Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 41–50 of 75

41

۞ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَىْءٍۢ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ ٱلْفُرْقَانِ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

اور جان لو تم کہ جو غنیمت حاصل کرو تم کسی چیز سے تو بے شک اللہ کے لیے ہے پانچواں حصہ اس کااور رسول کے لیے اور رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ، اگر ہوتم ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس کے جو اتارا ہم نے اوپر اپنے بندے کے، دن فیصلے کے، جس دن کہ ملیں دو جماعتیں اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(41)جس وقت کہ تھے تم قریب کے کنارے پر اور وہ (تمھارے دشمن) تھے دور کے کنارے پر اور قافلہ نیچے کی جانب تھا تم سےاور اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو ضرور اختلاف کرتے تم وقت (مقرر کرنے) میں لیکن (اللہ نے یوں ہی جمع کردیا) تاکہ پورا کر دے اللہ اس کام کو کہ تھا وہ کیا ہواتاکہ ہلاک ہوجو ہلاک ہو دلیل سے (حجت قائم ہونے کے بعد) اور زندہ رہے جو زندہ رہے دلیل سے(حق پہچان کر)اور بے شک اللہ سنتا جانتا ہے(42)

[41]﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ﴾’’اور جان رکھو کہ تم مال غنیمت سے جو کچھ حاصل کرو۔‘‘ یعنی کفار کا جو مال تم فتح یاب ہو کر حق کے ساتھ حاصل کرو، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ﴿ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ﴾ ’’تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے۔‘‘اور باقی تمھارے لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غنیمت کی اضافت ان کی طرف کی ہے اور اس میں سے پانچواں حصہ نکال دیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پانچواں حصہ نکال کر باقی ان میں اسی طرح تقسیم کیا جائے گا جس طرح رسول اللہﷺ نے تقسیم فرمایا تھا...، یعنی پیادے کے لیے ایک حصہ اور سوار کے لیے دو حصے، ایک حصہ خود اس کے لیے اور ایک حصہ اس کے گھوڑے کے لیے(لیکن حدیث سے سوار کے لیے تین حصے ثابت ہوتے ہیں‘ دو حصے اس کے گھوڑے کے لیے اور ایک حصہ خود اس کے لیے۔ ) ’اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَھْمَیْنِ وَلِصَاحِبِہٖ سَھْمًا‘(صحیح البخاري، الجہاد والسیر، باب سھام الفرس، حدیث: 2863، 4228)(ص۔ی) رہا خمس تو اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے، ان میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے مختص ہے جو کسی تعین کے بغیر عام مسلمانوں کے مصالح پر خرچ کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اللہ اور رسولﷺ کا حصہ قرار دیا ہے اور اللہ اور اس کا رسولﷺ اس سے بےنیاز ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حصہ درحقیقت بندگان الٰہی کے لیے ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے مصارف متعین نہیں فرمائے اس لیے واضح ہوا کہ اس کو مصالح عامہ میں صرف کیا جائے گا۔خمس کا دوسرا حصہ، ذو القربیٰ کے لیے ہے اور یہاں ذو القربیٰ سے مراد رسول اللہﷺ کے قرابت دار یعنی بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ہیں ۔ ذو القربیٰ کی طرف اس کی اضافت اس امر کی دلیل ہے کہ اس حکم کی علت مجرد قرابت ہے جس میں ان کے مال دار اور محتاج، مرد اور عورتیں سب شامل ہیں ۔خمس کا تیسرا حصہ، یتیموں کے لیے ہے جن کے باپ فوت ہو چکے ہیں اور خود وہ بہت کمسن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت کی بنا پر ان کے لیے خمس کا پانچواں حصہ مقرر فرمایا ہے کیونکہ وہ خود اپنے مصالح کی دیکھ بھال کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کسی ایسی ہستی سے بھی محروم ہیں جو ان کے مصالح کا انتظام کرے۔خمس کا چوتھا حصہ مساکین، یعنی چھوٹوں ، بڑوں ، مردوں اور عورتوں میں سے محتاج اور تنگ دستوں کے لیے ہے۔خمس کا آخری حصہ مسافروں کی بہبود کے لیے ہے۔ (اِبْنُ السَّبِیل) سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گیا ہو۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ ان مذکورہ مصارف سے باہر خرچ نہ کیا جائے، البتہ یہ لازم نہیں کہ ان اصناف مذکورہ میں برابر برابر تقسیم کیا جائے بلکہ مصالح کے مطابق ان کے درمیان اس مال کو تقسیم کیا جائے گا .... یہی رائے زیادہ قرین صواب ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے خمس کو اس طریقے سے خرچ کرنا ایمان کی شرط قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا …

Al-Anfaal 8:41Listen in Qur'an →
42

إِذْ أَنتُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلدُّنْيَا وَهُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلْقُصْوَىٰ وَٱلرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنكُمْ ۚ وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ لَٱخْتَلَفْتُمْ فِى ٱلْمِيعَٰدِ ۙ وَلَٰكِن لِّيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًۭا كَانَ مَفْعُولًۭا لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٍۢ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَىَّ عَنۢ بَيِّنَةٍۢ ۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ

جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے

اور جان لو تم کہ جو غنیمت حاصل کرو تم کسی چیز سے تو بے شک اللہ کے لیے ہے پانچواں حصہ اس کااور رسول کے لیے اور رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ، اگر ہوتم ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس کے جو اتارا ہم نے اوپر اپنے بندے کے، دن فیصلے کے، جس دن کہ ملیں دو جماعتیں اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(41)جس وقت کہ تھے تم قریب کے کنارے پر اور وہ (تمھارے دشمن) تھے دور کے کنارے پر اور قافلہ نیچے کی جانب تھا تم سےاور اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو ضرور اختلاف کرتے تم وقت (مقرر کرنے) میں لیکن (اللہ نے یوں ہی جمع کردیا) تاکہ پورا کر دے اللہ اس کام کو کہ تھا وہ کیا ہواتاکہ ہلاک ہوجو ہلاک ہو دلیل سے (حجت قائم ہونے کے بعد) اور زندہ رہے جو زندہ رہے دلیل سے(حق پہچان کر)اور بے شک اللہ سنتا جانتا ہے(42)

[41]﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ﴾’’اور جان رکھو کہ تم مال غنیمت سے جو کچھ حاصل کرو۔‘‘ یعنی کفار کا جو مال تم فتح یاب ہو کر حق کے ساتھ حاصل کرو، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ﴿ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ﴾ ’’تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے۔‘‘اور باقی تمھارے لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غنیمت کی اضافت ان کی طرف کی ہے اور اس میں سے پانچواں حصہ نکال دیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پانچواں حصہ نکال کر باقی ان میں اسی طرح تقسیم کیا جائے گا جس طرح رسول اللہﷺ نے تقسیم فرمایا تھا...، یعنی پیادے کے لیے ایک حصہ اور سوار کے لیے دو حصے، ایک حصہ خود اس کے لیے اور ایک حصہ اس کے گھوڑے کے لیے(لیکن حدیث سے سوار کے لیے تین حصے ثابت ہوتے ہیں‘ دو حصے اس کے گھوڑے کے لیے اور ایک حصہ خود اس کے لیے۔ ) ’اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَھْمَیْنِ وَلِصَاحِبِہٖ سَھْمًا‘(صحیح البخاري، الجہاد والسیر، باب سھام الفرس، حدیث: 2863، 4228)(ص۔ی) رہا خمس تو اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے، ان میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے مختص ہے جو کسی تعین کے بغیر عام مسلمانوں کے مصالح پر خرچ کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اللہ اور رسولﷺ کا حصہ قرار دیا ہے اور اللہ اور اس کا رسولﷺ اس سے بےنیاز ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حصہ درحقیقت بندگان الٰہی کے لیے ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے مصارف متعین نہیں فرمائے اس لیے واضح ہوا کہ اس کو مصالح عامہ میں صرف کیا جائے گا۔خمس کا دوسرا حصہ، ذو القربیٰ کے لیے ہے اور یہاں ذو القربیٰ سے مراد رسول اللہﷺ کے قرابت دار یعنی بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ہیں ۔ ذو القربیٰ کی طرف اس کی اضافت اس امر کی دلیل ہے کہ اس حکم کی علت مجرد قرابت ہے جس میں ان کے مال دار اور محتاج، مرد اور عورتیں سب شامل ہیں ۔خمس کا تیسرا حصہ، یتیموں کے لیے ہے جن کے باپ فوت ہو چکے ہیں اور خود وہ بہت کمسن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت کی بنا پر ان کے لیے خمس کا پانچواں حصہ مقرر فرمایا ہے کیونکہ وہ خود اپنے مصالح کی دیکھ بھال کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کسی ایسی ہستی سے بھی محروم ہیں جو ان کے مصالح کا انتظام کرے۔خمس کا چوتھا حصہ مساکین، یعنی چھوٹوں ، بڑوں ، مردوں اور عورتوں میں سے محتاج اور تنگ دستوں کے لیے ہے۔خمس کا آخری حصہ مسافروں کی بہبود کے لیے ہے۔ (اِبْنُ السَّبِیل) سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گیا ہو۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ ان مذکورہ مصارف سے باہر خرچ نہ کیا جائے، البتہ یہ لازم نہیں کہ ان اصناف مذکورہ میں برابر برابر تقسیم کیا جائے بلکہ مصالح کے مطابق ان کے درمیان اس مال کو تقسیم کیا جائے گا .... یہی رائے زیادہ قرین صواب ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے خمس کو اس طریقے سے خرچ کرنا ایمان کی شرط قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا …

Al-Anfaal 8:42Listen in Qur'an →
43

إِذْ يُرِيكَهُمُ ٱللَّهُ فِى مَنَامِكَ قَلِيلًۭا ۖ وَلَوْ أَرَىٰكَهُمْ كَثِيرًۭا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَٰزَعْتُمْ فِى ٱلْأَمْرِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ سَلَّمَ ۗ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ بےشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے

جب دکھلاتا تھا ان (کافروں) کو اللہ آپ کے خواب میں تھوڑااور اگر دکھاتا وہ آپ کو انھیں زیادہ تو تم پست ہمت ہوجاتے اور ضرور باہم نزاع کرتے اس معاملے میں لیکن اللہ نے بچا لیا، بے شک وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(43) اور جب دکھلاتا تھا وہ تمھیں ان کافروں کو، جب ملے تم، تمھاری آنکھوں میں تھوڑااور تھوڑا دکھلاتا تھا تم کو ان کی آنکھوں میں تاکہ پورا کردے اللہ اس کام کو کہ تھا وہ کیا ہوا اور طرف اللہ ہی کی لوٹائے جاتے ہیں سارے کام(44)

[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے خواب میں مشرکین کی بہت کم تعداد دکھائی۔ اس بنا پر آپ نے اپنے اصحاب کرامy کو خوشخبری دے دی اس سے وہ مطمئن اور ان کے دل مضبوط ہوگئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ اَرٰؔىكَهُمۡ كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور اگر اللہ ان کو بہت کرکے تمھیں دکھاتا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو کفار کثیر تعداد میں دکھائے ہوتے اور پھر آپ نے اس کی خبر اپنے اصحابy کو دی ہوتی ﴿لَّفَشِلۡتُمۡ وَلَتَنَازَعۡتُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾ تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور جو معاملہ تمھیں درپیش تھا اس میں جھگڑنا شروع کر دیتے، کوئی کہتا کہ آگے بڑھ کر کفار سے لڑائی کرو اور کوئی اس رائے کے خلاف ہوتا اور جھگڑا کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ﴾ ’’اور لیکن اللہ نے بچا لیا‘‘ یعنی اللہ نے تم پر لطف و کرم کیا ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾’’بے شک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔‘‘ یعنی تمھارے سینوں میں ثابت قدمی یا بے صبری، سچائی یا جھوٹ جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں کی اس کیفیت کو جان لیا جو تم پر اس کے لطف و احسان اور اس کے رسولﷺ کے خواب کی صداقت کا باعث بنی۔[44]اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی نگاہوں میں ان کے دشمن کو تھوڑا کر کے دکھایا... اور اے مومنو! تمھیں ان کی نظروں میں تھوڑا کر کے دکھایا، چنانچہ دونوں گروہوں میں سے ہر گروہ کو اپنا مدمقابل تھوڑا نظر آتا تھا تاکہ دونوں میں سے ہر ایک، دوسرے پر پیش قدمی کرنے میں تامل نہ کرے۔﴿ لِيَقۡضِيَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلًا﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ اس امر کو پورا کر دے جس کا پورا ہونا مقدر تھا‘‘ یعنی اہل ایمان کو فتح و نصرت عطا کرے، کفار کو ان کے حال پر چھوڑ کر ان سے علیحدہ ہو جائے، چنانچہ ان کے راہ نما اور گمراہ سردار قتل ہوئے اور ان میں سے کوئی قابل ذکر شخص باقی نہ بچا، پھر اس کے بعد جب کفار کو اسلام کی دعوت دی گئی تو ان کا مطیع ہونا آسان ہوگیا اور یہ چیز باقی بچ جانے والے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کا باعث بنی جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ ’’اور سب کاموں کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹتے ہیں ، اللہ تعالیٰ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کرتا ہے، تمام مخلوقات پر عدل و انصاف پر مبنی فیصلے کو نافذ کرتا ہے جس میں کوئی ظلم و جور نہیں ہوتا۔

Al-Anfaal 8:43Listen in Qur'an →
44

وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ ٱلْتَقَيْتُمْ فِىٓ أَعْيُنِكُمْ قَلِيلًۭا وَيُقَلِّلُكُمْ فِىٓ أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًۭا كَانَ مَفْعُولًۭا ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ

اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام منظور کرنا تھا اسے کر ڈالے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا کی طرف ہے

جب دکھلاتا تھا ان (کافروں) کو اللہ آپ کے خواب میں تھوڑااور اگر دکھاتا وہ آپ کو انھیں زیادہ تو تم پست ہمت ہوجاتے اور ضرور باہم نزاع کرتے اس معاملے میں لیکن اللہ نے بچا لیا، بے شک وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(43) اور جب دکھلاتا تھا وہ تمھیں ان کافروں کو، جب ملے تم، تمھاری آنکھوں میں تھوڑااور تھوڑا دکھلاتا تھا تم کو ان کی آنکھوں میں تاکہ پورا کردے اللہ اس کام کو کہ تھا وہ کیا ہوا اور طرف اللہ ہی کی لوٹائے جاتے ہیں سارے کام(44)

[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے خواب میں مشرکین کی بہت کم تعداد دکھائی۔ اس بنا پر آپ نے اپنے اصحاب کرامy کو خوشخبری دے دی اس سے وہ مطمئن اور ان کے دل مضبوط ہوگئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ اَرٰؔىكَهُمۡ كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور اگر اللہ ان کو بہت کرکے تمھیں دکھاتا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو کفار کثیر تعداد میں دکھائے ہوتے اور پھر آپ نے اس کی خبر اپنے اصحابy کو دی ہوتی ﴿لَّفَشِلۡتُمۡ وَلَتَنَازَعۡتُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾ تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور جو معاملہ تمھیں درپیش تھا اس میں جھگڑنا شروع کر دیتے، کوئی کہتا کہ آگے بڑھ کر کفار سے لڑائی کرو اور کوئی اس رائے کے خلاف ہوتا اور جھگڑا کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ﴾ ’’اور لیکن اللہ نے بچا لیا‘‘ یعنی اللہ نے تم پر لطف و کرم کیا ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾’’بے شک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔‘‘ یعنی تمھارے سینوں میں ثابت قدمی یا بے صبری، سچائی یا جھوٹ جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں کی اس کیفیت کو جان لیا جو تم پر اس کے لطف و احسان اور اس کے رسولﷺ کے خواب کی صداقت کا باعث بنی۔[44]اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی نگاہوں میں ان کے دشمن کو تھوڑا کر کے دکھایا... اور اے مومنو! تمھیں ان کی نظروں میں تھوڑا کر کے دکھایا، چنانچہ دونوں گروہوں میں سے ہر گروہ کو اپنا مدمقابل تھوڑا نظر آتا تھا تاکہ دونوں میں سے ہر ایک، دوسرے پر پیش قدمی کرنے میں تامل نہ کرے۔﴿ لِيَقۡضِيَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلًا﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ اس امر کو پورا کر دے جس کا پورا ہونا مقدر تھا‘‘ یعنی اہل ایمان کو فتح و نصرت عطا کرے، کفار کو ان کے حال پر چھوڑ کر ان سے علیحدہ ہو جائے، چنانچہ ان کے راہ نما اور گمراہ سردار قتل ہوئے اور ان میں سے کوئی قابل ذکر شخص باقی نہ بچا، پھر اس کے بعد جب کفار کو اسلام کی دعوت دی گئی تو ان کا مطیع ہونا آسان ہوگیا اور یہ چیز باقی بچ جانے والے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کا باعث بنی جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ ’’اور سب کاموں کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹتے ہیں ، اللہ تعالیٰ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کرتا ہے، تمام مخلوقات پر عدل و انصاف پر مبنی فیصلے کو نافذ کرتا ہے جس میں کوئی ظلم و جور نہیں ہوتا۔

Al-Anfaal 8:44Listen in Qur'an →
45

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةًۭ فَٱثْبُتُوا۟ وَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِيرًۭا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

مومنو! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کرو

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)

[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔

[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت …

Al-Anfaal 8:45Listen in Qur'an →
46

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَٰزَعُوا۟ فَتَفْشَلُوا۟ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)

[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔

[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت …

Al-Anfaal 8:46Listen in Qur'an →
47

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ خَرَجُوا۟ مِن دِيَٰرِهِم بَطَرًۭا وَرِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌۭ

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)

[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔

[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت …

Al-Anfaal 8:47Listen in Qur'an →
48

وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ ٱلْيَوْمَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَإِنِّى جَارٌۭ لَّكُمْ ۖ فَلَمَّا تَرَآءَتِ ٱلْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّنكُمْ إِنِّىٓ أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ ۚ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور جب شیطانوں نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر کے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوئیں تو پسپا ہو کر چل دیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)

[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔

[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت …

Al-Anfaal 8:48Listen in Qur'an →
49

إِذْ يَقُولُ ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَٰٓؤُلَآءِ دِينُهُمْ ۗ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)

[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔

[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت …

Al-Anfaal 8:49Listen in Qur'an →
50

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۙ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَٰرَهُمْ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ

اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو

اور کاش! دیکھیں آپ جبکہ جان قبض کرتے ہیں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، فرشتے، مارتے ہیں وہ (فرشتے) ان کے چہروں کو اور ان کی پیٹھوں کو اور (کہتے ہیں) چکھو عذاب جلانے والا(50)یہ بسبب اس کے ہے جو آگے بھیجا تمھارے ہاتھوں نے اور یہ کہ بے شک اللہ نہیں ہے ظلم کرنے والا اپنے بندوں پر(51)جیسے عادت تھی آل فرعون اوران لوگوں کی جو ان سے پہلے تھے، کفر کیا انھوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ تو پکڑ لیا ان کو اللہ نے بسبب ان کے گناہوں کے، بے شک اللہ طاقت ور سخت سزا دینے والا ہے(52)

[50] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو اس وقت دیکھیں جب موت کے فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہوں گے، ان کو سخت قلق ہوگا اور وہ سخت تکلیف اور کرب میں ہوں گے ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾ ’’مارتے ہیں وہ ان کے مونہوں پر اور ان کے پیچھے‘‘ اور ان سے کہتے ہیں ۔ ’’اپنی جان نکالو‘‘ ان کی جانیں نکلنے سے انکار کریں گی کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں کس دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ ’’اور عذاب آتش چکھو۔‘‘ یعنی نہایت سخت اور جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔

[51] یہ عذاب تمھیں تمھارے رب کی طرف سے کسی ظلم و جور کی وجہ سے نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ یہ صرف تمھارے گناہوں کی پاداش ہے جن کی یہ تاثیر ہے جس نے یہ اثر دکھایا ہے۔

[52] اور اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے۔ کیونکہ ان جھٹلانے والوں کی عادت اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کی ہلاکت ایسے ہی ہے ﴿ كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ١ۙ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’جیسے عادت آل فرعون کی تھی اور ان کی جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں میں سے ﴿ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’انھوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔‘‘اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ لیا ﴿بِذُنُوۡبِهِمۡ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’ان کے گناہوں پر، یقینا اللہ طاقت ور ہے، سخت عذاب کرنے والا۔‘‘اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کے ساتھ جس کی گرفت کرنا چاہے تو اسے کوئی بے بس نہیں کر سکتا۔ ﴿مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾(ھود: 11؍56) ’’زمین پر چلنے والا جو بھی جانور ہے اللہ نے اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ رکھا ہے۔‘‘

Al-Anfaal 8:50Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.