ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّٰمٍۢ لِّلْعَبِيدِ
یہ ان (اعمال) کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں۔ اور یہ (جان رکھو) کہ خدا بندوں پر ظلم نہیں کرتا
دوسری آیت میں کفار کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ یہ عذاب دنیا و آخرت تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے چونکہ عام کاروبار ہاتھوں ہی سے وجود میں آتے ہیں اس لئے ہاتھوں کا ذکر کردیا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والے نہیں کہ بلاوجہ کسی کو عذاب میں مبتلا کردیں۔