Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani

Ayahs 41–50 of 75

41

۞ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَىْءٍۢ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ ٱلْفُرْقَانِ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

26:: دُشمن کا جو مال جہاد کے دوران مجاہدین کے ہاتھ آیا ہو، وہ مالِ غنیمت کہلاتا ہے۔ اس آیت میں اس کی تقسیم کا اصول بیان فرمایا گیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جتنا مال اس طرح حاصل ہو، اُس کے پانچ حصے کئے جائیں گے۔ ان میں سے چار حصے تو مجاہدین کے درمیان تقسیم ہوں گے، اور پانچواں حصہ بیت المال میں داخل کیا جائے گا۔ پھر بیت المال کے اس پانچویں حصہ (خمس) کو کس طرح خرچ کیا جائے گا؟ اس کی تفصیل کرتے ہوئے اس آیت نے اوّل تو یہ بتلایا ہے کہ یہ مال اصل میں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، اور اسی کے حکم کے تحت تقسیم ہوگا، اس کے بعد اس کے پانچ مصارف بیان فرمائے گئے ہیں۔ ایک حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے ،دوسرا حصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ داروں کا ہے، کیونکہ انہوں نے آپ کی اور اِسلام کی نصرت میں بڑی قربانیاں دی تھیں، اور اُن کے لئے زکوٰۃ کا مال بھی حرام قرار ددے دیا گیا تھا۔ اور باقی تین حصے یتیموں، مسکینوں اور مسافروں میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حصہ تھا، وہ جمہور فقہاء کے نزدیک آپ کی وفات کے بعد ختم ہوگیا۔ آپ کے رشتہ داروں کے حصے کے بارے میں فقہاء کے درمیان کچھ اختلاف ہے۔ اِمام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ حصہ اب بھی باقی ہے، اور بنو ہاشم اور بنو المطلب کو بطورِ اِستحقاق دینا ضروری ہے، چاہے وہ حاجت مند ہوں یا مال دار۔ لیکن دوسرے تمام فقہاء اہلِ سنت یہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ حاجت مند ہوں تب تو انہیں دوسرے حاجت مندوں پر ترجیح دے کر اس خمس میں سے دیا جائے گا، اور اگر وہ حاجت مند نہ ہوں توان کا کوئی مستقل حصہ نہیں ہوگا۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو خمس میں سے حصہ دیا تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے یہ فرماکر لینے سے انکار کردیا کہ اس سال ہمارے خاندان کو ضرورت نہیں ہے۔ (ابو داد، حدیث نمبر : ۴۸۹۲) چنانچہ حضرت علیؓ سمیت چاروں خلفائے راشدین کا عمل یہی رہا کہ بنو ہاشم اور بنو المطلب کے حضرات اگر حاجت مند ہوتے تو ان کو خمس میں سے حصہ دینے میں دوسروں پر مقدم رکھتے تھے، اور اگر حاجت مند نہ ہوتے تو نہیں دیتے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر فقہاء اور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں جو پانچ مصارف بیان کئے گئے ہیں، ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان سب کو ضرور دیا جائے، اور سب کو برابر دیا جائے، بلکہ مصرف زکوٰۃ کے آٹھ مصارف کی طرح ہے ( جن کا ذکر سورۂ توبہ : ۹۔ ۰۶ میں آنے والا ہے) کہ اِمام یعنی سربراہِ حکومت کو اِختیار ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق ان مصارف میں سے جس مصرف میں جتنا مناسب سمجھے تقسیم کرے۔ اس مسئلے کی مکمل تحقیق بندہ نے اپنی صحیح مسلم کی شرح فتح الملہم (ج : ۳ ص ۴۵۲ تا ۸۵۲) میں بیان کی ہے۔

27: اس سے مراد جنگِ بدر کا دن ہے، اس کو آیت میں ’’یوم الفرقان‘‘ فرمایا گیا ہے، یعنی وہ دن جس میں حق وباطل کے درمیان فیصلہ ہوگیا کے تین سوتیرہ بے سروسامان لوگ ایک ہزار مسلح فوج پر معجزانہ طور سے غالب آگئے۔ اور جو چیز اُس دن نازل کی تھی اُس سے مراد فرشتوں کی مدد اور قرآنِ کریم کی وہ آیات ہیں جو اُس دن مسلمانوں کی تسلی کے لئے نازل کی گئیں۔

Al-Anfaal 8:41Listen in Qur'an →
42

إِذْ أَنتُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلدُّنْيَا وَهُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلْقُصْوَىٰ وَٱلرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنكُمْ ۚ وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ لَٱخْتَلَفْتُمْ فِى ٱلْمِيعَٰدِ ۙ وَلَٰكِن لِّيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًۭا كَانَ مَفْعُولًۭا لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٍۢ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَىَّ عَنۢ بَيِّنَةٍۢ ۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ

جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے

28: یہ میدانِ جنگ کا نقشہ بتایاجارہا ہے۔ ’’بدر‘‘ ایک ودای کا نام ہے، اُس کا وہ کنارہ جو مدینہ منورہ سے قریب تر ہے، اس پر مسلمانوں کا لشکر فروکش تھا، جو کنارہ مدینہ منورہ سے نسبۃً دُور ہے، اُس پر کفار کا لشکر تھا۔ اور قافلے سے مراد ابوسفیان کا قافلہ ہے جو اس وادی کے نیچے کی جانب ساحلِ سمندر کی طرف بچ کر نکل گیا تھا۔ تفصیل اس سورت کے شروع میں بیان ہوچکی ہے۔

29: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسباب ایسے پیدا فرمادیئے کہ کفارِ مکہ سے باقاعدہ جنگ ٹھن گئی، ورنہ اگر دونوں فریق پہلے سے جنگ کے لئے کوئی وقت طے کرنا چاہتے تو اِختلاف ہوجاتا، مسلمان چونکہ بے سروسامان تھے، اس لئے باقاعدہ جنگ سے کتراتے، اور مشرکین کے دِلوں پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت تھی، اس لئے وہ بھی خواہش کے باوجود جنگ کو ٹلانا چاہتے۔ لیکن جب انہیں اپنا تجارتی قافلہ خطرے میں نظر آیا تو ان کے پاس جنگ کے سوا کوئی چارہ نہ رہا، اور مسلمانوں کے سامنے جب لشکر آہی گیا تو وہ بھی لڑنے پر مجبور ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ یہ اسباب ہم نے اس لئے پیدا کئے کہ ایک مرتبہ فیصلہ کن معرکہ ہوجائے، اور اللہ تعالیٰ کی عطا فرمائی ہوئی فتح ونصرت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کھل کر سامنے آجائے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص کفر کرکے بربادی کا راستہ اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کے واضح ہونے کے بعد اِختیار کرے، اور جو شخص اسلام لاکر باعزت زندگی اختیار کرے، وہ بھی اس واضی دلیل کی روشنی میں کرے۔

Al-Anfaal 8:42Listen in Qur'an →
43

إِذْ يُرِيكَهُمُ ٱللَّهُ فِى مَنَامِكَ قَلِيلًۭا ۖ وَلَوْ أَرَىٰكَهُمْ كَثِيرًۭا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَٰزَعْتُمْ فِى ٱلْأَمْرِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ سَلَّمَ ۗ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ بےشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے

30: جنگ شروع ہونے سے پہلے جب ابھی تک مسلمانوں کو یہ پتہ نہیں چلا تھا کہ حملہ آور کافروں کی تعداد کتنی ہے؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خواب میں کافروں کے لشکر کو کم کرکے دکھایا گیا، آپ نے وہ خواب صحابہ کرام سے بیان فرمایا، جس سے ان کے حوصلے بلند ہوئے، امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کا خواب چونکہ واقعہ کے خلاف نہیں ہوسکتا اس لئے بظاہر آپ کو لشکر کا ایک حصہ دکھایا گیا تھا، آپ نے اسی حصہ کے بارے میں لوگوں کو بتایا کہ وہ تھوڑے سے لوگ ہیں، اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ خواب میں جو چیز دکھائی جاتی ہے وہ عالم مثال سے تعلق رکھتی ہے عین وہ چیز مراد نہیں ہوتی جو خواب میں نظر آرہی ہو، اسی لئے خواب میں تعبیر کی ضرورت پڑتی ہے لہذا خواب میں سارے لشکر کی تعداد اگرچہ واقعی کم دکھائی گئی ؛ لیکن اس کمی کی اصل تعبیر یہ تھی کہ یہ سارا لشکر بے حیثیت ہے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس تعبیر کا علم تھا اور آپ نے یہ خواب صحابہ (رض) کے سامنے اس لئے بیان فرمایا تاکہ انکے حوصلے بڑھ جائیں۔

Al-Anfaal 8:43Listen in Qur'an →
44

وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ ٱلْتَقَيْتُمْ فِىٓ أَعْيُنِكُمْ قَلِيلًۭا وَيُقَلِّلُكُمْ فِىٓ أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًۭا كَانَ مَفْعُولًۭا ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ

اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام منظور کرنا تھا اسے کر ڈالے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا کی طرف ہے

31: یہ اس خواب کے علاوہ بیداری کا واقعہ ہے جو عین اس وقت پیش آیا جب دونوں لشکر آمنے سامنے آگئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کچھ ایسی کیفیت طاری فرمادی کہ کفار کا وہ لشکر جرار ان کو بہت معمولی محسوس ہوا۔

Al-Anfaal 8:44Listen in Qur'an →
45

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةًۭ فَٱثْبُتُوا۟ وَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِيرًۭا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

مومنو! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کرو

Explained together with ayah 44

Al-Anfaal 8:45Listen in Qur'an →
46

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَٰزَعُوا۟ فَتَفْشَلُوا۟ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے

Explained together with ayah 44

Al-Anfaal 8:46Listen in Qur'an →
47

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ خَرَجُوا۟ مِن دِيَٰرِهِم بَطَرًۭا وَرِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌۭ

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے

32:: اس سے مراد کفار قریش کا وہ لشکر ہے جو جنگ بدر کے موقع پر بڑا اکڑتا اور اتراتا اور اپنی شان وشوکت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نکلا تھا۔ سبق یہ دینا ہے کہ جنگی طاقت کتنی بھی ہو، اس پر بھروسہ کرکے تکبر میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے ، بلکہ بھروسہ صرف اﷲ تعالیٰ پر رکھنا چاہئے۔

33: مطلب غالباً یہ ہے کہ بعض مرتبہ ایک شخص بظاہر اخلاص سے کام کرتا نظر آتا ہے، لیکن اس کی نیت دکھاوے کی ہوتی ہے، یا اس کے بر عکس بعض مرتبہ کسی شخص کا انداز بظاہر دکھاوے کا ہوتا ہے (جیسے دُشمن کو مرعوب کرنے کے لئے کبھی طاقت کا مظاہرہ بھی کرنا پڑتا ہے) لیکن وہ اخلاص کے ساتھ بھروسہ اللہ ہی پر کرتا ہے۔ چونکہ اﷲ تعالیٰ کو تمام اعمال کی اصل حقیقت کا پورا علم ہے، اس لئے وہ ان کی جزا یا سزا کا فیصلہ اپنے اسی علم پر محیط کی بنیا پر فرمائے گا، محض ظاہری حالت کی بنیاد پر نہیں (تفسیر کبیر) واللہ سبحانہ اعلم۔

Al-Anfaal 8:47Listen in Qur'an →
48

وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ ٱلْيَوْمَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَإِنِّى جَارٌۭ لَّكُمْ ۖ فَلَمَّا تَرَآءَتِ ٱلْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّنكُمْ إِنِّىٓ أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ ۚ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور جب شیطانوں نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر کے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوئیں تو پسپا ہو کر چل دیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

34: شیطان کی طرف سے یہ یقین دہانی اس طرح بھی ہوسکتی ہے کہ اس نے مشرکین کے دل میں یہ خیال ڈالا ہو، لیکن اگلے جملے میں جو واقعہ ذکر فرمایا گیا ہے اس سے ظاہر یہی ہے کہ اس نے کسی انسانی شکل میں آکر مشرکین کو اکسایا تھا ؛ چنانچہ حافظ ابن جریر (رح) وغیرہ نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جب مشرکین مکہ جنگ کے ارادے سے روانہ ہونے لگے تو انہیں یہ خطرہ لاحق ہوا کہ انکے پیچھے ان کے گھروں پر قبیلہ بکر کے لوگ حملہ نہ کردیں جن سے ان کی پرانی دشمنی چلی آتی تھی، اس موقع پر شیطان اس قبیلے کے ایک سردار سراقہ کے روپ میں ان کے سامنے آیا اور اس نے اطمینان دلایا کہ تمہارے لشکر کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کوئی تم پر غالب نہیں آسکے گا، اور دوسرے یہ کہ تم ہمارے قبیلے کی طرف سے بے فکر رہو میں خود تمہارا محافظ ہوں، اور تمہارے ساتھ چلوں گا، مشرکین مکہ اس کی بات پر مطمئن ہوگئے، لیکن جب بدر کے میدان میں فرشتوں کا لشکر سامنے آیا تو شیطان جو سراقہ کی شکل میں ان کے ساتھ تھا یہ کہہ کر بھاگ کھڑا ہوا کہ میں تمہاری کوئی ذمہ داری نہیں لے سکتا اور مجھے وہ فوج نظر آرہی ہے جو تم نہیں دیکھ سکتے، بعد میں جب مشرکین کا لشکر شکست کھاکر مکہ مکرمہ لوٹا توانہوں نے سراقہ سے شکایت کی کہ تم نے ہمیں بڑا دھوکہ دیا، سراقہ نے جواب میں کہا کہ مجھے تو اس قصے کا ذرا بھی پتہ نہیں اور نہ میں نے ایسی کوئی بات کہی تھی۔

Al-Anfaal 8:48Listen in Qur'an →
49

إِذْ يَقُولُ ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَٰٓؤُلَآءِ دِينُهُمْ ۗ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے

35: جب مسلمانوں نے بے سروسامانی کی حالت میں اتنے بڑے لشکرسے ٹکر لے لی تو منافقین نے کہا تھا کہ یہ اپنے دین کے گھمنڈ میں بڑا دھوکہ کھارہے ہیں، ان میں کفار مکہ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے

Al-Anfaal 8:49Listen in Qur'an →
50

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۙ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَٰرَهُمْ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ

اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو

Explained together with ayah 49

Al-Anfaal 8:50Listen in Qur'an →

Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.