Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 41–50 of 75

41

۞ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَىْءٍۢ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ ٱلْفُرْقَانِ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

پارہ نمبر 10 ایک نظر میں

اس پارے میں سورت انفال کا باقی حصہ ہے ، جس کا ابتدائی حصہ نویں پارے میں گزر گیا ہے۔ اس کے بقیہ حصے میں سورت توبہ کا بیشتر حصہ ہے۔ یہاں ہم سورت انفال کے زیر بحث حصے کا تعارف کرائیں گے اور سورت توبہ کا تعارف آگاز سورت توبہ میں حسب دستور آئے گا۔ انشاء اللہ !

نویں پارے کے آخر میں ہم نے سورت انفال کے تعارف میں اس سورت کے مباحث کے اہم خطوط کو واضح کردیا۔ اس سورت کے حصہ زیر بحث کے خدو خال وہی ہیں جو کے پہلے حصے کے تھے۔ لیکن چونکہ موضوعات بحث مختلف ہیں ، اس لیے ان میں تکرار بالکل محسوس نہیں ہوتا۔ موضوعات کی ترتیب ایسی ہے کہ نظر آتا ہے کہ اس کا پہلا حصہ اس کا پہلا دور تھا اور یہ حصہ دوسرا دور ہے۔ کیونکہ مباحث و موضوعات کے اندر بےحد ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

پہلے حصے کا آغاز یوں ہوا تھا کہ لوگ انفال کے بارے میں سولاات کرتے ہیں اور اس کے بارے میں مسلمانوں کے مابین تنازع کا ذکر ہوا اور اس کے نتیجے میں انفال کی ملکیت اور اختیار تقسیم رسول اللہ کی طرف لوٹا دیا گیا۔ اور لوگو سے کہا گیا کہ ذرا خدا کا خوف کرو اور بتایا گیا کہ حقیقی ایمان کیا ہوتا ہے ؟ اور انہیں دعوت دی گئی کہ اس حقیقی ایمان کی سطح تک بلند ہوجاؤ۔ اس کے بعد انہیں بتایا گیا کہ بدر کے تمام واقعات اللہ کی تقدیر و تدبیر کا مظاہرہ تھا ، سب اسکیم اللہ کی تھی ، امداد سب کی سب اللہ کی طرف سے تھی۔ تمام معرکہ اس لیے درپیش ہوا کہ اللہ کا ارادہ ظاہر ہو ، جہاں تک لوگوں کا تعلق ہے ، وہ محض کردار تھے۔ اور اللہ کی تقدیر کے آلات تھے۔ اس معرکے کی حققت کے انکشاف کے بعد ان کو پکارا گیا کہ جنگ کے وقت ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا کرو اور انہیں اطمینان دلایا کہ اللہ تمہاری نصرت اور معاونت کرے گا۔ اور تمہارے دشمنوں کو ان کی بد اعمالیوں کی سزا دے گا۔ اس کے بعد انہیں اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ خیانت کرنے سے ڈرایا گیا۔ فتنہ مال اور فتنہ اولاد کے بارے میں خبردار کیا گیا اور حضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ کفار کو اس انجام سے خبر دار کردیں جس سے وہ دو چار ہونے والے ہیں۔ اور اگر وہ توبہ کرکے بظاہر دعوت کو قبول کرتے ہیں تو ان کے اقرار کو مان لیا جائے اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیا جائے اور اگر وہ مان کر نہ دیں تو پھر ان سے اس وقت تک لڑآ جائے جب تک دنیا فتنے سے پاک نہیں ہوجاتی اور نظام زندگی صرف اسلامی نہیں ہوجاتا۔

یہ تو تھا خلاصہ پہلے حصے کا ، اب ذرا دیکھئے کہ اس دوسرے حصے میں بھی بات کا آغاز غنائم ہی سے ہوتا ہے اور پھر انہیں ایمان باللہ کی طرف دعوت دی جاتی ہے اور اس کلام پر ایمان لانے کی دعوت دی جاتی ہے جو اس دن نازل ہوا جس دن دو گروہوں کا آمنا سامنا ہوا۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ جن حالات میں یہ غنائم تمہارے ہاتھ لگے اس کے لیے اللہ کی تقدیر نے منصوبہ بندی کی تھی اور اس معرکے کے مواقف اور مشاہدات کے کچھ دوسرے پہلو پیش کیے جاتے ہیں جن سے اس تقدیر و تدبیر کی فعالیت نمایاں نظر آتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان در اصل دست قدرت کا پردہ تھے اور بطور آلات کام کرتے تھے۔ اس کے بعد ان کو پکارا جاتا ہے کہ تم کو جب کفار کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑے تو میدان جنگ میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا کرو کیونکہ واقعات کی حقیقت تو تم جان چکے ہو ، اللہ کو ہر وقت یاد رکھو اور اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کرو ، اور ہر قسم کے تنازعات سے بچو ، کیونکہ تنازعات کی صورت میں تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تم کمزور ہوجاؤ گے۔ پھر ان کو صبر کی تلقین کی جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ جہاد میں کبر و غرور اور خود نمائی سے بچو۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی طرح رویہ نہ اختیار کرو جو گھروں سے گھمنڈ میں نکلے ، طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، حالانکہ ان کے اس فعل کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے تھے۔ اور یہ لوگ شیطان کی …

Al-Anfaal 8:41Listen in Qur'an →
42

إِذْ أَنتُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلدُّنْيَا وَهُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلْقُصْوَىٰ وَٱلرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنكُمْ ۚ وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ لَٱخْتَلَفْتُمْ فِى ٱلْمِيعَٰدِ ۙ وَلَٰكِن لِّيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًۭا كَانَ مَفْعُولًۭا لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٍۢ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَىَّ عَنۢ بَيِّنَةٍۢ ۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ

جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے

اب سیاق کلام یوم الفرقان کی مزید تفصیلات میں چلا جاتا ہے۔ معرکے کی جھلکیاں دی جاتی ہیں۔ ان میں اس معرکے کو نہایت ہی عجیب موثر اور منظر کشی کے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح کہ گویا یہ منظر اسکرین پر چل رہا ہے اور اس کے مناظر میں اللہ کی تدبیر اور تقدیر عیاں و نمایاں ہیں۔ اس طرح کہ دست قدرت صاف صاف نظر آتا ہے کہ وہ اپنا کام کرتا ہے۔ نیز ان جھلکیوں سے وہ مقاصد صاف صاف عیاں ہیں جو اللہ کو مطلوب ہیں اور ابھی ایمان کا مقصود ہیں۔

اس معرکے میں فریقین کے کیمپ سامنے نظر آتے ہیں اور اس میں دست قدرت رواں دواں ہے۔ اللہ کی قدرت کا ہاتھ نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ ان لوگوں کا کیمپ ہے اور وہ دوسری جانب فریق مخالف ہے اور قافلہ دور سمندر کے ساحل سے گزر رہا ہے۔ الفاظ قرآن رسول اللہ کی خواب کا نقشہ کھینچ رہے ہیں ، س نقشے میں مسلمانوں کو کفار کم نظر آتے ہیں اور کفار کو مسلمان۔ یہ مناظر چند الفاظ میں صرف قرآن کریم ہی کا خاصہ ہے۔ مشاہد و مناظر اور ان کا پس منظر دونوں صاف و شفاف نظر آتے ہیں۔ منظر میں حرکات اور تگ و دو صاف نظر آتی ہے ، صرف چند فقرات میں۔

یہ مناظر جن کو ان آیات نے پیش کیا ہے۔ ان مناظر کی طرف ہم اس سے قبل سیرت سے تفصیلات دے چکے ہیں جب مسلمان مدینہ سے نکلے تو وہ وادی میں مدینہ کے قریب اترے اور اسی وادی کی دوسری طرف اہل کفار نے کیمپ لگایا۔ ان دونوں کے درمیان ایک اونچا ٹیلہ تھا جو ان دونوں کے درمیان جدائی کر رہا تھا۔ رہا قافلہ ، تو ابو سفیان اسے ساحل کی جانب لے چلا تھا۔ دونوں افواج سے نیچے کی طرف۔

کوئی فوج یہ نہ جانتی تھی کہ فریق مخالف کہاں ہے۔ اللہ نے ان کو ایک ٹیلے کے دونوں طرف جمع کردیا۔ یہ اللہ کی خاص منشا تھی۔ اگر ان کے درمیان جگہ کا تعین پہلے ہوچکا ہوتا تو وہ اس طرح ایک دوسرے کے قریب نہ آسکتے۔ شاید ایک دوسرے سے پہلوتہی کرجاتے۔ اللہ تعالیٰ یہاں اسی بات کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ یہ اللہ کی خاص تدبیر تھی۔

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰي وَالرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ ۭوَلَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيْعٰدِ ۙ وَلٰكِنْ لِّيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا : یاد کرو وہ وقت جبکہ تم وادی کے اس جانب تھے اور وہ دوسری جانب پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل) کی طرف تھا۔ اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرار داد ہوچکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کرجاتے ، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کرچکا تھا اسے ظہور میں لے آئے۔

یوں ایک دوسرے کے ساتھ آمنا سامنا ہوجانا اور اس قدر قریب کہ بھاگنے کی صورت ہی نہ ہو۔ یہ بھی اللہ کی منشا تھی ، کچھ نتائج تھے جن کا ظہور پذیر ہونا منشائے الہی تھا۔ اس لیے اللہ نے اس قدر خفیہ اور اچانک آمنا سامنا کرادیا۔ اور تمہیں ذریعہ بنا دیا۔ ان نتائج کے ظہور کے لیے اور تمہارے لیے تمام حالات سازگار بنا دیے گئے۔

آخر وہ کیا امر تھا ؟ وہ کیا بات تھی جس کے لیے یہ تمام تدابیر عالم بالا کے ذریعے ہوئیں ؟ لیھلک من ھلک عن بینۃ و یحییٰ من حی عن بینۃ " تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے ، وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے "

ہلاکت سے اس کا ظاہر مفہوم بھی لیا جاتا ہے اور کفر پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسی طرح لفظ حیات بھی اپنے لغوی اور براہ راست مفہوم میں بھجی استعمال ہوتا ہے اور ایمان پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہاں یہ دوسرا مفہوم مراد ہے۔ اس مفہوم میں یہ لفظ قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی استعمال ہوا ہے۔ اومن کان میتا فاحیینہ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس کمن مثلہ فی الظلمات لیس بخارج منہا " وہ شخص جو مردہ ہو ، اور ہم نے اسے زندہ کردیا اور اس کو ایک اسی روشنی دے دی جس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا …

Al-Anfaal 8:42Listen in Qur'an →
43

إِذْ يُرِيكَهُمُ ٱللَّهُ فِى مَنَامِكَ قَلِيلًۭا ۖ وَلَوْ أَرَىٰكَهُمْ كَثِيرًۭا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَٰزَعْتُمْ فِى ٱلْأَمْرِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ سَلَّمَ ۗ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ بےشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے

اللہ کی تدابیر خفیہ میں سے ایک یہ تھی کہ اللہ کے رسول اللہ کو خواب میں کفار کی تعداد کم بتلائی۔ وہ یوں نظر آئے کہ ان کے پاس نہ قوت ہے اور نہ ان کا کوئی وزن ہے۔ حضور نے اپنے ساتھیوں کے سامنے اپنا خواب بیان فرمایا۔ انہوں نے اسے بشارت سمجھا اور ان کے حوصلے بڑھ گئے اور معرکے میں کود پڑے۔ اللہ تعالیٰ یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ نبی کو دشمن کی تعداد کم کیوں بتائی گئی ! اس لیے کہ اگر ان کی تعداد زیادہ بتلائی جاتی تو ان کی نظریں اپنی قلت تعداد اور قلت سامان جنگ پر مرکوز ہوجاتیں جبکہ وہ نکلے بھی قافلے کے مقابلے کے لیے تھے اور جنگ کی توقع نہ رکھتے تھے۔ اس طرح وہ ضعف اور کمزوری کا شکار ہوسکتے تھے۔ اور دشمن کے سامنے ٹکرا جانے میں بحث وجدال شروع ہوجاتا۔ بعض لوگ کہتے لڑنا اچھا ہے اور بعض کہتے مڈبھیڑ سے بچنا مفید ہے۔ اور ایسے حالات میں فوج کے درمیان یہ فکری انتشار ایسی فوج کے لیے مہلک ہوتا ہے جو جنگ کے لیے تیار ہو۔ " لیکن اللہ نے اس سے تمہیں بچا لیا۔ یقیناً وہ سینوں کا حال تک جانتا ہے " اللہ تو دلوں کا حال جانتا ہے ، اس نے مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی مہربانی کی کہ ان کو اس انتشار کی کیفیت سے بچایا جو باعث ضعف ہوتی ہے لہذا مشرکین کو خواب میں قلیل دکھایا گیا اور زیادہ نہ دکھایا گیا۔

اور نبی ﷺ کی خواب کا مدلول بھی حقیقی تھا۔ حضور نے دیکھا کہ کفار قلیل ہیں۔ اگرچہ تعداد میں زیادہ تھے ، لیکن وزن کے اعتبار سے وہ ہلکے تھے۔ ان کی حقیقت کچھ نہ تھی ، ان کے دل دماغ ٹھوس نظریات سے خالی تھے۔ ان کے دل ایمان سے خالی تھے اور وہ نفع بخش سازوسامان سے تہی دامن تھے۔ ان کی ظاہری حیثیت اگرچہ آنکھوں کو دھوکہ دے رہی تھی لیکن اندر سے وہ بےحقیقت و بےوزن تھے۔ اللہ کے رسول اللہ ﷺ کو ان کی باطنی حیثیت دکھائی تھی۔ اور اس طرح لوگوں کے دلوں کو اطمینان سے بھر دیا گیا۔ اس لیے کہ اللہ دلوں کے بھیدوں سے واقف تھا۔ اللہ جانتا تھا کہ مسلمانوں کی تعداد اور سازوسامان دشمن کے مقابلے میں کم ہے۔ اگر ان کو صیح علم ہوجائے تو ان کے دلوں میں کیا خیالات ابھریں گے۔ یہ اللہ کی تدابیر میں سے ایک عظیم تدبیر تھی اس لیے کہ اللہ سمعی وعلیم تھا۔

Al-Anfaal 8:43Listen in Qur'an →
44

وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ ٱلْتَقَيْتُمْ فِىٓ أَعْيُنِكُمْ قَلِيلًۭا وَيُقَلِّلُكُمْ فِىٓ أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًۭا كَانَ مَفْعُولًۭا ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ

اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام منظور کرنا تھا اسے کر ڈالے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا کی طرف ہے

اب جب فوجیں آمنے سامنے میدان بدر میں تیار کھڑی ہیں تو حضور کا سچا خواب پھر سامنے آتا ہے اور یہ جانبین کی صٖ آرائی کی حالت میں آتی ہے۔ یہ بھی اللہ کی تدابیر میں سے ایک خاص تدبیر تھی۔ اللہ ان کو یاد دلاتا ہے کہ ذرا اس کو دوبارہ پیش نظر رکھو ، اس معرکے کے واقعات پر تبصرے کے دوران یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ۔ اور یاد کرو جب کہ مقابلے کے وقت خدا نے تم لوگوں کی نگاہوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور ان کی نگاہوں میں تمہیں کم کرکے پیش کیا تاکہ جو بات ہونی تھی ، اسے اللہ ظہور میں لے آئے اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں "

تدابیر الہیہ میں سے اہم تدابیر یہ تھی کہ یہ معرکہ ٹل نہ جائے اور فریقین اس معرکے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔ مسلمان جو دشمنوں کو قلیل دیکھ رہے تھے تو یہ دشمنوں کو ان کی حقیقت کے اعتبار سے دیکھ رہے تھے۔ اور کفار جو مسلمانوں کو قلیل دیکھ رہے تھے تو یہ بھی ظاہری آنکھ کے اعتبار سے دیکھ رہے تھے۔ دونوں کی نگاہ اپنے اپنے زاویہ سے تھی ، دونوں میں تدبیر الہی کے مقاصد کام کر رہے تھے۔ یوں یہ واقعات امر الہی اور منشائے الہی کے مطابق رونما ہوئے۔

والی اللہ ترجع الامور " اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں " یہ تبصرہ اس حققت کے اظہار کے لیے نہایت ہی مناسب ہے کہ تمام نتائج قضا و قدر کے نظآم کے مطابق باہر ہوتے ہیں۔ تمام امور کا مرجع اللہ ہے ، وہ جس طرح چاہتا ہے اپنی کائنات میں تصرف کرتا ہے ، اپنے اقتدار ، اور اپنے ارادے اور اپنی قدرت و حکمت کے ساتھ اور اس کائنات میں کوئی بات بھی اللہ کی تقدیر کے تقاضوں کے سوا ظہور پذیر نہیں ہوسکتی۔

۔۔۔

Al-Anfaal 8:44Listen in Qur'an →
45

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةًۭ فَٱثْبُتُوا۟ وَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِيرًۭا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

مومنو! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کرو

اگر معاملہ ایسا ہی ہے ، تدبیر سب کی سب اللہ کی ہے۔ نصرت اللہ کی جانب سے ہے۔ محض کثرت عداد ہی فیصلہ کن فیکٹر نہیں ہے اور محض مادی سازوسامان ہی کسی معرکے کے لیے فیصلہ کن نہیں ہوتا ، لہذا جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کو چاہئے کہ جب کفار کے ساتھ ان کی مڈ بھیڑ ہوجائے تو وہ ثابت قدمی اختیار کریں۔ اور ان کو چاہی کہ وہ حق و باطل کے درمیان معرکہ آرائی کے لیے حقیقی سازوسامان تیار کریں اور ان کو وہ سائل اختار کرنے چاہئیں جن کا تعلق صاب تدبیر اور صاحب تقدیر کے اسلحہ خانہ سے ہو۔ اور فتح و نصرت اور صاب عون مالک حقیقی سے امداد حاصل کریں۔ اس ذات کی طرف رجوع کریں جو مقتدر اعلی اور قوت و سطوت کا مالک ہے۔ اور ان باتوں سے بچیں جو کفار مشرکین کے لیے باعث شکست ہوتی ہیں حالانکہ ان کی تعداد اور سازوسامان بہت زیادہ ہے۔ اور ان کو چاہیے کہ وہ کبر و غرور اور اترانے اور دکھانے سے بچیں شیطان کے دھوکوں سے ہوشیار رہیں جس نے کفار کو مار ڈالا۔ لہذا ان کو چاہی کہ وہ اللہ پر توکل کریں جو عزیز و حکیم ہے۔

ان قلیل فقروں میں معانی و اشارات کا ایک سمندر موجزن ہے۔ اہم اصول و ہدایات منضبط کردی گئی ہیں۔ مناظر اور مشاہد اس طرح نظر آتے ہیں کہ گویا اسکرین پر چل رہے ہیں۔ اور تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ الفاظ دل کے خیالات ، ضمیر کے جذبات اور دماغ کے نہاں خانوں کی کیفایت کے ظہر ہیں۔ اگر انہی معانی کو کوئی انسان اور ادیب قلم بند کرنا چاہے تو دفتر درکار ہیں اور پھر بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ حق ادا کرسکے۔ غرض یہ حیرت انگیز تصویر کشی ہے جو قرآن کرتا ہے۔

اہل ایمان کو پکارا جاتا ہے ، جس طرح اس صورت میں مسلسل پکاریں منضبط ہیں۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ جب بھی کسی دشمن سے آمنا سامنا ہو تو ثابت قدم رہنے کی سعی کرو۔ اور فتح و نصرت کے حققی وسائل اپنے اند رپیدا کرو۔ اصل تیاری یہ تیاری ہے۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ۔ وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَّرِئَاۗءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت دے یاد کرو ، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوگی۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ صبر کام لو ، یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور ان لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھروں سے اتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ، جو کچھ وہ کر رہے ہیں ، وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔

یہ ہیں فتح و نصرت کے حقیقی اساب کہ دشمن کے مقابلے میں فوج اسلام ثابت قدم ہو ، اس کے دل اللہ کے ساتھ مربوط ہو ، وہ رسول اور اپنے قائد کی مطیع فرمان ہو۔ اور اس کے افراد باہم نزاعات اور اختلاف سے مجتنب ہوں۔ اس راہ میں ان کو جو مشکلات در پیش ہوں ان کو برداشت کرنے والے ہوں اور اترانے اور دکھانے والے نہ ہوں اور نہ اپنی قوت کی وجہ سے سرکشی کرنے والے ہوں۔

جہاں تک ثبات اور جم جانے کا تعلق ہے تو یہ فتح ونصرت کی راہ میں پہلا قدم ہے۔ جو بھی میدان میں جم جائے گا وہی نصرت پائے گا۔ پھر جبکہ مسلمانوں کو اس کا بھی علم نہیں ہے کہ ان کا دشمن کس قدر مشکلات انگیز کر رہا ہے اور جس طرح ان کو دکھ پہنچ رہے ہیں ، دشمن کو بھی پہنچ رہے ہیں جبکہ اہل ایمان اللہ کی جانب سے عزا اور شہادت کی صورت میں مرتبوں کے …

Al-Anfaal 8:45Listen in Qur'an →
46

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَٰزَعُوا۟ فَتَفْشَلُوا۟ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے

رہا اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول کی اطاعت کا حکم تو ان کا مقصد یہ ہے کہ معرکے میں داخل ہوتے ہی انسان سر تسلیم خم کردے اور وہ دواعی ہی ختم ہوجائیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان باہم نزاع پیدا ہوجاتی ہے۔ اور حکم یہ ہے ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم " آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی " لوگوں کے درمیان تنازعات صرف اس وقت سر اٹھاتے ہیں جب ان کی قیادت کے مراجع ایک سے زیادہ ہوجائیں اور وہ مختلف جہتوں سے ہدایات لینے والے ہوں یا وہ صرف اپنی خواہشات کے پیروکار ہوں اور ان کے افکار اور تصورات کا ماخذ صرف ان کے سفلی جذبات ہوں۔ اس کے مقابلے میں جب لوگ صرف اللہ اور رسول اللہ کے مطیع فرمان ہوں تو نزاع کی پہلی بڑی وجہ سرے سے ختم ہوجاتی ہے ، اگرچہ لوگوں کا نقطہ نظر مختلف ہے کیونکہ نزاع صرف اختلاف نقطہ نظر ہی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کا مبدا ہوائے نفس ہوتی ہے۔ ہوائے نفس کی وجہ سے ہر نقطہ نظر رکھنے والا شخص اپنے موقف پر اصرار شروع کردیتا ہے۔ اگرچہ اسے نظر آجائے کہ سچائی دوسری جانب ہے۔ اب ترازو کے ایک پلڑے میں ایک شخص کی ذات ہوتی ہے اور دوسرے پلڑے میں سچائی ہوتی ہے۔ اور ابتداء کے طور پر لوگ اپنی ذات کو سچائی پر ترجیح دے دیتے ہیں لہذا یہاں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ لوگ جنگ کے وقت اللہ اور رسول کی اطاعت کریں۔ یہ امر ڈسپلن کا تقاضا ہے اور معرکوں میں ڈسپلن اولین فیکٹر ہوتا ہے۔ یعنی اعلی کمان کی اطاعت اور پھر اس امیر کی اطاعت جو اس اعلی کمان کو چلاتا ہے۔ اسلام میں جو اطاعت ہوتی ہے وہ دلی اطاعت ہوتی ہے اور عام دنیاوی افواج کی طرح کی اطاعت نہیں ہوتی ، کیونکہ عام افواج کی معرکہ آرائی اللہ کے لی نہیں ہوتی۔ اور نہ ان کے افراد کے درمیان للہ فی اللہ اخوت ہوتی ہے۔ لہذا اسلامی افواج کے ڈسپلن اور سیکولر افواج کے ڈسپلن کے درمیان بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔

رہا صبر تو وہ معرکہ آرائی خصوصا اسلام کے لیے جنگ کرنے والوں کی اہم صفت ہوتی ہے۔ چاہے یہ معرکہ انسانی نفسیات کے اندر حق و باطل کے درمیان ہو یا قتال کے میدانمیں ہو۔ واصبرو ان اللہ مع الصابرین صبر سے کام لینے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

Al-Anfaal 8:46Listen in Qur'an →
47

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ خَرَجُوا۟ مِن دِيَٰرِهِم بَطَرًۭا وَرِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌۭ

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے

یہ ہدایات امت مسلمہ اور جماعت مجاہدین کی تطہیر کے لیے دی جا رہی ہیں کہ وہ قتال اور جہاد میں شرکت ایسے حالات میں نہ کریں کہ اپنی قوت اور کثرت پر اترا رہے ہوں اور اپنی قوت کو جو انہیں اللہ نے عطا کی ہے ان راہوں میں خرچ نہ کریں جن کے بارے میں اللہ کا حکم نہیں ہے۔ کیونکہ مومنین کے دستے قتال فی سبیل اللہ کے لیے نکلتے ہیں ، ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں اللہ کی بادشاہت نافذ ہو۔ لوگ صرف اللہ کے غلام ہوں اور یہ اس لیے علم جہاد بلند کرتے ہیں کہ ان تمام طاغوتی طاقتوں کو کرش کرکے رکھ دیں جنہوں نے لوگوں کو اپنا غلام بنا کر رکھا ہوا ہے اور جو طاقتیں زمین پر خدا کے مقابلے میں اپنی الوہیت قائم کر رہی ہیں حالانکہ اللہ کی جانب سے ان کو ایسا کرنے کی کوئی اجازت نہیں ہے۔ نہ اللہ کی شریعت ان کے اس فعل کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ علم اس لیے بلند ہوتا ہے کہ پورے کرہ ارض کے تمام انسانوں کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کردیا جائے ، کیونکہ یہ غلامیاں انسان کی کرامت اور شرافت کے خلاف ہیں اور اسلامی دستے جہاد و قتال کے لیے نکلتے ہی اس لیے ہیں کہ لوگوں کی شرافت اور ان کی آزادی کا تحفظ ہو۔ ان کا مقصد اپنا اقتدار قائم کرنا ، زمین میں علو حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ نہ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنا غلام بنائیں یا اتراتے پھریں اور انہیں اللہ نے جو قوت دی ہے اسے غلط مد میں صرف کریں۔ اس طرح اسلامی دستوں کے مقاصد میں ذاتی مقاصد کا کوئی حصہ نہیں ہوتا اور اگر انہیں نصرت نصیب ہوتی ہے اور وہ غالب ہوجاتے ہیں تو انہوں نے امتثال امر کیا ہوتا ہے ، اسلامی نظام حیات قائم کرتے ہیں ، اللہ کا کلمہ بلند کرتے ہیں اور اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کے طلبگار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ معرکے کے نتیجے میں جو اموال غنیمت ملتے ہیں ، وہ ان سے بھی بےنیاز ہوتے ہیں۔

کون اترا کر نکلا تھا ، کون لوگوں کے سامنے اپنی قوت کی نمائش کر رہا تھا ؟ اور کون لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتا تھا ، یہ لوگ مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ یہ قریش کے لشکر کی شکل میں موجود تھے۔ جس طرح کہ یہ لشکر نکلا تھا۔ اور جو قریش فخر و مباہات کے ساتھ نکلے تھے ، ان کا انجام بھی مسلمانوں کے سامنے تھا اور جس طرح ذلیل و خوار ٹوٹ پھوٹ کا وہ شکار ہوچکے تے وہ بھی اہل اسلام کے سامنے تھی۔ اللہ تعالیٰ نے خود دستوں سے جو خطاب کیا اس کا مصداق ان کے سامنے تھا۔ ذرا دوبارہ ملاحظہ فرمائیں۔

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَّرِئَاۗءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ۔ اور ان لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھروں سے اتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ، جو کچھ وہ کر رہے ہیں ، وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔

اترانا اور شان دکھانا اور اللہ کے راستے سے روکنا ، یہ سب امور ابوجہل کے اس تبصرے سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ابوجہل کے پاس جب ابوسفیان کا پیغام آیا ہے کہ میں ساحل کی جانب سے بچ کر نکل آیا ہوں اور آپ اپنے لشکر کو لے کر واپس ہوجائیں اس لیے کہ تمہیں محمد اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ قریش کی حالت یہ تھی کہ وہ ساتھ گانے والی لونڈیوں کو بھی لے کر چلے تھے۔ راستے پر گاتے بجاتے اور مویشی کاٹتے اور شراب و کباب کے دور چلاتے ہوئے آ رہے تھے۔ ابوجہل نے اس پیغام کے جواب میں کہا : " ہم اس وقت تک واپس نہ ہوں گے جب تک ہم بدر کے میدان میں پہنچ نہ جائیں ، تین دن قیام نہ کریں ، جانور نہ کاٹیں ، شراب نہ پئیں اور گانے بجانے کی محفلیں منعقد نہ کریں ، اگر ہم نے ایسا کیا تو تمام عرب ہم سے خوف کھائیں گے۔ جب ابو سفیان کا ایلچی واپس ہوا اور ابوجہل کا جواب پہنچایا تو ابوسفیان نے کہا : " افسوس کہ میری قوم کا …

Al-Anfaal 8:47Listen in Qur'an →
48

وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ ٱلْيَوْمَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَإِنِّى جَارٌۭ لَّكُمْ ۖ فَلَمَّا تَرَآءَتِ ٱلْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّنكُمْ إِنِّىٓ أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ ۚ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور جب شیطانوں نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر کے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوئیں تو پسپا ہو کر چل دیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

یہاں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بارے میں متعدد روایات منقول ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا درجہ نہیں رکھتی۔ صرف ایک حدیث ہے جو امام مالک نے موطا میں نقل کی ہے۔ احمد روایت کرتے ہیں ، عبدالمالک ابن عبدالعزیز سے ، ابن الماجشون سے ، مالک سے ، ابراہیم ابن ابو عبلہ سے ، طلحہ ابن عبیداللہ ابن کریز سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابلیس یوم عرفہ میں جس قدر چھوٹا سا ، حقیر سا غضبناک ہوتا ہے۔ اس قدر عام حالات میں نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے کہ اس دن رحمت نازل ہوتی ہے۔ اللہ گناہوں کو معاف فرماتے ہیں۔ ہاں یوم بدر کے دن بھی وہ ایسا ہی تھا۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ حضور بدر کے دن اس نے کیا دیکھا تھا کہ ایسا تھا۔ اس نے اس دن دیکھا کہ حضرت جبرائیل ملائکہ کو تقسیم کر رہے ہیں۔

یہ حدیث مرسل بھی ہے اور اس میں عبدالمالک ابن عبد العزیز الماجشون راوی ہے جو ضعیف ہے۔

اس کے علاوہ جو آثار ہیں وہ حضرت ابن عباس سے ہیں اور ان سے یہ روایات بذریعہ علی ابن ابو طلحہ اور بذریعہ ابن جریج نقل ہیں۔ یا عروہ ابن زبیر بذریعہ ابن اسحاق ، قتادہ سے بذریعہ سعید ابن جبیر ، حسن اور محمد ابن کعب سے ان سب کو ابن جریر طبری نے روایت کیا ہے۔

مثنی سے ، عبداللہ ابن صالح سے ، معاویہ سے ، علی بن ابو طلحہ سے ، حضرت ابن عباس سے کہتے ہیں کہ ابلیس یوم بدر میں شیاطین کا ایک لشکر لے کر آیا۔ اس کے پاس جھنڈآ بھی تھا۔ یہ شخص بنی مدلج کے ایک شخص کی شکل میں تھا۔ خود شیطان سراقہ بن مالک ابن جعشم کی شکل میں تھا شیطان نے مشرکین سے کہا : " آج تم پر کوئی غآلب نہ ہوگا اور میں تمہارا پڑوسی ہوں " جب لوگوں نے صف آرائی کی تو رسول اللہ ﷺ نے مٹی کی ایک مٹھی لی۔ اور اسے مشرکین کے چہروں پر مارا۔ ان کو شکست ہوئی۔ حضرت جبرئیل ابلیس کی طرف متوجہ ہوئے تو اسکا ہاتھ مشرکین میں سے ایک شخص کے ہاتھ میں تھا تو اس نے اپنا ہاتھ اس مشرک سے چھڑایا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا ، اس کے ساتھ بھی بھاگے۔ ایک شخص نے کہا : اے سراقہ ! تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم ہمارے پڑوسی ہو۔ تو اس نے جواب دیا : " کہ میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں تم نہیں دیکھتے۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والے ہیں " یہ اس نے اس وقت کہا جب اس نے فرشتوں کو دیکھا۔

ابن حمید سے ، سلمہ سے ، ابن اسحاق سے ، یزید ابن رومان سے ، عروہ ابن الزبیر سے ، کہتے ہیں کہ جب قریش جمع ہو کر نکلنے لگے تو میں نے ان کے اور بنی بکر کے درمیان معاملات کا ذکر کیا ، یعنی جنگ کا۔ قریب تھا کہ وہ واپس ہوجائیں ، ہمیں اس وقت ابلیس سراقہ ابن مالک ، ابن جعشم المدلجی کی شکل میں ظاہر ہوا۔ یہ شخص کنانہ کے شرفاء میں سے تاھ۔ اس نے کہا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں۔ اگر کنانہ تمہارے پیچھے کچھ اقدام کریں تو تم اسے پسند نہ کروگے۔ اس پر وہ بڑی تیزی سے نکلے۔

بشر ابن معاذ سے ، یزید سے ، سعید سے ، قتادہ سے۔ کہتے ہیں کہ آیت و اذ زین لہم الشیطن اعمالہم۔ سے واللہ شدید العقاب تک کی تفسیر میں یہ بات ذکر ہوئی ہے کہ شیطان نے دیکھا کہ حضرت جبرئیل نازل ہو رہے ہیں اور آپ کے ساتھ اور فرشتے ہیں۔ اس اللہ کے دشمن کو یہ یقین ہوگیا کہ فرشتوں کے مقابلے میں وہ تو کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ تو اس نے کہا " میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ، میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں " یہ الفاظ اس دشمن خدا نے جھوٹ بولے ہیں۔ اس کے دل میں خدا کا خوف نہیں ہے لیکن اس کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ وہ مقابلہ نہیں کرسکتا اور اللہ کے اس دشمن کی عات ہے کہ وہ اپنے پیرو کاروں کی قیادت کرتا ہے لیکن جب حق و باطل کا آمنا سامنا ہوتا ہے تو یہ اپنے ساتھیون کو بری طرح چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے اور ان سے اپنی براءت کا اعلان کرتا ہے۔

فی ظلال القرآن میں ہم نے جو منہاج اختیار کیا ہے اس کے مطابق ہم ان غیبی امور کے سات تعرض نہیں کرتے جن …

Al-Anfaal 8:48Listen in Qur'an →
49

إِذْ يَقُولُ ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَٰٓؤُلَآءِ دِينُهُمْ ۗ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے

منافقین جو دل کے مریض ہوتے ہیں یہ تعداد میں اکثر کم ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو مکہ میں تھے اور اسلام کی طرف مائل ہوگئے تھے لیکن ان کے عقائد صحیح نہ تھے اور نہ ہی ان کے دل اسلام پر مطمئن ہوئے تھے۔ یہ لوگ بھی اس مکی لشکر کے ساتھ چلے آئے تھے۔ لیکن یہ مذبذب تھے۔ ڈھل مل یقین۔ یہ تبصرہ ایسے لوگوں کا تھا کہ جنہوں نے دیکھا کہ مسلمان کم ہیں اور مشرکین بہت زیادہ ہیں۔

یہ منافقین جن کے دلوں میں بیماری ہوتی ہے۔ در اصل فتح و نصرت کے حقیقی اسباب سے باخبر ہی نہ تھے۔ یہ صرف ظاہری حالات کو دیکھ پاتے تھے اور ان کو اس قدر بصیرت یہ دی گئی تھی کہ وہ پوشیدہ امور کو یا ان حقائق کو سمجھتے جو بظاہر نظر نہیں آتے۔ ان کو پتہ نہ تھا کہ نظریات کے اندر کس قدر قوت ہوتی ہے۔ مومن کو اللہ پر بھروسہ کس قدر ہوتا ہے۔ وہ کس قدر متوکل ہوتا ہے اور اگر بڑے بڑے لشکر ہوں اور ایمان باللہ نہ ہو تو ان کے اندر کوئی قوت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ اگرچہ مسلمانوں کو فریب خوردہ کہتے تھے اور اپنے دین کے بارے میں ان کو مغرور کہتے تھے۔ یہ سمجھتے تھے کہ یہ لوگ اپنے اپ کو ہلاکت کے گڑھے کے دہانے پر لا رہے ہیں کیونکہ مشرکین سیلاب کی طرح بہے چلے آ رہے تھے لیکن ان کا یہ نقطہ نظر غلط تھا۔

ایک نظر آنے والی صورت حال ایک مومن کی نظر میں اور ایک غیر مومن دیکھنے والے کی نظر میں بظاہر یکساں ہوتی ہے۔ رہا باطن اور حقیقی قدر و قیمت تو اس اعتبار سے دونوں کے نزدیک وزن و پیمانے میں فرق ہوجاتا ہے۔ ایک غیر مومن ذہن کو صرف ظاہری صورت حالات ہی نظر آتی ہے اور پس منظر اس کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے۔ لیکن ایک مومن کی نظر دور رس ہوتی ہے اور اسے ظاہری صورت حالات سے آگے بھی کچھ حقائق نظر آتے ہیں۔ مومن ظاہری صورت حال سے وراء اس کی حقیقت کا ادراک بھی رکھتا ہے اور وہ حقیقی وزن اور قدر متعین کرتا ہے۔

وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔ " حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو یقیناً اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔ یہ ہے وہ بات جسے قلب مومن سمجھ سکتا ہے اور اس حقیقت پر وہ مطمئن ہوجاتا ہے اور جن دلوں میں ایمان نہیں ہوتا ، ان سے یہ حقیقت اوجھل ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اس وجہ سے مومن کا پلڑا بھاری ہوتا ہے اور نتیجہ اس کے حق میں ہوتا ہے اور آخر کار ہر معاملے میں یہ حقیقت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ ہر دور اور ہر جگہ یہ حقیقت فیصلہ کن ہوتی ہے۔

بدر کے سلسلے میں منافقین اور دل کے روگی جو یہ کہتے ہیں " کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے خبط میں مبتلا کردیا ہے " یہ بات ہر دور کے منافقین اور مریض ذہنیت کے لوگ کہتے رہتے ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ طاغوتی قوتیں زوروں پر ہیں۔ لیکن اس دین کا اصل سازوسامان اس کا یہ عقیدہ ہے جس کے اندر بذات قوت دافعہ ہے۔ یہ کہ جماعت مومن اللہ کی عزت اور برتری کی خاطر لڑ رہی ہوتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ غیور ہے اور وہ اپنے دوستوں کی ہر وقت مدد کرتا ہے۔

منافقین اور مریض ذہنیت کے لوگ تماشے کر رہے ہیں اور وہ دیکھتے ہیں کہ جماعت مسلمہ طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ یہ لوگ ان کو حقارت آمیز نظر سے دیکھتے ہیں جبکہ جماعت مسلمہ خطرات کا مقابلہ کر رہی ہے اور ان کو ہیچ سمجھتی ہے۔ یہ مریض اور منافقین جب دیکھتے ہیں کہ جماعت مسلمہ خطرات میں کودتی ہے تو ان کو پہلے تعجب ہوتا ہے اور پھر ان پر دہشت طاری ہوجاتی ہے۔ کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ واضح خطرات میں کود رہے ہیں۔ اس قدر جرات اور تہور کی کوئی حققی وجہ ان کی سمجھ میں نہیں آتی اور نہ ان کو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو کیوں ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔ یہ لوگ دین اور نظریہ کو بازار کی تجارت سمجھتے ہیں ، اگر اس میں ان کو واضح فائدہ نظر آئے تو یہ اس میں اقدام کرتے اور اگر واضح فائدہ نظر نہ آئے تو سلامتی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ یہ معاملات کو …

Al-Anfaal 8:49Listen in Qur'an →
50

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۙ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَٰرَهُمْ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ

اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو

اب اللہ اس معرکے میں ربانی قوتوں کے عمل و دخل کی ایک مثال پیش کرتا ہے۔ اس منظر میں فرشتے کام کر رہے ہیں۔ چشم بصیرت سے اس منظر کو دیکھو۔ فرشتے اس معرکے میں شریک ہیں۔ اور کفار کی پکڑ دھکڑ انہوں نے شروع کردی ہے۔ ان کی روحوں کو نہایت ہی حقارت سے قبض کر رہے ہیں اور ان کو سخت سے سخت اذیت دے رہے ہیں۔ یہ محض اس لیے کہ یہ لوگ نہایت ہی تکبر سے اتراتے ہوئے شان و شوکت سے آ رہے تھے۔ اس میں ان کو بتایا جاتا ہے کہ اس سخت اور مشکل وقت میں تمہارے ساتھ یہ سلوک تمہارے اعمال بد کی وجہ سے ہورہا ہے اور اس میں تم پر کوئی بھی ظلم نہیں ہے۔ پھر اس منظر کشی کے بعد بتایا جاتا ہے کہ جھٹلانے کی وجہ سے کفار کو جو سزا دی جاتی ہے یہ اللہ کی ایک جاری سنت ہے۔ جس طرح آل فرعون اور ان سے پہلے لوگوں کے ساتھ یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔

اور یہ اس اصول کے مطابق کہ اللہ جب کسی قوم پر انعام کرتا ہے تو وہ اس وقت تک اپنے انعامات کو واپس نہیں لیتا ، جب خود ان اقوام کا رویہ بدل نہیں جاتا۔ اسی اصول کے مطابق اللہ نے فرعون اور اس سے پہلے کی اقوام کے ساتھ معاملہ کیا۔ اور آئندہ بھی جو قوم ایسی روشن اختیار کرے گی ، اللہ کا سلوک بھی ویسا ہی ہوگا۔

تفسیر آیت 50 ، 51 ۔

ان دو آیات سے مراد یوم بدر میں کام آنے والے مشرکین سے ہے۔

کیونکہ ملائکہ اس معرکے میں شریک تھے۔ جس طرح کہا گیا : فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منہم کل بنان۔ ذلک بانہم شاقوا اللہ ورسولہ و من یشاقق اللہ ورسولہ فان اللہ شدید العقاب : " پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ۔ یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور رسول کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت ہی سخت گیر ہے۔

اگرچہ ہمیں اس مار اور جوڑ جوڑ پر ضرب لگانے کی تفصیلی کیفیت کا علم نہیں ہے ، جس طرح نویں پارے میں اس آیت پر بحث کرتے ہوئے ہم نے کہا تھا۔ لیکن اگر ہمیں کسی مفہوم کی تفصیلی کیفیت کا علم نہ ہو یا ہماری سمجھ میں نہ آرہی ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم آیت کو اپنے ظاہری مفہوم سے پھیر دیں۔ ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ملائکہ کو حکم تھا کہ وہ ماریں ، اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ملائکہ اللہ کے کسی حکم سے سرتابی ہی نہٰں کرتے۔ وہ تو وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ تو یہ دونوں آیات گویا واقعات بدر کو یاد رکھنے کی طرف اشارہ ہوگا اور یہ بتانا مقصود ہوگا کہ یہ بات بھی واقعات بدر میں شامل ہے کہ اس دن کفار کے ساتھ یہ یہ سلوک ہوا۔

لیکن یہ آیات بتا رہی ہیں کہ جب بھی کفار پر موت کا وقت آتا ہے تو فرشتے ان کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں فرشتوں کا یہ سلوک مقتولین بدر کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ اور یہ خطاب ولوتری گویا تمام اہل ایمان کے لیے ہوگا۔ اور یہ انداز کلام قرآن ہر اس مقام پر اختیار کرتا ہے جہاں لوگوں کو ایک کھلے منظر کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ جسے ہر دیکھنے والا دیکھ سکتا ہو۔

بہرحال ان دو آیات کی جو تفسیر بھی ہو اہل کفر کے قبض روح کا نظارہ نہایت ہی خوفناک ہے۔ ملائکہ ان کے اجسام سے ان کی روح کو نہایت ہی توہین آمیز انداز میں کھینچ لیتے ہیں اور اس حقارت و توہین کے ساتھ ساتھ یہ لوگ عذاب شدید میں مبتلا ہوتے ہیں۔

" کاش تم اس حالت کو دیکھ سکتے جبکہ فرشتے مقتول کافروں کی روحیں قبض کر رہے تھے۔ وہ ان کے چہروں اور ان کے کو لہوں پر ضربیں لگاتے جاتے تھے "

اب یہاں سے آگے بیانیہ انداز کے بجائے براہ راست خطاب شروع ہوتا ہے :

" لو اب جلنے کی سزا بھگتو " اور انداز خطاب اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ یہ منظر آنکھوں کے سامنے آجائے ، گویا جہنم اس کی اگ اور جلنے کے عمل کے ساتھ موجود ہے اور لوگوں کو اس میں پھینکا جا رہا ہے۔ لعنت و پھٹکار بھی ہو رہی ہے۔

" یہ وہ جزاء ہے جس کا سامان تمہارے اپنے ہاتھوں نے پیشگی مہیا کر رکھا تھا " اس لیے تمہیں جو سزا دی جا رہی ہے …

Al-Anfaal 8:50Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.