Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 61–70 of 75

61

۞ وَإِن جَنَحُوا۟ لِلسَّلْمِ فَٱجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے

اسلام کا اعتماد استعمال قوت سے زیادہ مظاہرۂ قوت پر ہے۔ اسی ليے اہل اسلام کو قوت مُرہبہ فراہم کرنے کا حکم دیاگیا ، یعنی وہ چیزیں جو حریف کو اس قدر مرعوب کریں کہ وہ اقدام کا حوصلہ کھو دے۔ اسلام وقت کے معیار کے مطابق اپنے کو طاقت ور بناتا ہے، مگر لازماً لڑنے کے ليے نہیں۔ بلکہ اس ليے تاکہ اس کے دشمنوں پر اس کی دھاک قائم رہے اور وہ اس کے خلاف جارحانہ کارروائی کی ہمت نہ کریں۔ اسلام كو وقت کے معیار کے مطابق فكري اور عملی اعتبار سے طاقت ور بنانے میں جو لوگ اپنی کمائی خرچ کریں گے وہ کئی گناہ زیادہ مقدار میں اس کا بدلہ اپنے رب کے یہاں پائیںگے۔

اسلام کی فتح کا راز اصلاً جنگی مقابلوں میں نہیں بلکہ اس کے اصولوں کی تبلیغ میں ہے۔ اس ليے حکم ہوا کہ جب بھی فریق ثانی صلح کی پیش کش کرے تو ہر اندیشہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو قبول کرلو۔ کیوں کہ اندیشہ بہر حال یقینی نہیں اور جنگ بندی کا یہ فائدہ یقینی ہے کہ پُرامن فضا میںاسلام کا دعوتی عمل شروع ہو جائے اور اس طرح جنگ کا رکنا اسلام کی نظریاتی توسیع کا سبب بن جائے۔

اسلام خود اپنی ذا ت میں سب سے بڑی طاقت ہے۔ خدا اور آخرت کا عقیدہ اگر پوری طرح کسی گروہ کے افراد میں پیدا ہوجائے تو ان کے اندر سے وہ تمام نفسیاتی خرابیاں نکل جاتی ہیں جو نااتفاقی اور باہمی ٹکراؤ کا باعث ہوتی ہیں۔ اس کے بعد لازماً ایسا ہوتاہے کہ وہ سب کے سب باہم جڑ کر ایک ہوجاتے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اتحاد سب سے بڑی طاقت ہے۔ متحد گروہ اگر تعداد میں کم ہو تب بھی وہ اپنے سے زیادہ تعداد رکھنے والے گروہ پر غالب آجائے گا۔

باہمی اتفاق سب سے زیادہ مشکل چیز ہے۔ کسی گروہ کی نصرت یافتہ ہونے کی ایک پہچان یہ ہے کہ اس کے افراد باہم متحد رہیں، کوئی بھی چیز ان کے اتحاد کو توڑنے والی ثابت نہ ہو۔

Al-Anfaal 8:61Listen in Qur'an →
62

وَإِن يُرِيدُوٓا۟ أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ ٱللَّهُ ۚ هُوَ ٱلَّذِىٓ أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِۦ وَبِٱلْمُؤْمِنِينَ

اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہیں کفایت کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی

اسلام کا اعتماد استعمال قوت سے زیادہ مظاہرۂ قوت پر ہے۔ اسی ليے اہل اسلام کو قوت مُرہبہ فراہم کرنے کا حکم دیاگیا ، یعنی وہ چیزیں جو حریف کو اس قدر مرعوب کریں کہ وہ اقدام کا حوصلہ کھو دے۔ اسلام وقت کے معیار کے مطابق اپنے کو طاقت ور بناتا ہے، مگر لازماً لڑنے کے ليے نہیں۔ بلکہ اس ليے تاکہ اس کے دشمنوں پر اس کی دھاک قائم رہے اور وہ اس کے خلاف جارحانہ کارروائی کی ہمت نہ کریں۔ اسلام كو وقت کے معیار کے مطابق فكري اور عملی اعتبار سے طاقت ور بنانے میں جو لوگ اپنی کمائی خرچ کریں گے وہ کئی گناہ زیادہ مقدار میں اس کا بدلہ اپنے رب کے یہاں پائیںگے۔

اسلام کی فتح کا راز اصلاً جنگی مقابلوں میں نہیں بلکہ اس کے اصولوں کی تبلیغ میں ہے۔ اس ليے حکم ہوا کہ جب بھی فریق ثانی صلح کی پیش کش کرے تو ہر اندیشہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو قبول کرلو۔ کیوں کہ اندیشہ بہر حال یقینی نہیں اور جنگ بندی کا یہ فائدہ یقینی ہے کہ پُرامن فضا میںاسلام کا دعوتی عمل شروع ہو جائے اور اس طرح جنگ کا رکنا اسلام کی نظریاتی توسیع کا سبب بن جائے۔

اسلام خود اپنی ذا ت میں سب سے بڑی طاقت ہے۔ خدا اور آخرت کا عقیدہ اگر پوری طرح کسی گروہ کے افراد میں پیدا ہوجائے تو ان کے اندر سے وہ تمام نفسیاتی خرابیاں نکل جاتی ہیں جو نااتفاقی اور باہمی ٹکراؤ کا باعث ہوتی ہیں۔ اس کے بعد لازماً ایسا ہوتاہے کہ وہ سب کے سب باہم جڑ کر ایک ہوجاتے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اتحاد سب سے بڑی طاقت ہے۔ متحد گروہ اگر تعداد میں کم ہو تب بھی وہ اپنے سے زیادہ تعداد رکھنے والے گروہ پر غالب آجائے گا۔

باہمی اتفاق سب سے زیادہ مشکل چیز ہے۔ کسی گروہ کی نصرت یافتہ ہونے کی ایک پہچان یہ ہے کہ اس کے افراد باہم متحد رہیں، کوئی بھی چیز ان کے اتحاد کو توڑنے والی ثابت نہ ہو۔

Al-Anfaal 8:62Listen in Qur'an →
63

وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا مَّآ أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اور اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بےشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے

اسلام کا اعتماد استعمال قوت سے زیادہ مظاہرۂ قوت پر ہے۔ اسی ليے اہل اسلام کو قوت مُرہبہ فراہم کرنے کا حکم دیاگیا ، یعنی وہ چیزیں جو حریف کو اس قدر مرعوب کریں کہ وہ اقدام کا حوصلہ کھو دے۔ اسلام وقت کے معیار کے مطابق اپنے کو طاقت ور بناتا ہے، مگر لازماً لڑنے کے ليے نہیں۔ بلکہ اس ليے تاکہ اس کے دشمنوں پر اس کی دھاک قائم رہے اور وہ اس کے خلاف جارحانہ کارروائی کی ہمت نہ کریں۔ اسلام كو وقت کے معیار کے مطابق فكري اور عملی اعتبار سے طاقت ور بنانے میں جو لوگ اپنی کمائی خرچ کریں گے وہ کئی گناہ زیادہ مقدار میں اس کا بدلہ اپنے رب کے یہاں پائیںگے۔

اسلام کی فتح کا راز اصلاً جنگی مقابلوں میں نہیں بلکہ اس کے اصولوں کی تبلیغ میں ہے۔ اس ليے حکم ہوا کہ جب بھی فریق ثانی صلح کی پیش کش کرے تو ہر اندیشہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو قبول کرلو۔ کیوں کہ اندیشہ بہر حال یقینی نہیں اور جنگ بندی کا یہ فائدہ یقینی ہے کہ پُرامن فضا میںاسلام کا دعوتی عمل شروع ہو جائے اور اس طرح جنگ کا رکنا اسلام کی نظریاتی توسیع کا سبب بن جائے۔

اسلام خود اپنی ذا ت میں سب سے بڑی طاقت ہے۔ خدا اور آخرت کا عقیدہ اگر پوری طرح کسی گروہ کے افراد میں پیدا ہوجائے تو ان کے اندر سے وہ تمام نفسیاتی خرابیاں نکل جاتی ہیں جو نااتفاقی اور باہمی ٹکراؤ کا باعث ہوتی ہیں۔ اس کے بعد لازماً ایسا ہوتاہے کہ وہ سب کے سب باہم جڑ کر ایک ہوجاتے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اتحاد سب سے بڑی طاقت ہے۔ متحد گروہ اگر تعداد میں کم ہو تب بھی وہ اپنے سے زیادہ تعداد رکھنے والے گروہ پر غالب آجائے گا۔

باہمی اتفاق سب سے زیادہ مشکل چیز ہے۔ کسی گروہ کی نصرت یافتہ ہونے کی ایک پہچان یہ ہے کہ اس کے افراد باہم متحد رہیں، کوئی بھی چیز ان کے اتحاد کو توڑنے والی ثابت نہ ہو۔

Al-Anfaal 8:63Listen in Qur'an →
64

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ حَسْبُكَ ٱللَّهُ وَمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اے نبی! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے

اہلِ ایمان کی تعداد غیر اہل ایمان کی زیادہ تعداد پر غالب آنے کی وجہ یہ بتائی کہ اہلِ ایمان کے اندر فقہ ہوتی ہے جب کہ غیر اہلِ ایمان فقہ سے محروم ہیں۔ فقہ کے لفظی معنی سمجھ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ بصیرت اور شعور ہے جو ایمان کے نتیجہ میںایک شخص کو حاصل ہوتاہے۔ خدا پر ایمان کسی آدمی کے ليے وہی معنی رکھتا ہے جو اندھیرے کمرے میں بجلی كے بلب كا جل جانا۔ بلب پورے کمرے کو اس طرح روشن کردیتاہے کہ اس کی ہر چیز واضح طورپر دکھائی دینے لگے۔اسی طرح ایمان آدمی کو ایک ربانی شعور عطا کرتاہے جس کے بعد وہ تمام حقیقتوں کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے لگتا ہے۔

ایمان کے نتیجہ میں یہ ہوتاہے کہ آدمی زندگی اور موت کی حقیقت کو سمجھ لیتاہے ۔ وہ جان لیتاہے کہ اصل چیز حیاتِ دنیا نہیں بلکہ حیات ِآخرت ہے۔ یہ چیز اس کو بے پناہ حد تک نڈر بنادیتی ہے۔ وہ موت کو اس نظر سے دیکھنے لگتاہے کہ وہ اس کے ليے جنت میںداخلہ کا دروازہ ہے۔ مومن شہادت کو جنت کا مختصر راستہ سمجھتاہے۔ اللہ کی راہ میں جان دینا اس کے ليے مطلوب چیز بن جاتاہے، جب کہ غیر مومن کی جنت یہی موجودہ دنیا ہے۔ وہ زندہ رہنا چاہتا ہے تاکہ اپنی جنت کا لطف اٹھاسکے۔ غیر مومن قومی شعور کے تحت لڑتاہے اورمومن جنتی شعور کے تحت، اور قومی شعور والا کبھی اتنی بے جگری کے ساتھ نہیں لڑ سکتا۔

مومن خدا سے ڈرنے والا ہوتاہے، وہ آخرت کی فکر کرنے والا ہوتا ہے، یہ مزاج اس کو ہر قسم کے منفی جذبات سے پاک کرتاہے۔ وہ ضد، نفرت، تعصب، انتقام اور گھمنڈ جیسی چیزوں سے اوپر اٹھ جاتاہے۔ دوسری طرف غیر مومن کا معاملہ سراسر اس کے برعکس ہوتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ غیر مومن کے اقدامات منفی نفسیات کے تحت ہوتے ہیں اور مومن کے اقدامات ایجابی نفسیات کے تحت۔ غیر مومن جذباتی انداز سے عمل کرتاہے اور مومن حقیقت پسندانہ انداز سے۔ غیر مومن انسانوں کا دشمن ہوتاہے اور مومن صرف انسانوں کی برائی کا۔ غیر مومن تنگ ظرفی کے ساتھ معاملہ کرتاہے اور مومن وسعتِ ظرف کے ساتھ۔

ہزار کے مقابلہ میں سو اور دوہزار کے مقابلہ میں ایک ہزار کے الفاظ بتاتے ہیں کہ قتال کا حکم جماعت اور فوج کے ليے ہے۔ ایسا کرنا صحیح نہ ہوگا کہ ایک دو آدمی ہوںتب بھی وہ لڑنے کے ليے کھڑے ہوجائیں۔

Al-Anfaal 8:64Listen in Qur'an →
65

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ حَرِّضِ ٱلْمُؤْمِنِينَ عَلَى ٱلْقِتَالِ ۚ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَٰبِرُونَ يَغْلِبُوا۟ مِا۟ئَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةٌۭ يَغْلِبُوٓا۟ أَلْفًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ

اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو۔ اور اگر تم بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب رہیں گے۔ اور اگر سو (ایسے) ہوں گے تو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اس لیے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے

اہلِ ایمان کی تعداد غیر اہل ایمان کی زیادہ تعداد پر غالب آنے کی وجہ یہ بتائی کہ اہلِ ایمان کے اندر فقہ ہوتی ہے جب کہ غیر اہلِ ایمان فقہ سے محروم ہیں۔ فقہ کے لفظی معنی سمجھ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ بصیرت اور شعور ہے جو ایمان کے نتیجہ میںایک شخص کو حاصل ہوتاہے۔ خدا پر ایمان کسی آدمی کے ليے وہی معنی رکھتا ہے جو اندھیرے کمرے میں بجلی كے بلب كا جل جانا۔ بلب پورے کمرے کو اس طرح روشن کردیتاہے کہ اس کی ہر چیز واضح طورپر دکھائی دینے لگے۔اسی طرح ایمان آدمی کو ایک ربانی شعور عطا کرتاہے جس کے بعد وہ تمام حقیقتوں کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے لگتا ہے۔

ایمان کے نتیجہ میں یہ ہوتاہے کہ آدمی زندگی اور موت کی حقیقت کو سمجھ لیتاہے ۔ وہ جان لیتاہے کہ اصل چیز حیاتِ دنیا نہیں بلکہ حیات ِآخرت ہے۔ یہ چیز اس کو بے پناہ حد تک نڈر بنادیتی ہے۔ وہ موت کو اس نظر سے دیکھنے لگتاہے کہ وہ اس کے ليے جنت میںداخلہ کا دروازہ ہے۔ مومن شہادت کو جنت کا مختصر راستہ سمجھتاہے۔ اللہ کی راہ میں جان دینا اس کے ليے مطلوب چیز بن جاتاہے، جب کہ غیر مومن کی جنت یہی موجودہ دنیا ہے۔ وہ زندہ رہنا چاہتا ہے تاکہ اپنی جنت کا لطف اٹھاسکے۔ غیر مومن قومی شعور کے تحت لڑتاہے اورمومن جنتی شعور کے تحت، اور قومی شعور والا کبھی اتنی بے جگری کے ساتھ نہیں لڑ سکتا۔

مومن خدا سے ڈرنے والا ہوتاہے، وہ آخرت کی فکر کرنے والا ہوتا ہے، یہ مزاج اس کو ہر قسم کے منفی جذبات سے پاک کرتاہے۔ وہ ضد، نفرت، تعصب، انتقام اور گھمنڈ جیسی چیزوں سے اوپر اٹھ جاتاہے۔ دوسری طرف غیر مومن کا معاملہ سراسر اس کے برعکس ہوتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ غیر مومن کے اقدامات منفی نفسیات کے تحت ہوتے ہیں اور مومن کے اقدامات ایجابی نفسیات کے تحت۔ غیر مومن جذباتی انداز سے عمل کرتاہے اور مومن حقیقت پسندانہ انداز سے۔ غیر مومن انسانوں کا دشمن ہوتاہے اور مومن صرف انسانوں کی برائی کا۔ غیر مومن تنگ ظرفی کے ساتھ معاملہ کرتاہے اور مومن وسعتِ ظرف کے ساتھ۔

ہزار کے مقابلہ میں سو اور دوہزار کے مقابلہ میں ایک ہزار کے الفاظ بتاتے ہیں کہ قتال کا حکم جماعت اور فوج کے ليے ہے۔ ایسا کرنا صحیح نہ ہوگا کہ ایک دو آدمی ہوںتب بھی وہ لڑنے کے ليے کھڑے ہوجائیں۔

Al-Anfaal 8:65Listen in Qur'an →
66

ٱلْـَٰٔنَ خَفَّفَ ٱللَّهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًۭا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةٌۭ صَابِرَةٌۭ يَغْلِبُوا۟ مِا۟ئَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌۭ يَغْلِبُوٓا۟ أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اب خدا نے تم پر سے بوجھ ہلکا کر دیا اور معلوم کرلیا کہ (ابھی) تم میں کسی قدر کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے۔ اور اگر ایک ہزار ہوں گے تو خدا کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اور خدا ثابت قدم رہنے والوں کا مدد گار ہے

اہلِ ایمان کی تعداد غیر اہل ایمان کی زیادہ تعداد پر غالب آنے کی وجہ یہ بتائی کہ اہلِ ایمان کے اندر فقہ ہوتی ہے جب کہ غیر اہلِ ایمان فقہ سے محروم ہیں۔ فقہ کے لفظی معنی سمجھ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ بصیرت اور شعور ہے جو ایمان کے نتیجہ میںایک شخص کو حاصل ہوتاہے۔ خدا پر ایمان کسی آدمی کے ليے وہی معنی رکھتا ہے جو اندھیرے کمرے میں بجلی كے بلب كا جل جانا۔ بلب پورے کمرے کو اس طرح روشن کردیتاہے کہ اس کی ہر چیز واضح طورپر دکھائی دینے لگے۔اسی طرح ایمان آدمی کو ایک ربانی شعور عطا کرتاہے جس کے بعد وہ تمام حقیقتوں کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے لگتا ہے۔

ایمان کے نتیجہ میں یہ ہوتاہے کہ آدمی زندگی اور موت کی حقیقت کو سمجھ لیتاہے ۔ وہ جان لیتاہے کہ اصل چیز حیاتِ دنیا نہیں بلکہ حیات ِآخرت ہے۔ یہ چیز اس کو بے پناہ حد تک نڈر بنادیتی ہے۔ وہ موت کو اس نظر سے دیکھنے لگتاہے کہ وہ اس کے ليے جنت میںداخلہ کا دروازہ ہے۔ مومن شہادت کو جنت کا مختصر راستہ سمجھتاہے۔ اللہ کی راہ میں جان دینا اس کے ليے مطلوب چیز بن جاتاہے، جب کہ غیر مومن کی جنت یہی موجودہ دنیا ہے۔ وہ زندہ رہنا چاہتا ہے تاکہ اپنی جنت کا لطف اٹھاسکے۔ غیر مومن قومی شعور کے تحت لڑتاہے اورمومن جنتی شعور کے تحت، اور قومی شعور والا کبھی اتنی بے جگری کے ساتھ نہیں لڑ سکتا۔

مومن خدا سے ڈرنے والا ہوتاہے، وہ آخرت کی فکر کرنے والا ہوتا ہے، یہ مزاج اس کو ہر قسم کے منفی جذبات سے پاک کرتاہے۔ وہ ضد، نفرت، تعصب، انتقام اور گھمنڈ جیسی چیزوں سے اوپر اٹھ جاتاہے۔ دوسری طرف غیر مومن کا معاملہ سراسر اس کے برعکس ہوتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ غیر مومن کے اقدامات منفی نفسیات کے تحت ہوتے ہیں اور مومن کے اقدامات ایجابی نفسیات کے تحت۔ غیر مومن جذباتی انداز سے عمل کرتاہے اور مومن حقیقت پسندانہ انداز سے۔ غیر مومن انسانوں کا دشمن ہوتاہے اور مومن صرف انسانوں کی برائی کا۔ غیر مومن تنگ ظرفی کے ساتھ معاملہ کرتاہے اور مومن وسعتِ ظرف کے ساتھ۔

ہزار کے مقابلہ میں سو اور دوہزار کے مقابلہ میں ایک ہزار کے الفاظ بتاتے ہیں کہ قتال کا حکم جماعت اور فوج کے ليے ہے۔ ایسا کرنا صحیح نہ ہوگا کہ ایک دو آدمی ہوںتب بھی وہ لڑنے کے ليے کھڑے ہوجائیں۔

Al-Anfaal 8:66Listen in Qur'an →
67

مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ ٱلدُّنْيَا وَٱللَّهُ يُرِيدُ ٱلْءَاخِرَةَ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے

بدر کی لڑائی میں مسلمانوں نے ستر بڑے بڑے مشرکینِ مکہ کو قتل کیا۔ اس کے بعد جب ان کے پاؤں اکھڑنے لگے تو ان کے 70آدمیوں کو گرفتار کرلیا۔ ان گرفتار ہونے والوں میں اکثر سردار تھے۔ جنگ کے بعد مشورہ ہوا کہ ان قيدیوں کے ساتھ کیا کیا جائے۔ صحابہ کی اکثریت نے یہ رائے دی کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ اس وقت اسلام دشمنوں نے مسلسل حالت جنگ برپا کر رکھی تھی۔ مگر مسلمانوں کے پاس مال نہ ہونے کی وجہ سے سامانِ جنگ کی بہت کمی تھی۔ یہ خیال کیاگیا کہ فدیہ سے جو رقم ملے گی اس سے سامانِ جنگ خریدا جاسکتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت سعد بن معاذ اس رائے کے خلاف تھے۔ حضرت عمر نے کہا اے خدا کے رسول یہ قیدی کفر کے امام اور مشرکین کے سردار ہیں۔ یعنی اس وقت دشمنوں کی اصل طاقت ہماری مٹھی میں آگئی ہے، ان کو قتل کرکے اس مسئلہ کا ہمیشہ کے ليے خاتمہ کردیا جائے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رائے پر عمل فرمایا۔

بعد کو جب وہ آیتیں اتریں جن میں جنگ پر تبصرہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے فدیہ کی رقم کو جائز ٹھہراتے ہوئے اس روش پر اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ جنگی قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا اگرچہ بظاہر رحمت وشفقت کا معاملہ تھا۔ مگر وہ اللہ کے دور رس منصوبہ کے مطابق نہ تھا۔ اللہ کا اصل منصوبہ کفروشرک کی جڑ اکھاڑنا تھا۔ اس مقصد کے ليے اللہ تعالیٰ نے قریش کے تمام لیڈروں کو (ابولہب اور ابوسفیان کو چھوڑ کر) بدر کے میدان میں جمع کردیا اور ایسے حالات پیدا كيے کہ وہ پوری طرح مسلمانوں کے قابو میںآگئے۔ اگر ان لیڈروں کو اس وقت ختم کردیا جاتا تو کفر وشرک کی مزاحمت بدر کے میدان میں پوری طرح دفن ہو جاتی۔ مگر لیڈروں کو چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ منظم ہو کر دوبارہ اپنی مزاحمت کی تحریک جاری رکھنے کے قابل ہوگئے۔

یہ فیصلہ جنگی مصلحت کے خلاف تھا۔ وہ مسلمانوں کے ليے عذاب عظیم (سخت مصیبتوں) کا باعث بن جاتا۔ یہ لیڈر اپنے عوام کو ساتھ لے کر اسلام کے سارے معاملہ کو تہس نہس کردیتے۔ مگر اللہ نے آخری رسول اورآپ کے اصحاب کے ليے پہلے سے مقدر کردیا تھا کہ وہ لازماً غالب رہیں گے، ان کو زیر کرنے میں کوئی کامیاب نہ ہوسکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی تدبیرمیں اس کوتاہی کے باوجود قریش اہل ایمان کے اوپر غالب نہ آسکے۔ اور بالآخر وہی ہوا جس کا ہونا پہلے سے خدا کے یہاں لکھا جاچکا تھا، یعنی مسلمانوں کی فتح اور اسلام کا غلبہ۔

Al-Anfaal 8:67Listen in Qur'an →
68

لَّوْلَا كِتَٰبٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَآ أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا

بدر کی لڑائی میں مسلمانوں نے ستر بڑے بڑے مشرکینِ مکہ کو قتل کیا۔ اس کے بعد جب ان کے پاؤں اکھڑنے لگے تو ان کے 70آدمیوں کو گرفتار کرلیا۔ ان گرفتار ہونے والوں میں اکثر سردار تھے۔ جنگ کے بعد مشورہ ہوا کہ ان قيدیوں کے ساتھ کیا کیا جائے۔ صحابہ کی اکثریت نے یہ رائے دی کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ اس وقت اسلام دشمنوں نے مسلسل حالت جنگ برپا کر رکھی تھی۔ مگر مسلمانوں کے پاس مال نہ ہونے کی وجہ سے سامانِ جنگ کی بہت کمی تھی۔ یہ خیال کیاگیا کہ فدیہ سے جو رقم ملے گی اس سے سامانِ جنگ خریدا جاسکتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت سعد بن معاذ اس رائے کے خلاف تھے۔ حضرت عمر نے کہا اے خدا کے رسول یہ قیدی کفر کے امام اور مشرکین کے سردار ہیں۔ یعنی اس وقت دشمنوں کی اصل طاقت ہماری مٹھی میں آگئی ہے، ان کو قتل کرکے اس مسئلہ کا ہمیشہ کے ليے خاتمہ کردیا جائے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رائے پر عمل فرمایا۔

بعد کو جب وہ آیتیں اتریں جن میں جنگ پر تبصرہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے فدیہ کی رقم کو جائز ٹھہراتے ہوئے اس روش پر اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ جنگی قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا اگرچہ بظاہر رحمت وشفقت کا معاملہ تھا۔ مگر وہ اللہ کے دور رس منصوبہ کے مطابق نہ تھا۔ اللہ کا اصل منصوبہ کفروشرک کی جڑ اکھاڑنا تھا۔ اس مقصد کے ليے اللہ تعالیٰ نے قریش کے تمام لیڈروں کو (ابولہب اور ابوسفیان کو چھوڑ کر) بدر کے میدان میں جمع کردیا اور ایسے حالات پیدا كيے کہ وہ پوری طرح مسلمانوں کے قابو میںآگئے۔ اگر ان لیڈروں کو اس وقت ختم کردیا جاتا تو کفر وشرک کی مزاحمت بدر کے میدان میں پوری طرح دفن ہو جاتی۔ مگر لیڈروں کو چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ منظم ہو کر دوبارہ اپنی مزاحمت کی تحریک جاری رکھنے کے قابل ہوگئے۔

یہ فیصلہ جنگی مصلحت کے خلاف تھا۔ وہ مسلمانوں کے ليے عذاب عظیم (سخت مصیبتوں) کا باعث بن جاتا۔ یہ لیڈر اپنے عوام کو ساتھ لے کر اسلام کے سارے معاملہ کو تہس نہس کردیتے۔ مگر اللہ نے آخری رسول اورآپ کے اصحاب کے ليے پہلے سے مقدر کردیا تھا کہ وہ لازماً غالب رہیں گے، ان کو زیر کرنے میں کوئی کامیاب نہ ہوسکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی تدبیرمیں اس کوتاہی کے باوجود قریش اہل ایمان کے اوپر غالب نہ آسکے۔ اور بالآخر وہی ہوا جس کا ہونا پہلے سے خدا کے یہاں لکھا جاچکا تھا، یعنی مسلمانوں کی فتح اور اسلام کا غلبہ۔

Al-Anfaal 8:68Listen in Qur'an →
69

فَكُلُوا۟ مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَٰلًۭا طَيِّبًۭا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

تو جو مالِ غنیمت تمہیں ملا ہے اسے کھاؤ (کہ وہ تمہارے لیے) حلال طیب رہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

بدر کی لڑائی میں مسلمانوں نے ستر بڑے بڑے مشرکینِ مکہ کو قتل کیا۔ اس کے بعد جب ان کے پاؤں اکھڑنے لگے تو ان کے 70آدمیوں کو گرفتار کرلیا۔ ان گرفتار ہونے والوں میں اکثر سردار تھے۔ جنگ کے بعد مشورہ ہوا کہ ان قيدیوں کے ساتھ کیا کیا جائے۔ صحابہ کی اکثریت نے یہ رائے دی کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ اس وقت اسلام دشمنوں نے مسلسل حالت جنگ برپا کر رکھی تھی۔ مگر مسلمانوں کے پاس مال نہ ہونے کی وجہ سے سامانِ جنگ کی بہت کمی تھی۔ یہ خیال کیاگیا کہ فدیہ سے جو رقم ملے گی اس سے سامانِ جنگ خریدا جاسکتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت سعد بن معاذ اس رائے کے خلاف تھے۔ حضرت عمر نے کہا اے خدا کے رسول یہ قیدی کفر کے امام اور مشرکین کے سردار ہیں۔ یعنی اس وقت دشمنوں کی اصل طاقت ہماری مٹھی میں آگئی ہے، ان کو قتل کرکے اس مسئلہ کا ہمیشہ کے ليے خاتمہ کردیا جائے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رائے پر عمل فرمایا۔

بعد کو جب وہ آیتیں اتریں جن میں جنگ پر تبصرہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے فدیہ کی رقم کو جائز ٹھہراتے ہوئے اس روش پر اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ جنگی قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا اگرچہ بظاہر رحمت وشفقت کا معاملہ تھا۔ مگر وہ اللہ کے دور رس منصوبہ کے مطابق نہ تھا۔ اللہ کا اصل منصوبہ کفروشرک کی جڑ اکھاڑنا تھا۔ اس مقصد کے ليے اللہ تعالیٰ نے قریش کے تمام لیڈروں کو (ابولہب اور ابوسفیان کو چھوڑ کر) بدر کے میدان میں جمع کردیا اور ایسے حالات پیدا كيے کہ وہ پوری طرح مسلمانوں کے قابو میںآگئے۔ اگر ان لیڈروں کو اس وقت ختم کردیا جاتا تو کفر وشرک کی مزاحمت بدر کے میدان میں پوری طرح دفن ہو جاتی۔ مگر لیڈروں کو چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ منظم ہو کر دوبارہ اپنی مزاحمت کی تحریک جاری رکھنے کے قابل ہوگئے۔

یہ فیصلہ جنگی مصلحت کے خلاف تھا۔ وہ مسلمانوں کے ليے عذاب عظیم (سخت مصیبتوں) کا باعث بن جاتا۔ یہ لیڈر اپنے عوام کو ساتھ لے کر اسلام کے سارے معاملہ کو تہس نہس کردیتے۔ مگر اللہ نے آخری رسول اورآپ کے اصحاب کے ليے پہلے سے مقدر کردیا تھا کہ وہ لازماً غالب رہیں گے، ان کو زیر کرنے میں کوئی کامیاب نہ ہوسکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی تدبیرمیں اس کوتاہی کے باوجود قریش اہل ایمان کے اوپر غالب نہ آسکے۔ اور بالآخر وہی ہوا جس کا ہونا پہلے سے خدا کے یہاں لکھا جاچکا تھا، یعنی مسلمانوں کی فتح اور اسلام کا غلبہ۔

Al-Anfaal 8:69Listen in Qur'an →
70

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّمَن فِىٓ أَيْدِيكُم مِّنَ ٱلْأَسْرَىٰٓ إِن يَعْلَمِ ٱللَّهُ فِى قُلُوبِكُمْ خَيْرًۭا يُؤْتِكُمْ خَيْرًۭا مِّمَّآ أُخِذَ مِنكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اے پیغمبر جو قیدی تمہارے ہاتھ میں (گرفتار) ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کرے گا تو جو (مال) تم سے چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عنایت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا مسلمانوں کے ليے ایک جنگي غلطی تھی۔ مگر خود قیدیوں کے حق میں یہ ایک نئی زندگی فراہم کرنے کے ہم معنیٰ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ لوگ جو اپنی مخالفتِ حق کے نتیجہ میں ہلاکت کے مستحق ہوچکے تھے ان کو ایک بار اور موقع مل گیا کہ وہ اسلام کی دعوت اور اس کے مقابلہ میں اپنی بے جا روش پر دوبارہ غور کرسکیں۔ اس مہلت نے ان کے ليے اپنی اصلاح کا نیا دروازہ کھول دیا۔

اب ایک صورت یہ تھی کہ ان قیدیوں کے دل میں شکست کی بنا پر انتقام کی آگ بھڑکے۔ فدیہ دینے کی وجہ سے ان کو جو ذلت اور نقصان ہوا ہے اس کا بدلہ لینے کے ليے وہ بے چین ہوجائیں۔ ایسی صورت میں وہ پھر اسی غلطی کو دہرائیں گے جس کے نتیجے میں وہ خدا کی پکڑ کے مستحق بن گئے تھے۔ وہ اپنی قوتوں کو اسلام کی مخالفت میں صرف کریںگے، جس کا انجام دنیا میں ہلاکت ہے اور آخرت میں عذاب۔

دوسری صورت یہ تھی کہ وہ بدر کے میدان میں پیش آنے والے غیر معمولی واقعہ پر غور کریں کہ مسلمانوں کو کم تر اسباب کے باوجود اتنی کھلی ہوئی فتح کیوں نصیب ہوئی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ خدا مسلمانوں کے دین کے ساتھ ہے، نہ کہ قریش کے دین کے ساتھ۔ یہ دوسرا ذہن اگر پیدا ہوجائے تو وہ ان کو آمادہ کرے گا کہ وہ اپنی سابقہ روش کو بدلیں اور جس دین کو پہلے اختیار نہ کرسکے، اس کو اب سے اختیار کرلیں۔ اور اس طرح دنیا اور آخرت میں خداکے انعام کے مستحق بنیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ قریش کے لوگوں میں ایک تعداد ایسی نکلی جن کے دل میں مذکورہ سوال جاگ اٹھا اور جلد یا بدیر وہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ حضرت عباس بن عبد المطلب نے زمانہ قید ہی میں اسلام قبول کرلیا۔ کچھ دوسرے لوگ بعد کو اسلام کے حلقہ میں آگئے۔ یہ لوگ اگرچہ گروہی تعصب کی نظر میں ذلیل ہوئے مگر انھوں نے خدا کی نظر میں عزت حاصل کرلی۔ دنیا کا نقصان اٹھا کر وہ آخرت کے فائدہ کے مالک بن گئے۔

قیدیوں کو چھوڑنے کی وجہ سے مسلمانوں کو یہ اندیشہ تھا کہ وہ اس کو احسان سمجھ کر اس کا اعتراف نہیں کریں گے بلکہ پہلے کی طرح دوبارہ سازش اور تخریب کاری کا راستہ اختیار کرکے اسلام کی راه میں رکاوٹ بن جائیں گے۔ مگر قرآن نے اس اندیشہ کو اہمیت نہ دی۔ کیوں خالص حق کے ليے جو تحریک اٹھتی ہے وہ عام طرز کی انسانی تحریک نہیں ہوتی۔ وہ ایک خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کی پشت پر خود خدا ہوتا ہے اور خدا سے لڑنا کسی کے بس کی بات نہیں۔

Al-Anfaal 8:70Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.