Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 51–60 of 75

51

ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّٰمٍۢ لِّلْعَبِيدِ

یہ ان (اعمال) کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں۔ اور یہ (جان رکھو) کہ خدا بندوں پر ظلم نہیں کرتا

دوسری آیت میں کفار کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ یہ عذاب دنیا و آخرت تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے چونکہ عام کاروبار ہاتھوں ہی سے وجود میں آتے ہیں اس لئے ہاتھوں کا ذکر کردیا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والے نہیں کہ بلاوجہ کسی کو عذاب میں مبتلا کردیں۔

Al-Anfaal 8:51Listen in Qur'an →
52

كَدَأْبِ ءَالِ فِرْعَوْنَ ۙ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِىٌّۭ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

جیسا حال فرعوینوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا کہ) انہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا تو خدا نےان کے گناہوں کی سزا میں ان کو پکڑ لیا۔ بےشک خدا زبردست اور سخت عذاب دینے والا ہے

تیسری آیت میں بتلایا گیا کہ ان مجرموں پر اللہ تعالیٰ کا یہ عذاب کوئی انوکھی چیز نہیں بلکہ عادة اللہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے ان کو عقل و فہم دیتے ہیں۔ گرد و پیش میں ان کے لئے بیشمار ایسی چیزیں موجود ہوتی ہیں جن میں غور و فکر کرنے سے وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت و عظمت کو پہچانیں اور عاجز مخلوق کو اس کا شریک نہ بنائیں پھر مزید تنبیہ کے لئے اپنی کتابیں اور رسول بھیجتے ہیں۔ اللہ کے رسول ان کے افہام و تفہیم میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی قوت قاہرہ کے مظاہر بھی بشکل معجزات دکھلاتے ہیں۔ جب کوئی فرد یا قوم ان سب چیزوں سے بالکل آنکھیں بند کرلے اور خدائی تنبہیات میں سے کسی پر کان نہ دھرے تو پھر عادت اللہ تعالیٰ کی ایسے لوگوں کے بارے میں یہی ہے کہ دنیا میں بھی ان پر عذاب آتا ہے اور آخرت کے دائمی عذاب میں بھی گرفتار ہوتے ہیں۔ ارشاد فرمایا (آیت) كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۔ داب کے معنی عادت کے ہیں مطلب یہ ہے کہ جیسے اٰلِ فِرْعَوْنَ اور ان سے پہلے کافروں سرکشوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت دنیا کو معلوم ہوچکی ہے کہ فرعون کو اس کے سارے حشم و خدم سمیت دریا میں غرق کردیا اور ان سے پہلے عاد وثمود کی قوموں کو مختلف قسم کے عذابوں سے ہلاک کردیا۔ - (آیت) كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ ۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور نشانیوں کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا۔ (آیت) اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ۔ وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قوی ہے کوئی قوت و شجاعت والا اپنی قوت کے بل پر اس کے عذاب سے نہیں چھوٹ سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ کی سزا بھی بڑی سخت ہے۔

Al-Anfaal 8:52Listen in Qur'an →
53

ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًۭا نِّعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَىٰ قَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ ۙ وَأَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

یہ اس لیے کہ جو نعمت خدا کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل ڈالیں خدا اسے نہیں بدلا کرتا۔ اور اس لیے کہ خدا سنتا جانتا ہے

چوتھی آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے انعام و عطا کے قائم اور باقی رکھنے کا ایک ضابطہ بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا (آیت) بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰي قَوْمٍ حَتّٰي يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو نعمت کسی قوم کو عطا فرماتے ہیں اس کو اس وقت تک بدلتے نہیں جب تک یہ لوگ خود ہی اپنے حالات اور عمال کو نہ بدل دیں۔- یہاں پہلی بات قابل غور یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے عطاء نعمت کے لئے کوئی ضابطہ نہیں بیان فرمایا، نہ اس کے لئے کوئی قید و شرط لگائی نہ اس کو کسی کے اچھے عمل پر موقوف رکھا، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلی نعمت جو خود ہمارا وجود ہے اور اس میں قدرت حق جل شانہ کی عجیب صنعت گری سے ہزاروں حیرت انگیز نعمتیں ودیعت رکھی گئی ہیں یہ نعمتیں ظاہر ہے کہ اس وقت عطا ہوئیں، جب کہ نہ ہم تھے نہ ہمارا کوئی عمل تھا - مانبو دیم و تقاضا ما نبود لطف تو ناگفتہ مامی شنود - اگر اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات بندوں کے نیک اعمال کے منتظر رہا کرتے تو ہمارا وجود ہی قائم نہ ہوتا۔- حق تعالیٰ کی نعمت و رحمت تو اس کے رب العالمین اور رحمن و رحیم ہونے کے نتیجہ میں خود بخود ہے۔ ہاں اس نعمت و رحمت کے قائم اور باقی رہنے کا ایک ضابطہ اس آیت میں یہ بیان کیا گیا کہ جس قوم کو اللہ تعالیٰ کوئی نعمت دیتے ہیں اس سے اس وقت تک واپس نہیں لیتے جب تک وہ اپنے حالات اور اعمال کو بدل کر خود ہی اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دے۔- حالات کے بدلنے سے مراد ہے کہ اچھے اعمال اور حالات کو بدل کر برے اعمال اور برے حالات اختیار کرلے یا یہ کہ اللہ کی نعمتیں مبذول ہونے کے وقت جن اعمال بد اور گناہوں میں مبتلا تھا نعمتوں کے ملنے کے بعد ان سے زیادہ برے اعمال میں مبتلا ہوجائے۔- اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جن قوموں کا ذکر پچھلی آیات میں آیا ہے یعنی کفار قریش اور آل فرعون ان کا تعلق اس آیت سے اس بنا پر ہے کہ یہ لوگ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ملنے کے وقت بھی کچھ اچھے حالات میں نہیں تھے سب کے سب مشرک اور کافر تھے۔ لیکن انعامات کے بعد یہ لوگ اپنی بدعملیوں اور شرارتوں میں پہلے سے زیادہ تیز ہوگئے۔- آل فرعون نے بنی اسرائیل پر طرح طرح کے مظالم کرنے شروع کردیئے، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ اور مخالفت پر آمادہ ہوگئے جو ان کے پچھلے جرائم میں ایک شدید اضافہ تھا جس کے ذریعہ انہوں نے اپنے حالات مزید برائی کی طرف بدل ڈالے تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی نعمت کو نقمت اور عذاب سے بدل دیا۔ اسی طرح قریش مکہ اگرچہ مشرک اور بدعمل تھے لیکن اس کے ساتھ ان میں کچھ اچھے اعمال صلہ رحمی، مہمان نوازی، حجاج کی خدمت، بیت اللہ کی تعظیم وغیرہ بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دین و دنیا کی نعمتوں کے دروازے کھول دیئے۔ دنیا میں ان کی تجارتوں کو فروغ دیا۔ اور ایسے ملک میں جہاں کسی کا تجارتی قافلہ سلامتی سے نہ گزر سکتا تھا ان لوگوں کے تجارتی قافلے ملک شام و یمن میں جاتے اور کامیاب آتے تھے جس کا ذکر قرآن کریم نے سورة لایلف میں (آیت) رِحْلَةَ الشِّتَاۗءِ وَالصَّيْفِ کے عنوان سے کیا ہے۔- اور دین کے اعتبار سے وہ عظیم نعمت ان کو عطا ہوئی جو پچھلی کسی قوم کو نہیں ملی تھی کہ سید الانبیاء خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں مبعوث ہوئے اللہ تعالیٰ کی آخری اور جامع کتاب قرآن ان میں بھیجی گئی۔- مگر ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کی شکر گزاری اور قدر کرنے اور اس کے ذریعہ اپنے حالات کو درست کرنے کے بجائے پہلے سے بھی زیادہ گندے کردیئے کہ صلہ رحمی کو چھوڑ کر مسلمان ہوجانے والے بھائی بھتیجوں پر وحشیانہ مظالم کرنے لگے۔ مہمان نوازی کے بجائے ان مسلمانوں پر آب و دانہ بند کرنے کے عہدنامے لکھے گئے۔ حجاج کی خدمت کے بجائے مسلمانوں کو حرم میں داخل ہونے سے روکنے لگے۔ یہ وہ حالات تھے جن کو کفار …

Al-Anfaal 8:53Listen in Qur'an →
54

كَدَأْبِ ءَالِ فِرْعَوْنَ ۙ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمْ فَأَهْلَكْنَٰهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَغْرَقْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ ۚ وَكُلٌّۭ كَانُوا۟ ظَٰلِمِينَ

جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا) انہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ اور وہ سب ظالم تھے

خلاصہ تفسیر - (پس اس امر تغییر میں بھی) ان کی حالت فرعون والوں اور ان سے پہلے والوں کی سی حالت ہے کہ انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا اس پر ہم نے ان کو ان کے (ان) گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور (ان میں) فرعون والوں کو خاص طور پر ہلاک کیا کہ (ان کو) غرق کردیا اور وہ (فرعون والے اور پہلے والے) سب ظالم تھے بلاشبہ بدترین خلائق اللہ کے نزدیک یہ کافر لوگ ہیں (جب یہ علم الہی میں ایسے ہیں) تو یہ ایمان نہ لائیں گے جن کی یہ کیفیت ہے کہ آپ ان سے (کئی بار) عہد لے چکے ہیں (مگر) پھر (بھی) وہ ہر بار اپنا عہد توڑ ڈالتے ہیں اور وہ (عہد شکنی سے) ڈرتے نہیں سو اگر آپ لڑائی میں ان لوگوں پر قابو پائیں (اور یہ آپ کے ہاتھ آئیں) تو ان پر حملہ کرکے (اس) کے ذریعہ سے اور لوگوں کو جو کہ ان کے علاوہ ہیں منتشر کردیجئے تاکہ وہ لوگ سمجھ جائیں (کہ نقض عہد کا یہ وبال ہوا ہم ایسا نہ کریں۔ یہ حکم تو اس وقت ہے کہ جب ان لوگوں نے عہد علانیہ توڑ دیا ہو) اور اگر (ابھی تک علانیہ تو نہیں توڑا لیکن) آپ کو کسی قوم سے خیانت (یعنی اس طرح اس عہد کے باقی نہ رہنے کی اطلاع کردیجئے) کہ آپ اور وہ (اس اطلاع میں) برابر ہوجائیں (اور بدون ایسی صاف اطلاع کے لڑنا خیانت ہے اور) بلاشبہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔- معارف و مسائل - آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت کا مضمون بلکہ الفاظ تقریبا وہی ہیں جو ایک آیت پہلے آچکے ہیں (آیت) كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭكَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ ، مگر مقصد بیان دونوں میں جدا جدا ہے پہلی آیت میں اس کا بیان مقصود تھا کہ ان لوگوں کا کفر ان کے عذاب کا سبب بنا اور اس آیت میں مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عام قانون یہ ہے کہ جب کسی قوم پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں مبذول ہوں اور وہ ان کی قدر نہ پہچانے اور اللہ کے سامنے نہ جھکے تو اس کی نعمتیں نقمتوں اور مصیبتوں سے بدل دی جاتی ہیں۔ قوم فرعون اور ان سے پہلی اقوام نے بھی جب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کی تو ان سے تعمتیں چھین لی گئی اور نعمتوں کے بجائے عذاب میں پکڑ لئے گئے کچھ الفاظ میں بھی کہیں کہیں فرق کرکے خاص خاص اشارے فرمائے گئے ہیں۔ مثلا پہلی آیت میں كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ کے الفاظ تھے اور یہاں بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ کا لفظ اللہ کے بجائے صفت رب ذکر کرکے اس کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ لوگ بڑے ہی ظالم ناحق شناس تھے کہ جو ذات ان کی رب ہے ان کے ابتداء وجود سے لے کر موجودہ حالات تک اس کی تعمتوں ہی میں ان کی پرورش ہوئی اسی کی نشانیوں کو جھٹلانے لگے۔- نیز پہلی آیت (آیت) فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ فرمایا تھا یہاں فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ ارشاد فرمایا۔ اس میں اس اجمال کی تفصیل و تشریح ہوگئی کیونکہ آیت میں ان کا عذاب میں پکڑا جانا ذکر کیا گیا جس کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ زندہ اور باقی رہتے ہوئے مصیبتوں میں گرفتار ہوجائیں یا سرے سے ان کا وجود ہی ختم کردیا جائے۔ اس آیت میں اَهْلَكْنٰهُمْ فرما کر واضح کردیا کہ ان سب قوموں کی سزا سزائے موت تھی ہم نے ان سب کو ہلاک کر ڈالا۔ ہر قوم کی ہلاکت کی مختلف صورتیں ظاہر ہوئیں ان میں سے فرعون چونکہ خدائی کا دعویدار تھا اور اس کی قوم اس کی تصدیق کرتی تھی اس لئے خصوصیت کے ساتھ اس کا ذکر کردیا گیا (آیت) وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ یعنی ہم نے آل فرعون کو غرق کردیا۔ دوسری قوموں کی ہلاکت کی صورتیں یہاں بیان نہیں کی گئی، دوسری آیات میں اس کی بھی تفصیل موجود ہے کہ کسی پر زلزلہ آیا، کوئی زمین کے اندر دھنسا دی گئی، کسی کی صورتیں مسخ ہوگئی، کسی پر ہوا کا طوفان مسلط ہوگیا۔ اور آخر میں مشرکین مکہ پر غزوہ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں سے عذاب آیا۔

Al-Anfaal 8:54Listen in Qur'an →
55

إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

جانداروں میں سب سے بدتر خدا کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو کافر ہیں سو وہ ایمان نہیں لاتے

اس کے بعد کی آیت میں انھیں کافروں کے بارے میں ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اس میں لفظ دواب دابہ کی جمع ہے جس کے لغوی معنی زمین پر چلنے والے کے ہیں اس لئے انسان اور جتنے جانور زمین پر چلتے ہیں سب کو یہ لفظ شامل ہے مگر عام محاورات میں یہ لفظ خاص چوپائے جانوروں کے لئے بولا جاتا ہے۔ ان لوگوں کا حال بےشعوری میں جانوروں سے بھی زیادہ گرا ہوا تھا اس لئے اس لفظ سے تعبیر کیا گیا۔ معنی آیت کے واضح ہیں کہ تمام جانوروں اور انسانوں میں سب سے بدترین جانور یہ لوگ ہیں۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) فَهُمْ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ ۔ یعنی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی خداداد استعداد و قابلیت کو ضائع کردیا، چوپائے جانوروں کی طرح کھانے پینے سونے جاگنے کو مقصد زندگی بنالیا، اس لئے ان کی رسائی ایمان تک نہیں ہوسکتی۔- حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ یہ آیت یہود کے چھ آدمیوں کے بارے میں آئی ہے جن کے متعلق حق تعالیٰ نے پیشگی خبر دے دی کہ یہ لوگ آخر تک ایمان نہیں لائیں گے۔ - نیز اس لفظ میں ان لوگوں کو عذاب سے مستثنی کرنا منظور ہے جو اگرچہ اس وقت کفار کے ساتھ لگے ہوئے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جد و جہد میں مشغول ہیں مگر آئندہ کسی وقت اسلام قبول کرکے اپنی سابق غلط کاریوں سے توبہ کرلیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ان میں سے بہت بڑی جماعت مسلمان ہو کر نہ صرف خود صالح و متقی بن گئی بلکہ دنیا کے لئے مصلح اور تقوی کی داعی بن کر کھڑی ہوئی۔

Al-Anfaal 8:55Listen in Qur'an →
56

ٱلَّذِينَ عَٰهَدتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِى كُلِّ مَرَّةٍۢ وَهُمْ لَا يَتَّقُونَ

جن لوگوں سے تم نے (صلح کا) عہد کیا ہے پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں اور (خدا سے) نہیں ڈرتے

تیسری آیت (آیت) اَلَّذِيْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِيْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّهُمْ لَا يَتَّقُوْنَ ۔ یہ آیت یہود مدینہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے متعلق ہے۔ پچلی آیتوں میں مشرکین مکہ پر میدان بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب الہی نازل ہونے کا ذکر اور پچھلی امتوں کے کفار سے ان کی تمثیل کا بیان ہوا تھا۔ اس آیت میں اس ظالم جماعت کا ذکر ہے جو ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کے لئے مار آستین بنی اور جو ایک طرف مسلمانوں کے ساتھ صلح و آشتی کی دعویدار تھی دوسری طرف مشرکین مکہ کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتی تھی۔ یہ لوگ مذہبًا یہود تھے اور جس طرح مشرکین مکہ میں اسلام کے خلاف سب سے بڑا علمبردار ابوجہل تھا اسی طرح یہود مدینہ میں اس کا علمبردار کعب بن اشرف تھا۔- رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے، مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے اقتدار کو دیکھ کر یہ لوگ مرعوب تو ہوئے مگر دل میں اسلام دشمنی کی آگ ہمیشہ سلگتی رہتی تھی۔- اسلامی سیاست کا تقاضا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو یہود مدینہ کو کسی نہ کسی معاہدہ کے تحت ساتھ لگایا جائے۔ تاکہ وہ مکہ والوں کو مدد نہ پہنچائیں۔ یہود بھی اپنی مرعوبیت کی بنا پر اسی کے خواہشمند تھے۔ - اسلامی سیاست کا پہلا قدم اسلامی قومیت :- رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ طیبہ پہنچ کر اسلامی سیاست کی سب سے پہلی بنیاد اس کو بنایا کہ مہاجرین و انصار کی وطنی اور قومی عصبیتوں کو ختم کرکے ایک نئی قومیت اسلام کے نام پر قائم فرمائی مہاجرین و انصار کے مختلف قبائل کو آپس میں بھائی بھائی بنادیا۔ اور آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے انصار کے باہمی اختلافات جو صدیوں سے چلے آرہے تھے سب کو دور فرما کر آپس میں بھی اور مہاجرین کے ساتھ بھی بھائی بنادیا۔- دوسرا قدم معاہدہ یہود :- اس سیاست کا دوسرا قدم یہ تھا کہ حریف مقابل دو تھے ایک مشرکین مکہ جن کی ایذاؤں نے مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔ دوسرے یہود مدینہ جو اب مسلمانوں کے پڑوسی بن گئے تھے ان میں سے یہود کے ساتھ ایک معاہدہ کیا گیا۔ جس کا عہدنامہ مفصل لکھا گیا اس معاہدہ کی پابندی اطراف مدینہ کے سب یہودیوں پر اور اس طرف تمام مہاجرین و انصار پر عائد تھی۔ معاہدہ کا پورا متن البدایہ والنہایہ ابن کثیر میں اور سیرت ابن ہشام وغیرہ میں مفصل موجود ہے اس کا سب سے اہم جزء یہ تھا کہ باہمی اختلاف کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ سب کے لئے واجب التعمیل ہوگا، دوسرا جزء یہ تھا کہ یہود مدینہ مسلمانوں کے خلاف کسی دشمن کو ظاہرا یا باطنا کوئی امداد نہیں دیں گے۔ لیکن ان لوگوں نے غزوہ بدر کے وقت عہد شکنی کرکے مشرکین مکہ کو اسلحہ اور سامان جنگ سے مدد پہنچائی۔ مگر جب غزوہ بدر کا انجام مسلمانوں کی فتح مبین اور کفار کی ہزیمت و شکست کی صورت میں سامنے آیا تو پھر ان لوگوں پر رعب غالب ہوا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے حاضر ہو کر عذر کیا کہ اس مرتبہ ہم سے غلطی ہوگئی اس کو معاف فرما دیں آئندہ عہد شکنی نہیں کریں گے۔- آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلامی حلم و کرم جو آپ کا شعار تھا اس کی بنا پر دوبارہ معاہدہ کی تجدید فرمالی۔ مگر یہ لوگ اپنی سرشت سے مجبور تھے غزوہ احد میں مسلمانوں کی ابتدائی شکست اور نقصان کا علم ہو کر ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ اور ان کا سردار کعب بن اشرف خود سفر کرکے مکہ پہنچا اور مشرکین مکہ کو اس پر آمادہ کیا گیا کہ اب وہ پوری تیاری کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کریں اور یہود مدینہ ان کے ساتھ ہوں گے۔- یہ دوسری عہد شکنی تھی جو ان لوگوں نے اسلام کے خلاف کی۔ آیت مذکورہ میں اس بار بار کی عہد شکنی کا ذکر فرما کر ان لوگوں کی شرارت بیان کی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن سے آپ نے معاہدہ کرلیا مگر یہ ہر مرتبہ اپنے عہد کو توڑتے رہے۔ آخر آیت …

Al-Anfaal 8:56Listen in Qur'an →
57

فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِى ٱلْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِم مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

اگر تم ان کو لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں وہ ان کو دیکھ کر بھاگ جائیں عجب نہیں کہ ان کو (اس سے) عبرت ہو

چوتھی آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان بد عہدوں کے بارے میں ایک ہدایت نامہ دیا جس کے الفاظ یہ ہیں :- (آیت) فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ ، اس میں لفظ تَثْقَفَنَّهُمْ کے معنی ہیں ان پر قابو پانے کے اور شَرِّدْ مصدر تشرید سے بنا ہے جس کے اصلی معنی بھگا دینے اور منتشر کردینے کے ہیں معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر آپ کسی جنگ میں ان لوگوں پر قابو پالیں تو ان کو ایسی سخت دردناک سزا دیں جو دوسروں کے لئے عبرت ہوجائے ان کے پیچھے جو لوگ ان کے سہارے پر اسلام دشمنی میں لگے ہوئے ہیں وہ یہ سمجھ لیں کہ اب خیر اسی میں ہے کہ یہاں سے بھاگ کر اپنی جان بچائیں۔ مراد اس سے یہ ہے کہ ان کو ایسی سزا دی جائے جس کو دیکھ کر مشرکین مکہ اور دوسرے دشمن قبائل بھی متاثر ہوں اور آئندہ ان کو مسلمانوں کے مقابلہ میں آنے کی جرأت نہ رہے۔- آخر آیت میں لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ فرما کر رب العالمین کی رحمت عامہ کی طرف اشارہ کردیا کہ اس دردناک سزا کا اصلی مقصد بھی کوئی انتقام لینا یا اپنے غصہ کو فرو کرنا نہیں بلکہ انھیں کی یہ مصلحت ہے کہ شاید یہ صورت حال دیکھ کر یہ لوگ کچھ ہوش میں آجائیں اور اپنے کئے پر نادم ہو کر اپنی اصلاح کرلیں۔

Al-Anfaal 8:57Listen in Qur'an →
58

وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِيَانَةًۭ فَٱنۢبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَآءٍ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْخَآئِنِينَ

اور اگر تم کو کسی قوم سے دغا بازی کا خوف ہو تو (ان کا عہد) انہیں کی طرف پھینک دو (اور) برابر (کا جواب دو) کچھ شک نہیں کہ خدا دغابازوں کو دوست نہیں رکھتا

معاہدہ صلح کو ختم کرنے کی صورت :- پانچویں آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنگ و صلح کے قانون کی ایک اہم دفعہ بتلائی گئی ہے جس میں معاہدہ کی پابندی کی خاص اہمیت کے ساتھ یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ اگر کسی وقت معاہدہ کے دوسرے فریق کی طرف سے خیانت یعنی عہد شکنی کا خطرہ پیدا ہوجائے تو یہ ضروری نہیں کہ ہم معاہدہ کی پابندی کو بدستور قائم رکھیں لیکن یہ بھی جائز نہیں کہ معاہدہ کو صاف طور پر ختم کردینے سے پہلے ہم ان کے خلاف کوئی اقدام کریں بلکہ صحیح صورت یہ ہے کہ ان کو اطمینان و فرصت کی حالت میں اس سے آگاہ کردیا جائے کہ تمہاری بدنیتی یا خلاف ورزی ہم پر ظاہر ہوچکی ہے یا یہ کہ تمہارے معاملات مشتبہ نظر آتے ہیں اس لئے ہم آئندہ اس معاہدہ کے پابند نہیں رہیں گے تم کو بھی ہر طرح اختیار ہے کہ ہمارے خلاف جو کارروائی چاہو کرو۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں :- (آیت) وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ ۔ یعنی اگر آپ کو کسی قوم معاہد سے خیانت اور عہد شکنی کا اندیشہ پیدا ہوجائے تو ان کا عہد ان کی طرف ایسی صورت سے واپس کردیں کہ آپ اور وہ برابر ہوجائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔- مطلب یہ ہے کہ جس قوم کے ساتھ کوئی معاہدہ صلح ہوچکا ہے اس کے مقابلہ میں کوئی جنگی اقدام کرنا خیانت میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے اگرچہ یہ خیانت دشمن کافروں ہی کے حق میں کی جائے۔ وہ بھی جائز نہیں البتہ اگر دوسری طرف سے عہد شکنی کا خطرہ پیدا ہوجائے تو ایسا کیا جاسکتا ہے کہ کھلے طور پر ان کو اعلان کے ساتھ آگاہ کردیں کہ ہم آئندہ معاہدہ کے پابند نہیں رہیں گے۔ مگر یہ اعلان ایسی طرح ہو کہ مسلمان اور دوسرا فریق اس میں برابر ہوں۔ یعنی ایسی صورت نہ کی جائے کہ اس اعلان و تنبیہ سے پہلے ان کے مقابلہ کی تیاری کرلی جائے اور وہ خالی الذہن ہونے کی بنا پر تیاری نہ کرسکیں بلکہ جو کچھ تیاری کرنا ہے وہ اس اعلان و تنبیہ کے بعد کریں۔- یہ ہے اسلام کا عدل و انصاف کہ خیانت کرنے والے دشمنوں کے بھی حقوق کی حفاظت کی جاتی ہے اور مسلمانوں کو ان کے مقابلہ میں اس کا پابند کیا جاتا ہے کہ عہد کو واپس کرنے سے پیشتر کوئی تیاری بھی ان کے خلاف نہ کریں ( مظہری وغیرہ) - ایفائے عہد کا ایک واقعہ عجیبہ :- ابوداؤد، ترمذی، نسائی، امام احمد بن حنبل نے سلیم بن عامر کی روایت سے نقل کیا ہے کہ حضرت معاویہ کا ایک قوم کے ساتھ ایک میعاد کے لئے التواء جنگ کا معاہدہ تھا، حضرت معاویہ نے ارادہ فرمایا کہ اس معاہدہ کے ایام میں اپنا لشکر اور سامان جنگ اس قوم کے قریب پہنچا دیں تاکہ معاہدہ کی میعاد ختم ہوتے ہی وہ دشمن پر ٹوٹ پڑیں۔ مگر عین اس وقت جب حضرت معاویہ کا لشکر اس طرف روانہ ہو رہا تھا یہ دیکھا گیا کہ ایک معمر آدمی گھوڑے پر سوار بڑے زور سے یہ نعرہ لگا رہے ہیں اللہ اکبر اللہ اکبر وفآءً لا غدرا۔ یعنی نعرہ تکبیر کے ساتھ یہ کہا کہ ہم کو معاہدہ پورا کرنا چاہئے اس کی خلاف ورزی نہ کرنا چاہئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس قوم سے کوئی صلح یا ترک جنگ کا معاہدہ ہوجائے تو چاہئے کہ ان کے خلاف نہ کوئی گرہ کھولیں اور نہ باندھیں۔ حضرت معاویہ کو اس کی خبر کی گئی۔ دیکھا تو یہ کہنے والے بزرگ حضرت عمرو بن عنبسہ صحابی تھے۔ حضرت معاویہ نے فورا اپنی فوج کو واپسی کا حکم دے دیا تاکہ التواء جنگ کی میعاد میں لشکر کشی پر اقدام کرکے خیانت میں داخل نہ ہوجائیں ( ابن کثیر ) ۔

Al-Anfaal 8:58Listen in Qur'an →
59

وَلَا يَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ سَبَقُوٓا۟ ۚ إِنَّهُمْ لَا يُعْجِزُونَ

اور کافر یہ نہ خیال کریں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں۔ وہ (اپنی چالوں سے ہم کو) ہرگز عاجز نہیں کرسکتے

خلاصہ تفسیر - اور کافر لوگ اپنے کو یہ خیال نہ کریں کہ وہ بچ گئے یقینًا وہ لوگ ( اللہ تعالیٰ کو) عاجز نہیں کرسکتے کہ اس کے ہاتھ نہ آئیں یا تو دنیا ہی میں مبتلائے عقوبت کردے گا ورنہ آخرت میں تو یقینی ہے) اور ان کافروں سے (مقابلہ کرنے) کے لئے جس قدر تم سے ہوسکے ہتھیار سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے سامان درست رکھو کہ اس ( سامان) کے ذریعہ سے تم ( اپنا) رعب جمائے رکھو ان پر جو کہ ( کفر کی وجہ سے) اللہ کے دشمن ہیں اور ( تمہاری فکر میں رہنے کی وجہ سے) تمہارے دشمن ہیں ( جن سے شب و روز تم کو سابقہ پڑتا رہتا ہے) اور ان کے علاوہ دوسرے (کافروں) پر بھی ( رعب جمائے رکھو) جن کو تم ( بالیقین) نہیں جانتے (بلکہ) ان کو اللہ ہی جانتا ہے (جیسے کفار فارس اور روم وغیرہم جن سے اس وقت سابقہ نہیں پڑا مگر صحابہ کا ساز و سامان و فن سپہگری اپنے وقت میں ان کے مقابلہ میں بھی کام آیا اور ان پر بھی رعب جما، بعض مقابل ہو کر مغلوب ہوئے بعض نے جزیہ قبول کیا کہ یہ بھی اثر رعب کا ہے) اور اللہ کی راہ میں ( جس میں جہاد بھی آگیا) جو کچھ بھی خرچ کرو گے ( جس میں وہ خرچ بھی آگیا جو ساز ویراق درست کرنے میں کیا جائے) وہ ( یعنی اس کا ثواب) تم کو ( آخرت میں) پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارے لئے ( اس میں) کچھ کمی نہ ہوگی اور اگر وہ ( کفار) صلح کی طرف جھکیں تو آپ ( کو) بھی ( اجازت ہے کہ اگر اس میں مصلحت دیکھیں تو) اس طرف جھک جایئے اور ( اگر باوجود مصلحت کے یہ احتمال ہو کہ یہ ان کی چال نہ ہو تو) تو اللہ پر بھروسہ رکھئے ( ایسے احتمالوں سے اندیشہ نہ کیجئے) بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (ان کے اقوال اور احوال کو سنتا جانتا ہے ان کا خود انتظام کردے گا) اور اگر ( واقع میں وہ احتمال صحیح ہو اور) وہ لوگ ( سچ مچ صلح سے) آپ کو دھوکا دینا چاہیں تو اللہ تعالیٰ آپ ( کی مدد اور حفاظت کرنے) کے لئے کافی ہیں ( جیسا کہ اس کے قبل بھی آپ کی کفایت فرماتے تھے چنانچہ) وہ وہی ہے جس نے آپ کو اپنی ( غیبی) امداد ( یعنی ملائکہ) سے اور ( ظاہری امداد یعنی) مسلمانوں سے قوت دی۔- معارف ومسائل - مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں ان کفار کا ذکر ہے جو غزوہ بدر میں شریک نہیں تھے اس لئے بچ گئے یا شریک ہونے کے بعد بھاگ نکلے اس طرح اپنی جان بچالی۔ ان لوگوں کے متعلق اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ یوں نہ سمجھیں کہ ہم بچ نکلے۔ کیونکہ غزوہ بدر کفار کے لئے ایک عذاب الہی تھا اور اس کی پکڑ سے بچنا کسی کے بس میں نہیں۔ اس لئے فرمایا (آیت) اِنَّهُمْ لَا يُعْجِزُوْنَ ، یعنی یہ لوگ اپنی چالاکی سے اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے وہ جب پکڑنا چاہیں گے یہ ایک قدم نہ سرک سکیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ دنیا ہی میں پکڑ لئے جائیں ورنہ آخرت میں تو ان کی گرفتاری ظاہر ہے۔- اس آیت نے اس طرف اشارہ کردیا کہ کوئی مجرم گناہگار اگر کسی مصیبت اور تکلیف سے نجات پا جائے اور پھر بھی توبہ نہ کرے بلکہ اپنے جرم پر ڈٹا رہے تو یہ اس کی علامت نہ سمجھو کہ وہ کامیاب ہوگیا اور ہمیشہ کے لئے چھوٹ گیا بلکہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہے اور یہ ڈھیل اس کے عذاب اور مصبیت کو اور بڑھا رہی ہے گو اس کو محسوس نہ ہو۔

Al-Anfaal 8:59Listen in Qur'an →
60

وَأَعِدُّوا۟ لَهُم مَّا ٱسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍۢ وَمِن رِّبَاطِ ٱلْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِۦ عَدُوَّ ٱللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَءَاخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ ٱللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِن شَىْءٍۢ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ

اور جہاں تک ہوسکے (فوج کی جمعیت کے) زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے (مقابلے کے) لیے مستعد رہو کہ اس سے خدا کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی۔ اور تم جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا ذرا نقصان نہیں کیا جائے گا

جہاد کے لئے اسلحہ اور سامان حرب کی تیاری فرض ہے :- دوسری آیت میں اسلام سے دفاع اور کفار کے مقابلہ کے لئے تیاری کے احکام ہیں، ارشاد فرمایا (آیت) وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ ۔ یعنی سامان جنگ کی تیاری کرو کفار کے لئے جس قدر تم سے ہوسکے۔ اس میں سامان جنگ کی تیاری کے ساتھ مّا اسْـتَـطَعْتُمْ کی قید لگا کر یہ اشارہ فرمادیا کہ تمہاری کامیابی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ تمہارے مقابل کے پاس جیسا اور جتنا سامان ہے تم بھی اتنا ہی حاصل کرلو۔ بلکہ اتنا کافی ہے کہ اپنی مقدور بھر جو سامان ہوسکے وہ جمع کرلو تو اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد تمہارے ساتھ ہوگی۔- اس کے بعد اس سامان کی کچھ تفصیل اس طرح فرمائی مِّنْ قُوَّةٍ یعنی مقابلہ کی قوت جمع کرو اس میں تمام جنگی سامان اسلحہ، سواری وغیرہ بھی داخل ہیں اور اپنے بدن کی ورزش، فنون جنگ کا سیکھنا بھی، قرآن کریم نے اس جگہ اس زمانہ کے مروجہ ہتھیاروں کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ قوت کا عام لفظ اختیار فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ یہ قوت ہر زمانہ اور ہر ملک و مقام کے اعتبار سے مختلف ہوسکتی ہے اس زمانہ کے اسلحہ تیر، تلوار، نیزے تھے اس کے بعد بندوق توپ کا زمانہ آیا۔ پھر اب بموں اور راکٹوں کا وقت آگیا۔ لفظ قوت ان سب کو شامل ہے اس لئے آج کے مسلمانوں کو بقدر استطاعت ایٹمی قوت، ٹینک اور لڑاکا طیا رے، آب دوز کشتیاں جمع کرنا چاہئے کیونکہ یہ سب اسی قوت کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اور اس کے لئے جس علم و فن کو سیکھنے کی ضرورت پڑے وہ سب اگر اس نیت سے ہو کہ اس کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں سے دفاع کا اور کفار کے مقابلہ کا کام لیا جائے گا تو وہ بھی جہاد کے حکم میں ہے۔- لفظ قوت عام ذکر کرنے کے بعد ایک خاص قوت کا صراحةً بھی ذکر فرما دیا (آیت) وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ لفظ رباط مصدری معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور مربوط کے معنی میں بھی پہلی صورت میں اس کے معنی ہوں گے گھوڑے باندھنا اور دوسری صورت میں بندھے ہوئے گھوڑے۔ حاصل دونوں کا ایک ہی ہے کہ جہاد کی نیت سے گھوڑے پالنا اور ان کو باندھنا یا پلے ہوئے گھوڑوں کو جمع کرنا۔ سامان جنگ میں سے خصوصیت کے ساتھ گھوڑوں کا ذکر اس لئے کردیا کہ اس زمانہ میں کسی ملک و قوم کے فتح کرنے میں سب سے زیادہ موثر و مفید گھوڑے ہی تھے۔ اور آج بھی بہت سے ایسے مقامات ہیں جن کو گھوڑوں کے بغیر فتح نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانی میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھ دی ہے۔- صحیح احادیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سامان جنگ فراہم کرنے اور اس کے استعمال کی مشق کرنے کو بڑی عبادت اور موجب ثواب عظیم قرار دیا ہے۔ تیر بنانے اور چلانے پر بڑے بڑے اجر وثواب کا وعدہ ہے۔- اور چونکہ جہاد کا اصل مقصد اسلام اور مسلمانوں سے دفاع ہے ہر زمانہ اور ہر قوم کا جدا ہوتا ہے اس لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جاھدوا المشرکین با موالکم وانفسکم والسنتکم ( رواہ ابو داؤد والنسائی والدارمی عن انس) ۔- اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح دفاع و جہاد ہتھیاروں سے ہوتا ہے بعض اوقات زبان سے بھی ہوتا ہے اور قلم بھی زبان ہی کے حکم میں ہے۔ اسلام اور قرآن سے کفر و الحاد کے حملوں اور تحریفوں کی مدافعت زبان یا قلم سے یہ بھی اس صریح نص کی بنا پر جہاد میں داخل ہے۔ - آیت مذکورہ میں سامان جنگ کی تیاری کا حکم دینے کے بعد اس سامان کے جمع کرنے کی مصلحت اور اصل مقصد بھی ان الفاظ میں بیان فرمایا (آیت) تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ یعنی سامان جنگ و دفاع جمع کرنے کا اصل مقصد قتل و قتال نہیں بلکہ کفر و شرک کو زیر کرنا اور مرعوب و مغلوب کردینا ہے وہ کبھی صرف زبان یا قلم سے بھی ہوسکتا ہے اور بعض اوقات اس کے لئے قتل و قتال ضروری ہوتا ہے۔ جیسی صورت حال ہو اس کے مطابق دفاع …

Al-Anfaal 8:60Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.