Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 61–70 of 75

61

۞ وَإِن جَنَحُوا۟ لِلسَّلْمِ فَٱجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے

او ر اگر جھکیں وہ واسطے صلح کے تو جھک جائیں آپ بھی اس کے لیے اور بھروسہ کیجیے اللہ پر، بے شک وہی خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(61) اور اگر ارادہ کریں وہ یہ کہ دھوکہ دیں آپ کو تو بے شک کافی ہے آپ کو اللہ، وہی ہے جس نے تائید کی آ پ کی اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے(62) اور الفت ڈال دی اس نے درمیان ان کے دلوں کے، اگر خرچ کر دیتے آپ جو کچھ زمین میں ہے سارا، نہیں الفت ڈال سکتے تھے آپ درمیان ان کے دلوں کے لیکن اللہ ہی نے الفت ڈال دی درمیان ان کے بے شک وہ زبردست، حکمت والا ہے(63) اے نبی! کافی ہے آپ کو اللہ اور وہ جنھوں نے پیروی کی آپ كی مومنوں میں سے(64)

[61] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنۡ جَنَحُوۡا ﴾ ’’اگر وہ مائل ہوں ۔‘‘ یعنی جنگ کرنے والے کفار: ﴿ لِلسَّلۡمِ ﴾ ’’صلح کی طرف۔‘‘ یعنی صلح اور ترک قتال کی طرف ﴿ فَاجۡنَحۡ لَهَا وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو آپ بھی اس (صلح) کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں ‘‘ یعنی جو چیز وہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو دے دو۔ کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً :(۱) ہر وقت طلب عافیت مطلوب ہے اور اگر وہ طلب عافیت میں ابتدا کرتے ہیں تو اس کا مثبت جواب دینا اولیٰ ہے۔ (۲) اس سے تمھاری قوتیں جمع ہوں گی اور کسی دوسرے وقت اگر ان کے خلاف جنگ ناگزیر ہو جائے تو تمھاری یہ جنگی استعداد تمھارے کام آئے گی۔ (۳) اگر تم نے صلح کر لی اور ایک دوسرے سے مامون ہوگئے اور ایک دوسرے کے اطوار کی معرفت حاصل کر لی۔ تو اسلام کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ غالب آتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔پس ہر وہ شخص جو عقل و بصیرت سے بہرہ ور ہے اگر وہ انصاف سے کام لیتا ہے تو وہ اسلام کو، اس کے اوامر و نواہی کی خوبی، مخلوق کے ساتھ اس کے حسن معاملہ اور ان کے ساتھ عدل و انصاف کی بنا پر دوسرے ادیان پر ترجیح دے گا۔ وہ یہ بھی دیکھے گا کہ کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی ظلم و جور نہیں اور کثرت سے لوگ اس کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔ تب یہ صلح کفار کے خلاف مسلمانوں کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔

[63,62] اس صلح میں صرف ایک بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں کفار کا مقصد مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور اس کے ذریعے سے صرف وقت اور مہلت حاصل کرنا نہ ہو .... اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ کفار کے مکر و فریب کے مقابلے میں ان کے لیے کافی ہے اور اس مکر و فریب کا ضرر انھی کی طرف لوٹے گا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡۤا اَنۡ يَّخۡدَعُوۡكَ فَاِنَّ حَسۡبَكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں تو آپ کو اللہ کافی ہے‘‘ یعنی آپ کو جو ایذا پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہے وہی ہے جو آپ کے مصالح اور امور ضروریہ کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور کفایت اس سے پہلے بھی تھی جس پر آپ کا قلب مطمئن تھا۔ ﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد سے اور مومنوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔‘‘ یعنی وہی ہے جس نے آسمانی مدد کے ذریعے سے آپ کی اعانت فرمائی اور یہ اس کی طرف سے ایسی مدد ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی نیز اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمانا یہ ہے کہ ان کو آپ کی مدد پر مقرر فرما دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا‘‘ پس وہ اکٹھے ہوگئے اور اس سبب سے، ان کی قوت میں اضافہ ہوگیا۔ یہ سب کچھ اللہ کی طاقت کے سوا کسی اور کی کوشش اور طاقت کے سبب سے نہ تھا۔ ﴿ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اگر آپ خرچ کر دیتے جو کچھ زمین میں ہے سارا‘‘ اس شدید نفرت اور افتراق کے ہوتے ہوئے جو ان میں پایا جاتا تھا اگر آپ زمین کا تمام سونا، چاندی وغیرہ ان کے دلوں کو جوڑنے کے لیے …

Al-Anfaal 8:61Listen in Qur'an →
62

وَإِن يُرِيدُوٓا۟ أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ ٱللَّهُ ۚ هُوَ ٱلَّذِىٓ أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِۦ وَبِٱلْمُؤْمِنِينَ

اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہیں کفایت کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی

او ر اگر جھکیں وہ واسطے صلح کے تو جھک جائیں آپ بھی اس کے لیے اور بھروسہ کیجیے اللہ پر، بے شک وہی خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(61) اور اگر ارادہ کریں وہ یہ کہ دھوکہ دیں آپ کو تو بے شک کافی ہے آپ کو اللہ، وہی ہے جس نے تائید کی آ پ کی اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے(62) اور الفت ڈال دی اس نے درمیان ان کے دلوں کے، اگر خرچ کر دیتے آپ جو کچھ زمین میں ہے سارا، نہیں الفت ڈال سکتے تھے آپ درمیان ان کے دلوں کے لیکن اللہ ہی نے الفت ڈال دی درمیان ان کے بے شک وہ زبردست، حکمت والا ہے(63) اے نبی! کافی ہے آپ کو اللہ اور وہ جنھوں نے پیروی کی آپ كی مومنوں میں سے(64)

[61] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنۡ جَنَحُوۡا ﴾ ’’اگر وہ مائل ہوں ۔‘‘ یعنی جنگ کرنے والے کفار: ﴿ لِلسَّلۡمِ ﴾ ’’صلح کی طرف۔‘‘ یعنی صلح اور ترک قتال کی طرف ﴿ فَاجۡنَحۡ لَهَا وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو آپ بھی اس (صلح) کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں ‘‘ یعنی جو چیز وہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو دے دو۔ کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً :(۱) ہر وقت طلب عافیت مطلوب ہے اور اگر وہ طلب عافیت میں ابتدا کرتے ہیں تو اس کا مثبت جواب دینا اولیٰ ہے۔ (۲) اس سے تمھاری قوتیں جمع ہوں گی اور کسی دوسرے وقت اگر ان کے خلاف جنگ ناگزیر ہو جائے تو تمھاری یہ جنگی استعداد تمھارے کام آئے گی۔ (۳) اگر تم نے صلح کر لی اور ایک دوسرے سے مامون ہوگئے اور ایک دوسرے کے اطوار کی معرفت حاصل کر لی۔ تو اسلام کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ غالب آتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔پس ہر وہ شخص جو عقل و بصیرت سے بہرہ ور ہے اگر وہ انصاف سے کام لیتا ہے تو وہ اسلام کو، اس کے اوامر و نواہی کی خوبی، مخلوق کے ساتھ اس کے حسن معاملہ اور ان کے ساتھ عدل و انصاف کی بنا پر دوسرے ادیان پر ترجیح دے گا۔ وہ یہ بھی دیکھے گا کہ کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی ظلم و جور نہیں اور کثرت سے لوگ اس کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔ تب یہ صلح کفار کے خلاف مسلمانوں کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔

[63,62] اس صلح میں صرف ایک بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں کفار کا مقصد مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور اس کے ذریعے سے صرف وقت اور مہلت حاصل کرنا نہ ہو .... اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ کفار کے مکر و فریب کے مقابلے میں ان کے لیے کافی ہے اور اس مکر و فریب کا ضرر انھی کی طرف لوٹے گا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡۤا اَنۡ يَّخۡدَعُوۡكَ فَاِنَّ حَسۡبَكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں تو آپ کو اللہ کافی ہے‘‘ یعنی آپ کو جو ایذا پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہے وہی ہے جو آپ کے مصالح اور امور ضروریہ کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور کفایت اس سے پہلے بھی تھی جس پر آپ کا قلب مطمئن تھا۔ ﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد سے اور مومنوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔‘‘ یعنی وہی ہے جس نے آسمانی مدد کے ذریعے سے آپ کی اعانت فرمائی اور یہ اس کی طرف سے ایسی مدد ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی نیز اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمانا یہ ہے کہ ان کو آپ کی مدد پر مقرر فرما دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا‘‘ پس وہ اکٹھے ہوگئے اور اس سبب سے، ان کی قوت میں اضافہ ہوگیا۔ یہ سب کچھ اللہ کی طاقت کے سوا کسی اور کی کوشش اور طاقت کے سبب سے نہ تھا۔ ﴿ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اگر آپ خرچ کر دیتے جو کچھ زمین میں ہے سارا‘‘ اس شدید نفرت اور افتراق کے ہوتے ہوئے جو ان میں پایا جاتا تھا اگر آپ زمین کا تمام سونا، چاندی وغیرہ ان کے دلوں کو جوڑنے کے لیے …

Al-Anfaal 8:62Listen in Qur'an →
63

وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا مَّآ أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اور اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بےشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے

او ر اگر جھکیں وہ واسطے صلح کے تو جھک جائیں آپ بھی اس کے لیے اور بھروسہ کیجیے اللہ پر، بے شک وہی خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(61) اور اگر ارادہ کریں وہ یہ کہ دھوکہ دیں آپ کو تو بے شک کافی ہے آپ کو اللہ، وہی ہے جس نے تائید کی آ پ کی اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے(62) اور الفت ڈال دی اس نے درمیان ان کے دلوں کے، اگر خرچ کر دیتے آپ جو کچھ زمین میں ہے سارا، نہیں الفت ڈال سکتے تھے آپ درمیان ان کے دلوں کے لیکن اللہ ہی نے الفت ڈال دی درمیان ان کے بے شک وہ زبردست، حکمت والا ہے(63) اے نبی! کافی ہے آپ کو اللہ اور وہ جنھوں نے پیروی کی آپ كی مومنوں میں سے(64)

[61] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنۡ جَنَحُوۡا ﴾ ’’اگر وہ مائل ہوں ۔‘‘ یعنی جنگ کرنے والے کفار: ﴿ لِلسَّلۡمِ ﴾ ’’صلح کی طرف۔‘‘ یعنی صلح اور ترک قتال کی طرف ﴿ فَاجۡنَحۡ لَهَا وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو آپ بھی اس (صلح) کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں ‘‘ یعنی جو چیز وہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو دے دو۔ کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً :(۱) ہر وقت طلب عافیت مطلوب ہے اور اگر وہ طلب عافیت میں ابتدا کرتے ہیں تو اس کا مثبت جواب دینا اولیٰ ہے۔ (۲) اس سے تمھاری قوتیں جمع ہوں گی اور کسی دوسرے وقت اگر ان کے خلاف جنگ ناگزیر ہو جائے تو تمھاری یہ جنگی استعداد تمھارے کام آئے گی۔ (۳) اگر تم نے صلح کر لی اور ایک دوسرے سے مامون ہوگئے اور ایک دوسرے کے اطوار کی معرفت حاصل کر لی۔ تو اسلام کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ غالب آتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔پس ہر وہ شخص جو عقل و بصیرت سے بہرہ ور ہے اگر وہ انصاف سے کام لیتا ہے تو وہ اسلام کو، اس کے اوامر و نواہی کی خوبی، مخلوق کے ساتھ اس کے حسن معاملہ اور ان کے ساتھ عدل و انصاف کی بنا پر دوسرے ادیان پر ترجیح دے گا۔ وہ یہ بھی دیکھے گا کہ کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی ظلم و جور نہیں اور کثرت سے لوگ اس کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔ تب یہ صلح کفار کے خلاف مسلمانوں کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔

[63,62] اس صلح میں صرف ایک بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں کفار کا مقصد مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور اس کے ذریعے سے صرف وقت اور مہلت حاصل کرنا نہ ہو .... اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ کفار کے مکر و فریب کے مقابلے میں ان کے لیے کافی ہے اور اس مکر و فریب کا ضرر انھی کی طرف لوٹے گا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡۤا اَنۡ يَّخۡدَعُوۡكَ فَاِنَّ حَسۡبَكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں تو آپ کو اللہ کافی ہے‘‘ یعنی آپ کو جو ایذا پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہے وہی ہے جو آپ کے مصالح اور امور ضروریہ کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور کفایت اس سے پہلے بھی تھی جس پر آپ کا قلب مطمئن تھا۔ ﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد سے اور مومنوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔‘‘ یعنی وہی ہے جس نے آسمانی مدد کے ذریعے سے آپ کی اعانت فرمائی اور یہ اس کی طرف سے ایسی مدد ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی نیز اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمانا یہ ہے کہ ان کو آپ کی مدد پر مقرر فرما دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا‘‘ پس وہ اکٹھے ہوگئے اور اس سبب سے، ان کی قوت میں اضافہ ہوگیا۔ یہ سب کچھ اللہ کی طاقت کے سوا کسی اور کی کوشش اور طاقت کے سبب سے نہ تھا۔ ﴿ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اگر آپ خرچ کر دیتے جو کچھ زمین میں ہے سارا‘‘ اس شدید نفرت اور افتراق کے ہوتے ہوئے جو ان میں پایا جاتا تھا اگر آپ زمین کا تمام سونا، چاندی وغیرہ ان کے دلوں کو جوڑنے کے لیے …

Al-Anfaal 8:63Listen in Qur'an →
64

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ حَسْبُكَ ٱللَّهُ وَمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اے نبی! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے

او ر اگر جھکیں وہ واسطے صلح کے تو جھک جائیں آپ بھی اس کے لیے اور بھروسہ کیجیے اللہ پر، بے شک وہی خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(61) اور اگر ارادہ کریں وہ یہ کہ دھوکہ دیں آپ کو تو بے شک کافی ہے آپ کو اللہ، وہی ہے جس نے تائید کی آ پ کی اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے(62) اور الفت ڈال دی اس نے درمیان ان کے دلوں کے، اگر خرچ کر دیتے آپ جو کچھ زمین میں ہے سارا، نہیں الفت ڈال سکتے تھے آپ درمیان ان کے دلوں کے لیکن اللہ ہی نے الفت ڈال دی درمیان ان کے بے شک وہ زبردست، حکمت والا ہے(63) اے نبی! کافی ہے آپ کو اللہ اور وہ جنھوں نے پیروی کی آپ كی مومنوں میں سے(64)

[61] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنۡ جَنَحُوۡا ﴾ ’’اگر وہ مائل ہوں ۔‘‘ یعنی جنگ کرنے والے کفار: ﴿ لِلسَّلۡمِ ﴾ ’’صلح کی طرف۔‘‘ یعنی صلح اور ترک قتال کی طرف ﴿ فَاجۡنَحۡ لَهَا وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو آپ بھی اس (صلح) کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں ‘‘ یعنی جو چیز وہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو دے دو۔ کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً :(۱) ہر وقت طلب عافیت مطلوب ہے اور اگر وہ طلب عافیت میں ابتدا کرتے ہیں تو اس کا مثبت جواب دینا اولیٰ ہے۔ (۲) اس سے تمھاری قوتیں جمع ہوں گی اور کسی دوسرے وقت اگر ان کے خلاف جنگ ناگزیر ہو جائے تو تمھاری یہ جنگی استعداد تمھارے کام آئے گی۔ (۳) اگر تم نے صلح کر لی اور ایک دوسرے سے مامون ہوگئے اور ایک دوسرے کے اطوار کی معرفت حاصل کر لی۔ تو اسلام کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ غالب آتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔پس ہر وہ شخص جو عقل و بصیرت سے بہرہ ور ہے اگر وہ انصاف سے کام لیتا ہے تو وہ اسلام کو، اس کے اوامر و نواہی کی خوبی، مخلوق کے ساتھ اس کے حسن معاملہ اور ان کے ساتھ عدل و انصاف کی بنا پر دوسرے ادیان پر ترجیح دے گا۔ وہ یہ بھی دیکھے گا کہ کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی ظلم و جور نہیں اور کثرت سے لوگ اس کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔ تب یہ صلح کفار کے خلاف مسلمانوں کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔

[63,62] اس صلح میں صرف ایک بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں کفار کا مقصد مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور اس کے ذریعے سے صرف وقت اور مہلت حاصل کرنا نہ ہو .... اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ کفار کے مکر و فریب کے مقابلے میں ان کے لیے کافی ہے اور اس مکر و فریب کا ضرر انھی کی طرف لوٹے گا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡۤا اَنۡ يَّخۡدَعُوۡكَ فَاِنَّ حَسۡبَكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں تو آپ کو اللہ کافی ہے‘‘ یعنی آپ کو جو ایذا پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہے وہی ہے جو آپ کے مصالح اور امور ضروریہ کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور کفایت اس سے پہلے بھی تھی جس پر آپ کا قلب مطمئن تھا۔ ﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد سے اور مومنوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔‘‘ یعنی وہی ہے جس نے آسمانی مدد کے ذریعے سے آپ کی اعانت فرمائی اور یہ اس کی طرف سے ایسی مدد ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی نیز اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمانا یہ ہے کہ ان کو آپ کی مدد پر مقرر فرما دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا‘‘ پس وہ اکٹھے ہوگئے اور اس سبب سے، ان کی قوت میں اضافہ ہوگیا۔ یہ سب کچھ اللہ کی طاقت کے سوا کسی اور کی کوشش اور طاقت کے سبب سے نہ تھا۔ ﴿ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اگر آپ خرچ کر دیتے جو کچھ زمین میں ہے سارا‘‘ اس شدید نفرت اور افتراق کے ہوتے ہوئے جو ان میں پایا جاتا تھا اگر آپ زمین کا تمام سونا، چاندی وغیرہ ان کے دلوں کو جوڑنے کے لیے …

Al-Anfaal 8:64Listen in Qur'an →
65

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ حَرِّضِ ٱلْمُؤْمِنِينَ عَلَى ٱلْقِتَالِ ۚ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَٰبِرُونَ يَغْلِبُوا۟ مِا۟ئَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةٌۭ يَغْلِبُوٓا۟ أَلْفًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ

اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو۔ اور اگر تم بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب رہیں گے۔ اور اگر سو (ایسے) ہوں گے تو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اس لیے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے

اے نبی! ابھاریے مومنوں کو اوپر لڑائی کے، اگر ہوں گے تم میں سے بیس صبر کرنے والے تو غالب آئیں گے وہ دو سوپر۔ اوراگر ہوں گے تم میں سے ایک سو تو غالب آئیں گے وہ ہزار پر، ان میں سے جنھوں نے کفر کیا، اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے(65) اب تخفیف کردی اللہ نے تم سے اور جان لیا اس نے کہ تمھارے اندر کمزوری ہے۔ پس اگر ہوں گے تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے تو غالب آئیں گے وہ دو سوپراوراگر ہوں گے تم میں سے ایک ہزار تو غالب آئیں گے وہ دو ہزار پر، اللہ کے حکم سےاور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(66)

[65] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ عَلَى الۡقِتَالِ﴾ ’’اے نبی! مومنوں کو جہاد کی ترغیب دو۔‘‘ یعنی آپ انھیں ہر اس طریقے کے ذریعے سے قتال پر آمادہ کریں جس سے ان کے عزائم مضبوط ہوں اور ان کے ارادوں میں نشاط پیدا ہو، یعنی جہاد اور دشمن سے مقابلے کی ترغیب دی جائے اور جہاد سے باز رہنے کے انجام سے ڈرایا جائے۔ شجاعت اور صبر کے فضائل اور ان پرمرتب ہونے والی دین و دنیا کی بھلائی کا ذکر کیا جائے۔ بزدلی کے نقصانات بیان کیے جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ بزدلی ایک انتہائی رذیل اور ناقص خصلت ہے اور شجاعت کا اہل ایمان کی صفت ہونا دوسروں کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنۡ تَكُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ يَاۡلَمُوۡنَ كَمَا تَاۡلَمُوۡنَ١ۚ وَتَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرۡجُوۡنَ﴾(النساء: 4؍104) ’’اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو انھیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمھیں پہنچتی ہے تم اللہ سے ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔‘‘﴿ اِنۡ يَّؔكُنۡ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’اے مومنو! اگر ہوں تم میں سے‘‘ ﴿ عِشۡرُوۡنَ صٰبِرُوۡنَ يَغۡلِبُوۡا مِائَتَيۡنِ١ۚ وَاِنۡ يَّؔكُنۡ مِّؔنۡكُمۡ مِّؔائَةٌ يَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفًا مِّنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’بیس شخص ثابت قدم رہنے والے تو غالب ہوں گے وہ دو سو پر اور اگر ہوں تم میں سے سو شخص تو غالب ہوں گے ہزار کافروں پر‘‘ یعنی ایک مومن دس کافروں کا مقابلہ کرے گا اور اس کا سبب یہ ہے ﴿ بِاَنَّهُمۡ ﴾ ’’کہ وہ‘‘ یعنی کفار ﴿ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے‘‘ یعنی انھیں کوئی علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے کیا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ پس یہ کفار زمین میں اقتدار، تغلب اور اس میں فساد پھیلانے کے لیے لڑتے ہیں اور تم (اے مسلمانو)! اس جنگ کا مقصد سمجھتے ہو کہ یہ جنگ اعلائے کلمۃ اللہ، دین کے غلبہ، کتاب اللہ کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی کامیابی کے حصول کے لیے ہے اور یہ تمام امور شجاعت ، صبر و ثبات اور اقدام علی القتال کے اسباب ہیں ۔

[66] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اس حکم میں تخفیف کر دی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلۡـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنۡكُمۡ وَعَلِمَ اَنَّ فِيۡكُمۡ ضَعۡفًا﴾ ’’اب بوجھ ہلکا کر دیا اللہ نے تم پر سے اور جان لیا کہ تم میں کمزوری ہے۔‘‘اسی لیے اللہ کی رحمت اور اس کی حکمت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ اس حکم میں تخفیف کر دی جائے، چنانچہ اب اگر تم میں سے سو آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں تو وہ دو سو پر اور اگر ہزار ہوں تو وہ دو ہزار پر غالب ہوں گے۔ ﴿وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ان آیات کریمہ کا اسلوب اگرچہ اہل ایمان کے بارے میں خبر کا ہے کہ جب وہ اس معینہ تعداد تک پہنچتے ہیں تو وہ مقابلے میں کفار کی مذکورہ تعداد پر غالب آجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو شجاعت ایمانی سے نوازا ہے۔ مگر اس کا معنی اور حقیقی منشا امر ہے، …

Al-Anfaal 8:65Listen in Qur'an →
66

ٱلْـَٰٔنَ خَفَّفَ ٱللَّهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًۭا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةٌۭ صَابِرَةٌۭ يَغْلِبُوا۟ مِا۟ئَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌۭ يَغْلِبُوٓا۟ أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اب خدا نے تم پر سے بوجھ ہلکا کر دیا اور معلوم کرلیا کہ (ابھی) تم میں کسی قدر کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے۔ اور اگر ایک ہزار ہوں گے تو خدا کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اور خدا ثابت قدم رہنے والوں کا مدد گار ہے

اے نبی! ابھاریے مومنوں کو اوپر لڑائی کے، اگر ہوں گے تم میں سے بیس صبر کرنے والے تو غالب آئیں گے وہ دو سوپر۔ اوراگر ہوں گے تم میں سے ایک سو تو غالب آئیں گے وہ ہزار پر، ان میں سے جنھوں نے کفر کیا، اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے(65) اب تخفیف کردی اللہ نے تم سے اور جان لیا اس نے کہ تمھارے اندر کمزوری ہے۔ پس اگر ہوں گے تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے تو غالب آئیں گے وہ دو سوپراوراگر ہوں گے تم میں سے ایک ہزار تو غالب آئیں گے وہ دو ہزار پر، اللہ کے حکم سےاور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(66)

[65] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ عَلَى الۡقِتَالِ﴾ ’’اے نبی! مومنوں کو جہاد کی ترغیب دو۔‘‘ یعنی آپ انھیں ہر اس طریقے کے ذریعے سے قتال پر آمادہ کریں جس سے ان کے عزائم مضبوط ہوں اور ان کے ارادوں میں نشاط پیدا ہو، یعنی جہاد اور دشمن سے مقابلے کی ترغیب دی جائے اور جہاد سے باز رہنے کے انجام سے ڈرایا جائے۔ شجاعت اور صبر کے فضائل اور ان پرمرتب ہونے والی دین و دنیا کی بھلائی کا ذکر کیا جائے۔ بزدلی کے نقصانات بیان کیے جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ بزدلی ایک انتہائی رذیل اور ناقص خصلت ہے اور شجاعت کا اہل ایمان کی صفت ہونا دوسروں کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنۡ تَكُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ يَاۡلَمُوۡنَ كَمَا تَاۡلَمُوۡنَ١ۚ وَتَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرۡجُوۡنَ﴾(النساء: 4؍104) ’’اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو انھیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمھیں پہنچتی ہے تم اللہ سے ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔‘‘﴿ اِنۡ يَّؔكُنۡ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’اے مومنو! اگر ہوں تم میں سے‘‘ ﴿ عِشۡرُوۡنَ صٰبِرُوۡنَ يَغۡلِبُوۡا مِائَتَيۡنِ١ۚ وَاِنۡ يَّؔكُنۡ مِّؔنۡكُمۡ مِّؔائَةٌ يَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفًا مِّنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’بیس شخص ثابت قدم رہنے والے تو غالب ہوں گے وہ دو سو پر اور اگر ہوں تم میں سے سو شخص تو غالب ہوں گے ہزار کافروں پر‘‘ یعنی ایک مومن دس کافروں کا مقابلہ کرے گا اور اس کا سبب یہ ہے ﴿ بِاَنَّهُمۡ ﴾ ’’کہ وہ‘‘ یعنی کفار ﴿ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے‘‘ یعنی انھیں کوئی علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے کیا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ پس یہ کفار زمین میں اقتدار، تغلب اور اس میں فساد پھیلانے کے لیے لڑتے ہیں اور تم (اے مسلمانو)! اس جنگ کا مقصد سمجھتے ہو کہ یہ جنگ اعلائے کلمۃ اللہ، دین کے غلبہ، کتاب اللہ کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی کامیابی کے حصول کے لیے ہے اور یہ تمام امور شجاعت ، صبر و ثبات اور اقدام علی القتال کے اسباب ہیں ۔

[66] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اس حکم میں تخفیف کر دی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلۡـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنۡكُمۡ وَعَلِمَ اَنَّ فِيۡكُمۡ ضَعۡفًا﴾ ’’اب بوجھ ہلکا کر دیا اللہ نے تم پر سے اور جان لیا کہ تم میں کمزوری ہے۔‘‘اسی لیے اللہ کی رحمت اور اس کی حکمت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ اس حکم میں تخفیف کر دی جائے، چنانچہ اب اگر تم میں سے سو آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں تو وہ دو سو پر اور اگر ہزار ہوں تو وہ دو ہزار پر غالب ہوں گے۔ ﴿وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ان آیات کریمہ کا اسلوب اگرچہ اہل ایمان کے بارے میں خبر کا ہے کہ جب وہ اس معینہ تعداد تک پہنچتے ہیں تو وہ مقابلے میں کفار کی مذکورہ تعداد پر غالب آجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو شجاعت ایمانی سے نوازا ہے۔ مگر اس کا معنی اور حقیقی منشا امر ہے، …

Al-Anfaal 8:66Listen in Qur'an →
67

مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ ٱلدُّنْيَا وَٱللَّهُ يُرِيدُ ٱلْءَاخِرَةَ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے

نہیں لائق کسی نبی کے کہ ہوں اس کے پاس قیدی(اور وہ انھیں قتل نہ کرے) یہاں تک کہ وہ خوب خوں ریزی کرلے زمین میں، ارادہ کرتے ہوتم سامان دنیا کااوراللہ ارادہ کرتا ہے آخرت کااوراللہ زبردست، حکمت والا ہے(67) اگر نہ ہوتی (ایک بات) لکھی ہوئی اللہ کی طرف سے پہلے ہی تو پہنچتا تم کو اس (کے بدلے) میں جو لیا تم نے، عذاب بڑا(68) پس کھاؤ تم اس سے جو لیا تم نے غنیمت کا مال، حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(69)

[67] یہ غزوہ بدر کے موقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺ اور اہل ایمان پر عتاب ہے جب انھوں نے مشرکین کو جنگی قیدی بنایا اور ان سے معاوضہ لینے کے لیے اپنے پاس رکھا۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطابt کی رائے یہ تھی کہ ان سے مالی معاوضہ لینے کی بجائے، ان کو قتل کر کے ان کی جڑ کاٹ دی جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهٗۤ اَسۡرٰى حَتّٰى يُثۡخِنَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’نبی کے شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں یہاں تک کہ (کافروں کو قتل کرکے) زمین میں کثرت سے خون نہ بہادے۔‘‘ یعنی نبی کے لیے یہ بات ہرگز مناسب نہیں کہ جب وہ کفار کے ساتھ جنگ کرے جو اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھانا اور اس کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں اور وہ یہ بھی خواہش رکھتے ہیں کہ روئے زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہ رہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو .... تو محض فدیہ کی خاطر (کفار کو قتل کرنے کی بجائے) قیدی بنانا شروع کر دے۔ یہ فدیہ اس مصلحت کی نسبت سے بہت حقیر ہے جو ان کے قلع قمع اور ان کے شر کے ابطال کا تقاضا کرتی ہے جب تک ان میں شر اور حملہ کرنے کی قوت موجود ہے اس وقت تک بہتر یہی ہے کہ ان کو (قتل کرنے کی بجائے) جنگی قیدی نہ بنایا جائے۔ جب خونریزی کے بعد کفار کا قلع قمع اور مشرکین کے شر کا سدباب ہو جائے اور ان کا معاملہ کمزور پڑ جائے تب ان کو (میدان جنگ میں ) قیدی بنانے اور ان کی جان بخشی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ تُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’تم چاہتے ہو‘‘ یعنی تم ان کی جان بخشی کر کے اور اس کے عوض فدیہ لے کر ﴿ عَرَضَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’دنیاوی مال و متاع لینا‘‘یعنی تم کسی ایسی مصلحت کی خاطر ان کی جان بخشی نہیں کر رہے جو دین کی طرف راجع ہو۔ ﴿ وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’اور اللہ آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔‘‘ مگر اللہ تعالیٰ دین کو عزت سے نواز کر، اپنے اولیاء کی مدد کر کے اور دیگر قوموں پر انھیں غلبہ بخش کر تمھارے لیے آخرت کی بھلائی چاہتا ہے پس وہ تمھیں انھی امور کا حکم دیتا ہے جو اس منزل مراد پر پہنچاتے ہیں ۔ ﴿وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کامل غلبے کا مالک ہے اگر وہ کسی لڑائی کے بغیر کفار پر فتح دینا چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ مگر وہ حکمت والا ہے وہ تمھیں ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے۔

[68]﴿ لَوۡلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ ﴾ ’’اگر اللہ کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر مقرر نہ ہو چکی ہوتی اور تمھارے لیے غنائم کو حلال نہ کر دیا گیا ہوتا اور اے امت مسلمہ ... تم سے عذاب کو نہ اٹھا لیا گیا ہوتا ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تو تم نے جو فدیہ حاصل کیا ہے اس کی پاداش میں تمھیں عذاب عظیم آلیتا‘‘ اور حدیث میں آتا ہے ’’اگر بدر کے روز (قیدیوں کے فدیہ کے معاملے میں ) عذاب نازل ہوتا تو عمر(t) کے سوا کوئی نہ بچتا۔ (تفسیر الدر المنثور: 3؍366)

[69]﴿ فَكُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلًا طَيِّبًا﴾ ’’پس کھاؤ تم جو تم کو غنیمت میں ملا، حلال پاکیزہ‘‘ یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس کے لیے غنائم کو حلال کر دیا حالانکہ اس سے قبل کسی امت پر غنائم کو حلال نہیں کیا گیا تھا۔ ﴿ وَّاتَّقُوا …

Al-Anfaal 8:67Listen in Qur'an →
68

لَّوْلَا كِتَٰبٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَآ أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا

نہیں لائق کسی نبی کے کہ ہوں اس کے پاس قیدی(اور وہ انھیں قتل نہ کرے) یہاں تک کہ وہ خوب خوں ریزی کرلے زمین میں، ارادہ کرتے ہوتم سامان دنیا کااوراللہ ارادہ کرتا ہے آخرت کااوراللہ زبردست، حکمت والا ہے(67) اگر نہ ہوتی (ایک بات) لکھی ہوئی اللہ کی طرف سے پہلے ہی تو پہنچتا تم کو اس (کے بدلے) میں جو لیا تم نے، عذاب بڑا(68) پس کھاؤ تم اس سے جو لیا تم نے غنیمت کا مال، حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(69)

[67] یہ غزوہ بدر کے موقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺ اور اہل ایمان پر عتاب ہے جب انھوں نے مشرکین کو جنگی قیدی بنایا اور ان سے معاوضہ لینے کے لیے اپنے پاس رکھا۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطابt کی رائے یہ تھی کہ ان سے مالی معاوضہ لینے کی بجائے، ان کو قتل کر کے ان کی جڑ کاٹ دی جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهٗۤ اَسۡرٰى حَتّٰى يُثۡخِنَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’نبی کے شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں یہاں تک کہ (کافروں کو قتل کرکے) زمین میں کثرت سے خون نہ بہادے۔‘‘ یعنی نبی کے لیے یہ بات ہرگز مناسب نہیں کہ جب وہ کفار کے ساتھ جنگ کرے جو اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھانا اور اس کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں اور وہ یہ بھی خواہش رکھتے ہیں کہ روئے زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہ رہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو .... تو محض فدیہ کی خاطر (کفار کو قتل کرنے کی بجائے) قیدی بنانا شروع کر دے۔ یہ فدیہ اس مصلحت کی نسبت سے بہت حقیر ہے جو ان کے قلع قمع اور ان کے شر کے ابطال کا تقاضا کرتی ہے جب تک ان میں شر اور حملہ کرنے کی قوت موجود ہے اس وقت تک بہتر یہی ہے کہ ان کو (قتل کرنے کی بجائے) جنگی قیدی نہ بنایا جائے۔ جب خونریزی کے بعد کفار کا قلع قمع اور مشرکین کے شر کا سدباب ہو جائے اور ان کا معاملہ کمزور پڑ جائے تب ان کو (میدان جنگ میں ) قیدی بنانے اور ان کی جان بخشی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ تُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’تم چاہتے ہو‘‘ یعنی تم ان کی جان بخشی کر کے اور اس کے عوض فدیہ لے کر ﴿ عَرَضَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’دنیاوی مال و متاع لینا‘‘یعنی تم کسی ایسی مصلحت کی خاطر ان کی جان بخشی نہیں کر رہے جو دین کی طرف راجع ہو۔ ﴿ وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’اور اللہ آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔‘‘ مگر اللہ تعالیٰ دین کو عزت سے نواز کر، اپنے اولیاء کی مدد کر کے اور دیگر قوموں پر انھیں غلبہ بخش کر تمھارے لیے آخرت کی بھلائی چاہتا ہے پس وہ تمھیں انھی امور کا حکم دیتا ہے جو اس منزل مراد پر پہنچاتے ہیں ۔ ﴿وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کامل غلبے کا مالک ہے اگر وہ کسی لڑائی کے بغیر کفار پر فتح دینا چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ مگر وہ حکمت والا ہے وہ تمھیں ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے۔

[68]﴿ لَوۡلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ ﴾ ’’اگر اللہ کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر مقرر نہ ہو چکی ہوتی اور تمھارے لیے غنائم کو حلال نہ کر دیا گیا ہوتا اور اے امت مسلمہ ... تم سے عذاب کو نہ اٹھا لیا گیا ہوتا ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تو تم نے جو فدیہ حاصل کیا ہے اس کی پاداش میں تمھیں عذاب عظیم آلیتا‘‘ اور حدیث میں آتا ہے ’’اگر بدر کے روز (قیدیوں کے فدیہ کے معاملے میں ) عذاب نازل ہوتا تو عمر(t) کے سوا کوئی نہ بچتا۔ (تفسیر الدر المنثور: 3؍366)

[69]﴿ فَكُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلًا طَيِّبًا﴾ ’’پس کھاؤ تم جو تم کو غنیمت میں ملا، حلال پاکیزہ‘‘ یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس کے لیے غنائم کو حلال کر دیا حالانکہ اس سے قبل کسی امت پر غنائم کو حلال نہیں کیا گیا تھا۔ ﴿ وَّاتَّقُوا …

Al-Anfaal 8:68Listen in Qur'an →
69

فَكُلُوا۟ مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَٰلًۭا طَيِّبًۭا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

تو جو مالِ غنیمت تمہیں ملا ہے اسے کھاؤ (کہ وہ تمہارے لیے) حلال طیب رہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

نہیں لائق کسی نبی کے کہ ہوں اس کے پاس قیدی(اور وہ انھیں قتل نہ کرے) یہاں تک کہ وہ خوب خوں ریزی کرلے زمین میں، ارادہ کرتے ہوتم سامان دنیا کااوراللہ ارادہ کرتا ہے آخرت کااوراللہ زبردست، حکمت والا ہے(67) اگر نہ ہوتی (ایک بات) لکھی ہوئی اللہ کی طرف سے پہلے ہی تو پہنچتا تم کو اس (کے بدلے) میں جو لیا تم نے، عذاب بڑا(68) پس کھاؤ تم اس سے جو لیا تم نے غنیمت کا مال، حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(69)

[67] یہ غزوہ بدر کے موقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺ اور اہل ایمان پر عتاب ہے جب انھوں نے مشرکین کو جنگی قیدی بنایا اور ان سے معاوضہ لینے کے لیے اپنے پاس رکھا۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطابt کی رائے یہ تھی کہ ان سے مالی معاوضہ لینے کی بجائے، ان کو قتل کر کے ان کی جڑ کاٹ دی جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهٗۤ اَسۡرٰى حَتّٰى يُثۡخِنَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’نبی کے شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں یہاں تک کہ (کافروں کو قتل کرکے) زمین میں کثرت سے خون نہ بہادے۔‘‘ یعنی نبی کے لیے یہ بات ہرگز مناسب نہیں کہ جب وہ کفار کے ساتھ جنگ کرے جو اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھانا اور اس کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں اور وہ یہ بھی خواہش رکھتے ہیں کہ روئے زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہ رہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو .... تو محض فدیہ کی خاطر (کفار کو قتل کرنے کی بجائے) قیدی بنانا شروع کر دے۔ یہ فدیہ اس مصلحت کی نسبت سے بہت حقیر ہے جو ان کے قلع قمع اور ان کے شر کے ابطال کا تقاضا کرتی ہے جب تک ان میں شر اور حملہ کرنے کی قوت موجود ہے اس وقت تک بہتر یہی ہے کہ ان کو (قتل کرنے کی بجائے) جنگی قیدی نہ بنایا جائے۔ جب خونریزی کے بعد کفار کا قلع قمع اور مشرکین کے شر کا سدباب ہو جائے اور ان کا معاملہ کمزور پڑ جائے تب ان کو (میدان جنگ میں ) قیدی بنانے اور ان کی جان بخشی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ تُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’تم چاہتے ہو‘‘ یعنی تم ان کی جان بخشی کر کے اور اس کے عوض فدیہ لے کر ﴿ عَرَضَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’دنیاوی مال و متاع لینا‘‘یعنی تم کسی ایسی مصلحت کی خاطر ان کی جان بخشی نہیں کر رہے جو دین کی طرف راجع ہو۔ ﴿ وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’اور اللہ آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔‘‘ مگر اللہ تعالیٰ دین کو عزت سے نواز کر، اپنے اولیاء کی مدد کر کے اور دیگر قوموں پر انھیں غلبہ بخش کر تمھارے لیے آخرت کی بھلائی چاہتا ہے پس وہ تمھیں انھی امور کا حکم دیتا ہے جو اس منزل مراد پر پہنچاتے ہیں ۔ ﴿وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کامل غلبے کا مالک ہے اگر وہ کسی لڑائی کے بغیر کفار پر فتح دینا چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ مگر وہ حکمت والا ہے وہ تمھیں ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے۔

[68]﴿ لَوۡلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ ﴾ ’’اگر اللہ کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر مقرر نہ ہو چکی ہوتی اور تمھارے لیے غنائم کو حلال نہ کر دیا گیا ہوتا اور اے امت مسلمہ ... تم سے عذاب کو نہ اٹھا لیا گیا ہوتا ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تو تم نے جو فدیہ حاصل کیا ہے اس کی پاداش میں تمھیں عذاب عظیم آلیتا‘‘ اور حدیث میں آتا ہے ’’اگر بدر کے روز (قیدیوں کے فدیہ کے معاملے میں ) عذاب نازل ہوتا تو عمر(t) کے سوا کوئی نہ بچتا۔ (تفسیر الدر المنثور: 3؍366)

[69]﴿ فَكُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلًا طَيِّبًا﴾ ’’پس کھاؤ تم جو تم کو غنیمت میں ملا، حلال پاکیزہ‘‘ یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس کے لیے غنائم کو حلال کر دیا حالانکہ اس سے قبل کسی امت پر غنائم کو حلال نہیں کیا گیا تھا۔ ﴿ وَّاتَّقُوا …

Al-Anfaal 8:69Listen in Qur'an →
70

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّمَن فِىٓ أَيْدِيكُم مِّنَ ٱلْأَسْرَىٰٓ إِن يَعْلَمِ ٱللَّهُ فِى قُلُوبِكُمْ خَيْرًۭا يُؤْتِكُمْ خَيْرًۭا مِّمَّآ أُخِذَ مِنكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اے پیغمبر جو قیدی تمہارے ہاتھ میں (گرفتار) ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کرے گا تو جو (مال) تم سے چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عنایت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

اے نبی! کہہ دیجیے! ان سے جو تمھارے ہاتھوں میں(گرفتار) قیدی ہیں، اگر جانے گا اللہ تمھارے دلوں میں بھلائی تو دے گا وہ تمھیں زیادہ بہتر اس سے جو (فدیے میں) لیا گیا تم سے اور بخش دے گا تمھیں اوراللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے(70) اور اگر ارادہ کریں وہ آپ سے خیانت کا تو تحقیق وہ خیانت کرچکے ہیں اللہ سے اس سے پہلے تو قدرت دی اللہ نے (آپ کو) ان پراور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے(71)

[70] یہ آیت کریمہ اسیران بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ان قیدیوں میں رسول اللہﷺ کے چچا حضرت عباس بھی شامل تھے۔ جب رہائی کے عوض ان سے فدیہ کا مطالبہ کیا گیا تو انھوں نے عرض کیا کہ انھوں نے اس سے قبل اسلام قبول کیا ہوا تھا۔ مگر مسلمانوں نے ان سے فدیہ کو ساقط نہ کیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی اور ان لوگوں کی دل جوئی کی خاطر یہ آیت کریمہ نازل فرمائی جو اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہوں ۔ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلۡ لِّمَنۡ فِيۡۤ اَيۡدِيۡكُمۡ مِّنَ الۡاَسۡرٰۤى١ۙ اِنۡ يَّعۡلَمِ اللّٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ خَيۡرًا يُّؤۡتِكُمۡ خَيۡرًا مِّؔمَّاۤ اُخِذَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’اے نبی ان سے کہہ دو! جو تمھارے ہاتھوں میں قیدی ہیں ، اگر اللہ تمھارے دلوں میں کچھ نیکی جانے گا تو تمھیں اس سے بہتر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے‘‘ یعنی جو مال تم سے لیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کے بدلے خیر کثیر عطا کرے گا۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ﴾ ’’اور (اللہ تعالیٰ) تمھارے گناہ بخش دے گا‘‘ اور تمھیں جنت میں داخل کرے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عباسt سے اپنا وعدہ پورا کر دیا، اس کے بعد انھیں بہت زیادہ مال حاصل ہوا۔ حتیٰ کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ کے پاس بہت زیادہ مال آیا، حضرت عباسt آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے کپڑے میں جتنا مال اٹھا سکتے ہیں لے لیں ۔ انھوں نے اتنا مال لیا کہ ان سے اٹھایا نہیں جا رہا تھا۔

[71]﴿ وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡا خِيَانَتَكَ ﴾ ’’اور اگر یہ لوگ آپ سے دغا کرنا چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ آپﷺ کے ساتھ جنگ کرنے کی کوشش کر کے خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں ﴿ فَقَدۡ خَانُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ فَاَمۡكَنَ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’تو وہ خیانت کر چکے ہیں اللہ کی اس سے پہلے، پس اس نے ان کو پکڑوا دیا‘‘ پس وہ آپ کے ساتھ خیانت کرنے سے بچیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان پر اختیار رکھتا ہے اور وہ اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ اور یعنی اللہ تعالیٰ علیم ہے، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے، وہ ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھتا ہے۔ یہ اس کا علم و حکمت ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے نہایت خوبصورت اور جلیل القدر احکام وضع فرمائے اور کفار کے شر اور ان کی خیانت کے ارادے کے مقابلے میں تمھاری کفایت کا ذمہ لیا۔

Al-Anfaal 8:70Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.