Listen in Qur'an →
68

لَّوْلَا كِتَٰبٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَآ أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا

دوسری آیت بھی اسی عتاب کا تتمہ ہے جس میں فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہوچکا ہوتا تو جو کام تم نے اختیار کیا کہ مال لے کر قیدیوں کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا اس کے بارے میں تم پر کوئی بڑی سزا واقع ہوجاتی۔- اس نوشتہ تقدیر سے کیا مراد ہے، اس کے متعلق ترمذی میں بروایت حضرت ابوہریرہ منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مال غنیمت تم سے پہلے کسی قوم کسی امت کے لئے حلال نہیں تھا۔ بدر کے موقع میں جب مسلمان مال غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے حالانکہ ابھی تک ان کے لئے مال غنیمت حلال نہیں کیا گیا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مال غنیمت کے حلال ہونے کا حکم نازل ہونے سے پہلے مسلمانوں کا یہ اقدام ایسا گناہ تھا کہ اس پر عذاب آجانا چاہئے تھا لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم لوح محفوظ میں لکھا ہوا تھا کہ اس امت کے لئے مال غنیمت حلال کیا جائے گا اس لئے مسلمانوں کی اس خطاء پر عذاب نازل نہیں کیا تھا۔ ( مظہری) - بعض روایات حدیث میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عذاب الہی بالکل سامنے آچکا تھا۔ اللہ نے اپنے فضل سے روک دیا اور اگر عذاب آجاتا تو بجز عمر بن خطاب اور سعد بن معاذ کے کوئی اس سے نہ بچتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سبب عتاب قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑ دینا تھا اور ترمذی کی روایت سابقہ سے اس کا سبب مال غنیمت جمع کرنا معلوم ہوتا ہے مگر دونوں میں کوئی تضاد نہیں قیدیوں سے فدیہ لینا بھی مال غنیمت ہی کا جز ہے۔

Al-Anfaal 8:68Listen in Qur'an →
69

فَكُلُوا۟ مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَٰلًۭا طَيِّبًۭا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

تو جو مالِ غنیمت تمہیں ملا ہے اسے کھاؤ (کہ وہ تمہارے لیے) حلال طیب رہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

مسئلہ۔ آیت مذکو رہ میں قیدیوں سے فدیہ لے کر آزاد کرنے یا مال غنیمت جمع کرنے پر جو عتاب نازل ہوا اور عذاب الہی سے ڈرایا گیا مگر پھر معافی دے دی گئی۔ اس سے یہ بات نہ کھلی کہ آئندہ کے لئے ان معاملات میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔ اس لئے اگلی آیت میں مال غنیمت کا مسئلہ تو صاف کردیا گیا (آیت) فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ یعنی جو مال غنیمت تم کو ہاتھ آگیا ہے وہ اب کھا سکتے ہو وہ آئندہ کے لئے تمہارے واسطے حلال کردیا گیا۔ مگر اس میں بھی ایک شبہ یہ رہ جاتا ہے کہ مال غنیمت حلال کرنے کا حکم تو اب ملا ہے۔ اس حکم سے پہلے جو غلطی سے جمع کرلیا گیا تھا شاید اس میں کسی قسم کی کراہت ہو اس لئے اس کے بعد حَلٰلًا طَيِّبًا فرما کر یہ شبہ بھی دور کردیا گیا کہ اگرچہ نزول حکم سے پہلے جمع غنیمت کا اقدام درست نہ تھا مگر اب جب کہ مال غنیمت حلال ہونے کا حکم آگیا تو پہلا جمع کیا ہوا بھی بغیر کسی کراہت کے حلال ہے۔- مسئلہ۔ یہاں اصول فقہ کا ایک مسئلہ قابل نظر اور قابل یاد داشت ہے کہ جب کسی ناجائز اقدام کے بعد مستقل آیت کے ذریعہ اس مال کو حلال کرنے کا حکم نازل ہوجائے تو سابقہ اقدام کا اس میں کوئی اثر نہیں رہتا۔ یہ مال حلال طیب ہوجاتا ہے جیسا کہ یہاں ہوا لیکن اسی کی ایک دوسری نظیر یہ ہے کہ کسی معاملہ میں حکم تو پہلے سے نازل شدہ تھا مگر اس کا ظہور عمل کرنے والوں پر نہیں تھا اس بنا پر اس کی خلاف ورزی کر گزرے، بعد میں معلوم ہوا کہ ہمارا یہ عمل قرآن و سنت کے فلاں حکم کے خلاف تھا۔ تو اس صورت میں ظہور حکم کے بعد وہ مال حلال نہیں رہتا اگرچہ سابقہ غلطی کو معاف بھی کردیا جائے۔ ( نور الانوار ملا جیون) - آیت مذکورہ میں مال غنمیت کو حلال طیب تو قرار دے دیا گیا مگر آخر آیت میں یہ قید لگا دی گئی (آیت) وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ اس میں اشارہ کردیا کہ مال غنیمت اگرچہ حلال کردیا گیا ہے مگر وہ بھی ایک خاص قانون کے تحت حلال ہوا ہے اس قانون کے خلاف یا اپنے حق سے زائد لیا جائے گا تو وہ جائز نہیں۔- یہاں دو معاملے تھے ایک مال غنیمت دوسرے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا۔ پہلے معاملے کے متعلق تو اس آیت نے بات صاف کردی مگر دوسرا معاملہ ابھی تک صاف نہیں ہوا۔ اس کے متعلق سورة محمد میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت) فَاِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ ۭ حَتّىٰٓ اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ ڎ فَاِمَّا مَنًّـۢا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاۗءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا ( یعنی جب جنگ میں کافروں سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان کی گردنیں مار دو یہاں تک کہ جب تم خوں ریزی کے ذریعہ ان کی قوت شوکت توڑ چکو تو پھر ان کو قید کرکے مضبوط باندھو۔ اس کے بعد یا تو ان پر احسان کرکے بغیر کسی معاوضہ کے آزاد کردو یا فدیہ لے کر چھوڑ دو یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔- حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر میں قیدیوں کو فدیہ لے کر آزاد کرنے پر عتاب نازل ہوا، یہ اسلام کا پہلا جہاد تھا اس وقت تک کافروں کی قوت و شوکت ٹوٹ نہیں چکی تھی اتفاقا ان پر ایک مصیبت پڑگئی تھی پھر جب اسلام اور مسلمانوں کا مکمل غلبہ حاصل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے وہ حکم منسوخ کرنے کے لئے سورة محمد کی آیت مذکورہ نازل فرمادی۔ جس میں نبی کریم اور مسلمانوں کو قیدیوں کے بارے میں چار اختیار دے دیئے گئے وہ ہیں۔ - ان شاء واقتلوھم و ان شاء وا استعبدوھم وان شاء وا افادوھم وان شاء وا اعتقوھم ( مظہری) " چاہیں تو سب کو قتل کردیں یا چاہیں تو غلام بنالیں یا چاہیں تو فدیہ لے کر چھوڑ دیں یا چاہیں تو بغیر فدیہ کے آزاد کردیں "۔ - مذکورہ چار اختیارات میں سے پہلے دو پر تو پوری امت کا اتفاق اور اجماع ہے کہ امیر مسلیمن کے لئے قیدیوں کو قتل کردینے کا بھی اختیار ہے اور غلام بنالینے کا بھی۔ لیکن ان کو بلا معاوضہ …

Al-Anfaal 8:69Listen in Qur'an →
70

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّمَن فِىٓ أَيْدِيكُم مِّنَ ٱلْأَسْرَىٰٓ إِن يَعْلَمِ ٱللَّهُ فِى قُلُوبِكُمْ خَيْرًۭا يُؤْتِكُمْ خَيْرًۭا مِّمَّآ أُخِذَ مِنكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اے پیغمبر جو قیدی تمہارے ہاتھ میں (گرفتار) ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کرے گا تو جو (مال) تم سے چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عنایت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

خلاصہ تفسیر - اے پیغمبر آپ کے قبضہ میں جو قیدی ہیں ( ان میں جو مسلمان ہوگئے ہیں) آپ ان سے فرما دیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو تمہارے قلب میں ایمان معلوم ہوگا ( یعنی تم دل سے مسلمان ہوئے ہوگے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم تو مطابق واقع کے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ مسلمان اسی کو جانیں گے جو واقع میں مسلمان ہوگا اور جو شخص غیر مسلم ہوگا اس کو غیر مسلم ہی جانیں گے پس اگر تم دل سے مسلمان ہوگے) تو جو کچھ تم سے ( فدیہ میں) لیا گیا ہے ( دنیا میں) اس سے بہتر تم کو دے دے گا اور ( آخرت میں) تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے ہیں ( اس لئے تم کو بخش دیں گے اور) بڑی رحمت والے ہیں ( اس لئے تم کو نعم البدل دیں گے) اور اگر ( بالفرض) یہ لوگ ( صدق دل سے مسلمان نہ ہوئے ہوں بلکہ اظہار اسلام سے محض آپ کو دھوکا ہی دینا چاہیں اور دل میں) آپ کے ساتھ خیانت کرنے کا ( یعنی نقض عہد کرکے مخالفت و مقابلہ کا) ارادہ رکھتے ہوں تو ( کچھ فکر نہ کیجئے اللہ تعالیٰ ان کو پھر آپ کے ہاتھوں میں گرفتار کرادے گا جیسا) اس سے پہلے انہوں نے اللہ کے ساتھ خیانت کی تھی ( اور آپ کی مخالفت اور مقابلہ کیا) پھر اللہ نے ان کو ( آپ کے ہاتھوں میں) گرفتار کرادیا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والے ہیں ( کہ کون خائن ہے اور) بڑی حکمت والے ہیں ( ایسی صورتیں پیدا کردیتا ہے جس سے خائن مغلوب ہوجائے ) ۔- معارف و مسائل - غزوہ بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا۔ اسلام اور مسلمانوں کے وہ دشمن جنہوں نے ان کے ستانے، مار نے، قتل کرنے میں کسی وقت بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور جب موقع مل گیا انتہائی وحشیانہ مظالم ان پر کئے مسلمانوں کے ہاتھوں میں قید ہوجانے کے بعد ان کی جان بخشی کردینا کوئی معمولی بات نہ تھی ان کے لئے بڑی غنیمت اور انتہائی لطف و کرم تھا فدیہ میں جو رقم ان سے لی گئی وہ بھی نہایت معمولی تھی۔- اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم دیکھئے کہ اس معمولی رقم کے دینے سے جو ایک قسم کی تکلیف ان کو پیش آئی اس کو بھی کس طرح رفع فرمایا جاتا ہے۔ آیت مذکورہ میں ارشاد ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں کوئی خیر پائیں گے تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں دے دیں گے۔ اور اس پر مزید یہ کہ تمہارے پچھلے گناہ بخش دیں گے۔ خیر سے مراد ایمان اور اخلاص ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آزاد ہونے کے بعد ان قیدیوں میں جو لوگ ایمان و اسلام کو اخلاص کے ساتھ اختیار کرلیں گے تو جو کچھ فدیہ میں دیا ہے اس سے زیادہ اور بہتر ان کو مل جائے گا۔ قیدیوں کو آزاد و خود مختار کردینے کے ساتھ اس طرح دعوت دی گئی کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنے نفع نقصان پر غور کریں۔ چناچہ واقعات شاہد ہیں کہ ان لوگوں میں سے جو مسلمان ہوگئے اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت اور جنت کے درجات عالیہ کے علاوہ دنیا میں بھی ان کو اتنا مال و دولت دے دیا جو ان کے فدیہ سے بدرجہا زائد تھا۔- اکثر مفسرین نے فرمایا کہ یہ آیت حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا حضرت عباس (رض) کے بارے میں نازل ہوئی تھی کیونکہ وہ بھی بدر کے قیدیوں میں شامل تھے اور ان سے بھی فدیہ لیا گیا تھا۔ ان کی خصوصیت اس معاملہ میں یہ تھی کہ جنگ بدر میں یہ مکہ سے اپنے ساتھ تقریبا سات سو گنی سونا لے کر چلے تھے تاکہ وہ لشکر کفار پر خرچ کیا جائے اور ابھی یہ خرچ ہونے نہیں پایا تھا کہ وہ مع اس سونے کے گرفتار کر لئے گئے۔- جب فدیہ دینے کا وقت آیا تو انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ میرے ساتھ جو سونا تھا اس کو میرے فدیہ کی رقم میں لگا لیا جائے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو مال آپ کفر کی امداد کے لئے لائے تھے وہ تو مسلمانوں کا مال غنیمت بن گیا۔ فدیہ اس کے علاوہ ہونا چاہئے اور ساتھ ہی بھی فرمایا کہ اپنے دو بھتیجوں عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث کا فدیہ بھی آپ ادا کریں۔ عباس (رض) …

Al-Anfaal 8:70Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.